Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ماموں سے شادی کا خواب، خاتون نے 45 دن بعدشوہر کو قتل کروا دیا

    ماموں سے شادی کا خواب، خاتون نے 45 دن بعدشوہر کو قتل کروا دیا

    بہار کے ضلع اورنگ آباد میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں شادی کے صرف 45 دن بعد ایک 25 سالہ نوجوان پرینشو کو مبینہ طور پر اس کی بیوی گُنجا دیوی نے اپنے ماموں اور دو شوٹرز کی مدد سے قتل کروا دیا۔ یہ واقعہ مئی میں پیش آئے میگھالیہ کے "ہنی مون مرڈر” کی یاد تازہ کر دیتا ہے جس نے ملک بھر میں سنسنی پھیلا دی تھی۔

    پولیس کے مطابق گُنجا دیوی، جو کہ خود بھی بیس کی دہائی میں ہے، اپنے 55 سالہ ماموں جیون سنگھ کے ساتھ تعلقات میں تھی۔ دونوں آپس میں شادی کرنا چاہتے تھے لیکن خاندان کی مخالفت کے باعث گُنجا کی شادی زبردستی پرینشو سے کر دی گئی، جو نوبی نگر تھانہ حلقے کے باروان گاؤں کا رہائشی تھا۔ضلع کے ایس پی امریش راہول کے مطابق، "25 جون کو پرینشو اپنی بہن سے مل کر ٹرین کے ذریعے واپس لوٹ رہا تھا اور نوبی نگر اسٹیشن پہنچ کر اس نے گُنجا کو فون کیا کہ کوئی موٹر سائیکل پر لینے آجائے۔””جب وہ اسٹیشن سے گھر کی طرف آ رہا تھا تو راستے میں دو افراد نے اسے گولی مار کر قتل کر دیا،”

    پولیس تفتیش کے دوران گُنجا دیوی کی مشکوک سرگرمیوں پر پرینشو کے اہل خانہ کو شک ہوا، خاص طور پر جب وہ گاؤں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ پولیس نے جب گُنجا کے موبائل فون کی کال ہسٹری کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ مسلسل اپنے ماموں جیون سنگھ سے رابطے میں تھی۔ جیون سنگھ کی کال ہسٹری سے بھی انکشاف ہوا کہ وہ دونوں شوٹرز کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں تھا۔سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی جس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گُنجا دیوی اور دونوں شوٹرز کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ جیون سنگھ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    یہ واقعہ اس سے قبل پیش آئے میگھالیہ کے ہنی مون مرڈر کیس سے کافی مماثلت رکھتا ہے، جہاں سونم نامی خاتون نے اپنے شوہر راجا رگھوونشی کو اپنے عاشق راج کوشوا اور تین دیگر افراد کی مدد سے قتل کر دیا تھا۔ اُس کیس میں تمام ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

  • مودی سرکار کسانوں‌کی دشمن،3 ماہ میں 767 کسانوں کی بھارت میں خودکشی

    مودی سرکار کسانوں‌کی دشمن،3 ماہ میں 767 کسانوں کی بھارت میں خودکشی

    بھارت میں کسانوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن مہاراشٹر میں 2025 کے ابتدائی تین مہینوں میں سامنے آنے والے کسانوں کی خودکشی کے اعداد و شمار نے ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ کے درمیان مہاراشٹر میں کم از کم 767 کسانوں نے خودکشی کی، جس کی وجہ مالی مشکلات، قرضوں کا بوجھ، فصل کی کم قیمت اور حکومتی لاپرواہی بتائی جا رہی ہے۔

    ان تشویشناک اعداد و شمار کو بنیاد بنا کر کانگریس پارٹی نے بی جے پی کی ریاستی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکز میں نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل پر ایک انگریزی روزنامہ کی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’2025 کے ابتدائی 3 مہینوں میں مہاراشٹر میں 767 کسانوں نے خودکشی کر لی۔ یہ اعداد و شمار بے حد حیران کن اور افسوسناک ہیں، جو مودی حکومت میں کسانوں کی بدترین حالت کی غمازی کرتے ہیں۔‘‘کانگریس نے مزید دعویٰ کیا کہ کسان بھاری قرض کے نیچے دبے ہوئے ہیں، جی ایس ٹی کے نفاذ نے زراعتی سامان کو مہنگا کر دیا ہے، اور فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے کسان روز بروز کمر توڑ مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس پرانے وعدے کو بھی نشانہ بنایا جس میں کہا گیا تھا کہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کی جائے گی۔ پارٹی نے طنز کرتے ہوئے لکھا ’’نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا کہ 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی ہو جائے گی، لیکن آج حالات یہ ہیں کہ کسانوں کی زندگی ہی آدھی ہو گئی ہے۔‘‘

    کانگریس نے وزیر اعظم مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے سرمایہ داروں کے کروڑوں روپے کے قرضے معاف کر رہے ہیں، مگر غریب کسانوں کو کوئی راحت نہیں دی جا رہی۔’’چوتھی بڑی معیشت ہونے کا دعویٰ کرنے والے نریندر مودی ملک کے سرمایہ داروں کا لاکھوں کروڑ روپے کا قرض معاف کر دیتے ہیں، لیکن کسانوں کا ایک روپیہ بھی معاف نہیں کرتے۔ مودی حکومت کسانوں کو تباہی کی جانب دھکیل رہی ہے۔‘‘

    زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں، جیسے ودربھ اور مراٹھواڑہ، میں کسانوں کی خودکشی ایک طویل عرصے سے جاری مسئلہ ہے، لیکن حالیہ اعداد و شمار میں جو اضافہ دیکھا گیا ہے، وہ حکومت کی پالیسیوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

    ماہر معاشیات ڈاکٹر ارون تیواری نے کہا کہ ’’حکومت کو فوری طور پر کسانوں کے لیے قرض معافی، فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت کی ضمانت، اور زراعت کو جی ایس ٹی سے خارج کرنے جیسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف دعووں سے کسانوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔‘‘

    حیرت کی بات یہ ہے کہ ان خودکشیوں پر ابھی تک نہ تو ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی جامع بیان آیا ہے، نہ ہی مرکز نے کوئی ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہی خاموشی برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  • مظاہروں میں شرکت یا افراتفری،امریکہ نہیں گھسنے دیں گے،وائٹ ہاؤس

    مظاہروں میں شرکت یا افراتفری،امریکہ نہیں گھسنے دیں گے،وائٹ ہاؤس

    امریکا آنے والوں کے لیے ویزا اور گرین کارڈ منسوخی کے نئے قانون سے متعلق وارننگ جاری کردی گئی۔

    امریکی محکمہ امیگریشن کے مطابق دہشتگردی، تشدد کی ترغیب یا ایسی سرگرمی پر امریکا میں رہنے نہیں دیا جائیگا اور قانون توڑنے والوں کےگرین کارڈ سمیت ویزے بھی منسوخ ہوں گے،وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا میں غیرقانونی طور پر رہنے والا ہر شخص مجرم ہے، امریکی وزیر خا رجہ کہہ چکے ہیں کہ کوئی طالب علم صرف مظاہروں میں شرکت یا افراتفری پھیلانے آتا ہے تو ویزا نہیں دیں گے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جون میں غیرقانونی تارکین وطن کے سب سے کم واقعات رپورٹ ہوئے، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن نے صرف 25 ہزار243واقعات رپورٹ کیے،بارڈر پٹرول نے کسی غیر قانونی تارک وطن کو رہا نہیں کیا، یہ ثابت کرتا ہے کہ اب امریکی سرحدیں محفوظ اور مضبوط ہیں، سخت بارڈر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے’’ بگ بیوٹی فل بل‘‘ منظورکیاجائے،

    دوسری جانب امریکی ڈسٹرکٹ جج کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے خلاف ٹرمپ اقدامات کومعطل کیاجائےگا،جو پناہ کی درخواست دیناچاہتے ہیں ان کے حقوق محدودکرناصدرکایکطرفہ اختیارنہیںامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اسٹیفن ملر نے ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ اگر ہماری خودمختاری بحال نہ کی گئی تو مغرب بھی نہیں بچ سکے گا،

  • انڈونیشیا، کشتی ڈوبنے سے 4 افراد جاں بحق، 38 لاپتا

    انڈونیشیا، کشتی ڈوبنے سے 4 افراد جاں بحق، 38 لاپتا

    انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی مقام، جزیرہ بالی کے قریب ایک دلخراش حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں اب تک 4 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ درجنوں افراد کی تلاش جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شب پیش آیا جب ایک بڑی کشتی، جس میں مجموعی طور پر 65 افراد سوار تھے، بالی کے ساحلی علاقے کے قریب اچانک سمندر میں ڈوب گئی۔ کشتی میں سوار افراد میں 12 عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے فوری بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور اب تک 23 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ تاہم 38 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ مقامی نیوی، کوسٹ گارڈز اور امدادی ادارے مل کر تلاش و بچاؤ کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کشتی ڈوبنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی طور پر خراب موسم اور ممکنہ تکنیکی خرابی کو حادثے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کشتی روانگی کے وقت سے ہی ہچکولے کھا رہی تھی اور عملہ بھی پریشان نظر آ رہا تھا۔ اچانک ایک زوردار آواز سنائی دی، جس کے بعد کشتی پانی میں جھکنے لگی اور تھوڑی ہی دیر میں مکمل طور پر الٹ گئی۔انڈونیشین حکام نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے .

  • سلامتی کونسل میں پاکستان کی سربراہی، بھارت کی سفارتی شکست

    سلامتی کونسل میں پاکستان کی سربراہی، بھارت کی سفارتی شکست

    پاکستان کی سفارتی حکمت عملی اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی عالمی سطح پر پزیرائی ہوئی ہے

    بھارت کے پاکستان مخالف جھوٹے پراپیگنڈے کوایک بار پھر شدید دھچکا لگا ہے،پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا صدر مقرر کر دیا گیا،کچھ روز قبل ہی پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی ‘کاؤنٹر ٹیرر ازم کمیٹی’ کا نائب چیئرمین بنایا گیا تھا،پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت اور پزیرائی نے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی جنگ چھیڑ دی،کانگریس رہنماوں نے مودی سرکارکو سفارتی ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا

    کانگریس کے میڈیا اور عوامی روابط کے سربراہ، پون کھیرا نے اپنے بیان میں کہا "مودی حکومت پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں ناکام رہی ہے”پہلگام حملے کے بعد مودی حکومت نے فوجیوں اور عوام کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں دھوکہ دیا ہے، کانگریس کی رہنما رینیکا چودھری نے ایک پوسٹ میں کہا "میرا مودی سے سوال ہے کہ کیا ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہو گئی ہے؟”وہ چار دہشت گرد جو پہلگام حملےمیں ملوث ہیں، ابھی تک کیوں آزاد ہیں؟، پہلگام واقعے کے بعدانٹیلی جنس کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟،151 دورے، 72 ممالک، بے شمار سفارتی ملاقاتیں، مگر کوئی کامیابی نہ ملی ،عوام کو فوری وضاحت چاہیے،پہلگام حملے کے بعد مودی حکومت نے پاکستان مخالف جھوٹا بیانیہ پھیلایا، آپریشن سندور کو انسداد دہشت گردی قرار دینے کی عالمی سفارتی مہم ناکام اور جھوٹ پر مبنی ثابت ہوئی،

    ناکام اور جھوٹ پر مبنی آپریشن سندور کو انسداد دہشت گردی قرار دینے کی عالمی سفارتی مہم چلائی گئی،آپریشن سندور کی جھوٹی مہم عالمی سطح پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی،مودی کی ناکام سفارتی حکمت عملی نے بھارت کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا ہے

  • مودی کی خارجہ پالیسی پر بھارت میں تنقید جاری

    مودی کی خارجہ پالیسی پر بھارت میں تنقید جاری

    مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقیدجاری ہے

    مودی سرکار کی خارجہ پالیسی دکھاوے اور نعرے بازی تک محدود، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکارہو گیا ہے،آپریشن سندور کے دوران کسی بھی ملک کی جانب سے بھارت کی کھل کر حمایت نہ کی گئی ،اس کے برعکس پاکستان کے سفارتی تعلقات کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی،کانگریس رہنما پرمود تیواری نے مودی ناکام سفارتی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ،پرمود تیواری کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران ایک بھی ملک ایسا نہیں تھا جس نے بھارت کی کھل کے حمایت کی ہو،چین اور ترکی جیسے طاقتور ممالک نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، مودی کا “اب کی بار، ٹرمپ سرکار” کا نعرہ بھی ناکام رہا جب ٹرمپ نے آپریشن سندور کے دوران بھارت سے دوری اختیار کی، ٹرمپ حکومت نے ثالثی کا دعویٰ کر کے پاکستان کو برابر کا فریق تسلیم کیا،مودی صرف غیرملکی دوروں میں مصروف رہے، لیکن ان دوروں سے بھارت کو کوئی ٹھوس سفارتی فائدہ نہیں پہنچا، آپریشن سندور کے دوران عالمی طاقتوں کی خاموشی نے واضح کر دیا کہ مودی سرکار کی خارجہ پالیسی ناکام رہی

  • تلنگانہ میں بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار

    تلنگانہ میں بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار

    تلنگانہ میں بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکارہو گئی ہے

    اندرونی اختلافات اور خلفشار نے بی جے پی کو غیر مستحکم اور کمزور سیاسی جماعت بنا دیا،سفارتی ناکامیوں کے بعد مودی کی جماعت بی جے پی کے رہنما اقتدار اور عہدوں کی ہوس کا شکار ہو گئے،انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق "تلنگانہ میں رام چندر راؤ کو پارٹی صدر بنانےپر بی جے پی کے رہنما تھاکر راجہ سنگھ نے استعفیٰ دے دیا”رام چندر راؤ کو پارٹی صدر بنانے کے خلاف تھاکر راجہ سنگھ نے شدید احتجاج کیا، راجہ سنگھ شدید مایوسی کے بعد حمایتی کونسلرز کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے،راجہ سنگھ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ لاکھوں کارکنوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے،

    راجہ سنگھ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ” پارٹی کے بعض سینئر رہنما ذاتی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں اور کارکنوں کی رائے کو نظر انداز کر رہے ہیں” بی جے پی میں قربانیاں دینے والوں کو دھتکارا جا رہا ہے،بی جے پی کے اندر اقتدار کے لالچی لوگ تلنگانہ میں پارٹی کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے،

    انڈین ایکسپریس کے مطابق راجا سنگھ تیسری بار گوشا محل سے ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں، مگر اب پارٹی قیادت سے نالاں ہیں، تلنگانہ میں قیادت پر اختلافات بی جے پی کی ٹوٹ پھوٹ اور مرکز کی ناکامی کو بے نقاب کرتے ہیں،راجا سنگھ کو معطل کرکے انتخابات سے قبل بحال کرنا اور بعد میں نظر انداز کرنا ،یہ بی جے پی کی مفاد پرستی ہے

  • کواڈ کا غیر جانب دار مؤقف، پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کامیاب

    کواڈ کا غیر جانب دار مؤقف، پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کامیاب

    کواڈ کا غیر جانب دار مؤقف، پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کامیاب

    پہلگام واقعے پر کواڈ ممالک کا واشنگٹن میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے،سی این بی سی کے مطابق:
    "کواڈ ممالک ( بھارت، امریکہ جاپان، آسٹریلیا) کی جانب سے پہلگام واقعے کی شدید مذمت اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے،تاہم کواڈ مشترکہ بیانیے میں نہ پاکستان کا نام لیا گیا اور نہ ہی پاکستان کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، بھارت کے پاکستان پر عائد کردہ الزامات کو عالمی برادری نے ایک بار پھر مکمل طور پر مسترد کر دیا ،کواڈ کا مشترکہ بیان بھارتی بیانیے کی عالمی سطح پر عدم قبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ،بھارت نے کواڈ تنظیم میں بھی پاکستان کو دہشتگردی سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی،اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھارت کے یکطرفہ الزامات کے بجائے قانونی شواہد اور بین الاقوامی ضوابط پر انحصار کرتے ہیں،عالمی برادری کی غیر جانبداری اور پاکستان کا نام نہ لینا، پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کی کامیابی کی عکاسی ہے،اس کے برعکس، بھارت کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر ناکامی کا شکارہوئی ہے،مودی سرکار پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے بجائے خود عالمی سطح پر بے اعتبار ثابت ہوئی،پہلگام حملے پر عالمی ردعمل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان اب ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے

  • وزیراعظم سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات،سانحہ سوات پر بریفنگ

    وزیراعظم سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات،سانحہ سوات پر بریفنگ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی ہے

    گورنر خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے بریفنگ دی،وزیر اعظم نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں کو اس قسم کے واقعات کے تدارک اور روک تھام کے لئے اپنی استعداد بڑھانے کی ہدایت کی،ملاقات میں مجموعی ملکی صورت حال پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا

    ملاقات میں وفاقی وزیر کشمیر، گلگت بلتستان و سرحدی امور انجینئر امیر مقام ، وفاقی وزیر پبلک افیئرز یونٹ رانا مبشر اقبال، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ ، وزیر مملکت برائے پاور عبدالرحمان کانجو اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور طلحہ برکی بھی موجود تھے۔

  • تواہین عدالت کے مرتکب سیشن جج حویلی راجہ امتیاز احمد سپریم کورٹ سےگرفتار

    تواہین عدالت کے مرتکب سیشن جج حویلی راجہ امتیاز احمد سپریم کورٹ سےگرفتار

    آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ایک اہم توہینِ عدالت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سیشن جج حویلی، راجہ امتیاز کو تین دن قید کی سزا سنائی ہے۔ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے فیصلہ سنایا، جس کے بعد عدالت نے جج کو کمرۂ عدالت ہی سے گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔

    پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سیشن جج راجہ امتیاز کو عدالت کے اندر سے حراست میں لے لیا، جس کے مناظر عدالت میں موجود افراد نے حیرت اور سنجیدگی سے دیکھے۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "سیشن جج راجہ امتیاز نے سپریم کورٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کیا، اور اعلیٰ عدالتی احکامات کے برعکس ایک منشیات کے ملزم کی ضمانت منظور کی۔”عدالت نے مزید کہا کہ راجہ امتیاز نے عدالت میں جھوٹ بول کر نہ صرف عدالتی وقار کو مجروح کیا بلکہ انصاف کے عمل کو بھی نقصان پہنچایا۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں یہ بات واضح کی کہ کسی بھی جج کو آئین و قانون سے بالا تر سمجھا نہیں جا سکتا اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے۔

    اس فیصلے کے بعد عدالتی و قانونی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی اعلیٰ عدلیہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، چاہے مخاطب عدالتی نظام کا کوئی رکن ہی کیوں نہ ہو۔

    توہینِ عدالت کا یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب سیشن جج راجہ امتیاز نے ایک ایسے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جس کی درخواستِ ضمانت کو سپریم کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی تھی۔ اس اقدام کو سپریم کورٹ نے اپنی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا۔