Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس ،صحافیوں کا احتجاجاً واک آئوٹ

    وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس ،صحافیوں کا احتجاجاً واک آئوٹ

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں صحافیوں نے احتجاج کیا اور واک آؤٹ کر دیا،

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ے اسلام آبا میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی تو اس موقع پر صحافیوں نے کل فنانس بل کی کاپیاں نہ دینے پر احتجاج کیا اور بعد ازاں واک آؤٹ کر دیا، صحافیوں نے اعتراض کیا کہ فنانس بل پر صحافیوں کو ٹیکنیکل بریفنگ نہیں دی گئی،فنانس بل پر ٹینکیکل بریفنگ نہ دینے پر صحافی وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ کانفرنس سے احتجاجاً اُٹھ کر چلے گئے۔وزیر خزانہ صحافیوں‌کو بلاتے رہے لیکن صحافی واپس نہ آئے

    کوشش تھی تنخواہ دار طبقے کو جتنا ریلیف دے سکیں اتنا دیا،وزیر خزانہ
    بعد ازاں اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھاکہ کوشش تھی تنخواہ دار طبقے کو جتنا ریلیف دے سکیں اتنا دیا، پینشن اور تنخواہوں کو مہنگائی کے ساتھ لنک کرنا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مالی گنجائش کے مطابق ہی ریلیف دے سکتے ہیں،بجٹ میں ٹیرف اصلاحات کی گئی ہیں، مجموعی طور پر 7 ہزار ٹیرف لائنز ہیں جن میں سے 4 ہزار ٹیرف لائنز کو صفر کردیا گیا ہے، ٹیرف اصلاحات سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا، اس سال ہم نےانفورسمنٹ کےذریعے 400 ارب سےزیادہ ٹیکس اکھٹا کیا، دو ہی طریقے ہیں یا تو انفورسمنٹ کرلیں یا ٹیکس لگادیں، اس حوالے سے قانون سازی کے لیےدونوں ایوانوں سے بات کریں گے، ایڈیشنل ٹیکس زرعی شعبے پر نہ لگانے پر بورڈ سے بات کی گئی، چھوٹے کسانوں کے لیے قرضے دیے جائیں گے۔

  • کشتی حادثات میں ملوث انتہائی مطلوب انسانی سمگلر عمران ٹونی مصر سے گرفتار

    کشتی حادثات میں ملوث انتہائی مطلوب انسانی سمگلر عمران ٹونی مصر سے گرفتار

    ایف آئی اے گجرانوالہ زون کی بڑی کاروائی، کشتی حادثات میں ملوث انتہائی مطلوب انسانی سمگلر انٹرپول کی معاونت سے مصر سے گرفتار کر لیا

    گرفتار ملزم کی شناخت عمران عرف ٹونی کے نام سے ہوئی،ملزم کو انٹرپول کی مدد سے مصر سے گرفتار کیا گیا،ملزم یونان کشتی حادثہ 2023 کا مرکزی ملزم ہے ، ملزم کو مصر سے گرفتار کر کے ضروری قانونی کاروائی کے بعد ایف آئی اے گجرانوالہ زون منتقل کر دیا گیا۔عمران عرف ٹونی انسانی سمگلنگ میں ملوث بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ ہے ،ایف آئی اے این سی بی انٹرپول نے گجرانوالہ زون کی درخواست پر ملزم کی گرفتاری کے لئے ریڈ نوٹسسز جاری کیا تھا۔ملزم سال 2012 سے لیبیا سے آپریٹ کر رہا تھا ،ملزم غیر قانونی انسانی سمگلنگ کی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث پایا گیا ،ملزم سیف ہاؤسز کے نیٹ ورک کے ذریعے انسانی سمگلنگ کی سہولت کاری کرتا تھا ،ملزم شہریوں کو سمندر کے راستے لیبیا سے یورپ بھجوانے میں ملوث ہے،ملزم نے شہریوں کو غیر قانونی طور بیرون ملک بھجوانے کے لیے لاکھوں روپے ہتھیائے ،ملزم کے خلاف غیر قانونی انسانی سمگلنگ کے جرم میں متعدد مقدمات درج ہیں ،کشتی حادثات میں متعدد پاکستانی شہریوں کی موت واقع ہوئی ،ملزم کی حوالگی انٹرپول اسلام آباد کی انٹرپول مصر کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کی وجہ سے ممکن ہوئی

    ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا،ملزم کے نیٹ ورک میں شامل دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار کاروائیاں جاری ہیں ،کشتی حادثات میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاون جاری ہے۔ ڈائریکٹر گجرانوالہ زون عبدالقادر قمرکا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں،کشتی حادثے میں ملوث ایجنٹوں کی گرفتاری کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے.ملک کے تمام ائرپورٹس پر تعینات افسران ایجنٹوں کے گرفتاری کے لئے کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔ معصوم جانوں سے کھیلنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا،انسانی سمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے ، گرفتار انسانی سمگلروں کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دلوائی جائیں گی، بین الاقوامی سطح پر انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جائے گا،

  • رحیم یار خان، 13 سالہ گھریلو ملازمہ مبینہ تشدد سے جاں بحق

    رحیم یار خان، 13 سالہ گھریلو ملازمہ مبینہ تشدد سے جاں بحق

    رحیم یار خان، گلشن اقبال کے علاقے میں ایک 13 سالہ گھریلو ملازمہ سمیہ نامی بچی مبینہ طور پر میاں بیوی کے تشدد کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوگئی ہے۔

    ڈی پی او عرفان سموں نے بتایا کہ سمیہ نواحی علاقے کوٹلہ پٹھان کی رہائشی تھی اور گزشتہ تین سال سے شہرام نامی شخص کے گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچی کی موت شدید تشدد کے باعث ہوئی، اور واقعہ کی اطلاع بچی کی والدہ کو رات کے اندھیرے میں دی گئی۔ لاش کو کفن میں لپیٹ کر ماں کے حوالے کیا گیا، جہاں والدہ نے دیکھا کہ سمیہ کے جسم پر تشدد کے واضح نشان موجود تھے۔بچی کی ماں کی شکایت پر پولیس نے فوری کارروائی کی اور فرار ہونے والے ملزم میاں بیوی کو چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا۔

    ڈی پی او عرفان سموں نے مزید بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے جسم پر سر سے لے کر پیروں تک بدترین تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بچی کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔اب ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ اس المناک واقعہ کی تمام جہتوں کو سامنے لایا جا سکے۔

  • بجٹ کے اعلان کے اگلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    بجٹ کے اعلان کے اگلے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

    گزشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے پیش کردہ بجٹ کے بعد آج بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں نے حکومتی بجٹ کی تجاویز پر اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارکیٹ میں خریداری کا رجحان بڑھا دیا۔

    کاروبار کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 1571 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 123,596 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کا سلسلہ جاری رہا اور دن کے دوران انڈیکس میں مزید تیزی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 2101 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور 100 انڈیکس 124,126 پوائنٹس تک جا پہنچا۔

    ماہرین کے مطابق یہ مثبت ردعمل وفاقی بجٹ میں دی گئی سہولیات اور ٹیکس اصلاحات کی وجہ سے آیا ہے، جنہوں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ وفاقی بجٹ 2025-26 میں کل بجٹ کا حجم 17 ہزار 573 ارب روپے (175 کھرب سے زائد) رکھا گیا ہے۔

    بجٹ کی اہم تجاویز میں تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ شامل ہے، جبکہ تنخواہوں پر انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے تاکہ عام افراد کی آمدنی میں بہتری آئے۔ اس کے علاوہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو بھی کم کیا گیا ہے۔ جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4 فیصد سے کم کر کے 2.5 فیصد اور جائیداد کی فروخت پر یہ شرح 3.5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے ملکی معیشت کو فروغ ملے گا اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے، جس کا مثبت اثر اسٹاک مارکیٹ پر بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے واضح ہوتا ہے کہ بجٹ کی پیش کردہ پالیسیاں مارکیٹ کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

  • عمران بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیل،جج چھٹی پر،کاز لسٹ منسوخ

    عمران بشریٰ کی سزا کیخلاف اپیل،جج چھٹی پر،کاز لسٹ منسوخ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی درخواستوں پہ آج سماعت کرنے والے دو رکنی بنچ کے رکن جسٹس محمد آصف "اچانک ” چھٹی پر چلے گئے، آج درخواستوں کی سماعت نہیں ہو سکے گی۔ڈویژن بینچ میں شامل ایک جج کے چھٹی پر ہونے کے باعث کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی

    دوسری جانب عمران خان کیخلاف توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت یکم جولائی تک بغیر کاروائی کے ملتوی کر دی گئی، جج شاہ رخ ارجمند نے آج اڈیالہ میں سماعت کرنا تھی۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے۔خالد یوسف ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نیب (قومی احتساب بیورو) نے بدنیتی سے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے معاہدے کا مکمل متن حاصل نہ کرنا نیب کی ہچکچاہٹ اور بدنیتی کا واضح ثبوت ہے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی اے کے حکام کو تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا اور استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔مزید برآں، اپیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ 17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کیا جائے۔

  • عوام پر ٹیکسز،وزیراعظم ہاؤس کے لئے بجٹ میں 14 کروڑ کا اضافہ

    عوام پر ٹیکسز،وزیراعظم ہاؤس کے لئے بجٹ میں 14 کروڑ کا اضافہ

    وفاقی بجٹ 2025-26 کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کی سرکاری رہائش اور متعلقہ اخراجات میں ایک بار پھر زبردست اضافہ کیا گیا ہے۔ ایک ایسے وقت جب ملک کی تقریباً آدھی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، اور عام شہریوں سے مزید قربانیاں طلب کی جا رہی ہیں، حکومت نے وزیراعظم ہاؤس کے بجٹ کو 72 کروڑ روپے سے بڑھا کر تقریباً 86 کروڑ روپے کر دیا ہے۔

    قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کے لیے 9 کروڑ روپے، ہاؤس کی ڈسپنسری کے لیے 1 کروڑ 44 لاکھ روپے اور باغیچے کی دیکھ بھال کے لیے 4 کروڑ 48 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، وزیراعظم کے دوروں کے لیے 60 لاکھ روپے جبکہ پی ایم چیرٹی کے لیے 42 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز دیے گئے ہیں۔

    وفاقی وزراء اور مملکت کے وزراء کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، جو 27 کروڑ روپے سے بڑھ کر 50 کروڑ 54 لاکھ روپے ہو گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیران کے لیے بجٹ 3 کروڑ 61 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 کروڑ 31 لاکھ روپے کیا گیا ہے۔کابینہ ڈویژن کے لیے بھی 68 کروڑ 87 لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جبکہ معاونین خصوصی کے لیے بجٹ 3 کروڑ 70 لاکھ روپے سے بڑھا کر 11 کروڑ 34 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔وفاقی بجٹ میں سینٹرل کار پول کے لیے 62 کروڑ روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے بجٹ میں 28 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو 12 ارب 73 کروڑ سے بڑھ کر 16 ارب 29 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔ سینیٹ کا بجٹ بھی 9 ارب ساڑھے 5 کروڑ روپے رکھا گیا ہے جو پچھلے مالی سال کے 7 ارب 24 کروڑ روپے سے کافی زیادہ ہے۔

    یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت عام آدمی سے تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو حکمران یورپ کی مثال دیتے ہیں، وہ کب اپنے اخراجات میں ویسی ہی سادگی اختیار کریں گے جیسی وہاں کے حکمران کرتے ہیں،عام شہری مشکلات کا شکار ہیں اور روزمرہ کے ضروریات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، ایسے میں اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کے اخراجات میں اضافہ عوامی جذبات کے خلاف جا رہا ہے۔

  • امید ہے ٹرمپ اپنے دور میں مسئلہ کشمیرحل کرسکیں گے۔امریکی محکمہ خارجہ

    امید ہے ٹرمپ اپنے دور میں مسئلہ کشمیرحل کرسکیں گے۔امریکی محکمہ خارجہ

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد کے دورہ امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں سے ملاقاتوں پر امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر کو حل کرسکیں گے،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ سے جب سوال کیا گیا کہ محکمہ خارجہ میں انڈر سیکریٹری برائے سیاسی امور ایلیسن ہُوکر سے بلاول بھٹو کی کیا بات چیت ہوئی اور آیا امریکا نے پاکستانی وفد کو کوئی یقین دہانی کرائی ہے کہ حل طلب تنازعات پر بات چیت اور جنگ بندی جاری رکھنے کیلئے امریکی حکومت بھارت کو مذاکرات کی میز پرلانے کی کوشش کرےگی،امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ پاکستانی وفد کی محکمہ خارجہ کے اہلکاروں بشمول انڈرسیکرٹری برائے سیاسی امور ایلیسن ہُوکر سے پچھلے ہفتے ملاقات ہوئی جس میں ایلیسن ہوکر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری جنگ بندی سے متعلق امریکی حمایت کا اعادہ کیا،ٹیمی بروس نے اس بات پر خدا کا شکر ادا کیا کہ بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کے درمیان جنگ بندی جاری ہے اور بتایا کہ ایلیسن ہُوکر سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی جن میں انسداد دہشتگردی تعاون شامل تھا۔

    پریس بریفنگ کےدوران ایک صحافی کی جانب سےپوچھے گئے اس سوال پر کہ آیا پاکستان نے امریکا کو کسی قسم کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرے گا، ٹیمی بروس نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ پاکستانی وفد اور محکمہ خارجہ کے اہلکاروں کے درمیان ہوئی بات چیت کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کریں گی،ایک اور نمائندے کی جانب سے اس سوال پر کہ صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی،اس پر پیشرفت کس نوعیت کی متوقع ہے، آیا امریکا دونوں ملکوں کی قیادت کو مدعو کرے گا یا کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی امریکا حمایت کرےگا،ٹیمی بروس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ذہن میں کیا ہے، وہ کیا منصوبے رکھتے ہیں، وہ اس پر بات نہیں کرسکتیں۔ یہ ضرور جانتی ہیں کہ صدر ٹرمپ کا ہر قدم نسلوں کے درمیان جنگ اور نسلوں کے درمیان جاری اختلافات کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔ اس لیے یہ باعث حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کو مینج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں، صدر ٹرمپ وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے ایسے لوگوں کو میز پر لا بٹھایا اور بات چیت ممکن بنائی جن کے بارے میں لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ایسا ممکن ہوگا۔اس لیے وہ صدر ٹرمپ کے منصوبوں پر بات نہیں کرسکتیں۔دنیا ان کی فطرت سے خود آگاہ ہے، یہ دلچسپ لمحہ ہے کہ ہم اس تنازعہ سے متعلق کسی نکتہ پر پہنچ سکیں۔اس ضمن میں صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ یہ بہت ہی ولولہ انگیز لمحہ ہے۔ ہر روز ہم کوئی نئی پیشرفت کرتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دور میں اس مسئلہ کو حل کرسکیں گے۔

  • امریکہ میں مودی سرکار کا خفیہ نیٹ ورک، “ہندو امریکن فاؤنڈیشن” مودی سرکار کی آلہ کار

    امریکہ میں مودی سرکار کا خفیہ نیٹ ورک، “ہندو امریکن فاؤنڈیشن” مودی سرکار کی آلہ کار

    امریکہ میں مودی سرکار کا خفیہ نیٹ ورک بے نقاب، “ہندو امریکن فاؤنڈیشن” مودی سرکار کی آلہ کار نکلی

    مودی سرکار 2014 سے عالمی سطح پر ریاستی دہشتگردی کا جال بُنتی آ رہی ہے، جو اب عالمی سطح پر میں بے نقاب ہو چکا ہے،دی گارڈین کے مطابق امریکہ کے فریمانٹ گوردوارے نے ہندو امریکن فاؤنڈیشن کو مودی سرکار کا غیر ملکی ایجنٹ قرار دے دیا، فریمانٹ گوردوارے نے امریکی محکمہ انصاف (DoJ) سے ہندو امریکن فاؤنڈیشن کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا، گوردوارے نے الزام عائد کیا کہ ہندو امریکن فاؤنڈیشن بھارتیہ جنتا پارٹی کے مفادات کو امریکہ میں فروغ دے رہی ہے، ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے مودی سرکار کی بی جے پی پارٹی کے مؤقف کی مسلسل حمایت کی ہے، فریمانٹ گوردوارے نے مطالبہ کیا کہ ہندو امریکن فاؤنڈیشن کو غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر رجسٹر کیا جائے،ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے بھارتی حکام کو اپنے پروگرامز میں پلیٹ فارم فراہم کیا، مودی سرکار پہلے ہی سکھ کارکنان کے خلاف کینیڈا اور امریکہ میں کارروائیوں کے الزامات کی زد میں ہے،

    ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے ڈٹھائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریمانٹ گوردوارے پر ہی الزام عائد کیا کہ یہ مہم خالصتان تحریک کے حامیوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے،ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کرنے کے بعد بھارتی حکومت پر بیرون ملک سکھوں کے خلاف اقدامات کھل کر واضح ہو گئے ہیں،امریکہ نے بھی واضح کیا تھا کہ کہ بھارتی ایجنٹ نے امریکی شہری اور سکھ کارکن، "گرپتونت سنگھ پنو” کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی،الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی سرگرمیاں بڑھا دیں،

  • مودی پر جنگی جنون طاری، خطے میں اسلحے کے حصول کی دوڑ جاری

    مودی پر جنگی جنون طاری، خطے میں اسلحے کے حصول کی دوڑ جاری

    مودی پر جنگی جنون طاری، خطے میں اسلحے کے حصول کی دوڑ جاری

    بھارتی وزارت دفاع نے 30 ہزار کروڑ روپے مالیت کے دفاعی نظام کی خریداری کی تجویز منظوری کیلئے پیش کردی،بھارتی فوج کیلئے کوئیک ری ایکشن سرفیس-ٹو-ائیر میزائیل سسٹم خریداری کی منظوری لی جائیگی، بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نیوز کے مطابق ’’اس دفاعی نظام کی مالیت تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے ہے‘‘یہ فیصلہ بھارتی فوج کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لیا گیا ہے، دفاعی نظام QRSAM کی رینج 30 کلومیٹر تک ہے، یہ نظام موبائل ہے اور 360 ڈگری ریڈار کوریج فراہم کرتا ہے،یہ جدید نظام ڈی آر ڈی او، بی ای ایل اور بی ڈی ایل کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، دفاعی نظام QRSAM ڈرونز، ایئرکرافٹ اور کروز میزائلز کیخلاف 24 گھنٹے آپرشنل رہ سکتا ہے،

    دفاعی نظام کے حصول کی منظوری ثابت کرتی ہے کہ بھارتی حکومت جنگی جنون میں مبتلا ہے،آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد بھارت کی بڑے پیمانے پر اسلحے کی خریداری خطے کے امن کیلئے بڑاخطرہ ہے،حکومت پاکستان اس بات کو واضح کر چکی ہے کہ بھارت نے جارحیت کی تو پاکستان اپنے دفاع میں بھر پور جوابی وار کرے گا

  • مودی سرکار کی جانب سے بھارتی مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر جبری بے دخلی

    مودی سرکار کی جانب سے بھارتی مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر جبری بے دخلی

    مودی سرکار کی انتہا پسندی کی انتہا، اپنے ہی شہریوں کو غیر قانونی مہاجر قرار دے کر جبراً ملک بدر کرنے کا سلسلہ جاری ہے،

    آسام میں بھارتی پولیس کی بربریت، مقامی شہریوں کو بغیر ثبوت بنگلہ دیشی قرار دے کر سرحد پار دھکیل دیا گیا، بی بی سی کے مطابق بھارتی مسلمان شونا بانو سمیت درجنوں بھارتی مسلمانوں کو بندوق کے زور پر ملک بدر کیا گیا، دو دو دن کھلے میدانوں میں بھوکے، پیاسے، کیڑوں میں گزارنے پر مجبور کیا گیا،نہ کوئی وضاحت، نہ قانونی عمل، مودی سرکار، آسام پولیس اور بارڈر فورس کی مجرمانہ خاموشی برقرار ہے

    بنگلہ دیشی حکام کے مطابق صرف مئی 2025 میں بھارت نے 1200 سے زائد افراد غیر قانونی طور پر ملک بدر کیا گیا،بنگلہ دیش نے بھارتی شہریت کی تصدیق کے بعد 100 شہری واپس لوٹا دیے،مودی سرکار کی نیشنل رجسٹرڈ آف سٹیزنز (NRC) کے مطابق اسام میں دو لاکھ سے زائد شہریوں کو فہرست سے باہر کر کے غیر ملکی بنا دیا گیا، نسل در نسل بھارت میں رہنے والوں کو اچانک غیر ملکی قرار دے کر ملک بدر کیا جا رہا ہے ،عدالتوں میں مقدمات زیر سماعت، مگر شہریوں کو زبردستی سرحد پار نکالا جا رہا ہے، آسام کی مسلمان آبادی شدید خوف کا شکار، کسی بھی وقت جبراً گرفتاری اور بے دخلی کا خدشہ ہے

    اس حوالے سے وکلا کا کہنا تھا کہ مودی سرکار عدالتی احکامات کو توڑ مروڑ کر استعمال کر رہی ہے، مکمل دستاویزات رکھنے کے باوجود شہریوں کو غیر ملکی قرار دے کر جبراً زیادتی کر کے نکالا جا رہا ہے، انسانی حقوق تنظیموں نے شدید مذمت کرتے ہوئے مودی سرکار کی پالیسی غیر قانونی، غیر انسانی اور ظالمانہ قرار دی ہے،مودی سرکار کی جانب سے ‘غیر قانونی مہاجر’ کے نام پر بھارتی مسلمانوں پر بدترین تشدد، گرفتاری اور جلاوطنی مسلط کی جا رہی ہے