Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مولانا فضل الرحمان کی پی ٹی آئی کو یقین دہانی

    مولانا فضل الرحمان کی پی ٹی آئی کو یقین دہانی

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں بنے گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق یہ اطلاعات ذرائع نے دی ہیں جو دونوں جماعتوں کے مابین جاری رابطوں کی تصدیق کرتی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی قیادت کو باور کرایا ہے کہ جے یو آئی-ف صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی محاذ آرائی میں شامل نہیں ہوگی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جے یو آئی-ف کے حمایت یافتہ ارکان عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس پیش رفت کو سیاسی محاذ پر اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے

    دوسری جانب سیاسی منظر نامے پر ایک اور اہم واقعہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے پانچ اہم رہنماؤں سے متعلق سامنے آیا ہے۔ ان رہنماؤں نے پارٹی کو درپیش سنگین بحران سے نکلنے کے لیے مذاکرات کو واحد اور موثر راستہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ سیاسی چیلنجز کے حل کے لیے آپسی بات چیت اور مذاکرات کی ضرورت ہے ،پارٹی رہنماؤں نے عمران خان کی پالیسی کے خلاف مذاکرات پر زور دیا ہے،عمران خان بات چیت کے حامی نہیں ہیں.

  • مودی سرکار کی لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر پابندی

    مودی سرکار کی لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر پابندی

    مودی سرکار کی لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر پابندی،مودی سرکار نےبھارتی مسلمانوں کی مذہبی آزادی پامال کر دی

    "ممبئی میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں پر پابندی کے بعداذان پر بھی عملاً پابندی لگادی گئی”اذان سننے کے لیے ممبئی کے مسلمانوں نے ’آن لائن اذان‘ ایپ کا استعمال شروع کردیا، نماز کے اوقات معلوم کرنے کے لیے بھی اب یہی موبائل ایپ استعمال کی جا رہی ہے, ایپ تامل ناڈو کی کمپنی نے تیار کی ہے جو اب ممبئی کی مساجد اور نمازیوں کے ذریعے استعمال کی جا رہی ہے، لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے بعد ممبئی کی کئی مساجد نے ‘آن لائن اذان’ ایپ پر رجسٹریشن کروالی,نماز کے اوقات بھی اب ایپ کے ذریعے معلوم کیے جا رہے ہیں، پانچوں نمازوں کا وقت اور اذان کی اطلاع ایپ دیتی ہے , نمازیوں کو باجماعت نماز کے لیے بھی موبائل نوٹیفکیشن کے ذریعے اطلاع دی جاتی ہے ,

    ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کے مطابق "ممبئی شہر اب مکمل طور پر لاؤڈ اسپیکرز سے پاک ہو چکا ہے”پولیس اہلکاروں نے تمام مذہبی مقامات سے پبلک ایڈریس سسٹمز ہٹانے کی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی ہے, "اب ممبئی شور سے پاک ہو چکا ہے”,مودی سرکار کا مسلمانوں پہ یہ نیا وارکیا بھارت کےمسلمانوں کی مذہبی پہچان مٹانے کی پالیسی کا حصہ ہے؟

  • مودی کا بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا جھوٹا نعرہ، کولکتہ  ریپ کیس ریاستی ناکامی کی زندہ مثال

    مودی کا بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا جھوٹا نعرہ، کولکتہ ریپ کیس ریاستی ناکامی کی زندہ مثال

    مودی راج میں خاتون ہونا جرم ،بھارت میں اجتماعی زیادتیاں عروج پر ہیں

    مودی سرکار میں خواتین کی جان، عزت اور آزادی غیر محفوظ تعلیمی ادارے جنسی درندگی کے مرکز بن گئے،بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ” صرف نعرہ رہ گیا، مودی حکومت خواتین کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے،این ڈی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کولکتہ لاء کالج میں 24 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ہے، ملزمان میں دو سینئر طالبعلم اور ایک سابق طالبعلم شامل ہیں،متاثرہ طالبہ کو زبردستی گارڈ روم میں بند کر کے زیادتی کا نشانہ بنایاگیا، ملزمان طالبہ کو بلیک میل کرتے رہے،زیادتی کا مرکزی ملزم منوجیت مشرا، سابق طالبعلم اور استاد، کالج میں بااثر سیاسی رابطوں کی بدولت آزاد ہیںً،ملزم منوجیت مشرا "ترنمول کانگریس طلبہ تنظیم” سے وابستہ ہے,واقعے کی اطلاع کالج انتظامیہ کو پولیس یا طلبہ کی بجائے میڈیا کے ذریعے ملی،انتظامیہ کی بے خبری اور سکیورٹی کی سنگین ناکامی بے نقاب ہو گئی

    "25 جون کی رات جنوبی کولکتہ لاء کالج میں، مجرمان نے گارڈ کو ڈرا کر گارڈ روم میں طلبہ کیساتھ زیادتی کی، گارڈز خاموش تماشائی بنے رہے،متاثرہ لڑکی نے ملزمان کی شناخت حروف J، M اور P کے ذریعے کی، سی سی ٹی وی اور میڈیکل رپورٹ نے دعوے کی تصدیق کر دی بھارت کے تعلیمی ادارے اندرونی سکیورٹی کے بحران کا شکار ہیں،وائس پرنسپل کی سنگین غفلت نے کالج کے سکیورٹی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، وائس پرنسپل نے لڑکی کی جان کو خطرے میں ڈال کر ذمے داری سے فرار اختیار کر لیا, بھارت خواتین کے لیے ایک جیل بن چکا ہے،قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بھارت میں ہر سال 30,000 سے زائد ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں،بھارت میں ہر گھنٹے تقریباً 43 خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں،حال ہی میں امریکہ کی جاری کردہ نئی ٹریول ایڈوائزری نے بھی مودی سرکار کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی

  • ایران نے آئی اے ای اے سے تعاون معطل کردیا، ایرانی صدر

    ایران نے آئی اے ای اے سے تعاون معطل کردیا، ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے تعاون معطلی کے قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کردیا ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیل اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ایرانی پارلیمنٹ اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کلیدی کردار ادا کیا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا” کے مطابق، ملک کی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا تھا جس کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کو اس وقت تک معطل رکھا جائے گا جب تک ایجنسی پیشہ ورانہ اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کرتی۔ اس بل کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی توثیق بھی حاصل ہوچکی ہے، اور اب صدر پزشکیان نے اس قانون پر دستخط کرتے ہوئے اسے نافذ العمل بنا دیا ہے۔

    اس نئے قانون کے تحت، ایران نے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت دینا بند کردی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ آئی اے ای اے کا رویہ ایران کے خلاف تعصب پر مبنی ہے، خاص طور پر حالیہ اسرائیل ایران کشیدگی کے تناظر میں ایجنسی کا ردعمل غیر متوازن رہا۔

    ایرانی پارلیمانی ذرائع کے مطابق، ایک نیا بل بھی زیر غور ہے جس کے تحت آئی اے ای اے سے تمام تر تعاون اس وقت تک معطل رکھا جائے گا جب تک ادارہ مکمل پیشہ ورانہ اور شفاف رویہ اختیار نہیں کرتا۔ اس ضمن میں ایران کی اعلیٰ قیادت کے اندر سخت موقف اپنایا جا رہا ہے۔

    علاوہ ازیں، ایران کی پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے ایران میں داخلے پر پابندی لگانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ایک سینئر رکن پارلیمنٹ نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے سپریم کونسل پر زور دیا ہے کہ رافیل گروسی کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ایران کے قومی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔”

    اس اقدام سے ایران اور عالمی جوہری نگران ادارے کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • اسرائیل کا غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط سے اتفاق،ٹرمپ

    اسرائیل کا غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط سے اتفاق،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط سے اتفاق کرلیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا ہے کہ میرے نمائندوں کی اسرائیلی حکام سے غزہ کی صورتحال پر آج طویل و نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے جس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط پر اتفاق کیا گیا،60 روز کے دوران تمام جنگ کے خاتمے کیلئے تمام پارٹیز کے ساتھ مل کرکام کریں گے، قطر اور مصر کے حکام حتمی تجاویز پیش کریں گے، امید ہے حماس اس معاہدے کو قبول کرے گی۔ اگر ایسا نہ ہو ا تو صورتحال مزید خراب ہوتی چلی جائے گی ۔

  • قازقستان میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی عائد

    قازقستان میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی عائد

    قازقستان نے عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے والے لباس، بالخصوص نقاب، پہننے پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔ ملک کے صدر قاسم جومارت توقایف نے پیر کے روز اس پابندی کے قانون پر دستخط کر دیے، جس کے تحت ایسے لباس پر پابندی ہوگی جو چہرے کی شناخت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق، یہ اقدام عوامی تحفظ، سماجی ہم آہنگی، اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ "چہرے کو چھپانے والے ایسے تمام لباس جن سے شناخت ممکن نہ ہو، ان کا عوامی مقامات پر استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔”قازقستان اس نوعیت کی پابندی لگانے والا وسطی ایشیا کا پہلا ملک نہیں ہے۔ اس سے قبل کئی دیگر مسلم اکثریتی ممالک بھی اس جیسے اقدامات اٹھا چکے ہیں۔

    سال 2024 میں تاجکستان نے سرکاری طور پر حجاب پر مکمل پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد خواتین کے لیے اسلامی طرزِ لباس پہننا قانونی طور پر ممنوع قرار پایا۔ اس کے علاوہ ازبکستان اور کرغزستان میں بھی خواتین کے مذہبی لباس، بالخصوص نقاب اور حجاب، پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

    نقاب اور حجاب پر پابندی کے ان اقدامات پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے، جبکہ متعلقہ حکومتیں اسے قومی سلامتی اور معاشرتی استحکام کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں۔قازق حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے انتظامی سزائیں اور جرمانوں کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

  • جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا عمران خان سے اختلاف

    جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا عمران خان سے اختلاف

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جیل میں قید چار سینئر رہنماؤں نے ملک کو درپیش سنگین سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ’’سیاسی مذاکرات‘‘ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر فوری مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

    یہ موقف پارٹی کے بانی عمران خان کے اس بیانیے سے مختلف ہے جس میں وہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرتے رہے ہیں۔سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے دستخط شدہ ایک خط میں زور دیا گیا ہے کہ ادارہ جاتی اور سیاسی سطح پر مذاکرات ضروری ہیں اور مذاکرات فوراً شروع کیے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں قید رہنماؤں کا یہ خط پارٹی کے کچھ ایسے سرکردہ رہنماؤں کی مشاورت کے ساتھ جاری کیا گیا ہے جو وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے ان کی اس رائے کو مسترد کر دیا تھا۔ لاہور کی جیل میں قید ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں اس مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے، ملکی تاریخ کے اس بدترین بحران سے نکلنے کا واحد طریقہ مذاکرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ضروری ہیں، سیاسی سطح پر بھی اور اسٹیبلشمنٹ کی سطح پر بھی۔ خط میں ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کسی بھی جانب سے پہل کو تنقید کا نشانہ بنانا دراصل اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہوگا، اور ایسی رکاوٹ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکراتی کمیٹی نامزد کی جائے، پیٹرن انچیف عمران خان تک رسائی کو آسان بنایا جائے تاکہ قیادت کے ساتھ مشاورت کیلئے نقل و حرکت آسان ہو سکے، اور وقتاً فوقتاً مذاکراتی عمل جاری رہ سکے۔

    ’’دی نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید رہنماؤں سے ہمیں یہ خط مل گیا ہے، خط اصل ہے، ہم ان کی رائے پر غور کر رہے ہیں تاہم، اس خط کے مندرجات عمران خان کے موقف سے بہت مختلف ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے چند روز قبل واضح الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ وہ موجودہ حکومتی اتحاد سے کسی قسم کی بات چیت کیلئے تیار نہیں اور صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کو ممکن سمجھتے ہیں۔

    ان کا الزام ہے کہ موجودہ حکمران مبینہ انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اندر بڑھتے اختلاف رائے کی عکاس ہے، جہاں پارٹی کے جیل میں قید سینئر رہنما اب کھل کر اقتدار میں بیٹھی موجودہ سیاسی قوتوں سے بھی بات چیت کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ موجودہ سیاسی جمود کو توڑا جا سکے۔

  • گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ گرفتار

    گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ گرفتار

    لاہور پولیس نے شہر میں بڑھتے ہوئے چوری اور ڈکیتی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد چوروں اور گینگز کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان گرفتاریوں سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    ڈیفنس سی پولیس نے ایک گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ایس پی کینٹ کیپٹن (ر) قاضی علی رضا کے مطابق، زاہد محمود قریشی نامی شہری کی درخواست پر ڈیفنس سی پولیس نے فوری رسپانس کیا اور ملزمہ مہوش کو لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات اور نقدی سمیت گرفتار کر لیا۔ایس پی کینٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمہ پولیس کو زیادہ دیر تک چکمہ نہ دے سکی اور دورانِ تفتیش اس نے اپنا جرم تسلیم کر لیا۔ ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشنز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔متاثرہ شہری زاہد محمود نے اپنے طلائی زیورات اور نقدی کی واپسی پر پولیس کا شکریہ ادا کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ ایس پی کینٹ نے ایس ایچ او ڈیفنس سی سید رضا عباس اور پولیس ٹیم کو اس کامیاب کارروائی پر شاباش دی۔ایس پی کینٹ کیپٹن (ر) قاضی علی رضا نے مزید کہا کہ "پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے۔”

    لاری اڈہ: موٹر سائیکل و موبائل چور گینگ گرفتار
    لاری اڈہ پولیس نے موٹر سائیکل اور موبائل چوری کی وارداتوں میں ملوث ایک متحرک گینگ کے سرغنہ سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ایس پی سٹی بلال احمد کے مطابق، لاری اڈہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے علی رضا عرف چٹا اور اس کے ساتھی آصف کو حراست میں لیا۔ ملزمان کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل، چار موبائل فون اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان لاری اڈہ کے گرد و نواح سمیت لاہور کے مختلف مقامات پر شہریوں کے ساتھ وارداتیں کرتے تھے۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ مسافروں کے موبائل فون چھینتے اور گلی محلوں میں کھڑی موٹر سائیکلیں لے کر فرار ہو جاتے۔گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔ ایس پی سٹی بلال احمد نے لاری اڈہ پولیس کو اس متحرک گینگ کی گرفتاری پر شاباش دی اور کہا کہ "واردات کرنے والے متحرک اسٹریٹ کریمنلز کی گرفتاری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔”

    گجر پورہ: دو رکنی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار
    گجر پورہ پولیس نے بھی خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک دو رکنی موٹر سائیکل چور گینگ کو گرفتار کر لیا ہے۔ایس ایچ او گجر پورہ ذکا کے مطابق، گرفتار ملزمان کی شناخت عمران اور بلال کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے چار چوری شدہ موٹر سائیکلیں اور دو غیر قانونی پسٹل برآمد کیے گئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ یہ ملزمان گجر پورہ سمیت لاہور کے مختلف مقامات پر وارداتیں کرتے تھے۔ ان کا نشانہ گلی محلوں، مارکیٹ بازاروں اور رش والے مقامات پر کھڑی ایسی موٹر سائیکلیں ہوتی تھیں جنہیں لاک نہیں کیا گیا ہوتا تھا۔ ملزمان بغیر لاک کے کھڑی موٹر سائیکلیں لے کر موقع سے فرار ہو جاتے۔گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش جاری ہے۔ ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی نے گجر پورہ پولیس کو اس متحرک گینگ کی گرفتاری پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ "اسٹریٹ کریمنلز کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔”

  • چائلڈ کیئر ورکر پر جنسی زیادتی کےالزامات، 1200 بچوں کو ٹیسٹ کرانے کا مشورہ

    چائلڈ کیئر ورکر پر جنسی زیادتی کےالزامات، 1200 بچوں کو ٹیسٹ کرانے کا مشورہ

    آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں والدین کو شدید تشویش کا سامنا ہے کیونکہ ایک چائلڈ کیئر ورکر پر جنسی زیادتی سمیت 70 سے زائد جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حکام نے تقریباً 1200 بچوں کے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو متعدی بیماریوں کے ٹیسٹ کروائیں۔

    وکٹوریہ پولیس نے 26 سالہ جوشوا ڈیل براؤن کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے، جس پر 2022 اور 2023 میں میلبرن کے ایک چائلڈ کیئر سینٹر میں 5 ماہ سے 2 سال کی عمر کے 8 بچوں کو جنسی طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔اگرچہ تمام الزامات کا تعلق 8 مبینہ متاثرین سے ہے جو ایک ہی سینٹر میں زیرِ تعلیم تھے، تاہم پولیس نے 19 دیگر چائلڈ کیئر سینٹرز میں بھی ممکنہ متاثرین کے بارے میں تفتیش کا دائرہ بڑھا دیا ہے جہاں براؤن 2017 سے کام کر چکا ہے۔وکٹوریہ پولیس کی قائم مقام کمانڈر جینٹ اسٹیونسن نے براؤن کا نام منظر عام پر لانے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ والدین یہ تصدیق کر سکیں کہ آیا ان کا بچہ اس کے رابطے میں آیا تھا یا نہیں۔ اسٹیونسن نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "یہ بہت اہم ہے کہ ہر وہ والدین جس کا بچہ چائلڈ کیئر میں ہے، اسے پتہ ہو کہ وہ کون ہے اور اس نے کہاں کام کیا ہے۔”

    پولیس نے منگل کو ایک نیوز ریلیز میں بتایا کہ براؤن اس وقت زیر حراست ہے اور 15 ستمبر کو میلبرن مجسٹریٹ کورٹ میں پیش ہوگا۔ وکٹوریہ پولیس کے سیکسوئل کرائم سکواڈ نے رواں سال مئی میں اس معاملے کی تحقیقات شروع کی جب تفتیش کاروں کو بچوں سے بدسلوکی کا مواد ملا۔ اس کے بعد پولیس نے براؤن کے گھر پر تلاشی وارنٹ پر عمل درآمد کیا، جس کے نتیجے میں اس کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پھر پولیس نے مبینہ متاثرین کی شناخت کے لیے کام کیا۔اسٹیونسن نے کہا، "گزشتہ ہفتے، ہم نے آٹھ خاندانوں کو مطلع کیا کہ ہم نے براؤن پر ان کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، یہ خاندانوں کے لیے بہت تکلیف دہ خبر تھی۔ ہم نے اپنی شراکت دار ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اس مشکل دور میں ان کی مدد کے لیے تمام امدادی انتظامات کیے ہیں۔”اسٹیونسن نے بتایا کہ براؤن کے پاس "بچوں کے ساتھ کام کرنے کی درست اجازت” تھی، جو آسٹریلیا میں بچوں سے متعلقہ کام کرنے والے افراد کے لیے لازمی جانچ پڑتال ہے۔ براؤن نے کچھ چائلڈ کیئر سینٹرز میں "بہت کم عرصے” کے لیے کام کیا۔

    چیف ہیلتھ آفیسر کرسچن میک گرا نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ محکمہ صحت کے حکام اور پولیس نے تقریباً 2,600 خاندانوں کی نشاندہی کی ہے اور ان سے رابطہ کیا ہے جن کے بچے ان چائلڈ کیئر سینٹرز میں زیر تعلیم تھے جہاں براؤن نے کام کیا۔

    میک گرا نے بتایا کہ تقریباً 1200 بچوں کو متعدی بیماریوں کے ٹیسٹ کرانے کی سفارش کی جا رہی ہے۔ میک گرا نے کہا، "ہم سفارش کر رہے ہیں کہ اس عرصے میں ممکنہ متاثر ہونے کے خطرے کی وجہ سے کچھ بچوں کو متعدی بیماریوں کے ٹیسٹ کروائے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صورتحال کا ایک اور پریشان کن پہلو ہے، اور ہم احتیاط کے طور پر یہ طریقہ اپنا رہے ہیں۔”انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ بچوں کو کن بیماریوں کے ٹیسٹ کرانے کا کہا جا رہا ہے لیکن کہا کہ ان کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے کیا جا سکتا ہے۔

    حکام کے مطابق، براؤن پر بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ بچوں سے بدسلوکی کا مواد تیار کرنے اور منتقل کرنے سمیت دیگر الزامات بھی ہیں۔ آٹھ مبینہ متاثرین میلبرن کے ایک مضافاتی علاقے پوائنٹ کک میں کرئیٹو گارڈنز ارلی لرننگ سینٹر میں زیرِ تعلیم تھے۔ پولیس نے متاثرین کی جنس کا انکشاف نہیں کیا۔

  • یورپ میں ساحل ،پارکوں میں سگریٹ نوشی کو الوداع کہنے میں فرانس پیش پیش

    یورپ میں ساحل ،پارکوں میں سگریٹ نوشی کو الوداع کہنے میں فرانس پیش پیش

    اس موسم گرما میں پیرس میں ایفل ٹاور کے نیچے شام کی سگریٹ آپ کو ایک غیر متوقع جرمانے کے ساتھ مل سکتی ہے۔ یکم جولائی سے فرانس نے بچوں کے کثرت سے آنے والے تمام بیرونی علاقوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی ہے، جن میں پارک، ساحل، عوامی باغات، بس اسٹاپ، اسکول کے داخلی دروازے اور کھیلوں کے مقامات شامل ہیں۔ یہ ایک وسیع پیمانے پر اٹھایا گیا قدم ہے جو صدر ایمانوئل میکرون کے 2032 تک "پہلی تمباکو سے پاک نسل” پیدا کرنے کے عزم کا حصہ ہے۔

    ان علاقوں میں سگریٹ پینے پر 15 دنوں کے اندر 90 یورو کا جرمانہ ہو سکتا ہے، جو اس کے بعد بڑھ کر 135 یورو (تقریباً $150) تک جا سکتا ہے، جس میں غیر متوقع سیاح بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو تمباکو کے دھوئیں سے بچانا اور عمومی طور پر سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔”فرانس تمباکو کنٹرول کے لحاظ سے یورپ کے سب سے فعال ممالک میں سے ایک کے طور پر اپنی پوزیشن بنا رہا ہے،” تمباکو کنٹرول کی وکالت کرنے والے یورپی گروپوں کے اتحاد، اسموک فری پارٹنرشپ کی سینئر پالیسی آفیسر راکیل وینانسیو نے سی این این کو بتایا۔ جبکہ اسپین اور اٹلی جیسے ممالک نے مقامی یا علاقائی سطح پر بعض علاقوں میں سگریٹ نوشی پر پابندیاں متعارف کرائی ہیں، فرانس ساحلوں پر سگریٹ نوشی کے خلاف ملک گیر پابندی نافذ کرنے والا واحد یورپی ملک ہے۔

    تاہم، تمام شہری اس نئے اقدام کی حمایت نہیں کرتے۔ پیرس میں 25 سالہ طالبہ ایلیس لیوکس نے سی این این کو بتایا، "جتنا وقت گزرتا جا رہا ہے، حکومت ہماری بنیادی آزادیوں کو چھیننا چاہتی ہے۔” "اگر آپ باوقار ہیں پارک یا ساحل پر سگریٹ کے ٹکڑے نہیں پھینک رہے، دوسروں کو پریشان نہیں کر رہے – تو مجھے کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔ سگریٹ نوشی کو اچانک جرم کیوں سمجھا جانا چاہیے؟”

    فرانس میں سگریٹ نوشی 1990 کی دہائی کے بعد سے اپنی سب سے کم سطح پر ہے۔ فرانسیسی قومی صحت عامہ کی ایجنسی کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، آج، فرانس میں تقریباً ایک تہائی بالغ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں، جن میں سے 23% بالغ آبادی روزانہ سگریٹ نوشی کرتی ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو کا استعمال کم ہو رہا ہے، 2022 میں 17 سال کے بچوں میں سے صرف 16% روزانہ سگریٹ نوشی کی اطلاع دے رہے ہیں، جو دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار ہیں – چھ سال پہلے کے 25% سے کم۔

    اس کے باوجود، فرانس یورپ کے سب سے زیادہ تمباکو پر منحصر ممالک میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے حکام نے سگریٹ کی اسمگلنگ میں "دھماکہ” قرار دیا ہے، جو زیادہ تر بلغاریہ، ترکی اور الجزائر سے ہوتی ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق، جو تمباکو کی بڑی کمپنی فلپ مورس کے لیے کیا گیا تھا، صرف 2024 میں، فرانس نے اندازاً 18.7 بلین غیر قانونی سگریٹ استعمال کیے – جو تمباکو کے استعمال کا ایک حیران کن 38% حصہ بنتا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی غیر قانونی تمباکو مارکیٹ بناتا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق، زیادہ تر باقاعدہ تمباکو نوشی کرنے والے اپنی نوعمری میں شروع کرتے ہیں، جن میں سے تقریباً 90% 18 سال کی عمر سے پہلے اس عادت کو اپناتے ہیں۔

    جین، 25، نے، جس نے اپنا آخری نام نہیں بتایا، کہا، "میں 14 سال کی عمر سے سگریٹ پی رہی ہوں۔ میرے زیادہ تر دوست بھی اتنی ہی چھوٹی عمر میں شروع ہوئے۔ جرمانہ ہو یا نہ ہو، ہم سگریٹ پیتے رہیں گے۔ یہ فرانسیسی شناخت کا حصہ ہے – ہم جو چاہتے ہیں اس کے لیے لڑتے ہیں۔ ہم روبوٹ نہیں ہیں۔”

    وزیر صحت کیتھرین واٹرین نے کہا کہ "نوجوانوں کی حفاظت اور سگریٹ نوشی کو غیر معمولی بنانا” حکومت کے لیے "مکمل ترجیح” ہے۔ انہوں نے کہا، "17 سال کی عمر میں، آپ کو اپنا مستقبل بنانا چاہیے، نہ کہ اپنی لت۔ جہاں بچے ہیں، وہاں تمباکو کو غائب ہونا چاہیے۔”

    بیلجیم اور برطانیہ کے برعکس، جنہوں نے حال ہی میں ڈسپوزایبل ویپس کی فروخت پر پابندی لگائی ہے، فرانس کے نئے قوانین میں ای سگریٹ پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے – کم از کم ابھی تک نہیں۔ تاہم، نئے ضوابط میں ویپنگ مصنوعات میں نیکوٹین کی مجاز سطحوں میں کمی، نیز کاٹن کینڈی جیسے ذائقوں پر سخت حدیں شامل ہیں، جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

    یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق، تمباکو کا استعمال یورپی یونین میں صحت کا سب سے بڑا قابل علاج خطرہ ہے، جو ہر سال تقریباً 700,000 قبل از وقت اموات کا سبب بنتا ہے۔ صرف فرانس میں، یہ ہر سال 75,000 اموات کا باعث بنتا ہے – جو ملک کی وزارت صحت کے مطابق روزانہ 200 اموات کے برابر ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والوں اور ان کے آس پاس کے لوگوں پر براہ راست نقصان کے علاوہ، تمباکو کی مصنوعات ماحولیاتی خطرہ بھی بنتی ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق، ہر سال فرانس بھر میں اندازاً 20,000 سے 25,000 ٹن سگریٹ کے بٹ پھینکے جاتے ہیں۔

    فرانس نے 2009 میں 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی لگائی تھی۔ لیکن نفاذ میں نرمی رہی ہے: نیشنل کمیٹی اگینسٹ ٹوبیکو (CNCT) کے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ تقریباً دو تہائی تمباکو کی دکانیں کم عمر گاہکوں کو سگریٹ فروخت کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور جب کہ نابالغوں کو تمباکو خریدنے سے منع کیا گیا ہے، کوئی قانون انہیں سگریٹ نوشی سے نہیں روکتا – ایک قانونی خامی جسے حکومت نے مستقبل کی قانون سازی میں دور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    سویڈن کے برعکس – جو ریستوراں اور بار کی چھتوں پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی لگانے والا واحد یورپی ملک ہے – فرانس ان جگہوں پر سگریٹ نوشی کی اجازت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ برطانیہ، جس میں یورپ کی سب سے سخت تمباکو نوشی مخالف پالیسیاں ہیں، پب باغات میں سگریٹ نوشی کی اجازت دیتا ہے۔

    فرانسیسی نیشنل کمیٹی فار ٹوبیکو کنٹرول (CNCT) کی ترجمان امیلی اسچینبرینر نے سی این این کو بتایا، "ہم تقریباً ایک دہائی سے چھتوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی کے لیے زور دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ بہت مشکل ہے۔” "شراب کے گلاس کے ساتھ سگریٹ پینا – یہ فرانسیسی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے۔”تاہم، روایت ہی واحد رکاوٹ نہیں ہے۔ اسچینبرینر کے مطابق، چھتوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی میں اہم رکاوٹ تمباکو کی صنعت کی لابنگ ہے۔ فرانس میں تقریباً 23,000 لائسنس یافتہ تباکوز – تمباکو کی دکانیں ہیں جو بہت سی شہری سڑکوں کے کونوں پر موجود ہیں۔ ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو فروش عوامی صحت ایجنسیوں کے مقابلے میں مقبول حمایت کی سطح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسچینبرینر نے وضاحت کی، "وہ اپنی مقبولیت کا استعمال فیصلہ سازوں، خاص طور پر پارلیمنٹیرینز کو متاثر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وسیع پیمانے پر پابندی نافذ کرنا بہت مشکل ہے۔”

    سی این این نے پیرس میں درجنوں تمباکو فروشوں سے نئے قانون پر ان کا نقطہ نظر جاننے کے لیے رابطہ کیا، لیکن کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

    پھر بھی، تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ اسچینبرینر نے یاد دلایا، "2007 میں، جب فرانس نے ریستوراں، بارز اور نائٹ کلبوں کے اندر سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی تھی، تو بہت زیادہ مخالفت ہوئی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، لوگ اس کے عادی ہو گئے اور اسے قبول کر لیا۔ یہی ان نئے ضوابط کے ساتھ بھی ہونے کا امکان ہے – اور، امید ہے کہ، چھتوں پر سگریٹ نوشی پر مستقبل کی پابندی کے ساتھ بھی۔”

    کینسر کی شرح کو کم کرنے کی اپنی حکمت عملی کے تحت، یورپی کمیشن کا مقصد 2040 تک یورپی یونین کی آبادی میں تمباکو کے استعمال کو 5% سے کم کرنا ہے۔ اسی طرح، فرانس کی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ تازہ ترین پابندیاں تمباکو پر وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کا پہلا قدم ہو سکتی ہیں۔واٹرین نے کہا، "تمباکو زہر ہے۔ یہ مارتا ہے، اس پر لاگت آتی ہے، یہ آلودگی پھیلاتا ہے۔ میں لڑائی ترک کرنے سے انکار کرتی ہوں۔ تمباکو کے بغیر ہر دن ایک جیتی ہوئی زندگی ہے۔ ہمارا ہدف واضح ہے: تمباکو سے پاک نسل – اور ہمارے پاس اسے حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔”