Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ کو زیادہ پانی دیے جانے کا پنجاب کا دعویٰ ارسا نے کیا مسترد

    سندھ کو زیادہ پانی دیے جانے کا پنجاب کا دعویٰ ارسا نے کیا مسترد

    اسلام آباد: انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے سندھ کو مقررہ حصے سے زیادہ پانی دیے جانے کی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پانی کی تقسیم ہمیشہ منصفانہ اور متفقہ فارمولے کے تحت کی جاتی ہے۔

    ارسا حکام کے مطابق، ابتدائی جائزے میں پنجاب حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ارسا ایک خود مختار ریگولیٹری ادارہ ہے جو تمام صوبوں کے ساتھ شفاف طریقے سے کام کرتا ہے اور پانی کی تقسیم میں نہ کسی کا حق مارا جاتا ہے، نہ کسی کو اضافی فائدہ دیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے پیر کے روز ارسا کو ایک باضابطہ خط لکھا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ خریف کی فصلوں کے لیے مجموعی طور پر 43 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود پنجاب کو اس کا مناسب حصہ نہیں دیا جا رہا۔ خط میں مؤقف اپنایا گیا کہ سندھ کو مقررہ حصے سے زیادہ پانی دیا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب کے کسانوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔پنجاب حکومت کے خط کے مطابق، ربیع کی فصلوں کے دوران بھی پنجاب کو 22 فیصد اور سندھ کو 19 فیصد کم پانی دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ سکھر بیراج پر رائس کینال کو مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر پانی دیا گیا جسے چھپانے کی کوشش کی گئی۔ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ ارسا کی ٹیکنیکل اور ایڈوائزری میٹنگز میں کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔خط میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ منگلا ڈیم پر دباؤ کم کرنے کے لیے تربیلا سے پنجاب کی نہروں کو پانی دیا جانا تھا، لیکن تربیلا سے پانی نہ ملنے کی وجہ سے منگلا سے اضافی پانی نکالنا پڑا، جو کہ غیر متوازن تقسیم کا باعث بن رہا ہے۔

    ادھر سندھ حکومت نے پنجاب کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ارسا کو لکھے گئے خط کو حقیقت کے منافی قرار دیا ہے۔ وزیر آبپاشی سندھ، جام خان شورو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت، پنجاب کی جانب سے ارسا کو لکھے گئے خط کو مسترد کرتی ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ سندھ کو اس کے حصے کا پانی 1991 کے معاہدے کے تحت دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اپریل کے پہلے 10 دنوں میں سندھ کے کینالز کو 62 فیصد پانی کی قلت کا سامنا رہا، جبکہ پنجاب کے کینالز کو 54 فیصد قلت برداشت کرنا پڑی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 1991 کے معاہدے کے تحت تمام صوبوں کو یکساں قلت برداشت کرنی ہے، اور سندھ کی زراعت خاص طور پر کپاس اور چاول کی کاشت کے لیے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔”ہم صرف پینے کا پانی فراہم کرنے کے قابل رہ گئے ہیں جبکہ پنجاب میں گندم کی کٹائی جاری ہے،” جام خان شورو نے کہا۔

    ارسا ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ پنجاب حکومت کی شکایت پر مکمل جائزہ لیا جا رہا ہے اور خط کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جائے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت پانی کی قلت ملک بھر میں ہے اور تمام صوبے اس کمی کو مشترکہ طور پر برداشت کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایک دوسرے پر الزام تراشی ملک میں مزید بے چینی پھیلانے کا باعث بن سکتی ہے۔ارسا ذرائع کے مطابق، پانی کی تقسیم ایک خودکار نظام کے تحت ہو رہی ہے، جس میں کسی صوبے کو مقررہ حصے سے زیادہ پانی ملنے کا امکان نہیں۔ تمام فیصلے 1991 کے آبی معاہدے اور موجودہ حالات کے مطابق کیے جاتے ہیں، اور ہر مرحلے پر شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

    یہ صورتحال پاکستان میں پانی کے نازک مسئلے اور بین الصوبائی تعلقات کی پیچیدگی کو اجاگر کرتی ہے۔ جب ملک کے مختلف حصے پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہوں، تو اس مسئلے کا حل الزام تراشی کے بجائے شفاف مکالمے اور مشترکہ حکمت عملی میں ہے۔

  • خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں راکٹ حملے سے 7 مزدور زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں راکٹ حملے سے 7 مزدور زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے علاقے وزیرآباد میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں راکٹ حملے کے نتیجے میں 7 مزدور زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ ریسکیو 1122 کی زیر تعمیر عمارت پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق راکٹ حملے کے وقت عمارت میں کام کرنے والے 7 مزدور زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ زخمیوں کی حالت میں کچھ نازک نوعیت کی تکلیف کی اطلاعات ہیں، تاہم ان کی حالت بہتر بتائی جارہی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ ایک منظم کارروائی کا حصہ ہو سکتا ہے، اور اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ابھی تک اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ یا تنظیم نے قبول نہیں کی، لیکن پولیس کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو پکڑا جا سکے۔

    وزیرآباد میں یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب ریسکیو 1122 کے اہلکار عمارت کی تعمیراتی کام میں مصروف تھے۔ پولیس نے مزید بتایا کہ عمارت کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچا ہے ،علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے فوراً علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

  • پائلٹ کا 7,500 فٹ کی بلندی پر شادی کی پیشکش کا منفرد طریقہ

    پائلٹ کا 7,500 فٹ کی بلندی پر شادی کی پیشکش کا منفرد طریقہ

    محبت کا پیغام اب آسمانوں میں پہنچ گیا ہے۔ کینساس کے ایک پائلٹ، ٹیری ولیمسن، نے اپنی گرل فرینڈ، ٹییلر برچم، کو ایک انوکھے انداز میں شادی کی پیشکش کی۔ وہ اپنے فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا بیس پر وہ پیشکش دکھا رہا تھا، جسے ٹییلر باقاعدگی سے چیک کرتی تھی تاکہ وہ اس کی حفاظت کو یقینی بنا سکے۔

    یہ پیشکش ٹیری نے ایک انتہائی دقیق منصوبہ بندی کے ساتھ تیار کی اور آسمان پر ایک خوبصورت راستہ بناتے ہوئے شادی کی پیشکش کی۔ اس کے لیے اسے 7,500 فٹ کی بلندی پر دو گھنٹوں تک تیز رفتار میں پیچ و خم بناتے ہوئے پرواز کرنی پڑی۔ اس دوران، وہ اپنی طیارے کی رفتار اور سمت کو بار بار تبدیل کرتا رہا تاکہ "کیا تم مجھ سے شادی کرو گی، ٹییلر؟” کے الفاظ کو آسمان میں ظاہر کر سکے۔

    ٹییلر برچم، جو اس وقت کافی شاپ میں کام کر رہی تھی، اپنی معمول کی فلائٹ ٹریکنگ چیکنگ کر رہی تھی جب اس نے اس پیشکش کو دیکھا۔ "میں ہمیشہ فلائٹ ریڈار چیک کرتی ہوں تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ وہ کہاں جا رہا ہے، کتنی تیز پرواز کر رہا ہے، اور اس کی بلندی کیا ہے، لیکن یہ تو بالکل غیر متوقع تھا،” ٹییلر نے مقامی نیوز چینل کو بتایا۔

    ٹیرری ولیمسن نے اس کارنامے کو اپنی زندگی کا سب سے مشکل پرواز قرار دیا اور کہا کہ اس نے روایتی skywriting پیشکشوں سے متاثر ہو کر یہ منصوبہ بنایا تھا، لیکن وہ چاہتا تھا کہ یہ کچھ مختلف ہو۔

    "جب میں دوسرے لفظ کے وسط تک پہنچا، تو مجھے یہ سمجھ آیا کہ آخر کیوں زیادہ تر skywriting پیغامات صرف ‘میری شادی کرو’ پر محدود ہوتے ہیں۔ اس دوران بہت زیادہ جی فورسز اور تیز موڑ تھے، اور یہ بہت تھکا دینے والا تھا۔ لیکن یہ سب کچھ اس کے قابل تھا،” ولیمسن نے کہا۔

    اس انوکھے اور دل کو چھو لینے والے پیغام نے دونوں کے لیے ایک یادگار لمحہ پیدا کیا، اور اگرچہ ابھی تک شادی کی تاریخ طے نہیں ہوئی، ٹیری کا ارادہ ہے کہ وہ ایک ایوی ایشن تھیم والے تقریب کا اہتمام کریں۔اس پرواز کے دوران پیغام واضح طور پر فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا بیس پر دکھائی دیا، لیکن فلائٹ ایویر پر یہ اتنا واضح نہیں تھا۔ یہ دو گھنٹوں پر محیط راستہ پراٹ سے ارلنگٹن تک 30 میل سے زیادہ پھیلا تھا۔

  • 15 سالہ طالب علم سے زیادتی کا الزام،خاتون استادکی میک اپ میں عدالت پیشی

    15 سالہ طالب علم سے زیادتی کا الزام،خاتون استادکی میک اپ میں عدالت پیشی

    الینوائے کی رہائشی 30 سالہ اسکول ٹیچر کرسٹینا فارمیلا پیر کی صبح عدالت میں پیش ہوئیں، جہاں اُن پر ایک 15 سالہ طالبعلم کے ساتھ مبینہ جنسی تعلقات کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    عدالت میں پیشی کے وقت، فارمیلا نے مکمل میک اپ اور اسٹائلش لباس میں آ کر سب کی توجہ حاصل کی، لیکن میڈیا سے کوئی بات نہ کی۔ ان کے ہمراہ ان کے وکیل اور شوہر مائیکل فارمیلا موجود تھے، جن کے بارے میں عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے اس مبینہ رشتے سے لاعلم تھے۔کرسٹینا فارمیلا نے عدالت میں تمام الزامات سے انکار کیا اور اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیا۔ ان کے شوہر، جو ان کے کالج کے دنوں کے ساتھی اور حالیہ شوہر ہیں، عدالت میں مکمل خاموش اور غیر جذباتی نظر آئے۔پراسیکیوٹرز نے عدالت میں کہا کہ اگر کرسٹینا فارمیلا پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں سیکس آفینڈر رجسٹری میں شامل ہونا پڑے گا۔

    ان کے سُسر، رینڈی فارمیلا، جو شکاگو کے نواح میں ایک اطالوی فوڈ مینوفیکچرنگ کمپنی "E. Formella and Sons” کے صدر ہیں، بھی عدالت میں موجود تھے۔ انہوں نے میڈیا کے سوالات کا کوئی جواب نہ دیا کہ وہ اپنی بہو کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔

    پراسیکیوٹرز کے مطابق، فارمیلا اور متاثرہ طالبعلم کے درمیان ایک ماہ پر مشتمل ناجائز تعلق تھا، جو اسکول کی کلاس روم میں جنسی تعلق پر ختم ہوا۔عدالت میں اگلی پیشی جمعہ کے روز ہوگی، جس میں میڈیا کوریج سے متعلق ایک درخواست پر بحث کی جائے گی۔

    کرسٹینا فارمیلا، جو ایک وقت کی کالج سوکر پلیئر تھیں، نے پچھلے سال مائیکل فارمیلا سے شادی کی، جو خود کالج بیس بال پلیئر تھے۔ شادی سے تقریباً چھ ماہ پہلے یہ مبینہ واقعہ پیش آیا۔ دونوں نے ایک ساتھ تعلیم حاصل کی اور وہیں سے ان کا تعلق شروع ہوا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق، کرسٹینا نے تفتیش کے دوران اپنے طالبعلم کو "سٹاکر” قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کا شوہر سب کچھ جانتا تھا۔ تاہم، پولیس کے بیانات کے مطابق، مائیکل کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ لڑکے کے بارے میں صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ ایک سوکر پلیئر ہے۔پولیس کو ملنے والی فارمیلا کی ڈائری اور فون میں موجود میسجز اور نوٹسز سے یہ تاثر ملا کہ وہ لڑکے سے تعلق ختم کرنا چاہتی تھیں، لیکن اس کا الزام بھی اسی پر ڈال رہی ہیں۔ایک مبینہ پیغام میں لکھا گیا،”تم نے ہمارا رشتہ برباد کیا۔ میں نے ہر بار تمہیں کہا کہ ہمیں الگ ہو جانا چاہیے، لیکن تم نے مجھے قائل کیا کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”عدالتی ریکارڈ کے مطابق، وہ یہ امید بھی رکھتی تھیں کہ مستقبل میں وہ دونوں دوبارہ ایک رشتہ قائم کریں گے،”ہم ایک دوسرے کی زندگیوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے اپنی زندگی جئیں گے۔”

    فارمیلا نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ "خوبصورت” ہیں۔ ان کے بقول، یہ ایک سازش ہے جس میں ان کا کیریئر اور ازدواجی زندگی دونوں تباہ ہو رہے ہیں۔

  • شوہر نے آٹھ ماہ کی حاملہ بیوی کو جھگڑے کے بعد قتل کر دیا

    شوہر نے آٹھ ماہ کی حاملہ بیوی کو جھگڑے کے بعد قتل کر دیا

    آندھرا پردیش ، وشاکھاپٹنم کے علاقے پی ایم پالم میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص نے اپنی آٹھ ماہ کی حاملہ بیوی کو مبینہ طور پر جھگڑے کے دوران گلا دبا کر قتل کر دیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    27 سالہ انوشا اور اس کے شوہر گیانیشر کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا۔ پولیس کے مطابق اسی دوران گیانیشر نے طیش میں آ کر انوشا کا گلا دبا دیا، جس سے وہ بیہوش ہو گئی۔ بعد ازاں ملزم نے اسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا، تاہم ڈاکٹروں نے انوشا کو مردہ قرار دے دیا۔واقعہ وشاکھاپٹنم کے اُدا کالونی علاقے میں پیش آیا۔ گیانیشر شہر کے اسکاوٹس اور ساگر نگر ویو پوائنٹ کے قریب ایک فاسٹ فوڈ سنٹر چلاتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جوڑا تین سال قبل لوو میرج کے بندھن میں بندھا تھا، لیکن شادی کے بعد سے ہی ان کے درمیان مختلف معاملات پر تنازعات چل رہے تھے۔

    بیوی کو قتل کرنے کے بعد، گیانیشر نے خود پولیس کے سامنے سرنڈر کر دیا۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے اور مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔اہلِ علاقہ اور رشتہ دار اس واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

  • بیوی کو زندہ جلا کر جیل سے بھاگنے والا بھارتی سابق فوجی 20 سال بعد گرفتار

    بیوی کو زندہ جلا کر جیل سے بھاگنے والا بھارتی سابق فوجی 20 سال بعد گرفتار

    نئی دہلی،ایک سنسنی خیز انکشاف میں، بھارتی فوج کے سابق اہلکار انیل کمار تیواری کو دہلی کرائم برانچ نے 20 سال بعد گرفتار کرلیا۔ انیل کمار اپنی بیوی کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا اور 2005 میں پیرول پر رہا ہونے کے بعد فرار ہوگیا تھا۔

    انیل کمار تیواری نے 1989 میں اپنی بیوی کو زندہ جلا کر قتل کردیا تھا، جس پر 31 مئی 1989 کو اسے گرفتار کیا گیا۔ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی۔ لیکن 21 نومبر 2005 کو دہلی ہائی کورٹ نے اسے دو ہفتوں کی پیرول پر رہا کیا، مگر وہ واپس جیل نہ لوٹا اور روپوش ہوگیا۔کرائم برانچ کی ٹیم نے حال ہی میں ٹیکنیکل اور مینوئل نگرانی کی مدد سے انیل کمار کی موجودگی کا سراغ الہ آباد (پریاگ راج) اور اس کے آبائی گاؤں کے آس پاس لگایا۔ اس معلومات کی بنیاد پر ٹیم نے 12 اپریل 2025 کو مدھیہ پردیش کے ضلع سدھی کے چرہٹ گاؤں میں چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کر لیا۔

    تفتیش کے دوران انیل کمار نے بتایا کہ وہ جانتا تھا کہ پولیس اس کی تلاش میں ہے، اس لیے اس نے کبھی موبائل فون استعمال نہیں کیا۔ وہ مسلسل اپنا ٹھکانہ اور کام کی جگہ بدلتا رہا۔ وہ بطور ڈرائیور کام کرتا تھا اور ہمیشہ نقد لین دین کرتا تاکہ اس کے خلاف کوئی الیکٹرانک ثبوت نہ مل سکے۔کرائم برانچ کے سینئر افسر آدتیہ گوتم کے مطابق، فرار کے دوران انیل کمار نے دوبارہ شادی کر لی اور اب اس کے چار بچے ہیں۔

    آدتیہ گوتم نے مزید بتایا کہ انیل کمار تیواری 1986 میں آرڈیننس کور یونٹ میں بطور ڈرائیور بھارتی فوج میں شامل ہوا تھا، لیکن سزا کے بعد اسے فوج سے برخاست کر دیا گیا۔دہلی پولیس نے اس گرفتاری کی اطلاع متعلقہ حکام کو دے دی ہے اور کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • گرین ڈے  کوچیلہ ، پہلی پرفارمنس، اسرائیل مخالف بیان نے توجہ حاصل کر لی

    گرین ڈے کوچیلہ ، پہلی پرفارمنس، اسرائیل مخالف بیان نے توجہ حاصل کر لی

    دنیا کے مشہور ترین میوزک فیسٹیول کوچیلا میں بینڈ کے مرکزی گلوکار بلی جو آرمسٹرونگ نے اپنے مشہور گانے کے بول تبدیل کرتے ہوئے "kids in America” کے بجائے "kids in Palestine” کہا، جس پر سامعین کی جانب سے زور دار خوشی کا اظہار کیا گیا۔ اس جملے نے فوراً سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا اور گرین ڈے کی پرفارمنس کا مرکز سیاست بن گیا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ بلی جو آرمسٹرونگ نے اسرائیل مخالف جذبات کا اظہار کیا ہو۔ ماضی میں، ملائیشیا میں ہونے والے ایک کنسرٹ کے دوران انہوں نے فلسطینی پرچم لہرایا تھا، جس پر بین الاقوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بلی جو نے بارہا انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اور فلسطین کے معاملے پر ان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔

    آرمسٹرونگ کے اس سیاسی بیان نے مداحوں میں دو طرح کی رائے پیدا کر دی۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو اس جملے کو ایک بہادرانہ قدم قرار دے رہے تھے، تو دوسری جانب کچھ افراد نے اس موقع پر سیاست لانے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ انٹرنیٹ پر گرما گرم بحث جاری ہے، اور گرین ڈے کے فینز اور مخالفین دونوں نے اپنی اپنی رائے کا بھرپور اظہار کیا۔

    کوچیلا فیسٹیول، جو اپنی موسیقی، تنوع اور عالمی فنکاروں کی موجودگی کے لیے جانا جاتا ہے، اس مرتبہ گرین ڈے کے سیاسی بیان کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ بلی جو کا جملہ نہ صرف ایک موسیقی محفل کو سیاسی بناتا ہے بلکہ عالمی سطح پر جاری تنازعات کو بھی سامنے لاتا ہے۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس بیان نے گرین ڈے کی پرفارمنس کو "اوورشیڈو” کر دیا، جبکہ دیگر کے نزدیک یہی بات انہیں مزید باوقار بناتی ہے۔

  • طلاق یافتہ خواتین کی مالی معاونت کے لیے ترمیمی بل کی منظوری

    طلاق یافتہ خواتین کی مالی معاونت کے لیے ترمیمی بل کی منظوری

    سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس کا مقصد "فیملی کورٹس (ترمیمی) بل 2024” پر غور کرنا تھا۔ یہ بل سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے 9 ستمبر 2024 کو سینیٹ اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔

    اجلاس میں تمام اراکین نے اس امر پر زور دیا کہ طلاق کے مقدمات کو جلد از جلد نمٹایا جائے، کیونکہ یہ کیسز اکثر فیملی کورٹس میں کئی سالوں تک زیرِ التوا رہتے ہیں، جس سے خواتین اور ان کے بچوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 90 فیصد خواتین کے پاس اپنی آزاد آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ عدالتوں میں طویل مقدمات کے دوران متاثرہ خواتین اور بچوں کو مالی سہولت فراہم نہ کرنا ایک سنگین زیادتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کو پہلے ہی دن عبوری مالی امداد کی رقم طے کرنی چاہیے تاکہ خواتین اور ان کے بچوں کو کم از کم بنیادی ضروریات پوری کرنے کا موقع مل سکے۔

    "فیملی کورٹس (ترمیمی) بل 2024” کی اہم شقوں میں شامل ہے کہ عدالت پہلے سماعت کے موقع پر ہی طلاق یافتہ خاتون اور اس کے بچوں کے لیے ماہانہ نان و نفقہ کی رقم مقرر کرے گی۔اگر مدعا علیہ (شوہر) ہر ماہ کی 14 تاریخ تک مقررہ رقم ادا نہ کرے، تو عدالت اس کی صفائی کا حق ختم کر دے گی اور مقدمہ یکطرفہ بنیاد پر فیصلہ کرے گی، بشرطیکہ درخواست گزار نے ثبوت اور دستاویزات پیش کیے ہوں۔وزارت قانون و انصاف کے ایڈیشنل سیکریٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پنجاب میں اس قسم کی ترامیم پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہیں، تاہم وفاقی سطح پر قانون سازی کا اختیار وزارت کے دائرہ کار میں ہے۔

    کنوینر سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے آئین کے آرٹیکل 35 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شادی، خاندان، ماں اور بچے کی حفاظت کرے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق یافتہ خواتین اور بچوں کو مالی مدد کے بغیر چھوڑ دینا ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے۔سینیٹر انوشہ رحمٰن احمد خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور بل کی مکمل حمایت کی۔ انہوں نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کو سراہا اور زور دیا کہ خواتین کی خودمختاری کے لیے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے۔اجلاس کے اختتام پر سینیٹر ضمیر حسین گھمرو اور سینیٹر انوشہ رحمٰن احمد خان نے بل کی مکمل حمایت کی۔ بل کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے متعلقہ کمیٹی کو ارسال کر دیا گیا تاکہ اسے سینیٹ کے ایوان میں پیش کیا جا سکے۔

  • پاکستان میں بڑھتے پولیو کیسز، وزیر صحت مصطفیٰ کمال پریشان

    پاکستان میں بڑھتے پولیو کیسز، وزیر صحت مصطفیٰ کمال پریشان

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہی ہے، اور وہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ کہیں پاکستان پولیو وائرس والے دنیا کا واحد ملک نہ رہ جائے۔

    پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پاکستان میں فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہے ہیں، مگر بعض والدین اپنے بچوں کو ان قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے پولیو کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیو اب صرف پاکستان اور افغانستان میں باقی رہ گیا ہے، اور حکومت اس سال دسمبر تک ملک سے پولیو کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس دفعہ پاکستان اور افغانستان میں پولیو کے خلاف مشترکہ مہم چلائی جائے گی جو ایک ہی دن شروع اور ختم ہوگی۔ مصطفیٰ کمال نے افغانستان کی پولیو مہم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت نے پولیو کے خلاف اچھی اور فعال مہم شروع کی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔

    وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس سال پاکستان میں پولیو کے 6 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ کینسر اور ایچ آئی وی جیسے امراض کا علاج موجود ہے، لیکن پولیو کا کوئی علاج نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب بھی پولیو کا وائرس سیوریج میں موجود ہے، جو ملک کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جب بھارت کے ساتھ کرکٹ میچ ہو تو پوری قوم متحد ہو جاتی ہے، اور انہیں اُمید ہے کہ پولیو کے خلاف بھی قوم کا اتحاد قائم رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پولیو ویکسین یونیسف سے خریدتا ہے، اور اس ویکسین میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ پاکستان جلد پولیو سے نجات حاصل کر لے گا۔وزیر نے بتایا کہ وزارت کا چارج لینے کے بعد انہوں نے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے بات کی تھی، اور سب نے پولیو کے خلاف بہترین ردعمل دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وزیر صحت کو جلد فون کر کے پولیو کے بارے میں ایک میٹنگ بلانے کی تجویز دی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پولیو کے خلاف سنجیدہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام تر اقدامات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان پولیو وائرس کا شکار واحد ملک نہ بنے، اور یہ عزم ہے کہ جلد پاکستان کو پولیو سے پاک کر دیا جائے گا۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس: ارمغان کے لیپ ٹاپ سے اہم شواہد مل گئے

    مصطفیٰ عامر قتل کیس: ارمغان کے لیپ ٹاپ سے اہم شواہد مل گئے

    اسلام آباد: مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات میں ایک نیا موڑ آیا ہے، جب ملزم ارمغان کے لیپ ٹاپ سے بین الاقوامی فراڈ گروپ کے بارے میں اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انسداد دہشتگردی عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کر دی، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ارمغان اور اس کے والد کامران قریشی نے ایک جعلی کمپنی قائم کر رکھی تھی جس کا مقصد فراڈ کے ذریعے پیسہ کمانا تھا۔ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق، ملزم ارمغان اور اس کے والد نے اس کمپنی کی مدد سے بین الاقوامی سطح پر فراڈ کی سرگرمیاں شروع کیں۔ اس کمپنی کی سالانہ آمدن تقریباً 3 سے 4 لاکھ امریکی ڈالرز تک پہنچتی ہے، اور اس کمپنی میں 25 ملازمین کام کر رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ارمغان نے اس کمپنی کے ذریعے اپنی ذاتی دولت میں اضافہ کیا اور ملازمین کے ذریعے لگژری گاڑیاں خریدیں، جن کی مجموعی قیمت 15 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے۔ یہ گاڑیاں ارمغان کی دولت اور اس کی غیر قانونی سرگرمیوں کا غماز ہیں۔

    مصطفیٰ عامر قتل کیس میں ارمغان کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اسے منی لانڈرنگ کیس میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشافات کے بعد ارمغان کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں اس کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔مصطفیٰ عامر قتل کیس کی تحقیقات اب اس پیچیدہ اور بین الاقوامی سطح پر پھیلتی ہوئی مالی بدعنوانی کی جانب مڑ گئی ہیں، جس سے اس کیس میں مزید اہمیت پیدا ہو گئی ہے۔