Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسرائیلی ہٹ دھرمی، فلسطینیوں کے لئے زندگی مزید تنگ

    اسرائیلی ہٹ دھرمی، فلسطینیوں کے لئے زندگی مزید تنگ

    اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے انخلاء کے احکامات میں مسلسل توسیع کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں غزہ کے فلسطینیوں کے لیے زندگی مزید تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی شدت کے باعث غزہ کے اندر اب کوئی محفوظ جگہ باقی نہیں رہی ہے۔ مغربی میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ پٹی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے مکمل فوجی کنٹرول میں لینا چاہتا ہے تاکہ وہ پورے علاقے کو مسمار کر کے حماس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکے۔اسرائیلی حکام کے مطابق، غزہ کے جنوبی حصے میں موجود رفح کو مستقل طور پر خالی کرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جو غزہ پٹی کے 20 فیصد علاقے پر مشتمل ہے۔ اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے نکال کر ساحلی علاقوں کی طرف دھکیلنا ہے تاکہ وہ مزید ہجرت کرنے پر مجبور ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ شمالی غزہ میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں جاری ہیں۔

    اسرائیل نے غزہ کے بقیہ علاقوں میں زمین کو تباہ کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ ایک ماہ قبل اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد کی فراہمی مکمل طور پر بند کر دی تھی، اور پچھلے ہفتے غزہ سٹی کے لاکھوں رہائشیوں کی صاف پانی کی واحد سپلائی لائن بھی کاٹ دی۔ اس صورتحال نے غزہ کے اندر زندگی کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔اسرائیل کا ایک اور منصوبہ یہ ہے کہ غزہ کے فلسطینیوں کو شام کے شمال میں بسایا جائے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، شام میں ترکیہ کی سرحد کے قریب فلسطینیوں کے لیے خیمہ بستیاں تیار کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج شام میں مزید پیش قدمی کر رہی ہے، اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج سیاحوں اور شہریوں کو حال ہی میں قبضہ کیے گئے شامی علاقے کی سیر کرانے کا انتظام کر رہی ہے۔ یہ دورے گولان ہائٹس کے متنازعہ علاقے میں اتوار سے شروع ہو کر ایک ہفتے تک جاری رہیں گے۔

    غزہ پٹی پر 19 ماہ سے جاری اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں 51 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 14 ہزار سے زائد فلسطینی ابھی تک لاپتا ہیں۔ اس صورتحال نے غزہ کے فلسطینیوں کو سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، اور عالمی برادری اسرائیل کی ان کارروائیوں پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    یہ تمام حالات غزہ کے فلسطینیوں کے لیے ایک بدترین انسانی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں، جس میں اسرائیلی حکومت کی طرف سے مسلسل نئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکال کر دیگر علاقوں میں بسایا جا سکے۔ عالمی سطح پر اس صورتحال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے، مگر عملی طور پر کسی بھی عالمی طاقت کی جانب سے اس بحران کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔

  • عمران خان کی عدالت پیشی،جیل حکام نے مانگی اضافی سیکورٹی

    عمران خان کی عدالت پیشی،جیل حکام نے مانگی اضافی سیکورٹی

    اڈیالہ جیل کے حکام نے بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو 15 اپریل کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیش کرنے کے لیے خصوصی سیکیورٹی کی درخواست کی ہے۔ یہ درخواست سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں کی گئی ہے، جس میں خصوصی گارڈز فراہم کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔

    15 اپریل کو ایڈیشنل سیشن جج، افضل مجوکہ نے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، جہاں اُن کے خلاف مختلف کیسز کی سماعت ہو گی۔ ان کیسز میں اقدامِ قتل، جعلی رسیدوں کے الزامات اور دیگر سنگین مقدمات شامل ہیں، جن میں عمران خان کی ضمانتیں زیرِ سماعت ہیں۔

    یہ قدم اُس وقت اٹھایا گیا ہے جب عمران خان کے مقدمات میں عدالتی کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے متعدد تشویشات سامنے آئی ہیں۔ اڈیالہ جیل حکام نے عمران خان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید سیکیورٹی انتظامات کی درخواست کی ہے تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے بچا جا سکے۔عمران خان کے لیے خصوصی سیکیورٹی انتظامات کا مطالبہ کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے اپنے خط میں یہ کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مزید گارڈز کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی طرح کی بدامنی یا حادثہ سے بچا جا سکے۔

    عمران خان کو گرفتاری کے بعد کسی عدالت پیش نہیں کیا گیا بلکہ انکے مقدمات کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے، اب اگر 15 اپریل کو عمران خان کو عدالت پیش کیا گیا تو سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • شہر قائد سے زینبیون بریگیڈ کا دہشت گرد گرفتار

    شہر قائد سے زینبیون بریگیڈ کا دہشت گرد گرفتار

    سندھ کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے کراچی میں ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا ہے جو زینبِیُون بریگیڈ سے منسلک تھا۔

    گرفتار ہونے والے شخص کی شناخت سید محمد موسیٰ رضوی کے طور پر کی گئی ہے، جنہیں کامران کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان پر شہر میں فرقہ وارانہ قتلِ عام میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔پولیس حکام کے مطابق، رضوی متعدد مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے کیسز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اسے فرقہ وارانہ تشدد کے مختلف واقعات میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر ملوث سمجھا جا رہا ہے۔

    یہ گرفتاری کراچی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کا حصہ ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ اس سے شہر میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مزید مدد ملے گی۔

    زینبِیُون بریگیڈ ایک دہشت گرد گروپ ہے ،پاکستان سمیت مختلف ممالک میں فرقہ وارانہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ سید محمد موسیٰ رضوی کی گرفتاری اس گروہ کے خلاف ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔پولیس حکام نے مزید کہا ہے کہ رضوی کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اس سے مزید اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک کے دوسرے اراکین کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔

  • جو مرضی کر لیں،خان کا ساتھ نہیں چھوڑنا،زرتاج گل

    جو مرضی کر لیں،خان کا ساتھ نہیں چھوڑنا،زرتاج گل

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل نے کہا ہے کہ حکومت کے جتنے بھی کیسز پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف بنائیں، ہم نے اپنے بانی چیئرمین عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑنا۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔زرتاج گل کا کہنا تھا کہ "ہم تین سال سے عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں، لیکن ہمارا عزم پختہ ہے کہ ہم اپنے قائد کا ساتھ ہر حال میں دیں گے۔ ہمیں اُمید ہے کہ ان شاء اللہ ہمیں انصاف ملے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پی ٹی آئی کو دہشت گرد بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔” ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی کوشش ہے کہ پی ٹی آئی کو بدنام کیا جائے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف جھوٹے کیسز بنائے جائیں تاکہ پارٹی کو عوامی حمایت سے محروم کیا جا سکے، لیکن پی ٹی آئی کا عزم جوں کا توں ہے۔

    زرتاج گل نے کہا کہ عوام کے حقوق کے لیے پی ٹی آئی کی جدوجہد جاری رہے گی اور ہم اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں۔ "ہمارے خلاف جتنی بھی سازشیں کی جائیں، ہم اس کا مقابلہ کریں گے اور انشاء اللہ انصاف کا بول بالا ہوگا۔”

    اس موقع پر پی ٹی آئی کے دیگر رہنما بھی عدالت میں موجود تھے، جنہوں نے زرتاج گل کی حمایت کی اور پارٹی کے موقف کو دہرایا۔

  • دہلی میں کتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا درندہ گرفتا ر

    دہلی میں کتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والا درندہ گرفتا ر

    دہلی: بھارت کے دارالحکومت دہلی سے ایک افسوسناک اور انسانیت سوز واقعے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا، جہاں ایک شخص کو بے زبان جانوروں کتوں ے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص کئی عرصے سے دہلی کی مختلف گلیوں میں آوارہ کتوں کو نشانہ بناتا رہا، تاہم حال ہی میں اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر وائرل ہوئی، جس میں اسے ایک کتے کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ ویڈیو اس کے قریبی دوست نے خفیہ طور پر بنائی اور اپ لوڈ کی، جس کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ مشتعل ہجوم نے ملزم کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا، اس کے کپڑے پھاڑ دیے اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے ابتدائی تفتیش میں 6 کتوں کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کیا ہے۔

    تاہم، ایک مقامی خاتون نے، جو ملزم کے محلے میں ہی رہائش پذیر ہے، دعویٰ کیا ہے کہ اس شخص نے مجموعی طور پر 13 کتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے۔ پولیس اس حوالے سے مزید تحقیقات کر رہی ہے اور متاثرہ جانوروں کی طبی جانچ بھی کروائی جا رہی ہے۔

    یہ واقعہ بھارت میں جنسی جرائم کی ایک افسوسناک نئی جہت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں خواتین ہی نہیں بلکہ اب بے زبان جانور بھی محفوظ نہیں رہے۔ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والے اس واقعے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے شدید مذمت کی ہے۔سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد عوام میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، اور کئی صارفین نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی درندگی کا راستہ روکا جا سکے۔

    پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ عوام کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو صرف جیل بھیجنے کے بجائے ذہنی علاج اور اصلاحی اقدامات بھی لازم قرار دیے جائیں۔

  • مالکن کے مبینہ تشدد سے کمسن ملازمہ کی موت

    مالکن کے مبینہ تشدد سے کمسن ملازمہ کی موت

    لاہور کے علاقے ہنجروال میں ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک کمسن گھریلو ملازمہ مبینہ طور پر اپنی مالکن اور اس کے شوہر کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوکر جاں بحق ہوگئی۔

    پولیس کے مطابق 10 سالہ بچی کی موت کی تحقیقات جاری ہیں۔ اہل خانہ نے بتایا کہ بچی کو کام میں کوتاہی کی وجہ سے مالکن اور اس کے شوہر نے تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ زندگی کی بازی ہار گئی۔مقامی پولیس اسٹیشن کے افسر نے بتایا کہ مقدمہ درج کرنے والے مدعی نے فون پر پولیس کو اطلاع دی کہ بچی کے بازو پر معمولی چوٹ آئی تھی، اور جب وہ عارف والا سے لاہور پہنچے تو بچی مردہ حالت میں پائی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائی کی جارہی ہے۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق مالکن اور اس کے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بچی کے والدین نے الزام لگایا کہ کام ٹھیک نہ کرنے پر بچی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اس کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا۔یہ واقعہ ایک بار پھر گھریلو ملازمین کے ساتھ ہونے والے تشدد کو اجاگر کرتا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل آیا ہے اور حکومت سے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور جلد ہی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات اعظم سواتی کی ذاتی کوشش ہے،سلمان اکرم راجہ

    اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات اعظم سواتی کی ذاتی کوشش ہے،سلمان اکرم راجہ

    اکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات پر وضاحت دے دی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے حوالے سے سامنے آنے والے سوالات کا جواب دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی کوششیں پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اعظم سواتی کی ذاتی کوشش ہے، اور پارٹی کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اعظم سواتی صاحب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات میں کوئی راہ نکالیں تو وہ اصولی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل یا رابطہ کرنے کی کوئی بات نہیں کی جا رہی۔ ہم اپنی طرف سے ایسا کوئی اقدام اٹھائیں گے جو اصولوں کی بنیاد پر ہو۔

    سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ شفاف انتخابات اور قانون کی بالادستی کی خواہش رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ عوام کو اغوا نہ کیا جائے اور ان کے حقوق کی مکمل پاسداری ہو۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اگر کوئی راستہ ایسا نکلتا ہے جس سے شخصی آزادیوں اور بنیادی حقوق کی بحالی ممکن ہو، تو پارٹی اس پر آمادہ ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی یہ سوچ رہا ہے کہ "پتلی گلی سے نکلنے” کی کوشش کی جائے گی، تو ایسا نہیں ہو سکتا۔

    اس حوالے سے گزشتہ روز جیو نیوز کے پروگرام میں جے یو آئی (ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے ان سے رابطہ کیا اور اس بات کی تردید کی تھی، تاہم سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس معاملے پر پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر سے وضاحت طلب کی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی خواہش رکھتی ہے، تو ان کا یہ عمل ان کے لیے قابل اعتراض ہے، اور اگر یہ بات بڑھتی ہے تو اپوزیشن اتحاد کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کی کوششیں جاری رکھی تو اپوزیشن اتحاد سے دو قدم پیچھے ہٹنا پڑے گا، مگر ان کے آپسی رابطوں پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

  • بیرون ملک بھیک مانگنے والے پاکستانیوں کیخلاف مقدموں کا فیصلہ

    بیرون ملک بھیک مانگنے والے پاکستانیوں کیخلاف مقدموں کا فیصلہ

    سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ملکوں سے نکالے گئے پاکستانی بھکاریوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمے چلائے جائیں گے

    پاکستانی حکام نے خلیجی ملکوں میں مقیم پاکستانی بھکاریوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک سے نکالے گئے پاکستانی بھکاریوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات دائر کیے جائیں گے۔ حکومت نے اس فیصلے کے پیچھے ایک اہم مقصد رکھا ہے جس کے تحت پاکستانی بھکاریوں کی غیر قانونی موجودگی اور ان کے ذریعے پاکستان کے قومی وقار کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کی روک تھام کی جائے گی۔

    پاکستانی حکومت نے اس بات کا اصولی فیصلہ کیا ہے کہ خلیجی ممالک میں موجود پاکستانی بھکاریوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ ان کے ذریعے پاکستان کی شبیہ متاثر نہ ہو۔ اس فیصلے کے مطابق، انسداد دہشت گردی ایکٹ میں نئی ترامیم متعارف کرائی جائیں گی جن کے تحت بھکاریوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔

    ذرائع کے مطابق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک نے حالیہ عرصے میں پاکستان کی حکومت کو شکایت کی تھی کہ پاکستان سے بھکاریوں کے خاندان ان ملکوں میں منتقل ہو رہے ہیں اور وہاں پر وہ بھیک مانگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف ان ملکوں کے قوانین کے خلاف ہے بلکہ ان کے شہریوں میں بھی منفی تاثرات پیدا کر رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں بھیک مانگنا ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔

    پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک سے ملنے والی شکایات کے پیش نظر انسداد دہشت گردی ایکٹ میں نئی ترامیم کی جائیں گی تاکہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کا سدباب کیا جا سکے اور پاکستانیوں کو ان ممالک میں وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے غیر قانونی امیگریشن کے معاملے پر بھی کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایسے افراد جو کسی بھی طرح سے غیر قانونی طور پر ملکوں میں داخل ہوں، ان کی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔

    حکومت کا موقف ہے کہ غیر قانونی بھیک مانگنے والے افراد نہ صرف اپنی ذاتی عزت اور وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ملک کے قومی وقار کو بھی داغدار کرتے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ایسی سرگرمیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ پاکستان کی شبیہ کو بہتر بنایا جا سکے اور غیر قانونی امیگریشن کو روکا جا سکے۔حکومت نے اس فیصلے کو ملک کے مفاد میں ایک ضروری قدم قرار دیا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس معاملے پر تعاون مزید مضبوط ہوگا۔

  • اسلام آباد،پنجاب، خیبر پختونخوا کے شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    اسلام آباد،پنجاب، خیبر پختونخوا کے شہروں میں زلزلے کے جھٹکے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    پنجاب میں راولپنڈی، اٹک، چنیوٹ، چکوال، میانوالی اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے،اس کے علاوہ پشاور، مردار، مہمند اور شبقدر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے لکی مروت، نوشہرہ، صوابی، لوئر دیر اور مالا کنڈ میں بھی محسوس کیے گئے ہیں،ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کی زیر زمین گہرائی 12 کلو میٹر تھی، تاہم زلزلے کے باعث کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے،زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز راولپنڈی سے 60 کلو میٹر شمال مغرب میں تھا۔

  • افغان خواتین کی پاکستان بدری،ملالہ یوسفزئی میدان میں آ گئیں

    افغان خواتین کی پاکستان بدری،ملالہ یوسفزئی میدان میں آ گئیں

    نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے ادارے ملالہ فنڈ نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان لڑکیوں اور خواتین کی ملک بدری کا عمل فوری طور پر روک دے۔

    ملالہ فنڈ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا جس میں حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ وہ افغان مہاجرین اور طویل عرصے سے پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کا عمل روک دے۔بیان میں ملالہ فنڈ نے کہا کہ حکومت افغانستان میں طالبان کے ظلم و ستم کا شکار افغان لڑکیوں اور خواتین کو بھی پاکستان سے نکال رہی ہے، جو نہ صرف ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ان کی زندگیوں کو مزید خطرات میں ڈال رہا ہے۔ تنظیم نے اس عمل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کی ملک بدری سے نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے بلکہ اس سے بے گناہ شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    ملالہ فنڈ نے عالمی برادری، حکومتوں، فاؤنڈیشنز، سول سوسائٹی اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ افغان شہریوں کی مدد کریں، خصوصاً ان افغان افراد کی جو اپنے وطن میں ہونے والی جبر و استبداد سے بچ کر پاکستان میں پناہ گزین ہوئے ہیں۔تنظیم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کے اندر افغان شہریوں کی موجودگی نہ صرف ایک انسانی ہمدردی کی ضرورت ہے بلکہ یہ پاکستان کے بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق بھی ہے، اور افغان مہاجرین کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا پاکستان کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔

    ملالہ فنڈ کے اس بیان کے ذریعے دنیا بھر میں افغان خواتین اور لڑکیوں کے لیے مزید حمایت کی ضرورت کا اظہار کیا گیا ہے اور ساتھ ہی پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ان افراد کو وطن واپس نہ بھیجے جو اپنے وطن میں طالبان کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔