Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ ہائی کورٹ ، گٹکا ماوا فروخت کرنے والوں کے خلاف مقدمے کا حکم

    سندھ ہائی کورٹ ، گٹکا ماوا فروخت کرنے والوں کے خلاف مقدمے کا حکم

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے گٹکا، ماوا اور مین پوری کی خرید و فروخت کے خلاف اہم فیصلہ سناتے ہوئے متعلقہ حکام کو گٹکا ماوا فروخت کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت کا آئینی بینچ گٹکا اور ماوا پر پابندی کے حوالے سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی درخواست کی سماعت کر رہا تھا۔ درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود گٹکا، ماوا اور مین پوری کی خرید و فروخت بدستور جاری ہے، جس سے عوام کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔عدالت نے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو گٹکا ماوا فروخت کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    عدالت نے مزید کہا کہ یہ معاملہ عوام کی صحت سے متعلق ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ درخواست کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ آئندہ سماعت میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

  • کورئیر سروس کے ذریعے منشیات کی ترسیل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

    کورئیر سروس کے ذریعے منشیات کی ترسیل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

    اے این ایف نے پشاور میں کورئیر سروس کے ذریعے منشیات کی ترسیل کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب کر لیا

    نوشہرہ سے ملزم گرفتار جس نے 11 منشیات بھرے پارسل مختلف شہروں کے لیے بک کیے تھے.پارسل میں سے 5.7 کلو چرس، 200 گرام آئس، 120 ایکسٹسی گولیاں، 150 گرام افیون، جعلی 1 لاکھ روپے اور 30 بور پستول بھی کے قبضے سے برآمد کی گئی .اے این ایف ٹیم کی مکمل نگرانی کے بعد حاجی کیمپ پشاور کے قریب 3 ملزمان رنگے ہاتھوں گرفتار کر لئے گئے ملزمان کے قبضے سے 2 کلو چرس برآمد کی گئی، تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ملزمان بین الصوبائی منشیات ترسیل میں ملوث تھے. ملزمان نے بارہ اور دیگر علاقوں سے منشیات حاصل کر کے کورئیر سروس کے ذریعے منتقل کیں.

    اے این ایف کی آن لائن کورئیر نیٹ ورکس کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی سامنے آئی ہے کورئیر سروسز سے مشتبہ پارسلز کی نگرانی سخت کرنے اور تعاون کی اپیل کی گئی ہے،اے این ایف نے منظم انٹیلیجنس، موثر کارروائیوں اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر مبنی کوششیں جاری کر رکھی ہیں،ڈیجیٹل منشیات ترسیل کا نیٹ ورک قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے مزید تحقیقات جاری ہیں،گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے

  • سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 10 دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،پنجاب سے 10 دہشت گرد گرفتار

    پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف ایک اور بڑی کارروائی کی گئی ہے، جس میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے انٹیلی جنس اطلاع پر مختلف اضلاع میں 189 ٹارگٹڈ آپریشنز کیے ہیں۔ ان آپریشنز کے دوران 10 انتہائی خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ ان کارروائیوں میں لاہور، راولپنڈی، بہاولپور، گوجرانوالہ اور جہلم سمیت دیگر شہروں میں اہم کارروائیاں کی گئیں۔ راولپنڈی سے گرفتار ہونے والے دو اہم ملزمان بادل سنگھ اور سورج سنگھ کا تعلق ننکانہ صاحب سے بتایا گیا ہے۔سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ ان کارروائیوں کے دوران گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد، 16 ڈیٹونیٹرز، 38 فٹ لمبی حفاظتی فیوز تار، پرائمہ کارڈز، اشتعال انگیز مواد اور نقدی بھی برآمد کی گئی۔ یہ تمام مواد دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشت گرد صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ان دہشت گردوں کا مقصد پنجاب کے عوام کو خوف میں مبتلا کرنا اور امن و سکون کو تباہ کرنا تھا۔

    سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ صرف ایک ہفتے کے دوران 2053 کومبنگ آپریشنز کیے گئے، جن میں 82 ہزار سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی۔ ان آپریشنز کے دوران 263 مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا ہے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ "محفوظ پنجاب” کا ہدف حاصل کرنے کے لیے دہشت گردی کے تمام نیٹ ورکوں کو ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں کے لیے پنجاب کی سرزمین کو غیر محفوظ بنا دیا جائے گا۔

  • بشریٰ بی بی کی سہولیات فراہمی کی درخواست پر نوٹس جاری

    بشریٰ بی بی کی سہولیات فراہمی کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جیل میں بہتر سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی گئی۔

    درخواست میں بشریٰ بی بی نے جیل میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور صحت کی سہولتوں میں بہتری کی درخواست کی ہے۔عدالتِ عالیہ نے بشریٰ بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری داخلہ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    بشریٰ بی بی نے اپنی درخواست میں استدعا کی کہ انہیں جیل میں بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں، تاکہ ان کی صحت اور روزمرہ زندگی میں آسانی ہو۔ بشرٰی بی بی نے درخواست میں کہا کہ وہ سابق خاتون اول ہیں اور انہیں بنی گالہ میں بہترین سہولیات میسر ہیںَ جیل میں عمران خان کو جو سہولیات دی گئی ہیں وہ مجھے بھی دی جائیں

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے پر فوری طور پر کارروائی شروع کرتے ہوئے دونوں فریقین کو جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے جیل انتظامیہ اور حکومتی اداروں سے اس سلسلے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے، جو آئندہ دو ہفتوں میں عدالت میں پیش کی جائے گی۔

  • سپریم کورٹ،9 مئی کیس میں جسمانی ریمانڈ کی اپیل پر عمر سرفراز چیمہ کو نوٹس

    سپریم کورٹ،9 مئی کیس میں جسمانی ریمانڈ کی اپیل پر عمر سرفراز چیمہ کو نوٹس

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جسمانی ریمانڈ کی اپیل پر سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو نوٹس جاری کر دیا

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 9 مئی کے مقدمات میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق اپیل پر سماعت کی۔سپریم کورٹ نے عمر سرفراز چیمہ کو نوٹس کوٹ لکھپت جیل انتظامیہ کے توسط سے جاری کیا،پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمر سرفراز چیمہ سے اسلحہ برآمد کرنا ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کی عمر سرفراز چیمہ ابھی کہاں ہیں،پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے جبوا دیا کہ وہ کوٹ لکھپت جیل میں ہیں،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ملزم جیل میں ہیں تو تفتیش کر لیں، کیا مسئلہ ہے،پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ برآمدگی کے لیے جسمانی ریمانڈ ضروری ہے جو ہائی کورٹ نے نہیں دیا،سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی اپیل پر عمر سرفراز چیمہ کو نوٹس جاری کر تے ہوئے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔

  • جب امریکا کا وجود نہیں تھا، تب بھی جینا جانتے تھے،چینی تھنک ٹینک

    جب امریکا کا وجود نہیں تھا، تب بھی جینا جانتے تھے،چینی تھنک ٹینک

    چین کے تھنک ٹینک "سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن” کے نائب صدر مسٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ چین امریکی تجارتی جنگ میں آخری دم تک لڑنے کے لیے ہر طرح سے تیار ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں مسٹر گاؤ نے کہا کہ دنیا اتنی وسیع ہے کہ صرف امریکا تک محدود نہیں ہے۔ چین کی تاریخ 5 ہزار سال پر محیط ہے، اور اس میں سے زیادہ تر عرصہ وہ تھا جب امریکا کا وجود بھی نہیں تھا۔تب بھی ہم جینا جانتے تھے وکٹر گاؤ نے اس بات پر زور دیا کہ چین کو امریکا کی دھمکیوں یا دباؤ سے نمٹنے کا مکمل تجربہ ہے اور اگر امریکا چین کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتا ہے تو چین اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اپنی خودمختاری اور ترقی کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ یا دباؤ کو برداشت نہیں کرے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ چین اپنے وسائل، طاقت اور حکمت عملیوں کے ذریعے اس تجارتی جنگ میں امریکا کے ساتھ آخری حد تک لڑنے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔ ان کے مطابق چین کا عزم ہے کہ وہ امریکا سے اس تجارتی جنگ میں کامیاب ہو کر نکلے گا، اور اگر ضرورت پڑی تو وہ اگلے 5 ہزار سال تک بھی اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے زندہ رہ سکتا ہے۔

    وکٹر گاؤ کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین اپنی اقتصادی پوزیشن اور عالمی سیاست میں امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک طویل المیعاد حکمت عملی کے تحت دیکھتا ہے، اور وہ امریکی دباؤ کے خلاف اپنے قومی مفادات کے دفاع میں کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائے گا۔

  • اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت پھر منسوخ

    اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت پھر منسوخ

    اسلام آباد کے اسپیشل جج سینٹرل نے آج اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت منسوخ کردی۔ یہ کیس اس وقت خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف الزامات عائد ہیں۔

    توشہ خانہ کیس کی آخری سماعت 17 فروری کو ہوئی تھی، جس کے بعد آج 14 اپریل کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت بھی منسوخ کردی گئی۔ عدالت کی جانب سے اس فیصلے کی اطلاع عدالت کے عملے نے پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری کو دی۔سماعت کی منسوخی پر پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے کہا کہ "کبھی مقدمات کو تیزی سے چلایا جاتا ہے، تو کبھی جان بوجھ کر سست کردیا جاتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "جب سزا سنانی ہوتی ہے تو آدھی رات تک ٹرائل چلایا جاتا ہے، لیکن جب اہم سماعت ہو تو ایسا فیصلہ کیا جاتا ہے۔”

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے تحائف کے بدلے ان کا غیر قانونی فائدہ اٹھایا اور ان کو اپنی ملکیت میں شامل کیا۔ عدالت میں اس کیس کی سماعت کی جانے والی تھی، لیکن اس میں تاخیر نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو مایوس کر دیا ہے۔

  • 9 مئی والے بھگت رہے ہیں، اسحاق ڈار

    9 مئی والے بھگت رہے ہیں، اسحاق ڈار

    لندن: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جن افراد نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہو کر ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچایا، وہ اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ حکومت اصولوں پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گی، اور اگر کسی کو قانونی عمل کے تحت سزا دی جا رہی ہے تو اس میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

    لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے 9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے متعلق شواہد کی بنیاد پر سزاؤں کا عمل جاری ہے اور حکومت کسی بھی قسم کے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ہمارے دین میں فتنے سے کوئی بھی ڈیل نہیں ہو سکتی اور ایسے عناصر کو بات چیت کے لئے سرینڈر کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو سیاست کرنی ہے تو اسے پاکستان آ کر سیاست کرنی چاہیے۔ بیرونِ ملک سے لاکھوں ڈالر دے کر پاکستانی اداروں کو بدنام کرنا قابلِ مذمت عمل ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنے آئندہ کے دوروں کے حوالے سے بتایا کہ وہ جلد افغانستان کا دورہ کریں گے اور ایرانی حکومت نے پاکستانیوں کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ وہ اس معاملے پر ایرانی حکام کے ساتھ وزارت خارجہ اور پاکستانی سفیر کے ذریعے رابطے میں ہیں۔اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بسنت تہوار منانے پر نظرثانی کر رہی ہے، اور یہ تہوار حفاظتی اقدامات کے ساتھ منایا جانا چاہیے۔

  • مردوں کو خود پر کنٹرول رکھنا چاہیے، جم لباس پر اعتراض،خواتین بھڑک اٹھیں

    مردوں کو خود پر کنٹرول رکھنا چاہیے، جم لباس پر اعتراض،خواتین بھڑک اٹھیں

    کیا خواتین کے جم کپڑے حد سے تجاوز کر چکے ہیں؟ آئرلینڈ کے جم مالک کے متنازعہ بیان پر شدید ردعمل

    آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن کے ایک "ایکسکلوسو” ٹریننگ سینٹر کے مالک پال برائن حال ہی میں ایک ریڈیو پروگرام میں شریک ہوئے جہاں انہوں نے جم میں خواتین کے لباس کے بارے میں ایک متنازعہ رائے دی، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی اور خواتین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔

    پال برائن نے ایک ایسے آرٹیکل پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا جو 60 سالہ صحافی رابرٹ کریمپٹن نے "دی ٹائمز” کے لیے لکھا تھا۔ اس آرٹیکل کا عنوان تھا: "میں جم میں نیم برہنہ نوجوان خواتین کے ساتھ ہوتا ہوں، کہاں دیکھوں؟”رابرٹ نے اپنی تحریر میں دعویٰ کیا کہ جدید جم لباس، خاص طور پر نوجوان خواتین کی جانب سے پہنا جانے والا، بعض اوقات مردوں کو ایسا محسوس کرواتا ہے جیسے وہ غلطی سے خواتین کے چینجنگ روم میں داخل ہو گئے ہوں۔

    پال برائن نے اس بحث کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خواتین کے جم لباس اس حد تک مختصر ہو چکے ہیں کہ وہ تقریباً بکنی جیسے لگتے ہیں۔ انہوں نے "نیوز ٹاک” کے پروگرام "لنچ ٹائم لائیو” میں میزبان آندریا گلیگن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،”یہ مسئلہ چند سال پہلے تک نہیں تھا، لیکن جب سے سوشل میڈیا آیا ہے اور لوگ خود کو فلمبند کر رہے ہیں، تو مختصر لباس کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ اب بہت سی نوجوان لڑکیاں تقریباً بکنی پہن کر ورزش کرتی ہیں۔”جب میزبان نے وضاحت مانگی کہ کیا واقعی خواتین بکنی پہنتی ہیں، تو برائن نے کہا کہ وہ دراصل "جم بکنیز” کا ذکر کر رہے ہیں ، یعنی کراپ ٹاپس اور چھوٹے شارٹس۔

    انہوں نے مزید کہا،”یہ بعض اوقات جم میں دوسروں کے لیے ڈراؤنا ہوتا ہے۔ اگر کسی کے پاس بہترین سکس پیک ہے اور نوجوان لڑکیاں اپنی فٹنس کو دکھا رہی ہیں، تو انہیں تھوڑا ڈھک لینا چاہیے۔”

    پال برائن کے ان بیانات نے خواتین کو شدید غصہ دلا دیا۔ خاص طور پر ٹک ٹاک پر کئی خواتین نے انٹرویو کی آڈیو کو استعمال کرتے ہوئے اپنی ورزش کی ویڈیوز شیئر کیں۔ ان ویڈیوز میں وہ وہی لباس پہنے دکھائی دیتی ہیں جنہیں برائن نے "جم بکنیز” کہا تھا۔ایک خاتون نے ویڈیو میں لکھا،”جم جا رہی ہوں، امید ہے میری بکنی کسی فضول مرد کو ڈرا دے۔”ایک اور خاتون نے طنزیہ انداز میں لکھا،”یقینی بنانا ہے کہ سب سے چھوٹا اور سب سے زیادہ ‘خطرناک’ جم لباس پہنوں تاکہ جم میں داخل ہوتے ہی سب چونک جائیں۔”

    آئرش پرسنل ٹرینر نتھالی لینن نے برائن کے خیالات کو "پریشان کن” قرار دیا۔ انہوں نے کہا "عورتوں کو ہمیشہ دبلا پتلا رہنے کی تاکید کی گئی، اب جب ہم طاقت اور مسلز کو اپناتے ہیں تو پھر ہمیں شرمندہ کیا جا رہا ہے۔ ہمیں اپنے جسم پر فخر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے، نہ کہ ہمیں کنٹرول کیا جائے۔”انہوں نے مزید کہا کہ یہ کہنا کہ خواتین کا لباس دوسروں کے لیے خلفشار کا باعث بنتا ہے، مردوں کی کمزوریوں کا الزام خواتین پر ڈالنے کے مترادف ہے۔

    سوشل میڈیا صارفین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جب مرد جم میں بغیر شرٹ کے ورزش کرتے ہیں تو ان پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا، تو پھر خواتین پر تنقید کیوں؟ایک خاتون نے لکھا،”ہم مردوں کو جنسی نظروں سے نہیں دیکھتے، تو ہمیں کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے؟ مردوں کو خود پر کنٹرول رکھنا چاہیے، خواتین کو نہیں چھپنا چاہیے۔”

  • یمن میں امریکی حملہ،5 افراد کی موت،متعدد زخمی

    یمن میں امریکی حملہ،5 افراد کی موت،متعدد زخمی

    یمن کے صوبے صنعا میں امریکی فضائی حملے میں 5 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق، حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیاروں نے صنعا کے علاقے بنی مطر میں ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا۔ حملے میں 5 افراد جاں بحق اور 13 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حوثی تنظیم نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا۔حوثی تنظیم انصار اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اتوار کے روز امریکی طیاروں نے یمن کے دیگر علاقوں، صعدہ اور حدیدہ کو بھی نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں مزید جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ یمن کے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر امریکی فضائی حملے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں، جن پر امریکا کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ امریکا نے 15 مارچ سے حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کیں تاکہ یمن میں اہم بین الاقوامی بحری راستوں پر حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کو روکا جا سکے۔

    حوثی باغی نہ صرف امریکی فوجی جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں، بلکہ انہوں نے اسرائیل پر بھی حملے کیے ہیں۔ حوثی تنظیم ان کارروائیوں کو غزہ کے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی قرار دیتی ہے۔ حوثیوں کے مطابق یہ حملے اسرائیل کی طرف سے غزہ پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔

    حوثیوں نے اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد بحیرہ احمر، خلیج عدن اور اسرائیلی سرزمین کی جانب جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔ جنوری میں عارضی جنگ بندی کے دوران ان حملوں کو روک دیا گیا تھا، مگر مارچ میں اسرائیل نے غزہ کی تمام تر رسد بند کر دی اور 18 مارچ کو اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دیں، جس کے بعد مختصر جنگ بندی بھی ختم ہو گئی۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ دوبارہ شروع ہونے پر حوثیوں نے بحری جہازوں پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ اس کے بعد امریکا نے بھی ان پر فضائی حملے شروع کر دیے۔