Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پہلگام واقعہ کی مذمت نہ کرنے پر بھارت کا ایس سی او اعلامیہ پر دستخط سے انکار

    پہلگام واقعہ کی مذمت نہ کرنے پر بھارت کا ایس سی او اعلامیہ پر دستخط سے انکار

    چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کا اجلاس ہوا

    بھارت نے ایس سی او اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا، بھارتی میڈیا کے مطابق ایس ای او اعلامیے میں پہلگام واقعے کی مذمت نہیں کی گئی، اعلامیے میں بھارت پر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے، بھارتی وزارت دفاع کا کہنا ہےکہ بھارت مشترکہ اعلامیے کی زبان سے مطمئن نہیں ہے،پہلگام میں ہونے والے حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، اعلامیے میں پاکستان میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر موجود تھا، اس لیے بھارت مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے،

    راج ناتھ سنگھ نے اعلامیے میں دہشتگردی کے خلاف بھارت کے مضبوط موقف کی غیر موجودگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر دستخط کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ بھارتی موقف کے مطابق، پہلگام حملہ، ایک سنگین واقعہ ہے اور اس کا ذکر کسی بھی انسدادِ دہشتگردی بیانیے میں ہونا لازمی ہے۔واضح رہے کہ موجودہ وقت میں شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت چین کے پاس ہے، اور چین پاکستان کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کو اعلامیے سے جان بوجھ کر نکالنے کی کوشش پاکستان کے کہنے پر کی گئی، تاکہ بھارت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

  • نوجوان نسل کو منشیات کے خطرات سے آگاہ کیا جائے،وزیراعظم

    نوجوان نسل کو منشیات کے خطرات سے آگاہ کیا جائے،وزیراعظم

    اسلام آباد: دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کا عالمی دن آج نہایت سنجیدگی اور عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں منشیات کے تباہ کن اثرات سے آگاہی فراہم کرنا اور ایک منشیات سے پاک دنیا کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کو فروغ دینا ہے۔

    ہر سال 26 جون کو منایا جانے والا یہ دن عالمی سطح پر منشیات کے پھیلاؤ، اسمگلنگ اور ان کے استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ اس دن کا مقصد انفرادی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس لعنت کے خلاف جنگ کو مضبوط بنانا ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ "منشیات کا استعمال اور اس کی اسمگلنگ ایک عالمی چیلنج ہے جس کا حل صرف بین الاقوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔” انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اس مسئلے کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہے اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف) جیسے مستعد ادارے کی مدد سے اس ناسور کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ "منشیات نہ صرف انسانی صحت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ متاثرہ فرد اور اس کے خاندان کی معاشرتی اور معاشی ساکھ بھی برباد کر دیتی ہیں۔” انہوں نے والدین، اساتذہ اور معاشرے کے دیگر ذمہ دار افراد سے اپیل کی کہ وہ نوجوان نسل کو منشیات کے خطرات سے آگاہ کریں اور انہیں اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

    انسداد منشیات فورس (ANF) نے اس سال بھی منشیات کی اسمگلنگ اور اس کی کاشت کی روک تھام میں قابلِ قدر کارکردگی دکھائی۔ ادارے نے نہ صرف ملک بھر میں متعدد کارروائیوں کے ذریعے منشیات کی بڑی مقدار ضبط کی، بلکہ بین الاقوامی نیٹ ورکس سے جُڑے کئی اسمگلرز کو بھی قانون کی گرفت میں لایا۔اے این ایف نے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا، جس کے نتیجے میں کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے بعض علاقوں میں منشیات کی غیر قانونی کاشت کو روکا گیا اور ہزاروں ایکڑ اراضی کو منشیات سے پاک کرایا گیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومتی سطح پر نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات، نوجوانوں کو مشغول رکھنے کے مثبت مواقع، اور بحالی کے مراکز کی بہتری جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ منشیات کی اسمگلنگ اور پیداوار کی روک تھام کے لیے معلومات کا تبادلہ، ٹیکنالوجی کی فراہمی، اور فنڈنگ میں تعاون کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ عالمی چیلنج مؤثر انداز میں شکست کھا سکے۔

  • پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،سوشل ایکٹیوسٹ یاور عباس کی میت دشوار گزار پہاڑی سے آبائی گاؤں منتقل

    پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،سوشل ایکٹیوسٹ یاور عباس کی میت دشوار گزار پہاڑی سے آبائی گاؤں منتقل

    پاکستان آرمی نے ضلع نگر، گلگت بلتستان کے سنگلاخ پہاڑی علاقوں، بالخصوص راکاپوشی کے قریب، ایک انتہائی پرخطر اور پیچیدہ ریسکیو آپریشن کامیابی سے مکمل کر کے پیشہ ورانہ مہارت اور فرض سے بڑھ کر خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی۔

    24 جون 2025 کو معروف سماجی کارکن یاور عباس اور ان کے ساتھی ایک المناک حادثے کا شکار ہو گئے۔ یہ حادثہ ایک ایسے دور دراز اور دشوار گزار علاقے میں پیش آیا جہاں سول ریسکیو ٹیموں کی رسائی ممکن نہ تھی۔ متاثرہ خاندان کی درخواست پر پاکستان آرمی نے فوری طور پر جائے حادثہ کی جانب ہیلی کاپٹرز روانہ کیے۔ پاک فوج کے بہادر پائلٹس نے شدید موسمی اور پرواز کی سخت شرائط کے باوجود کئی بار پرواز کی کوششیں کیں۔ اس ریسکیو آپریشن کے نتیجے میں یاور عباس کا جسدِ خاکی باعزت طور پر بازیاب کر لیا گیا جبکہ ان کے زخمی ساتھی کو بروقت طبی امداد دے کر زندگی بچا لی گئی۔

    یاد رہے کہ یاور عباس، جو فورتھ شیڈول میں شامل اور پاکستان آرمی و ریاستی اداروں کے مسلسل ناقد رہے ہیں، ان کے جسدِ خاکی کی بازیابی کے لیے بھی پاکستان آرمی نے کسی قسم کی جانبداری یا تحفظات کا مظاہرہ کیے بغیر فوری اقدام کیا۔ سوگوار خاندان اور مقامی برادری نے پاک فوج کی اس انسانی جذبے سے بھرپور کارروائی پر دلی شکریہ ادا کیا۔

    یہ مشن ایک مرتبہ پھر اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان آرمی نہ صرف ریاست کے تحفظ کی ضامن ہے بلکہ ہر شہری کی بلا تفریق مذہب، نسل، طبقہ یا نظریاتی رجحانات مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے

  • آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد مودی کی ایک نئی چال

    آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد مودی کی ایک نئی چال

    مودی سرکار پہلگام فالس فلیگ کے شواہد منظر عام پر لانے میں بری طرح ناکام، عالمی رسوائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    فالس لیگ کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن سندور میں عبرتناک شکست کی خفت مٹانے کے لیےمودی کا نیا ہتھیار سامنے آیا ہے،مودی کی ناکامیوں پر بھارتی عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی کڑی تنقید سامنے آ رہی ہے تا ہم مودی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر ہے،اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے مودی نے ایک نیا مدعا چھیڑ دیا،

    سیاسی ساکھ بچانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارم” ایکس” پر مودی نےگمراہ کن ٹوئیٹ کیا،مودی نےاپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اندرا گاندھی کے دور حکومت میں لگائی گئی ایمرجنسی کا سیاسی استعمال کیا،اور کہا کہ 1975-77 کی ایمرجنسی کے تاریک دنوں کے متاثرہ خاندان اپنے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کریں، ایمرجنسی کے دوران تاریک اور شرمناک دنوں کی حقیقت نوجوان نسل تک پہنچانا ضروری ہے،

    مودی سرکار کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایمرجنسی کا حوالہ دینا بی جے پی کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے،مودی سرکار پربڑھتے سوالات کی بدولت اندرا گاندھی کی لگائی گئی ایمرجنسی کا بیانیہ چھیڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،درحقیقت مودی اپنی عوام کے سامنے بھارت کی ناکامی اور رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے اندرونی تضادات کو ہوا دے رہا ہے

  • پاکستان ناقابلِ شکست، سابق بھارتی افسر پراوین سواہنے کا اعتراف

    پاکستان ناقابلِ شکست، سابق بھارتی افسر پراوین سواہنے کا اعتراف

    پاکستان کو میدان جنگ میں زیر کرنا ممکن نہ ہو سکا ، بھارت کی عسکری قیادت نےاعتراف کر لیا

    سابق بھارتی افسر اور تجزیہ کار نے تسلیم کر لیا "پاکستان کبھی نہیں ہارا”پراوین سواہنے کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جنگی شکست نہیں دی جا سکتی، پاکستان نے مغربی محاذ پر آج تک کسی جنگ میں شکست نہیں کھائی،1971 کی جنگ بھی صرف مشرقی محاذ پر ہاری گئی، اگر بھارت واقعی مغربی محاذ پر پاکستان کو شکست دیتا تو آج لائن آف کنٹرول موجود نہ ہوتی، بھارت مغرب میں پاکستان کو فتح نہیں کر سکا ، لائن آف کنٹرول کی موجودگی خود اس بات کا ثبوت ہے ، مشرقی محاذ پر بھارت نے فضائی اور زمینی نقل و حمل بند کر دی تھی، اس لیے پاکستان کی سپورٹ ممکن نہ رہی، مغربی محاذ پر پاکستانی فوج نے ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا، بھارت کے لیے یہ مغربی محاذ کبھی آسان نہ تھا،

  • ایسے ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کریں گے جن کا تصور بھی ممکن نہیں،مشیر ٹرمپ

    ایسے ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کریں گے جن کا تصور بھی ممکن نہیں،مشیر ٹرمپ

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ جلد دنیا کے ایسے ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں جن کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔

    اپنے ایک حالیہ بیان میں اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی کوشش ہے کہ ابراہام معاہدے کو مزید وسعت دی جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم ہو اور اسرائیل کو مزید عالمی حمایت حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان جیسے اہم عرب ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا، جو کہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔ اب انہی کوششوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ مزید مسلم یا غیر مسلم ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کریں۔اسٹیو وٹکوف کے مطابق، "ٹرمپ اس بات پر پُرعزم ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ ہم ان مقاصد کے بہت قریب ہیں اور آنے والے وقت میں دنیا دیکھے گی کہ وہ ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ معاہدے کریں گے جن کے بارے میں ماضی میں کبھی سوچا بھی نہیں گیا۔”

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت مضبوط ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بھی نئے انداز سے ترتیب پائے گا۔ وٹکوف کے مطابق، اس سلسلے میں کئی ممالک کے ساتھ خفیہ مذاکرات جاری ہیں، اور جلد حیران کن اعلانات متوقع ہیں۔

    ابراہام معاہدہ دراصل امریکا کی زیر سرپرستی ایک سفارتی پیشرفت تھی جس کے تحت 2020 میں چند عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسٹیو وٹکوف کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ پالیسی اب بھی فعال ہے اور ان کی ٹیم خطے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے متحرک ہے۔ تاہم، یہ پیشرفت مسلم دنیا میں شدید تنقید کا نشانہ بھی بن سکتی ہے۔

  • برطانیہ کو 9 بڑے سیکورٹی خطرات لاحق،برطانوی وزیراعظم

    برطانیہ کو 9 بڑے سیکورٹی خطرات لاحق،برطانوی وزیراعظم

    لندن: برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے قومی سلامتی سے متعلق تشویشناک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو دہشتگرد حملوں سمیت دیگر سنگین خطرات لاحق ہیں، جن کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنی حکومت کی سیکیورٹی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو اس وقت 9 بڑے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں دہشتگردی، سائبر حملے، حیاتیاتی خطرات، دشمن ممالک کی کارروائیاں، قدرتی آفات، وبائی امراض، اقتصادی بدحالی، معلوماتی جنگ اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ "ہمیں اپنے ملک کی حفاظت کے لیے نئے سرے سے سوچنا ہوگا، کیونکہ خطرات اب نہ صرف سرحدوں پر ہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی موجود ہیں۔”وزیراعظم کے مطابق ان خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی سیکیورٹی حکمت عملی میں ازسرنو تبدیلیاں کی جارہی ہیں اور انٹیلی جنس اداروں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

    کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ دہشتگردی کا خطرہ اب بھی برطانیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مقامی نگرانی دونوں ضروری ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اس بیان کے بعد آئندہ دنوں میں مزید سخت حفاظتی اقدامات، قانون سازی اور قومی سیکیورٹی بجٹ میں اضافہ متوقع ہے۔

  • امریکی ایئرلائن کا مسافر طیارہ بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا

    امریکی ایئرلائن کا مسافر طیارہ بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا

    لاس ویگاس سے شارلٹ جانے والی ایک امریکی مسافر پرواز فنی خرابی کے باعث ایک بڑے سانحے سے محفوظ رہی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکن ایئرلائنز کی پرواز AA1665 نے جیسے ہی لاس ویگاس کے ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑان بھری، محض آٹھ منٹ بعد اس میں فنی خرابی سامنے آگئی، جس کے باعث طیارے کو ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بوئنگ طیارے میں اس وقت 165 مسافر سوار تھے، جنہیں فوری طور پر محفوظ طریقے سے ایئرپورٹ واپس لایا گیا۔ پرواز کے انجن سے اچانک آگ کے شعلے نکلنے لگے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دیں۔ واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں انجن سے آگ نکلتے اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ائیرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فوری اور مؤثر ردعمل کے باعث تمام مسافر اور عملہ بحفاظت رہے اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد ایوی ایشن ماہرین نے طیارے کا تفصیلی معائنہ شروع کر دیا ہے۔

    امریکن ایئرلائنز کی جانب سے بھی واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسافروں کی حفاظت کمپنی کی اولین ترجیح ہے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں ایسے کسی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے ایئرپورٹ پر فضائی آمدورفت متاثر رہی، تاہم بعد ازاں معمول کے مطابق پروازیں بحال کر دی گئیں۔

  • پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارشوں سے موسم خوشگوار، فلائٹ آپریشن متاثر

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارشوں سے موسم خوشگوار، فلائٹ آپریشن متاثر

    پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارشوں نے گرمی کا زور توڑ دیا ہے، جس سے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ تاہم شدید بارشوں کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور لاہور ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن بھی بری طرح متاثر ہوا۔

    پنجاب کے مختلف شہروں بشمول لاہور، سرگودھا اور بھلوال میں موسلادھار بارش اور بوندا باندی سے درجہ حرارت میں واضح کمی آئی ہے۔ گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش نے موسم کو خوشگوار بنا دیا، جبکہ کچھ علاقوں میں نشیبی مقامات پر پانی جمع ہو گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر واسا مکمل الرٹ پر ہے تاکہ نکاسیٔ آب کے عمل میں تیزی لائی جا سکے۔خیبرپختونخوا کے ضلع کرک اور گردونواح میں بھی بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے، جبکہ بلوچستان کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں پری مون سون بارشوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ کوہِ سلیمان رینج سمیت دیگر مقامات پر بارش ہوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گلگت بلتستان کے بلتستان ڈویژن میں بھی آج سے بارشوں کا امکان ہے اور یہ سلسلہ 29 جون تک جاری رہ سکتا ہے۔

    لاہور میں خراب موسم نے ہوائی سفر کو بھی متاثر کیا۔ ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق موسمی خرابی کے باعث کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ بعض کو متبادل ہوائی اڈوں پر اتارنا پڑا۔ استنبول سے لاہور آنے والی پرواز TK719 کو موسم کی خرابی کے باعث کراچی اتار لیا گیا، جو بعد ازاں موسم بہتر ہونے پر لاہور روانہ ہوئی۔اسی طرح شارجہ، راس الخیمہ، کولمبو، دبئی، پیرس اور دوحہ سے آنے والی پروازوں کو بھی لینڈنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لاہور سے جدہ جانے والی 12، ریاض جانے والی 6 اور ابوظہبی کی ایک پرواز 4 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی۔

    اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد، سیالکوٹ اور ملتان میں بھی موسم ابر آلود ہے تاہم وہاں پر فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔ دوسری جانب ریاض سے اسلام آباد آنے والی پرواز پی ایف 769 کو خراب موسم کے باعث ملتان ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔

    محکمہ موسمیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

  • ایران اسرائیل جنگ،اسرائیل میں 30 ہزار سے زائد مکانات تباہ

    ایران اسرائیل جنگ،اسرائیل میں 30 ہزار سے زائد مکانات تباہ

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ اگرچہ ختم ہو چکی ہے، لیکن اس کے تباہ کن اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک اپنی اپنی فتح کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے اعداد و شمار نے اس جنگ کی شدت اور تباہ کاری کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    اسرائیلی ٹیکس اتھارٹی کے معاوضہ محکمہ کو اب تک مجموعی طور پر 38,700 سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جن میں متاثرہ افراد نے میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات پر معاوضے کی اپیل کی ہے۔ ان میں سے 30,809 درخواستیں صرف رہائشی مکانات کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق ہیں۔تقریباً 3,700 دعوے گاڑیوں کے نقصان پر مشتمل ہیں۔جب کہ 4,000 درخواستیں مشینری، دکانوں اور دیگر اثاثوں کی تباہی سے متعلق ہیں۔اسرائیل کی معروف ویب سائٹ باہادرئی ہریڈیم کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ تل ابیب ہے، جہاں سے 25,000 سے زائد افراد نے مالی معاوضے کے لیے درخواست دی ہے۔ دوسرے نمبر پر جنوبی اسرائیلی شہر اشکلون ہے، جہاں سے 10,800 دعوے سامنے آئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ کئی علاقوں سے اب تک درخواستیں موصول نہیں ہوئیں۔ ایسی عمارتیں اور املاک بھی ہیں جنہیں نقصان تو پہنچا ہے لیکن ان کے مالکان نے تاحال کوئی دعویٰ دائر نہیں کیا۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اب تک اس جنگ میں ہونے والے مجموعی مالی نقصان پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم جس تیزی سے دعووں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس جنگ کا معاشی بوجھ اسرائیل کی معیشت پر بھاری پڑے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف مکانات کی مرمت و تعمیر ہی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، جب کہ گاڑیوں، کاروباری مشینری اور دیگر نجی املاک کی بحالی پر بھی اربوں ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔