Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • حکومت افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ہمارا ساتھ دے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    حکومت افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ہمارا ساتھ دے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر بانی پی ٹی آئی کی پالیسی ہے کہ مذاکرات واحد حل ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں ملک سے دہشت گردی ختم ہو چکی تھی، تحریک انصاف کو ختم کرنے کے لئے ریاست پورا زور لگا رہی ہے، نتیجہ یہ نکلا کہ دہشت گردی نے دوبارہ جنم لے لیا، عوام اور اداروں کے درمیان ایک خلا آ گیا ہے ایسے حالات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں ہو سکتی، بانی پی ٹی آئی کی حکومت جس طرح ہٹائی گئی اس پر تحفظات ہیں ،وفاقی حکومت اور اداروں نے افغانستان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی حامی بھری تھی، ابھی تک مذاکرات کے لئے ٹی او آر نہیں بنائے جا سکے، مذاکرات کے لئے وفاقی حکومت ہمارا ساتھ نہیں دے رہی،وفاقی حکومت کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے استطاعت نہیں ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نے شہریوں کو تحفظ دینا ہے، صوبائی ایکشن پلان پرکام شروع ہو چکا ہے، صوبائی ایکشن پلان ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے عوام کی حمایت بہت ضروری ہے،حکومت افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ہمارا ساتھ دے،قوم اپنی افواج، قانون نافذ کرنےو الے اداروں ، پولیس کیساتھ ہے ،
    علی امین گنڈا پور کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہمارے لوگوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے، ہوسکتا ہے، ہماری ہی غلطیوں ہوں ، ہوسکتا ہے پالیسی کے مسائل ہوں ، اب ہمارے لوگوں نے ہتھیار اٹھالیے ہیں تو ان سے بات کرنی چاہیے ، افغانستان کیساتھ تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں ، ہمارے دور حکومت میں دہشتگردی ختم ہوئی اور پھر حکومت ختم کردی گئی، اس وقت جو ملک میں دہشت گردی کے واقعات ہیں اس کا حل ہمارے پاس ہے، افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے بغیر مثبت نتائج نہیں ملیں گے افغان مہاجرین کی واپسی پر بھی حکومت کی پالیسی غلط ہے،وفاقی حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین کے ساتھ سلوک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی، صوبے کی انتظامیہ کسی کو زبردستی خیبرپختونخوا سے نہیں نکالے گی،اپریل میں این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہونا ہے، اگر حق نہ ملا تو دکھاؤں گا کہ ہمارے صوبے کی عوام اتنی لاچار نہیں ہے،پارا چنار کا مسلئہ بہت پرانا اور دیرینہ ہے، ہم نے پاراچنار کے مسلئے کا مستقل حل نکالا ہے،پاراچنار میں ہمارے لوگوں نے شہادتیں دی ہیں، مسلئے کا مکمل حل نکال لیا ہے، پاراچنار کے مسلئے کو ہمیشہ کے لئے حل کریں گے،

    پیسے کمانے کے لئے یوٹیوبرز جھوٹی خبریں اور شرلیاں چھوڑتے ہیں، علی امین گنڈا پور
    بانی پی ٹی آئی کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، بجلی چوری ہم سب کا مسلئہ ہے، بجلی چوری روکنے کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیاہے، خیبرپختونخوا کا خسارہ 128 ارب ہے، پورے ملک کی چوری ہمارے صوبے کے پلے نہ ڈالی جائے، جنہوں نے اکاؤنٹ مانیٹائز کیے ہیں وہ کاروبار کر رہے ہیں، جو پیسے کما رہے ہیں وہ نظریے کی بات نہیں کر سکتے، پیسے کمانے کے لئے یوٹیوبرز جھوٹی خبریں اور شرلیاں چھوڑتے ہیں،

  • سلمان خان کی فلم "سکندر” نے  5 دنوں میں 169 کروڑ کمالیے

    سلمان خان کی فلم "سکندر” نے 5 دنوں میں 169 کروڑ کمالیے

    بالی ووڈ کے معروف اداکار سلمان خان کی عید الفطر پر ریلیز ہونے والی فلم "سکندر” نے اپنے ابتدائی پانچ دنوں میں دنیا بھر کے باکس آفس پر 169 کروڑ روپے کا زبردست بزنس کیا ہے۔ اس فلم کی کمائی میں تامل کی سپر ہٹ فلم "ڈریگن” کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ فلم باکس آفس پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، حالانکہ ناقدین کی جانب سے فلم کے بارے میں منفی تبصرے کئے گئے تھے۔

    سلمان خان کی اس ایکشن سے بھرپور ڈرامہ فلم "سکندر” نے اپنے ابتدائی پانچ دنوں میں بھارت میں 8 اعشاریہ 28 کروڑ اور غیر ملکی مارکیٹس میں 3 کروڑ روپے کا بزنس کیا ہے۔ پروڈکشن ہاؤس کے مطابق فلم کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے پیر تک "سکندر” دنیا بھر میں 200 کروڑ کا ہندسہ عبور کر لے گی۔ یہ فلم رواں برس ریلیز ہونے والی بھارتی فلموں میں کمائی کے لحاظ سے پانچویں پوزیشن پر ہے، اور اگلے ہفتے تک اسے چوتھے نمبر پر پہنچنے کی توقع ہے۔

    "سکندر” کو ناقدین کی جانب سے خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے، اور فلم کو وہ پزیرائی نہیں مل سکی جس کی سلمان خان کی فلموں سے توقع کی جاتی ہے۔ ناقدین نے نہ صرف فلم کی کہانی اور سکرپٹ پر سوالات اٹھائے بلکہ اس کی پرفارمنس کو بھی مایوس کن قرار دیا۔ تاہم، ان منفی تبصروں کے باوجود، سلمان خان کی فلم باکس آفس پر مسلسل کامیاب ہو رہی ہے اور اس کی کمائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، "سکندر” کے باکس آفس کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ فلم 300 کروڑ تک کا بزنس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سلمان خان کے لیے یہ ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ "سکندر” نے ان فلموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جو رواں سال زیادہ کمائی کرنے والی تھیں، جن میں ملیالم فلم "ایل 2” بھی شامل ہے جس نے صرف تین دنوں میں 250 کروڑ کا بزنس کیا ہے۔

    رواں سال کی دیگر کامیاب فلموں میں "چھاوا”، "ایل 2″، "سان کرانتی”، اور "گیم چینجرز” شامل ہیں۔ ان فلموں کے ساتھ "سکندر” کی موجودہ پوزیشن پانچویں ہے، لیکن فلم کی موجودہ رفتار دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ "گیم چینجرز” کو بزنس میں پیچھے چھوڑ دے گی۔

  • شہباز شریف کی کاوشوں سے ملک درست سمت پر گامزن ہوچکا ، نوازشریف

    شہباز شریف کی کاوشوں سے ملک درست سمت پر گامزن ہوچکا ، نوازشریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے ملک میں بجلی کے نرخوں میں ریکارڈ کمی کرنے پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ان کی ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو عوام کے لیے ایک بڑا ریلیف قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کی جانب سے کیے گئے انتہائی اہم اور عوامی فلاح کے اقدامات میں سے ایک ہے۔

    نوازشریف نے کہا کہ "بجلی کے نرخوں میں کمی نہ صرف گھریلو صارفین کے لیے ایک مثبت قدم ہے بلکہ صنعتی شعبے کو بھی فائدہ ہوگا، جس سے ملک کی معیشت میں بہتری آئے گی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔” انہوں نے وزیر اعظم کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ "وزیر اعظم شہباز شریف کی کاوشوں سے ملک درست سمت پر گامزن ہوچکا ہے۔”

    محمد نوازشریف نے مزید کہا کہ "پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ہمیشہ عوام کو معاشی ریلیف فراہم کیا گیا ہے اور یہ بھی ہمارے دور کا ایک کامیاب پہلو رہا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل کمی آئی ہے، جو ہماری بہترین معاشی پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔” انہوں نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے ملکی معیشت کو استحکام فراہم کرتے ہیں اور عوام کی زندگیوں میں بہتری لاتے ہیں۔نوازشریف نے اس بات پر زور دیا کہ "پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں ملک میں ترقی کی راہیں کھلی ہیں اور ہم نے ہمیشہ عوامی فلاح کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی ایکسپورٹس بھی بڑھے گی جس سے معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔نوازشریف نے کہا کہ "پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان فیصلوں سے نہ صرف موجودہ حالات میں بہتری آئے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ترقی کے دروازے کھلیں گے۔”

    انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو سراہا اور یقین ظاہر کیا کہ ملک میں مزید ترقی ہوگی اور عوام کو معاشی استحکام ملے گا۔

  • بارات  سے قبل دلہن کو قتل کرنے والا گرفتار

    بارات سے قبل دلہن کو قتل کرنے والا گرفتار

    لاہور کے علاقے سندر کی عزیز کالونی میں دو روز قبل بارات کے آنے سے قبل قتل ہونے والی دلہن عائشہ کے قاتل کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزم مقتولہ کا بہنوئی ہے، جسے پولیس نے حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) انویسٹی گیشن ذیشان رضا کے مطابق، عائشہ کی مہندی کی تقریب کے بعد اس کی پراسرار موت ہوئی تھی۔ عائشہ کو اس کے کمرے میں سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔ اہل خانہ جب کمرے میں پہنچے تو عائشہ کی لاش بیڈ پر پڑی ہوئی تھی۔ قتل کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مقتولہ کے بہنوئی کا اس واقعے سے تعلق ہے، جو اس وقت غائب تھا۔پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کی تو اس نے عائشہ کے قتل کا اعتراف کر لیا۔ ملزم نے بتایا کہ عائشہ کو رشتہ کے تنازعہ پر قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے آلہ قتل کو برآمد کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈی آئی جی ذیشان رضا نے اس کیس کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اس قتل کی پوری تحقیقات مکمل کی جا رہی ہیں اور قاتل کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ خاندان کے اندرونی مسائل کی وجہ سے پیش آیا ہے، اور پولیس اس سلسلے میں مزید اقدامات کر رہی ہے۔مقتولہ کے اہل خانہ صدمے میں ہیں اور انہوں نے انصاف کی اپیل کی ہے تاکہ ملزم کو سخت سزا دی جائے۔ پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزم سے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے اس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔

  • کپڑے بدلنے کے دوران ڈائریکٹر گاڑی میں "گھس”آیا تھا، اداکارہ کا انکشاف

    کپڑے بدلنے کے دوران ڈائریکٹر گاڑی میں "گھس”آیا تھا، اداکارہ کا انکشاف

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ شالینی پانڈے نے حال ہی میں ایک دل دہلا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ جب وہ فلمی کیریئر کے ابتدائی ایام گزار رہی تھیں، تو ایک ساؤتھ انڈسٹری کے ڈائریکٹر نے ان کی وینیٹی وین میں گھس کر انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔

    شالینی پانڈے، جو 2017 میں بھارتی ہدایتکار سندیپ ریڈی وانگا کی فلم "ارجن ریڈی” سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچی تھیں، نے اس واقعے کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ان کے لیے ایک مشکل اور صدمے کا باعث تھا۔اداکارہ نے بتایا کہ "جب میں صرف 22 سال کی تھی، اور اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں تھی، میں ایک ساؤتھ فلم کی شوٹنگ کر رہی تھی۔ اس دوران، جب میں کپڑے تبدیل کر رہی تھی، ایک ڈائریکٹر بغیر دروازہ کھٹکھٹائے میری وینیٹی وین میں گھس آیا۔ میں اس وقت بے حد بے چین اور خوفزدہ ہو گئی تھی کیونکہ میرے پاس اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ "یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب لوگ ہمیشہ مجھے سکھاتے تھے کہ باتوں میں میٹھاس رکھو اور کسی کو برا نہ لگنے دو کیونکہ اگر ایسا ہوا تو مجھے کام نہیں ملے گا۔ لیکن جب اس ڈائریکٹر نے ایسا کیا تو میری فطری ردعمل کے طور پر میں چیخ پڑی۔”

    شالینی نے بتایا کہ "ڈائریکٹر میرے چیخنے کے بعد وہاں سے چلا گیا، لیکن اس کے بعد کئی لوگوں نے مجھے کہا کہ میں نے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن کیا صرف اس لیے کہ میں نئی تھی، کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ میرے ساتھ ایسا سلوک کرے؟ شروع میں مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ میں نے یہ ردعمل کیوں دیا، مگر بعد میں مجھے احساس ہوا کہ میرا رویہ میری حفاظت کے لیے تھا۔”اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ اس واقعے کے بعد بہت سے لوگ انہیں غصے والی سمجھنے لگے، لیکن اب وہ اس طرح کے حالات کو بہتر طریقے سے سنبھالنا سیکھ چکی ہیں۔

    شالینی پانڈے نے اپنے انٹرویو میں مزید بتایا کہ وہ بالی وڈ انڈسٹری میں آنے سے پہلے کسی فلمی خاندان سے تعلق نہیں رکھتی تھیں، اور انہیں شروع میں اس انڈسٹری کے بارے میں بہت کچھ سیکھنا پڑا۔شالینی کے اس انکشاف نے نہ صرف ساؤتھ انڈسٹری کی سیاہ حقیقتوں کو بے نقاب کیا، بلکہ یہ بھی ظاہر کیا کہ خواتین کے ساتھ غیر مناسب سلوک اور ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانا انتہائی ضروری ہے۔

  • حکومتی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز

    حکومتی ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد افغان شہریوں کے خلاف کارروائی تیز

    پاکستان میں افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کا آغاز حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 31 مارچ 2025 کی ڈیڈلائن کے بعد شروع ہو چکا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد کی گرفتاریوں کا عمل تیز کر دیا گیا ہے اور 50 سے زائد افغان شہریوں کو فوری طور پر رفیوجی کیمپ منتقل کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے خاندانوں کو بھی تحویل میں لے کر کیمپ منتقل کیا جائے گا اور انہیں افغانستان واپس بھیجنے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ پولیس کا مختلف علاقوں میں آپریشن جاری ہے اور یہ آپریشن روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق، عید کی تعطیلات کی وجہ سے یہ عمل یکم اپریل کو شروع نہیں ہو سکا تھا، لیکن اب ملک بھر میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افغان شہریوں کی موجودگی کو اب غیر قانونی سمجھا جا رہا ہے اور ان کی بے دخلی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

    پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر 21 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں، جن میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ دونوں شامل ہیں۔ وزارت سیفران کے مطابق، 14 لاکھ افغان مہاجرین قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں، جبکہ 8 لاکھ افغان شہری ایسے ہیں جو افغان سٹیزن کارڈ رکھتے ہیں لیکن ان کا قیام اب غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان میں افغان شہریوں کے خلاف جاری کارروائی کی شدت میں اضافے سے متعلق حکومتی ذرائع نے بتایا کہ یہ عمل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجا جائے۔

    دوسری جانب، افغان حکام نے اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی کے عمل کو مزید منظم کرنے کی درخواست کی ہے۔اس تمام صورتِ حال کے تناظر میں، پاکستانی حکومت نے افغان شہریوں کی واپسی کے لیے مختلف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی بے دخلی کے عمل کو صاف اور شفاف بنایا جا سکے۔

  • تکفیر بہت بڑا فتنہ، نوجوان نسل کو بچانا ہو گا ،  علما کرام کردار ادا کریں، حافظ طلحہ سعید

    تکفیر بہت بڑا فتنہ، نوجوان نسل کو بچانا ہو گا ، علما کرام کردار ادا کریں، حافظ طلحہ سعید

    سیاستدان سیاسی و ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کا سوچیں، سیف اللہ قصوری

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ سیاستدان ملک کو مستحکم و محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو سیاسی و ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر سوچیں،تکفیر بہت بڑا فتنہ ،کسی کلمہ گو کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ فتنہ تکفیر سے نوجوان نسل کو بچانا ہو گا ، شوال کے چھ روزوں کی فضیلت بہت زیادہ ، ایک سال کے روزوں جتنا اجر ملتا ہے شوال کے روزے رکھ کر بابرکت ایام سے فائدہ اٹھایا جائے۔

    ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ طلحہ سعید، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد ولید نے جمعہ کے اجتماعات سے خطاب اور بعد ازاں وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا.سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف دشمن سازشیں کر رہے ہیں، سیاسی عدم استحکام، معاشی استحکام، بد امنی، دہشت گردی،ان تمام مسائل کا حل اتحاد و یکجہتی میں ہے،دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے ،دین اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا ، علما کرام اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے اسلام کی سچی تعلیمات عام کریں،فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کیخلاف مسلم حکمران جراتمندانہ کردار ادا کریں.

    مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے جامع مسجد القادسیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے انتہا پسندی کا نہیں، دین اسلام میں آسانیاں ہیں۔ قرآن و سنت پر عمل کر کے دنیا و آخرت کو کامیاب بنایا جا سکتا ہے،اپنی خواہشات کو دین اسلام کے تابع کریں حالات سنور جائیں گے۔ نیک عمل اور اسکی حفاظت بہت بڑی نعمت ہے۔ غرور اور تکبر رب کو پسند نہیں یہ ایسے عمل ہیں جو نیک اعمال کو ضائع کرتے ہیں ،عاجزی سے نیک اعمال کی حفاظت ہوتی ہے۔اسلام نے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ اہل علم اور علماء کرام بصیرت سے کام لیتے ہوئے نوجوانوں کو دشمنوں کی سازشوں سے بچائیں اور باہمی اختلافات ترک کر کے اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کریں۔

  • آئی ایم ایف کا وفد "مشن گورننس”پھر پاکستان پہنچ گیا

    آئی ایم ایف کا وفد "مشن گورننس”پھر پاکستان پہنچ گیا

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا ایک اہم مشن پاکستان پہنچ چکا ہے جس کا مقصد گورننس اور کرپشن سے متعلق تفصیلی جائزہ لینا ہے۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کا وفد 5 اپریل 2025 سے پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ موجودہ معاشی صورتحال اور مالی پالیسیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔آئی ایم ایف وفد کا دورہ اصلاحاتی استعداد کار کو بڑھانے اور مالی پالیسیوں کی بہتری کے لیے تکنیکی امداد فراہم کرنے کی غرض سے ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد پاکستان کے مالیاتی حکام کے ساتھ گورننس کی صورتحال، کرپشن کے عوامل اور مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کے لیے گفتگو کرے گا۔اس دورے کے دوران آئی ایم ایف وفد سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کی تجاویز کا بھی جائزہ لے گا اور ان تجاویز پر پاکستانی حکام سے فالو اپ مذاکرات کرے گا۔ وزارت خزانہ کے مطابق، اس ملاقات کا مقصد پاکستان کی مالی صورتحال کو مستحکم کرنا اور آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت کے ذریعے اصلاحات کو تیز کرنا ہے۔

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو اقدامات اور اخراجات پر کنٹرول کے حوالے سے پاکستانی حکام سے مذاکرات کرے گا۔ ان مذاکرات کا مقصد آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینا اور ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے قابل عمل اقدامات پر مشاورت کرنا ہے۔وزارت خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس بجٹ میں معیشت کو مضبوط بنانے، ٹیکس ریونیو بڑھانے اور اخراجات پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔

  • وزیر توانائی اویس لغاری کا بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا اعلان

    وزیر توانائی اویس لغاری کا بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا اعلان

    وزیر توانائی اویس لغاری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نجکاری کا عمل مرحلہ وار کیا جائے گا، جس کے تحت پہلے مرحلے میں تین ڈسکوز کی نجکاری کی جائے گی۔ ان کمپنیوں میں اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) شامل ہوں گی۔اویس لغاری نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو)، اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کی نجکاری کی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد بجلی کے شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور خسارے کو کم کرنا ہے۔وزیر توانائی نے یہ بھی بتایا کہ حکومت چینی پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ اس حوالے سے چینی پاور پلانٹس کے قرضوں کی ری پروفائلنگ پر بھی مذاکرات جاری ہیں تاکہ ان کے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

    اویس لغاری نے کہا کہ حکومت نے گردشی قرضوں میں 339 ارب روپے کی بہتری لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں کمی لاتے ہوئے 145 ارب روپے کی مزید بہتری کی گئی ہے۔وزیر توانائی نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں 55 ارب روپے کی لاگت سے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کیپٹو انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی کے لیے سروس معاہدے بھی کیے جا رہے ہیں۔اویس لغاری نے یہ بھی کہا کہ گڈو اور نندی پور پاور پلانٹس کی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ان پلانٹس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور مالی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔

    وزیر توانائی کے مطابق حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے نہ صرف توانائی کے شعبے میں بہتری آئے گی بلکہ یہ اقدامات پاکستان کے بجلی کے نظام کو زیادہ مستحکم اور پائیدار بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

  • پاکستان اور برازیل کے درمیان دفاعی تعاون ،مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    پاکستان اور برازیل کے درمیان دفاعی تعاون ،مفاہمتی یادداشت پر دستخط

    پاکستان اور برازیل نے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے دفاعی مصنوعات کی ترقی، پیداوار اور تجارت سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ یہ یادداشت 2025 میں ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی لاطینی امریکہ کی دفاعی اور سیکیورٹی نمائش (LAAD-2025) کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دستخط کی گئی۔

    یادداشت پر دستخط پاکستانی سیکریٹری دفاعی پیداوار لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد چراغ حیدر اور برازیل کے وزیر دفاع، جوز موسیو مونٹیرو فیلہو کے درمیان ایک اعلی سطحی ملاقات کے دوران کیے گئے۔اس تقریب میں دونوں ممالک کے سینئر حکام نے شرکت کی، جن میں پاکستان کے برازیل میں سفیر مراد اشرف جنجوعہ اور برازیل کے وزارت دفاع کے سیکریٹری دفاعی پیداوار شامل تھے۔ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے دفاعی پیداوار، تکنیکی تعاون اور مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    برازیل کے وزیر دفاع نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کیا اور لاطینی امریکہ کی دفاعی نمائش میں پاکستان کی فعال شرکت کی تعریف کی۔ پاکستان کے دفاعی اتاشی ، برازیل کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں پہلی مرتبہ پاکستان پویلین کا قیام عمل میں آیا، جس میں پاکستان کی دفاعی صنعتوں کی جدید صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا۔ اس پویلین میں گلوبل انڈسٹریل ڈیفنس سلوشنز (GIDS)، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT)، نیشنل ریڈیو اور ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) جیسے ادارے شامل تھے، جنہیں وزارت دفاعی پیداوار پاکستان اور دفاعی برآمدات کو فروغ دینے والی تنظیم (DEPO) کے تحت نمائش میں پیش کیا گیا۔

    پاکستان کے وزارت دفاعی پیداوار کے سیکریٹری نے ملک کی مقامی اور کم لاگت والی دفاعی مصنوعات کی تیاری کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا، جو روایتی اور ہائبرڈ جنگی تجربات سے مستحکم ہیں۔پاکستان نے برازیل کی فوج کے لیے M-113 آرمرڈ پرسنل کیریئرز کی تجدید کی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کی، اور روایتی سپلائرز کے متبادل کے طور پر مسابقتی تجویز پیش کی۔

    ملاقات میں ایک اہم پہلو پاکستان کی طرف سے برازیل کے فضائیہ (FAB) کو JF-17 تھنڈر لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی پیشکش تھا۔ یہ ملٹی رول، کم لاگت والا طیارہ FAB کی جدید کاری کی ضروریات کے لیے مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا، اور اس کے صلاحیتیوں کا تفصیلی ڈوزیئرپہلے ہی برازیلی طرف سے شیئر کیا جا چکا ہے۔

    دونوں فریقین نے اپنے دفاعی اور خارجہ وزارتوں کے درمیان دو طرفہ ڈائیلاگ کی آپریشنلائزیشن پر پیشرفت کا جائزہ لیا اور پاکستان نے اس ڈائیلاگ کی پہلی ملاقات جلد بلانے کی درخواست کی تاکہ فوجی ٹیکنالوجی، خلائی ایپلی کیشنز اور صنعتی ترقی میں تعاون کو مزید گہرا کیا جا سکے۔برازیل کے وزیر دفاع نے وفد کو اپنے دفاعی شعبے کے چیلنجز اور ترجیحات سے آگاہ کیا، جن میں جدید کاری کی کوششیں، بین الاقوامی جرائم کے خلاف حکمت عملی شامل ہیں۔ملاقات کا اختتام دونوں فریقین کی دفاعی تعاون کو بڑھانے کے عزم کے اعادہ کے ساتھ ہوا۔