Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اداکارہ نازش جہانگیر کے وارنٹ گرفتاری جاری

    اداکارہ نازش جہانگیر کے وارنٹ گرفتاری جاری

    لاہور کی کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے معروف اداکارہ نازش جہانگیر کے خلاف امانت میں خیانت، فراڈ اور دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ نازش جہانگیر کو گرفتار کر کے 22 مارچ کو عدالت میں پیش کرے۔

    یہ مقدمہ لاہور کے علاقے ڈیفنس کے رہائشی اسود ہارون کی درخواست پر درج کیا گیا ہے، جنہوں نے اداکارہ پر الزام عائد کیا کہ نازش جہانگیر نے شوبز انڈسٹری میں مواقع فراہم کرنے کا جھانسہ دے کر ان سے لاکھوں روپے اور قیمتی گاڑی چھین لی۔ اسود ہارون کے مطابق، جب انہوں نے اپنی رقم اور گاڑی کی واپسی کا مطالبہ کیا تو انہیں ایک فارم ہاؤس میں بلایا گیا، جہاں مسلح افراد نے انہیں یرغمال بنا کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

    عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران نازش جہانگیر، سکندر خان اور دیگر ملزمان کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں۔

    اس وقت تک اداکارہ نازش جہانگیر کی طرف سے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، اداکارہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس حوالے سے اپنا موقف پیش کریں گی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی مسجد نبوی میں حاضری، ریاض الجنتہ میں نفل عبادات

    وزیراعظم شہباز شریف کی مسجد نبوی میں حاضری، ریاض الجنتہ میں نفل عبادات

    سعودی عرب کے دورے پر موجود وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں حاضری دی اور اپنے وفد کے ہمراہ روضہ رسول ﷺ کی زیارت کی۔ اس دوران وزیراعظم نے نفل عبادات ادا کیں اور اللہ تعالیٰ سے امت مسلمہ کے اتحاد، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعائیں کیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے وفد کے لیے سعودی حکومت نے خصوصی انتظامات کیے تھے۔ وزیراعظم نے اپنے وفد کے ہمراہ ریاض الجنتہ کے دروازے کھولے جانے پر وہاں نفل نماز ادا کی اور وہاں بیٹھ کر امت مسلمہ کے لیے دعائیں کیں، خاص طور پر پاکستان کی ترقی، خوشحالی، اور استحکام کے لیے اللہ سے مدد کی درخواست کی۔

    اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف جب مدینہ منورہ پہنچے تو گورنر مدینہ شہزادہ سلمان بن سلطان نے وزیراعظم کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ وزیراعظم کو پرنس محمد بن عبدالعزیز ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہا گیا۔وزیراعظم کے ہمراہ ان کے وفد میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور دیگر اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ اس دورے کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس دورے کے دوران سعودی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور دونوں ممالک کے مابین مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

  • ایک دو نہیں  48 اراکین اسمبلی "ہنی ٹریپ”کا شکار،انکشاف

    ایک دو نہیں 48 اراکین اسمبلی "ہنی ٹریپ”کا شکار،انکشاف

    وزیر داخلہ سمیت 48 اراکین اسمبلی ہنی ٹریپ کا شکار ہوئے ہیں، تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا، دو خواتین کو گرفتاربھی کر لیا گیا

    اس بات کا انکشاف بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیر کے این راجنا نے کیا،انہوں نے کہا کہ وہ ناکام ہنی ٹریپ حملے کا شکار ہوئے ہیں یہ صرف ان کے ساتھ نہیں، بلکہ پچھلے بیس سالوں میں 48 ایم ایل اے کو اس طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ وزیر، جو وزیر اعلیٰ سدھارمیا کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے بتایا کہ انہیں دو بار ہنی ٹریپ کا شکار بنایا گیا۔ پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے وزیر ستیش جارکیہولی نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس معاملے کی ریاستی وزارت داخلہ کی طرف سے اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس معاملے کی تحقیقات کے لئے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے مطالبہ کیا ہے۔

    ریاستی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر کے این راجنا نے کہا، "یہ بات چل رہی ہے کہ تمکورو کے ایک وزیر بھی ہنی ٹریپ کا شکار ہوئے ہیں۔ تمکورو سے صرف ہم دونوں وزیر ہیں، ایک میں ہوں اور دوسرا وزیر داخلہ۔””یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،” "ایسے 48 اراکین ہیں جو اس کا شکار بنے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگوں نے ہائی کورٹ سے اسٹے بھی حاصل کیا ہے۔ دونوں طرف کے لوگ اس میں شامل ہیں اور اب میرا نام بھی سامنے آیا ہے۔ میں وزیر داخلہ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ اگر ضروری ہو تو میں خود شکایت درج کرنے کے لئے تیار ہوں۔ کم از کم ہمیں یہ پتہ چلنا چاہئے کہ اس کا اصل ماسٹر مائنڈ اور اس کے کردار کون ہیں۔”

    ریاستی وزیر داخلہ جی پارمیشور نے اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ہنی ٹرئپ کا شکار وزیر کا کہنا تھا کہ "دو کوششیں کی گئی تھیں (ایک وزیر پر)، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں،””پچھلے 20 سالوں سے یہ ہوتا آیا ہے۔ ہر پارٹی — کانگریس، بی جے پی اور جے ڈی ایس — اس کا شکار ہوئی ہے،” سیاست میں ایسی چالاکیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ کچھ لوگ ایسے حالات کا فائدہ اٹھا کر سیاسی مفاد حاصل کرتے ہیں اور یہ بند ہونا چاہئے۔”پچھلی حکومتوں میں بھی ہنی ٹریپ کے شکار لوگ تھے۔ کچھ نام سنے گئے تھے۔ اب (کانگریس کے) لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں، اور اگر یہ آئندہ بھی ہوتا ہے تو ہمیں حیرانی نہیں ہوگی۔ اس کا خاتمہ ہونا چاہیے،”

    موجودہ واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سدھارمیا اور وزیر داخلہ سے بات کی ہے۔ "ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ شکایت درج کی جائے اور تحقیقات کی جائیں… ہم نے متاثرہ شخص سے درخواست کی ہے کہ وہ آگے آئے اور شکایت درج کرائے، تب ہی تحقیقات ہو سکتی ہیں اور سچ سامنے آ سکتا ہے،” انہوں نے کہا۔

    "ہنی ٹریپ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ الزام لگانے والا کوئی عام شخص نہیں بلکہ کانگریس حکومت کا ایک سینئر رہنما ہے… اس لئے اس معاملے کی سنجیدہ تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ میں وزیر اعلیٰ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جائے،” انہوں نے مزید کہا۔

    پچھلے ہفتے کی رپورٹوں کے مطابق، دو خواتین کو تمکورو ضلع میں ایک بی جے پی رہنما کو ہنی ٹریپ میں پھانسنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بی جے پی کے رہنما انپا سوامی نے الزام لگایا تھا کہ ایک خاتون نے انہیں فیس بک پر دوست بنایا اور بعد میں ان کی نجی ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کیا۔

  • ایلون مسک کی کمپنی”ایکس” کا مودی سرکار پر مقدمہ

    ایلون مسک کی کمپنی”ایکس” کا مودی سرکار پر مقدمہ

    ایلون مسک کی کمپنی ایکس کارپ (جو کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس، سابقہ ٹوئٹر کی مالک ہے) نے کرناٹک ہائی کورٹ میں بھارتی حکومت کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔

    کمپنی نے بھارتی حکومت کے آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79(3)(بی) پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس قانون کو غیر قانونی اور غیر منظم سنسرشپ کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس دفعہ کے تحت مواد کو بلاک کرنے کے فیصلے کیے جا رہے ہیں، جس سے ان کے پلیٹ فارم کی آپریشنز متاثر ہو رہی ہیں۔دفعہ 79(3)(بی) میں حکومت کو انٹرنیٹ کے مواد کو بلاک کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کا استعمال بلا جواز اور غیر منصفانہ ہے۔ ایکس کارپ نے درخواست میں کہا ہے کہ جب مواد ہٹایا جائے تو اس کے لیے تحریری وجوہات پیش کرنا ضروری ہونا چاہیے اور اس فیصلے سے پہلے مناسب سماعت کا انتظام بھی کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، کمپنی کو قانونی طور پر اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق بھی ہونا چاہیے۔ ایکس کارپ نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے اس سلسلے میں کسی بھی ضابطے کا پیروی نہیں کی۔

    کمپنی نے مزید الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی حکومت دفعہ 79(3)(بی) کی غلط تشریح کر رہی ہے اور اس کے ذریعے ایسے احکامات جاری کر رہی ہے جو کہ دفعہ 69اے کے قواعد کی پاسداری نہیں کرتے۔ اس دفعہ میں حکومت کو انٹرنیٹ مواد کو بلاک کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، لیکن اس کے لیے مخصوص قواعد و ضوابط کی پیروی ضروری ہے۔ کمپنی نے 2015 میں شریا سنگھل کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے، جس میں حکومت کو مواد بلاک کرنے کے اختیارات کی حدود واضح کی گئی تھیں۔

    یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب بھارت کی وزارت اطلاعات و ٹیکنالوجی نے ایکس کارپ سے اس کے اے آئی چیٹ بوٹ "گروک” (Grok) کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ گروک نے بعض سوالات کے جوابات میں نازیبا الفاظ استعمال کئے، جس پر بھارتی حکومت نے کمپنی سے وضاحت طلب کی ہے۔ اس سے قبل 2022 میں بھی کمپنی کو دفعہ 69اے کے تحت مواد ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا، جس پر کمپنی نے اعتراض کیا تھا۔

    یہ مسئلہ نہ صرف ایکس کارپ بلکہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، جہاں حکومتوں کی جانب سے مواد کے بلاک کرنے یا سنسر کرنے کے فیصلے پلیٹ فارمز کے آپریشنز اور ان کے صارفین کی آزادی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بھارت میں حکومت کی جانب سے اس طرح کی کارروائیوں کا نتیجہ عالمی سطح پر بحث و مباحثے کا باعث بن رہا ہے، خصوصاً جب بات آزادی اظہار اور آن لائن پلیٹ فارمز کی خود مختاری کی ہو۔یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کرناٹک ہائی کورٹ اس درخواست پر کیا فیصلہ کرتا ہے اور کیا بھارتی حکومت اس درخواست پر اپنا موقف بدلتی ہے۔ ساتھ ہی، دیگر ممالک میں بھی اس نوعیت کے قوانین پر بحث کی گنجائش بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر جب حکومتیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی سرگرمیوں پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کو بند کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے

    ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کو بند کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ تعلیم کو بند کرنے کے فیصلے کے حوالے سے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں تعلیمی معیار میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو اسکولوں کے موجودہ نظام کی ناکامی کا نتیجہ قرار دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ "امریکا کے اسکولوں میں طلباء کو بنیادی ریاضی جیسے ضروری مضامین تک نہیں آتے، جبکہ محکمہ تعلیم کے پاس بڑی بڑی عمارتیں اور وسائل ہیں، لیکن تعلیمی معیار کی کمی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ اسکولوں میں تعلیم کا معیار بہت زیادہ گر چکا ہے، جس کی وجہ سے محکمہ تعلیم کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اسکولوں کے معاملات اب ریاستیں خود دیکھیں گی، اور انہیں اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ اپنے تعلیمی نظام کو بہتر بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی گورنرز اس فیصلے سے خوش ہیں اور وہ اس نئے نظام کو خوشدلی سے قبول کریں گے۔

    امریکی صدر نے اس موقع پر یوکرین کے ساتھ معدنیات کے شعبے میں معاہدے کی بات بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کے ساتھ معدنیات کی پیداوار میں تعاون کے لیے امریکا اور یوکرین کے درمیان معاہدہ بہت جلد ہونے جا رہا ہے۔

  • لندن کے مصروف ترین ہیتھرو ایئرپورٹ میں آتشزدگی، آج دن بند رہے گا

    لندن کے مصروف ترین ہیتھرو ایئرپورٹ میں آتشزدگی، آج دن بند رہے گا

    لندن: برطانوی دارالحکومت لندن کا سب سے بڑا اور مصروف ہیتھرو ایئرپورٹ آج 21 مارچ کو مکمل طور پر بند رہنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ایئرپورٹ کے ترجمان کے مطابق، ایئرپورٹ کو بجلی فراہم کرنے والے سب اسٹیشن میں لگنے والی آگ کے باعث ایئرپورٹ کو بجلی کی فراہمی میں شدید خلل پڑا ہے، جس کی وجہ سے ایئرپورٹ کی تمام کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ نہ آئیں اور اپنی ایئر لائنز سے رابطہ کریں تاکہ وہ اپنی پروازوں کی صورتحال کے بارے میں آگاہ ہو سکیں۔ ہیتھرو ایئرپورٹ پر روزانہ تقریباً 1300 پروازیں آتی اور جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں مسافروں کو اس بندش کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا ہوگا۔

    ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب مغربی لندن میں واقع ایک سب اسٹیشن میں لگی آگ نے نہ صرف ایئرپورٹ کی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ہزاروں گھروں کو بھی بجلی سے محروم کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، لندن سب اسٹیشن کے قریب واقع 150 گھروں کو خالی کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ علاقے میں دھویں کے بادل پھیلنے کے باعث قریبی آبادی کو گھروں کی کھڑکیاں بند رکھنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔آگ پر قابو پانے کے لیے 10 فائر انجن اور 70 فائر فائٹرز کی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ تاہم، ایئرپورٹ کی بندش کے باعث مسافروں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہوگا۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب ہیتھرو ایئرپورٹ میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہو۔ اس سے قبل اگست 2022 میں بھی ایئرپورٹ کے قریب ایک آتشزدگی کا واقعہ رونما ہوا تھا، جس کے نتیجے میں ایئرپورٹ کی کارروائیوں میں خلل آیا تھا۔ہیتھرو ایئرپورٹ کے حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ نہ آئیں اور اپنی پروازوں کے حوالے سے ایئر لائنز سے رابطہ کریں۔

  • تین بار کے وزیراعظم نواز شریف کو بیٹی نے نئی "نوکری” دے دی،بھارتی میڈیا

    تین بار کے وزیراعظم نواز شریف کو بیٹی نے نئی "نوکری” دے دی،بھارتی میڈیا

    پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو ان کی بیٹی مریم نواز کی حکومت میں پنجاب صوبے کی لاہور کی وراثتی بحالی اتھارٹی کا پیٹرن ان چیف مقرر کیا گیا ہے۔ تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف اب لاہور کے قدیم نوآبادیاتی دور کی عمارات کی بحالی کے عمل کی نگرانی کریں گے۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق پنجاب حکومت نے نواز شریف کو لاہور کی وراثتی بحالی اتھارٹی کا پیٹرن ان چیف مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ اس کے تحت نواز شریف لاہور کے قدیم شہر کی بحالی کی نگرانی کریں گے۔سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت نے فوراً نواز شریف کی اس نئی سرکاری ذمہ داری پر مذاق اُڑایا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شوکت بسرا نے کہا کہ نواز شریف کو "حکومتی نوکری” ملنے پر انہیں مبارکباد دی جاتی ہے۔شوکت بسرا نے کہا کہ "نواز شریف 2024 کے انتخابات میں اپنی جماعت کی شرمناک شکست کے بعد ایک ریٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے۔ عمران خان کا مینڈیٹ چوری کر کے نواز اور زرداری کی جماعتوں، یعنی پی ایم ایل این اور پی پی پی کو دے دیا گیا۔ اب مریم نواز نے اپنے والد کو کچھ کام دینے کے لئے ان کی مدد کی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "نواز شریف لندن سے 2023 میں وزیر اعظم بننے کے لیے واپس آئے تھے، مگر نواز شریف کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اب نواز شریف کو لاہور کے قدیم عمارات کی بحالی کی نگرانی کرتے ہوئے دیکھا جائے گا۔”

    پنجاب حکومت نے لاہور کی 100 سے زائد عمارات کو "تاریخی وراثتی مقامات” کے طور پر درجہ بندی کیا ہے۔ نواز شریف نے لاہور کی وراثت کی بحالی کے لئے والڈ سٹی اتھارٹی لاہور سے ایک جامع منصوبہ طلب کیا ہے۔نواز شریف نے اس حوالے سے کہا کہ "قدیم لاہور بے حد خوبصورت ہے اور اسے اپنی اصل حالت میں بحال کیا جانا چاہیے۔ ہماری کھوئی ہوئی وراثت کو بچانا ایک قومی فریضہ ہے۔”

  • تھکن ،ذہنی دباؤ،رات نیند نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟ماہرین کی رائے

    تھکن ،ذہنی دباؤ،رات نیند نہ آئے تو کیا کرنا چاہئے؟ماہرین کی رائے

    دنیا بھر میں سیاسی تبدیلیاں، تجارتی جنگوں کے امکانات، اسٹاک مارکیٹ میں افراتفری، اور صارفین کے لیے بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہو رہا ہے، جب کہ ہزاروں افراد کی ملازمتیں بھی ختم ہو رہی ہیں، اور اس کا اثر مزید لوگوں پر بھی پڑے گا۔ ان دنوں میں تبدیلی اور غیر یقینی صورتحال ایک عام بات ہے، اور یہ بے چینی اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔دباؤ، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، نیند کو متاثر کر سکتا ہے۔ بہت سے افراد کے لیے یہ دباؤ بے خوابی کا سبب بن سکتا ہے، جو کہ نیند میں مشکل، نیند کا برقرار نہ رہنا، یا زیادہ جلدی جاگنا جیسی شکایات کا باعث بنتی ہے۔ اگر بے خوابی کا مسئلہ دیر تک رہے تو یہ دل کے دورے اور فالج جیسے سنگین صحت کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

    نیند کے ماہر ڈاکٹر انا کریگر کا کہنا ہے کہ، "ہر کسی کی بے خوابی کی ایک مخصوص حد ہوتی ہے، اور کبھی کبھار کچھ ایسے عوامل آتے ہیں جو اس حد کو پار کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔ یہ دباؤ ذاتی، پیشہ ورانہ، ماحولیاتی یا سیاسی بھی ہو سکتا ہے۔”

    پچھلی کچھ دہائیوں میں سیاسی اور معاشرتی افراتفری کے دوران بے خوابی کے معاملات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جیسا کہ مائشیلا ڈریپ نے بتایا، جو کہ اوہایو کے کلیولینڈ کلینک میں نیند کے مسائل کے ماہر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ بے خوابی کا شکار ہیں، تو بستر پر تڑپنے کی بجائے اٹھ کر کچھ آرام دہ کام کریں، اور کم روشنی میں رہنے کی کوشش کریں۔ نیند کے مسائل میں مبتلا افراد کو اس بات سے بچنا چاہیے کہ وہ اپنی نیند کی کیفیت کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوں، کیونکہ یہ پریشانی نیند کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔

    عمر ایک اہم خطرے کا عنصر ہے، کیونکہ بزرگ افراد پہلے ہی صحت کے مسائل یا دائمی درد کی وجہ سے نیند کی مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں اور ایسے میں اضافی دباؤ انہیں مزید متاثر کر سکتا ہے۔ خواتین میں بے خوابی کی شرح مردوں سے زیادہ ہوتی ہے، اور ایسے افراد جو کہ خاندان میں کسی کو بے خوابی کا سامنا ہے، وہ بھی زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا مشورہ ہے کہ رات کو سوشل میڈیا یا خبریں چیک کرنے کی عادت کو ختم کیا جائے۔ جینیفر منڈٹ، جو کہ یونیورسٹی آف یوٹاہ میں نیند کی ماہر ہیں، کہتی ہیں کہ "نیند سے پہلے خبریں دیکھنا یا سوشل میڈیا پر وقت گزارنا نیند میں خلل ڈال سکتا ہے، اس لیے نیند سے ایک گھنٹہ پہلے اس سے بچنا چاہیے۔”الکحل یا دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال نیند کو بہتر کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ دراصل نیند کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، دن بھر زیادہ کیفین کا استعمال بھی نیند کے مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بے خوابی کے مسائل کو مستقل شکل اختیار کرنے سے بچانے کے لیے سلیپ بیہیویرل تھراپی (CBT-I) ایک بہترین طریقہ ہے۔ اس طریقہ کار میں نیند کے شیڈول کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے اور نیند کے ماحول کو مثبت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر آپ کو نیند کے مسائل کا سامنا ہے، تو ضروری ہے کہ آپ اپنی نیند کی عادات اور ماحول پر توجہ دیں اور ان عوامل سے بچیں جو نیند کو خراب کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اگر ضروری ہو تو ماہرین سے مدد لیں تاکہ آپ کی نیند کو بہتر بنایا جا سکے اور آپ ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر محسوس کر سکیں۔

  • مچ میں سڑک کنارے دھماکا، کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پردہشتگردوں کا حملہ ناکام

    مچ میں سڑک کنارے دھماکا، کوہاٹ میں پولیس چیک پوسٹ پردہشتگردوں کا حملہ ناکام

    بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچ میں سڑک کنارے ہونے والے دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکا لیویز فورس کی گاڑی گزرتے وقت ہوا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی بھی جانی نقصان نہ ہوا۔

    لیویز حکام کے مطابق دھماکے کے بعد فوراً موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ دھماکا ایک دہشت گردانہ حملہ ہو سکتا ہے، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب، صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے کوہاٹ میں انڈس ہائی وے پر مسلم آباد پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ، عباس مجید مروت کے مطابق، حملے کے دوران دس سے پندرہ دہشت گردوں نے پولیس چیک پوسٹ پر افطاری کے بعد فائرنگ کی۔ تاہم، پولیس اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے باعث دہشت گرد آدھے گھنٹے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔پولیس نے حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دونوں واقعات میں اللہ کا کرم رہا کہ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

  • ایئر پورٹ کے باتھ روم میں ڈبو کر کتے کو "قتل” کرنے والی خاتون گرفتار

    ایئر پورٹ کے باتھ روم میں ڈبو کر کتے کو "قتل” کرنے والی خاتون گرفتار

    امریکہ میں ایک 57 سالہ خاتون کو اپنے کتے کو ایئرپورٹ کے باتھ روم میں ڈوبو کر مار ڈالنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    خاتون کو اس بات کا علم ہوا تھا کہ وہ اپنے پالتو کتے کو پرواز میں ساتھ نہیں لے جا سکتی تھیں۔ یہ واقعہ گزشتہ سال دسمبر میں اورلینڈو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آیا، جہاں حکام کو خواتین کے باتھ روم میں ایک مردہ جانور کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس نے تحقیقات کی اور خاتون ایلسن ایگاتھا لارنس تک پہنچیں، جنہیں منگل کے روز جانوروں پر ظلم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ یہ جرم تیسرے درجے کا قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، خاتون اپنی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھیں، مگر ان کے پاس کتے کو بورڈ پر لے جانے کے لئے ضروری دستاویزات نہیں تھے۔ اس پر 57 سالہ خاتون نے ایئرپورٹ کے باتھروم میں اپنے کتے کو ڈبو دیا اور اس کی لاش کو کچرے میں پھینک دیا، اس سے پہلے کہ وہ سیکیورٹی چیک پوائنٹس سے گزرتیں۔ ایئرپورٹ کے صفائی عملے نے یہ ہولناک دریافت کی۔

    لارنس کو اس واقعے کے دن سے ملنے والی شہادتوں کی بنیاد پر پولیس نے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ وہ تقریباً تین ماہ بعد گرفتار ہوئیں اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ منگل کے روز گرفتاری کے بعد، انہوں نے اپنے مقدمے کے دوران 5000 ڈالر کی ضمانت ادا کی ہے۔لارنس کے پڑوسیوں کا ماننا ہے کہ وہ ایک سفید پوڈل کی مالک تھیں۔ تاہم، لارنس کی بہن نے کہا کہ انہیں اپنی بہن کے بارے میں کچھ نہیں معلوم، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لارنس کے پاس فون نہیں تھا۔

    فلوریڈا اینیمل رائٹس فاؤنڈیشن کے جانوروں کے حقوق کے کارکن بریان ولسن نے کہا، "ظاہر ہے کہ ہمیں بہت صدمہ ہوا جب ہم نے سنا کہ ایک خاتون نے اپنے پالتو جانور کو صرف اس وجہ سے مار ڈالا کہ وہ جہاز میں نہیں جا سکی۔ریاستی سینیٹر ٹام لیک، جنہوں نے حال ہی میں جانوروں کے ظلم کے خلاف ایک بل پیش کیا ہے، نے اپنے ساتھیوں کو سینیٹ فلور پر بتایا، "یہ ایک اور خوفناک مثال ہے کہ کیوں میں نے جانوروں کے ظلم سے متعلق بل پیش کیا ہے، جو ان افراد کے لئے جرائم کی سزاؤں کو مزید سخت کرتا ہے جو بے گناہ جانوروں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بل کو فلوریڈا سینیٹ اور فلوریڈا ہاؤس آف ریپریزنٹیٹو سے پاس کروانا چاہتے ہیں تاکہ گورنر اس پر دستخط کریں۔