Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چائلڈ لیبر کےمکمل خاتمے کے لئے میڈیا بھی کردار ادا کرے،وزیراعظم

    چائلڈ لیبر کےمکمل خاتمے کے لئے میڈیا بھی کردار ادا کرے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر، پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بچوں سے مشقت کے خلاف شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ آج کا دن اس امر کی یاددہانی ہے کہ ہمیں ایک ایسے مستقبل کی جانب سفر جاری رکھنا ہے جہاں دنیا کا ہر بچہ محفوظ اور خوشحال ماحول میں پروان چڑھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چائلڈ لیبر کے شکار بچے نہ صرف جنسی اور ذہنی تشدد کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان سے ان کی تعلیم کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے۔ انہیں ان کے بچپن سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اس سال کا تھیم "پیشرفت واضح ہے تاہم اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے :آئیں اپنی کوششوں کی رفتار تیز کریں” ۔ اس سال چائلڈ لیبر کے خاتمے کے عالمی دن پر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال فنڈ کی جانب سے چائلڈ لیبر کے عالمی تخمینے اور رجحان کی رپورٹ ، 2025 شائع کی جارہی ہے جس سے ہمیں اندازہ ہو گا کہ چائلڈ لیبر کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کس قدر فعال ثابت ہو سکے۔ ترقی پذیر ممالک میں پرورش پا رہے بچے چائلڈ لیبر جیسے ناسور سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ایسے ممالک جو کہ سالہا سال سے جنگ اور جنگ جیسی صورتحال کا شکار ہیں وہاں بھی مشقت کا شکار بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دنیا اور متعلقہ عالمی اداروں کو ان علاقوں میں خصوصی طور پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان آئی ایل او کنونشن نمبر 138 جو کہ مشقت کرنے کی کم سے کم عمر سے متعلق ہے اور آئی ایل او کنونشن نمبر 181 جو کہ بچوں سے مشقت لینے کے بدترین طریقوں سے متعلق ہے، پر سختی سے کار بند ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 11 چائلڈ لیبر کی ہر قسم اور صورت کے انسداد کے حوالے سے ہے۔ مزید برآں پاکستان میں چائلڈ لیبر کے انسداد کے لئے قانون سازی بھی کی گئی ہے جیسا کہ، روزگار اطفال ایکٹ 1991, گھریلو کارکنوں کے حوالے سے 2002 کا ایکٹ ، نیشنل کمیشن برائے حقوق اطفال 2017, اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری تحفظ اطفال ایکٹ 2018, جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018۔ تاہم ان قوانین کے نفاذ کے طریقہء کار کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت تمام صوبوں, تمام اسٹیک ہولڈرز اور سول سوسائٹی پر زور دیتی ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ حکومت کا دانش سکول سسٹم ایک محفوظ ماحول میں مستحق بچوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے ٹھوس طریقے سے کام کرنے کی ایک کوشش ہے۔ غذائی قلت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سرکاری اسکولوں میں غذائیت کے پروگرام بھی متعارف کروائے گئے۔ معاشرے سے چائلڈ لیبر کو روکنے اور اس کو مکمل ختم کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے ، تدریسی اداروں ، میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار انتہائی اہم ہے۔آج کے دن میں چائلڈ لیبر کو روکنے اور اس کے مکمل انسداد کے لئے اپنے اور اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں۔

  • عمران سے ملاقات نہ ہونے پر توہین عدالت درخواست پرسماعت ملتوی

    عمران سے ملاقات نہ ہونے پر توہین عدالت درخواست پرسماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے مشعال یوسفزئی کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کروانے کا حکم دیا،عدالتی حکم کو نہیں مانا گیا مشعال یوسفزئی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی جب توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو اچانک جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت سے کیس لارجر بینچ کو ٹرانسفر کر دیا گیا، جسکی بنیاد پر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل و دیگر کیخلاف عدالت نے توہین عدالت کی کارروائی شروع کر رکھی ہے کہ کس قانون اور رولز کیمطابق کیس ٹرانسفر کیا گیا،آج جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل اور عدالتی معاون کمرہ عدالت میں پیش ہوئے،ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل سلطان محمود کی طرف سے عدالت میں جمع کروایا گیا جواب عدالتی معاون کو نہیں مل سکا جس پر عدالت نے سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی ہے

  • اسرائیلی  پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد

    اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد

    اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے جمعرات کو اپوزیشن کی جانب سے پیش کیا گیا پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد کر دیا۔ یہ بل وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی ایک اہم کوشش تھی جس کا مقصد قبل از وقت انتخابات کروانا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کنیسٹ میں 120 ارکان کی موجودگی میں اس بل پر ووٹنگ ہوئی، جس میں 61 ارکان نے بل کی مخالفت کی جب کہ صرف 53 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح یہ بل منظور نہیں ہو سکا۔اپوزیشن نے یہ بل اس امید پر پیش کیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کی حکومت کو یہودیوں کی لازمی فوجی بھرتی کے متنازع قانون پر عوامی اور سیاسی سطح پر تنقید کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ تحلیل کرا کر انتخابات جلد کروا سکے گی۔ یہ مسئلہ خاص طور پر اس وقت شدید تنازعہ کا شکار ہے کیونکہ کئی سیاسی جماعتیں اس قانون کے خلاف ہیں اور فوجی خدمات کو لازمی قرار دینے کے معاملے پر حکومت سے ناراض ہیں۔

    تاہم، وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کی لیکود پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے اس بل کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ حکومت نے اپوزیشن کی اس کوشش کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ تحلیل نہ کرنے کے حق میں ووٹ دیا اور یوں قبل از وقت انتخابات کے امکانات کو ختم کر دیا۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اب اپوزیشن کو دوبارہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے بل پیش کرنے کے لیے کم از کم چھ ماہ کا انتظار کرنا ہوگا، کیونکہ قوانین کے مطابق پارلیمنٹ کے تحلیل کا دوسرا بل اس مدت سے پہلے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جماعت لیکود پارٹی نے 2022 میں چھ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک وسیع حکومتی اتحاد قائم کیا تھا۔ اس اتحاد نے مختلف سیاسی اور سماجی مسائل پر اتفاق رائے قائم کیا ہے، مگر فوجی بھرتی کے متنازع قانون نے حکومت کے استحکام کو چیلنج کیا ہے۔

  • امریکہ کی مشرق وسطیٰ سے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری

    امریکہ کی مشرق وسطیٰ سے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری

    امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اپنے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اعلان امریکی وزیر دفاع کی جانب سے کیا گیا، جس کا مقصد فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

    امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی سے گفتگو میں بتایا کہ سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں موجود اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی سیکورٹی حکمت عملی کو فعال رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس وقت غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔امریکہ نے بحرین اور عراق میں بھی اپنے غیر سفارتی عملے کو انخلا کی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ خطے میں ممکنہ کشیدگی کی صورت میں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکی حکام نے سکیورٹی صورتحال کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔

    دوسری جانب، ایران نے امریکہ کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر دونوں کے درمیان کوئی تنازعہ شروع ہوتا ہے تو ایران مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادے نے غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر جوہری معاہدے پر دوبارہ اتفاق نہ ہوا اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس کا جواب سخت ہوگا۔ناصر زادے نے مزید کہا کہ اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو اس کے نقصانات ایران سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور صورتحال کشیدہ نہیں ہوگی، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ایران خطے میں امریکی اڈوں پر حملے کرنے سے ہچکچائے گا نہیں۔انہوں نے کہا، "خطے میں موجود تمام امریکی اڈے ایران کی پہنچ میں ہیں اور حملے کی صورت میں امریکہ کو اس خطے سے نکلنا پڑے گا۔”

    ادھر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے تک پہنچنے کی ان کی امید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر شدید سفارتی کشیدگی کا شکار ہیں اور دونوں ممالک اپریل سے اب تک پانچ بار مذاکرات کر چکے ہیں تاکہ 2015 کے جوہری معاہدے کی جگہ ایک نیا معاہدہ کیا جا سکے۔

    مشرق وسطیٰ کی اس کشیدہ صورت حال نے خطے میں بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور ممکنہ عسکری جھڑپ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ امریکی انتظامیہ اور ایرانی حکام کے درمیان جاری کشیدگی نے عالمی برادری کو بھی چوکس کر دیا ہے۔

  • چیئرمین سینیٹ،اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافہ،وزیراعظم کا نوٹس

    چیئرمین سینیٹ،اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافہ،وزیراعظم کا نوٹس

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں میں حالیہ اضافے کا نوٹس لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس ضمن میں متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    وزیراعظم کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کی روشنی میں وزیراعظم شہباز شریف اسپیکر قومی اسمبلی، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے۔ اس فیصلے سے قبل تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے گا تاکہ عوامی اور سرکاری مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    واضح رہے کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں بھاری اضافے پر عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس وقت جب عام سرکاری ملازمین کی آمدنی محدود ہے، اعلیٰ عہدوں پر فائز حکام کی تنخواہوں میں اضافے کی کوئی جواز نہیں بنتا۔

    گزشتہ روز بجٹ کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں جب وزیر خزانہ سے اس معاملے پر سوال کیا تو انہوں نے ان تنخواہوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ، اسپیکر اور وزرا کی تنخواہوں میں 2016 سے کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا، لہٰذا یہ اضافہ جائز اور ضروری تھا۔تاہم، وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان اضافوں کو ‘مالی فحاشی’ قرار دیا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس قسم کی مراعات عوام کی مشکلات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہیں اور انہیں فوری طور پر روکنا چاہیے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں اور آیا حکومت عوامی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہوں میں اضافے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی کرتی ہے یا نہیں۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 14 جون کو  مظاہرے، سڑکیں بند اور کرفیو کا امکان

    ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 14 جون کو مظاہرے، سڑکیں بند اور کرفیو کا امکان

    تحریک انصاف کے امریکا میں احتجاج کا خواب چکنا چور ہو گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں 14 جون کو احتجاج پر پابندی لگا دی ہے

    امریکہ بھر میں ہفتہ 14 جون کو، "نو کنگز” تحریک کے تحت بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا مقصد "بڑھتے ہوئے آمرانہ رویے” کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ یہ مربوط کوشش صدر ٹرمپ کی واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ فوجی پریڈ کے براہ راست جواب میں کی گئی ہے۔ توقع ہے کہ 50 ریاستوں میں تین ملین سے زیادہ افراد ان احتجاجی تقریبات میں شرکت کریں گے۔”نو کنگز ڈے” کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی فوج کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی جانے والی فوجی پریڈ کے جواب میں کیا جا رہا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ توجہ پریڈ کے بجائے ملک بھر میں ہونے والے ان مظاہروں پر مرکوز رہے۔

    اولمپیا، بیلن ہیم اور کولوراڈو کے قصبوں سمیت ملک بھر میں سیاسی تشدد کو مسترد کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹرن آؤٹ کی توقع ہے۔ مظاہروں کے باعث سڑکیں بند کی جائیں گی اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ "عدالتوں سے لے کر کمیونٹی پارکس تک، شہر کے بلاکس سے لے کر چھوٹے قصبوں تک، ہم آمریت کو مسترد کرنے اور دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں کہ جمہوریت کیسی دکھتی ہے،” "نو کنگز ڈے” کی تفصیل میں کہا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے فوجی پریڈ میں مظاہرہ کرنے والوں کو خبردار کیا تھا کہ انہیں "بہت بڑی طاقت” کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہاں سڑکوں کی بندش، بچنے والے علاقوں اور ممکنہ کرفیو کے بارے میں تمام معلومات تفصیل سے دی جا رہی ہیں۔

    اولمپیا میں کیا تقریبات طے ہیں؟
    اولمپیا انڈیویزیبل اور ایورگرین ریزسٹنس ہفتہ، 14 جون کو صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک ریاستی کیپیٹل کیمپس میں تقریبات منعقد کریں گے۔ کیپیٹل وے ساؤتھ پر واقع ٹیوولی فاؤنٹین مرکزی اجتماع گاہ کے طور پر کام کرے گا۔

    کیا ہفتہ کو سڑکیں بند ہوں گی؟
    بیلن ہیم واشنگٹن کے درجنوں دیگر شہروں کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو گا، اور یہ بیلن ہیم سٹی ہال، 210 لوٹی سٹریٹ کے سامنے دوپہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک منعقد کیا جائے گا۔ دی ہیرالڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، احتجاج کے خصوصی ایونٹ کے اجازت نامے کے تحت سڑکوں کی بندش کی اجازت ہے۔توقع ہے کہ احتجاج کے باعث ڈاون ٹاؤن بیلن ہیم میں گرینڈ ایونیو اور کمرشل سٹریٹ کے درمیان لوٹی سٹریٹ اور لوٹی سٹریٹ اور سینٹرل ایونیو کے درمیان گرینڈ ایونیو بند ہو گی۔ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، یہ بندشیں دوپہر 2 بجے سے شام 6:30 بجے تک رہیں گی۔کیپیٹل کیمپس سیکیورٹی نے اعلان کیا ہے کہ کیمپس کے شمال اور جنوب کے ڈائیگنلز پر تمام ٹریفک، بشمول پارکنگ، ممنوع ہو گی۔ پلیزنٹ لین اور چیری لین دونوں بھی بند رہیں گی۔

    کیا کوئی کرفیو نافذ ہے؟
    ڈگلس کاؤنٹی کی رہائشی کیرولین ولیم سن کے مطابق، ٹاؤن آف پارکر نے انہیں ایونٹ کی منصوبہ بندی سے روک دیا کیونکہ یہ آدھے میل دور واقع پارکر ڈیز فیسٹیول کے اسی دن پڑ رہا تھا۔ریلی کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کے آزادی اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ قصبے کے حکام نے شہر کے سب سے بڑے فیسٹیول کے دوران اس کے انعقاد نہ ہونے کی وجہ حفاظتی خدشات بتائی ہے۔پارکر ڈیز میں مداخلت سے بچنے کے لیے، وہ پارکر روڈ کے چوراہوں پر لنکن ایونیو سے ہیس روڈ تک عدم تشدد پر مبنی مظاہرین کو منظم کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ وہ مرکزی سڑکوں سے گریز کریں گے۔

    کیا حفاظتی اقدامات اور قواعد و ضوابط نافذ ہیں؟
    منتظمین مظاہرین کو پارکنگ، خصوصی انتظامات اور رسائی کے سوالات کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ کارپولنگ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس دن آس پاس چند دیگر چھوٹے ایونٹس بھی ہوں گے، جیسے کہ ڈاون ٹاؤن ہیریٹیج پارک میں یو ایس روڈ رننگ ریس جو دوپہر تک ختم ہو گی۔

    ٹرانسپورٹیشن اور پارکنگ کیسے متاثر ہوگی؟
    ٹرانسپورٹیشن میں کچھ تبدیلیاں، سڑکوں کی بندش اور عوامی ٹرانزٹ میں ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے۔ اگرچہ فی الحال کیپیٹل وے کے ساتھ سفر کرنے والے انٹرسٹی ٹرانزٹ بس روٹس کو تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم، روانگی سے قبل ان کے رائڈر الرٹس صفحہ کو چیک کرنا بہتر ہے۔

    اگر احتجاج کے دن کوئی تبدیلی ہوتی ہے، تو وہ ممکنہ طور پر کی جائیں گی۔اولمپیا احتجاج کس وقت ہے؟ یہ صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کیپیٹل کیمپس میں ٹیولی فاؤنٹین پر ہو گا۔کیا بیلن ہیم میں سڑکیں بند ہوں گی؟ جی ہاں، لوٹی سٹریٹ اور گرینڈ ایونیو کے کچھ حصے احتجاج کے لیے دوپہر 2 بجے سے شام 6:30 بجے تک بند رہیں گے۔

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم شراکت دارہے، جنرل مائیکل ایرک کوریلا

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم شراکت دارہے، جنرل مائیکل ایرک کوریلا

    امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں امریکی سینٹکام کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے دیے گئے بیان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دیا ہے۔

    جنرل مائیکل ایرک کوریلا کا کہنا ہے کہ داعش خراساں اس وقت عالمی سطح پر سب سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، پاکستان ایک غیر معمولی انسدادِ دہشت گردی شراکت دار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے،پاکستان سے قریبی انٹیلی جنس تعاون سے داعش خراساں کے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا، ان گرفتاریوں میں تنظیم کے کم از کم پانچ انتہائی مطلوب رہنما بھی شامل ہیں، پاکستانی حکام نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے امریکا کو کئی اہم کامیابیاں دلائیں، ایبے گیٹ بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ جعفر کی گرفتاری اور اس کی حوالگی بھی اس میں شامل ہے، اس گرفتاری کے فوراً بعد آرمی چیف عاصم منیر نے ذاتی طور پر رابطہ کر کے اطلاع دی، پاکستان مؤثر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے ذریعے داعش خراساں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    جنرل کوریلا کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ دہشت گرد گروہ پاکستان اور افغانستان کی سرحدی پٹی میں سرگرم ہے، پاکستان کی شراکت داری انسدادِ دہشت گردی کے عالمی تناظر میں انتہائی اہم اور مؤثر ثابت ہو رہی ہے، 2024ء کے آغاز سے اب تک پاکستان کے مغربی علاقوں میں ایک ہزار سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے ہیں، ان حملوں میں تقریباً 700 سیکیورٹی اہلکار اور شہری جاں بحق اور 2500 زخمی ہوئے ہیں، پاکستان انسدادِ دہشت گردی کی فعال جنگ لڑ رہا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ داعش خراسان کمزور ہو چکی اور اس کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے، ہمیں پاکستان اور بھارت دنوں کے ساتھ تعلقات رکھنا ہوں گے، میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ اگر بھارت سے تعلق ہو تو پاکستان سے نہیں ہو سکتا۔

  • کراچی:پی  آئی اے اور ائیر کراچی کے مابین معاہدہ

    کراچی:پی آئی اے اور ائیر کراچی کے مابین معاہدہ

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) اور کراچی کی تجارتی برادری کے اشتراک سے قائم ہونے والی نئی ائیرلائن ‘اِئیر کراچی’ کے درمیان جہازوں کی دیکھ بھال اور انجینئرنگ خدمات کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ دستخط ہو گیا ہے۔

    اس معاہدے کے تحت ائیر کراچی اپنی فضائی جہازوں کی مرمت اور مینٹیننس (ایم آر او) کی سہولیات پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز سے حاصل کرے گا۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ایئر وائس مارشل عامر حیات، ائیر کراچی کے چیئرمین جناب حنیف گوہر اور سی ای او ایئر مارشل (ر) عمران ماجد نے شرکت کی۔

    تقریب میں دونوں اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے اس معاہدے کو پاکستان کی فضائی صنعت کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ معاہدے کا مقصد ائیر کراچی کی ائیر لائننگ خدمات کو بہتر بنانا اور جہازوں کی موثر دیکھ بھال کے ذریعے حفاظتی معیار کو بلند کرنا ہے۔پی آئی اے کی انجینئرنگ خدمات کی بدولت ائیر کراچی اپنے فضائی جہازوں کی مرمت و دیکھ بھال کا معیار عالمی سطح پر یقینی بنائے گا، جو پاکستان کی فضائی صنعت میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ اس شراکت داری سے نہ صرف دونوں اداروں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ملکی معیشت اور فضائی سفر کی صنعت کو بھی تقویت ملے گی۔

  • عمران خان کی رہائی نظر نہیں آ رہی،علیمہ خان پارٹی قیادت سے مایوس

    عمران خان کی رہائی نظر نہیں آ رہی،علیمہ خان پارٹی قیادت سے مایوس

    بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہمیں عمران خان کی رہائی نظر نہیں آرہی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی تحریک کے حوالے سے اپنی تیاریوں سے مطمئن ہیں، ہمیں پتا ہے بانی پی ٹی آئی نے کیا کہا ہوا ہے اور پارٹی رہنماؤں نے کیا کہا ہوا ہے، یہ اب تحریک روک نہیں سکتے، ہم پر تمام دروازے بند کردیےگئے ہیں، جج صاحب مجبور ہیں، ہمیں سمجھ آرہی ہے، ان پر بہت پریشرہے، ہم ججز کویکجہتی دکھا رہےہیں لیکن یہ بھی ان کوکافی نہیں پڑ رہی، انہوں نے عمران خان کو کئی مہینوں تک قید میں ہی رکھناہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی آگے نظر نہیں آرہی ہے، اب پی ٹی آئی قیادت کی طرف دیکھیں گےکس طرح بانی پی ٹی آئی کورہاکروایاجائےگا۔

    دوسری جانب بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جنوری میں سزا ہوئی تھی، ایسے کیسز کے فیصلے تو ایک ماہ میں ہو جانے چاہئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر سے سوال کیا گیا کہ خان صاحب کی رہائی اب اگلی عید تک چلی گئی ہے،جس پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایک جج صاحب چھٹی پر تھے اس لیے بانی پی ٹی آئی کا کیس نہیں لگا،عمران خان کی رہائی جلد ہوگی،

  • اجتماعی زیادتی کے ملزم کی  پولیس مقابلے میں ہلاکت کا خدشہ ،درخواست دائر

    اجتماعی زیادتی کے ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا خدشہ ،درخواست دائر

    حافظ آباد میں ایک افسوسناک واقعے میں خاتون کو اس کے شوہر کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے خلاف مقدمہ درج ہے۔ اس مقدمے میں ملزم اکرام کو پولیس نے گرفتار کر رکھا ہے، تاہم اب ملزم کے بھائی نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ملزم اکرام کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر عدالت فوری کارروائی کرے اور ملزم کو حفاظت سے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے۔ درخواست میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس سنگین جرم میں ملوث دیگر ملزمان خاور منصب، خاور فیاض اور لئیق پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ملزم اکرام کو بغیر حفاظتی اقدامات کے پیش کرنے میں تاخیر اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت اس ضمن میں ہنگامی احکامات جاری کرے تاکہ ملزم کے خلاف عدالتی کارروائی بلا تعطل جاری رہ سکے۔