Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان، امریکی سفری خدشات کے پیشِ نظر مرکزی مجرمانہ ریکارڈ سسٹم قائم کرے گا

    پاکستان، امریکی سفری خدشات کے پیشِ نظر مرکزی مجرمانہ ریکارڈ سسٹم قائم کرے گا

    پاکستانی حکومت قومی سلامتی کو بڑھانے اور امیگریشن کنٹرول کو مضبوط کرنے کے لیے مرکزی مجرمانہ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم (CRMS) کے قیام میں تیزی لا رہی ہے، جس کی ایک وجہ امریکہ کی طرف سے سفری پابندیوں کے ممکنہ خدشات ہیں۔

    یہ اقدام امریکی حکومت کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کے حکومتی فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا مقصد سفری پابندیوں کے امکانات کو روکنا ہے۔ وزارت خارجہ نے وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کی ہیں، جس میں تمام صوبوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امیگریشن سسٹم کو بہتر بنائیں، مجرمانہ ریکارڈ مینجمنٹ کو بڑھائیں اور جدید ٹیکنالوجی نصب کریں۔”فوری ضرورت” سمجھے جانے والے CRMS کا مقصد ایک مضبوط اور معیاری امیگریشن اسکریننگ میکانزم بنانا ہے۔ یہ سسٹم مجرمانہ تاریخ رکھنے والے افراد کو بیرون ملک سفر کرنے سے روکنے اور بین الاقوامی حفاظتی پروٹوکول کے ساتھ ہم آہنگی کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ پولیس کی تصدیق کے عمل کو ہموار کرکے، CRMS سفارت خانوں اور امیگریشن حکام کو روانگی سے قبل جامع پس منظر کی جانچ اور خطرے کا جائزہ لینے کے قابل بنائے گا۔

    فی الحال، صوبائی پولیس تنظیموں نے اپنے مجرمانہ ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کر لیا ہے اور پولیس اسٹیشن کریمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم (PSCRMS) تک بین الصوبائی رسائی حاصل ہے۔ تاہم، ایک متحد، قومی سطح کے نظام کی عدم موجودگی نے ریئل ٹائم تصدیق اور مربوط قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ نیا مرکزی CRMS جرائم اور مجرمانہ ریکارڈ کے لیے قومی ڈیٹا بیس کے طور پر کام کرے گا۔یہ اقدام سرحدوں کی حفاظت کو بڑھانے، مجرمانہ دراندازی کو روکنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور امیگریشن کنٹرول میں بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی وسیع تر کوششوں کا ایک اہم جزو ہے۔

    پولیس آرڈر 2002 کے آرٹیکل 162 کے مطابق، نیشنل پولیس بیورو (NPB) اس کام کا ذمہ دار ہے۔ ڈائریکٹر جنرل (DG) NPB ڈیزائن، عمل درآمد اور CRMS کے بین ایجنسی کوآرڈینیشن کی نگرانی کرتے ہوئے فوکل پرسن کے طور پر کام کریں گے۔انسپکٹر جنرل آف پولیس، پنجاب، NPB میں تکنیکی انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لیے تکنیکی مہارت، مطلوبہ افرادی قوت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کریں گے۔ پنجاب پولیس آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی آئی ٹی پروفیشنلز کی ایک خصوصی ٹیم ضروری ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر فریم ورک کی ترقی میں مدد کے لیے تعینات کی جائے گی۔اس اقدام کی اہم اہمیت کے پیش نظر، تمام متعلقہ حکام کو ایک ہفتے کے اندر تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    رپورٹ، زبیر قصوری، اسلام آباد

  • ایاز صادق کی عمران سے ملاقات کی یقین دہانی،اجلاس میں شرکت کریں گے،پی ٹی آئی

    ایاز صادق کی عمران سے ملاقات کی یقین دہانی،اجلاس میں شرکت کریں گے،پی ٹی آئی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیف وہپ، عامر ڈوگر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سے بھی ملاقات کی گئی۔

    عامر ڈوگر نے اس ملاقات میں پارلیمنٹ کے قومی سلامتی سیشن سے قبل پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایک 3 رکنی پارلیمانی وفد کو بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لینے کے لیے ملاقات کی اجازت دی جائے۔عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ اسپیکر ایاز صادق اور وزرا نے اس درخواست پر متعلقہ افراد سے رابطہ کرنے اور ملاقات کا یقین دلایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی حمایت کے بغیر کوئی بھی کامیاب پالیسی تشکیل نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی، ملٹری آپریشنز اور خارجہ پالیسی پر بانی پی ٹی آئی کا ہمیشہ ایک واضح مؤقف رہا ہے، اور یہی مؤقف ملکی پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

    عامر ڈوگر نے یہ بھی کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود سیاسی قیادت کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کو روکا جا رہا ہے، اور اگر ان ملاقاتوں کا انتظام نہیں کیا جاتا تو پی ٹی آئی حکومت کے خلاف میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اسپیکر ایاز صادق کو ایک خط لکھا، جس میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا مطالبہ کیا گیا۔ عمر ایوب نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے لیے ملاقات کرائی جائے اور اس ملاقات کے انتظامات کیے جائیں۔

    یاد رہے کہ اسپیکر ایاز صادق نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس آج طلب کیا ہے، جس میں عسکری قیادت ملکی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دے گی۔ پی ٹی آئی نے اس اجلاس میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس،  سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات

    قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس، سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے ان کیمرہ اجلاس کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے احاطے میں سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں اعلیٰ حکومتی اور عسکری قیادت شریک ہوگی۔اجلاس میں ملک کی مجموعی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور ان کے نامزد نمائندے شرکت کریں گے۔ اس اہم اجلاس میں عسکری قیادت ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کرے گی۔اجلاس کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور اطراف میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق، اجلاس ان کیمرہ ہوگا، اور میڈیا کو پارلیمنٹ کی عمارت تک رسائی نہیں ہوگی اور میڈیا کے لیے جاری کیے گئے کارڈ کل کیلئے غیر موثر ہونگے۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران کسی بھی غیر متعلقہ فرد کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران قومی اسمبلی ہال کے اندر موبائل فون لے جانے کی بھی اجازت نہیں ہو گی

  • برطانوی اخبار نے پاکستانی امریکی بزنس مین ضیا چشتی سے معافی مانگ لی

    برطانوی اخبار نے پاکستانی امریکی بزنس مین ضیا چشتی سے معافی مانگ لی

    برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے پاکستانی امریکی بزنس مین ضیا چشتی سے معافی مانگ لی۔ یہ معافی ایک طویل عدالتی جنگ کے بعد آئی ہے، جس میں ضیا چشتی نے اخبار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

    برطانوی عدالت نے ضیا چشتی کے خلاف جنسی ہراسانی کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ قرار دیا کہ ٹیلی گراف کی جانب سے ضیا چشتی پر لگائے گئے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد تھے۔ رائل کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ اخبار نے ضیا چشتی کی سابقہ ملازمہ ٹاٹیانا اسپوٹس ووڈ کے جنسی ہراسانی کے الزامات کو دوبارہ شائع کیا تھا، جو کہ گمراہ کن، ظالمانہ اور ہتک آمیز تھے۔ٹیلی گراف نے ضیا چشتی کے خلاف شائع ہونے والے ان الزامات کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ الزامات جھوٹے تھے اور ان کی شراکت داری کی بدولت ضیا چشتی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ، اخبار نے ضیا چشتی سے معافی مانگنے کا وعدہ کیا اور یہ معافی دونوں پرنٹ اور آن لائن ایڈیشنز میں شائع کرنے پر رضامند ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی، اخبار نے ضیا چشتی کو ہرجانے کی رقم اور قانونی اخراجات بھی ادا کرنے کی تصدیق کی۔

    یہ کیس نومبر 2021 میں شروع ہوا تھا جب ضیا چشتی نے اخبار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان مضامین میں شائع ہونے والے الزامات نے ان کی ساکھ اور کاروباری مفادات کو نقصان پہنچایا تھا۔ ضیا چشتی کے قانونی مشیر نے اس فیصلے کو ایک اہم جیت قرار دیا اور کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ الزامات صرف الزامات ہی تھے اور ان کی حقیقت نہیں تھی۔

    عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ضیا چشتی نے کہا کہ "میں اور میرا خاندان ساڑھے تین سال تک آزمائشوں سے گزرے۔ میری ساکھ اور کاروباری مفادات کو شدید نقصان پہنچا۔”

    واضح رہے کہ ضیا چشتی نے امریکا میں بھی ٹاٹیانا اسپوٹس ووڈ اور ان کے وکلا کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ ان الزامات کا ان کے کاروباری کیریئر اور ذاتی زندگی پر گہرا اثر پڑا تھا۔ ضیا چشتی نے اپنے دونوں کاروباری اداروں کے عہدوں سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔

  • ایئر پورٹ پر خاتون مسافر کو ہراساں کر کے رشوت لینے والوں کو بھجوایا گیا جیل

    ایئر پورٹ پر خاتون مسافر کو ہراساں کر کے رشوت لینے والوں کو بھجوایا گیا جیل

    پنجاب کے شہر فیصل آباد کے ایئرپورٹ پر ایک خاتون مسافر سے ہراساں کرکے اس سے رشوت لینے والے کسٹم انسپکٹر اور 2 کانسٹیبل کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ فروری 2024 میں پیش آیا، جس میں کسٹم انسپکٹر سمیت دیگر ملزمان نے خاتون کو غیر قانونی طور پر تنگ کرکے اس سے رقم کا مطالبہ کیا تھا۔

    ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کی جانب سے کیس کی سماعت کے دوران گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران سینئر سول جج نے ملزمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے ایئرپورٹ پر خاتون مسافر کے پاس دو آئی فون دیکھ کر اسے ہراساں کیا۔ ان افراد نے خاتون سے 50 ہزار روپے کی رشوت طلب کی اور اس کے ساتھ ساتھ ساڑھے 3 لاکھ روپے کی رقم بینک اکاؤنٹ میں منتقل کروا لی۔ ملزمان نے نہ صرف اس خاتون کو ہراساں کیا بلکہ اس سے غیر قانونی طور پر پیسے بھی حاصل کیے۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ اس کیس میں ملزمان کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید تیز کیا جائے گا۔

  • گرفتار سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہماری ٹیم کا حصہ نہیں، پی ٹی آئی کا انکار

    گرفتار سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہماری ٹیم کا حصہ نہیں، پی ٹی آئی کا انکار

    پی ٹی آئی اور عمران خان کی حمایت میں ٹویٹ کرنے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کو پی ٹی آئی نے اپنا ماننے سے انکار کر دیا،

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے کے الزام میں گرفتار حیدر سعید پی ٹی آئی کی آفیشل ٹیم کا حصہ نہیں ہے، تاہم وہ پارٹی کے احتجاج میں ہمیشہ شریک رہتا ہے۔ یدر سعید نے کبھی بھی پی ٹی آئی کی آفیشل ٹیم کا حصہ بننے کی تصدیق نہیں کی، لیکن وہ ہمیشہ عمران خان کے احتجاجی مظاہروں میں شریک رہتا ہے۔

    پشاور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران شیخ وقاص اکرم نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے بانی، عمران خان کی رہائی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ ایک نہایت اہم اقدام ہے جس کے لیے حکومت کو فوراً اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر کسی پر ایف آئی آر کٹتی ہے یا تحقیقات کی جاتی ہیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں، مگر گھروں سے لوگوں کا اغوا کرنا ایک سنگین غلطی ہے۔ اگر نوجوانوں کے خلاف جعلی پیجز بنائے جا رہے ہیں اور انہیں اغوا کیا جا رہا ہے تو یہ قابل مذمت ہے۔ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں ان نوجوانوں پر تشدد نہ کیا جا رہا ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل اپنے حقوق سے بخوبی آگاہ ہے اور انہیں اپنی طاقت کا پورا اندازہ ہے۔

    واضح رہے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد نے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے ملزم حیدر سعید کو بنی گالا سے گرفتار کیا۔ ایف آئی اے کے مطابق حیدر سعید نے جعفر ایکسپریس حادثے کے بعد اس واقعے کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کیا اور تضحیک آمیز مواد شیئر کیا۔ایف آئی اے نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے۔ حیدر سعید کو 20 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ مزید کارروائی کی جا سکے۔

    شیخ وقاص اکرم نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ نوجوانوں کے خلاف جاری یہ کارروائیاں اور ان کے اغوا کے واقعات تشویشناک ہیں، اور پی ٹی آئی ہر قیمت پر ان نوجوانوں کے حقوق کے دفاع میں کھڑی ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کارروائی کریں اور کسی بھی قسم کی زیادتی سے گریز کریں۔

  • ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 3 خوارج ہلاک

    ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 3 خوارج ہلاک

    ضلع خیبر کے علاقے طوردرہ میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب آپریشن انجام دیا جس کے نتیجے میں 3 خوارج جہنم واصل ہو گئے۔

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں طوردرہ کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ایک آپریشن شروع کیا۔ اس آپریشن کا مقصد علاقے میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 دہشت گرد مارے گئے۔ مارے گئے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس خطرناک ہتھیار موجود تھے۔سیکورٹی فورسز ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور ایسے آپریشنز جاری رکھیں گے تاکہ عوام کو امن و سکون فراہم کیا جا سکے۔

    یہ آپریشن ملک میں دہشت گردوں کی سرکوبی کے حوالے سے ایک اہم قدم ہے اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتا ہے۔

  • لاالہ الااللہ کے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، تابش قیوم

    لاالہ الااللہ کے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، تابش قیوم

    صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل اسکلز کورس شروع کرنے جا رہے ہیں ،ترجمان مرکزی مسلم لیگ

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ لاالہ الااللہ کے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے، مرکزی مسلم لیگ عید کے بعد پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں سے رابطہ کر کے قیام امن کے لئے ملک گیر تحریک چلائے گی.خدمت کا رمضان مہم کے تحت ملک بھر میں ہزاروں سحر و افطار دسترخوان لگائے گئے ہیں، پیکا ایکٹ آزادی اظہار رائے کے خلاف، صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہیں

    ان خیات کا اظہار انہوں نے بہاولنگر پریس کلب کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع بہاولنگر کے سیکرٹری جنرل حافظ امیر حمزہ رافع،ترجمان مرکزی مسلم لیگ جنوبی پنجاب احمد اجمل و دیگر بھی موجود تھے، تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی اک نئی لہر آئی ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں. مرکزی مسلم لیگ قیام امن کے لئے ملک گیر تحریک چلائے گی اور پاکستان کی ہر سیاسی ،مذہبی جماعت، ہر اسٹیک ہولڈر، نوجوانوں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے طبقے کو امن پر متحد کریں گے.

    تابش قیوم کا مزید کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ کی منظوری کو آزاد ی صحافت پر کاری ضرب قرار دیتے ہیں مرکزی مسلم لیگ صحافیوں کی پیشہ ورانہ ترقی اور آزادیٔ صحافت کے لیے انکے ساتھ کھڑی ہے.مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں صحافیوں سمیت نوجوانوں کے لئے بے روزگاری کے خاتمے کا شاندار منصوبہ لے کر آ رہی ہے.ہم نوجوانوں کو ہنر سکھائیں گے، صحافیوں کے لیے ڈیجیٹل اسکلز کورس شروع کرنے جا رہے ہیں یہ ڈیجٹل اسکلز صحافیوں کو جدید دور سے ہم آہنگ کریں گے

  • قوم کا فخر ۔۔۔قوم کا مان۔۔۔ افواج پاکستان.تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    قوم کا فخر ۔۔۔قوم کا مان۔۔۔ افواج پاکستان.تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    انسانی جسم بے شمار اعضا اور ہڈیوں پر مشتمل ہوتا ہے جسم میں کچھ عضو ایسے بھی ہیں جو نہ بھی ہوں تو انسان زندہ رہ سکتا ہے جبکہ کچھ عضو ایسے بھی ہیں جن کے بغیر زندگی کا تصور محال ہے جیسا کہ شہ رگ ہے ، دل ہے یا سر ہے ۔ ایسے ہی پاکستانی قوم پچیس کروڑ افراد پر مشتمل ہے ۔ پچیس کروڑ افراد پر مشتمل ملک میں بے شمار جماعتیں ہیں۔ حکومتی ا و رنجی سطح پر لاتعداد شعبہ جات پائے جاتے ہیں ۔ مختلف شعبہ جات کی اپنی اپنی اہمیت ہے ۔ تاہم بہت سے شعبہ جات ایسے ہیں جو نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ملک قائم رہے گا لیکن افواج پاکستان کا شعبہ ایک شعبہ ہے کہ جس کے بغیر پاکستان کا تصور بھی محال ہے ۔ افواج کے بغیر پاکستان کی آزادی اور خود مختاری ختم ہوکر رہ جائے گی ۔ آج اگر ہم اپنے ملک میں آرام و سکون سے رہ ہیں اور اپنے گھروں میں آرام اور سکون کی نیند سو رہے ہیں تو افواج کی بدولت ہی رہ رہے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ پاک افواج ہی پاکستان کے دفاع کی ضامن ہے ۔ قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے افواج کی قدر وقیمت کا اندازہ قوم 12اور13مارچ کو کرچکی ہے کہ جب دہشت گردوں نے بلوچستان میں ڈھاڈر کے مقام پر ٹرین میں سوار 400مسافروں کو یرغمال بنا لیا ۔ قوم کے لیے یہ بہت مشکل وقت تھا ۔ دہشت گردوں کے انتظامات اور یرغمالی مسافروں کی بے بسی کے بارے میں جس طرح کی اطلاعات آرہی تھیں اس سے خدشہ تھا کہ یا تو 400مسافر خون میں نہا جائیں گے یا پھر ریاست کو دہشت گردوں کے سامنے سرنڈر کرنا پڑے گا ۔ دونوں صورتوں میں ہی پاکستان کےلئے بے حد مشکلات تھیں۔ اس مشکل وقت میں سکیورٹی فورسز کے تمام اہلکاروں نے جس جرا¿ت وبہادری اور دانشمندی وبہترین حکمت علمی سے دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا ہے اس سے قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے ۔قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے ۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ اس سے قبل جب بھی قوم پر مشکل وقت آیا افواج پاکستان کے بہادر آفیسروں اور جوانوں نے جانوں پر کھیل کر وطن اور قوم کی حفاظت کی ہے ۔ 6ستمبر 1965ءکی شب بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو دوپہر کے وقت جنرل ایوب خان نے نہایت ہی ولولہ انگیز خطاب کیا اور کہا دشمن نے ایک ایسی قوم کو للکارا ہے جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان رکھتی ہے اور شہادت کے جذبوں سے سرشار ہے۔ پھر انھوں نے کہا اے میری قوم لاالہ الااللہ پڑھتے چلو آگے آگے بڑھتے چلو ! تب پوری قوم سیسہ پلائی دیوار بن گئی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ۔ جذبات کا یہ عالم تھا کہ جب پاکستان کی فضاﺅں میں بھارتی طیارے داخل ہوتے تو پیروجواں اور بچے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے ڈنڈے اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے اور بھارتی طیاروں کو دیکھ کر ڈنڈے لہراتے ، مکے دکھاتے اور نعرے لگاتے تھے ۔ سترہ روزہ جنگ میں ہماری افواج نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ عوام کی والہانہ محبت اور مددو حمایت سے فوج کے حوصلے بلند ہوتے گئے ۔ میجر عزیز بھٹی کی بٹالین بی آر بی پر تعینات تھی انہوں نے بڑی جواں مردی سے کئی دن تک بھارتی یلغار کو روکے رکھا۔ وہ بار بار پوزیشن تبدیل کر کے فائر کرتے اور دشمن کو یہ تاثر دیتے رہے کہ ا±سے ایک بریگیڈ کا سامنا ہے۔ وہ بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس بہادری کے عوض میجر عزیز بھٹی کو سب سے بڑے ایوارڈ نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔اسی طرح ایم ایم عالم نے سرگودہا میں ایک روز میں سات ہوائی جہاز گراکر بھارت کی فضائی برتری کا سحرتوڑ ڈالا۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی دنیا کی سب سے خوفناک جنگ لڑی گئی جو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوئی۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور شجاعت کے اعتبار سے دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں۔ ہماری بہادر افواج کی امتیازی شناخت ان کا جذبہ شہادت اور ”جہاد فی سبیل اللہ“کا ماٹو ہے۔۔۔۔۔یہ دو ایسی صفات ہیں جن سے بھارت ، امریکہ ، روس اور دیگر ممالک کی افواج محروم ہیں ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہمارے ہزاروں جانباز جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور داخلی اور خارجی چیلنجوں کے سامنے ناقابلِ تسخیر دیوار بنے ہوئے ہیں۔ہماری افواج کئی طرح کے دشمنو ں سے برسرپیکار ہے ۔ ایک دشمن وہ جو بھارت کی صورت میں سامنے ہے ۔دوسرے وہ دشمن ہیں جو سامنے تو نہیں لیکن ہماری بستیوں میں موجود ہیں بظاہر عام انسانوں جیسے نظر آتے ہیں ۔اس وقت بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گرد پھر سراٹھا رہے ہیں ۔ بہادر افواج کے جوان اپنی جانوں پر کھیل کر ان وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کو واصل جہنم کررہے ہیں ۔ جب ہم رات کے وقت اپنے گھروں میں اور اپنے بستروں آرام کی نیند سورہے ہوتے ہیں اس وقت ہمارے وطن کے جیالے پاسبان راتوں کو جاگ کر سرحدوں پر پہرہ دے رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے دشمن یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب تک مضبوط فوج موجود ہے پاکستان کو نقصان پہنچانا ممکن نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کااولین نشانہ ہماری فوج ہے ۔دشمن کا فوج کے خلاف سب سے خطرناک وار۔۔۔۔۔غلیظ پروپیگنڈا ہے۔ اس پروپیگنڈا کا مقصد یہ ہے کہ فوج اور قوم کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں ۔ یہ وہی حربہ ہے جو مشرقی پاکستان میں استعمال کیا گیا پہلے وہاں بھائی کو بھائی سے لڑایا گیا پھرحالات ایسے پیدا کردیے گئے کہ کلمہ گو مسلمان اپنے ہی مسلمان اور اپنی عساکر کے خلاف ہوگئے ، افواج پر حملے کئے جانے لگے ، ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچایا جانے لگا اس طرح سے اپنی افواج کو کمزور کرکے دشمن کا راستہ ہموار کیا گیا پھر جو ہوا وہ خون کے آنسو رولادینے والی داستان ہے ۔
    آج ہمارا دشمن پاکستان میں بھی 1971ءجیسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ 9مئی 2024ء کے دن جو کچھ ہوا جس طرح عسکری تنصیبات پر حملے کئے گئے ، شہدا کی یادگاروں کو مسمار کیا گیا ۔۔۔۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تمام واقعات 1970ءمیں ملک کے خلاف کی جانے والی دشمنی کا ہی تسلسل ہے ۔وطن اور افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے کسی قسم کی رعایت کے حقدار نہیں ۔ ایسے لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا اور تختہ دار پر لٹکانا بے حد ضروری ہے ۔ فوج چاہے کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ، تعداد میں بھی زیادہ ہو ، جدید ترین اسلحہ سے لیس ہو ۔۔۔۔لیکن جب تک قوم فوج کے ساتھ نہ ہو وہ دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے ۔ آج ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے ۔ ملک اور قووم کے دفاع کے لیے روزانہ فوجی جوان جام شہادت نوش کررہے ہیں ۔حالات بے حد نازک ہیں ۔ یہ وقت ہمارے باہمی اتحاد واتفاق کا ہے۔ آئیں ! اس بات کا عہد کریں کہ ہم ملک اور قوم کے دفاع کےلئے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ہیں ۔ ہمیں جیسے اپنے گھر سے محبت ہے ایسے ہی ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے ۔ جیسے اپنے اہلخانہ سے محبت ہے اس سے کہیں بڑھ کر ہمیں اپنے فوجی جوانوں سے محبت ہے

  • دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر

    پاکستان اسلامک کونسل کے چیئرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر اور ممبر قومی اسمبلی محمد خان ڈاہا نے وزیر مملکت ریلوے بلال اظہر کیانی سے ان کی آفس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی امور اور ریلوے کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر نے بلال اظہر کیانی کو وفاقی وزیر برائے ریلوے کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس بات کی امید ظاہر کی کہ وہ ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے کےلئے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے ۔ ملاقات کے دوران سانحہ بلوچستان، ملک میں جاری دہشت گردتنظیموں ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت ترین کاروائیوں جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے جبکہ جعفر ایکسپریس پر دہشت گروں کے حملہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ رہنماؤن نے جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنانے والے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکورٹی اہلکاروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ سکیورٹی اہلکار پچیس کروڑ عوام کے محسن ہیں اور قوم کو اپنے جانبازوں پر فخر ہے ۔سیکورٹی اہلکاروں نے جس جرات اور بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کو عبرتناک انجام سے دوچار کیا ہے اس سے یقینا قوم کے حوصلے بلند ہوئے ہیں ۔ رہنماﺅں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پوری قوم پاک افواج، مقتدر اداروں اور ریاست کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔