Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عمران خان سے ملاقاتوں کی 20 درخواستیں، جیل حکام سے جواب طلب

    عمران خان سے ملاقاتوں کی 20 درخواستیں، جیل حکام سے جواب طلب

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں سے متعلق 20 سے زائد کیسز میں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں لارجر بنچ نے سماعت کی ۔جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان بھی بنچ میں شامل تھے۔عدالت نے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

    علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈپٹی رجسٹرارکیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجازاسحاق نے کی۔ عدالت نے آج ڈپٹی رجسٹرار اور ایڈوکیٹ جنرل سے جواب طلب کیا تھا۔ سماعت کے دوران مشعال یوسفزئی روسٹرم پر آ گئیں۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے اعتراض کیا کہ ان کا کیس نہیں لگا ہوا، انہیں کہیں کہ روسٹرم سے ہٹ جائیں۔ جس پر جسٹس سردار اعجاز نے مشال یوسفزئی کو نشست پر بیٹھنے کی ہدایت کردی۔ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایڈووکیٹ نیاز اللہ نے کل کہا کہ مشال یوسفزئی بانی کی وکیل نہیں، اس پر عدالت نے کہا کہ کوئی کیس ایک بینچ سے دوسری عدالت منتقل کیا جا سکتا ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ تنازع اس لیے شروع ہوا کہ کیا مشال بانی پی ٹی آئی کی وکیل ہیں یا نہیں؟جسٹس سرداراعجاز نے کہا کہ یہی معلوم کرنے کیلئے توعدالتی کمیشن بھجوایا تھا، آپ کسی قیدی کو وکیل سے ملاقات کرنے سے روک نہیں سکتے، سپرنٹنڈنٹ بیان حلفی دے دیتے کہ بانی پی ٹی آئی نےکہا کہ مشعال ان کی وکیل نہیں، ایک وکیل جب کہتا ہے کہ میں وکیل ہوں تو اس کی بات رد نہیں کرسکتے، اگر دوسری سائیڈ کہے کہ وہ وکیل نہیں تو آپ کلائنٹ سے پوچھ لیں، درخواستیں مختلف بینچز میں ہوں تو اسی بینچ سے ریکوئسٹ کی جاتی ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف پیش کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ نے کیسز یکجا کرنے کی درخواست کی، جسٹس سردار اعجاز نے کہا کہ کیس کی منتقلی کیلئے نوٹس دینا ضروری ہے، کیا دیگر پارٹیز کو نوٹس تھا؟ آپ قانون پڑھیں کہ کیس ٹرانسفر سے متعلق قانون کیا کہتا ہے، رجسٹرارآفس نے اعتراض لگا دیا تھا کہ یہ درخواست دی ہی نہیں جا سکتی،جس قانونی نکتے کے تحت درخواست آئی، اس کے تحت نہیں دی جا سکتی، درخواست گزار نے استدعا پر زورنہیں دیا لیکن استدعا مان بھی لی گئی، اس کارروائی کا مطلب ہائیکورٹ کو مزید شرمندہ کرنا نہیں، ہمیشہ کہتا ہوں کہ جج کا احتساب پبلک کرتی ہے، کہیں اور نہیں ہوتا، میں اپنے یا اپنے کولیگز کیلئے کوئی ناخوشگوار بات نہیں چھوڑنا چاہتا۔

    جسٹس سردار اعجازاسحاق نے پوچھا کہ کیا آپ اس عدالت کے سامنے لگی توہین عدالت درخواست پر دلائل دیں گے؟ اس پر مشعال یوسفزئی نے جواب دیا کہ توہین عدالت کیس کی 7 سماعتیں ہوئیں، ہر مرتبہ غلط بیانی کی گئی۔ یہ بھی کہا گیا کیس میں کچھ نہیں ہوگا، آپ دیوارسے سر مار رہی ہیں۔جسٹس سردار اعجاز نے کہا کہ آج صرف کیس منتقلی کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے، اس ایشو پر ایک فائنل ججمنٹ لکھنی ہے، میں لکھوں گا کہ اس طرح کیس ٹرانسفرکرنے کی قانون میں گنجائش نہیں، اگر یہ کام ہائیکورٹ جج نے نہ کیا ہوتا تو یہ کرمنل توہین عدالت ہوتی،عدالت نے وکلا سے معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی.

  • یوم پاکستان پریڈ محدود پیمانے پر روایتی جوش و جذبے سے منانے کا اعلان

    یوم پاکستان پریڈ محدود پیمانے پر روایتی جوش و جذبے سے منانے کا اعلان

    رواں سال 23 مارچ کو یوم پاکستان پریڈ محدود پیمانے پر روایتی جوش و جذبہ کے ساتھ منعقد کی جائے گی

    یوم پاکستان پریڈ کو محدود پیمانے پر منعقد کرنے کا فیصلہ رمضان المبارک کے باعث کیا گیا ہے، پریڈ میں بدستور تینوں مسلح افواج کے دستے بھرپور شرکت کرینگے، یوم پاکستان پریڈ ایوان صدر کے احاطے میں منعقد کی جائے گی،صدر مملکت آصف علی زرداری یوم پاکستان کی تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے،پریڈ میں مسلح افواج کے دستے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کریں گے،پاک فضائیہ کے لڑاکا طیارے بھی ایوان صدر کے سامنے فلائی پاسٹ کریں گے،پریڈ میں پاکستان آرمی کا مایہ ناز پائپ اینڈ پرکشن بینڈ اپنے فن کا بھی مظاہرہ کرے گا،تقریب میں غیرملکی سفیروں اور دیگر اہم شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ہے.

  • عمران بارے سوال پر امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا جواب دے انکار

    عمران بارے سوال پر امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان کا جواب دے انکار

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

    ایک صحافی نے سوال کیا کہ "پاکستان کے مقبول رہنما عمران خان گذشتہ چند برسوں سے جیل میں ہیں، اور دو برسوں میں ملک میں جمہوریت اور خواتین کے حقوق سمیت سب کچھ بکھر گیا ہے۔ صدر ٹرمپ انتخابات سے پہلے پاکستان کے بارے میں بہت سی باتیں کرتے تھے، کیا آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کچھ ہے یا آپ نے صدر ٹرمپ سے کچھ سنا؟”اس سوال کے جواب میں ٹیمی بروس نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات پر بات نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "چاہیں تو وائٹ ہاؤس سے بھی یہ سوال پوچھ سکتے ہیں، لیکن ہم کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات پر تبصرہ نہیں کریں گے۔”

    ٹیمی بروس نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اپنے پڑوسیوں کی حالت پر نظر رکھتا ہے اور دنیا میں ہونے والے واقعات سے آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا، "ٹرمپ اور وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ہمیں دنیا کی پرواہ ہے، اور ہم اس بات کی فکر کرتے ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔”

    امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے اس بات کی بھی تردید کی کہ امریکا نے کسی مخصوص ملک کے لیے ویزا پابندیوں کی فہرست تیار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "کئی دنوں سے جس فہرست کا انتظار کیا جا رہا تھا، اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔”ٹیمی بروس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکی سلامتی کے جائزے کی بنیاد پر ویزا مسائل پر غور کیا جا رہا ہے اور یہ کہ یہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد اس بارے میں مزید بات کی جائے گی۔

    یہ یاد رہے کہ اس سے قبل عالمی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے سابقہ دور کی طرح کچھ ممالک پر سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، جس میں افغانستان اور پاکستان سمیت کئی ممالک متاثر ہو سکتے ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی وفد کے ہمراہ سعودی ولی عہد سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی وفد کے ہمراہ سعودی ولی عہد سے ملاقات

    وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز بھی ملاقات میں موجود تھے.ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا اور اقتصادی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے عزم کو سراہا، جو پاکستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام میں معاون ثابت ہوں گے۔ دونوں اطراف نے علاقائی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال کے ساتھ ساتھ خطے کے سیاسی منظر نامے پر بھی بات چیت کی۔ انہوں نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنے مشترکہ وژن کو فروغ دینے کے لیے ہر سطح پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

    سعودی ولی عہد نے سعودی عرب میں پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں خدمات کا اعتراف کیا اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے عوام کے درمیان روابط، ثقافتی تبادلے اور تعلیمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم اور ولی عہد نے باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور ترقی و خوشحالی کے مشترکہ وژن کی رہنمائی میں پاکستان سعودی عرب شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیراعظم سے سعودی وزیر سرمایہ کاری کی ملاقات
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران سعودی وزیر سرمایہ کاری عزت مآب خالد الفالح اور اقتصادی امور کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کے سربراہ محمد التویجری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے، پاکستان میں مزید سعودی سرمایہ کاری لانے اور اہم شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو تیز کرنے پر تبادلہء خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے سعودی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے توانائی، انفراسٹرکچر، زراعت اور ٹیکنالوجی میں پاکستان کی وسیع صلاحیت پر زور دیتے ہوئے سعودی کاروباری اداروں کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے تحت کاروبار مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔سعودی وزیر خالد الفالح اور ٹاسک فورس کے سربراہ محمد التویجری نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں سعودی عرب کی گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تیز کرنے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو بڑھانے پر تبادلہء خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے منظم مصروفیات اور مشترکہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کے ذریعے پاکستان سعودی اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں طویل مدتی اور باہمی طور پر مفید اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے عزم پر زور دیا گیا۔اجلاس میں وزیر اعظم کی معاونت کے لئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ جناب محمد اسحاق ڈار، وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور نیشنل کوآرڈینیٹر SIFC لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد موجود تھے۔ سعودی وفد میں سعودی وزارت سرمایہ کاری اور سعودی عرب اور پاکستان کے مابین اقتصادی تعلقات کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس کے نمائندے شامل تھے۔

  • بائیکرزلین کے اخراجات کی تفصیلات کی درخواست لاہور ہائیکورٹ سے مسترد

    بائیکرزلین کے اخراجات کی تفصیلات کی درخواست لاہور ہائیکورٹ سے مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے فیروزپور روڈ پر بائیکرز لین کے اخراجات کی تفصیلات سے متعلق اعتراضی درخواست پر سماعت کی۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ سڑکوں پر حادثات کو روکنے کے لیے بائیکرز کے لیے گرین لین کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جس کے لیے بھاری پبلک فنڈز خرچ کیے گئے ہیں۔درخواست گزار اکمل خان باری نے عدالت میں موقف اپنایا کہ سڑک پر بنائی گئی بائیکرز لین کی پینٹنگ پہلی بارش میں دھل گئی، جس سے اس کے اخراجات کی تفصیلات کی جانچ پڑتال کی ضرورت پیش آتی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر ہائیکورٹ آفس کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے اعتراضی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی بےبنیاد درخواستوں کو دائر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس کے نتیجے میں عدالت کا وقت ضائع کرنے والوں پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے کا بھی عندیہ دیا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس قسم کی درخواستوں کے ذریعے عوامی وسائل اور عدالت کا وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ لاہور میں بائیکرز کے لیے فیروزپور روڈ پر گرین لین کا منصوبہ ایک اہم اقدام تھا، جس کا مقصد سڑک پر بائیکرز کے لیے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنا تھا۔ تاہم، درخواست میں اس منصوبے کی کامیابی اور اس کے اخراجات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب سعودی عرب پہنچ گئیں

    وزیراعلیٰ پنجاب سعودی عرب پہنچ گئیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچ گئیں

    وہ جاتی امرا سے روانہ ہوئیں جہاں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور ان کے والد نواز شریف نے مریم نواز کو گلے لگا کر دعاؤں کے ساتھ روانہ کیا۔ نواز شریف نے مریم نواز سمیت پورے وفد کی خیریت اور عمرہ کے قبول ہونے کی دعا کی۔اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ مریم نواز اور ان کے وفد کو عمرہ کی سعادت دے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرمائے۔ انہوں نے پورے خاندان اور مسلم لیگ (ن) کے تمام رہنماؤں کی طرف سے بھی مریم نواز کو دعائیں دیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی گزشتہ روز سعودی عرب کے چار روزہ دورے پر روانہ ہوئے تھے، وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب دونوں عمرہ کے لئے سعودی عرب میں ہیں

  • بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی سے پسپا

    بنوں میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کی فائرنگ، جوابی کارروائی سے پسپا

    بنوں: بنوں کے علاقے کنگرپل میں دہشت گردوں نے پولیس چوکی پر فائرنگ کی جسے پولیس نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق، دہشت گردوں نے کنگرپل پولیس چوکی پر اچانک حملہ کیا تھا، جس پر فوراً پولیس اہلکاروں نے جوابی کارروائی شروع کر دی، جس کے نتیجے میں دہشت گرد پسپا ہو گئے اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فورسز نے دہشت گردوں کی تلاش شروع کر دی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔

    دوسری جانب پشاور کے علاقے متنی میں ایک ہوٹل پر دستی بم حملہ کیا گیا۔ بم پھینکنے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام افراد محفوظ رہے۔ پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔یہ دونوں واقعات امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والے ہیں، لیکن فورسز کی بروقت کارروائی نے ان حملوں کو کامیاب ہونے سے روک دیا۔

  • لاہور میں "ویگو ڈالہ کلچر” کیخلاف مہم تیزی سے جاری

    لاہور میں "ویگو ڈالہ کلچر” کیخلاف مہم تیزی سے جاری

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ویگو ڈالہ کلچر کے خلاف پولیس کی جانب سے کریک ڈاؤن کی مہم تیزی سے جاری ہے۔ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر کڑی نگرانی کے عمل میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ایس پی موبائلز شاہ میر خالد کی قیادت میں متعدد کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ناکہ عبد الستار ایدھی ویگو ڈالہ پر پولیس نے اسلحہ کی نمائش کرنے والے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 2 پستول، ایک رائفل، میگزینز اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ گرفتار ملزمان میں ناظم، عامر، شرف اور اجمل شامل ہیں، جنہیں مزید قانونی کارروائی کے لئے تھانہ چوہنگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔اسی دوران ایک اور کارروائی کے دوران پولیس نے بلیک پیپر والی ویگو ڈالہ سے غیر قانونی طور پر فلیشر لائٹ برآمد کی۔ ایس پی موبائلز شاہ میر خالد کا کہنا ہے کہ بلیک پیپر اور پولیس لائٹس والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا، اور اس مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔

    ناکہ جات اور ڈولفن سکواڈ کی ٹیمیں بلیک شیشوں والی گاڑیوں اور غیر قانونی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ایس پی موبائلز نے کہا کہ اس نوعیت کی گاڑیوں کو ہر حال میں پکڑا جائے گا تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ایس پی موبائلز شاہ میر خالد نے واضح کیا کہ پرائیویٹ گارڈز کی جانب سے ویگو ڈالہ پر اسلحہ کی نمائش پبلک ہراسمنٹ کے زمرے میں آتی ہے اور اس پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ویگو ڈالہ کلچر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہر میں عوامی تحفظ اور امن قائم رکھا جا سکے۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں پولیس کا ساتھ دیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر دیں۔

  • ٹرمپ جو مرضی کہے،لاس اینجلس 2028 اولمپک کھیلوں میں حصہ لوں گی،ایمان خلیف

    ٹرمپ جو مرضی کہے،لاس اینجلس 2028 اولمپک کھیلوں میں حصہ لوں گی،ایمان خلیف

    الجزائری باکسر ایمان خلیف، جو پیرس 2024 اولمپک کھیلوں کے دوران عالمی توجہ کا مرکز بنی تھیں، نے کہا ہے کہ وہ لاس اینجلس 2028 اولمپک کھیلوں میں اپنے طلائی تمغے کا دفاع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کو نظرانداز کر دیا ہے۔

    ایمان خلیف، جو ایک خاتون ہیں اور خواتین کے 66 کلوگرام باکسنگ مقابلے میں طلائی تمغہ جیت چکی ہیں، نے اٹالین باکسر اینجیلا کاری نی کو صرف 46 سیکنڈ میں ہرا دیا تھا، جس کے بعد انہیں آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرانسفوبک کمنٹیٹرز نے غلط طور پر ایمان خلیف کو "مرد” قرار دیا تھا۔آئی ٹی وی نیوز کے ساتھ حالیہ انٹرویو میں، خلیف نے کہا کہ پیرس اولمپک کھیلوں کے دوران سوشل میڈیا پر ہونے والے اس ردعمل نے انہیں حیران کن حد تک متاثر کیا۔ انہوں نے کہا، "جب میں نے دیکھا کہ ریاستی سربراہان، مشہور شخصیات اور سابق کھلاڑی میرے بارے میں بات کر رہے تھے بغیر اس بات کی تصدیق کیے، تو یہ مجھے چونکا دینے والا لگا۔” انہوں نے مزید کہا، "وہ میرے بارے میں اس لیے بات کر رہے تھے کہ وہ بات کرنا چاہتے تھے، بغیر کسی قابل اعتماد یا دستاویزی معلومات کے۔”

    ٹرمپ نے غلط طور پر ایمان خلیف کو "ٹرانزیشن” کرنے والی باکسر قرار دیا تھا، جس سے الجزائر کے کھلاڑی پر مزید بدسلوکی ہوئی۔ ٹرمپ نے اس سال کے آغاز میں کہا تھا، "کون نہیں بھول سکتا کہ پچھلے سال کے پیرس اولمپک کھیلوں میں ایک مرد باکسر نے خواتین کا طلائی تمغہ چھین لیا تھا۔” یہ تب تھا جب انہوں نے "مردوں کو خواتین کے کھیلوں سے باہر رکھنے” کے حوالے سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے تاکہ ٹرانسجینڈر خواتین کو خواتین کے کھیلوں میں مقابلہ کرنے سے روکا جا سکے۔

    تاہم، خلیف نے ٹرمپ کے تبصروں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ میں ہونے والی ٹرانسجینڈر پالیسیوں سے متاثر نہیں ہوں گی اور اپنے دوسرے اولمپک طلائی تمغے کے حصول میں پراعتماد ہیں۔ "میں آپ کو ایک سادہ جواب دوں گی: امریکی صدر نے امریکہ میں ٹرانسجینڈر پالیسیوں سے متعلق ایک فیصلہ جاری کیا، لیکن میں ٹرانسجینڈر نہیں ہوں،” انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا۔ "یہ میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور نہ ہی مجھے اس سے کوئی خوف ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ میں خود کو ایک لڑکی سمجھتی ہوں، جیسے کہ ہر لڑکی۔ میں لڑکی کی طرح پیدا ہوئی تھی، لڑکی کی طرح پلی بڑھی ہوں اور پوری زندگی ایک لڑکی کے طور پر گزاری ہے۔”

    پیرس میں اپنی کامیابی سے قبل، خلیف کو 2023 میں عالمی چیمپئن شپ سے مسترد کر دیا گیا تھا، جو انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن (آئی بی اے) نے منعقد کی تھی۔آئی بی اے نے اس کے بعد خلیف اور اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی تھی تاکہ انہیں کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے۔ آئی او سی نے اس ردعمل کو "آئی بی اے کی مہم کا ایک اور مثال” قرار دیا تھا۔ آئی او سی کے صدر تھامس باچ نے خلیف کا پختہ دفاع کیا اور سی این این اسپورٹس کو بتایا کہ یہ تنازعہ کھیلوں کے دوران ایک روسی قیادت والی معلوماتی مہم کا نتیجہ تھا۔

  • چیئرمین پی سی بی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے طلب کر لیا

    چیئرمین پی سی بی کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے طلب کر لیا

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آٹھویں ایڈیشن کے لیے تقریباً 2 ارب روپے کی تقسیم نہ ہونے کے معاملے پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی کو طلب کر لیا ہے۔ آڈٹ پیرا کے جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ پی سی بی اور فرنچائزز کے درمیان اس رقم کی تقسیم نہیں کی گئی، جس پر پی اے سی نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیا۔

    آڈٹ حکام کے مطابق پی سی بی اور فرنچائزز کے درمیان رقم کی غیر منصفانہ تقسیم نہ ہونے کا معاملہ کئی مہینوں سے چل رہا ہے، اور پی اے سی نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس دوران چیئرمین پی اے سی نے سوال کیا کہ کیا پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کو آج کمیٹی میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ جس کے بعد پی اے سی نے اگلی میٹنگ میں محسن نقوی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔

    کمیٹی کے اجلاس کے دوران، سیکریٹری کابینہ نے بتایا کہ کوئٹہ اور بلوچستان میں حالیہ واقعات کی وجہ سے وزیر داخلہ کا اجلاس میں آنا ممکن نہیں تھا، تاہم ثناء اللہ مستی خیل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کا ملک سے باہر ہونا انتہائی تشویشناک ہے، ایسے حالات میں وہ وزیر داخلہ کا کردار بھی ادا نہیں کر رہے،کمیٹی کے ایک رکن نے یہ بھی نشاندہی کی کہ نگران سیٹ اپ میں غیر قانونی طور پر پی سی بی کو کابینہ کے ماتحت کر دیا گیا ہے، جس پر سیکریٹری کابینہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ اب ملک میں ہیں اور بیرون ملک نہیں ہیں۔

    اسی دوران، پی اے سی کے رکن سید نوید قمر نے کہا کہ ہم چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے بغیر آڈٹ پیرا پر بحث نہیں کر سکتے، اور اگر وہ کمیٹی میں شرکت نہ کریں تو آپ نوٹس جاری کر سکتے ہیں۔ نوید قمر نے مزید کہا کہ آپ سول جج کے اختیارات کے تحت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر سکتے ہیں اگر چیئرمین پی سی بی نے کمیٹی میں آنا ضروری نہیں سمجھا۔