Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شادی شدہ سعودی سفارتکار کا رشتہ مسترد کرنے پر بنگلہ دیشی ماڈل گرفتار

    شادی شدہ سعودی سفارتکار کا رشتہ مسترد کرنے پر بنگلہ دیشی ماڈل گرفتار

    بنگلادیش کی معروف ماڈل اور 2020 میں مس ارتھ بنگلہ دیش کی فاتح، مگھنا عالم کو ملک کے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچانے کے الزام میں خصوصی اختیارات کے قانون کے تحت حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق، مگھنا عالم کو ایک سعودی سفارتکار کے بارے میں جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، جس کا مقصد دو ممالک کے تعلقات کو خراب کرنا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مگھنا عالم نے فیس بک پر متعدد پوسٹس کیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایک غیر ملکی سفارتکار اسے خاموش کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اور وہ اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد حاصل کر رہا تھا۔9 اپریل کو مگھنا عالم کو پولیس نے حراست میں لیا، جب ایک فیس بک لائیو ویڈیو میں کچھ افراد نے اپنے آپ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اہلکار ظاہر کیا اور ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس 12 منٹ کی ویڈیو میں مگھنا عالم افسران سے اپیل کر رہی تھیں اور ان کو یقین دلا رہی تھیں کہ وہ ان کے ساتھ تعاون کریں گی۔ بعد ازاں، انہیں حراست میں لے لیا گیا اور ایک بنگلہ دیشی عدالت نے 30 دن کی حراست کا حکم دیا، جس کے بعد انہیں کاشیم پور جیل منتقل کر دیا گیا۔

    مگھنا عالم کی گرفتاری نے ایک تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے، اور بہت سے افراد ان کے حراست میں لیے جانے کے حالات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ مگھنا عالم کے والد بدرال عالم نے کہا کہ ان کی بیٹی کی گرفتاری اس وقت ہوئی جب ان کا سعودی سفیر سے رشتہ تھا۔ بدرال عالم نے کہا، "سعودی سفیر اور مگھنا کے درمیان تعلق تھا، اور میری بیٹی نے اس کے شادی کے پیغام کو مسترد کر دیا کیونکہ وہ پہلے ہی شادی شدہ تھا اور اس کے بچے بھی تھے۔”

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب بنگلہ دیش کا ایک اہم حامی ہے اور مالی و انسانی امداد میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ سعودی عرب میں 2.16 ملین بنگالی محنت کش موجود ہیں، جو سعودی عرب میں سب سے بڑی غیر ملکی قومیت ہیں، جیسا کہ 2022 کی سعودی مردم شماری میں بتایا گیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مگھنا عالم کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایک بیان جاری کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا: "ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مگھنا عالم کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جرم کے تحت چارج کیا جائے یا انہیں رہا کیا جائے۔”

    مگھنا عالم کون ہیں؟
    مگھنا عالم ایک 30 سالہ بنگلہ دیشی ماڈل، اداکارہ اور ماحولیاتی سرگرم کارکن ہیں جنہوں نے 2020 میں مس ارتھ بنگلہ دیش کا تاج جیتا تھا۔ وہ ایک ذہنی قیادت کی ٹرینر اور مس بنگلہ دیش فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن بھی ہیں، جو معاشرتی فلاح و بہبود پر کام کرتا ہے۔مگھنا عالم مس بنگلہ دیش آرگنائزیشن کی نیشنل ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں، جو بنگلہ دیش کے نمائندے منتخب کرتی ہے جو مس ارتھ میں حصہ لیتے ہیں۔ مگھنا عالم بچپن سے ہی سماجی سرگرمیوں میں شامل رہی ہیں اور 12 سال کی عمر سے جینڈر ڈائنامکس، موسمیاتی تبدیلی اور فوڈ سیکیورٹی جیسے مسائل پر کام کر رہی ہیں۔

  • عوام کو بہتر سہولتیں دینا حکومتوں کا کام ہے،سپریم کورٹ

    عوام کو بہتر سہولتیں دینا حکومتوں کا کام ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے جنگلات اراضی کیس میں تمام صوبوں اور وفاقی حکومت سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں۔

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی،عدالت نے حکم دیا کہ زیرِ قبضہ اور واگزار کروائی گئی اراضی کی تفصیلات جمع کروائیں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ایک ایشو اسلام آباد کی حدود کا بھی تھا اس کا کیا ہوا،سرکاری وکیل نے بتایا کہ اسلام آباد کی حدود کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ساری دنیا میں جنگلات بڑھائے جا رہے ہیں پاکستان میں کم ہو رہے ہیں، ہمیں رپورٹ نہیں حقیقت دیکھنا ہے، سب کو حقیقت کو بھی دیکھنا ہے، زیارت میں منفی 17 درجے میں لوگ درخت نہیں کاٹیں تو کیا کریں؟ کیا حکومت سرد علاقوں میں کوئی متبادل انرجی سورس دے رہی ہے،سرکاری وکیل نے کہا کہ زیارت میں ایل پی جی فراہم کی جا رہی ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ پہاڑی علاقوں پر بسنے والے غریب لوگوں کو کیا سبسڈی دی جا رہی ہے،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ عوام کو بہتر سہولتیں دینا حکومتوں کا کام ہے، 2018ء سے آج تک مقدمے میں رپورٹس ہی آرہی ہیں،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سندھ میں سندر اراضی سمندر کھا رہا ہے ،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ درخت لگوانا سپریم کورٹ کا کام نہیں، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

  • ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل پاکستان آ رہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ملتوی

    ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل پاکستان آ رہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ملتوی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے امریکا میں وکیل کلائیو اسمتھ نے رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی، نئے تعینات ہونے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عمر اسلم عدالت پیش نہ ہو سکے، وکیل عمران شفیق ایڈوکیٹ نے دورانِ سماعت عدالت کو آگاہ کیا کہ کلائیو اسمتھ 4 مئی کو پاکستان آ رہے ہیں،اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران شفیق ایڈووکیٹ کی کلائیو اسمتھ سے مشاورت کے لیے وقت دینے کی استدعا منظور کر لی،وکیل عمران شفیق نے استدعا کی کہ کلائیو اسمتھ 4 مئی کو پاکستان آ رہے ہیں، اگلی سماعت 6 مئی کو رکھ لیں،عدالت نے لاء افسر اور وزارتِ خارجہ کے حکام سے استفسار کیا کہ آپ کو اگر اعتراض نہیں تو ہم 6 مئی کو سماعت رکھتے ہیں، لاء افسر نے جواب دیا کہ ہمیں اعتراض نہیں، سماعت 6 مئی کو رکھ لی جائے،اسلام آباد ہائی کورٹ نے عافیہ صدیقی سے متعلق کیس کی سماعت 6 مئی تک ملتوی کر دی۔

  • 9 مئی مقدمات، سپریم کورٹ کا 4 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم

    9 مئی مقدمات، سپریم کورٹ کا 4 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کو 9 مئی کے مقدمات کو 4 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔

    سپریم کورٹ میں 9 مئی ضمانت منسوخی کیس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی،عدالت نے متعلقہ ہائی کورٹس کو ہر 15روز میں عمل درآمد رپورٹس پیش کرنے کی بھی ہدایت کر دی،نامزد ملزم رضوان مصطفیٰ کے وکیل کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ 143 گواہان ہیں، 4 ماہ میں ٹرائل مکمل نہیں ہو سکے گا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ذرا اونچی آواز میں پڑھیں، قانون کیا کہتا ہے، 1 ماہ اضافی دے کر 4 ماہ کا وقت اسی لیے دیا تاکہ ٹرائل مکمل ہو جائے

    دورانِ سماعت خدیجہ شاہ کے وکیل سمیر کھوسہ بھی عدالت میں پیش ہوئے انہوں نے کہا کہ میری مؤکلہ 3 کیسز میں نامزد ہے،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت آبزرویشن دے کہ انہیں مزید کیسز میں نامزد نہ کیا جائے، ہمارے حقوق متاثر نہ ہوں، تمام کیسز میں یہ آبزرویشن دے دیں،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بے فکر رہیں آپ کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے، ہم آرڈر میں خصوصی طور پر لکھ دیں گے،خدیجہ شاہ کے وکیل نے کہا کہ بعض کیسز میں چالان کی کاپیاں فراہم نہیں کی جاتیں،چیف جسٹس پاکستان نے اسپیشل پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ تمام ریکارڈ فراہم کیا جانا چاہیے۔

  • سپریم کورٹ،ٹرانسفر ہونے والے ججز کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ،ٹرانسفر ہونے والے ججز کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنےکی استدعا مستردکردی

    سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلے اورسنیارٹی سےمتعلق درخواستوں پر سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیے،دلائل کے آغاز میں وکیل منیراے ملک نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والےججز کے معاملے کو آرٹیکل175 کے ساتھ دیکھنا چاہیے، ججز ٹرانسفر، فیڈرل ازم اور انتظامی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق دلائل دوں گا، جسٹس علی مظہر نے کہا ججز ٹرانسفر آرٹیکل 200 کےتحت ہوئی، بہتر ہے دلائل کا آغاز بھی یہیں سے کریں، ہم ججز کو سول سرونٹ کے طور پر تو نہیں دیکھ سکتے،ایک جج کا ٹرانسفر 4 درجات پر رضامندی کے اظہار کے بعد ہوتا ہے، جس جج نےٹرانسفر ہونا ہوتا ہے اس کی رضامندی معلوم کی جاتی ہے، جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر ہونا ہوتی ہے اس کے چیف جسٹس سے رضامندی معلوم کی جاتی ہے، جس ہائیکورٹ میں آناہوتا ہے اس ہائیکورٹ کےچیف جسٹس کی رضامندی لی جاتی ہے، آخر میں چیف جسٹس پاکستان کی رضامندی کے بعد صدر مملکت ٹرانسفر کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں، آپ کو اعتراض ٹرانسفر پر ہے یا سینارٹی پر؟ اس پر منیر اے ملک نےجواب دیا ہمارا اعتراض دونوں پر ہے۔

    جسٹس علی مظہر نے کہا آپ نئےالفاظ آئین میں شامل کروانے کی بات کر رہے ہیں، آرٹیکل 62 ون ایف نااہلی کیس میں آئین میں نئے الفاظ شامل کرکے نااہلی تاحیات کر دی گئی، اس فیصلے پر شدید تنقید ہوئی جسے نظرثانی میں تبدیل کیا گیا،جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ججزکی آسامیاں خالی تھیں توٹرانسفر کے بجائے ان ہی صوبوں سے نئےجج تعینات کیوں نہیں کیےگئے؟ کیا حلف میں ذکر ہوتا ہے کہ جج کون سی ہائیکورٹ کا حلف اٹھا رہے ہیں؟ اس پر وکیل منیر اے ملک نے کہا حلف کے ڈرافٹ میں صوبے کا ذکر ہوتا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا حلف اٹھاتے” اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری” کا ذکرآتا ہے،آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنےکی استدعا مستردکردی، اس کے علاوہ ٹرانسفر ہونے والے ججز کو کام سے روکنے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی۔

    سپریم کورٹ نے 5 ججز کی درخواست پر نوٹسز جاری کرتے ہوئے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین، جسٹس محمد آصف اورجوڈیشل کمیشن سمیت اٹارنی جنرل پاکستان کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 17اپریل تک ملتوی کردی

  • ایران میں پاکستانیوں کا قتل،انسانیت سوز واقعہ،پوری قوم غمزدہ ہے،خالد مسعود سندھو

    ایران میں پاکستانیوں کا قتل،انسانیت سوز واقعہ،پوری قوم غمزدہ ہے،خالد مسعود سندھو

    ایران پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کیخلاف کاروائی کرے.سیف اللہ قصوری
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے ایران میں پاکستانی مزدوروں کے قتل کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانیت سوز واقعہ ، جس نے پوری پاکستانی قوم کو غمزدہ کر دیا ، معصوم اور محنت کش مزدوروں کو نشانہ بنانا ایک بزدلانہ دہشت گردی ہے،ایران پاکستانیوں کے قتل میں ملوث ملزمان کیخلاف کاروائی کرے.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، مرکزی ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ ایران میں ہونے والے پاکستانی مزدوروں کے قتل پر ہر پاکستانی غمزدہ ہے. اس بدترین دہشت گردی کی بھرپور مزمت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ایران ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے اور پاکستان کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ کا مربوط نظام بنائے. دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ،اس کے خاتمے کے لیے ایران و پاکستان کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا ہو گی،ایران میں قتل ہونے والے پاکستانیوں کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مقتولین کی مغفرت فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین

  • خلیل الرحمان قمر  کیس،اغوا ثابت نہیں ہوا، آمنہ سمیت تین ملزمان کو سزا

    خلیل الرحمان قمر کیس،اغوا ثابت نہیں ہوا، آمنہ سمیت تین ملزمان کو سزا

    انسداد دہشت گردی عدالت نے مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان کے کیس میں فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے تین ملزمان کو سزا سنائی ہے، جبکہ دیگر کو بری کر دیا ہے۔

    لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جج ارشد جاوید نے کیس کی سماعت کی اور فیصلہ سنایا کہ ملزمان آمنہ عروج، ممنون حیدر اور ذیشان کو تاوان طلب کرنے کے جرم میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی جائے گی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اغوا کا الزام ثابت نہیں ہو سکا، جس کی بنا پر ملزمان کو اغوا کے جرم میں سزا نہیں دی گئی۔

    عدالت نے مزید کہا کہ حسن شاہ سمیت دیگر نامزد افراد کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے اس کیس میں 17 گواہوں کی شہادتیں قلمبند کرائی گئیں، جن کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا گیا۔

    یاد رہے کہ اس مقدمے میں خلیل الرحمٰن قمر کو مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کا شکار بنایا گیا تھا اور بعد ازاں ان سے تاوان طلب کیا گیا تھا۔ یہ کیس میڈیا کی بھرپور توجہ کا مرکز رہا اور خلیل الرحمٰن قمر نے بھی اس واقعہ کے حوالے سے مختلف مواقع پر بات کی تھی۔

  • غیر اخلاقی سرگرمیوں کی ویڈیو بناکر وائرل کرنے کی اجازت کس نے دی؟ عدالت

    غیر اخلاقی سرگرمیوں کی ویڈیو بناکر وائرل کرنے کی اجازت کس نے دی؟ عدالت

    لاہور ہائی کورٹ نے قصور میں لڑکے لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو یہ اختیار کس نے دیا کہ لوگوں کو گنجا کر کے ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کریں۔

    قصور میں لڑکے اور لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد ویڈیو وائرل کرنے سے متعلق کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی ضیا باجوہ نے کی،عدالتی حکم پر ڈی پی او قصور عدالت میں پیش ہوئے، جس دوران جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیا لوگوں کو گنجا کر رہے ہیں اور ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال رہے ہیں؟ پولیس کو یہ اختیار کس قانون نے دیا ہے؟ کیسے کسی بندے کو پکڑ کر گنجا کرکے ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں، اس ملک میں کوئی قانون رہ گیا ہے یا نہیں، ویڈیو میں بھارتی فلم کا کلپ مکس کرکے پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر اپلوڈ کیا گیا۔

    ڈی پی او نے عدالت کو بتایا کہ جس نے ویڈیو بنائی اس کو معطل کر دیا گیا ہے، جن لوگوں نے ویڈیو وائرل کی ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، ایس ایچ او کو بھی نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے، آر پی او ایس ایچ او کو فارغ کر سکتا ہے،جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا عدالت کسی بھی قسم کے غیر قانونی کام کی اجازت نہیں دے گی، کسی نےکوئی جرم کیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں مگر اس کے عمل کو پبلک کیوں کریں،سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر نے ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی تھی، تفتیشی افسر نے ملزموں کو مقدمہ میں سہولت دی، اسے نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کی ہے،عدالت نے کہا کہ کیسی سہولت دی؟ کسی مذہب یا معاشرے میں ایسے عمل کی اجازت نہیں ہوتی۔

    پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کا کہنا تھا فارم ہاؤس پر غیر اخلاقی سرگرمیوں اور پارٹیوں کا انعقاد ہوتا ہے، جس پر عدالت نے کہا ایسے کام کی کوئی اجازت نہیں، پولیس کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے مگر ویڈیو بنا کر وائرل کرنے کی اجازت نہیں،ڈی پی او نے بتایا کہ فارم ہاؤس کا مالک فرار ہو گیا ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ فارم ہاؤس کے مالک کو فرار نہیں ہونا چاہیے تھا، کیا کیا برآمد ہوا تھا؟پولیس حکام نے کہا کہ شراب کی بوتلیں برآمد ہوئی ہیں، ایس ایچ او کو فارم ہاؤس کے مالک کے ساتھ ملی بھگت کی وجہ سے نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کی ہے،عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بھی پیش ہوں گے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بتائیں گے دنیا میں کسی زیر حراست ملزم کو ایکسپوز کرنے کا قانون موجود ہے،لاہور ہائی کورٹ نے قصور پولیس کے تفتیشی افسر صادق، کانسٹیبل اور ایس ایچ او کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر کیوں نہ پولیس والوں کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا جائے۔

  • امریکہ میں طیارہ حادثہ،بھارتی نژاد ڈاکٹر،  خاندان سمیت چھ افراد ہلاک

    امریکہ میں طیارہ حادثہ،بھارتی نژاد ڈاکٹر، خاندان سمیت چھ افراد ہلاک

    ہفتہ کے روز نیو یارک کے علاقے کوپاک میں ایک نجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بھارتی نژاد ماہر امراض نسواں ڈاکٹر جوئے سینی، ان کے نیورو سرجن شوہر ڈاکٹر مائیکل گروف، اور ان کے دو بچے بھی شامل ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دو انجنوں والا مٹسوبشی MU-2B طیارہ، جو ایک قریبی خاندان کے افراد اور باصلاحیت طلبہ کو لیکر کیاٹسکلز علاقے میں پاس اوور کی تقریبات کے لیے جا رہا تھا، اچانک دوپہر کے وقت کولمبیا کاؤنٹی ایئرپورٹ سے تقریباً 10 میل جنوب میں ایک کیچڑ زدہ کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا۔حادثے سے کچھ دیر پہلے، پائلٹ نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ ابتدائی لینڈنگ کی کوشش میں ناکام رہا ہے اور ایک نیا لینڈنگ روٹ چاہتا ہے۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے مطابق، اس کے بعد ایئر ٹریفک کنٹرول نے تین مرتبہ کم بلندی کا الرٹ بھیجا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا، اور نہ ہی کوئی ایمرجنسی کال موصول ہوئی۔

    بعد میں حاصل کی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ طیارہ حادثے سے پہلے مکمل حالت میں تھا اور تیز رفتاری سے زمین سے ٹکرا گیا۔

    ہلاک ہونے والے افراد میں ڈاکٹر جوئے سینی کو بھارتی پنجاب میں پیدا ہوئیں اور بعد ازاں امریکہ منتقل ہو گئیں۔ وہ معروف یوروگائناکولوجسٹ اور Boston Pelvic Health and Wellness کی بانی تھیں۔ڈاکٹر مائیکل گروف، معروف نیورو سرجن، تجربہ کار پائلٹ اور ڈاکٹر جوئے سینی کے شوہر تھے۔کرینا گروف،ان کی بیٹی، MIT کی سابقہ فٹبال پلیئر، جنہیں 2022 میں NCAA Woman of the Year قرار دیا گیا۔جیئرڈ گروف،ان کا بیٹا، 2022 میں سوارثمور کالج سے گریجویٹ ہوا اور پیرالیگل کے طور پر کام کر رہا تھا۔الیکزیا کؤیاتس ڈوآرٹے،جیئرڈ کی پارٹنر، سوارثمور سے گریجویٹ اور ہارورڈ لا اسکول میں داخلے کی تیاری کر رہی تھیں۔جیمز سانٹورو ، کرینا کے بوائے فرینڈ اور MIT کے حالیہ گریجویٹ شامل تھے.

    ڈاکٹر جوئے سینی اور مائیکل گروف نے University of Pittsburgh میں میڈیکل تعلیم کے دوران ایک دوسرے سے ملاقات کی تھی۔ ان کے پیچھے بیٹی انیکا گروف، والدین، بہن بھائی اور خاندان کے دیگر افراد سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔طیارے کی جدید کاک پٹ ٹیکنالوجی حالیہ سالوں میں اپگریڈ کی گئی تھی اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے معیارات کے مطابق تھی۔

  • سیف علی خان حملہ،ملزم صرف "30 ہزار” چرانے آیا تھا، پولیس چارج شیٹ

    سیف علی خان حملہ،ملزم صرف "30 ہزار” چرانے آیا تھا، پولیس چارج شیٹ

    16 جنوری کو اداکار سیف علی خان کے گھر پر ہونے والے حملے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    بنگلہ دیشی شہری محمد شریف الاسلام شہزاد، جو کہ سیف علی خان کے گھر میں چوری کی کوشش کے دوران گھس آیا اور ان پر چھری سے حملہ کیا، کا مقصد 30,000 روپے چرانا تھا تاکہ وہ جعلی آدھار کارڈ اور پین کارڈ حاصل کر سکے۔ ممبئی پولیس نے یہ تفصیلات اپنے چارج شیٹ میں عدالت میں پیش کیں۔چارج شیٹ کے مطابق، شہزاد نے پولیس کو بتایا کہ اس نے صرف ایک مقصد کے تحت بھارت کا سفر کیا تھا ، ایک بھارتی شہری کے لیے غیر ملکی ویزے حاصل کرنا بنگلہ دیشی شہری کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے۔ اس نے سب سے پہلے آدھار اور پین کارڈ بنوانا چاہا تھا تاکہ بعد میں پاسپورٹ کے لیے درخواست دے سکے۔

    شہزاد نے پولیس کو بتایا کہ وہ سیف علی خان کے بنگلے کے قریب واقع ایک عمارت کی چھت پر چڑھ گیا تھا، جہاں سے وہ چھلانگ لگا کر سیف علی خان کی عمارت میں داخل ہوا۔ وہاں پہنچ کر وہ عمارت کے پچھلے حصے میں سیڑھیاں چڑھتا ہوا ایک سیکیورٹی نیٹ تک پہنچا اور ایک کٹر کی مدد سے ایئر کنڈیشننگ کے ڈکٹ کو کاٹ کر سیف علی خان کے گھر کے باتھروم سے اندر داخل ہو گیا۔جب وہ گھر میں داخل ہوا تو وہاں ایک نرس موبائل فون پر مصروف تھی اور ایک اور شخص سو رہا تھا، جبکہ سیف علی خان کا بیٹا بھی بیڈ پر سو رہا تھا۔ جب اس نے گھر میں قدم رکھا، تو نرس نے خوف کے عالم میں اس سے پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ شہزاد نے جواب دیا کہ وہ 1 کروڑ روپے چاہتا ہے۔

    اسی دوران، سیف علی خان کمرے میں داخل ہوئے اور حملہ آور کو قابو پانے کی کوشش کی۔ شہزاد نے دفاعی طور پر سیف علی خان کو چھری سے کئی بار وار کیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ شہزاد نے بتایا کہ وہ اس حملے کے بعد ان کے قابو سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور کمرے کے دروازے کو بند کر کے کھڑکی سے باہر نکلا۔ اس نے نیچے جا کر کپڑے بدلنے کے بعد بس اسٹاپ پر جا کر رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں وہ باندرہ اسٹیشن گیا۔

    پولیس کے مطابق، شہزاد بنگلہ دیش کے جلال کاٹی ضلع کا رہائشی ہے اور حملے سے آٹھ ماہ قبل غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوا تھا۔ وہ کولکتہ میں تقریباً پندرہ دن تک رہا اور پھر گیٹن اجلی ایکسپریس کے ذریعے ممبئی آیا تھا۔ ممبئی میں اس نے ایک ہوٹل میں کام کیا اور 15 جنوری کو چھٹی لی تاکہ وہ اپنے جعلی دستاویزات بنانے کے لیے رقم اکٹھی کر سکے۔شہزاد نے پولیس کو بتایا کہ اس نے ایک شخص سے بات کی تھی جس نے اسے 30,000 روپے میں جعلی آدھار اور پین کارڈ بنانے کی پیشکش کی تھی۔ وہ ایک "چھوٹی چوری” کرنے کے لیے تیار تھا تاکہ اس رقم سے اپنے دستاویزات بنوا سکے۔شہزاد کو تین دن بعد پولیس نے تھانے سے گرفتار کیا، اور وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔