Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیرِ اعظم  شہباز شریف سے امیر جماعت اسلامی  کا ٹیلی فونک رابطہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سے امیر جماعت اسلامی کا ٹیلی فونک رابطہ

    وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے ٹیلی فونک رابطہ کیا، جس میں حافظ نعیم الرحمن نے وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کو سراہا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مشکلات کے باوجود عوامی ریلیف کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس مشن کو جاری رکھا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ انشاء اللہ پاکستان کی ترقی کا سفر جاری رہے گا اور عوام کی مشکلات حل کرنے کی کوششیں تیز تر ہوں گی۔

    دونوں رہنماؤں نے غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی بلا اشتعال بمباری اور ظلم و ستم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی قوتیں غزہ میں ہونے والی اسرائیلی جارحیت پر خاموش ہیں، حالانکہ یہ ایک سنگین انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و جبر کے خلاف ہر بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھاتا رہے گا اور فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا مؤقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے، اور ہم ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کا عزم ہے کہ فلسطینیوں کے حق میں عالمی سطح پر ہر ممکن اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کے حقوق کی مکمل بحالی ہو سکے اور اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • سڈنی سوئینی اور گلین پاول کا فلرٹی رشتہ، منگنی توڑنے کی  وجہ سامنے آ گئی

    سڈنی سوئینی اور گلین پاول کا فلرٹی رشتہ، منگنی توڑنے کی وجہ سامنے آ گئی

    لاس اینجلس — ایوارڈ یافتہ اداکارہ سڈنی سوئینی نے اپنی منگنی توڑ کر سب کو حیران کر دیا ہے، اور اب وہ اداکار گلین پاول کے ساتھ اپنی قریبی دوستی اور فلرٹی رویے کی وجہ سے خبروں میں چھائی ہوئی ہیں۔

    27 سالہ سڈنی اور 36 سالہ گلین کی حالیہ مصروفیات اور ایک ساتھ نظر آنے نے مداحوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے کہ آیا یہ محض دوستی ہے یا کچھ اور۔سڈنی سوئینی اور گلین پاول نے 2023 کی رومانوی فلم "Anyone But You” میں ایک جوڑے کا کردار ادا کیا، اور اب مداحوں کو لگتا ہے کہ فلمی کہانی حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔ حال ہی میں سڈنی، گلین کے بھائی لیسلی پاول کی شادی میں شرکت کے لیے ٹیکساس پہنچی، جہاں دونوں کی قربت نے چہ مگوئیاں مزید بڑھا دیں۔اگرچہ پاول کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں کے درمیان "رومانی تعلق نہیں” ہے، مگر پاول نے خود ایک ٹی وی انٹرویو میں اس تعلق پر چٹکی لیتے ہوئے کہا، "دنیا میں ٹائمنگ ہی سب کچھ ہے۔”

    سڈنی سوئینی اور ان کے منگیتر جوناتھن ڈاوینو کی منگنی 2022 میں ہوئی تھی، مگر اطلاعات کے مطابق 2025 کے آغاز سے ان کے تعلقات میں دراڑیں آنا شروع ہو گئیں۔ "پیپل” میگزین کے مطابق، سڈنی نے اپنی شادی مئی 2025 میں طے کر رکھی تھی، مگر پچھلے ماہ یہ منصوبہ ختم کر دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ "رشتہ اور شادی کا دباؤ سڈنی کے لیے ناقابل برداشت ہو گیا تھا، وہ خود کو اس کے لیے تیار محسوس نہیں کر رہی تھیں۔”

    سڈنی اس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر ہیں۔ ان کے پاس 2025 کے لیے چھ فلمی اور ٹی وی پراجیکٹس ہیں، جن میں HBO کا مشہور ڈرامہ "Euphoria” بھی شامل ہے جس میں وہ دوبارہ Cassie Howard کا کردار ادا کریں گی۔ وہ نیٹ فلکس کی تھرلر فلم "The Housemaid”، باکسر Christy Martin اور فلمی اسٹار Kim Novak پر بننے والی فلموں میں بھی مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ "سڈنی اب صرف کام پر فوکس کرنا چاہتی ہیں۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک ہسٹلر (محنتی) ہیں، اور ذاتی زندگی سے زیادہ کیریئر کو ترجیح دے رہی ہیں۔”

    سڈنی نے انسٹاگرام سے اپنے منگیتر کے ساتھ پوسٹ کی گئی تصویر ڈیلیٹ کر دی ہے، جو جنوری 2025 میں اپلوڈ کی گئی تھی۔ مارچ میں وہ پیرس فیشن ویک میں بھی اکیلی نظر آئیں، جس سے تعلقات کی خرابی کے اشارے مزید واضح ہو گئے۔

    اداکار گلین پاول، جنہوں نے "Top Gun: Maverick” سے شہرت حاصل کی، اب اپنی پروڈکٹ لائن Smash Kitchen کے ذریعے بزنس کی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سڈنی، گلین کے لاس اینجلس میں ہونے والے برانڈ لانچ ایونٹ میں شرکت کر سکتی ہیں، جس سے ان کی قریبی دوستی کو مزید ہوا مل سکتی ہے۔ایک قریبی ذرائع نے کہا، "گلین پہلے سے مشہور تھے، مگر ‘Anyone But You’ کے بعد ان کی شہرت میں واقعی اضافہ ہوا، اور سڈنی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔”

    2022 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں سڈنی نے کہا تھا،”اگر میں کام نہ کروں تو میرے پاس آمدنی نہیں ہے۔ مجھے کسی سے مالی مدد نہیں ملتی، اس لیے مجھے ہر وقت کام میں جُتے رہنا پڑتا ہے۔”

    ابھی تک دونوں اسٹارز نے اپنے تعلق کو رومانوی رنگ دینے سے گریز کیا ہے، مگر ان کی کیمسٹری اور ہمراہ میڈیا میں موجودگی کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہی ہے۔ چاہے یہ محبت ہو یا محض پروجیکٹس کی تشہیر، سڈنی سوئینی اور گلین پاول کی جوڑی اس وقت خبروں کی زینت ضرور بنی ہوئی ہے۔

    فٹنس کے لئے اداکارہ سڈنی سوئنی کے ٹھنڈے پانی میں غوطے

    مساج کے نام پر زنا اور حرام کاری، سوشل میڈیا پر ایڈوانس بکنگ

    شادی سے چند روز قبل منگیترکی جان لینے والی دلہن گرفتار

  • تیسرا ون ڈے،پاکستانی ٹیم بارے افغان تماشائی کے نازیبا الفاظ،خوشدل شاہ الجھ پڑے

    تیسرا ون ڈے،پاکستانی ٹیم بارے افغان تماشائی کے نازیبا الفاظ،خوشدل شاہ الجھ پڑے

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے تیسرے ایک روزہ کرکٹ میچ میں قومی کرکٹر خوشدل شاہ ایک افسوسناک واقعے کا شکار ہو گئے جب ایک مبینہ افغان تماشائی نے پاکستانی ٹیم کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی۔

    ذرائع کے مطابق، افغان تماشائی کی جانب سے پشتو میں پاکستانی کرکٹرز کو برا بھلا کہا گیا، جس پر خوشدل شاہ کو شدید غصہ آیا۔ خوشدل شاہ نے تماشائی کو اس کے غیر مہذب رویے کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن تماشائی نے ان کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے مزید نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔ اس کے بعد دونوں افغان شائقین نے خوشدل شاہ سے ہاتھا پائی کی کوشش بھی کی۔اس واقعے کے بعد انکوائری شروع کر دی گئی ہے، اور ٹیم منیجر نے اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک سنگین نوعیت کا واقعہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق افغان تماشائی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ افغان شہری تھا۔ پی سی بی نے خوشدل شاہ کے ساتھ مکمل طور پر اظہار یکجہتی کیا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم انتظامیہ نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی بدتمیزی یا غصے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ پی سی بی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ "تماشائی نے گراؤنڈ میں موجود پاکستانی کرکٹرز کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کیے، جس پر خوشدل شاہ نے اسے روکا، مگر اس کے باوجود تماشائی نے مزید نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔” پی سی بی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستانی ٹیم کی شکایت پر دونوں افغان شائقین کو فوری طور پر اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا گیا۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ کرکٹ میدان میں بھی کھیل کے جذبات اور احترام کا لحاظ ضروری ہے۔ پاکستانی کرکٹرز ہمیشہ اپنے حوصلے اور کھیل کی محبت کی بدولت دنیا بھر میں معروف ہیں اور اس طرح کے واقعات ان کے حوصلے کو مزید بڑھاتے ہیں۔ پی سی بی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ خوشدل شاہ اور باقی کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا تاکہ اس نوعیت کے واقعات کو روکا جا سکے۔

  • صدر مملکت کا علاج جاری،کل یا پرسوں ڈسچارج ہو جائیں گے،ذاتی معالج

    صدر مملکت کا علاج جاری،کل یا پرسوں ڈسچارج ہو جائیں گے،ذاتی معالج

    صدر مملکت آصف علی زرداری کے معالج ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور بھارتی چینل بے بنیاد من گھڑت خبریں چلا رہے ہیں ،عید کی نماز میں صدر آصف زرداری کی طبیعت خراب ہوئی تھی

    ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کا فون آیا کہا عید کے دن میری طبیعت ناساز ہے، عید کے دن شام کو پھر فون آیا کہا سردی لگ رہی ہے بخار ہو گیا،پیر کو ہم صدر مملکت کو کراچی لائے اور ٹیسٹ شروع کیے، ٹیسٹ سے یہ ثابت ہوا کہ صدر مملکت کو کورونا ہوا ہے،اب صدر مملکت کی طبیعت کافی بہتر ہے، کل یا پرسوں صدر مملکت اسپتال سے ڈسچارج ہو جائیں گے،نواب شاہ میں صدر مملکت تھے وہاں سے انکو کراچی لایا گیا،ہم صدر مملکت کا کرونا کا علاج کر رہے ہیں، کچھ ایسی دوائیاں ہیں جو پاکستان میں نہیں، بیرون ملک سے دوائیاں منگوائیں گئیں،اور علاج شروع ہوا، صدر مملکت کی طبیعت پہلے سے بہت بہتر ہے،وہ ایک دو دن میں ہسپتال سے گھر چلے جائیں گے، کوئی پریشانی کی بات نہیں،صدر مملکت کو انکے ڈاکٹر دیکھ رہے ہیں،ڈاکٹر اسامہ ان کے ساتھ ہیں،

    ڈاکٹر عاصم حسین کا مزید کہنا تھا کہ صدر مملکت کو سیاسی کرونا نہیں ہے، کرونا ابھی بھی پاکستان میں موجود ہے، دوائیاں بھی آ چکی ہیں جو اثر کرتی ہیں، سیاسی مخالفین جو مرضی کہتے رہیں،بھارتی سوشل میڈیا پربھی پروپیگنڈہ کیا جا رہا وہ درست نہیں ہیں،

  • جعلی ڈاکٹر کے ہاتھوں دل کی سرجری، 7 افرادکی موت

    جعلی ڈاکٹر کے ہاتھوں دل کی سرجری، 7 افرادکی موت

    مدھیہ پردیش کے ضلع دموہ کے ایک نجی مشنری ہسپتال میں جعلی ڈاکٹر کے ذریعے دل کی سرجری کیے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد کی ہلاکت کا انکشاف ہوا ہے۔

    مقامی حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، اور یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ن جان کم کے نام سے مشہور ایک شخص نے اپنے آپ کو برطانوی ڈاکٹر ظاہر کر کے اس ہسپتال میں دل کی سرجری کی، جس کے بعد سرجری کے شکار مریضوں کی موت واقع ہوگئی۔یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب دموہ ہسپتال میں ایک ماہ کے اندر 7 اموات ہوئیں، جس کے بعد مقامی لوگوں میں تشویش پھیل گئی۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ جعلی ڈاکٹر کا اصل نام نریندر وکرمادتیہ یادو ہے۔

    ڈپک تیواری، جو کہ ایک وکیل اور چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے ضلعی صدر ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری طور پر 7 اموات کا اندراج کیا گیا ہے، لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ تیواری نے دموہ کے ضلعی مجسٹریٹ کے پاس شکایت بھی درج کرائی تھی۔ تیواری نے بتایا کہ کچھ مریضوں نے انہیں بتایا کہ ان کے والد کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں ڈاکٹر نے ان سے آپریشن کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن مریض کے اہل خانہ نے احتیاط کے طور پر اپنے والد کو جابالپور منتقل کر دیا۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ یہ ڈاکٹر جعلی تھا، اور اس کا اصل نام نریندر یادو تھا۔

    قومی انسانی حقوق کمیشن کے رکن پریانک کانووگو نے بتایا کہ مشنری ہسپتال حکومت کی آوشمان بھارت اسکیم سے بھی پیسے حاصل کر رہا تھا۔ "ہمیں شکایت موصول ہوئی کہ جعلی ڈاکٹر نے مریضوں پر سرجری کی ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ ہسپتال آوشمان بھارت اسکیم میں شامل ہے اور حکومت سے پیسہ حاصل کر رہا ہے۔ یہ ایک سنگین شکایت ہے اور ہم نے اس پر توجہ دی ہے، تحقیقات جاری ہیں،”

    دموہ کے ضلعی کمشنر سدھیر کوچھر نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد وہ اس بارے میں بیان دیں گے۔ دموہ کے ایس پی ابھیشیک تیواری نے کہا، "ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں جس میں مشنری ہسپتال میں متعدد اموات ہوئی ہیں۔”

    جعلی ڈاکٹر پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے 2023 میں برطانوی ڈاکٹر ن جان کم کے طور پر اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور اس دوران اس نے اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے درخواست کی تھی کہ وہ فرانس جائیں تاکہ وہاں ہونے والے فسادات کو روکا جا سکے۔ اس ٹویٹ کو کئی رہنماؤں نے مذاق کا نشانہ بنایا تھا۔ اس شخص نے یوپی کے وزیراعلیٰ کے ساتھ اپنے فرضی نام سے فوٹو شاپ کی تصاویر بھی شیئر کی تھیں۔

  • مائیں بچوں کا خیال رکھیں،ہلاک خارجی کی والدہ کا پیغام

    مائیں بچوں کا خیال رکھیں،ہلاک خارجی کی والدہ کا پیغام

    ہلاک خارجی شہریار کی والدہ کی طرف سے عوام کیلئے خصوصی پیغام منظرعام پرآگیا

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فتنہ الخوراج کی دہشتگردی سے خیبرپختونخوا میں متاثرین کی ایک بڑی تعداد انتہا پسندی کو مسترد کر رہی ہے۔اس حوالے سے ہلاک خارجی شہریار کی والدہ کا پیغام سامنے آیا ہے،خارجی شہریار کی والدہ کے مطابق ’’میرا بیٹا شہریار مدرسے میں پڑھتا تھا،اسے فتنہ الخوراج ہم سے دور لے گئے‘‘ وہ حکومت کیخلاف لڑ رہا تھا، میں اسے دو تین بار ڈھونڈنے گئی لیکن خارجیوں نےمیرے بیٹے کو مجھے واپس نہیں کیا۔”فتنہ الخوارج کے ظالموں نے میرے بیٹے کو مجھ سے لے جا کر حکومت کے خلاف کر دیا”، "میرا بیٹا ظالم خوارج کے ہاتھوں مارا گیا،وہ میرے باقی بیٹوں کو بھی رابطہ کرکے ہراساں کر رہے ہیں”۔”ہم خوراج سے بہت تنگ ہیں، اور اسی وجہ سے یہ گاؤں چھوڑ رہے ہیں”۔”میری تمام ماؤں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں”۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ”اس سے قبل روح اللہ نامی بدنام زمانہ دہشتگرد کے والد نے بھی اپنے بیٹے سے لا تعلقی کا اعلان کیا تھا”۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ”فتنہ الخوراج کے خلاف خیبرپختونخوا کے عوام اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جس کی واضح مثالیں حالیہ دنوں میں سامنے آئی ہیں”۔ "فتنہ الخوراج کم عمر پاکستانی قبائلی نوجوانوں کو دہشتگردی کی آگ میں ایندھن کے طور پر دہشتگردی میں استعمال کر رہے ہیں” ۔” ہلاک دہشتگرد شہریار کی والدہ کا دہشتگردوں کیخلاف بیان معمولی نوعیت کا واقعہ نہیں”۔”فتنتہ الخوراج کی صفوں میں شامل دہشتگردوں کے والدین کی جانب سے اظہار لاتعلقی اور دیگر بیانات کا سلسلہ عوام کے دہشتگردی سے متنفر ہونے کا واضح ثبوت ہے”،دفاعی ماہرین کے مطابق "مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے کھلے دشمن ہیں”۔ "پاکستانی عوام کو چاہئے کہ فتنہ الخوارج کے گھناؤنے چہرے کو پہچانیں اور اپنے بچوں کوخوارج کے پروپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچائیں”۔”یہ تبدیلی پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئے باب کی نشاندہی کرتی ہے”۔”یہ بات ثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے”۔”فتنتہ الخوارج کا مذہب سے دور دور تک تعلق نہیں بلکہ یہ مکروہ عناصر پاکستان دشمن قوتوں کے ایما پر پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں”۔

    فتنہ الخوراج کے بنوں میں چوکی پرحملے، تیراہ میں سکیورٹی اہلکار کے گھرکا محاصرہ ،کرک اور لکی مروت میں دہشتگردوں کیخلاف عوام کا اتحاد دہشتگردوں کی بڑی ناکامی ہے.

  • 1970 کی دہائی،ممبئی کا بدنام زمانہ ریڈ لائٹ علاقہ،خواتین کا استحصال،تصویری کہانی

    1970 کی دہائی،ممبئی کا بدنام زمانہ ریڈ لائٹ علاقہ،خواتین کا استحصال،تصویری کہانی

    1970 کی دہائی کا ممبئی — ایک شہر جو تیزی سے ترقی کر رہا تھا، لیکن اس کی چمکتی دمکتی روشنیوں کے پیچھے ایک تاریک حقیقت چھپی ہوئی تھی۔ فاک لینڈ روڈ، شہر کا بدنام زمانہ ریڈ لائٹ ایریا، جہاں کی زندگی روزانہ کی تذلیل، استحصال اور بقا کی جدوجہد سے جڑی ہوئی تھی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں امریکی فوٹوگرافر میری ایلن مارک نے انسانی درد، رشتوں اور بقا کی داستانوں کو اپنے کیمرے میں قید کیا۔میری ایلن مارک، جو اپنی ہمدرد فوٹو جرنلزم کے لیے مشہور تھیں، فاک لینڈ روڈ کے مناظر کو کیمرے میں قید کرنے کی کئی بار کوشش کر چکی تھیں، لیکن ہر بار انہیں دھتکار دیا گیا۔ 1981 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب Falkland Road: Prostitutes of Bombay کے مقدمے میں وہ لکھتی ہیں:

    "عورتیں مجھ پر پانی پھینکتی تھیں، کوڑا کرکٹ مارتی تھیں، مرد ہجوم بنا لیتے، کسی نے میرا ایڈریس بُک چوری کر لیا، ایک دفعہ تو ایک نشے میں دھت شخص نے میرے چہرے پر مکا مار دیا۔”

    لیکن ان کی مستقل مزاجی رنگ لائی۔ 1978 میں ایک جرمن میگزین GEO کے لیے کام کرتے ہوئے وہ چھ ہفتے فاک لینڈ روڈ پر رہیں — اسی بار وہ اپنے کیمرے سے وہ سب دکھانے میں کامیاب ہوئیں جو دنیا نے شاید پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔

    مارک کی تصویری کتاب "فاک لینڈ روڈ: بمبئی کی طوائفیں” جو 1981 میں پہلی بار شائع ہوئی، اب دوبارہ منظرِ عام پر آئی ہے جس میں 70 سے زائد تصاویر شامل کی گئی ہیں۔ یہ تصاویر صرف جسم فروشی کے پیشے کی عکاسی نہیں کرتیں، بلکہ ان خواتین کی اصل زندگی، رشتوں، اور خوابوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔

    ایک دنیا جو سماج سے کٹی ہوئی تھی، لیکن اپنے اندر ایک خاندان جیسی قربت لیے ہوئے تھی،فاک لینڈ روڈ کی عورتیں اکثر بے گھر، یتیم یا سماج سے کٹی ہوئی تھیں۔ میری ان کے لیے ایک اجنبی تھیں، لیکن ایک اجنبی جو ان کے جیسی تھی — تنہا، آزاد اور ایک دکھ میں شریک۔ ایک "مادام” نے میری سے کہا،”ہم بہنیں ہیں، تم اور میں۔ ہم ایک جیسے نصیب والی عورتیں ہیں۔ ہر رات میں دعا پڑھ کر سوتی ہوں، تنہا۔”

    ان عورتوں نے، جن میں نیپالی، بنگالی، مراٹھی اور دیگر علاقوں کی لڑکیاں شامل تھیں، اپنے لیے ایک خاندان خود تشکیل دیا تھا۔ ایک دوسرے کا خیال رکھنا، ایک ساتھ چائے پینا، گانے سننا، بچوں کی پرورش کرنا — یہ سب زندگی کے وہ پہلو تھے جو شاید باہر کی دنیا نے کبھی ان سے جوڑے ہی نہیں۔

    عاشہ، امتیاز، اوشا اور چمپا: مارک کے کیمرے کی روشنی میں جیتے ہوئے کردار
    میری کے ساتھ ابتدا میں جو لڑکیاں جڑیں، ان میں عاشہ اور ممتا (17 سال کی) اور اوشا (15 سال کی) شامل تھیں۔ عاشہ، ایک خوبصورت لڑکی، جس کا دوست ایک چور تھا، اکثر جیل میں رہتا تھا۔ عاشہ کے پاس خواب تھے، لیکن زندگی نے اسے ان خوابوں کے برعکس راستے پر ڈال دیا تھا۔ وہ نوکرانی بننے کا خواب دیکھتی تھی، لیکن سماج اسے قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔

    چمپا، ایک خواجہ سرا مادام، میری کی قریبی دوست بنی۔ چمپا نے میری کو اپنی دنیا دکھائی — جہاں خواجہ سرا عورتیں رات کے لیے تیار ہو رہی تھیں، میک اپ کر رہی تھیں، اپنی پہچان کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔

    "پنجرے کی لڑکیاں” — ایک اور سطح کا استحصال
    فاک لینڈ روڈ پر سب سے زیادہ مظلوم وہ لڑکیاں تھیں جو "کیجز” میں قید رہتی تھیں — سڑک کے کنارے چھوٹے کمروں میں جہاں ان کے جسم کو کھڑکیوں سے دیکھ کر گاہک بلائے جاتے۔ وہ دوسری طوائفوں کی نظر میں بھی کمتر سمجھی جاتی تھیں۔ وہ چیختی، ہنستی، فحش اشارے کرتی تھیں، لیکن اندر سے وہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔

    فوٹوگرافی یا استحصال؟
    میری کو ہمیشہ یہ سوال ستاتا رہا: کیا وہ ان خواتین کے درد کو "فن” کے نام پر بیچ رہی ہیں؟ 1987 میں نیویارک ٹائمز میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا،”ان لوگوں نے مجھے ایک ناقابل یقین تحفہ دیا ہے۔ ہم فوٹوگرافر ان لوگوں سے کچھ لے کر آتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، ہم سب میں ایک طرح کی بے شرمی ہوتی ہے۔”تاہم، ان کا ماننا تھا کہ اگر یہ کہانیاں نہ سنائی جائیں، تو یہ لوگ ہمیشہ غیرمرئی رہیں گے۔ ان کا کیمرہ ان کو وہ پہچان دیتا تھا جو دنیا نے ان سے چھین لی تھی۔”میں نے کبھی کسی کی تصویر اس کی اجازت کے بغیر نہیں کھینچی۔ وہ اکثر خوشی خوشی پوز دیتی تھیں، شاید اس لیے کہ وہ چاہتی تھیں کہ انہیں آخرکار دیکھا جائے۔”ان کی تصاویر آج بھی ایک ایسا سوال چھوڑ جاتی ہیں جو شاید ہمیشہ قائم رہے گا”کیا دستاویزی فوٹوگرافر اپنے فن کے لیے محروم طبقات کا استحصال کرتے ہیں؟”

    آخری دن، آخری چائے، اور آنسوؤں کا الوداع
    چھ ہفتوں کے بعد جب میری واپس جانے لگی، تو فاک لینڈ روڈ کی عورتوں نے اسے گلے لگا کر رخصت کیا۔ عاشہ نے اسے روتا دیکھ کر کہا”تمہیں رونا نہیں چاہیے۔ تمہیں فخر سے سر اٹھا کر رخصت ہونا چاہیے۔”چمپا دوڑتی ہوئی آئی اور بولی، "امریکہ سے میرے لیے وِگ (نقلی بال) بھیجنا، بہن۔ جب بھی پہنوں گی، تمہیں یاد کروں گی۔”

    آج کا فاک لینڈ روڈ، ایک بدلا ہوا منظر
    آج، فاک لینڈ روڈ اب بھی موجود ہے، لیکن دنیا بدل چکی ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا کی طاقت نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ اب وہ معصومیت، وہ کھلا پن نہیں رہا۔ میری نے 2005 میں لکھا،”آج کوئی میگزین ‘فاک لینڈ روڈ’ جیسا پراجیکٹ اسپانسر نہیں کرے گا۔ اب صرف جنگ، آفات اور شہرت کی تصویریں دیکھی جاتی ہیں۔”

    میری ایلن مارک کی تصاویر نہ صرف ایک وقت کی داستان سناتی ہیں بلکہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ انسانیت، درد، رشتہ اور ہمدردی کہاں کہاں پنپ سکتی ہے — حتیٰ کہ فاک لینڈ روڈ جیسے مقام پر بھی۔

  • عظمیٰ میڈم آئین پڑھنا آتا؟ وفاق سےمسئلہ  تو  اپنے گھر میں حل کریں۔شرجیل میمن

    عظمیٰ میڈم آئین پڑھنا آتا؟ وفاق سےمسئلہ تو اپنے گھر میں حل کریں۔شرجیل میمن

    کراچی: سندھ کے سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما، شرجیل انعام میمن نے پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کے بیان پر افسوس ہوا اور انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ نے آئین پڑھا ہے؟ کیا آپ کو آئین پڑھنا آتا ہے؟

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ صدرِ مملکت کسی منصوبے کی منظوری دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر کہا تھا کہ چولستان کینال منصوبے کو کسی صورت میں نہیں بننے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 7 کروڑ عوام اور ان کی معیشت کے مسائل کو سیاست کا مسئلہ نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ کوئی عقلمند انسان ایسا بیان نہیں دے سکتا، میڈم آپ آئین پڑھ کر بیان دیں، اگر آپ کا وفاق سے کوئی مسئلہ ہے تو آپ اسے اپنے گھر میں حل کریں۔”

    شرجیل میمن نے بلاول بھٹو کے گزشتہ روز کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ بلاول بھٹو نے ملک کے مسائل، خوشحالی اور سلامتی کی بات کی ہے اور یہ بھی کہا کہ چاروں صوبوں کو مل کر چلنا چاہیے۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو نے یہ واضح کیا تھا کہ وہ شہباز حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہر فورم پر چولستان کینال منصوبے کی مخالفت کی ہے اور 18 اپریل کو حیدرآباد میں اس حوالے سے ایک بڑا جلسہ کیا جائے گا۔شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی کینالوں پر سیاست نہیں کر رہی بلکہ وہ اپنے اصولوں پر ڈٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور ہم اصولوں پر سودا نہیں کر سکتے۔

    سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا ردعمل
    پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس پر سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ صدر نے کینالوں کی منظوری دی ہے جس پر انہیں ہنسی آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اطلاعات پنجاب کی معلومات میں کمی پر افسوس ہے۔سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ عظمیٰ بخاری کو بتانا چاہیے کہ صدرِ مملکت کے پاس کون سی ایگزیکٹو سمری منظور کرنے کا اختیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی نے صدرِ مملکت کے خلاف جھوٹ پھیلایا تو اس پر پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

  • تحریک انصاف   کی مرکزی قیادت میں اختلافات بڑھ گئے

    تحریک انصاف کی مرکزی قیادت میں اختلافات بڑھ گئے

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت میں اختلافات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی، شہرام خان ترکئی، نے مرکزی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے حالیہ بیان کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

    شہرام ترکئی کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور کے ایسے بیانات پارٹی کے بانی کی تحریک کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی تمام تر توجہ بانی پی ٹی آئی اور بے گناہ قیدیویں کی رہائی پر ہونی چاہیے، نہ کہ غیر ضروری تنازعات میں پڑنے پر۔ شہرام ترکئی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائیاں صوبے میں امن و امان کی بحالی اور اچھے حکومتی نظام پر مرکوز کریں۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی نے خیبر پختونخوا کے سابق وزیر خزانہ، تیمور جھگڑا، کے خلاف تحقیقات کے لیے پارٹی کے بانی، عمران خان، سے اجازت لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ احتساب کمیٹی کے مطابق، عمران خان سے اجازت ملتے ہی محکمہ خزانہ اور محکمہ صحت میں مبینہ کرپشن اور مالی بے قاعدگیوں کی تحقیقات شروع کی جائیں گی۔

    خیال رہے کہ علی امین گنڈا پور نے گزشتہ روز پارٹی کے بعض رہنماؤں پر سازشوں کا الزام عائد کیا تھا، جس سے پارٹی میں اندرونی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔اس دوران، سابق وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے اپنے اوپر خرد برد کے الزامات کی تحقیقات کے لیے پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی کی جانب سے بھیجے گئے سوالنامے کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ وہ ان الزامات کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں، اور یہ کہ پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی کی تحقیقات شفاف اور غیر جانبدار ہونی چاہیے۔

    یہ تمام صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پی ٹی آئی میں داخلی اختلافات کی شدت بڑھتی جا رہی ہے، اور پارٹی کی قیادت کو اپنے اندرونی تنازعات کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پارٹی کی یکجہتی اور اخلاقی پوزیشن کو بچایا جا سکے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی صوبے بھر میں سہولت بازار قائم کرنے کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صوبے بھر میں سہولت بازار قائم کرنے کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں 13 نئے سہولت بازار قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام عوام کو ضروری اشیاء کی سستی فراہمی اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ مریم نواز شریف کی ہدایت پر یہ منصوبے اگست تک مکمل کر لیے جائیں گے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے متعلقہ حکام کو 13 نئے سہولت بازاروں کے زیر تکمیل پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے اگست کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔ ان سہولت بازاروں کی تعمیر نوشہرہ ورکاں، بورے والا، کبیروالا، سانگلہ، اور جلال پور میں کی جائے گی۔ علاوہ ازیں، بہاولپور، اٹک اور مری میں بھی اضافی سہولت بازار قائم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان سہولت بازاروں کے قیام کے لیے اراضی مختص کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بازاروں کا مقصد عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی ہے، خاص طور پر کمزور اور متوسط طبقے کے افراد کے لیے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ان سہولت بازاروں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف توانائی کے اخراجات میں 70 فیصد تک کمی آئے گی، بلکہ اس کا فائدہ عوام تک پہنچاتے ہوئے اشیاء کے نرخوں میں بھی کمی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے توانائی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سہولت بازاروں کی شمسی توانائی پر منتقلی کے لیے 69 کروڑ سے زائد کے فنڈز کی منظوری بھی دے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فنڈز سے نئے سہولت بازاروں کی تعمیر اور توانائی کی فراہمی کے منصوبے کو تیز کیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جہلم، مظفر گڑھ اور نارووال میں سہولت بازار کے قیام میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے ان اضلاع کے انتظامی افسران کو فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تاکہ سہولت بازاروں کے قیام میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے رحیم یار خان، بہاولنگر، اٹک اور مری میں سہولت بازار کے لیے اراضی کی نشاندہی کا عمل جلد مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اراضی کی دستیابی سے ہی ان منصوبوں پر کام کا آغاز ہو سکے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ سہولت بازاروں کا قیام کمزور اور متوسط طبقے کو اشیاء خوردونوش کم نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ قائد محمد نواز شریف کے ویژن کے تحت مہنگائی پر قابو پانے کی ایک اہم کڑی ہے۔ مریم نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ سہولت بازار عوام کے لیے بڑا ریلیف ثابت ہوں گے اور مہنگائی کے خلاف ایک مضبوط قدم ہوگا۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اس فیصلے سے صوبے کے مختلف علاقوں میں سہولت بازاروں کا نیٹ ورک مضبوط ہو گا، جس سے عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ ان منصوبوں کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور عوامی بہبود کو یقینی بنانا ہے۔