Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • برطانیہ میں خواجہ سرا خواتین کی جامہ تلاشی اب مرد پولیس اہلکار لیں گے

    برطانیہ میں خواجہ سرا خواتین کی جامہ تلاشی اب مرد پولیس اہلکار لیں گے

    برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اعلان کیا ہے کہ اب ان کی حراست میں موجود ٹرانس خواتین کی جامہ تلاشی مرد اہلکار لیا کریں گے، نہ کہ خواتین اہلکار۔ یہ عبوری پالیسی اس وقت نافذ کی گئی ہے جب فورس عدالت کے فیصلے کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس پر عملدرآمد کا جائزہ لے رہی ہے۔

    بدھ کے روز سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ "عورت” کی تعریف Equality Act 2010 میں "حیاتیاتی عورت” یعنی پیدائش کے وقت کا حیاتیاتی جنس مراد ہے، نہ کہ خود کو شناخت کرنے والی جنس۔برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا،”پچھلی پالیسی کے تحت، جس شخص کے پاس Gender Recognition Certificate (GRC) ہو، اسے اُس کی شناخت شدہ جنس کے مطابق تلاشی دینے یا لینے کی اجازت تھی۔ لیکن اب، عدالت کے فیصلے کے تناظر میں، ہم نے ہدایت دی ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی تلاشی اُن کی پیدائشی جنس کے مطابق لی جائے گی۔”پولیس جو برطانیہ کے ریلوے نظام اور متعلقہ ٹرانسپورٹ نظاموں کی حفاظت کا ذمہ دار ادارہ ہے، نے ستمبر 2024 میں اپنی پالیسی جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ تلاشی صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے اگر افسر اور زیر حراست فرد کی جنس پیدائش یا GRC کے مطابق ایک ہو۔

    "جامہ تلاشی” ایک ایسا عمل ہے جس میں زیر حراست فرد کے کپڑوں کی مکمل تلاشی لی جاتی ہے، جس میں کوٹ، دستانے، جوتے، اور سر ڈھانپنے والی اشیاء کے علاوہ بھی لباس اتروایا جاتا ہے، جس سے پچھلا حصہ ، جنسی اعضا اور خواتین کی چھاتی نمایاں ہو سکتی ہیں۔

    ٹرانس پالیسی کے خلاف ‘سیکس میٹرز’ نامی مہم نے دسمبر میں ہائی کورٹ میں عدالتی نظرثانی کی درخواست دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی زیر حراست افراد کو جنسی ہراسانی اور جنسی حملے کے خطرے سے دوچار کرتی ہے، اور انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کے آرٹیکل 3 کی خلاف ورزی ہے، جو "اذیت ناک، غیر انسانی یا تحقیر آمیز سلوک” سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ہ اس پالیسی سے خواتین اہلکاروں کو بھی خطرناک اور شرمندہ کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر جب اُن پر مردوں کی تلاشی لینے کے لیے دباؤ ڈالا جائے جو خود کو عورت ظاہر کرتے ہوں۔

    سپریم کورٹ کے جسٹس لارڈ ہوج نے کہا کہ اس فیصلے کو معاشرے کے کسی ایک طبقے کی دوسرے پر فتح نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ قانون کی درست تشریح ہے۔برطانوی وزیر، کارِن اسمیت، نے کہا کہ پبلک باڈیز کو اس فیصلے کے بعد اپنی رہنمائی پر نظرِ ثانی کا کہا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا”ہم چاہتے ہیں کہ ادارے جلدبازی میں ایسے بیانات نہ دیں جو عوام کو پریشان کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ سکون سے، احتیاط سے، اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیں۔”

    برطانوی مساوات و انسانی حقوق کمیشن کی چیئر، بیرونس کشور فالکنر نے کہا”اب اس میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا کہ قانونی طور پر ‘عورت’ سے مراد پیدائشی حیاتیاتی عورت ہی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل ہیلتھ سروس کو بھی اپنی 2019 کی پالیسی کو بدلنا پڑے گا، جس کے مطابق ٹرانسجینڈر مریضوں کو اُن کی شناخت کے مطابق ایک جنس والے وارڈ میں رکھا جاتا ہے۔

  • بحریہ ٹاؤن کی بااثر شخصیت کے بچے کو نقل کروانے والا امتحانی عملہ گرفتار

    بحریہ ٹاؤن کی بااثر شخصیت کے بچے کو نقل کروانے والا امتحانی عملہ گرفتار

    وزیر تعلیم پنجاب کا مختلف امتحانی سنٹرز کا دورہ، بوٹی مافیا کا ایک اور نیٹ ورک پکڑ لیا ۔بحریہ ٹاؤن کی بااثر شخصیت کے بچے کو نقل کروانے والا امتحانی عملہ علی رضا آباد ہائی سکول سے گرفتار کر لیا گیا

    وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے رائیونڈ روڈ کے مختلف امتحانی سنٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نہم جماعت کے جاری امتحانی عمل اور دیگر امور کا جائزہ لیا۔ وزیر تعلیم نے مخبری پر گورنمٹ بوائز ہائی سکول علی رضا آباد میں نقل کرتے طالب علم کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ امتحانی سنٹر میں امیدوار ابوبکر ہاشمی گاڑی میں بیٹھ کر پرچہ حل کر رہا تھا۔ سنٹر کا عملہ اور پرنسپل بھی امیدوار کی سرپرستی میں ملوث نکلا، وزیر تعلیم نے کہا کہ امیدوار نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن کے مالک کے پی ایس او عمران ہاشمی کا بیٹا ہے جس کی گاڑی سنٹر کے اندر آ کر بچے کو پیپر حل کرواتی تھی۔ وزیر تعلیم نے پرنسپل سمیت سنٹر کا پورا عملہ گرفتار اور تبدیل کروا دیا۔ ایف آئی آر بھی درج کروا دی گئی۔ وزیر تعلیم نے ملوث عملہ کے خلاف محکمانہ کاروائی کا حکم دیتے ہوئے پیڈا ایکٹ لگانے اور ملازمت سے برخاست کرنے کی بھی ہدایت کی۔

    صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے معاملے کی مخبری کرنے والے ٹیچر کو 4 بیسک تنخواہیں اور تعریفی سند دینے کا اعلان بھی کیا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ شخصیت طاقتور ہو یا کمزور، بوٹی مافیا کے خلاف زیرو ٹالیرنس ہے۔ اس ضمن میں کسی طالبعلم کو کسی کا حق مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نقل مافیا کا آخر تک پیچھا کریں گے

  • ٹیکسٹائل انڈسٹری کی علاقائی جنگ کا شاخسانہ،روم میں چینی جوڑے کاقتل

    ٹیکسٹائل انڈسٹری کی علاقائی جنگ کا شاخسانہ،روم میں چینی جوڑے کاقتل

    اٹلی کے دارالحکومت روم میں پیر کی شب ایک چینی جوڑے کو بہیمانہ انداز میں قتل کر دیا گیا۔ اطالوی پولیس کے مطابق اس واقعے کے پیچھے چینی مافیا گروہوں کے درمیان تیزی سے پھیلتی ہوئی جنگ کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جس کا تعلق یورپ کے ٹیکسٹائل سیکٹر، خصوصاً صنعت سے ہے۔

    پولیس کے مطابق 53 سالہ ژانگ دایونگ (Zhang Dayong) اور ان کی 38 سالہ اہلیہ گونگ شیاوچنگ (Gong Xiaoqing) کو اُس وقت گولی مار کر قتل کیا گیا جب وہ روم کے ضلع پیگنیٹو میں سائیکل پر جا رہے تھے۔ حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھے اور انہوں نے دونوں کو سر کے پچھلے حصے پر گولیاں ماریں۔ جائے وقوعہ سے کم از کم چھ گولیوں کے خول برآمد ہوئے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ قتل چینی مافیا گروہوں کے درمیان ہونے والی ایک خفیہ جنگ "وار آف ہینگرز” کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کا مرکز اطالوی شہر پراتو ہے، جو فاسٹ فیشن انڈسٹری کا گڑھ مانا جاتا ہے۔ اس جنگ میں متعدد جرائم، بشمول حملے، آتشزدگی، اور اب قتل، رپورٹ ہو چکے ہیں۔

    ژانگ دایونگ، جنہیں عرف عام میں "آشنگ” کہا جاتا تھا، فلورنس میں جاری ایک بڑے مقدمے میں زیرِ سماعت تھے۔ اس مقدمے میں اُن سمیت 78 افراد پر الزام ہے کہ وہ اٹلی، فرانس، جرمنی، اور اسپین میں پھیلے مجرمانہ نیٹ ورک کو چلا رہے تھے۔ ژانگ کو یورپ میں ایک طاقتور چینی مافیا گروہ کا دوسرا بڑا لیڈر سمجھا جاتا تھا۔ وہ اگلے چند ہفتوں میں عدالت میں گواہی دینے والے تھے۔یہ مقدمہ "چائنا ٹرک” نامی 2018 کی ایک بڑی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جو اطالوی انسدادِ مافیا ڈائریکٹوریٹ کی نگرانی میں کی گئی تھی۔ اس تحقیقات کا محور انسانوں اور ٹیکسٹائل کی یورپ بھر میں غیرقانونی اسمگلنگ تھی۔

    حکام کے مطابق یہ قتل غالباً انتقامی کارروائی ہے اور چینی مافیا گروہوں کے درمیان اتحاد ٹوٹنے کی علامت ہو سکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مافیا کی آپس کی "ٹرف وار” کا نیا موڑ ہو سکتا ہے۔

  • آرمی چیف کا خطاب پاکستان کی وحدت،نظریاتی اساس کے تحفظ کی مضبوط آواز تھا،حافظ طلحہ سعید

    آرمی چیف کا خطاب پاکستان کی وحدت،نظریاتی اساس کے تحفظ کی مضبوط آواز تھا،حافظ طلحہ سعید

    امن و امان کا قیام ضروری ،فارن انویسمنٹ سے معیشت میں استحکام آئے گا.حافظ طلحہ سعید

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے کہا ہے کہ اوورسیز کنونشن میں آرمی چیف کا خطاب پاکستان کی وحدت، استحکام اور نظریاتی اساس کے تحفظ کی مضبوط آواز تھا،پاکستان کی سیکورٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے،پاکستان میں امن و امان کا قیام ضروری ہے،فارن انویسمنٹ آنے سے پاکستان کی معیشت میں استحکام آئے گا.

    حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی و بین الاقوامی حالات میں آرمی چیف کا دوٹوک موقف قوم کے لیے حوصلہ افزا ہے ، ملک میں امن و امان کا قیام معاشی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے کی بنیاد بنتی ہے،پاکستان میں سیاسی استحکام اور امن ہوگا تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے اعتماد محسوس کریں گے، جس سے معیشت میں بہتری آئے گی، وطن عزیز پاکستان کو جن چیلنجز کا سامنا ہے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ان پر شاندار گفتگو کی ہے ،آرمی چیف کا خطاب نہ صرف قومی غیرت و حمیت کا عکاس بلکہ ہر محب وطن پاکستانی کی آواز تھا، دنیا بھر میں مقیم پاکستانی درحقیقت وطن عزیز کے سفیر ہیں، آرمی چیف کی طرف سے ان کی خدمات کو سراہنا ان کے حوصلے بلند کرنے کا ذریعہ بنے گا،

    حافظ طلحہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے خلاف آرمی چیف کی دو ٹوک گفتگوسے قوم کو مثبت پیغام ملا ہے ،مٹھی بھر شرپسند عناصر پاکستان کے روشن مستقبل کو داغدار نہیں کر سکتے،پاکستانی قوم اپنی افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے۔پاکستان مرکزی مسلم لیگ افواج پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ ہم ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر محاذ پر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

  • پاکستانی سیکریٹری خارجہ کی بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر سے ملاقات

    پاکستانی سیکریٹری خارجہ کی بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر سے ملاقات

    بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے، باہمی تعاون کو فروغ دینے اور تجارتی و کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ "کچھ رکاوٹیں ضرور ہیں، لیکن ہمیں ان پر قابو پانے کے لیے راستے تلاش کرنے ہوں گے اور آگے بڑھنا ہوگا۔”

    یہ بات انہوں نے پاکستانی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں ملاقات کے دوران کہی۔آمنہ بلوچ، جو کہ گزشتہ 15 سالوں میں بنگلادیش کا دورہ کرنے والی پہلی پاکستانی سیکریٹری خارجہ ہیں، نے اس ملاقات میں کہا”ہمیں دونوں ممالک کے درمیان موجود صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔ ہم ہر بار یہ موقع ضائع نہیں کر سکتے۔”انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور بنگلادیش کے نجی شعبوں کے درمیان باقاعدہ "بزنس ٹو بزنس” (B2B) رابطوں اور ہر سطح پر تبادلوں کی ضرورت ہے۔

    چیف ایڈوائزر کے پریس ونگ کے مطابق، جنوری 2025 میں ایف پی سی سی آئی کے ایک وفد نے بنگلادیش کا دورہ کیا اور ایف بی سی سی آئی کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

    پاکستانی سیکریٹری خارجہ نے امید ظاہر کی کہ اپریل کے آخر میں پاکستانی ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔چیف ایڈوائزر پروفیسر یونس نے کہا کہ وہ ہمیشہ خطے کے ہمسایہ ممالک خصوصاً پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے حامی رہے ہیں، خاص طور پر سارک کے فریم ورک میں۔انہوں نے تجویز دی کہ نوجوانوں اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دیا جانا چاہیے،
    "ہم طویل عرصے سے ایک دوسرے سے کٹے رہے ہیں۔ ہمیں ان رکاوٹوں پر قابو پانا ہوگا۔”پروفیسر یونس نے یاد دلایا کہ ان کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں ستمبر 2024 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر اور دسمبر 2024 میں قاہرہ میں ڈی-8 سربراہی اجلاس کے دوران ہوئیں، جنہیں انہوں نے باہمی تعلقات میں پیش رفت کی کنجی قرار دیا۔

    دوسری جانب، بنگلادیش نے پاکستان کے ساتھ تاریخی طور پر حل نہ ہونے والے اہم معاملات بھی دوبارہ اٹھائے، جن میں 1971 کی جنگ میں ہونے والے مظالم پر باقاعدہ معافی، 4.5 بلین ڈالر کی واجب الادا رقم کی ادائیگی، اور 3 لاکھ سے زائد پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی شامل ہیں۔بنگلادیش کے سیکریٹری خارجہ جشیم الدین نے وزارتِ خارجہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ان معاملات کا حل ہماری باہمی تعلقات کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔”انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان زیر التوا معاملات پر بات چیت جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    بنگلادیش اور پاکستان کے درمیان فارن آفس کنسلٹیشنز کا انعقاد اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس پدما میں ہوا، جو 2010 کے بعد پہلا باضابطہ اجلاس تھا۔ ان مشاورتی اجلاسوں کی قیادت دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ جشیم الدین اور آمنہ بلوچ نے کی۔اجلاس میں بنگلادیش کی وزارت خارجہ کی ساؤتھ ایشیا ونگ کی ڈائریکٹر جنرل عشرت جہاں اور دونوں ممالک کے ہائی کمشنرز بھی شریک ہوئے۔پاکستان نے اس اجلاس کی تجویز دی تھی تاکہ ڈھاکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کیا جا سکے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار 27 اور 28 اپریل کو بنگلادیش کا دورہ کریں گے، جو 2012 کے بعد کسی پاکستانی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ ہوگا۔بنگلادیشی سیکریٹری خارجہ نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں بھی شروع ہوں گی، جس سے عوامی سطح پر روابط مزید فروغ پائیں گے۔

  • آزاد کشمیر میں دہشتگردوں  کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب،وزیر داخلہ کا انکشاف

    آزاد کشمیر میں دہشتگردوں کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب،وزیر داخلہ کا انکشاف

    شرپسند عناصر کی جانب سے آزاد کشمیر کے امن کو تباہ کرنے کا گھناؤنا منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے

    اس حوالے سے آزاد کشمیر کے وزیر داخلہ وقار نور اور آئی جی رانا عبدالجبار نے اہم پریس کانفرنس کی ہے،وزیر داخلہ آزادکشمیر وقار نور کے مطابق ’’آزاد کشمیر میں حقوق کی آڑ میں کچھ شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کیلئے کارفرما ہیں‘‘27اکتوبر 2024ءکو شجاع آباد چیک پوسٹ پر فائرنگ کے واقعے میں کانسٹیبل سجاد ریشم شہید ہوئے،اس اندوہناک واقعہ کے بعد تفتیش کا آغاز کیا گیا جس میں کچھ مشکوک عناصر کی شناخت ہوئی،اس واقعے میں زرنوش نسیم عرف قاسم، اسامہ عرف محمد، اور ہنزلہ عرف الفت مطلوب ملزمان کے طور پر سامنے آئے،19مارچ 2025 کو آزاد پتن انٹری پوائنٹ پر ثاقب غنی کو بھاری اسلحے سمیت گرفتار کیا گیا،ثاقب غنی نے دورانِ تفتیش زرنوش اور دیگر شرپسند عناصر سے روابط کا اعتراف کیا، ملزمان نہ صرف سجاد ریشم کے قتل میں ملوث ہیں بلکہ تھانہ سٹی باغ کو آگ لگانے کی کوشش میں بھی شامل رہے،ملزمان نے اس کے علاوہ موٹروے پولیس اسلام آباد اور سنگجانی ٹول پلازہ پر بھی حملے کیے،تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ حساس مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، اسامہ نے اصل مقاصد کا ادراک ہونے پر رضاکارانہ طور پر خود کو قانون کے حوالے کیا، جس کی نشاندہی پر گرنیڈ اور پستول برآمد ہوئے،دورانِ تفتیش ملزمان نے آزاد کشمیر میں متعدد تخریبی کارروائیوں کا اعتراف کیا،گرفتار ملزمان نے اپنے ویڈیو بیانات میں پورے نیٹ ورک کا اعتراف کیا ہے، ایک اور اہم کردار، غازی شہزاد، راولاکوٹ جیل سے فرار ہے جس کے افغانستان میں دشمن ایجنسیوں سے روابط کی تصدیق ہو چکی ہے، افغانستان میں موجود عبدالرؤف نامی دہشتگرد فتنہ الخور اج کے ساتھ مل کرسادہ لوح نوجوانوں کو جہاد اور شریعت کے نام پر گمراہ کررہاہے ،

    وزیر داخلہ آزاد کشمیر وقار نور نے کہا کہ ’’ہماری معلومات کے مطابق بھارت کی جانب سے کچھ شرپسند عناصر کو پناہ ، مالی معاونت اور دہشتگردی کی تربیت دی جا رہی تھی‘‘گزشتہ کچھ عرصہ سے آزاد کشمیر میں ہونے والے شرپسندانہ واقعات کی منصوبہ بندی کے ثبوت ہمارے موجود ہیں،ان شرپسندانہ واقعات میں ملوث سہولت کاری کرنے والے عناصرکیخلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے،آزاد کشمیر میں قائم امن کے پیچھے ہمارے سکیورٹی اداروں کی محنت کارفرما ہے، عوام کو چاہئے کہ ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہر قسم کے انتشاری عوامل پر نظر رکھیں اور قانون نافذ کرنے اداروں کے ہاتھ مضبوط کریں،آزاد کشمیر پرامن خطہ تھا، ہے اور انشاء اللہ رہے گا،

  • فلوریڈا یونیورسٹی میں فائرنگ ، چھ افراد زخمی، حملہ آور گرفتار

    فلوریڈا یونیورسٹی میں فائرنگ ، چھ افراد زخمی، حملہ آور گرفتار

    فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں جمعرات کے روز ایک افسوسناک اور خوفناک واقعے میں فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے، جن میں مشتبہ حملہ آور بھی شامل ہے۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے

    یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق، فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس 485.7 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور مجموعی طور پر 1,715.5 ایکڑ رقبے پر محیط ہے، جس میں 403 عمارتیں شامل ہیں۔ یہاں پر خزاں 2024 میں 42,507 طلباء زیر تعلیم تھے۔واقعہ آج دوپہر اسٹوڈنٹ یونین کے علاقے میں پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اچانک گولیوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد طلباء میں بھگدڑ مچ گئی۔ طالب علم کرس مالاوے، جو اس وقت اسٹوڈنٹ سینٹر میں لنچ کر رہے تھے، نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز "انتہائی تیز اور لگاتار” تھی۔ انہوں نے خوفزدہ ہو کر جھاڑیوں میں پناہ لی۔فائرنگ کے فوری بعد پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی پہنچی۔ طالب علم برائس وینس، جو اکاؤنٹنگ کلاس میں موجود تھے، نے بتایا کہ انہوں نے تقریباً 30 پولیس گاڑیاں اور افسران کو کیمپس میں آتے دیکھا۔ طلباء کو فوری طور پر کلاس رومز میں محفوظ رہنے کی ہدایت دی گئی۔

    وینس کے مطابق، "صورتحال بے حد ہنگامہ خیز اور خوفناک تھی، کئی طلباء روتے ہوئے اپنے پیاروں کو فون کر رہے تھے تاکہ انہیں اپنی خیریت سے آگاہ کر سکیں۔”ایک اور طالب علم گیریٹ ہاروی نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی کی سڑک کے پار موجود تھے جب انہوں نے طلباء کو دوڑتے ہوئے دیکھا اور پولیس سائرن سنے۔ "میں نے فوراً دروازہ بند کیا اور شیلٹر ان پلیس کی ہدایت پر عمل کیا۔”ہاروی نے مزید کہا: "یہ ایک ایسا تجربہ ہے جس کا سامنا طلباء کو نہیں کرنا چاہیے۔ ہم یہاں تعلیم، دوستی اور یادیں بنانے آتے ہیں، نہ کہ ایسے المناک واقعات دیکھنے۔”

    پولیس ذرائع کے مطابق، حملے میں استعمال ہونے والی بندوق ایک شاٹ گن تھی جو واقعے کے بعد اسٹوڈنٹ یونین میں سے برآمد ہوئی۔ حملہ آور کی شناخت اور حملے کے محرکات کے بارے میں تاحال تحقیقات جاری ہیں۔

    مارجوری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول میں 2018 کے فائرنگ کے واقعے میں اپنی بیٹی کھونے والے فریڈ گٹن برگ نے سوشل میڈیا پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، "میں حیران نہیں ہوں۔ میری بیٹی کے کچھ دوست فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، اور آج کے واقعے میں ایک بار پھر نشانہ بنے۔”

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس واقعے سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے کہا کہ "صدر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایجنسیز ایک دوسرے سے تعاون کر رہی ہیں۔”ٹیلاہاسی میموریل ہیلتھ کیئر نے تصدیق کی ہے کہ وہ فائرنگ کے زخمیوں کو علاج کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔ تاہم، زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں طلباء اور عملے سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو اپنی خیریت سے مطلع کریں اور صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اجازت کے بعد ہی کلاس رومز یا اسٹوڈنٹ یونین واپس جائیں۔

  • برطانوی عدالت میں عادل راجہ پر مزید جرمانہ

    برطانوی عدالت میں عادل راجہ پر مزید جرمانہ

    برطانیہ کی رائل کورٹ نے ہتک عزت کیس میں پاکستان کے متنازع ترین یوٹیوبر ،پاک فوج کے بھگوڑے عادل راجپ پر مزید 6 ہزار 100 پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کردیا۔

    عدالت کی سماعت کے موقعے پر مدعی بریگیڈیئر(ر) رشید نصیر بھی شریک تھے۔عدالت نے عادل راجہ پر مزید 6100 پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا جو 14 دن کے اندر ادا کرنا ہوگا۔اس طرح عادل راجہ پر اب تک کل 29 ہزار 100 پاؤنڈ کا جرمانہ عائد ہوا ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت جون میں ہوگی۔

    عادل راجہ کے خلاف مختلف الزامات کے تحت فوجی افسر نے اگست 2022 میں برطانیہ کی عدالت میں ہتک عزت سے متعلق مقدمہ دائر کیا تھا جو عادل راجہ ہارگئے تھے اور عدالت نے ان پر 10 ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کردیا تھا، برطانوی عدالت نے ہتک عزت کیس پر حکم امتناع اور سیکیورٹی اخراجات کی مد میں 10 ہزار پاؤنڈ کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ عادل راجہ نے اپنی ایکس، فیس بک اور یوٹیوب کی 9 پبلیکیشنز میں بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر کی ہتک کی،

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین دو طرفہ فارن آفس مشاورت کا سلسلہ 15 برس بعد بحال

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین دو طرفہ فارن آفس مشاورت کا سلسلہ 15 برس بعد بحال

    پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان دو طرفہ فارن آفس مشاورت کا سلسلہ 15 سال کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ بحال ہو گیا ہے۔ یہ اجلاس آج ڈھاکا میں منعقد ہوگا، جس میں دونوں ممالک کے خارجہ سیکرٹری اپنے اپنے وفود کی قیادت کریں گے۔

    بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق پاکستان کی خارجہ سیکرٹری، آمنہ بلوچ، گزشتہ روز ڈھاکا پہنچ چکی ہیں تاکہ اس مشاورتی اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ اجلاس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال، اور دو طرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔یہ اجلاس پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان تعلقات میں ایک نئے دور کی ابتدا کی علامت ہے، جس میں دونوں ممالک کے حکام کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان اس مشاورت کا دوبارہ آغاز دونوں ممالک کے سیاسی، اقتصادی، اور ثقافتی تعلقات کے حوالے سے اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

    اس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف مسائل پر بات چیت کی جائے گی، جن میں سیکیورٹی، تجارت، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعلقات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کے حکام اس بات پر بھی توجہ مرکوز کریں گے کہ کس طرح مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ، اسحاق ڈار، اپریل کے آخری ہفتے میں بنگلا دیش کا دورہ کرنے والے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آنے والی ہے۔

    یہ اجلاس نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کا ذریعہ بنے گا بلکہ اس کے ذریعے دونوں ممالک علاقائی اور عالمی سطح پر بھی اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

  • 9مئی،اعجاز چوہدری ضمانت کیس،سپریم کورٹ کی پولیس کو مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت

    9مئی،اعجاز چوہدری ضمانت کیس،سپریم کورٹ کی پولیس کو مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت

    سپریم کورٹ، 9 مئی مقدمات میں اعجاز چودھری کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    عدالت نے عجاز چودھری کی درخواست ضمانت پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پراسیکیوٹر سےسوال کیا کہ اعجاز چودھری کیخلاف کیا شواہد ہیں؟ ا سپیشل پراسیکیوٹر نےکہا کہ اعجاز چودھری کی ویڈیو موجود ہے جس میں لوگوں کو اکسا رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اعجاز چودھری کی کوئی ویڈیو ہے؟ دوران سماعت پولیس نےپیمرا کاریکارڈپیش کیا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ بیشک انٹرویو ہے آپ کاموکل نوجوانوں کو اکسارہاتھا،جسٹس شفیع صدیقی نے کہا کہ ایک انٹرویو 17مئی، ایک آڈیو10مئی کی ہے، جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ اکسانے کاکیس ہے تو 9 مئی یا اس سے پہلے کا کوئی ثبوت دکھائیں، عدالت نے پولیس کو مزید شواہد پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی

    جس نے 9مئی کو آگ لگائی اس پر پراسیکیوشن کیساتھ ہیں،چیف جسٹس
    9 مئی شیخ امتیاز،حافظ فرحت عباس ضمانت کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا شیخ امتیاز کی اکسانے کی کوئی ویڈیو موجود ہے۔وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ پیمرا سمیت تمام ریکارڈ موجود ہے، ویڈیو کا فرانزک بھی کرایا ہے۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ یہ ویڈیو نہیں آڈیو ہے۔ جس نے 9مئی کو آگ لگائی اس پر پراسیکیوشن کیساتھ ہیں ضمانت کو نہ چھیڑیں وائس میچنگ کاملزم کا ٹیسٹ کروالیں ملزم وائس میچنگ ٹیسٹ یا تفتیشی کے سامنے پیش نہ ہو تو بے شک گرفتار کریں، سازش کے الزام پر کسی کو ایسے جیل نہ رکھیں،جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ سازش، اعانت، للکارا کیلئے ٹھوس شواہد ہونے چاہیں۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے4 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے حکم پر اعتراض کیا کبھی ایسا ہوا کہ چار ماہ میں ٹرائل مکمل ہو۔،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فاضل کونسل ایسا مت کہیں قانون روانہ انسداد دہشتگردی عدالت میں مقدمات کی سماعت کا کہتا۔

    نومئی مقدمہ،سپریم کورٹ سے امتیاز شیخ کی درخوست ضمانت قبل از گرفتاری منظور
    سپریم کورٹ نے امتیاز شیخ کی درخوست ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی ،عدالت نے حافظ فرحت عباسی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی ،عدالت نےحافظ فرحت کو آئندہ سماعت تک گرفتار نہ کرنے کا حکم برقرار رکھا