Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی کا تاجر صادق آباد جاتے ہوئے اغوا،برہنہ ویڈیو اہلخانہ کو بھیج کر مانگا گیا تاوان

    کراچی کا تاجر صادق آباد جاتے ہوئے اغوا،برہنہ ویڈیو اہلخانہ کو بھیج کر مانگا گیا تاوان

    کراچی قائدآباد سے صادق آباد جانے والے معروف اسکریپ کے تاجر معین الدین کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ مغوی کے بیٹے غیاث الدین کی مدعیت میں قائدآباد تھانے میں درج کرلیا ہے۔

    مقدمے کے متن کے مطابق، معین الدین فیکٹریوں، سرکاری اداروں اور مارکیٹوں سے اسکریپ خریدنے کا کام کرتے ہیں۔ اغوا سے چند دن قبل معین الدین نے اپنے اہل خانہ کو اطلاع دی تھی کہ وہ صادق آباد جا کر اسکریپ خریداری کریں گے۔ 21 جون کو معین الدین کے چھوٹے بھائی ذیشان نے انہیں لانڈھی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے لیے چھوڑا تھا، تاہم اگلے دن تک ان کا فون بند رہا اور رابطہ منقطع ہو گیا۔23 جون کو ذیشان کے فون پر معین الدین کے نمبر سے وائس میسج موصول ہوا جس میں اغواکاروں نے والد کی رہائی کے لیے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا۔ اغواکاروں نے والد کی رہائی کے بدلے 2 کروڑ روپے، 2 مہنگی راڈو گھڑیاں اور 2 آئی فونز کا مطالبہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے معین الدین کی ایک تشدد زدہ اور برہنہ ویڈیو بھی اہلخانہ کو بھیجی ہے، پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے اور اغواکاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے اور سراغ لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جلد سے جلد معین الدین کی بازیابی کے لیے پرعزم ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں۔

  • جنگ کے بعد مشہد سے ایران ائیر کی پہلی پروازپہنچی کراچی

    جنگ کے بعد مشہد سے ایران ائیر کی پہلی پروازپہنچی کراچی

    : ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ اور پھر سیز فائر کے بعد ایران کی سرکاری ایئر لائن ایران ائیر کی پہلی پرواز ایران کے شہر مشہد سے کراچی پہنچ گئی ہے۔

    ایران ائیر کی پرواز نمبر آئی آر 816، جو کہ ائیربس اے 319 طیارے کے ذریعے آپریٹ کی گئی، رات 1:13 بجے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ ہوئی۔ طیارے کے عملے اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ واپسی کی پرواز آئی آر 813 کراچی سے دارالحکومت تہران کے لیے شیڈول ہے۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، 13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ شروع ہوئی جس کے باعث ایران کی فضائی سروسز بری طرح متاثر ہوئیں اور متعدد پروازیں منسوخ ہو گئیں۔ اس جنگ کے چند روز بعد دونوں ممالک نے سیز فائر کا اعلان کیا، جس کے بعد سے فضائی آپریشنز بحال کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔

  • شمالی وزیرستان میں حملے کے پیچھے”را” کا ہاتھ ،سکھس فار جسٹس کا انکشاف

    شمالی وزیرستان میں حملے کے پیچھے”را” کا ہاتھ ،سکھس فار جسٹس کا انکشاف

    سکھس فار جسٹس نے کہا ہے کہ”بھارت کے R&AW نے پیراگ جین کے دہشت گرد نیٹ ورک کے ذریعے وزیرستان میں حملہ کرایا” –

    ایس ایف جے نےامریکی سیکریٹری خارجہ کو قانونی میمورنڈم میں کہا ہے کہ را کو "دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے کیونکہ را گذشتہ اور موجودہ سربراہ پیراگ جین کی قیادت میں مودی کی بین الاقوامی دہشت گرد کی پالیسی کو رو بہ عمل لا رہا ہے”شمالی امریکہ کے انسانی حقوق کے گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را R&AW پر وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں پر ہونے والے مہلک خودکش بم حملے کی منصوبہ بندی کا براہ راست الزام لگایا گیا ہے۔ایس ایف جے کے مطابق، یہ حملہ را کے نئے تعینات ہونے والے چیف پیراگ جین نے کروایا ہے جو پہلے بھارتی ایجنسی کے اسلام آباد ڈیسک کو چلاتے تھے اور پاکستان کے اندر گہرے دراندازی کے نیٹ ورک تیار کرتے تھے۔

    ایس ایف جے کے قانونی وکیل، گروپتونت سنگھ پنوں نے کہا، "پاراگ جین سرحد پار دہشت گردی کا معمار ہے۔””پراگ جین نے پاکستان میں قیام کے دوران دہشت گردی کے نیٹ ورک بنائے – اور اب، R&AW کے سربراہ کی حیثیت سے، اس نے انہیں پاک فوج پر براہ راست حملے کرنے کے لیے فعال کیا ہے۔”بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ R&AW نے پاکستان میں مقیم گروپوں کو فنڈز فراہم کیے، مسلح کیا اور اپنے کارندوں کے ذریعے پاکسستان میں دراندازی کی اور وزیرستان میں خودکش بم دھماکے کیے ، یہ بھارت کی مودی حکومت کی ایک بڑی غیر اعلانیہ جنگ کا حصہ ہے۔پنوں نے کہا، ’’پاکستانی فوج کے قافلے پر حملہ ہندوستان کی مودی حکومتوں کی ریاستی منظور شدہ خفیہ دہشت گردی کی کارروائی ہے۔‘‘

    ایس ایف جے نے باضابطہ طور پر امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو ایک قانونی پالیسی میمورنڈم جمع کرایا ہے، جس میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کی R&AW کو امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) کے طور پر نامزد کرے – اس حملے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید ثبوت کے طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ R&AW ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر کام کرتا ہے۔

  • خراب مشروب پینے سے  مدرسے کے3 بچوں کی موت

    خراب مشروب پینے سے مدرسے کے3 بچوں کی موت

    پنجاب کے شہر منڈی بہاءالدین میں خراب مشروب پینے سے 3 بچوں کی موت ہو گئی ہے

    منڈی بہاءالدین کے علاقہ کدھر شریف میں مدرسہ میں زیر تعلیم 3 طالبعلم مبینہ طور پر خراب مشروب پینے کے باعث جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچہ زیرعلاج ہے،ایس ایچ او تھانہ کٹھیالہ شیخاں محمد آصف رانجھا نےنجی ٹی وی کو بتایا کہ متاثرہ بچوں نے قریبی دکان سے مشروب کا پاؤڈر لیا تھا، شربت پینے کے بعد ان کی حالت غیر ہوگئی اور انہیں اسپتال منتقل کیاگیا،متاثرہ بچوں کی عمریں 11 سے 13 سال کے درمیان ہیں،پولیس نے دکاندار سمیت 2 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔3 بچوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے۔

  • وزیرستان خود کش حملہ،دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین،خالد مسعود سندھو

    وزیرستان خود کش حملہ،دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے شمالی وزیرستان میں خود کش حملے کی مذمت کی ہے اور 14 دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاک فوج ہر حال میں مادر وطن کے تحفظ کے لیے تیار ہے،

    خالد مسعود سندھو نے سیکیورٹی فورسز کے 13 جوانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ،مرکزی مسلم لیگ ان کے لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہیں ،دہشتگردوں کے خلاف مضبوط اور متحدہ لائحہ عمل بنایا جائے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہماری بہادر افواج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کے دشمن، چاہے وہ اندرونی ہوں یا بیرونی، ان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ شمالی وزیرستان میں فتنہ الہندوستان کے تربیت یافتہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرکے ہماری سیکیورٹی فورسز نے ملک دشمنوں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی کوئی گنجائش نہیں،

  • شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملہ، 13 جوان شہید، 14 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملہ، 13 جوان شہید، 14 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان کے ی علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ایک بزدلانہ دہشتگرد حملہ کیا گیا، جس کی منصوبہ بندی اور سرپرستی بھارت جیسے دہشتگرد ریاست نے کی، جبکہ اس پر عمل درآمد اس کے آلہ کار گروہ فتنہ الخوارج نے کیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشتگردوں نے ایک بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فورسز کے اگلے دستے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنایا۔ اسی دوران ایک اور دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو زبردستی فورسز کی گاڑی سے ٹکرا دیا گیا، جس کے نتیجے میں 13 جوان جام شہادت نوش کر گئے۔اس افسوسناک واقعے میں تین شہری، جن میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، شدید زخمی ہوئے۔حملے میں صوبیدار زاہد اقبال (45 سال، ضلع کرک)،حوالدار سہراب خان (39 سال، ضلع نصیرآباد)،حوالدار میاں یوسف (41 سال، ضلع بونیر)،نائیک خطاب شاہ (34 سال، ضلع لوئر دیر)،لانس نائیک اسماعیل (32 سال، ضلع نصیرآباد)،سپاہی روحیل (30 سال، ضلع میرپور خاص)،سپاہی محمد رمضان (33 سال، ضلع ڈیرہ غازی خان)،سپاہی نواب (30 سال، ضلع کوئٹہ)،سپاہی زبیر احمد (24 سال، ضلع نصیرآباد)،سپاہی محمد سخی (31 سال، ضلع ڈیرہ غازی خان)،سپاہی ہاشم عباسی (20 سال، ضلع ایبٹ آباد)،سپاہی مدثر اعجاز (25 سال، ضلع لیّہ)،سپاہی منظر علی (23 سال، ضلع مردان)شہید ہوئے

    واقعے کے فوری بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن کیا گیا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ حکام کے مطابق علاقے میں آپریشن تاحال جاری ہے اور اس حملے میں ملوث تمام عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    پاک فوج اور قوم دہشتگردی کے خلاف یک جان اور مضبوط موقف پر قائم ہیں۔ ترجمان افواج پاکستان کے مطابق "ہمارے سپاہیوں اور معصوم شہریوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں کہ ہم اپنی سرزمین سے بھارت کی پشت پناہی میں پلنے والی دہشتگردی کو ہر قیمت پر ختم کریں گے۔”قوم ایک بار پھر اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر تاریخ رقم کی۔

  • سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    دریائے سوات میں پکنک منانے آئے سیاحوں کی ہولناک ہلاکتوں نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 11 افراد میں سے 8 کی نماز جنازہ ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جبکہ 2 افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ کئی سوالات چھوڑ گیا ہے جن کے جوابات لواحقین، عوام، اور سوسائٹی مانگ رہی ہے۔

    جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور عینی شاہدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں، اور جب پہنچیں تو ان کے پاس نہ کشتیاں تھیں، نہ جال۔ متاثرین بتاتے ہیں کہ ان کے عزیز دریا کے بیچ ایک ٹِیلے پر پھنسے رہے، چیختے رہے، مدد کے لیے پکارا، مگر موجیں سب کچھ بہا لے گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ سیاحوں کو خطرے سے خبردار کیا گیا تھا اور انہیں روکا بھی گیا، لیکن وہ نہ مانے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ فیملی صبح 8:30 پر ہوٹل کے کیفے میں ناشتے کے لیے پہنچی مگر ہوٹل بند تھا، جس کے بعد وہ پچھلے راستے سے دریا کے اندر چلے گئے۔ سیاحوں نے دریا کے اندر جا کر سیلفیاں لینا شروع کر دیں، مقامی لوگوں نے بار بار خبردار کیا کہ پانی کا ریلا آ سکتا ہے، مگر وہ باز نہ آئے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق 9:50 پر ریسکیو 1122 کو کال کی گئی، مگر حادثے کی نوعیت کا اندازہ نہ ہونے کے باعث ٹیمیں بغیر کشتی و جال کے پہنچیں۔ بعد ازاں 10 منٹ میں یہ سامان منگوایا گیا اور کارروائی شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران تین سیاحوں اور ایک مقامی شخص کو بچایا گیا۔

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر سوات سمیت متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے اور ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات بار ایسوسی ایشن نے احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور سانحے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ سیاحتی پوائنٹس پر تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ جس نجی ہوٹل سے سیاح دریا کی طرف گئے تھے، اسے سیل کر کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دریائے سوات کے اندر اور اطراف غیر قانونی مائننگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ تھی، جس پر عملدرآمد پولیس کی ذمہ داری تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر پولیس جائے وقوعہ پر سب سے آخر میں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون لاگو تھا تو دریا کے اندر سیاح کیسے پہنچے؟ ہوٹل کا پچھلا راستہ کیوں کھلا تھا؟ پولیس اور انتظامیہ کہاں تھی؟

    اہم سوالات جو اب بھی جواب طلب ہیں ،اگر دفعہ 144 نافذ تھی تو سیاحوں کو دریا میں جانے سے کس نے روکا؟ریسکیو اہلکار بغیر سامان کیوں پہنچے؟حادثے کے وقت ہوٹل کھلا کیوں نہ تھا، اور پچھلا راستہ بند کیوں نہ تھا؟انتظامیہ اور پولیس موقع پر تاخیر سے کیوں پہنچے؟اگر سیاحوں نے مقامی لوگوں کی بات نہ مانی تو کیا سرکاری ادارے مزید سختی نہیں کر سکتے تھے؟

    سانحہ سوات صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک نظام کی ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔ انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے، سب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب نہ بنے۔

  • ژوب ،  پکنک منانے آئی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں

    ژوب ، پکنک منانے آئی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں

    سوات کے بعد بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پکنک منانے کے لیے آنے والی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر بہہ گئیں، جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت چار خواتین جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے بتایا جا رہا ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ ژوب کے تفریحی مقام سلیازہ ندی کے قریب پیش آیا، جہاں پکنک کی غرض سے آنے والی فیملی دو گاڑیوں، فیلڈر اور آلٹو میں سوار تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں گاڑیاں برساتی نالے میں طغیانی کے باعث آنے والے اچانک سیلابی ریلے میں پھنس گئیں۔ضلعی حکام نے بتایا کہ حادثہ کلی تکئی کے مقام پر پیش آیا، فیلڈر گاڑی میں سوار دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا، جبکہ آلٹو گاڑی میں سوار تین افراد میں سے صرف ایک خاتون کو مقامی افراد نے بروقت نکال کر سول ہسپتال ژوب منتقل کیا۔ تاہم، گاڑی میں موجود دو بچے سیلابی پانی میں بہہ گئے۔چار خواتین بھی جاں بحق ہو گئیں (دو کی شناخت ہو چکی، دو کی لاشوں کی تلاش جاری ہے،دو بچے (بہہ گئے، تلاش جاری ہے)

    ژوب کے نواحی علاقے سلیازہ اور کپیپ میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آئی۔مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی افراد کو ریلے سے نکالا۔ایک خاتون کی لاش کو شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارشوں اور طغیانی کے دوران ندی نالوں کی طرف جانے سے گریز کریں۔ خطرناک علاقوں میں سفر یا تفریح سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

  • کرینہ کپور کی خوراک سے محبت،   "سائز زیرو” کے دوران بھی پراٹھا اور مکھن

    کرینہ کپور کی خوراک سے محبت، "سائز زیرو” کے دوران بھی پراٹھا اور مکھن

    بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور خان نہ صرف اپنی جاندار اداکاری کے لیے مشہور ہیں بلکہ ان کے چاہنے والے جانتے ہیں کہ وہ دل سے "فوڈی” یعنی کھانے کی شوقین ہیں۔ حال ہی میں ہالی ووڈ رپورٹر انڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کرینہ نے اپنے کھانے سے متعلق شوق کا کھل کر اظہار کیا، جہاں ان کے ہمراہ موجود تھے نوجوان اداکار وکی کوشل، جو خود بھی پنجابی اور کھانے کے دلدادہ ہیں۔

    دونوں فنکاروں نے فلمی سفر کے 25 (کرینہ) اور 10 (وکی) سال مکمل ہونے پر یادگار لمحات، سخت ڈائٹس، کرداروں کے تقاضوں اور اپنی پنجابی خوراک سے جڑے تجربات پر کھل کر گفتگو کی۔وکی نے دورانِ گفتگو کہا "ڈائٹ پر ہوں تب بھی بریانی کی گنجائش نکال ہی لیتا ہوں۔”اس پر کرینہ نے فورا جواب دیا "مجھے تو سفید مکھن کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے۔ ہر دو تین دن بعد مجھے آلو کا پراٹھا سفید مکھن کے ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔ یہ تو لازمی ہے۔”

    وکی نے ہنستے ہوئے کہا”مجھے لگتا ہے کہ ہم پنجابی سفید مکھن سے متاثر ہی نہیں ہوتے!”کرینہ نے فوراً تائید کرتے ہوئے کہا "ہے نا؟ میں تو بار بار کہہ کہہ کر تھک گئی ہوں۔ مجھے تو اس کے بغیر کام کرنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔”

    گفتگو کے دوران وکی کوشل نے کرینہ سے ایک دلچسپ سوال پوچھا "اگر آپ کو دوبارہ ‘تشن 2’ جیسی فلم کے لیے سائز زیرو بننا پڑے تو کیا کریں گی؟”کرینہ کا جواب سب کو حیران کر گیا۔ انہوں نے کہا "تشن کے وقت بھی میں صبح کے ناشتے میں پراٹھا اور سفید مکھن کھاتی تھی۔ میں کبھی بھی صرف جوس والی سائز زیرو ڈائٹ پر نہیں رہی۔ دن کے باقی اوقات میں خوراک کم کر سکتے ہیں، لیکن صبح کا ناشتہ تو بھرپور ہونا چاہیے۔”یہ انکشاف وکی کوشل کے لیے حیران کن تھا، کیونکہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ کرینہ جیسے فٹ اداکارہ سائز زیرو حاصل کرنے کے باوجود پراٹھا کھاتی تھیں۔

    یاد رہے کہ کرینہ کپور نے فلم تشن کے لیے اپنا مشہور سائز زیرو روپ ماہر غذائیت رجوتا دیویکر کی نگرانی میں ایک متوازن اور سائنسی ڈائٹ پلان پر عمل کرتے ہوئے حاصل کیا تھا، جس میں خوراک کی کمی کے بجائے سمجھداری سے انتخاب کیا گیا تھا۔

  • پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،بلوم برگ

    پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،بلوم برگ

    غیر ملکی جریدے بلوم برگ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں گزشتہ 12 ماہ میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے کریڈٹ آؤٹ لک میں بہتری سے ڈیفالٹ رسک میں کمی ہوئی ہے، معاشی استحکام اور اصلاحات کے باعث ڈیفالٹ رسک میں کمی ہوئی ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں کمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے۔

    اس حوالے سے وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ بلوم برگ انٹیلی جنس کے مطابق پاکستان نے خودمختار ڈیفالٹ رسک میں سب سے زیادہ بہتری دکھائی ہے،پاکستان نے عالمی درجہ بندی میں ڈیفالٹ رسک میں کمی کے لحاظ سے پہلا نمبر حاصل کیا ہے، گزشتہ 12 مہینوں میں ملک کا ڈیفالٹ رسک سب سے زیادہ کم ہوا، ڈیفالٹ کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد پر آ گیا،یہ کمی تمام بڑی ابھرتی معیشتوں میں سب سے نمایاں ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں اس تیزی سے کمی عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے باعث ہے۔

    پاکستان اپنے مضبوط معاشی مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن ہے ،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی معیشت میں استحکام کے حوالے سے بلوم برگ کی رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا اور کہا کہ رپورٹ میں مختلف شعبوں میں اہم ادارہ جاتی اصلاحات ، عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ کامیاب معاہدے اور بروقت قرض کی ادائیگی کا اعتراف کیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر حکومتی معاشی صورتحال میں بہتری کا ثبوت ہے ،پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے، بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، پچھلے 12 مہینوں میں معیشت میں سب سے زیادہ بہتری دکھائی،پاکستان اپنے مضبوط معاشی مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن ہے ،بہتر معاشی اشاریوں میں حکومت کی معاشی ٹیم کی دن رات کی محنت اور لگن شامل ہے