Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان کو   مضبوط اور پرامن مسلم ملک کے طور پر پیش کریں گے،بلاول

    پاکستان کو مضبوط اور پرامن مسلم ملک کے طور پر پیش کریں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک تفصیلی پیغام جاری کیا ہے۔
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بلاول بھٹو نے اپنے پیغام میں کہا کہ عدالت نے 45 برس بعد اس بات کا اعتراف کیا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے مقدمے میں انصاف کا حق نہیں دیا گیا اور انہیں منصفانہ ٹرائل کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ بلاول بھٹو نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ "جیت ہمیشہ سچائی کی ہوتی ہے”۔بلاول بھٹو نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ 46 سال قبل، آج کے دن، شہید ذوالفقار علی بھٹو کو رات کے اندھیروں میں ایک جھوٹے اور من گھڑت مقدمے میں پھانسی دی گئی۔ دورانِ ٹرائل انصاف کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا، اور اس بات کا اعتراف آج 45 سال بعد پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی کیا۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ سچ ہمیشہ جیتتا ہے۔

    بلاول بھٹو نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی وراثت اور ان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو وہ عہد ساز شخصیت ہیں جنہوں نے سیاست کو محلات سے نکال کر عوام کے درمیان لایا۔ انہوں نے عوام کو طاقت کا اصل سرچشمہ بنایا اور ایک جمہوری پاکستان کے لیے ان کے وژن اور قربانیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے مزید کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان کے متفقہ آئین کی تشکیل، جوہری پروگرام کا آغاز، اور زرعی و صنعتی اصلاحات جیسے اقدامات ملک کے عظیم تحائف ہیں، جو آج تک قوم کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔بلاول بھٹو نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی کے موقع پر ایک عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں مل کر پاکستان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے غیر متزلزل عزم سے رہنمائی لیتے ہوئے ایک رول ماڈل مسلم ملک بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ "آئیں، ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے خوابوں کی تعبیر بنا کر دنیا کے سامنے ایک جدید، مضبوط اور پرامن مسلم ملک کے طور پر پیش کریں گے”۔

    آج پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی 46 ویں برسی انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ منائی جارہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنان شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قربانیوں اور سیاسی وراثت کو یاد کر رہے ہیں، جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی رہنمائی میں پیپلز پارٹی نے ملک کی سیاست کو ایک نئی سمت دی اور عوامی سیاست کی اہمیت کو اجاگر کیا، جو آج بھی پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر اثرانداز ہے۔

  • وزیراعظم  کی میانمار سفارتخانے آمد، زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

    وزیراعظم کی میانمار سفارتخانے آمد، زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

    وزیراعظم پاکستان، محمد شہباز شریف نے میانمار میں حالیہ تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور مال کی تباہی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے میانمار کے سفیر، ونا ہان (Wunna Han) سے ملاقات کی اور حکومت پاکستان کی طرف سے میانمار کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا، "ہم میانمار میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے دعا گو ہیں۔”وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان نے اس قدرتی آفت کے متاثرین کی مدد کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلے میں 35 ٹن امدادی سامان پر مشتمل ایک کھیپ، جس میں خیمے، ادویات اور دیگر ضروری سامان شامل ہیں، خصوصی پرواز کے ذریعے میانمار بھجوا دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا، "اگر مزید امداد کی ضرورت پیش آئی تو پاکستان بھرپور طریقے سے مدد فراہم کرے گا۔”

    وزیراعظم نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان میانمار کے لیے مشکل کی اس گھڑی میں ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔

    اس ملاقات میں میانمار کے سفیر ونا ہان نے وزیراعظم کی سفارت خانے آمد اور حکومت پاکستان کی جانب سے بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا، "پاکستان اور میانمار کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں اور اس مشکل وقت میں پاکستان کی جانب سے تعاون پر میانمار کی قوم بہت شکرگزار ہے۔”اس ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے۔

  • موٹروے پر پیدل چلنا جرم قرار، سات مقدمے درج

    موٹروے پر پیدل چلنا جرم قرار، سات مقدمے درج

    موٹروے پولیس ایم ساوتھ نے لاہور میں موٹروے پر پیدل کراسنگ کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے متعدد ایف آئی آرز درج کر دیں۔

    موٹروے پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ایم 2 سیکشن میں موٹروے پر پیدل چلنے والے افراد کے خلاف 7 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ترجمان کے مطابق، ایف آئی آرز کو تعزیرات پاکستان کے سیکشن 290 اور 291 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ "محفوظ شاہرات اور محفوظ پاکستان ہماری اولین ترجیح ہے”۔ترجمان نے مزید کہا کہ "موٹروے پر پیدل کراسنگ جان لیوا اور انتہائی خطرناک حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے واقعات میں افراد شدید زخمی یا جاں بحق ہو جاتے ہیں۔”

    موٹروے پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں موٹروے پر پیدل نہ چلیں اور فٹ برج استعمال کریں تاکہ اپنی جان کی حفاظت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ "ایک لمحے کی لاپرواہی زندگی بھر کا المیہ بن سکتی ہے۔”موٹروے پولیس نے یہ بھی بتایا کہ موٹروے پر پیدل چلنا قانون کی خلاف ورزی ہے، اور اس پر سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ اس طرح کے خطرناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔موٹروے پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور ایسے واقعات کی روک تھام کی جائے گی جو انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

  • وزیراعظم کی رمضان ریلیف پیکج کے لئے کام کرنے والی ٹیم کی ستائش

    وزیراعظم کی رمضان ریلیف پیکج کے لئے کام کرنے والی ٹیم کی ستائش

    وزیراعظم پاکستان نے رمضان ریلیف پیکج 2025 کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں پیکیج کے نفاذ اور کامیابیوں پر تفصیل سے بات چیت کی گئی اور حکومتی کور ٹیم، معاون اداروں اور دیگر متعلقہ اداروں کی بہترین کارکردگی کی تعریف کی گئی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کا ذکر کیا۔

    وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ رمضان ریلیف پیکج کے دوران پہلی بار ڈیجیٹل والٹ متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے مستحقین تک رقوم کی ترسیل ایک شفاف اور سہل طریقے سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماڈل کو دیگر حکومتی اسکیموں میں بھی اپنانا چاہیے تاکہ پورے پاکستان میں مستحقین تک آسانی سے امداد پہنچ سکے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ رمضان ریلیف پیکج پورے پاکستان بشمول گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے بلاتفریق متعارف کروایا گیا ہے۔ اس پیکج کی کامیابی کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بی آئی ایس پی، پی ٹی اے، نادرا اور دیگر معاون اداروں کی کاوشوں کو سراہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ رمضان ریلیف پیکج کے دوران موصول ہونے والی شکایات کو آئندہ لائحہ عمل بناتے ہوئے مدنظر رکھا جائے گا تاکہ پیکیج کی شفافیت اور مؤثریت مزید بہتر ہو سکے۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس ماڈل کو دیگر حکومتی اسکیموں میں بھی اپنانا چاہیے تاکہ ملک بھر میں ان کا نفاذ مؤثر طریقے سے ہو سکے۔

    اجلاس میں رمضان ریلیف پیکج 2025 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ 79 فیصد رقوم انتہائی شفاف طریقے سے مستحقین تک پہنچائی جا چکی ہیں۔ اس پیکج کے حوالے سے 2224 ملازمین کو ڈیوٹی پر مامور کیا گیا تھا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ رمضان ریلیف پیکج کے دوران 1273 شکایات موصول ہوئیں، جن کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔

    وزیراعظم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بینکس اور دیگر معاون اداروں کی جانب سے رمضان ریلیف پیکج کی آگاہی کے حوالے سے 6.2 ملین روبو کالز کی گئیں، 178,700 آؤٹ باؤنڈ کالز کی گئیں اور 6.1 ملین ایس ایم ایس بھیجے گئے۔ نیشنل ٹیلی کام کارپوریشن کے کال سینٹر سے اس پیکج کی جانکاری دینے کے لیے 126,839 آؤٹ باؤنڈ کالز کی گئیں اور 158,551 ان باؤنڈ کالز ہوئیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ رمضان ریلیف پیکج کے تحت 1.9 ملین ڈیجیٹل ادائیگیاں کی گئیں اور 951,191 ڈیجیٹل والٹس استعمال ہوئے، جو کہ پاکستان کے ڈیجیٹل ویژن کی تکمیل کی جانب اہم قدم ہے۔ اس کے علاوہ، 823,653 خواتین اور 2,541 خصوصی افراد نے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے رقوم وصول کیں۔

    اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھرپور آگاہی مہم چلائی گئی، جس سے عوام میں اس پیکج کی اہمیت اور استفادہ کرنے کا شعور بڑھا۔

    اس اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، متعلقہ سرکاری افسران اور رمضان ریلیف پیکج کے حوالے سے معاون نجی کمپنیوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ رمضان ریلیف پیکج کی کامیابی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آئندہ اس پروگرام کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔

  • ایک رات بھی ہسپتال نہیں گزاری،کرینہ کپور کا سیف علی خان سے شکوہ

    ایک رات بھی ہسپتال نہیں گزاری،کرینہ کپور کا سیف علی خان سے شکوہ

    بالی وڈ کی معروف جوڑی کرینہ کپور اور سیف علی خان کی محبت سے ان کے فینز بخوبی واقف ہیں، تاہم کرینہ کپور کی زندگی میں بھی بعض اوقات شکوے اور شکایات کا سامنا ہوتا ہے۔ کرینہ نے حال ہی میں اپنے شوہر سیف علی خان سے اپنے کچھ ذاتی معاملات پر شکوہ کیا ہے۔

    ماضی میں کرینہ کپور نے اپنے ٹاک شو ’واٹ ویمن وانٹ‘ میں رنبیر کپور کو مدعو کیا تھا، جہاں رنبیر نے اپنی بیٹی راہا کی پیدائش پر کام سے وقفہ لینے اور عالیہ بھٹ کے ساتھ اسپتال میں رہنے کا انکشاف کیا تھا۔ رنبیر نے کہا کہ "میں نے بیٹی کی پیدائش سے 2 سے 3 ماہ پہلے ہی کام سے وقفہ لے لیا تھا، اور راہا کی پیدائش کے دوران میں عالیہ کے ساتھ ایک ہفتے تک اسپتال میں رہا تھا۔”رنبیر کی اس بات پر کرینہ نے فوراً رد عمل دیتے ہوئے انہیں ‘خوبصورت شوہر’ کا خطاب دیا۔ تاہم، اس موقع پر بیبو نے ایک اور اہم شکوہ بھی کیا، اور کہا کہ "سیف بیٹوں کی پیدائش پر میرے ساتھ ایک رات بھی اسپتال میں نہیں ٹھہرے تھے۔”

    کرینہ کے اس شکوے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہر بیوی کی طرح کرینہ کو بھی اپنے شوہر سے کچھ باتوں کی توقعات تھیں، جو مکمل طور پر پوری نہیں ہو سکیں۔ کرینہ اور سیف علی خان کی شادی 2012 میں ہوئی تھی، اور ان کے ہاں پہلے بیٹے تیمور علی خان کی پیدائش دسمبر 2016 میں ہوئی تھی۔ جوڑے کے دوسرے بیٹے کی پیدائش فروری 2021 میں ہوئی تھی۔

    اس انکشاف کے بعد کرینہ کے فینز نے بھی ان کے جذبات کو سمجھا اور سیف علی خان کے اس رویے پر سوال اٹھائے ہیں۔ لیکن بالی وڈ کی اس جوڑی کی زندگی میں محبت، چیلنجز اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا ایک اپنا ہی رنگ ہوتا ہے، جو کہ ان کے مداحوں کے لیے ہمیشہ دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔

  • لمبا قد،مضبوط جسم، پھر بھی کترینہ نے اپنے فگر  پر بہت محنت کی، ٹیرنس لیوس

    لمبا قد،مضبوط جسم، پھر بھی کترینہ نے اپنے فگر پر بہت محنت کی، ٹیرنس لیوس

    بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور ڈانس کوریوگرافر ٹیرنس لیوس نے اداکارہ کترینہ کیف کے ڈانس میں وقت کے ساتھ ہونے والی بہتری کی دل کھول کر تعریف کی۔

    حالیہ دنوں میں ٹیرنس لیوس نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کے بارے میں کئی اہم انکشافات کیے اور بالی وڈ کی معروف اداکارہ کترینہ کیف کے حوالے سے بات کی، جو سوشل میڈیا پر خاصی مقبول ہوئی۔ٹیرنس لیوس نے کترینہ کیف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کترینہ نے اپنی پہلی فلم "بوم” کی ریلیز کے بعد ان کے ساتھ کام کیا تھا، تو وہ ایک تربیت یافتہ ڈانسر نہیں تھیں۔ ٹیرنس نے اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ "مجھے یاد ہے جب فلم ‘بوم’ ریلیز ہوئی تھی تو کترینہ میرے سٹوڈیو میں آئی تھیں اور ہم انہیں ڈانس سکھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ اس فیلڈ میں بالکل نئی تھیں اور انہیں یہ سمجھنے میں مشکل ہو رہی تھی کہ ڈانس کیا ہوتا ہے اور کیسے کیا جاتا ہے۔”

    ٹیرنس لیوس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "جب کترینہ نے گانا ‘ذرا ذرا ٹچ می’ کیا، تو میں نے ان کی پرفارمنس کو دیکھ کر حیرانی کا اظہار کیا۔ میں نے اس وقت باسکو کو فون کیا اور پوچھا کہ یہ کیا جادو ہوا ہے؟ باسکو نے بتایا کہ کترینہ نے اپنے ڈانس پر بہت محنت کی ہے اور اس کا یہ نتیجہ تھا۔”ٹیرنس نے مزید کہا کہ "کترینہ کیف بہت محنتی اداکارہ ہیں۔ وہ ڈانسر نہیں تھیں، لیکن انہوں نے ڈانس کی تربیت لی۔ لمبے قد اور مضبوط جسمانی ساخت کے باوجود، انہوں نے اپنے فگر پر بھی بہت محنت کی، جو کہ بہت قابلِ تعریف ہے۔”

    اسی انٹرویو میں جب ٹیرنس سے سوال کیا گیا کہ بالی وڈ میں بہترین ڈانسرز کون ہیں، تو انہوں نے ایشوریا رائے اور دپیکا پڈوکون کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں اداکارائیں نہ صرف بہترین ڈانسرز ہیں، بلکہ انہوں نے ڈانس کی دنیا میں اپنا ایک الگ ہی مقام بنایا ہے۔

  • سعودی ولی عہد  اور ایرانی صدر کی ٹیلی فونک بات چیت

    سعودی ولی عہد اور ایرانی صدر کی ٹیلی فونک بات چیت

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک بات چیت میں خطے کی موجودہ صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    بات چیت کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی امور پر غور کیا۔ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ٹیلی فون کیا، جس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور مشترکہ مفادات کے مختلف امور کا جائزہ لیا۔ اس بات چیت میں خصوصاً دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور مختلف عالمی مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔عرب میڈیا کے مطابق، اس دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو عید الفطر کی خوشی میں مبارکباد بھی دی اور دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری کی امید ظاہر کی۔

    یہ بات چیت اس بات کا غماز ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں مزید بہتری کی کوششیں جاری ہیں، اور دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون ضروری ہے۔اس ٹیلی فونک بات چیت کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، جو خطے کی سیاسی حرکیات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔

  • صدر مملکت کے خلاف نازیبا پوسٹ کرنے پر پولیس اہلکار گرفتار

    صدر مملکت کے خلاف نازیبا پوسٹ کرنے پر پولیس اہلکار گرفتار

    کراچی: صدر مملکت کے خلاف سوشل میڈیا پر نازیبا پوسٹ کرنے پر ایک پولیس افسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ مقدمہ پاکستان انفارمیشن کمیشن اینڈ کمیونیکیشن ایکٹ (پیکا ایکٹ) کے تحت سکھن تھانے کے ڈیوٹی افسر یعقوب کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

    حکام نے بتایا کہ پولیس نے اس مقدمے میں ملوث پولیس افسر ایس آئی او ابرار شاہ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایس آئی او ابرار شاہ کی تعیناتی ابراہیم حیدری تھانے میں تھی اور اسی افسر نے 2 اپریل کو سوشل میڈیا پر صدر مملکت کے خلاف نازیبا الفاظ پوسٹ کیے تھے۔مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ ابرار شاہ کی اس پوسٹ نے نہ صرف میری بلکہ دیگر شہریوں کی دل آزاری کی۔ اس اقدام کے بعد پولیس نے فوری طور پر تحقیقات شروع کیں اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا کے ذریعے حکام اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور ایسی پوسٹوں کو روکنے کے لیے قانون کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    یاد رہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا پر کسی بھی شخص کے خلاف نازیبا مواد پوسٹ کرنے یا کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔

  • بی ایل اے کے خلاف لاہور میں احتجاجی مظاہرہ

    بی ایل اے کے خلاف لاہور میں احتجاجی مظاہرہ

    بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف لاہور میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرہ کی قیادت مرکزی چیئرمین جان محمد رمضان نے کی، جبکہ اس میں متعدد سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی بھرپور شرکت کی۔

    مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ماہ رنگ لانگو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں اور غیر ملکی طاقتوں کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔مرکزی چیئرمین جان محمد رمضان نے کہا، "ماہ رنگ لانگو نے نہ صرف پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سازشیں کی ہیں بلکہ یہ بی ایل اے کے اہم سہولت کار ہیں، جنہوں نے پاکستانی عوام کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں افراد غیر ملکی ایجنڈے پر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    مظاہرے کے شرکاء نے اپیل کی کہ مہہ رنگ لانگو کے خلاف غداری ایکٹ کے تحت مقدمات چلائے جائیں۔

    مرکزی صدر رانا شہزادہ الطاف نے اپنے خطاب میں کہا، "پاکستانی مزدوروں کا قتل عام اور بی ایل اے کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیاں مہہ رنگ لانگو کی کارروائیوں کا حصہ ہیں۔ ہمیں ان دہشت گردوں کے خلاف ایک مضبوط اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔” ہماری قوم اس جنگ میں اپنی افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہم اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ہر قیمت پر تیار ہیں۔ پاک آرمی لورز موومنٹ کے ارکان اس جنگ میں اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔”مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ملک میں جاری دہشت گردی اور تشویشناک حالات کے پیش نظر سخت اقدامات کیے جائیں اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے حکومت فوری طور پر اقدامات کرے۔

    احتجاجی مظاہرے کا اختتام ایک پرامن انداز میں ہوا، اور شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا کر اس بات کا عہد کیا کہ وہ ملک کی سالمیت کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

  • انڈمان اور نکوبار جزائر میں ڈائٹ کوک کا کین چھوڑنے پر امریکی یوٹیوبر گرفتار

    انڈمان اور نکوبار جزائر میں ڈائٹ کوک کا کین چھوڑنے پر امریکی یوٹیوبر گرفتار

    انڈمان اور نکوبار جزائر کے ایک دور افتادہ جزیرے پر ڈائٹ کوک کا کین چھوڑنے کے الزام میں گرفتار ہونے والا امریکی سیاح 24 سالہ یوٹیوبر میخائیلو وکٹورووچ پولیاکوف ہے، جو اپنے خطرناک مواد کے لیے جانا جاتا ہے۔

    میخائیلو وکٹورووچ پولیاکوف نو گھنٹے کا سفر طے کر کے شمالی سینٹینل جزیرے پہنچا، جو دنیا کے سب سے الگ تھلگ قبائل میں سے ایک کا گھر ہے۔ سینٹینیلیز لوگوں کو بیرونی بیماریوں سے بچانے اور ان کے طرز زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے، کسی بھی شخص، ہندوستانی یا غیر ملکی، کے لیے جزیرے سے تین میل (5 کلومیٹر) کے اندر سفر کرنا ممنوع ہے۔
    یہ قبیلہ اجنبیوں کے ساتھ دشمنی کے لیے جانا جاتا ہے اور اس کا بیرونی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ اس سے قبل، لوگوں نے جزیرے میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن قبیلے کے ہاتھوں مارے گئے۔ جزیرے کا دورہ کرنے والے آخری شخص ایک امریکی عیسائی مشنری، جان ایلن چاؤ تھے، لیکن جزیرے پر اترنے کے بعد انہیں ہلاک کر دیا گیا۔

    مسٹر پولیاکوف چپکے سے جزیرے پر داخل ہوئے اور سیٹی بجا کر اور ڈائٹ کوک کا کین اور ناریل بطور نذرانہ چھوڑ کر مقامی قبیلے کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔پولیس کے مطابق، یوٹیوبر نے جزیرے کے شمال مشرقی ساحل پر پہنچنے کے بعد اپنی کشتی سے دوربین کا استعمال کرتے ہوئے قبیلے کو دیکھا۔ اس نے قبیلے کو دیکھنے اور ان کی توجہ حاصل کرنے کی امید میں مختلف طریقے آزمائے، لیکن کوئی بھی ظاہر نہیں ہوا۔ساحل سمندر پر ویڈیو بنانے کے بعد وہ ایک گھنٹہ انتظار کرتا رہا اور آخر کار ہار مان کر جگہ چھوڑ دی۔ واپس آنے پر مقامی ماہی گیروں نے اسے دیکھا اور حکام کو اطلاع دی۔ بعد ازاں پولیس کو ملنے والی ویڈیو میں وہ یہ کہتے ہوئے پکڑا گیا، "میں یہاں اتر گیا ہوں۔ میں ایک تنہا مسافر ہوں۔ یہاں پہلے کوئی نہیں اترا۔ یہ مایوس کن ہے۔ یہ پہلے کسی نے نہیں کیا۔”

    یہ پہلی بار نہیں تھا جب اس نے سینٹینیلیز قبیلے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ اس نے اکتوبر 2024 میں جزیرے کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ہوٹل کے عملے نے اسے جانے سے روک دیا۔بعد ازاں، اس نے یوٹیوب پر ایک پراسرار تصویر پوسٹ کی جس میں ایک لڑکا اپنی کتے کے ساتھ کشتی میں شمالی سینٹینل جیسے جزیرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔یہ پہلی بار نہیں تھا جب میخائیلو وکٹورووچ پولیاکوف نے ایسا خطرہ مول لیا۔ جنوری میں، اس نے باراتانگ جزیرے کا بھی دورہ کیا اور جاروا نامی ایک اور مقامی گروپ کی ریکارڈنگ کی۔

    اس سے قبل، مسٹر پولیاکوف نے افغانستان کا دورہ کیا اور اپنے خطرناک مہم جوئی کے حصے کے طور پر طالبان سے ملاقات کی۔ اس نے جنگجوؤں سے ادھار لی گئی خودکار بندوقیں اور تلواریں پکڑیں اور ان کے ساتھ پوز کیا۔