Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلاول کا سیاسی ویژن نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے،حسن اقبال جوئیہ

    بلاول کا سیاسی ویژن نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے،حسن اقبال جوئیہ

    پاکستان پیپلز پارٹی ساہیوال کے رہنما اور ممتاز سیاسی شخصیت حسن اقبال جوئیہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے حالیہ پارٹی انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری کو بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

    حسن اقبال جوئیہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی ایک نئی توانائی کے ساتھ عوامی خدمت کا مشن جاری رکھے گی اور ملک میں مثبت سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔حسن اقبال جوئیہ نے پارٹی کی نئی قیادت کے انتخاب پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر جمہوری عمل کا جاری رہنا ہی اس کی طاقت ہے۔ انہوں نے ہمایوں خان کو سیکرٹری جنرل، ندیم افضل چن (گوندل) کو سیکرٹری اطلاعات اور آمنہ پراچہ کو سیکرٹری فنانس منتخب ہونے پر بھی تہنیتی پیغام دیا اور انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔

    حسن اقبال جوئیہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے عوامی مسائل کو اجاگر کرتی آئی ہے اور اب جب پارٹی کی قیادت نوجوان، تعلیم یافتہ اور وژنری ہاتھوں میں ہے، تو توقع ہے کہ پیپلز پارٹی ماضی کی طرح ایک بار پھر عوامی امنگوں کی ترجمان بن کر سامنے آئے گی۔ بلاول بھٹو زرداری کا سیاسی ویژن ملک کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہے، اور ان کی قیادت میں پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کرے گی اور بلاول بھٹو اس ملک کے وزیراعظم ہوں گے.انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہمایوں خان، ندیم افضل چن اور آمنہ پراچہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں گے اور پارٹی کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ذاتی طور پر اور بطور پارٹی رہنما، پارٹی کی قیادت اور فیصلوں کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتے ہیں اور ہر سطح پر پارٹی کی حمایت جاری رکھیں گے۔

  • اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو  ملا اعزازی ایوارڈ

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیرِ اہتمام خواتین کے اعزاز میں منعقدہ ایک شاندار کانفرنس میں باغی ٹی وی کی ممتاز ٹیم ممبر، نور فاطمہ کو اُن کی نمایاں صحافتی و ادبی خدمات کے اعتراف میں خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    یہ پروقار تقریب لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین اور شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت اپووا کے بانی ایم ایم علی نے کی، معروف لکھاریہ گل ارباب ،پی آر او ٹو گورنر پنجاب محترمہ لالہ رخ ناز، ڈپٹی سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، عالمی شہرت یافتہ اسٹرولوجر سامعہ خان ،لیجنڈری اداکارہ عذرہ آفتاب،علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر عارفہ صبح ،دبنگ جرنلسٹ دعا مرزا،اینکر پرسن ثناء آغا خا ن ،ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پر ی ،علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر فضیلت بانو،معروف شاعرہ کومل جوئیہ، لیگل ایڈوائزرایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ ،تحریک نفاذ اردو کی متحرک رکن فاطمہ قمر نے بطور گیسٹ سپیکر اور بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

    اپووا کی خواتین کانفرنس میں نور فاطمہ کو اعزازی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ نور فاطمہ کو یہ اعزاز اُن کی میڈیا کے شعبے میں مسلسل محنت، عوامی شعور اجاگر کرنے کی کاوشوں اور خواتین کی نمائندگی کے لیے اُن کی قابل قدر خدمات کے صلے میں دیا گیا۔ایوارڈ کے حصول پر سینئر صحافی و معروف اینکر پرسن مبشر لقمان، باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان، اور باغی ٹی وی کی پوری ٹیم نے نور فاطمہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی اور اُن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر مختلف مقررین نے خواتین کی خدمات کو سراہا اور اپووا کے اس اقدام کو قابلِ تحسین قرار دیا کہ وہ ایسی خواتین کو منظرِ عام پر لا رہا ہے جو خاموشی سے اپنے اپنے شعبے میں مثالی کردار ادا کر رہی ہیں۔

    نور فاطمہ نے ایوارڈ ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز اُن کے لیے نہ صرف ایک اعزاز ہے بلکہ ایک حوصلہ افزائی بھی ہے جو اُنہیں مزید بہتر کام کرنے کی تحریک دے گا۔

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

  • اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس 2025 لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی۔

    کانفرنس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی باوقار خواتین نے شرکت کی اور اپنی شرکت سے تقریب کو وقار بخشا۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی۔ سیدہ مصور صلاح الدین نے عقیدت و احترام سے نعتیہ کلام پیش کیا۔ نظامت کے فرائض راقم نے ادا کئیے ۔سحرش خان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور کانفرنس کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔محترمہ ریحانہ عثمانی نے فلسطین میں جاری مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ہر فرد کو انفرادی و اجتماعی سطح پر آواز بلند کرنے پر زور دیا۔ اس موقع پر فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے تمام شرکاء نے پر امن طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔نمرہ ملک کی خوبصورت اور پراثر پنجابی نظم نے محفل کو ایک خاص رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی.

    معروف لکھاریہ گل ارباب ،پی آر او ٹو گورنر پنجاب محترمہ لالہ رخ ناز، ڈپٹی سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، عالمی شہرت یافتہ اسٹرولوجر سامعہ خان ،لیجنڈری اداکارہ عذرہ آفتاب،علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر عارفہ صبح ،دبنگ جرنلسٹ دعا مرزا،اینکر پرسن ثناء آغا خا ن ،ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پر ی ،علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر فضیلت بانو،معروف شاعرہ کومل جوئیہ، لیگل ایڈوائزرایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ ،تحریک نفاذ اردو کی متحرک رکن فاطمہ قمر نے بطور گیسٹ سپیکر اور بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

    معزز مہمانانِ گرامی نے معاشرے کی ترقی میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ موجودہ دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لائیں۔ فلسطین کے موضوع پر بھی سب نے اپنی آواز بلند کی ،اور مظلوموں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔شرکاء نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز، ذاتی تجربات اور جدوجہد کی کہانیاں پیش کر کے محفل میں موجود سامعین کے دلوں میں امید، ہمت، محنت اور کامیابی کی لو روشن کی ۔شرکاء کا مزید کہنا تھا کے بانی محترم ایم ایم علی اور پیٹرن ان چیف زبیر احمد انصاری کی قیادت میں تنظیم علم، ادب، شعور اور خواتین کی ،فلاح و بہبود کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کانفرنس کا انعقاد بھی انہی اعلیٰ مقاصد کا عکس تھا۔

    اپووا کے پیٹرن ان چیف زبیر احمد انصاری کی سرپرستی تنظیم کو وسعت اور مضبوطی فراہم کر رہی ہے، جو اس کانفرنس کی کامیابی سے عیاں ہے۔اس کے علاوہ اس پر وقار تقریب کے انعقاد میں اپووا کے بانی محترم ایم ایم علی کی بصیرت، محنت اور خاموش قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ان کی انتھک کوششوں سےاپوواایک فعال اور مؤثر ادارے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ان کی قیادت میں یہ پلیٹ فارم خواتین، ادیبوں، اور صحافیوں کے لیے ایک روشن مثال بن چکا ہے۔

    تقریب کے آغاز سے قبل ثمینہ طاہر بٹ کی طرف سے معزز مہمانوں کی پرتکلف ناشتے سے تواضع کی گئی، جس نے ماحول کو مزید خوشگوار اور دوستانہ بنا دیا۔ ناشتہ مہمان نوازی اور روایتی اقدار کا خوبصورت عکس تھا، جس پر شرکاء نے منتظمین کی بھرپور تعریف کی۔تقریب کے اختتام پر APWWA کی صدر محترمہ ثمینہ طاہر بٹ نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور اس خوبصورت کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر تمام ذمہ داران کی کاوشوں کو سراہا۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور خواتین کو ایسے ہی پلیٹ فارمز ملتے رہیں گے جہاں وہ اپنی آواز مؤثر انداز میں بلند کر سکیں۔تقریب کا اختتام دعائیہ کلمات پر ہوا، جہاں تمام شرکاء نے مل کر وطنِ عزیز پاکستان، امتِ مسلمہ خصوصاً فلسطینی عوام، اور اپووا کے روشن مستقبل کے لیے دعا کی۔اللّٰہ تعالیٰ اس نیک مقصد کو مزید ترقی عطا فرمائے اور ہم سب کو خدمتِ خلق اور اصلاحِ معاشرہ کی توفیق دے۔ آمین

  • حکمران بجٹ میں عوام کو ریلیف دیں،زبانی دعوے نہیں عملی کام نظر آئے،مرکزی مسلم لیگ

    حکمران بجٹ میں عوام کو ریلیف دیں،زبانی دعوے نہیں عملی کام نظر آئے،مرکزی مسلم لیگ

    بجٹ سازی میں قومی مفادات،عوامی جذبات کو مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں،سیف اللہ قصوری

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دی جائے،آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو نظرانداز کرتے ہوئے قومی مفادات کو مدِنظر رکھا جائے،ضروری اشیا پر ٹیکسز کم کئے جائیں، تعلیم، صحت، روزگار، اور بنیادی سہولیات کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص کی جائے.

    ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ طلحہ سعید، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے مشترکہ بیان میں کیا، مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بجٹ کی تیاریوں میں مصروف ہے،وزیر خزانہ قوم کو خوشخبریاں سنا رہے ہیں ،حکومتی دعوے زبانی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد بھی ہونا چاہئے، ماضی کی طرح اگر اس بار بھی بجٹ آئی ایم ایف کے دباؤ پر بنایا گیا تو ملک میں مہنگائی کی نئی لہر آئے گی جو پہلے سے مشکلات کا شکار عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگی

    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں،اس لیے بجٹ میں توانائی کے نرخوں میں کمی کی جائے تاکہ مہنگائی کا بوجھ کم ہو۔ بجٹ سازی میں قومی مفادات اور عوامی جذبات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جائیں جو معیشت کی بحالی اور عوامی فلاح کا سبب بنیں،حکومت اگر چاہے تو کرپشن پر قابو پا کر، غیر ضروری اخراجات میں کمی لا کر اور ٹیکس نظام کو شفاف بنا کر عوام کو ریلیف دے سکتی ہے، کرپشن کا پیسہ قومی خزانے میں آئے تو نہ ہمیں آئی ایم ایف اور نہ ہی ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی ضرورت پڑے گی. حکمران طبقہ اگر واقعی خود کو عوام کا نمائندہ سمجھتا ہے تو پھر اسے بجٹ میں عام آدمی کے لیے ریلیف فراہم کرنا ہوگا۔ تعلیم، صحت، روزگار، اور بنیادی سہولیات کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص کی جائے.

  • چوہدری شجاعت حسین  ایک بار پھر پارٹی صدر بن گئے

    چوہدری شجاعت حسین ایک بار پھر پارٹی صدر بن گئے

    پاکستان مسلم لیگ ق کے انٹرا پارٹی انتخابات میں چوہدری شجاعت حسین کو بلامقابلہ صدر منتخب کر لیا گیا، جبکہ طارق حسن بلا مقابلہ سیکرٹری جنرل منتخب ہوگئے ہیں۔ یہ انتخابات مسلم لیگ ق کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں منعقد ہوئے جس میں پارٹی کے اہم رہنماؤں اور اراکین نے شرکت کی۔

    چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں ہونے والے ان انتخابات میں دیگر اہم عہدوں پر بھی انتخابات مکمل ہوئے۔ چوہدری سالک حسین مسلم لیگ ق کے سینئر نائب صدر منتخب ہوئے ہیں، جب کہ چوہدری شافع حسین کو مسلم لیگ پنجاب کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ ڈاکٹر محمد امجد کو مسلم لیگ ق کا چیف آرگنائزر اور غلام مصطفیٰ ملک کو مرکزی سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیا ہے۔اس اجلاس میں چاروں صوبوں، اسلام آباد اور گلگت بلتستان سے جنرل کونسل کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران مختلف اہم مسائل پر بھی بحث کی گئی۔ خاص طور پر مسئلہ کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کی گئی، اور ان پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اس موقع پر ملک میں جاری دہشت گردی کی بھی شدید مذمت کی گئی، اور افواج پاکستان، رینجرز اور پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

    چوہدری شجاعت حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "قرآن ہمارا منشور ہے اور ہم خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں منافقت اور تکبر سے بچنا چاہیے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "مسلم لیگ نے پاکستان بنایا تھا، اور یہی جماعت پاکستان کو بچائے گی۔” انہوں نے تمام منتخب عہدیداروں کو پارٹی کو منظم، مستحکم اور فعال بنانے کی ہدایت دی۔

    یہ اجلاس مسلم لیگ ق کے اندرونی استحکام اور مستقبل کی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنے کی طرف ایک اہم قدم تھا۔

  • ریاست مخالف ہر شخص ،جماعت کے خلاف کھڑے ہیں، لیگی صوبائی وزرا کا اعلان

    ریاست مخالف ہر شخص ،جماعت کے خلاف کھڑے ہیں، لیگی صوبائی وزرا کا اعلان

    مسلم لیگ ن کے پارلیمانی اراکین سلیم کھوسہ، راحیلہ درانہ نے کہا ہے کہ سردار اختر مینگل کا سیاسی مستقبل تاریک ہے،عوام نفرت کی سیاست کی حمایت نہیں کرتے،جام کمال حکومت ہٹانے میں بی این پی کا کردار، قدوس بزنجو حکومت کا فائدہ اٹھایا،سردار اختر مینگل نے وڈھ اور پارٹی نےدیگر علاقوں میں کیا کام کیا، حکومت نے سردار اختر مینگل کو شاہوانی اسٹیڈیم میں جلسے کرنے کی پیشکش کی۔حکومت ہر جائز بات کو ماننے کیلئے تیار ہے، صوبے کے جو حالات ہے سب جماعتوں کو ملکر اسے آگےلے جانا چاہئے، مختلف سیاسی جماعتوں کے اکابرین مل بیٹھ کر معاملات حل کریں،حکومت کی پہلے دن سے کوشش تھی بی این پی کے ساتھ سیاسی طریقے سے مسئلہ کو حل کریں، بات چیت کیلئے جانے والے صوبائی وزرا بے اختیار نہیں تھے، جو مطالبہ کیا جارہا ہے وہ عدالتی معاملہ ہےکوئٹہ، سیاست میں آدھا تیتر آدھا بٹیر نہیں ہونا چاہئے، حکومت کی کوشش ہے بات چیت سے مسئلہ حل کرےعدالتی معاملات کو سڑکوں پر حل نہیں کیا جاسکتا، سردار اختر مینگل سیاسی انداز کی بجائے، ضد پر اڑے ہوئے ہیں، ضد کے باعث معاملات ڈیڈلاک کا شکار ہیں،دھرنے کی وجہ سے قومی شاہراہیں بند بلوچستان کے لوگوں کو تکلیف میں ڈالا گیا ہے ہماری خواتین سردار اختر مینگل سے بات کرنے میڑھ لیکر نہیں گئے*

    صوبائی وزیر راحیلہ حمید درانی نے کہاکہ ہم خود سیاسی روایات کے تحت سردار اختر مینگل کے پاس گئے، ہم نے سردار اختر جان مینگل کو راستوں کی بندش سے عوامی مشکلات سے آگاہ کیا، وہ اپنے مطالبے کے حل پر ہی دھرنا ختم کرنے پر بضد رہے، ن لیگ کے قیادت نے پاکستان کے سلامتی کی بات کی، ہماری قیادت کو اگر کوئی برا بھلا کہے ہمیں ناگوار گزرے گا، میاں نواز شریف نے ہمیشہ بلوچستان کے قوم پرستوں کو ساتھ رکھا،

  • امریکی ایوان کی کمیٹی کی طالبان کو مالی امداد روکنے کے بل کی منظوری

    امریکی ایوان کی کمیٹی کی طالبان کو مالی امداد روکنے کے بل کی منظوری

    امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی نے نئے بل کی منظوری دے دی ہے جس سے کسی بھی امریکی امداد کو طالبان تک پہنچنے سے روکا جائے گا۔

    امریکی کانگریس کے رکن برائن ماسٹ نے افغانستان کے متعلق اہم بل پیش کردیا،بل کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو افغان طالبان تک پہنچنے سے روکنا ہے،کانگریس مین برائن ماسٹ نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا ایک بھی ڈالر طالبان کے ہاتھوں میں جائے،بل کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ کو خصوصی حکمت عملی تیار کرنی ہوگی ،دیگر ممالک اور غیر سرکاری تنظیموں کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے سے روکا جائے گا،یہ بل 23 قانون سازوں کی حمایت سے کانگریس میں پیش کیا گیا ہے،امریکی حکومت نے گزشتہ تین سالوں میں افغانستان کو 2 ارب ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کی ہے،اس بل کی منظوری کے بعد، امریکی حکومت کی پالیسی مزید سخت ہو سکتی ہے

  • غیر فعال ائیرپورٹس کی تفصیلات سامنے آگئیں

    غیر فعال ائیرپورٹس کی تفصیلات سامنے آگئیں

    ملک بھر میں 10 ائیرپورٹس مکمل طور پر غیر فعال ہوگئے ہیں، تاہم اس کے باوجود ان ائیرپورٹس پر عملہ تعینات ہے۔ نئی دستاویزات کے مطابق، ان غیر فعال ائیرپورٹس پر عملے کو ماہانہ کروڑوں روپے کی تنخواہ ادا کی جارہی ہے۔

    غیر فعال ائیرپورٹس میں پاکستان کے مختلف علاقوں کے ائیرپورٹس شامل ہیں، جن میں خضدار، مظفر آباد، راولاکوٹ، بنوں، پارہ چنار، جیوانی، اوماڑہ، سیہون شریف، سبی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ائیرپورٹس شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق، بنوں ائیرپورٹ کے علاوہ تمام دیگر ائیرپورٹس پر عملہ تعینات ہے۔غیر فعال ائیرپورٹس پر مجموعی طور پر 2 افسران اور 65 اہلکاروں کا عملہ تعینات ہے۔ ان اہلکاروں کو ہر ماہ ایک کروڑ 25 لاکھ روپے سے زائد کی تنخواہ ادا کی جارہی ہے، حالانکہ یہ ائیرپورٹس مکمل طور پر غیر فعال ہیں اور ان پر کوئی پروازیں نہیں آتیں یا روانہ نہیں ہوتیں۔

    یہ انکشاف حکومت کے اخراجات اور وسائل کے بہتر استعمال کے حوالے سے ایک نیا سوال اٹھاتا ہے۔ عوام اور مختلف سیاسی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ غیر فعال ائیرپورٹس پر عملے کی تعیناتی اور ان کو تنخواہیں دینے سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی واضح بیان یا حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے غیر ضروری اخراجات کو روکنا حکومت کے مالیاتی بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

  • سگریٹ دینے سے انکار پر اجنبی کو قتل کرنیوالے ملزم کو 16 برس کی سزا

    سگریٹ دینے سے انکار پر اجنبی کو قتل کرنیوالے ملزم کو 16 برس کی سزا

    ایک سیریل کرمنل، جس نے سگریٹ دینے سے انکار کرنے پر ایک اجنبی کو قتل کر دیا تھا، کو خصوصی ڈبل جیپارڈی قوانین کے تحت کم از کم 16 سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔

    اسٹون گریگ، 47 سالہ، نے اپریل 2022 میں ڈنڈی میں ٹیکسی ڈرائیور مارک وارڈ کو شدید زخمی کر دیا تھا، گریگ نشے کی حالت میں تھا جب اس نے وارڈ کو گھاس کے ڈھالے سے نیچے دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں اس کا سر سڑک سے ٹکرا گیا۔گرے وارڈ زمین پر بے یار و مددگار پڑا رہا، جبکہ گریگ نے اس پر بار بار لاتیں ماری۔عدالت میں جج نے کہا کہ گریگ نے "کسی بھی قسم کی فکر یا توقف کے بغیر” واقعے کے بعد وہاں سے روانہ ہو گیا، اور وارڈ کو "اس کی تقدیر پر چھوڑ دیا”۔

    لیڈی ڈرمونڈ نے کہا: "یہ ایک بے معنی، تشدد پر مبنی، بغیر کسی اشتعال کے حملہ تھا، جو آپ نے ایک اجنبی پر کیا تھا۔”وارڈ کو دماغی طور پر شدید چوٹیں آئیں اور بعد میں اس کی جان بچانے کے لیے سرجری کرنی پڑی۔

    کراؤن آفس اور پراسیکیوشن سروس نے بتایا کہ وارڈ کو بعد میں مکمل دیکھ بھال کی ضرورت پڑی اور وہ اپنی شدت سے ہونے والی معذوریوں کی وجہ سے ٹھیک سے بول یا کھا نہیں سکتا تھا۔جنوری 2023 میں، گریگ کو شدید چوٹ، مستقل معذوری، مستقل مسخ اور زندگی کے خطرے کے الزامات میں پانچ سال اور چار ماہ کی سزا سنائی گئی تھی۔تاہم، تین ماہ بعد اور حملے کے ایک سال بعد، وارڈ 55 سال کی عمر میں نائن ویل اسپتال میں انتقال کر گیا۔

    ایک پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس حملے اور وارڈ کی موت کے درمیان براہ راست تعلق ثابت کیا، جس کے بعد کراؤن کونسل نے گریگ کو ڈبل جیپارڈی (اسکات لینڈ) ایکٹ 2011 کے تحت قتل کے الزام میں مقدمہ چلانے کی ہدایت کی۔گریگ نے قتل میں شریک ہونے کا اعتراف کیا لیکن قتل کے الزامات میں ٹرائل کا سامنا کیا اور جنوری میں ڈنڈی کی ہائی کورٹ میں مجرم قرار پایا۔جمعرات کو وہ ایڈنبرا کی ہائی کورٹ میں دوبارہ پیش ہوا، جہاں اسے لازمی طور پر زندگی کی سزا سنا دی گئی، جس میں کم از کم 16 سال جیل میں گزارنے کا حکم دیا گیا۔

  • رام مندر آئی خاتون کی ہوٹل کے باتھ روم میں بنائی گئی "برہنہ” ویڈیو

    رام مندر آئی خاتون کی ہوٹل کے باتھ روم میں بنائی گئی "برہنہ” ویڈیو

    آیو دھیا میں 25 سالہ ہوٹل ملازم کو جمعہ کی صبح ایک خاتون کو نہاتے ہوئے فلمانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ رام مندر کے قریب واقع ایک گیسٹ ہاؤس میں پیش آیا۔

    پولیس نے ملزم کے موبائل فون کی تفتیش کی تو اس میں دیگر خواتین کے نہاتے ہوئے کئی قابل اعتراض ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔ حکام کے مطابق ملزم کی شناخت سوربھ تیواری کے طور پر ہوئی ہے، جو بہرائچ ضلع کا رہائشی ہے۔ اسے رجا گیسٹ ہاؤس سے پکڑا گیا، جو رام مندر کے گیٹ نمبر 3 سے صرف 50 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 6 بجے پیش آیا، جب وارانسی سے آئی ہوئی ایک خاتون بھکت نے چھت سے ایک سائے کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا اور وہ محسوس کرنے لگی کہ کوئی اوپر سے اسے نہاتے ہوئے فلمارہا ہے۔ اس خاتون نے چیخ ماری اور نہانے کے کمرے سے باہر دوڑ گئی۔

    "اس نے خوف کے عالم میں مدد کے لیے آواز دی اور باتھروم سے باہر نکل آئی،” پولیس افسر نے کہا۔ ہوٹل میں موجود دوسرے مرد مہمانوں نے اس کی آواز سنی، فوراً موقع پر پہنچے اور ملزم کو پکڑ لیا۔ بعد ازاں، ملزم کو رام جنم بھومی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ملزم کے فون کی تفتیش کے دوران پولیس نے کہا کہ ان کو "کئی ویڈیوز” ملیں جو دیگر خواتین کے نہاتے ہوئے بنائی گئی تھیں۔شکایت کنندہ نے بتایا کہ وہ وارانسی سے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ رام مندر کی زیارت کے لیے آئی تھی اور گیسٹ ہاؤس میں رات گزارنے کے لیے دو کمرے بک کیے تھے۔آیو دھیہ کے سرکل آفیسر اشوتوش تیواری نے گرفتاری کی تصدیق کی۔

    "یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ جیسے ہی اطلاع ملی، ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تفصیلی تحقیقات جاری ہیں،” انہوں نے کہا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کی عمارت کی بھی تفصیلی تفتیش کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب، آیو دھیہ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے ڈی اے) نے گیسٹ ہاؤس کو غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے سیل کر دیا۔ اے ڈی اے کے سکریٹری ستندر سنگھ نے کہا، "راجا گیسٹ ہاؤس بغیر کسی اجازت کے تعمیر کیا گیا تھا اور اس وجہ سے سیل کر دیا گیا ہے۔” پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس قسم کے مزید واقعات اسی گیسٹ ہاؤس میں ہوئے ہیں یا نہیں اور آیا ان ویڈیوز کو کسی اور کو شیئر کیا گیا تھا یا نہیں۔