Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت بارے عدالتی فیصلہ

    شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت بارے عدالتی فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ ریپ یا شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی کفالت بائیولوجیکل والد کی ذمہ داری ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس احمد ندیم ارشد نے محمد افضل کی درخواست پر دیا۔ تحریری فیصلے میں عدالت نے پانچ سالہ بچی کے خرچے سے متعلق کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیجتے ہوئے شواہد کی روشنی میں نیا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔

    فیصلے میں عدالت نے واضح طور پر کہا کہ اگر خاتون یہ ثابت کرتی ہے کہ بچی کا بائیولوجیکل والد درخواست گزار ہے، تو ٹرائل کورٹ بچی کے خرچے کا تعین کرے گا۔ عدالت نے تمام فریقین کو ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت بھی کی۔جسٹس احمد ندیم ارشد نے اپنے فیصلے میں کہا کہ انصاف اور برابری کا تقاضا یہ ہے کہ اگر بچی کا بائیولوجیکل والد ثابت ہو جائے تو وہ اس کے اخراجات کا ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بائیولوجیکل والد کی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اپنے ناجائز بچے کی کفالت کرے۔عدالت نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق 2020 میں درخواست گزار محمد افضل نے خاتون مریم سے مبینہ طور پر زیادتی کی۔ زیادتی کے اس واقعے کے نتیجے میں خاتون نے بیٹی کو جنم دیا۔ خاتون نے بچی کے خرچے کے لیے بائیولوجیکل والد کے خلاف دعویٰ دائر کیا۔ تاہم درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ بچی اس کی نہیں ہے، لہٰذا خرچے کا دعویٰ مسترد کیا جائے۔ اس پر ٹرائل کورٹ نے خاتون کا دعویٰ تسلیم کرتے ہوئے بچی کے خرچے کے طور پر ماہانہ تین ہزار روپے مقرر کر دیے۔

    عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار محمد افضل نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے یہ رائے ظاہر کی کہ یہ بچے کے خرچے کا معمولی کیس نہیں ہے۔ جائز اور بائیولوجیکل بچے میں فرق واضح ہے، کیونکہ جائز بچہ قانونی شادی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے، جبکہ بائیولوجیکل بچہ شادی کے بغیر پیدا ہوتا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کوئی خاتون بائیولوجیکل بچے کے خرچے کا دعویٰ دائر کرتی ہے اور والد اس بچے کو اپنا نہ مانے، تو اس صورت میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس بچے کی ولدیت ثابت کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ بچے کی قانونی حیثیت طے کیے بغیر خرچہ مقرر کرنا غیر شفافیت ہوگا۔عدالت نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ میں دلائل کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھایا تھا۔ وکیل کے مطابق خاتون کو بچے کی ولدیت ثابت کرنے کے لیے متعلقہ عدالت سے سرٹیفکیٹ کی ضرورت تھی اور درخواست گزار کے مطابق وہ کسی ناجائز بچے کی پرورش کا ذمہ دار نہیں ہے۔

    فیصلے میں قرآن و سنت کے حوالے کے ساتھ ساتھ شریعت کورٹ کے فیصلوں کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ عدالت نے ویسٹ پاکستان فیملی ایکٹ 1964 کے تحت فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ فیملی عدالت کے دائرہ اختیار کا اعتراض درست نہیں ہے۔ سی آر پی سی کے سیکشن 488 کے تحت فیملی نوعیت کے معاملات کے لیے مجسٹریٹ کو دائرہ اختیار حاصل ہے۔ بنگلہ دیش کے قانونی سسٹم کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ وہاں ریپ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کو حقوق دیے گئے ہیں۔عدالت نے اس کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیجتے ہوئے فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ بچے کے خرچ کے حوالے سے مناسب اور قانونی فیصلہ کیا جا سکے۔

  • بنوں کینٹ حملے میں ملوث چھٹا دہشت گرد افغان شہری نکلا

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث چھٹا دہشت گرد افغان شہری نکلا

    بنوں کینٹ حملے میں ملوث چھٹا دہشت گرد افغان شہری نکلا – عتیق اللہ صافی کی شناخت اور تفصیلات منظرعام پر

    بنوں کینٹ پر 4 مارچ کو ہونے والے دہشت گرد حملے میں ملوث چھٹے حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔ یہ حملہ کلعدم تنظیم گل بہادر گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا، اور تحقیقات کے مطابق حملہ آور عتیق اللہ صافی ولد حبیب اللہ، افغانستان کے دارالحکومت کابل، پل چرخی (پی ڈی 21) کا رہائشی تھا۔ذرائع کے مطابق، عتیق اللہ صافی نے اپنی عسکری تربیت جیش فرسان محمد کے تربیت کاروں کے زیر نگرانی حاصل کی تھی، اور اس کی تربیت کے دوران لی گئی ایک تصویر بھی سامنے آئی ہے۔ حملے کے بعد، 14 مارچ بروز جمعہ کو کابل میں واقع حضرت بلال مسجد میں اس کے لئے فاتحہ خوانی کی محفل منعقد کی گئی۔

    عتیق اللہ صافی کے قریبی رشتہ داروں میں اس کے بھائی فرزاد صافی، عاشق صافی اور شفیق صافی شامل ہیں، جبکہ اس کے چچا حاجی سلطان اور محمد عمر بھی خاندان کا حصہ ہیں۔ سیکیورٹی ادارے معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

  • سانحہ جعفر ایکسپریس،استعفیٰ کے سوال پر خواجہ آصف نے کیا کہا؟

    سانحہ جعفر ایکسپریس،استعفیٰ کے سوال پر خواجہ آصف نے کیا کہا؟

    اسلام آباد: جعفر ایکسپریس میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے پر اپوزیشن کی جانب سے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ اپوزیشن آپ کو سیکیورٹی لیپس کا ذمہ دار قرار دے کر استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے؟

    اس سوال کے جواب میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ "اگر میرے استعفے سے یہ معاملہ حل ہوتا ہے تو میں فوراً حاضر ہوں”۔ وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں مکمل طور پر پرعزم ہیں، اور اگر ان کے استعفے سے کسی کو تسلی ملتی ہے تو وہ اس پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل اپوزیشن اتحاد نے مشترکہ پریس کانفرنس میں جعفر ایکسپریس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کو ایک بڑا سیکیورٹی لیپس قرار دیتے ہوئے وزیرِ داخلہ، وزیرِ دفاع اور وزیرِ اطلاعات سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت سیکیورٹی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے ایسے سنگین واقعات پیش آ رہے ہیں۔

    جعفر ایکسپریس میں ہونے والی دہشت گردی کے افسوسناک واقعے نے ملک بھر میں سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیرِ دفاع اور دیگر حکومتی وزرا سے استعفوں کا مطالبہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کا داخلی سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو برطرف کرنے کا اعلان

    اسرائیلی وزیراعظم کا داخلی سکیورٹی ایجنسی کے سربراہ کو برطرف کرنے کا اعلان

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی "شن بیت” کے سربراہ کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب اسرائیلی حکومت اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق، شن بیت کے سربراہ نے وزیر اعظم کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ نیتن یاہو کی ذاتی وفاداری کی خواہش اسرائیل کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔ ان کا موقف تھا کہ نیتن یاہو کی جانب سے اس فیصلے کا مقصد سیاسی مقاصد کو حاصل کرنا تھا، جو اسرائیل کی سکیورٹی کے حوالے سے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اسرائیلی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کے فیصلے کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا، اور جب تک اس پر مکمل تحقیقات نہیں کی جاتیں، برطرفی کا فیصلہ نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ فیصلے کے حقائق اور قانون کے مطابق ہونے کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے تاکہ آئینی اور قانونی کارروائی درست طور پر کی جا سکے۔

    اس کشیدہ صورتحال نے اسرائیلی سیاست میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے اور وزیراعظم نیتن یاہو کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شن بیت کی برطرفی کے اعلان کے بعد اسرائیلی عوام اور عالمی برادری میں اس اقدام کے اثرات پر بحث جاری ہے۔اس برطرفی کے اعلان کے بعد، اسرائیلی سکیورٹی کی صورتحال پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر اس بات کو لے کر کہ آیا شن بیت کے نئے سربراہ کا تقرر اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کے لیے مفید ثابت ہوگا یا نہیں۔

  • رحیم یار خان: گیس دھماکے میں زخمی ہونے والے 2 نوجوان دم توڑ گئے

    رحیم یار خان: گیس دھماکے میں زخمی ہونے والے 2 نوجوان دم توڑ گئے

    رحیم یار خان کے ایک گھر میں گیس لیکیج سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 2 نوجوان اسپتال میں دم توڑ گئے ہیں۔ دونوں نوجوان شیخ زید اسپتال کے برن یونٹ میں زیرِ علاج تھے، جہاں وہ گزشتہ سات روز سے علاج کے لیے داخل تھے۔

    اسپتال کے ذرائع کے مطابق، دونوں نوجوانوں کی حالت نازک تھی اور ان کا علاج جاری تھا، مگر وہ اپنی زندگی کی جنگ ہار گئے۔ دھماکے کے وقت ان نوجوانوں کے جسم پر شدید جھلسنے کے نشان تھے، جس کے باعث ان کی حالت بگڑ گئی تھی۔

    یاد رہے کہ یہ حادثہ 7 روز قبل رحیم یار خان کے ایک رہائشی مکان میں گیس لیکیج کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ پولیس کے مطابق، گیس لیکیج کے باعث دھماکا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں مکان میں آگ لگ گئی تھی۔ اس آگ میں تین نوجوان شدید جھلس گئے تھے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے دیگر نوجوان کی حالت بھی نازک ہے اور وہ اب تک علاج کروا رہا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور پولیس نے گیس لیکیج کی وجہ سے ہونے والے دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • امریکی حملے میں یمن میں 53 افراد کی موت

    امریکی حملے میں یمن میں 53 افراد کی موت

    امریکی افواج نے آج یمن کے ساحلی شہر حدیدہ (Hodeidah) میں ایک حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 53 افراد جاں بحق ہو گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں حوثی رہنما انصار اللہ عبدالملک بھی شامل ہیں۔امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ اتوار کے روز یمنی حوثیوں کے 11 ڈرون طیارے مار گرائے گئے، اور حوثیوں کی جانب سے فائر کیا جانے والا ایک میزائل یمن کے قریب سمندر میں جا گرا۔ تاہم، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ میزائل امریکا کے لیے کوئی بڑا خطرہ ثابت نہیں ہوا۔امریکی عہدیدار کے مطابق، حوثیوں نے حالیہ عرصے میں بحیرہ احمر میں امریکی مال بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا، جس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

    اس کے ساتھ ہی، اقوام متحدہ نے ان حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکا اور یمنی حوثیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک دوسرے پر حملے روکیں تاکہ علاقے میں امن قائم کیا جا سکے۔یہ حملہ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں یمن میں جاری تنازعہ میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہیں، جس کا اثر نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے پر پڑ رہا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس بحران کے حل کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہیں۔

  • ریاستی اداروں کے خلاف مہم،بنی گالہ سے پی ٹی آئی کارکن گرفتار

    ریاستی اداروں کے خلاف مہم،بنی گالہ سے پی ٹی آئی کارکن گرفتار

    اسلام آباد: ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل اسلام آباد نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے ملزم پی ٹی آئی کارکن حیدر سعید کو گرفتار کرلیا۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم حیدر سعید کو بنی گالا اسلام آباد سے ایک چھاپہ مار کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزم نے جعفر ایکسپریس سانحہ کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈہ اور تضحیک آمیز مواد سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔اس کے علاوہ ملزم حیدر سعید کو کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور ان کی تشہیر کرنے میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم نہ صرف ریاستی اداروں کے خلاف زہر آلود مہم چلا رہا تھا بلکہ دہشت گردوں کے حق میں اشتعال انگیز بیانات اور مواد بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا رہا۔

    ایف آئی اے کے مطابق ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل شواہد قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ ملزم کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔اس کارروائی کو سائبر کرائم کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک کے اندر سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کی روک تھام اور ریاستی اداروں کی عزت و وقار کا تحفظ کرنا ہے۔

  • کسی نے دھمکایا تو   فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،سربراہ پاسداران انقلاب

    کسی نے دھمکایا تو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا،سربراہ پاسداران انقلاب

    تہران: پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر کسی نے دھمکایا تو بھرپور، فیصلہ کن اور نتیجہ خیز جواب دیا جائے گا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنرل حسین سلامی نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا دشمن اب تک بھٹکا ہوا ہے اور اس نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔یمن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل حسین سلامی نے کہا کہ حوثی یمن کی نمائندہ حکومت ہیں اور وہ اپنے فوجی آپریشنز کے فیصلے لینے میں مکمل طور پر خود مختار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر کسی نے دھمکی دینے یا جارحیت کی کوشش کی تو اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایران ہمیشہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

  • ترک صدر اور ٹرمپ میں ٹیلی فونک رابطہ

    ترک صدر اور ٹرمپ میں ٹیلی فونک رابطہ

    ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر خصوصی بات کی ہے، ترک صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ صدر اردوان نے روس یوکرین جنگ خاتمے کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے اقدامات کی حمایت کی،صدر اردوان نے شام میں استحکام کے لیے امریکا ترک مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا اور امریکا سے ایف 16 طیاروں کی خریداری کو حتمی شکل دینا بھی ضروری قرار دیا۔

    دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن اس ہفتے ٹیلیفون پر بات کر سکتے ہیں جس کے بعد روس یوکرین جنگ خاتمے میں حقیقی پیش رفت کی امید ہے،امریکی صدر ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے روسی صدر سے ملاقات مثبت رہی، یوکرین، روس اختلافات کم ہوئے ہیں،صدر پیوٹن نے ٹرمپ کے فلسفے سے اتفاق کیا ہے، صدر ٹرمپ روس یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔امریکی مذاکراتی ٹیم اس ہفتے یوکرین اور روسی وفود سے ملاقات کرے گی۔

  • والد کوسیکورٹی کیوں نہیں دی ،جواب دیں ورنہ  تدفین نہیں کرونگا،بیٹامفتی منیر شاکر

    والد کوسیکورٹی کیوں نہیں دی ،جواب دیں ورنہ تدفین نہیں کرونگا،بیٹامفتی منیر شاکر

    پشاور کے علاقے ارمڑ میں مسجد کے باہر نصب آئی ای ڈی بم دھماکے میں معروف عالمِ دین مفتی منیر شاکر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کے ذاتی محافظ سمیت دیگر افراد زخمی ہوئے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد ان کے بیٹے عبداللّٰہ شاکر نے پولیس اور انتظامیہ کی نااہلی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن اس کے باوجود انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی۔

    عبداللّٰہ شاکر کا کہنا تھا کہ مفتی منیر شاکر نے ہر ممکنہ فورم پر درخواست دی کہ انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے، مگر نہ انہیں اسلحہ لائسنس دیا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی سیکیورٹی مہیا کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد کو بغیر کسی تحفظ کے دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔جب تک کوئی مجھے مطمئن نہ کرے والد کی تدفین اجازت نہیں دونگا،

    کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور قاسم علی خان نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مفتی منیر شاکر کے پاس ان کے ذاتی محافظ موجود تھے اور دھماکے میں ان کے گارڈ بھی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی ڈویژن سے چیک کیا جا رہا ہے کہ ان کے پاس کتنی سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔سی سی پی او نے اس بات کی تصدیق کی کہ مفتی منیر شاکر دھماکے کا براہِ راست ہدف تھے اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اس واقعے کی مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس کے محرکات اور ممکنہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مسجد کے باہر ہونے والے اس بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے فوری طور پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں واقعے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    یہ واقعہ پشاور میں امن و امان کی صورتحال پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے، جہاں علماء اور دیگر نمایاں شخصیات عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر اقدامات اٹھائیں اور علماء سمیت ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔