Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لندن سے ممبئی جانے والی پرواز کے 250 مسافر ترکی میں پھنس گئے

    لندن سے ممبئی جانے والی پرواز کے 250 مسافر ترکی میں پھنس گئے

    لندن سے ممبئی جانے والی ورجن اٹلانٹک کی پرواز VS358 کے 250 سے زائد مسافر، جن میں اکثریت بھارتی شہریوں کی ہے، گزشتہ 42 گھنٹوں سے ترکی کے دیار بکر ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ پرواز کو ایک "ہنگامی طبی صورتحال” کی وجہ سے دیار بکر میں اتارنا پڑا، جس کے بعد طیارے کو تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایئرلائن کے ترجمان کے مطابق، "ہماری اولین ترجیح مسافروں اور عملے کی حفاظت اور سلامتی ہے، اور ہم پیش آئی تکلیف پر دلی معذرت خواہ ہیں۔ اگر تمام ضروری تکنیکی منظوری حاصل ہو گئی تو پرواز VS1358 دیار بکر سے ممبئی کے لیے جمعہ 4 اپریل کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے روانہ ہوگی۔”ایئرلائن کا مزید کہنا ہے کہ اگر منظوری نہ ملی تو متبادل منصوبہ یہ ہے کہ مسافروں کو بس کے ذریعے کسی دوسرے ترک ایئرپورٹ منتقل کیا جائے گا جہاں سے ان کے سفر کو مکمل کیا جائے گا۔اس دوران، مسافروں کو ترکی میں ہوٹل میں رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ “ہم صورتحال کے حل کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں اور مسافروں کو تمام نئی معلومات سے باخبر رکھا جائے گا۔”

    متاثرہ مسافروں اور ان کے اہل خانہ نے سوشل میڈیا پر شدید غصے اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ معروف شخصیت ہنومان داس نے ایک ویڈیو اور پیغام کے ذریعے بتایا:”میرا خاندان اور 250 سے زائد مسافر @virginatlantic کی جانب سے غیر انسانی سلوک کا شکار ہیں۔ 30 گھنٹوں سے ایک فوجی ایئرپورٹ پر قید ہیں، لیکن @BBCWorld یا عالمی میڈیا اس واقعے پر خاموش کیوں ہے؟”مسافروں نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر تقریباً 300 افراد کے لیے صرف ایک ٹوائلٹ دستیاب تھا، اور سرد موسم میں انہیں کمبل تک فراہم نہیں کیے گئے۔ تصاویر میں دکھایا گیا کہ مسافر ایئرپورٹ کی کرسیوں پر لیٹے اور پریشان حالت میں موجود ہیں۔

    ورجن اٹلانٹک کی سوشل میڈیا ٹیم نے ایک پوسٹ میں کہا،”ہم اپنے مسافروں سے پیش آئی زحمت پر دلی معذرت خواہ ہیں۔ اس وقت تمام مسافروں کو ترکی میں ہوٹلوں میں قیام کی سہولت دی گئی ہے اور ہم کل کے لیے ان کے سفر کے حل پر کام کر رہے ہیں۔”

    بھارت کے انقرہ میں واقع سفارتخانے نے اس معاملے پر نظر رکھنے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں تاکہ بھارتی شہریوں کو جلد از جلد ان کی منزل پر پہنچایا جا سکے۔

  • پاکستان کا سلامتی کونسل سے غزہ پر خاموشی توڑ کر عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ

    پاکستان کا سلامتی کونسل سے غزہ پر خاموشی توڑ کر عملی اقدامات کرنے کا مطالبہ

    پاکستان نے کہا ہے کہ غزہ اور اس سے باہر جاری سنگین انسانی بحران سلامتی کونسل کی عدم فعالیت کو ظاہر کرتا ہے، جو کہ ایک خطرناک نظیر قائم کر رہا ہے۔ اسرائیل جس بے خوفی سے سلامتی کونسل کی قراردادوں، جنگ بندی کے معاہدے، بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور جنیوا کنونشنز سمیت تمام تہذیبی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اس سے فلسطینی عوام یہ سوال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ آیا سلامتی کونسل کبھی کوئی مؤثر اقدام کرے گی یا صرف ان کے مصائب پر افسوس کا اظہار ہی کرتی رہے گی۔

    فلسطینی مقبوضہ علاقوں کی صورت حال پر الجزائر کی جانب سے (پاکستان، چین، صومالیہ اور روس کی حمایت سے) بلائے گئے سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس میں، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہمارا یہ طرز عمل نہ صرف اس ادارے کو کمزور کرتا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے منشور پر قائم بین الاقوامی نظام کو بھی مجروح کرتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’جو کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے وہ انسانیت کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ سلامتی کونسل کو فوری اقدام کرنا ہوگا۔ ہم ایسے ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو محض تماشائی بنا رہے اور کچھ نہ کرے۔ ہم اس اخلاقی دیوالیہ پن کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں، جسے ہمارے سلووینی ساتھی نے ’انسانیت کے زوال‘ سے تعبیر کیا۔‘‘انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل اپنی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ہی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے، ورنہ یہ ادارہ بے معنی ہو جائے گا۔سفیر عاصم نے کہا کہ غزہ مکمل تباہی کی تصویر پیش کر رہا ہے، جہاں نہتے شہریوں بشمول بچوں، خواتین، امدادی کارکنوں، اقوام متحدہ کے اہلکاروں، صحافیوں اور اسپتالوں، اسکولوں سمیت تمام شہری انفراسٹرکچر کو اندھا دھند نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’کچھ بھی محفوظ نہیں رہا ، یہاں تک کہ تاریخی و ثقافتی ورثے بھی۔ یہ مکمل تباہی ہے، ایک ایسی صورت حال جہاں انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قوانین کو کھلم کھلا نظر انداز کیا جا رہا ہے۔‘‘

    پاکستانی سفیر نے کہا کہ گزشتہ ماہ جنگ بندی توڑنے کے بعد اسرائیل نے مزید 1100 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، جس سے 2023 کے اکتوبر سے 2025 کے جنوری تک شہید ہونے والوں کی تعداد 50,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں 17,000 بچے شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’’یہ صرف جنگ نہیں بلکہ ایک قوم کی منظم تباہی ہے۔‘‘انہوں نے توجہ دلائی کہ پچھلے ایک ماہ سے اسرائیل نے تمام سرحدی راستے بند کر دیے ہیں، جس کی وجہ سے نہ خوراک اور نہ ادویات غزہ میں داخل ہو پا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیسیف کے مطابق ایک ملین بچے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں جبکہ عالمی ادارہ خوراک شدید قحط کی وارننگ دے چکا ہے۔جب اقوام متحدہ کے اہلکار اور انسانی ہمدردی کے کارکنان کو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے، تو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا بچا ہے اس عالمی نظام میں جو ہم نے جنگِ عظیم دوم کی راکھ سے تعمیر کیا تھا.

    انہوں نے مسجد الاقصیٰ کی حرمت پامال کرنے کے اسرائیلی اقدامات کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔سفیر عاصم نے زور دیا کہ سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے فوری اور مؤثر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

  • ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی،صدر مملکت کاپیغام

    ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی،صدر مملکت کاپیغام

    آج 4 اپریل 2025 کو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 1979 میں آج ہی کے دن راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔ ان کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے پچھلے سال مارچ میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے میں ٹرائل منصفانہ نہیں تھا اور ان کی پھانسی کے مقدمے میں قانونی عمل کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔ اس فیصلے نے ان کے قتل کو ایک بڑی سیاسی اور قانونی متنازعہ بنا دیا ہے، جس پر آج بھی بحث جاری ہے۔

    پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر سندھ بھر میں عام تعطیل ہے۔ اس دن کو بھرپور طریقے سے یاد کیا جاتا ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے مختلف پروگرامز اور تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ شہید بھٹو ایک عظیم مدبر، جرات مند رہنما اور عوام کے حقیقی نمائندہ تھے۔ انہوں نے اپنی خدمات، جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید بھٹو نے پاکستان کو ترقی، خودمختاری اور عوامی فلاح کے راستے پر گامزن کیا۔ انہوں نے پہلا متفقہ آئین دیا، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور خارجہ پالیسی کو ایک آزاد اور خودمختار تشخص دیا۔

    ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کیلیفورنیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1963 میں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ بنے، لیکن بعد میں سیاسی اختلافات کی وجہ سے حکومت سے الگ ہو گئے۔30 نومبر 1967 کو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔ 1970 کے انتخابات میں انہوں نے "روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ بلند کیا اور کامیابی حاصل کی۔ تاہم، ان کے اقتدار کے آغاز سے پہلے ہی ملک دولخت ہو چکا تھا۔ انہوں نے سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے طور پر پاکستان کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور پھر 1973 سے 1977 تک منتخب وزیراعظم رہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا اور بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کرکے پائیدار امن کی بنیاد رکھی۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے بھارت سے ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو واپس حاصل کیا۔ بھٹو کے دور میں پسے ہوئے طبقات کے حقوق کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے، جس میں زمینوں کی تقسیم، صنعتی ترقی اور عوامی فلاح کے کئی منصوبے شامل تھے۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس کے بعد ان پر قتل کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور 4 اپریل 1979 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی وراثت ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھائی، جو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ بینظیر کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے اور وہ پیپلز پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کی برسی نہ صرف ان کی سیاسی جدوجہد کی یاد دلاتی ہے بلکہ ان کی زندگی کے تمام ابواب کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے، جنہوں نے پاکستان کی سیاست اور تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

  • دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا جائے ۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا جائے ۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حکومت دہشت گردی کے خاتمہ کےلئے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائے ۔ ملک کی سالمیت سے کھیلنے ، بیگناہوں کاخون بہانے، دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے اور ان کے سہولت کار کسی قسم کی بھی رعایت کے حقدار نہیں ہیں۔ دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں شہید ہونے والے سیکورٹی فورسز کے جوان قوم کے محسن ہیں جو وطن کے دفاع کےلئے اپنی جانیں نچھاور کررہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں نے کہا پاکستانی قوم دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کےلئے سیکورٹی اداروں کے بہادر جوانوں کے شانہ بشانہ ہے ۔یہ وقت سیاستدانوں کی باہمی لڑائی اور سیاست کا نہیں بلکہ ملک کو بچانے کا ہے ۔ سیاسی ، معاشی اور دفاعی اعتبار سے ہمارا ملک سنگین ترین صورت حال سے گزررہا ہے ۔ آئی ایم ایف ہماری معاشی اور پالیسیوں پر حاوی ہوچکا ہے ۔ حالت یہ ہے کہ ہمارے حکمران آئی ایم ایف کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتے ان حالات میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ہمارے ملک کےلے سخت نقصان دہ ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ، دفاعی ادارے اور سٹیک ہولڈرز ملک کو بچانے اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کےلئے متحد ہوجائیں اگر ان حالات میں بھی ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ہوشمندی سے کام نہ لیا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ ملک کی سالمیت سے کھیلنے ، بیگناہوں کاخون بہانے، دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے اور ان کے سہولت کار کسی قسم کی بھی رعایت کے حقدار نہیں ہیں ۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا جائے ۔ ہماری اولین ترجیح ہمارا ملک ہے ، ہماری سیاست ، عزت اور خودمختاری اس ملک کی وجہ سے ہے ۔لہذا ضروری ہے کہ ہم ملک کی سلامتی کےلئے متحد ہوجائیں ۔

  • ہسپتال میں کرنٹ لگنے سے بچے کی ہلاکت، ورثا کا احتجاج

    ہسپتال میں کرنٹ لگنے سے بچے کی ہلاکت، ورثا کا احتجاج

    لاہور کے ہسپتال موت بانٹنے لگے، شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال میں والد کے ہمراہ آیا پانچ سالہ بچہ بلال ہسپتال میں لگے کھمبے سے کرنٹ سے جان کی بازی ہار گیا۔

    لاہور کے ایک معروف ٹیچنگ اسپتال میں والد کے ہمراہ اپنی والدہ کا علاج کرانے کے لیے آنے والا بچہ کرنٹ لگنے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگیا۔مقامی شہریوں کے مطابق، اسپتال میں ایمرجنسی کے ڈاکٹرز کی جانب سے بچہ کو فوری طبی امداد نہیں دی گئی، جس کے باعث اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ موت کے منہ میں چلا گیا۔ بچے کی ہلاکت کے بعد، متاثرہ خاندان نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے جی ٹی روڈ پر بچے کی لاش رکھ کر احتجاج کیا۔

    احتجاج میں شریک افراد نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور اس واقعہ کے حوالے سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس دوران پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور احتجاج کو روکنے کی کوشش کی۔مزید برآں، بچے کے والد نے واقعہ کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دی ہے اور مقدمے کے اندراج کے لیے تھانہ شاہدرہ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ والد کا کہنا تھا کہ اسپتال انتظامیہ کی غفلت کے باعث ان کے بیٹے کی جان گئی، اور وہ انصاف کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔

    اس واقعہ کے بعد اسپتال کے انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ عوام کی جانب سے اسپتالوں میں سیکیورٹی اور حفاظتی تدابیر کو مزید بہتر بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

    بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار منوج کمار کی 87 سال کی عمر میں موت

    "ڈائنگ فار سیکس” کے لیے میشیل ولیمز کا دماغ سے جسم تک کا سفر

  • بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار منوج کمار کی 87 سال کی عمر میں موت

    بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار منوج کمار کی 87 سال کی عمر میں موت

    بالی ووڈ کے معروف اداکار اور فلم ساز منوج کمار طویل علالت کے بعد 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق منوج کمار کو ممبئی کے کوکیلا بین دھیرو بائی امبانی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں دل کی پیچیدگیوں کے باعث آج صبح ساڑھے 3 بجے ان کا انتقال ہوا،اسپتال کی طرف سے جاری کیے گئے میڈیکل سرٹیفکیٹ کے مطابق منوج کمار کی موت کی ثانوی وجہ جگر کی خرابی تھی، جس نے ان کی صحت کو مزید متاثر کیا۔

    منوج کمار کے بیٹے کنال گوسوامی نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد طویل عرصے سے علیل تھے اور ان کے انتقال کے وقت وہ خوش تھے، حالانکہ ان کی طبیعت خراب تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے والد کی آخری رسومات کل صبح ادا کی جائیں گی۔

    بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر منوج کمار کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ نریندر مودی نے اداکار کے ساتھ دو تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: "لیجنڈری اداکار اور فلم ساز منوج کمار جی کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ وہ ہندوستانی سنیما کے ایک آئیکون تھے، جنہیں خاص طور پر ان کے حب الوطنی کے جذبے کے لیے یاد کیا جاتا ہے، جو ان کی فلموں میں بھی نظر آتا تھا۔”وزیرِ اعظم مودی نے مزید لکھا: "منوج کمار کے کام نے قومی فخر اور عزم کا جذبہ پیدا کیا اور وہ آنے والی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔”

    منوج کمار کی بالی ووڈ میں خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں 1992 میں پدما شری، 1999 میں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور 2015 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔فلمی دنیا کو خیرباد کہنے کے بعد، منوج کمار نے 2004 کے عام انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کی تھی اور سیاست میں قدم رکھا تھا۔منوج کمار 1937 میں ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا اصل نام ہری کرشنن گوسوامی تھا۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی یادگار فلموں میں کام کیا، جن میں "بھاردی”، "شور”، "کرما” اور "پھولوں کی سیج” شامل ہیں۔ ان کی فلموں میں حب الوطنی اور قوم پرستی کے موضوعات خاص طور پر نمایاں رہے ہیں۔

    "ڈائنگ فار سیکس” کے لیے میشیل ولیمز کا دماغ سے جسم تک کا سفر

    سہاگ رات کو "کیا” ہوا……دلہن نے پولیس کو بتائی ساری کہانی

  • شادی کی 25 ویں سالگرہ کی  تقریب میں شوہر کی موت

    شادی کی 25 ویں سالگرہ کی تقریب میں شوہر کی موت

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک جوڑے کی شادی کی 25 ویں سالگرہ کی خوشی میں دی جانے والی تقریب میں شوہر کا اچانک انتقال ہو گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، وسیم سروت اور ان کی اہلیہ فرح اپنی شادی کی 25 ویں سالگرہ منا رہے تھے، جس کے لیے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا،اس خوشی کے موقع پر جوڑے کے رشتہ دار اور دوست احباب بھی موجود تھے اور اسٹیج پر خاتون کے گھر والے خوشی میں ڈانس کر رہے تھے کہ اسی دوران اچانک وسیم سروت زمین پر گر گئے۔ ان کی حالت بگڑتے دیکھ کر فوری طور پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا،اسپتال پہنچنے کے بعد ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وسیم سروت کو دل کا دورہ پڑا تھا، جس کے باعث ان کا انتقال ہو گیا۔ 50 سالہ وسیم سروت جوتوں کے تاجر تھے اور اپنے کاروبار میں کامیاب تھے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ان کی اہلیہ فرح بلکہ پورے خاندان کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔

    منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات،ایف بی آئی کی کاروائی،پاکستانیوں سمیت 45 گرفتار

    "ڈائنگ فار سیکس” کے لیے میشیل ولیمز کا دماغ سے جسم تک کا سفر

  • منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات،ایف بی آئی کی کاروائی،پاکستانیوں سمیت 45 گرفتار

    منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات،ایف بی آئی کی کاروائی،پاکستانیوں سمیت 45 گرفتار

    ہیوسٹن میں منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات پر ایف بی آئی نے کارروائی کرتے ہوئے 45 افراد کوحراست میں لیا ہے

    امریکی میڈیا کے مطابق ایف بی آئی نے منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے گھروں میں چھاپے مارے،ایف بی آئی نے چھاپوں کے دوران 45 افرادگرفتار کیے جن میں سے زیادہ تر افراد پاکستانی نژاد ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق منی لانڈرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایف بی آئی کے 700 اہلکاروں نے حصہ لیا، گرفتار افراد میں 31 غیر قانونی تارکین وطن بھی شامل ہیں،گرفتار افراد کوجیلوں میں‌منتقل کر دیا گیا ہے.

  • تاج محل کی ٹکٹوں سے پانچ برس میں سب سے زیادہ آمدنی

    تاج محل کی ٹکٹوں سے پانچ برس میں سب سے زیادہ آمدنی

    آگرہ کا مشہور تاج محل، جو کہ مغلیہ دور کا ایک عظیم فن تعمیر ہے، نے مالی سال 2019-20 سے 2023-24 تک کے عرصے میں آثار قدیمہ سروے آف انڈیا ے تحت محفوظ یادگاروں میں سب سے زیادہ آمدنی حاصل کی ہے۔ یہ بات حکومت کی طرف سے شیئر کیے گئے ڈیٹا میں سامنے آئی ہے۔

    یونین کلچر منسٹر گجندر سنگھ شیکھاوت نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے دوران یہ ڈیٹا فراہم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مختلف یادگاروں سے فروخت ہونے والے داخلہ ٹکٹس سے محکمہ آثار قدیمہ کو کتنی آمدنی حاصل ہوئی ہے، اور کون سی یادگاروں نے سب سے زیادہ آمدنی حاصل کی۔شیکھاوت نے اس حوالے سے مالی سال 2019-20 سے لے کر 2023-24 تک کے اعداد و شمار ایک جدول کی صورت میں فراہم کیے، جن میں تاج محل کو پانچوں سالوں میں سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والی یادگار کے طور پر دکھایا گیا۔تاج محل، جو کہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے سترہویں صدی میں تعمیر کروایا تھا، دنیا کی سب سے خوبصورت عمارتوں میں شمار کی جاتی ہے۔

    مالی سال 2019-20: آگرہ کا قلعہ اور دہلی کا قُطب مینار دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
    مالی سال 2020-21: تمل ناصو کے ممالا پورم کے مجسموں کا گروپ اور اوڈیشہ کا سن ٹیمپل دوسرے اور تیسرے نمبر پر آئے۔
    مالی سال 2023-24: دہلی کا قُطب مینار اور لال قلعہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھے۔

    یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تاج محل نے سب سے زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور محکمہ آثار قدیمہ کو سب سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ یادگار نہ صرف بھارت بلکہ عالمی سطح پر اپنی خوبصورتی اور تاریخ کے لیے مشہور ہے۔

  • "ڈائنگ فار سیکس” کے لیے میشیل ولیمز کا دماغ سے جسم تک کا سفر

    "ڈائنگ فار سیکس” کے لیے میشیل ولیمز کا دماغ سے جسم تک کا سفر

    اداکارہ مشیل ولیمز ‘ڈائینگ فار سیکس’ میں شہوانی، پرجوش کردار کے لیے اپنے ذہن سے نکل کر جسم میں کیسے داخل ہوئیں،مشیل ولیمز نے اپنی نئی منی سیریز "ڈائینگ فار سیکس” میں مختلف جنسی تجربات، کچھ عجیب و غریب، کے بارے میں بات چیت کی ہے،مشیل ولیمز اداکارہ جن کی عمر 44 برس ہے، اس ہفتے کے شروع میں شو کے پریمیئر پر پیج سکس کو خصوصی طور پر بتایا، "میں جانتی تھی کہ میں کس چیز میں داخل ہو رہی ہوں۔”

    مشیل ولیمز نے مزید کہا، "میں جانتی تھی کہ میں نے کس چیز پر دستخط کیے ہیں، اس لیے میں نے بس ایک گہری سانس لی اور امید کی کہ جس چیز میں میری دلچسپی ہے، کسی بھی وجہ سے، جو مجھے خاص طور پر دل کو چھو لینے والی اور مضحکہ خیز لگتی ہے، وہ دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں بھی جگہ پائے گی۔”

    "ڈائینگ فار سیکس” مولی کوچن اور نکی بوئیر کی 2020 کی ہٹ پوڈ کاسٹ سیریز پر مبنی ہے۔

    پوڈ کاسٹ میں کوچن کے ان جنسی تجربات کو بیان کیا گیا ہے جو انہیں میٹاسٹیٹک بریسٹ کینسر کی مہلک تشخیص ملنے کے بعد ہوئے۔ ان میں ایک مردہ خانہ کے ملازم کے ساتھ بوس و کنار کرنا شامل تھا جب وہ مکمل جوکر میک اپ پہنے ہوئے تھا، ایک ایسے لڑکے کے ساتھ کار میں عجیب و غریب جنسی تعلقات قائم کرنا جو اپنا جوش برقرار نہیں رکھ سکا، اور ایک ریان رینالڈز جیسے نظر آنے والے شخص کے ساتھ جنسی تسکین حاصل کرنا۔ کوچن 8 مارچ 2019 کو 45 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

    ولیمز کوچن کا کردار ادا کر رہی ہیں، جس نے اپنی بہترین دوست بوئیر کی مدد اور حمایت سے اپنی ناخوش، جنسی طور پر دبی ہوئی شادی کو چھوڑ دیا۔
    How Michelle Williams got out of her head — and into her body — for sultry ‘Dying for Sex’ role: ‘I knew what I signed up for’
    آسکر نامزد اداکارہ نے اعتراف کیا کہ جب انہیں اسکرین پر جنسی تسکین پیش کرنی پڑی تو "کچھ الفاظ آپ کے ذہن میں آتے ہیں جیسے ‘شرمناک’ یا ‘خطرناک’،” لیکن "سچ یہ ہے کہ جب آپ کوئی کام بنانے کی کوشش کر رہے ہوں تو ان کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔”ولیمز کا کہنا ہے کہ انہوں نے "ان چھوٹے بلبلوں کی طرح انہیں پھوڑ کر” کسی بھی اضطراب کو دور کیا۔”دی گریٹسٹ شومین” اسٹار امید کر رہی ہیں کہ شو خواتین کو اپنی جنسی خواہشات کے بارے میں سوچنے اور دریافت کرنے کی ترغیب دے گا۔ "میں نے خواتین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے، ‘ہم ایک دیکھنے کی پارٹی کرنے جا رہے ہیں، ہم اسے ایک ساتھ دیکھنے جا رہے ہیں،’ اور یہ میرے لیے واقعی پرجوش ہے کہ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میں کسی ایسی چیز کا حصہ ہوں جس سے لوگ جڑتے ہیں۔”

    ریڈ کارپٹ پر دیگر مشہور شخصیات میں سلیٹ، ڈیلانی، جے ڈوپلاس، ولیمز کے شوہر تھامس کیل، اور ان کی بہترین دوست اور اکثر پلس ون، بزی فلپس شامل تھیں۔