Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعظم سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات،سانحہ سوات پر بریفنگ

    وزیراعظم سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات،سانحہ سوات پر بریفنگ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی ہے

    گورنر خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے بریفنگ دی،وزیر اعظم نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں کو اس قسم کے واقعات کے تدارک اور روک تھام کے لئے اپنی استعداد بڑھانے کی ہدایت کی،ملاقات میں مجموعی ملکی صورت حال پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا

    ملاقات میں وفاقی وزیر کشمیر، گلگت بلتستان و سرحدی امور انجینئر امیر مقام ، وفاقی وزیر پبلک افیئرز یونٹ رانا مبشر اقبال، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ ، وزیر مملکت برائے پاور عبدالرحمان کانجو اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور طلحہ برکی بھی موجود تھے۔

  • تواہین عدالت کے مرتکب سیشن جج حویلی راجہ امتیاز احمد سپریم کورٹ سےگرفتار

    تواہین عدالت کے مرتکب سیشن جج حویلی راجہ امتیاز احمد سپریم کورٹ سےگرفتار

    آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ایک اہم توہینِ عدالت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سیشن جج حویلی، راجہ امتیاز کو تین دن قید کی سزا سنائی ہے۔ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے فیصلہ سنایا، جس کے بعد عدالت نے جج کو کمرۂ عدالت ہی سے گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔

    پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سیشن جج راجہ امتیاز کو عدالت کے اندر سے حراست میں لے لیا، جس کے مناظر عدالت میں موجود افراد نے حیرت اور سنجیدگی سے دیکھے۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "سیشن جج راجہ امتیاز نے سپریم کورٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کیا، اور اعلیٰ عدالتی احکامات کے برعکس ایک منشیات کے ملزم کی ضمانت منظور کی۔”عدالت نے مزید کہا کہ راجہ امتیاز نے عدالت میں جھوٹ بول کر نہ صرف عدالتی وقار کو مجروح کیا بلکہ انصاف کے عمل کو بھی نقصان پہنچایا۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں یہ بات واضح کی کہ کسی بھی جج کو آئین و قانون سے بالا تر سمجھا نہیں جا سکتا اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے۔

    اس فیصلے کے بعد عدالتی و قانونی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی اعلیٰ عدلیہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، چاہے مخاطب عدالتی نظام کا کوئی رکن ہی کیوں نہ ہو۔

    توہینِ عدالت کا یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب سیشن جج راجہ امتیاز نے ایک ایسے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جس کی درخواستِ ضمانت کو سپریم کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی تھی۔ اس اقدام کو سپریم کورٹ نے اپنی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا۔

  • باجوڑ دھماکہ قابل مذمت،اسسٹنٹ کمشنر کی شہادت قومی سانحے سے کم نہیں،حافظ خالد نیک

    باجوڑ دھماکہ قابل مذمت،اسسٹنٹ کمشنر کی شہادت قومی سانحے سے کم نہیں،حافظ خالد نیک

    دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اور سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے،حافظ خالد نیک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے باجوڑ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع ایک ناقابل معافی جرم ہے۔اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل سمیت دیگر اہلکاروں کی شہادت ایک قومی سانحے سے کم نہیں، شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں.

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ باجوڑ دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی، تحصیلدار ناوگئی وکیل، ایک پولیس صوبیدار اور پولیس اہلکار سمیت قیمتی جانوں کا نقصان ہوا،پاکستان میں دہشت گردی کی لہر بڑھ رہی ہے اور خیبر پختونخوا و بلوچستان دشمن قوتوں کا ہدف رہا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں انہی علاقوں کی عوم نے دی ہیں، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اور سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے، مرکزی مسلم لیگ وطن عزیز کو امن کا گہواہ بنانے کے لئے میدان عمل میں ہے، نفرت کی سیاست،انتشار، دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اتحاد و یکجہتی ضروری ہے،ہم اس مشکل وقت میں شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ شہداء کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحتیابی نصیب کرے۔

  • پنجاب کے تمام اسکولوں میں مالیاتی خواندگی کا آغاز ،دستاویزات پر دستخط

    پنجاب کے تمام اسکولوں میں مالیاتی خواندگی کا آغاز ،دستاویزات پر دستخط

    2025 پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF)، کارانداز پاکستان(Karandaaz Pakistan) ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)کے ذیلی ادارے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (NIBAF) اور دی بینک آف پنجاب (BoP) نے شراکت کی ایک دستاویز پر باضابطہ دستخط کیے ہیں جس کا مقصد پور ے پنجاب میں، پاکستان ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیر انتظام چلنے والے تمام اسکولوں میں مالیاتی خواندگی کو ضمنی تعلیم کے طور پر متعارف کروانا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی قومی مالی شمولیت کی حکمتِ عملی (National Financial Inclusion Strategy) اور سنہ2025ء تا سنہ2029ء کی قومی مالیاتی تعلیم کے روڈ میپ سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد سنہ2028ء تک مالیاتی خواندگی کے مواد کو قومی نصاب کا حصہ بنانا ہے۔

    یہ مشترکہ اقدام ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو مالیاتی خواندگی فراہم کرے گا۔ پائلٹ مرحلے میں، تقریباً 2,000 اساتذہ اور 25 ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی جائے گی تاکہ وہ فاؤنڈیشن کے 1,000 اسکولوں میں مالیاتی تعلیم کے سیشن منعقد کر سکیں ۔ مالیاتی تعلیم میں آمدنی کے حصول، بچت، بجٹ سازی، اور ڈیجیٹل بینکنگ جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ نِیباف (NIBAF) اس منصوبے کے عملی نفاذ کی قیادت کرے گا، اور اس کے ساتھ ایک قلیل مدتی نگرانی کا مرحلہ بھی ہوگا تاکہ اسکولوں میں تدریس کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔

    شراکت کی دستاویز پر دستخط کرنے کی تقریب میں جن افراد نے شرکت کی اُن میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن،خالد نذیر وٹو، ؛چیئرمین،پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ملک شعیب اعوان، ؛پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر، شاہد فرید ؛ پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹوز منیجمنت اتھارٹی (PEIMA)کے چیئرپرسن،علی رضا ؛ وزیر اعلیٰ کی ایڈوائزری کمیٹی برائے تعلیم کے رُکن،شکیل احمد؛ کارانداز پاکستان کےچیف ڈیجیٹل آفیسر،شرجیل مرتضیٰ،اورنیباف پاکستان کی پروگرام لیڈ،ثنا بلال، شریک چیف ایگزیکٹو آفیسر،لبنیٰ فاروق ملک؛ ڈائریکٹر لرننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ،ساجد علی؛ پروجیکٹ ڈائریکٹر سلمان شہزاد، اوردی بینک آف پنجاب کے چیف آف اسٹاف اینڈ اسٹریٹیجی، اور گروپ ہیڈ،رضا بشیر شامل تھے۔

    یہ اقدام ایک کامیاب ماڈل پر مبنی ہے جو اس سے قبل وفاقی وزارت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت (MoFE&PT) اور وفاقی محکمہ تعلیم (پی ڈی ای) کے اشتراک سے وفاقی اسکولوں میں نافذ کیا گیا اور،بعد ازاں،مالیاتی تعلیم کو ہفتہ وار نظام الاوقات میں شامل کیا گیا تھا۔ پنجاب میں اس پروگرام کا آغاز نچلی سطح پر صلاحیت سازی کے لیے ایک اہم مداخلت کی حیثیت رکھتا ہے، جو پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے، بالخصوص ہدف 4 (معیاری تعلیم)، ہدف 8 (باعزت روزگار اور معاشی ترقی)، اور ہدف 10 (عدم مساوات میں کمی) جیسے اہداف شامل ہیں۔

    ابتدائی مالیاتی تعلیم کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے سیکرٹری،اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، جناب خالد نذیر وٹو نے کہا:”یہ ایک قابلِ تحسین کوشش ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ مختلف فریقین اس اہم شعبے پر توجہ دینے کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔ مالیاتی خواندگی کو زندگی کی ایک بنیادی مہارت کے طور پر دیکھنا چاہیے اور ایسے اقدامات کو پنجاب کے مزید اسکولوں تک وسعت دینا چاہیے۔“

    ایک مشترکہ بیان میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ،ملک شعیب اعوان اور پیما کے بورڈ آف گورنرز کے چیئر پرسن، علی رضا نے کہا:”ہم پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کےاسکولوں میں مالیاتی خواندگی کو منظم انداز میں متعارف کرانے کی اس کوشش کو بے حد سراہتے ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ اسے پائلٹ پروگرام کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے، جو آئندہ وسعت کے لیے سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔ یہ تصور بروقت اور انتہائی ضروری ہے، اور ہم اس اقدام کو پنجاب کے مزید اسکولوں تک پھیلانے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔“

    اس اقدام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر، شاہد فرید نے کہا:”یہ شراکت ہمارے طلبہ کو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مالیاتی خواندگی نہایت اہم ہے، اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اسے پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اسکولوں کے نصاب میں شامل کر رہے ہیں تاکہ طلبہ کو کلاس روم سے باہر کی زندگی کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔“

    تعاون کی حکمتِ عملی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، کارانداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، وقاص الحسن نے کہا:”مالیاتی خواندگی ایک بنیادی مہارت ہے جسے نوجوانوں کو ان کے ، ان برسوں میں سکھانا ضروری ہے جب ان کا کیرئیرتشکیل پا رہا ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف انہیں ذاتی مالی معاملات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ انہیں کاروبار کو ایک پیشہ ورانہ راستے کے طور پر اپنانے کی مہارت دے گی اور وسیع تر معیشت میں کارفرما معاشی عوامل کو سمجھنے کے قابل بنائے گی۔ یہ اقدام مالی شمولیت کے فروغ کے لیے مؤثر، قابلِ توسیع اور نظامی سطح کی مداخلتوں کے ذریعے کارانداز کے جاری عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم ملک بھر میں اس خیال کو مقبول ہوتے دیکھ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ سرکاری تعلیمی محکمے اور نجی شعبے کے تعلیمی ادارے/معاونین اس ماڈل کو اپنانے پر غور کریں گے۔“

    نیباف کے نقطۂ نظر کو بیان کرتے ہوئے نِیباف کی شریک چیف ایگزیکٹو آفیسر، لبنیٰ فاروق ملک نے کہا:”مالیاتی صلاحیت زندگی کی ایک بنیادی مہارت ہے، اور ہمیں فخر ہے کہ ہم اس بامقصد شراکت میں اپنا تعلیمی مواد اور تربیتی مہارت فراہم کر رہے ہیں۔ نِیباف کا مقصد معیاری تربیت اور تعلیم کو یقینی بنانا ہے جو ذمہ دار مالی رویے کو فروغ دے۔“

    مالیاتی شعبے کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے دی بینک آف پنجاب کے چیف آف اسٹاف اینڈ اسٹریٹیجی، اور گروپ ہیڈ، رضا بشیر نے کہا:”مالیاتی خواندگی ڈیجیٹل مالی شمولیت کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔دی بینک آف پنجاب کو اس مشترکہ کاوش کا حصہ بننے پر فخر ہے، جو ایک زیادہ مالی طور پر بااختیار نسل کی بنیاد رکھ رہی ہے۔“

    ادارہ جاتی ہم آہنگی، نفاذ کے شراکت داروں کی موجودگی، اور مضبوط پالیسی پس منظر کے ساتھ، یہ اقدام ملک کے دیگر صوبوں میں وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے تیار ہے۔ کارانداز، پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن، نیباف پاکستان، اور دی بینک آف پنجاب جیسے ماحولیاتی نظام کے تمام فریقین — بشمول عطیہ دہندگان، سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کے ارکان زور دیتے ہیں کہ وہ ان کوششوں کو وسعت دینے کے لیے تعاون کریں اور مالیاتی خواندگی کو تمام پاکستانی طلبہ کے لیے تعلیم کا ایک بنیادی جزو بنا دیں۔

  • یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا حکومت کا فیصلہ شرمناک ہے، خالد مسعود سندھو

    یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا حکومت کا فیصلہ شرمناک ہے، خالد مسعود سندھو

    یوٹیلٹی اسٹور ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،حکومت بندش کا فیصلہ واپس لے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا حکومت کا فیصلہ شرمناک ہے،1700 اسٹورز سے 5 ہزار سے زائد ملازمین کی بے روزگاری کا ذمہ دار کون ہو گا؟ مرکزی مسلم لیگ یوٹیلٹی اسٹور ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑے گی،حکومت بندش کا فیصلہ واپس لے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ایک طرف پٹرول،گیس مہنگی ،دوسری جانب بے روزگاری کا طوفان لایا جا رہا،حکمران عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں، مرکزی مسلم لیگ کئی شہروں میں سستا سہولت بازار چلا کر عوام کو ریلیف دے رہی ہے،مرکزی مسلم لیگ کے سستے سہولت بازاروں میں اشیاء خورونوش کی قیمتیں عام بازاروں کی نسبت کم رکھی جاتی ہیں، اگر مرکزی مسلم لیگ عوام کے لئے سستے سہولت بازار چلا سکتی ہے تو حکمران عوام کو ریلیف دینے والے یوٹیلٹی اسٹورز کو بند کر کے ہزاروں گھرانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کیوں‌کر رہے ہیں،پاکستان میں بے روزگاری پہلے عروج پر ہے، نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے پھر رہے ہیں لیکن نوکریاں نہیں ملتیں ایسے میں مزید ملازمین کی بے روزگاری سے ملک میں ایک نیا بحران کھڑا ہو گا،حکمران اپنی عیاشیوں کو کم کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دیں.

  • ہتک عزت کیس، سابق پی ٹی آئی رہنما نے صحافی مرتضیٰ علی شاہ سے مانگی معافی

    ہتک عزت کیس، سابق پی ٹی آئی رہنما نے صحافی مرتضیٰ علی شاہ سے مانگی معافی

    جیو لندن کے رپورٹر پر جھوٹے الزمات لگانے والے تحریک انصاف کے سابق عہدیدار نے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے سابق ایڈیشنل جنرل سیکرٹری نارتھ ویسٹ ریجن ریاض حسین نے 4 برس تک اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کے بعد بلآخر جرم تسلیم کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ ریاض حسین نے تسلیم کیا کہ اس نے جیو کے رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ کو بدنام کیا اور اس نے 40 ہزار پاؤنڈ کے قانونی اخراجات ادا کردیے ہیں جب کہ ریاض حسین نے اب مرتضیٰ علی شاہ کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات سے خود کو الگ کرتے ہوئے کیس سے دستبرداری اختیار کرلی۔ریاض حسین نے اردو میں پڑھا گیا معافی نامہ فیس بک پر بھی لگادیا جس میں اس نے میں تسلیم کرتا ہوں کہ ’مسٹر شاہ کے خلاف الزامات بے بنیاد تھے، یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ مسٹر شاہ کرپٹ نہیں اور نہ وہ اپنی صحافی سے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور کمیونٹی کو گمراہ بھی نہیں کررہے‘۔

    ریاض حسین نے مختلف اوقات میں الزامات لگائے تھے کہ مرتضیٰ علی شاہ جان بوجھ کر توجہ کے حصول کے لیے بے بنیاد الزمات لگا رہے ہیں جب کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ مرتضیٰ علی شاہ کے خلاف الزامات ہتک آمیز تھے، انہوں نے جھوٹی خبریں دیں نہ اور سامعین کو گمراہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق مقدمے میں دیگر دو نامزد سابق عہدیداران میں نارتھ ویسٹ ریجن کے سابق صدر محمد عمران اور نارتھ ویسٹ کی جنرل سیکرٹری شہناز صدیقی شامل ہیں۔ جیو کے رپورٹر نے جھوٹے الزامات کی مہم چلانے پر تینوں افراد کے خلاف مقدمے کا آغاز تقریباً 5 برس قبل کیا تھا، سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جنگ و جیو کے ایڈیٹر انچیف کی گرفتاری کے حوالے شائع ہونے والی خبروں کے بعد رپورٹر کے خلاف ہتک آمیز مہم شروع ہوئی تھی۔

    عدالت نے گزشتہ برس اسٹرائیک آؤٹ درخواست کے بعد تینوں کو 23,115.60 پاؤنڈ صحافی کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس کی تعمیل نہیں ہوئی۔عدالت قانونی اخراجات کے حصول کیلئے شہباز صدیقی کی پراپرٹی پر صحافی کے حق میں چارجنگ آرڈر بھی جاری کرچکی ہے، دفاع کرنے والے دیگر 2 ستمبر میں عدالت میں حاضر ہوں گے تاکہ ڈیبیرنگ درخواست کا سامنا کرسکیں گے۔

    مارچ 2020 میں مرتضیٰ علی شاہ کے خلاف تینوں افراد کی طرف سے چلائی گئی مہم کو پارٹی کی برطانیہ اور پاکستان کی قیادت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

  • ٹک ٹاکر کاشف ضمیر ایک بار پھر گرفتار

    ٹک ٹاکر کاشف ضمیر ایک بار پھر گرفتار

    معروف سوشل میڈیا شخصیت اور ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کو ایک بار پھر قانون کی گرفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سی آئی اے اقبال ٹاؤن پولیس نے کاشف ضمیر کو چند روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کی بنیاد پر حراست میں لے لیا ہے، جن میں وہ باوردی اور مسلح گارڈز کے ہمراہ نظر آ رہا تھا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، کاشف ضمیر اور اس کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف تھانہ سی آئی اے اقبال ٹاؤن میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقدمات میں غیر قانونی اسلحہ کی نمائش، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردی کا ناجائز استعمال اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے جیسی دفعات شامل کی گئی ہیں۔کارروائی کے دوران پولیس نے کاشف ضمیر کے ہمراہ موجود 13 مسلح گارڈز کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ گارڈز کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، جسے پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ایس پی سی آئی اے کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ گارڈز کی وردیاں اور اسلحہ لائسنس یافتہ نہیں تھے، جبکہ کاشف ضمیر نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوامی مقامات پر سیکیورٹی شو آف کیا۔

    یاد رہے کہ کاشف ضمیر اس سے قبل بھی متنازع حرکات اور جھوٹے دعووں کی بنا پر خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں، جن میں ترکی کے معروف اداکار انگین التان (ارطغرل) سے جعلی معاہدہ اور فراڈ کے الزامات بھی شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • مخصوص نشستیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کا اہم فیصلہ

    مخصوص نشستیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کا اہم فیصلہ

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے 27 جون 2025 کے فیصلے کے تناظر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 24 اور 29 جولائی 2024 کو جاری کیے گئے وہ تمام نوٹیفکیشنز واپس لے لیے ہیں جن کے تحت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی واپسی کو تسلیم کیا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دینا سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل درآمد کی غرض سے کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے نظرثانی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان امیدواروں کی واپسی کو غیرقانونی قرار دیا، جس کے بعد کمیشن کے پاس کوئی چارہ نہ رہا سوائے نوٹیفکیشنز واپس لینے کے۔اسی فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں سے متعلق نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق، خواتین کے لیے مخصوص 16 نشستیں اور اقلیتوں کے لیے 3 نشستیں بحال کر دی گئی ہیں۔ ان نشستوں کی تقسیم درج ذیل ہے،پاکستان مسلم لیگ (ن): 13 نشستیں،پاکستان پیپلز پارٹی: 4 نشستیں،جمعیت علمائے اسلام (ف): 2 نشستیں،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کی بحالی بھی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کی ایک کڑی ہے۔ اس سے قبل 24 اور 29 جولائی 2024 کو مخصوص نشستوں سے متعلق جو نوٹیفکیشنز جاری کیے گئے تھے، انہیں بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

    اسلام آباد،الیکشن کمیشن نے 76 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دے دیں،قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی خواتین کی 5نشستیں بحال کر دی گئیں،قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو 2،2 نشستیں مل گئیں، قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی ایک مخصوص نشست جے یو آئی کو مل گئی،قومی اسمبلی میں پنجاب کی خواتین کی 11مخصوص نشستیں بحال .قومی اسمبلی میں پنجاب کی خواتین کی 10نشستیں ن لیگ کو مل گئیں،قومی اسمبلی میں پنجاب کی خواتین کی ایک نشست پیپلز پارٹی کو دی گئی ، قومی اسمبلی کی 3غیر مسلم نشستوں پر ارکان کی رکنیت بحال، قومی اسمبلی میں ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو ایک ایک اقلیتی نشست مل گئی

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی 21مخصوص نشستیں بحال، خیبرپختونخوا اسمبلی میں جے یو آئی کو 8 سیٹیں مل گئیں ،
    خیبرپختونخوا اسمبلی میں ن لیگ کو 6 اور پیپلز پارٹی کو5سیٹیں مل گئیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں اے این پی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کو ایک ایک سیٹ ملی .خیبرپختونخوا اسمبلی میں اقلیتوں کی 4نشستیں بھی بحال کر دی گئیں ، خیبرپختونخوا اسمبلی میں جے یو آئی کو 2اقلیتی نشستیں دی گئی ہیں ، خیبرپختونخوا اسمبلی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ایک ایک اقلیتی نشست ملی، پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 24مخصوص نشستیں بحال ،پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 21نشستیں ن لیگ کو مل گئیںپنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی،آئی پی پی ، ق لیگ کو ایک ایک نشست ملی،سندھ اسمبلی میں خواتین کی 2نشستیں بحال کر دی گئی ،سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو ایک ایک نشست مل گئی،سندھ اسمبلی میں ایک اقلیتی نشست بھی پیپلز پارٹی کو دے دی گئی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام نہ صرف آئینی دائرہ کار میں آتا ہے بلکہ یہ ملک میں انتخابی شفافیت کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو ممکنہ طور پر شدید سیاسی دھچکا پہنچ سکتا ہے، جبکہ دیگر جماعتوں کو پارلیمانی طاقت میں اضافہ حاصل ہوا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق، وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں مزید اقدامات بھی کرے گا تاکہ انتخابی عمل کو مکمل طور پر آئین و قانون کے مطابق رکھا جا سکے۔

  • سابق وزیراعظم "حسینہ” کو چھ ماہ قید کی سزا

    سابق وزیراعظم "حسینہ” کو چھ ماہ قید کی سزا

    بین الاقوامی جرائم ٹربیونل-1 نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو عدالت کی توہین کے الزام میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز تین رکنی بینچ نے سنایا جس کی سربراہی چیئرمین جسٹس محمد غلام مرتضیٰ مجومدر نے کی۔

    ٹربیونل کے فیصلے میں کہا گیا کہ سابق وزیر اعظم نے ایک آڈیو کلپ میں ایسے بیانات دیے جو عدالت کی توہین کے زمرے میں آتے ہیں۔ مذکورہ آڈیو کلپ میں شیخ حسینہ کو یہ کہتے سنا گیا کہ انہیں "227 افراد کو ہلاک کرنے کا اختیار ہے”، جو عدالتی وقار پر براہِ راست حملہ تصور کیا گیا۔عدالت کی جانب سے حسینہ کو پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، لیکن انہیں مقررہ تاریخ تک تسلی بخش جواب نہ دینے پر توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ یہ سزا یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو گی۔اسی مقدمے میں ایک اور شخص، شکیل اکاند بلبُل، جو گوبندگنج (ضلع گیباندھا) سے تعلق رکھتے ہیں، کو بھی عدالت کی توہین کا مجرم قرار دیتے ہوئے دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ شیخ حسینہ کو ان کے عہدہ چھوڑنے اور ملک سے فرار ہونے کے بعد کسی عدالتی مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ شیخ حسینہ اقتدار چھن جانے کے بعد بھارت چلی گئیں اور وہیں مقیم ہیں، ان کے خلاف کئی سنگین الزامات کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جن میں قتل، اغواء، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیشی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتا ہے بلکہ عدالتی خودمختاری اور انصاف کی بالادستی کا پیغام بھی دیتا ہے

  • باجوڑ بم دھماکہ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید، 11 زخمی

    باجوڑ بم دھماکہ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید، 11 زخمی

    خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل خار میں واقع صدیق آباد پھاٹک کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی سمیت 4 افراد شہید جبکہ کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    واقعہ ناوگئی روڈ پر پیش آیا جب اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی پر نامعلوم شدت پسندوں نے حملہ کیا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب قافلہ معمول کی سیکیورٹی کے ساتھ علاقے سے گزر رہا تھا۔شہید ہونے والوں میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی فیصل اسماعیل، تحصیلدار وکیل، ایک پولیس صوبیدار اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال خار منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور ڈاکٹروں کی اضافی ٹیمیں طلب کر لی گئی ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ اور تفتیشی ادارے موقع پر موجود ہیں اور شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔