Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یرغمالیوں کی رہائی،اسرائیلی وزیراعظم نے پھر ٹرمپ سے مانگی مدد

    یرغمالیوں کی رہائی،اسرائیلی وزیراعظم نے پھر ٹرمپ سے مانگی مدد

    سی این این کی ہیرہ ہمایوں اور اورین لبرمین کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک نئے معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔

    نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ایک بیان میں کہا، "یرغمالی کرب میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ان سب کو باہر نکال سکیں۔ اسٹیو وٹکوف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت قابل نمائندے ہیں۔ انہوں نے ہمیں ایک معاہدہ حاصل کرنے میں مدد کی جس کے تحت 25 یرغمالی رہا ہوئے تھے۔ ہم اب ایک اور معاہدے پر کام کر رہے ہیں جس کی ہمیں امید ہے کہ یہ کامیاب ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا کہ وہ یرغمالیوں کے اہلِ خانہ سے "روزانہ” بات کرتے ہیں۔

    نیتن یاہو کو مسلسل تنقید کا سامنا رہا ہے کہ وہ یرغمالیوں کے اہلِ خانہ سے باقاعدہ رابطہ نہیں کرتے، خاص طور پر اُن یرغمالیوں کے بارے میں جنہیں پچھلے جنگ بندی معاہدوں کے دوران رہا کیا گیا تھا۔ کئی سابق یرغمالی اور ان کے اہلِ خانہ نے اس کے بجائے صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے کو عمل میں لائیں۔ پچھلے مہینے آٹھ سابق یرغمالی وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملے اور ان سے کہا کہ وہ باقی یرغمالیوں کو اسرائیل واپس لائیں۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل "غزہ کے عوام کو یہ اختیار دینے کے لیے پرعزم ہے کہ وہ آزادانہ طور پر انتخاب کر سکیں کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صدر ٹرمپ نے ایک "جرات مندانہ وژن” پیش کیا تھا جس پر پیر کو بات کی گئی تھی، اور جس میں فلسطینیوں کو یہ اختیار دینے کی بات کی گئی تھی کہ وہ ایسے ممالک میں جائیں جو انہیں قبول کریں۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کا امریکہ سے تجارتی خسارے اور رکاوٹوں کے خاتمے کا اعلان
    اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ اسرائیل اپنے امریکہ کے ساتھ تجارتی خسارے اور تجارتی رکاوٹوں کو بہت جلد ختم کرے گا۔ نیتن یاہو نے بتایا کہ اسرائیل ان تمام تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرے گا جو "بلا وجہ” عائد کی گئی تھیں۔نیتن یاہو کا کہنا تھا، "ہم فوری طور پر اور تیزی سے ان ٹیکسز کو ختم کریں گے۔” ان کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید بہتری آ سکے۔

    اس بات کا ذکر کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں اور اسرائیل ان اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر تجارتی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل دوسرے ممالک کے لیے ایک نمونہ بنے تاکہ وہ بھی تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

    یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے بیشتر ممالک کے لیے جوابی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان ٹیکسوں میں اسرائیل کو بھی شامل کیا گیا تھا، جس کے تحت اسرائیل پر 17 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے دنیا بھر میں تجارتی تعلقات پر اثرات ڈالے ہیں اور اس کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا تھا۔

    اس ملاقات میں، دونوں رہنماؤں نے مختلف عالمی مسائل پر گفتگو کی۔ ان مسائل میں اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا مسئلہ اور اسرائیل کے داخلی معاملات شامل تھے۔ وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کی سلامتی کے لیے ضروری ہیں۔دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کے دفاع میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔

    اس دوران وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک اہم فیصلہ کیا گیا، جس میں ایک نیوز کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا۔ یہ نیوز کانفرنس اس دن کے آخر میں ہونے والی تھی، لیکن اچانک اس کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک غیر ملکی رہنما نے صدر ٹرمپ کے ساتھ تجارتی ٹیکس کے حوالے سے مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔

    اسرائیل پر عائد کیے گئے 17 فیصد ٹیکس کے نتیجے میں اسرائیلی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے تجارتی خسارے میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، اسرائیل نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان ٹیکسوں کے خاتمے کے لیے اپنی پوری کوششیں کرے گا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں توازن پیدا ہو سکے۔

    اس ملاقات کے بعد وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امید ظاہر کی کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی اور دونوں ممالک تجارتی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ قریب آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نہ صرف اسرائیل کے مفاد میں ہے بلکہ امریکہ کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔ نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل دنیا کے دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے کہ وہ بھی تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔اس کے علاوہ، نیتن یاہو نے اس بات کی وضاحت کی کہ اسرائیل کے لیے عالمی تجارتی تعلقات میں کامیابی کا راز امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں ہے۔

  • غزہ لہولہو،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام اسرائیلی مظالم کیخلاف احتجاج

    غزہ لہولہو،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام اسرائیلی مظالم کیخلاف احتجاج

    شہروں میں مظاہرے، ریلیاں،ہزاروں افراد کی شرکت،اسرائیل کیخلاف نعرے بازی
    ہم حاضر ہیں،فلسطینیوں کی مدد کیلئے پاکستانی عوام کا پیغام،اسرائیل کو دہشتگرد قراردیا جائے،مقررین کے خطابات

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام غزہ لہو لہو مہم کے تحت مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا گیا، لاہور،کراچی،اسلام آباد، پشاو،کوئٹہ ملتان، فیصل آباد، سکھر،حیدرآباد ،قصور،گوجرانوالہ ،شیخوپورہ ،نواب شاہ، مٹیاری،ہالا،گولارچی سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے،مظاہروں میں نوجوانوں، بزرگوں اور بچوں سمیت تمام مکاتب فکر کے ہزاروں افراد شریک ہوئے، شرکاء نے اسرائیلی کھلی دہشت گردی پر اقوام متحدہ، او آئی سی، اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی پر بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔لاہور پریس کلب کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ شرکا نے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے پلے کارڈز، بینرز اٹھا رکھے تھے. لاہورپریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید،سیکرٹری جنرل لاہور مزمل اقبال ہاشمی،شیخ نعیم بادشاہ،تابش قیوم و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جو خون بہہ رہا ہے، وہ صرف فلسطینیوں کا نہیں، بلکہ پوری امت کا ہے۔ مسلم ممالک فوری طور پر اسرائیل سے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کریں،اسلامی ممالک پر مشتمل دفاعی بلاک تشکیل دیا جائے جو نہ صرف فلسطین بلکہ ہر مظلوم مسلم ملک کا محافظ ہو،عالمی سطح پر اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دینے کی مہم چلائی جائے۔ سیف اللہ قصور ی کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو یاد رکھو تمہارے ظلم کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔آج غزہ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سب کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔اگر اسرائیل کیخلاف کھڑا ہونا چاہتے ہو تو مسلم ممالک کو اپنی صفوں کو اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔اپنی عوام کو پیغام دیتا ہوں کہ اپنی حکومت کیخلاف کھڑا ہونا کسی صورت ٹھیک نہیں ہے۔ پاکستان کی عوام فلسطینیوں کے ساتھ ہے، سب کو کھڑا کریں گے، لوگوں کو شعور،بیداری کی لہر پیدا کریں گے، غزہ کی سسکتی انسانیت کا درد ہر پاکستانی کے دل میں ہے۔مرکزی مسلم لیگ کا غزہ لہو لہو مہم کے تحت ہفتہ یکجتہی فلسطین مہم کے تحت کل منگل کو بھی احتجاجی مظاہرے ہوں گے،بدھ ،جمعرات کو سیمینار و کانفرنسز،جمعہ کو ملک گیر احتجاج ہو گا

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرے سے صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعوسسندھو و دیگر نے خطاب میں کہا کہ آج دنیا کی آنکھوں کے سامنے غزہ میں ظلم کا جو بازار گرم ہے، وہ انسانی ضمیر، عالمی اداروں اور مسلم حکمرانوں کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے، اسرائیل نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا دی ہیں بلکہ انسانیت کو بھی شرمندہ کر دیا ہے،معصوم بچوں کی چیخیں، ماؤں کی آہیں، اور شہیدوں کے جنازے گواہ ہیں کہ اسرائیل ایک دہشتگرد ریاست، جو زمین سے نیست و نابود کیے جانے کے قابل ہو چکی ہے،ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اب مذمتوں اور قراردادوں کا وقت نہیں ،عملی اقدام اٹھائے جائیں.

    کراچی میں‌ مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم، کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان،شیر بہادر،شہباز عبدالجبار
    ،اشرف علی، قاضی احمد نورانی،قیس منصور شیخ،صابر ابو مریم و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مہذب نہیں قاتل ریاست ہے۔اقوام متحدہ میں جس ملک کی سب سے زیادہ مذمت کی گئی ہے وہ اسرائیل ہے۔کسی بھی ظالم کا وجود دنیا میں برقرار نہیں رہتا۔اسرائیل اور امریکا اپنے ظلم کی وجہ سے مٹ جائیں گے۔غزہ کے شہریوں نے مزاحمت کی تاریخ رقم کر دی۔کراچی کے تاجروں کو داد دیتا ہوں جنہوں نے آج اظہار یکجہتی کے لیے ہڑتال کی۔ہم اپنی مارکیٹوں میں جائیں اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائیں،غزہ کے قتل عام میں اسرائیل کے مدد گار نہ بنیں۔جس دکان میں اسرائیلی مصنوعات ہوں گی اس کا بائیکاٹ کریں گے۔

    پشاور میں بھی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور فلسطینی شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی، شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ،خیبرپختونخواجنوبی زون کے صدر یاور آفتاب، صدر پشاور انعام اللہ و دیگر کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ نسل کشی، درندگی اور انسانیت کی تذلیل ہے۔ اسرائیل نے جنگی جرائم کی ہر حد پار کر دی ہے، اور امریکہ اس ظلم کا سب سے بڑا سرپرست ہے،صہیونی ریاست کی خون آشام پالیسیاں عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، اسرائیل انسانیت کا چہرہ مسخ کر رہا ہے۔ آج اگر دنیا خاموش رہی، تو کل کوئی محفوظ نہیں رہے گا.

    کوئٹہ میں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کےشر کا سے صوبائی صدر حافظ محمد امجد و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی محض مردہ جسم بن چکی ہے، جو صرف تعزیتی بیانات تک محدود ہے۔او آئی سی کی خاموشی فلسطینیوں کے خون میں شامل ہو چکی ہے، اب اگر تم نہیں جاگو گے، تو تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی،بلوچستان کے باسی، پاکستانی قوم دل سے فلسطینیوں کے ساتھ ہے۔

    فیصل آباد،ملتان، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، قصور، بہاولنگر ،چیچہ وطنی، حیدرآباد ،پاکپتن،نواب شاہ ،گولارچی و دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں حافظ عبدالرؤف، حافظ ابو الحسن، حافظ محمد اشفاق،ابو طارق ، مفتی زبیر ، حافظ عبدالمنان و دیگرنے خطابات میں کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز، غاصب اور قاتل ریاست ہے جو غزہ میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ آج غزہ کی گلیوں میں بچوں کی لاشیں ہیں، ماؤں کی چیخیں ہیں، اور دنیا کا ضمیر بے حس ہو چکا ہے،ہر گرتا ہوا فلسطینی بچہ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے سوال کر رہا ہے، کیا میرا خون سستا ہے؟،امریکہ، تم اسرائیل کو اسلحہ دیتے ہو، سفارتی تحفظ دیتے ہو، اور پھر انسانی حقوق کی بات کرتے ہو، تم دراصل اس بربریت کے اصل مجرم ہو، تمہاری منافقت اب بےنقاب ہو چکی ہے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے گولارچی پریس کلب کے سامنے بھی فلسطین پر اسرائیلی دہشتگردی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا.

  • فوجی عدالتیں آئین کی کس شق کے تحت ہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    فوجی عدالتیں آئین کی کس شق کے تحت ہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیس میں جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کنٹرول کرنا پارلیمان کا کام ہے عدالت کا نہیں۔

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کےفیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی ،وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب کے دلائل دیے،دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ” آپ کے مطابق فوجی عدالتیں آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتیں، فوجی عدالتیں آئین کی کس شق کے تحت ہیں پھر یہ بتا دیں”؟ جس پر وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ کورٹ مارشل کے حوالے سے کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں، عدالتوں نے صرف دیکھنا ہوتا ہے کہ ٹرائل آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا دہشتگردی کنٹرول کرنا پارلیمان کا کام ہے عدالت کا نہیں، عدالت یہ سوچنے لگ گئی کہ فیصلے سے دہشتگردی کم ہوگی یا بڑھے گی تو فیصلہ نہیں کر سکے گی،بعد ازاں آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی،خواجہ حارث کل بھی جواب الجواب جاری رکھیں گے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کے مطابق فوجی عدالتیں آرٹیکل 175 کے زمرے میں نہیں آتیں،فوجی عدالتیں آئین کی کس شق کے تحت ہیں پھر یہ بتا دیں؟

    دوسری جانب چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں 9 مئی کے مبینہ ملزمان کی ضمانت کی منسوخی کیس میں حکم دیا ہے کہ ضمانت پر رہا کیے گئے ملزمان تفتیش کے لیے 7 دن کے اندر عدالت میں پیش ہوں۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں 9 مئی کے مبینہ ملزمان کی ضمانت کی منسوخی سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالتی آپشنز پر نئی ہدایات کے لیے مزید مہلت مانگی، جس پر عدالت نے پنجاب حکومت کو کل تک کا وقت دے دیا،سماعت کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ فرض کرلیں ضمانت کا فیصلہ واپس لے لیں پھر کیا ہوگا؟ جس پر پنجاب حکومت کے وکیل ذوالفقار نقوی نے کہا کہ 9 مئی صرف احتجاجی ریلی نہیں تھی، 9 مئی کو ایک ادارہ پرحملہ کیا گیا، جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو 3 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا کہہ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضمانت منسوخ کریں تو پھر ٹرائل رہ جائیں گے، جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ ٹرائل پراسیکیوشن مکمل کروائیں گے، جس پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم سے کسی قسم کی فائڈنگ نہ لیں، کہہ دیتے ہیں کہ جن کی ضمانت ہو چکی ہے وہ 7 دن میں شامل تفتیش ہوں، 7 دن میں ملزمان شامل تفتیش ہوں تاکہ عدالت فیصلہ کرے۔

    چیف جسٹس یحیٰی آفریدی نے حکم دیا مبینہ ملزمان تفتیش کے لیے 7 دن کے اندر اندر عدالت میں پیش ہوں ، ٹرائل کورٹ کو 4 ماہ میں فیصلہ سنانے کی ہدایت بھی کر دیں گے،اس موقع پر پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ 3 ماہ میں ٹرائل مکمل نہیں ہوگا، ٹرائل عدالتوں میں چالان داخل نہیں ہو سکیں گے، مجھے اس آپشن پر ہدایات کے لیے کل تک کی مہلت دے دیں، چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

  • ارب پتی شوہرکا طوائفوں سے تعلق،مجھے دوستوں کے ساتھ”جنسی تعلق” کا کہتا،خاتون

    ارب پتی شوہرکا طوائفوں سے تعلق،مجھے دوستوں کے ساتھ”جنسی تعلق” کا کہتا،خاتون

    بھارتی ٹیک ارب پتی کی بیوی کے تہلکہ خیز الزامات

    سنگاپور میں مقیم ارب پتی ٹیک انٹرپیرینیور بھارتی نژاد پرسنا شنکر نارائنن کی علیحدگی اختیار کرنے والی بیوی نے ان پر طوائفوں سے تعلقات رکھنے اور انہیں کھلی شادی قبول کرنے پر مجبور کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ الزامات شنکر کی جانب سے اپنی بیوی پر ہراساں کرنے کے الزامات کے بعد سامنے آئے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی بیوی پر ان کے بیٹے کو اغوا کرنے کا الزام لگایا تھا۔

    شنکر، جو ‘رپلنگ’ کے شریک بانی ہیں اور فوربز کے مطابق ان کی مالیت 1.3 بلین ڈالر ہے، نے حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ چنئی پولیس سے ‘فرار’ ہیں کیونکہ ان کی بیوی دیویا ششی دھر نے ان کے بیٹے کو ‘اغوا’ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس غیر قانونی طور پر ان کے سیل فون لوکیشن، کار، یو پی آئی اور آئی پی ایڈریس کو ٹریک کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ششی دھر کا کسی اور کے ساتھ ناجائز تعلق تھا، جبکہ وہ اپنے بیٹے کی حوالگی کے لیے لڑ رہے تھے۔

    تاہم، ان کی بیوی کا بیان اس تنازعہ کی ایک بالکل مختلف تصویر پیش کرتا ہے، جس میں شنکر پر طوائفوں سے تعلقات رکھنے، ششی دھر پر کھلی شادی قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے اور ان کی جاسوسی کے لیے گھر میں خفیہ کیمرے لگانے کے الزامات شامل ہیں۔ سان فرانسسکو اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق، انہوں نے اپنی کہانی کی تائید کے لیے بین الاقوامی حوالگی کی جنگ سے متعلق عدالت کے سینکڑوں صفحات کے دستاویزات، ای میلز، تصاویر اور دیگر ریکارڈز بھی پیش کیے ہیں۔انہوں نے ایک انٹرویو بھی دیا جس میں دعویٰ کیا کہ شنکر نے اپنی بے پناہ دولت کو ٹیکس سے بچانے کے لیے انہیں اور ان کے 9 سالہ بیٹے کو ملک در ملک گھمایا۔

    اپنے شوہر کے کنٹرول میں رہنے کی اذیت کو بیان کرتے ہوئے، ششی دھر نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ‘بدترین خواب’ تھا۔ انہوں نے سان فرانسسکو اسٹینڈرڈ کو بتایا کہ شنکر نے 2016 میں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد انہیں ‘تکلیف دہ جنسی تعلق’ پر مجبور کیا، اور دعویٰ کیا کہ یہ مردوں کی فطری ضرورت ہے۔ جب انہوں نے انکار کیا تو شنکر نے نتائج کی دھمکی دی۔ششی دھر نے انکشاف کیا، "پرسنا آتے اور مجھ سے کہتے، ‘دیکھو، جنس میری فطری ضرورت ہے۔ تمہیں یہ کرنا ہوگا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تمہیں کتنا درد ہو رہا ہے۔’”انہوں نے مزید کہا، "وہ مجھے لفظی طور پر کہتے تھے کہ، ‘اگر تم یہ نہیں کرو گی، تو میں باہر جا کر یہ کروں گا۔’”

    رپورٹ میں ششی دھر کو دسمبر 2019 کے ایک ای میل کا حوالہ دیا گیا ہے، جہاں شنکر نے انہیں تصاویر اور نرخوں کے لیے کئی طوائفوں سے رابطہ کرنے کے بارے میں بتایا، اس سے پہلے کہ وہ گھبرا گئے۔انہوں نے لکھا، "میں ہمارے ازدواجی زندگی پر پڑنے والے دباؤ کے لیے بہت معذرت خواہ ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں دوبارہ کبھی بھی ہمارے ازدواجی زندگی کو اس صورتحال میں نہیں ڈالوں گا۔” اسی دن ایک اور ای میل میں، شنکر نے اپنی شادی کو دوسرے شراکت داروں کے لیے کھولنے کی تجویز پیش کی۔ششی دھر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے شوہر کے لیے اپنے کیریئر کو قربان کیا۔

    جوڑے کی ملاقات 2007 میں ہوئی اور دو سال بعد انہوں نے ڈیٹنگ شروع کی۔ شنکر اور ششی دھر دونوں ہی اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد تھے۔ شنکر سلیکون ویلی میں گمنام فلرٹنگ کے لیے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنا رہے تھے، جو بالآخر ناکام ہو گیا، اور ششی دھر کیمبرج یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔2013 میں ان کی دوبارہ ملاقات ہوئی جب ششی دھر نیدرلینڈ میں تھیں، جہاں وہ شیل کے لیے کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے ششی دھر کے خاندان کے خدشات کے باوجود شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ شنکر نے انہیں ایک وسیع منگنی کی تجویز سے راضی کیا۔شنکر 2015 میں سان فرانسسکو واپس آئے، جہاں انہوں نے ایک ہیلتھ کیئر اسٹارٹ اپ میں انجینئرنگ ڈائریکٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ 2017 میں، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی ایک تحقیقات میں پایا گیا کہ کمپنی سرمایہ کاروں کو گمراہ کر رہی تھی، جس کے بعد شنکر نے استعفیٰ دے دیا۔2017 کے اوائل میں، انہوں نے اپنا اسٹارٹ اپ ‘رپلنگ’ شریک بانی کیا، جو کاروباروں کو انسانی وسائل، آلات اور مالیات چلانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، وہ ‘رپلنگ’ کے 9 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ان کے ساتھیوں نے انہیں "کوڈنگ گاڈ” اور "انتہائی اچھا انجینئر” قرار دیا، لیکن ان کی بیوی نے دعویٰ کیا کہ وہ گھر میں لاپرواہ تھے۔ عدالتی ٹرانسکرپٹس میں، ششی دھر نے دعویٰ کیا کہ شنکر ایک شوہر اور باپ کے طور پر "بہت لاپرواہ” تھے۔

    ششی دھر نے گواہی دی، "وہ گھر واپس آتے، اور اپنے لیپ ٹاپ کے ساتھ بیٹھتے… جب وہ آتے، تو ہمارے پاس ایک محدود، تھوڑا وقت ہوتا تھا۔”تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ محدود وقت کے باوجود، شنکر ہمیشہ ان سے جنسی تعلق کا مطالبہ کرتے تھے۔

    2020 میں، ششی دھر نے دعویٰ کیا کہ شنکر خاندان کو واشنگٹن ریاست میں منتقل کر دیا۔ اپنی گواہی میں، ششی دھر نے کہا کہ شنکر کو کمپنی کے قیام پر موصول ہونے والے ‘رپلنگ’ کے حصص کی بڑی رقم کی توقع تھی اور وہ کیلیفورنیا انکم ٹیکس سے بچنا چاہتے تھے۔اس دوران، ششی دھر مبینہ طور پر مائیکروسافٹ میں سینئر پروگرام مینیجر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ شنکر ان پر جنسی تعلق کے لیے کام سے چھٹی لینے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے، اور اگر وہ تعمیل کرنے میں ناکام رہیں تو دوسرے شراکت داروں کو تلاش کرنے کی دھمکی دیتے تھے۔وہ دو سال تک واشنگٹن میں رہے، جس کے بعد شنکر خاندان کو سنگاپور لے گئے۔ ششی دھر کی گواہی کے مطابق، شنکر نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ وہ امریکہ سے باہر اپنی کچھ جائیداد کو ٹیکس حکام کی توجہ مبذول کرائے بغیر خود کو واپس لانا چاہتے تھے۔شنکر نے عدالت میں یہ بھی تسلیم کیا کہ امریکی ساموا اور سینٹ کٹس اور نیوس میں خاندانی اثاثے چھپائے گئے تھے، اور انہوں نے سوچا کہ خاندان کے لیے امریکی ٹیکس ادا کرنا فضول ہے، اور یہ ان کی منتقلی کی ایک وجہ تھی۔منتقل ہونے سے پہلے، انہوں نے ‘رپلنگ’ سے غیر حقیقی سرمائے کے منافع پر باہر نکلنے کا ٹیکس ادا کرنے سے بچنے کے لیے اپنے ویزا کی حیثیت بھی تبدیل کر دی۔

    سنگاپور منتقل ہونے کے بعد، ششی دھر نے اپنی ملازمت کھو دی اور شنکر کے ذریعے ڈیپینڈنٹ ویزا پر کام کرنے سے قاصر رہیں۔اس کے بعد جوڑے کے لیے مشکلات بڑھ گئیں، کیونکہ شنکر اکثر اپنی بیوی کو بتاتے تھے کہ وہ ان کے کسی بھی پیسے کی حقدار نہیں ہیں، رپورٹ میں کہا گیا۔

    ششی دھر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب وہ گھر پر رہتی تھیں اور اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کرتی تھیں، تو شنکر ان لوگوں کے گروہ میں شامل ہو گئے جنہیں انہوں نے "اعلیٰ سوسائٹی کے عیش پرست” کہا اور "متعدد شراکت داروں،طوائفوں کے ساتھ فضول جنسی رویوں” میں ملوث رہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شنکر انہیں اپنے دوستوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی بھی ترغیب دیتے تھے، جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ انہوں نے گواہی دی کہ اس سے وہ "خوفزدہ”، "تذلیل” اور "تباہ” ہو گئیں۔انہوں نے مزید کہا، "وہیں ہماری شادی ٹوٹ گئی۔”

    شنکر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بیوی کا کسی اور کے ساتھ ناجائز تعلق تھا، جس کے بعد وہ طلاق کے عمل سے گزر رہے تھے۔ وہ اس رقم کی شرائط پر بات چیت کر رہے تھے جو انہیں انہیں ادا کرنی تھی، جس سے وہ ناخوش تھیں۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کی بیوی نے ان کے کم عمر بیٹے کو امریکہ "اغوا” کر لیا، جس کی وجہ سے انہیں بین الاقوامی بچوں کے اغوا کا مقدمہ درج کرانا پڑا، لیکن امریکی عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیا، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے۔معاہدے کی شرائط کے تحت، شنکر کو اپنی بیوی کو تقریباً 9 کروڑ روپے اور 4.3 لاکھ روپے ماہانہ ادا کرنے تھے اور اپنے بیٹے کی مشترکہ حوالگی حاصل کرنی تھی۔اس کے بعد، ششی دھر نے ان سے چنئی آنے اور اپنے بیٹے کی حوالگی بانٹنے کے لیے بات چیت کی، جو کچھ عرصے کے لیے ہوا۔

    تاہم، دونوں کے درمیان تناؤ اس وقت بڑھ گیا جب ان کی بیوی نے ایم او یو کی تعمیل کرنے سے انکار کر دیا، خاص طور پر ان کے بچے کا پاسپورٹ مشترکہ لاکر میں جمع کرانے پر۔اس کے نتیجے میں ایک اور قانونی جنگ ہوئی، شنکر نے عدالتوں سے رجوع کیا، اور کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی حوالگی صرف اس صورت میں بانٹیں گے جب پاسپورٹ لاکر میں جمع کرایا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ عدالتی سماعت میں شریک نہیں ہوئیں اور اس کی بجائے ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی۔غلط گرفتاری کے خوف سے، ٹیک ارب پتی اپنے بیٹے کے ساتھ فرار ہو گئے۔شنکر کے مطابق، انہوں نے پولیس کو یہ ثبوت بھی فراہم کیا کہ ان کا بیٹا محفوظ اور "خوش” ہے، لیکن پولیس نے انہیں تلاش کرنا جاری رکھا۔

  • انکے بیٹے مریں نہ ، اٹھائے جائیں تو ان کو پتہ چلے ، لاپتہ بیٹوں کی والدہ کی عدالت میں دہائی

    انکے بیٹے مریں نہ ، اٹھائے جائیں تو ان کو پتہ چلے ، لاپتہ بیٹوں کی والدہ کی عدالت میں دہائی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہر اقتدار سے 20 روز سے لاپتہ 2 بھائیوں کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس انعام امین منہاس کی جانب سے وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، درخواست گزار والدہ امینہ بشیر اپنی بیٹی کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئی،دو بھائی 38 سالہ سیف الرحمن حیدر اور 30 سالہ محمد علی 19 مارچ سے لاپتہ ہیں

    جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ آئی جی صاحب آپ کو کہا تھا خود تفصیلی رپورٹ پیش کریں ، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اسپیشل تحقیقاتی ٹیم میں نے بنائی تھی انہوں نے پوری کوشش کی ہے ، جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا ان کا اغوا اسلام آباد سے ہوا ہے ؟ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ 22 اور 23 مارچ بہاولپور اوچ شریف کی ان کی سمز کی ایکٹیوٹی ملی ہے ،ہماری ٹیم بہاولپور گئی ہم نے آئی جی پنجاب کو بھی بتایا کہ بہاولپور میں سم کی ایکٹیویٹی ملی ہے ، اس وقت بھی اسلام آباد پولیس کی ٹیم بہاولپورمیں موجود ہے ،سندھ کے آئی جی کو بھی لکھا ہے وہاں اس طرف وہ نا جائے ،ایک ٹیم سندھ کی طرف بھی گئی ہے ،دونوں فون انہی دونوں بھائیوں کے تھے ، 19 سے 21 مارچ تک فون بند رہے ہیں 22 اور 23 مارچ کو سم ایکٹیوٹی ہوئی ہے

    جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اسلام آباد چھوٹا سا ضلع ہے اس طرح اغوا ہو گیا کیا سیف سٹی کام کر رہا ہے ؟آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اس طرف والا ایریا (سیف سٹی سے) کور نہیں ہے ،ان دونوں بھائیوں کا تعلق بہاولپور سے ہے یہ بھی دیکھنا ہے یہ اغوا ہے ؟جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ الزام یہ ہے کہ دو بھائیوں کو اسلام آباد سے اغوا کیا گیا ذمہ دار کون ہے اسی لئے آپ کو بلایا ہے ، کاغذی رپورٹ نہیں پریکٹیکلی مجھے بتائیں آپ نے کیا کیا ہے، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اوچ شریف سمیت 4 علاقے ہیں بہاولپور اور وہاڑی پولیس سے لوکیٹر بھی لیے ہیں ، جن ٹیلی فون نمبرز پر رابطے ہوئے ہیں ہم ان کو بھی دیکھ رہے ہیں ،جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ آئی جی صاحب رپورٹس دیں لیکن بندے آپ نے ریکور کرنے ہیں ،میری ہدایت ہے بندے پیش کریں ، آئی جی نے کہا کہ ہم سی ڈی آر کے حوالے سے آئی بی سے بھی معاونت لے رہے ہیں ، بہاولپور پر ہم نے تین سرچ آپریشنز کئے ہیں ،جن کے نمبرز پر رابطے ہوئے ہیں ان کے بھی انٹرویوز کیے ہیں ، موٹر وے کی ہزاروں کی تعداد میں گاڑیوں کا ڈیٹا لیا ہے جو گاڑیاں بہاولپور کی طرف گئیں ہیں ،پنجاب سندھ کا بارڈر ہم نے دیکھ لیا ہے ،جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اس کا حتمی نتیجہ کیا ہے جو آپ کر رہے ہیں ؟آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ دو دن اگر موبائل کی ایکٹیوٹی ہوئی ہے وہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں ،

    جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اس طرح اغوا اسلام آباد سے ہو گا تو پولیس کی کیا کارکردگی ہو گی ؟ آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اس وقت دو صوبوں کی پولیس ہمارے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے ،جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اب یہ بتائیں یہ کر بھی سکیں گے یا نہیں ، آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ اگر جینوئن اغوا والا معاملہ ہوا تو ضرور ہم کریں گے ، ہم 100 فیصد ریکور کریں گے اور ان کو عدالت کے سامنے پیش کریں گے ، جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اگر پولیس ان کو ریکور نہیں کرے گی تو پھر پرچہ ان پر ہو گا ، جسٹس انعام امین منہاس نے اسٹیٹ کونسل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ (اسلام آباد پولیس) ذمہ دار نہیں ہے ؟ یہ سادہ سا الزام ہے بندے یہاں سے اٹھائے گئے ہیں ،آئی جی صاحب یہ نہیں کرنا چاہتے تو بتا دیں ، اسٹیٹ کونسل نے کہا کہ میڈیا ٹرائل عدالت کا بھی ہمارا بھی ہو رہا ہے وہ تو نہیں ہونا چاہیے،

    دو لاپتہ بیٹوں کی والدہ کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہو گئیں،بولیں،کفر کا نظام چل سکتا ہے ظلم کا نہیں ،یہ جو کر رہے ہیں مجھے نظر آرہا ہے ، یہ سب مسلمان یہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں ، میں کہتی ہوں ان کے بیٹے مریں نا لیکن اسی طرح کہیں اٹھائے جائیں تو ان کو پتہ چلے ،

  • لاہور ایئر پورٹ،خاتون نے مارےجوتے،کسٹم حکام نے بالوں سے  پکڑ کرگھسیٹا

    لاہور ایئر پورٹ،خاتون نے مارےجوتے،کسٹم حکام نے بالوں سے پکڑ کرگھسیٹا

    لاہور ایئرپورٹ پر خواتین مسافروں اور کسٹم اہلکاروں کے درمیان جھگڑا اور تشدد کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں خاتون مسافر اور کسٹم اہلکاروں نے ایک دوسرے کو تھپڑ مارے۔ اس واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے، جس میں جھگڑے کی مکمل تفصیل ریکارڈ کی گئی ہے۔

    یہ واقعہ سامان کی کلیئرنس کے دوران پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جب ایک خاتون مسافر نے اپنا لہنگا کلیئر نہ ہونے پر کسٹم اہلکاروں سے تنازعہ کیا تو صورتحال بگڑ گئی۔ اس دوران خاتون نے غصے میں آ کر کسٹم اہلکاروں کو جوتے مارے، جس کے بعد معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔کسٹم حکام نے خاتون کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور تشدد کیا،کسٹم حکام نے فوری طور پر خاتون مسافر کو حراست میں لے لیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ حکام کے مطابق ابوظہبی سے آنے والی خاتون مسافروں نے سامان کی کلیئرنس میں رکاوٹ کے باعث احتجاج کیا تھا، جس کے نتیجے میں جھگڑا اور ہاتھا پائی ہوئی۔

    https://x.com/MohUmair87/status/1909151377290408176

    واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کردہ مواد کی مدد سے اس معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ کی مکمل تحقیقات کے بعد مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • جاپان ، ائیر ایمبولینس ہیلی کاپٹر سمندر میں گرگیا،3 افراد کی موت

    جاپان ، ائیر ایمبولینس ہیلی کاپٹر سمندر میں گرگیا،3 افراد کی موت

    جاپان میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جس میں ائیر ایمبولینس ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس حادثے میں 3 افراد کی موت واقع ہو گئی جبکہ 3 دیگر افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔جاپانی کوسٹ گارڈ کے مطابق ہیلی کاپٹر میں کل 6 افراد سوار تھے۔ ان میں سے 3 افراد کو فوراً بچا لیا گیا اور انہیں قریبی طبی سہولت فراہم کی گئی۔ حادثہ جاپان کے ناگا ساکی صوبے کے تسوشیما جزیرے سے فکوؤکا شہر جاتے ہوئے پیش آیا۔جاپانی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حادثے کی وجہ معلوم کی جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی تکنیکی خرابی یا موسم کی غیر متوقع تبدیلیوں کو ممکنہ وجوہات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ حادثہ جاپان میں ائیر ایمبولینس سروس کے لیے ایک سنگین واقعہ ثابت ہوا ہے، حکام نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا۔

  • گرفتار صحافی فرحان ملک کی ضمانت منظور

    گرفتار صحافی فرحان ملک کی ضمانت منظور

    کراچی: پیکا ایکٹ کے تحت کراچی سے گرفتار ہونے والے معروف صحافی فرحان ملک کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔

    اس فیصلے کا اعلان سیشن جج شرقی نے کیا۔ فرحان ملک کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا، اور عدالت نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔فرحان ملک پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اور مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے جس میں ان پر منی لانڈرنگ اور غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے الزامات ہیں۔ عبدالمیز جعفری نے فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر دلائل دئیے

    جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر،کال سینٹر کے ذریعے فراڈ کا کیس ،صحافی فرحان ملک کی دوسرے مقدمے میں بھی ضمانت منظور کرلی گئی،عدالت نے فرحان ملک کو ایک لاکھ روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،

  • سابق خاتون اول ہوں،بشریٰ نے جیل میں "بہتر”سہولیات مانگ لیں

    سابق خاتون اول ہوں،بشریٰ نے جیل میں "بہتر”سہولیات مانگ لیں

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ، بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل میں اپنی بہتر سہولتوں کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

    بشریٰ بی بی نے عدالت میں دائر اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ سابق خاتون اول کی حیثیت سے وزیر اعظم ہاؤس میں ان کی زندگی کا معیار بہت بہتر تھا، اور اسی بنیاد پر وہ قانون کے مطابق جیل میں بھی بہتر سہولتوں کی حقدار ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی نے جیل حکام کو اپنی سہولتوں کے حوالے سے درخواست دی تھی، تاہم سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔بشریٰ بی بی نے اپنی درخواست میں مزید یہ بھی کہا کہ ان کے شوہر، عمران خان، جنہیں اسی جیل میں قید کیا گیا ہے، انہیں بھی بہتر سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ اس لیے بشریٰ بی بی کا مؤقف ہے کہ انہیں بھی وہی سہولتیں ملنی چاہیے جو ان کے شوہر کو فراہم کی گئی ہیں۔ درخواست میں جیل رولز 1978 کے تحت بشریٰ بی بی کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔

    بشریٰ بی بی نے وفاقی حکومت، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اور چیف کمشنر اسلام آباد کو فریق بنایا ہے۔ ان کی اس درخواست میں یہ موقف بھی شامل ہے کہ وہ اس وقت اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کے کیس میں 7 سال کی قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

  • اسلحہ و شراب کیس،علی امین گنڈا پور کے وارنٹ برقرار

    اسلحہ و شراب کیس،علی امین گنڈا پور کے وارنٹ برقرار

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف شراب اور اسلحہ برآمدگی کیس میں جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھا ہے۔

    یہ کیس جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ وکیل صفائی نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ علی امین گنڈاپور پشاور ہائیکورٹ سے ضمانت پر ہیں اور ان کی حاضری ضروری نہیں، لہٰذا عدالت کو پہلے ان کی بریت کی درخواست سننی چاہیے۔تاہم، عدالت نے وکیل صفائی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 26 اپریل 2025 تک ملتوی کر دی۔

    علی امین گنڈاپور کے خلاف تھانہ بھارہ کہو اسلام آباد میں شراب اور غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے۔