Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈیجیٹل روزگار پروگرام صلاحیت بڑھاؤ "اپنا کماؤ” یکم مئی سے شروع کر رہے ہیں، تابش قیوم

    ڈیجیٹل روزگار پروگرام صلاحیت بڑھاؤ "اپنا کماؤ” یکم مئی سے شروع کر رہے ہیں، تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان سازشوں میں گھرا ہوا،وطن عزیز کی حفاظت و سلامتی کے لئے مرکزی مسلم لیگ کردار ادا کرتی رہے گی، اندرونی و بیرونی دشمنوں کی سازشوں سے ملک کو بچائیں گے،میڈیا کا کردار انتہائی اہم، میڈیا نوجوانوں کو مایوسیوں کی بجائے امید کی کرن دکھائے،بے روزگار نوجوانوں کے لئے اپنا کماؤ پروگرام شروع کر رہے ہیں.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کے سنٹرل میڈیا سیل کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری انجینئر حارث ڈار، مرکزی ترجمان تابش قیوم،سیکرٹری جنرل لاہور مزمل اقبال ہاشمی،پنجاب و خیبر پختونخوا کے زونل میڈیا کوآرڈینٹرز، ضلعی ترجمانوں نے شرکت کی،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ڈیجیٹل روزگار پروگرام صلاحیت بڑھاؤ "اپنا کماؤ” یکم مئی سے شروع کر رہی ہے،پروگرام کے تحت ملک بھر میں بے روزگار مردوخواتین کو ڈیجیٹل کورس کروائے جائیں گے اور انہیں ہنر مند بنایا جائے گا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں ضلع و تحصیل کی سطح پر میڈیا ورکشاپس بھی کروائی جائیں گی.

    سیف اللہ قصوری نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے دشمن ملک کو غیر مستحکم کرنا اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، قیام امن کے لئے مرکزی مسلم لیگ میدان عمل میں ہے، اتحاد ویکجہتی سے ہی دشمنوں کی سازشیں ناکام بنائی جا سکتی ہیں، پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے مرکزی مسلم لیگ ہرممکن اقدام کرے گی، آج ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان سے نمٹنے کے لیے میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے، میڈیا کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کو مایوسی کی بجائے امید اور حوصلے کی راہ دکھائے۔

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے نوجوانوں کے لیے "اپنا کماؤ پروگرام” شروع کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد بے روزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار کی فراہمی ہے۔ڈیجیٹل روزگار پروگرام صلاحیت بڑھاؤ "اپنا کماؤ” یکم مئی سے دس مئی تک جاری رہے گا، ملک بھر میں اس ضمن میں بے روزگار مردو خواتین کو تربیت دی جائے گی،ڈیجیٹل روزگار پروگرام نہ صرف معاشی استحکام کی طرف ایک قدم ہوگا بلکہ نوجوانوں کو خود کفالت کی راہ پر بھی گامزن کرے گا۔

  • سابق بوائے فرینڈ نے ٹک ٹاکر کی "ویڈیولیک”کردی

    سابق بوائے فرینڈ نے ٹک ٹاکر کی "ویڈیولیک”کردی

    معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر “ رشتہ پکا” کے نام سے مقبول ہونے والی سامعہ حجاب ایک نئی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہیں، جب ان کی مبینہ نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

    سامعہ حجاب نے ان ویڈیوز کو جعلی قرار دیتے ہوئے واضح طور پر الزام لگایا ہے کہ یہ مواد ان کے سابق بوائے فرینڈ نے ذاتی دشمنی اور انتقامی جذبے کے تحت وائرل کیا ہے،اس ضمن میں سامعہ نے ویڈیو پیٍغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ان ویڈیوز کی مکمل تردید کرتی ہیں اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے دانستہ طور پر ان کے کردار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ،یہ تمام ویڈیوز ایڈیٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی ہیں تاکہ انہیں بدنام کیا جا سکے، میں اپنے تمام فالوورز سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ ان جھوٹی اور بے بنیاد ویڈیوز پر یقین نہ کریں،میں اس معاملے کو قانونی طریقے سے اٹھاؤں گی اور جلد ہی ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں درخواست دوں گی۔

    مجھے گھنٹہ فرق نہیں پڑتا،مناہل ملک کانازیبا ویڈیو لیک ہونے پر جواب

    برہنہ ویڈیو لیک،امشا رحمان نے ملزم کو معاف کر دیا

    بابر اعظم کی ویڈیو لیک ہونے کا خطرہ؟

    ایک اور پاکستانی ٹک ٹاکر کی نازیبا ویڈیو لیک

  • سرمایہ کار ہمارے سرکا تاج ، انہیں عزت ،ہر ممکنہ سہولت دینی ہے،وزیراعظم

    سرمایہ کار ہمارے سرکا تاج ، انہیں عزت ،ہر ممکنہ سہولت دینی ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے قومی آمدن بڑھانا ہوگی ،کارکردگی کے حوالے سے مختلف اداروں میں موجود سقم دور کرنا ہوں گے،معاشرے اور اداروں کی بہتری کے لئے جزا اور سزا کے تصور کو اپنانا ہو گا ، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے طویل سفر کا آغاز ہو چکا ہے، سرمایہ کار ہمارے سر کا تاج ہیں ، انہیں ہر ممکن سہولیات دیں گے، عدالتوں میں زیر التواء کھربوں روپے کے ٹیکس کیسز کے فوری فیصلے ناگزیر ہیں ۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پر فارمنس مینجمنٹ سسٹم کےافتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے دورہ کے موقع پر ایک سال پہلے کئے گئے ایف بی آر کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے پور ی ٹیم نے مل کر کاوشیں کیں اور ان بے پناہ کوششوں کی بدولت اس سفر کاآغاز ہو چکا ہے۔ یہ ایک لمباسفر ہے اور راستے میں بڑی رکاوٹیں آئیں گی جن کو اپنے غیر متزلزل عزم کے ساتھ دور کرنا ہے اور پاکستان کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لئے شبانہ روز کوششیں کرنی ہیں، پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانی ہے، ا س کا بوجھ آپ لوگوں کے کندھوں پر ہے۔ ہم آپ کے قابل ذہنوں کی بدولت یہ اہداف حاصل کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں ہمارے ٹیکس محصولات میں 27 فیصد اضافہ قابل ستائش ہے۔ اس کےلئے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتےہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک طویل سفر ہے اور محصولات میں اضافہ بظاہر خوش آئند ہے لیکن مختلف ٹربیونلز یا دیگر عدالتوں میں کھربوں روپے کے مقدمات چل رہے ہیں۔ ان میں سے کئی مقدمات کئی دہائیوں سے چل رہے ہیں۔ ان مقدمات کے فوری فیصلے ناگزیر ہیں۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔وزیراعظم نے ایف بی آر کے افسران کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک چبھتا سوال ہے کہ ایک طرف ہمارے کھربوں روپے کے کیسز زیر التواء ہیں اور دوسری طرف ہم دن رات قرض لے رہے ہوتے ہیں یا ان کو رول اوور کرارہے ہوتے ہیں۔دوسری طرف انٹرنل ریونیو سروس ، کسٹم ، سیلزٹیکس ، جعلی رسید وں کی دردناک کہانیاں ہم سن چکے ہیں ۔ ہم نے ان کمزوریوں کو دور کرناہے اور انہی چیلنجز کا ہماری حکومت کو سامنا ہے۔ ماضی میں جو ہوا ہمیں اس سے سبق حاصل کرکے تیزی سے ان خامیوں پر قابوپانے کی ضرورت ہے۔ اسی لئے میں آپ کے پاس حاضر ہواہوں ۔ہم نے ایک سال میں اس کے لئے بڑی تگ و دو کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چند سال قبل ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بنایا گیا جس کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ صرف اس کمپنی کی خطاہے یا اس نظام کا مؤثر استعمال نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال میں جو اچھاکام کیاگیا ہے اس پر ہم آپ کو دل کھول کرداد دیتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ آپ کو مزید اچھاکام کرنے کی توفیق دے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم نے قرض سے نجات حاصل کرنی ہے تو ہمیں اپنے محصولات بڑھانا ہوں گے۔اس کے بغیر قرض بڑھتاچلاجائےگااور آئی ایم ایف سے کبھی چھٹکارا نہیں ملےگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کے مختلف شعبوں میں ہمارے نوجوان شاندار کام کررہے ہیں۔ میری یہ استدعاہے کہ محنت کرکے محصولات میں اضافے سے اس قوم کی تقدیر بدلنے کی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔ وزیراعظم نےکہا کہ وہ بینکوں کے ونڈ فال ٹیکس کامعاملہ عدالتوں میں لے کر گئے اور ایف بی آر کے چیئرمین اور اس کی قانونی ٹیم کی وجہ سے 23 ارب روپے قومی خزانے میں واپس آئے تاہم یہ رقم بہت کم ہے ، ہمارے کھربوں روپے کے ایسے مقدمات زیرالتواء ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ قرضوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے ، ہمیں اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بھرپور اندازمیں کرتے ہوئے قرضوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انفورسمنٹ کے لئے کسٹمز اور دیگر اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کومتعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ چیلنجز سے بھرپور طویل سفر کی شروعات ہے ، ہم نے ان چیلنجز سے نمٹنا ہے ، اس میں اپنے کام میں ماہر لوگوں کا بڑا کردار ہوگا۔ اشیاء کی مس ڈیکلیئریشن سے نجات کاخاطر خواہ انتظام نہیں ہوا، اس پر کام ہو رہا ہےتاہم اس کاحل یہ ہے کہ کنٹینر کو سکینرز سے گزاراجائے۔ سکینر مشینوں کے حصول میں تاخیر مجرمانہ غفلت ہے۔ہم جہاں کھربوں روپے کا نقصان برداشت کررہے ہیں تو کیوں چند کروڑ روپے اس کے لئے خرچ نہیں کررہے، اس کے لئے ہمارے وسائل حاضر ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم تیزی سے اس منزل کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کے لئے پاکستان معرض وجود میں آیاتھااور جس کے لئے قائد اعظم کی قیادت میں تحریک چلی اور لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں۔ پاکستان کا دنیا میں ضرورت مقام بنے گا اور ابھی بھی تاخیر نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کی شروعات ہو چکی ہیں، انفورسمنٹ پر کام ہو رہا ہے، ٹربیونلز کو پوری طرح ریفار م کیاجارہا ہے، میرٹ پر نئے قابل لوگوں کو بھرتی کیاجا رہا ہے، قابل وکلا ء کی خدمات لی جا رہی ہیں، پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم بہت اچھا ہے ، اس میں مزید بہتری لانی ہے اور دیگر اداروں میں بھی اس کو متعارف کرانا ہے، ایف بی آر کواب اپنی ساکھ بنانا ہو گی۔جزا و سزا کے تصور کو ایف بی آر سمیت تمام اداروں میں فروغ دے رہے ہیں۔جو لوگ اچھا کام کریں گے ان کو عوامی پذیرائی اور مراعات دیں گے، اس حوالہ سے چیئرمین ایف بی آر نے اچھا فارمیٹ بنایا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اہم خدمات سرانجام دینے والوں کو وزیراعظم ہاؤس بلا کر انہیں شیلڈز اور مانیٹری ایوارڈ دیئے جو ملک بھر کے تمام اداروں کیلئے حوصلہ افزائی ہے۔ اسی طرح جو لوگ کام نہیں کریں گے انہیں سزا ہو گی۔معاشرے سزا اور جزا سے ہی بہتر ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس ادا کرنے والوں سے اچھا رویہ رکھیں، سرمایہ کار ہمارے سرکا تاج ہیں انہیں عزت اور ہر ممکنہ سہولت دینی ہے، اس سے ہمارے ملک میں سرمایہ آئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نوٹیفائی کرے گا تاکہ ذاتی پسند و ناپسند کی بجائے کارکردگی کی بنیاد پر ملازمین کو صلہ ملے گا

  • وزیراعظم  کا آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا خیرمقدم

    وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا خیرمقدم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے کی برآمدات میں 23 فیصد اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی ٹی کے شعبے کو سہولتوں کی بروقت فراہمی کے نتیجے میں یہ کامیابی ممکن ہوئی ہے۔

    اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی شعبے کا روایتی مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ نئی مارکیٹوں میں خدمات کی برآمدات میں اضافہ ایک اہم پیشرفت ہے جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس شعبے کی برآمدات 2 اعشاریہ 828 بلین ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہیں، جو حکومت کی ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔شہباز شریف نے اس کامیابی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کے اقدامات کرنے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ آئی ٹی شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت نے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں جدید تربیتی پروگرامز اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق فنی مہارتوں کو بڑھانا شامل ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف آئی ٹی کے شعبے کو تقویت ملے گی بلکہ اس کے نتیجے میں ملک کی معیشت میں بھی مزید بہتری آئے گی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ مضبوط ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ وہ ملک کو دنیا کے آئی ٹی کے شعبے میں ایک مضبوط کھلاڑی بنائے گی اور اس کے لیے حکومت نے ہر سطح پر اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق، آئی ٹی شعبے کی ترقی ملک کے مستقبل کی ترقی کی ضمانت ہے اور اس میں اضافے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • سوات، دہشتگردوں کےخلاف آپریشن، چار جہنم واصل

    سوات، دہشتگردوں کےخلاف آپریشن، چار جہنم واصل

    18 اپریل 2025 کو سوات ضلع میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ طور پر ایک خفیہ اطلاعات پر مبنی آپریشن کیا، آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے انتہائی مؤثر طریقے سے خوارج کی موجودگی والے مقام کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار خوارج ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد وہ لوگ تھے جو علاقے میں متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے، جو ان کے دہشت گردی کے نیٹ ورک کے ساتھ ان کے تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اس کے علاوہ، سیکیورٹی فورسز کی طرف سے علاقے میں مزید خوارج کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے ایک آپریشن جاری ہے۔ یہ آپریشن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ علاقے میں کسی بھی دہشت گرد کو پناہ نہ مل سکے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس عزم کے ساتھ سرگرم ہیں کہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور ملک کو اس دہشت گردی کی لعنت سے پاک کیا جائے۔

    اس آپریشن کی کامیابی ایک اور مثال ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف بے رحمی سے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ملک بھر میں امن و سکون کو بحال کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔پاکستان کی عوام سیکیورٹی فورسز کی اس محنت کو سراہتے ہیں اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کا عہد کرتی ہیں۔

  • پاکستان میں اب وہی رہے گا جس کے پاس قانونی دستاویزات ہوں گی۔طلال چوہدری

    پاکستان میں اب وہی رہے گا جس کے پاس قانونی دستاویزات ہوں گی۔طلال چوہدری

    وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ غیرقانونی غیرملکی شہریوں کی واپسی کی تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی۔ یکم اپریل سے اب تک 84ہزار 869افغان باشندے واپس بھیجے جاچکے ہیں ۔مجموعی طور پر 9 لاکھ 7 ہزار 391 افغان باشندوں کو واپس بھیجا جاچکاہے۔ 30 اپریل کے بعد کوئی غیر قانونی غیر ملکی پاکستان میں نہیں رہ سکے گا۔

    طلال چوہدری نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 40 سال تک افغان بھائیوں کی بھرپور میزبانی کی ہے،ون ڈاکومنٹ رجیم کا دوسرا مرحلہ یکم اپریل سے شروع ہوچکاہے۔ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افراد کی بیدخلی کا دوسرا مرحلہ جاری ہے،افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز کو بھی واپس بھیجا جا رہا ہے،دنیا میں ایسا کوئی ملک نہیں جہاں کوئی دستاویزات کے بغیر ویزہ رہ سکے۔ پاکستان میں اب وہی آدمی رہے گا جس کے پاس قانونی دستاویزات ہوں گی۔قانونی دستاویزات کے ساتھ پاکستان آنے والوں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔قانونی دستاویز والے کو ہی گھر یا دُکان کرائے پر دی جا سکتی ہے۔ اگر کوئی غیر قانونی شخص کو گھر یا دکان کرائے پر دے گا تو اس کا ذمہ دار خود ہوگا،ہزاروں کی تعداد میں جعلی پاکستانی پاسپورٹ پکڑے گئے ہیں۔سعودی عرب سمیت دیگر جی سی سی ممالک نے پاکستان کے جعلی پاسپورٹس کے استعمال کی شکایت کی ہے ۔

    طلال چوہدری نے واضح کیا کہ غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کی واپسی کی تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی ۔افغان باشندوں کو باوقار انداز میں واپس بھیجا جا رہا ہے۔ ٹرانزٹ پوائنٹس پر افغان باشندوں کو تمام سہولیات دی جاتی ہیں۔ ویزہ پالیسی بھی آسان کی گئی ہے، کوئی بھی پاکستان آ سکتا ہے افغان طالبان نے اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ توقع ہے کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے.

  • خاتون کیمرہ اٹھا کر تھانے چلی جاتی،وہ کانٹینٹ فیملی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے، عدالت

    خاتون کیمرہ اٹھا کر تھانے چلی جاتی،وہ کانٹینٹ فیملی کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے، عدالت

    لاہور ہائیکورٹ نے تھانوں میں ملزمان کے انٹرویوز پر پابندی لگا دی۔

    قصور میں مبینہ ڈانس پارٹی سے گرفتار ملزمان کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کی۔ عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز اور ڈی آئی جی سکیورٹی عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق انڈر کسٹڈی ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا، آج کے بعد اگر کسی تھانیدار نے اس طرح کا انٹرویو میڈیا کو کرایا تو متعلقہ ایس پی ذمہ دار ہو گا، اگر کسی تھانے میں کسی کو گنجا کیا گیا، ایکسپوز کیا گیا یا ملزمان کی تذلیل کی گئی تو متعلقہ پولیس آفیسر کے پورٹ فولیو میں لکھا جائے گا کہ اس نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے، لوگوں کی ٹنڈیں کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی، یہ قانون کے منافی ہے۔ پری میچور اس طرح کی ویڈیو جاری ہونے سے ملزم اور مدعی دونوں کا کیس خراب ہوتا ہے۔

    پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سینئر صحافی اور کورٹ رپورٹرز کے صدر محمد اشفاق کو عدالتی معاون مقرر کیا گیا تھا۔ جسٹس علی ضیاء باجوہ نے اشفاق سے سوال کیا کہ یہ ملزمان کے انٹرویوز کیسے ہوتے ہیں؟ محمد اشفاق نے جواب دیا کہ یہ انٹرویوز پولیس ہی کرواتی ہے اور زیادہ تر یوٹیوب چینلز ایسے انٹرویوز کرتے ہیں جبکہ کچھ چینلز کے علاوہ مین سٹریم میڈیا ایسے انٹرویوز نہیں کرتا،

    ایڈووکیٹ جنرل امجد پرویز نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 14 شہریوں کے تحفظ کی بات کرتا ہے۔ جس پر جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ شہریوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اس درخواست کے دائر ہونے سے پہلے ہی مریم نواز نے قصور واقعہ کا نوٹس لے لیا تھا اور واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔ ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کی، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے سوال کیا کہ رپورٹ کے نتائج کیا ہیں؟ جس پر بتایا گیا کہ ایس ایچ او اور دو کانسٹیبل اس سارے معاملے میں قصوروار پائے گئے ہیں،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ پولیس کی سوشل میڈیا پالیسی کو سپروائز کریں اور اس حوالے سے پولیس کو گائیڈ لائنز دیں۔ عدالت نے ایڈیشنل آئی جی کو بھی میڈیا کو انٹرویو دینے سے متعلق گائیڈ لائنز جاری کرنے کی ہدایت کی۔

    جسٹس علی ضیا باجوہ نے ریمارکس دیے کہ کوئی خاتون کیمرہ اٹھا کر پولیس اسٹیشن چلی جاتی ہے، اس کے ویڈیو کے گرافک ایسے ہوتے ہیں کہ انسان فیملی کے ساتھ بیٹھ کر وہ کانٹینٹ نہیں دیکھ سکتا،اس طرح کا رویہ اور انٹرویوز پراسیکیوشن کے کیس کو خراب کرتے ہیں،پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سب سے پہلے اس طرح کے انٹرویوز اور ویڈیوز کا نقصان پراسیکیوشن کو ہوتا ہے۔ آج کل آفیشلز زیادہ لائکس لینے اور منافع کمانے کے لیے پیجز وغیرہ بناتے ہیں، ہم ایڈووکیٹ جنرل آفس، پراسیکیوٹر جنرل آفس اور پولیس مل کر قانون سازی کے لیے تیار ہیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ قصور واقعے کے وقت تھانے میں جب ویڈیو بنی تو کیا ایس ایچ او تھانے میں موجود تھا؟ ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ نے بتایا کہ جی بالکل، ایس ایچ او تھانے میں موجود تھا،س پر جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کہا کہ اس سے زیادہ ادارے کی تذلیل کیا ہو سکتی ہے، اور حیرانی ہے کہ وہ آزاد پھر رہا ہے۔جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ویڈیو بنانے والے پولیس افسران پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے متعلقہ ایس ایچ او سے مکالمہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ "آپ لوگوں کے منہ پر فلیش لائٹ مار رہے تھے؟”ایس ایچ او نے مؤقف اختیار کیا کہ "وہ صرف پولیس ریکارڈ کے لیے تھا۔” اس پر عدالت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ریمارکس دیے: "کونسا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ پولیس ریکارڈ کے لیے ایسی ویڈیو بنائیں؟ آپ میں اتنی جرات کیسے آئی،دورانِ سماعت ایس ایچ او کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قصور ڈانس پارٹی دراصل ڈی پی او کا پرسنل سٹاف آفیسر (پی ایس او) کروا رہا تھا، اور اس حوالے سے ان کے پاس ایک کال بھی موجود ہے۔ اس بات کی تصدیق ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ نے بھی کی، جنہوں نے بتایا کہ پی ایس او نے پیغام دیا تھا کہ کچھ لوگ برتھ ڈے پارٹی منانے آ رہے ہیں،ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ نے عدالت کو بتایا کہ پی ایس او اور دو اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے ڈی آئی جی آپریشنز کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنی سوشل میڈیا پالیسی عدالت میں جمع کروائیں۔ مزید سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔

  • اسرائیل  نے ظلم، جبر، نسل کشی کے تمام عالمی قوانین کو روند کر رکھ دیا ،حافظ طلحہ سعید

    اسرائیل نے ظلم، جبر، نسل کشی کے تمام عالمی قوانین کو روند کر رکھ دیا ،حافظ طلحہ سعید

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اسرائیل نے ظلم، جبر، قتلِ عام اور نسل کشی کے تمام عالمی قوانین کو روند کر رکھ دیا ہے۔ غزہ اس وقت زمین پر جہنم بن چکا ہے ،20 اپریل کو شہدا غزہ کانفرنس کے بعد بھی غزہ لہو لہو مرکزی مسلم لیگ کی تحریک جاری رہے گی،مرکزی مسلم لیگ اہل غزہ کے ساتھ کھڑی ہے،مسلم دنیا کو متحد ہو کر اسرائیل کے خلاف مشترکہ مزاحمت کرنی ہوگی،

    ان خیالات کا اظہار پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف،جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے جمعہ کے اجتماعات سے خطابات ،بعد ازاں کارکنان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا،حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے غزہ میں پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بمباری اور بچوں، عورتوں، صحافیوں کو نشانہ بنانااخلاقی دیوالیہ پن کی بدترین مثال ہے، مرکزی مسلم لیگ اہل غزہ کے ساتھ ہے، کراچی میں شہدا غزہ کانفرنس میں شہری شریک ہو کر اس امر کا ثبوت دیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ اسرائیل کے خلاف کھڑا ہے.

    قاری محمد یعقوب شیخ کا کہنا تھا کہ جب یورپی یونین جیسے عالمی ادارے اور ان کی اعلیٰ عہدیدار کایا کالاس خود اعتراف کر رہی ہے کہ اسرائیل نے تمام اخلاقی اور انسانی حدیں پار کر لی ہیں، تو مسلم دنیا کو اب بھی اور کیا ثبوت چاہیے، یورپ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر سکتا ہے، تو مسلم حکمران کیوں خاموش ہیں ،اقوام متحدہ اور عالمی عدالتِ انصاف اسرائیل کے خلاف فوری جنگی جرائم کا مقدمہ قائم کریں،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلا کر مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے۔

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا جنوبی رفح پر قبضہ، اور غزہ کے 30 فیصد حصے کو سیکیورٹی بفر زون میں بدلنا، صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کو ان کی زمین سے مکمل بےدخل کرنا چاہتا ہے،ہم اہل غزہ کے ساتھ کھڑے ہیں،ان کی تکلیف ہماری ہے،اہل غزہ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی.

  • پولیس وردی کی تضحیک،ٹک ٹاکر کاشف ضمیر گرفتار

    پولیس وردی کی تضحیک،ٹک ٹاکر کاشف ضمیر گرفتار

    پولیس یونیفارم کی تضحیک کے معاملے میں ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کو گرفتار کر لیاگیا ہے

    پولیس ذرائع کاکہنا ہے کہ کاشف ضمیر کو لاہور سے باہر سے گرفتار کیاگیا، ٹک ٹاکرکو لاہور منتقل کیا جارہا ہے، کاشف ضمیر کے خلاف تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں مقدمہ درج ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاکر کے خلاف پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔

    سوشل میڈیا پر پولیس یونیفارم کی تضحیک کرنے کے معاملہ پیش آیا تھا، ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے سوشل میڈیا پر پولیس وردی کا تمسخر اڑایا، پولیس کی جانب سے ٹک ٹاکر کاشف ضمیر اور پولیس اہلکار کے خلاف 2 مقدمات درج کرلئے گئے۔ایف آئی آر کے مطابق کاشف ضمیر نے پولیس کی وردی پہنے اہلکار کے ہمراہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں جن میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کی ساکھ مجروح کرنے والی حرکات کی گئیں تھیں۔مقدمات میں پیکا ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا کہ کاشف ضمیر نے تقریب میں پولیس اہلکار کو نوٹوں سے بھری تھال تھمائی تھی، پولیس حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹک ٹاکر نے پولیس کا مذاق اڑایا بلکہ قانون کی بالادستی کو چیلنج کرنے کی کوشش بھی کی۔اس واقعے کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی، ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی حرکتیں عوام میں پولیس کے وقار اور اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہیں، جو قانونا ناقابل قبول اور قابل سزا جرم ہے۔

  • کسی اور کے ساتھ ایسا ہوتا تو بھاگ جاتے،ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں، زرتاج گل

    کسی اور کے ساتھ ایسا ہوتا تو بھاگ جاتے،ہم ڈٹ کر کھڑے ہیں، زرتاج گل

    تحریکِ انصاف کی رہنما زرتاج گل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اگر کسی اور جماعت کے ساتھ ہوتا تو وہ فوراً اس صورتحال سے بھاگ جاتے۔

    انہوں نے یہ بات گوجرانوالہ میں اے ٹی سی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔زرتاج گل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ساتھ ہر جگہ جبر اور فسطائیت کا سامنا ہے، اور ہم میں سے ہر فرد بانیٔ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہونے کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی کی بہنوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، وہ نہ صرف پاکستان بلکہ سیاست کے لیے بھی افسوسناک ہے۔زرتاج گل نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ کسی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں جتنے مرضی کیسز کر لیں، ہم نے بانیٔ پی ٹی آئی کا ساتھ نہیں چھوڑنا۔”انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں انہیں اور دیگر رہنماؤں کو کئی گھنٹوں تک محصور رکھا گیا، جس کے باعث عمر ایوب کی طبعیت بھی خراب ہو گئی۔زرتاج گل نے کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی کی رہائی ہوگی، تو یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہوگا اور اس دن کا تعلق ملک کی سیاست میں ایک نئی تبدیلی سے ہوگا۔