Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈینور ایئرپورٹ پر امریکی ایئر لائنز کے طیارے میں آگ لگ گئی

    ڈینور ایئرپورٹ پر امریکی ایئر لائنز کے طیارے میں آگ لگ گئی

    ، امریکی ایئر لائنز کے ایک طیارے میں ڈینور ایئرپورٹ پر آگ لگ گئی۔ ایئرپورٹ کے گیٹ سی 38 پر موجود اس طیارے میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی جس سے ایئرپورٹ پر شدید دھواں پھیل گیا۔ فوری طور پر ایمرجنسی خدمات پہنچ گئیں اور تمام 178 مسافروں کو طیارے سے باہر نکال لیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ مسافروں کو بحفاظت طیارے سے باہر نکالنے کے بعد ایئرپورٹ پر ایمرجنسی صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس بات کا پتا چل سکے کہ طیارے میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور آئندہ کے لیے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔

    امریکی ایئر لائنز کی طرف سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، لیکن ایئرپورٹ حکام نے کہا ہے کہ معمول کی پروازیں جلد ہی بحال کر دی جائیں گی۔

  • ٹانک میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام،10 دہشت گرد ہلاک

    ٹانک میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام،10 دہشت گرد ہلاک

    ٹانک میں پاک فوج کی چیک پوسٹ پہ خارجیوں کا خود کش حملہ،حملہ اور نے گاڑی ایف سی کیمپ سے ٹکرا دی

    خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک کے علاقے جنڈولہ میں سیکورٹی اداروں کی پوسٹ پر خودکش حملہ کیا گیا، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی، جوابی کارروائی میں 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا.

    نوٹ یہ ابتدائی خبر ہے

  • جعفرایکسپریس حملہ، قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

    جعفرایکسپریس حملہ، قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد منظور

    سانحہ جعفر ایکسپریس پر قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کر لی۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ایوان جعفر ایکسپریس واقعے اور تمام دہشتگرد واقعات کی مذمت کرتا ہے۔ ایسے تمام نظریات جو قومی سلامتی کے متصادم ہیں انہیں پھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ایوان حادثے میں جاں بحق ہونے والے معصوم شہریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔ ایوان بہادر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کرتاہے۔ ایوان بلا تفریق رنگ و نسل عوام سے دہشتگردی کے خلاف منظم ہونے کا اعادہ کرتا ہے۔

    علاوہ ازیں وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنرل فیض اور جنرل باجوہ نے ایوان میں بریفنگ میں کہا کہ دہشتگردوں کو واپس لاکر بسانا بہت ضرور ی ہے، بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملہ انتہائی افسوسناک ہے، پاک فوج نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں ایک تاریخ رقم کی ہے، پاک فوج نے کم سے کم نقصان میں بہترین کارکردگی دکھائی، ہمارے جوانوں نے بہادری سے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا، جعفر ایکسپریس حملے پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے منفی کردار ادا کیا، دہشت گردوں نے نہتے مسافروں کو نشانہ بنایا، پی ٹی آئی سوشل میڈیا بریگیڈ نے دہشت گردوں کو کریڈٹ دیا، سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ دہشت گردوں نے مسافروں کو خود چھوڑا، سازش کرنے والے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے لوگ اوورسیز ہیں، یہ بھگوڑے ہیں باہر بیٹھ کر سازشیں کر رہے ہیں، مارشل لاء کی پیداوار نے ہمیں فارم 47 کا طعنہ دیا، دوسروں پر انگلی اٹھانے والوں کو اپنا ماضی بھی دیکھنا چاہیے، دہشتگردوں کو پاکستان لا کر بسانے کی باتیں کس نے کیں، کون نہیں جانتا،سرفراز بگٹی دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کیخلاف ڈٹ کر کیوں نہیں بیان دیا جاتا، یہ تو دہشتگردوں کے حق میں یہاں کھڑے ہو کر بیان دیتے رہے، جعفر ایکسپریس حملے پر ایوان میں متفقہ آواز نہیں اٹھائی گئی، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، جمہوریت کا سبق وہ دیتے ہیں جنہوں نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہوئی ہیں، پی ٹی آئی کی 4 سال حکومت رہی، یہاں جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید بیٹھے ہوئے تھے، بریفنگ دی گئی کہ دہشتگردی کو یہاں لا کر بسانا بہت اچھا عمل ہے،بیرسٹرگوہر بھی اس پارٹی میں ہجرت کر کے آئے ہوئے ہیں، یہ سارے کے سارے اپنے ماضی کی طرف نظر دوڑائیں، سوات کا قصاب کون تھا جسے یہاں بسایا گیا، چار ماہ ہوگئے کرم اور پاراچنار میں امن ہوا؟ ہمارا ایک مارشل لا حکومت سے تعلق رہا اس کی کئی بار معذرت کر چکا ہوں آج بھی کر رہا ہوں، یہ لوگ پرویز مشرف کے ساتھ بھی بیٹھے رہے،یہ تو دہشتگردوں کے خلاف بیان دیتے بھی ڈرتے ہیں، شیر افضل مروت حقیقت اور ان کا اصل چہرہ بیان کرتے ہیں، ان سے تو شیر افضل مروت نہیں سنبھالے گئے، یہ افواج اور شہداء کی توہین کرتے ہیں، یہ دہشتگردوں کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے انکاری ہیں، یہ اقتدا ر کی جنگ لڑ سکتے ہیں لیکن ملک کی جنگ لڑنے سے انکاری ہیں، یہ نعرہ لگاتے ہیں خان نہیں تو پاکستان نہیں، وہ باتیں مت کریں جس سے شرمندگی ہوتی ہے، قرآن اُٹھا کر انہوں نے یہاں جھوٹ بولے ہوئے ہیں، یہ درودیوار ان کے جھوٹوں کی گواہ ہے، ملک کے معاشی اشاریے ٹھیک ہوئے ہیں، بہادرافواج دہشتگردی کے خلاف لڑ رہی ہیں کیا یہاں اعتراف ہوا؟ یہ جنرل باجوہ کو باپ بنا لیتے تھے، جو لوگ سیاست کیلئے باپ بدل لیں ان کی کیا کوالٹی ہوگی۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ یہ اپنی تقریر میں مسلح افواج کو نشانہ بناتے ہیں، جب مسلح افواج ملک میں مارشل لا لگائے تو یہ اس کے ساتھی بن جاتے ہیں، ریفرنڈم کے اندر بانی پی ٹی آئی پرویز مشرف کے ساتھ کھڑے تھے، میں تو معذرت کرتا رہوں گا آپ بھی تو کریں،ماضی کے جھرونکوں میں جا کر دیکھیں آپ اور آپ کے لیڈر کا کیا کردار تھا، جنرل باجوہ کے پاؤں پکڑ کر کہتے تھے ساری زندگی کی ایکسٹینشن دے دوں گا، آپ نے جعفر ایکسپریس اور بی ایل اے میں سارا کریڈٹ دہشتگردوں کو دیدیا، یہ ماضی کو بھول جاتے ہیں، جب پی ٹی آئی گورنمنٹ تھی تو کیا کیا واردات ہوئی، لیڈر آف اپوزیشن نے سرکاری بنچز پر ایک عمر گزاری ہوئی ہے، سب سے زیادہ آئی پی پیز جنرل مشرف کے دور میں لگے، اُس وقت ان کو نہیں پتہ لگا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے،ساری دنیا جعفر ایکسپریس واقعے کے متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑی ہے اور یہ مخالف، یہ اس نعرے کے ساتھ کھڑے ہیں خان نہیں تو پاکستان نہیں، یہ ہمیں نااہل اور اپنے آپ کو اہل قرار دیتے ہیں، اپوزیشن بنچز سے درخواست ہے پاکستان کی سالمیت اور بقا کی جنگ لڑیں، اپوزیشن صرف ایک شخص کے اقتدار کی جنگ نہ لڑے،ان کیلئے صرف ایک شخص ریفرنس پوائنٹ ہے، میرے لئے پاکستان اور اس کی سالمیت ریفرنس پوائنٹ ہے۔

    قبل ازیں سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کو پیش آنے والے سانحہ کی مذمت کرتے ہوئے اس سانحہ کے نتیجے میں سکیورٹی اہلکاروں اور نہتے مسافروں کی شہادتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،انہوں نے ایوان کو اس فیصلے سے آگاہ کیا کہ آج کے اجلاس میں دیگر کارروائی کو ملتوی کر کے جعفر ایکسپریس سانحہ کو زیر بحث لایا جائے گا،سپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی وزیر/پارلیمانی چیف وہپ ڈاکٹر طارق فضل چودھری کو قومی اسمبلی میں قواعد و ضوابط کے طریقہ کار 2007 کے قاعدہ 288 کے تحت ہاؤس کی دیگر کارروائی کو ملتوی کر کے جعفر ایکسپریس سانحہ پر بحث کیلئے تحریک پیش کرنے کا کہا۔

  • جعفر ایکسپریس حملہ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، ترجمان دفتر خارجہ

    جعفر ایکسپریس حملہ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ بیرون ملک بیٹھی قیادت نے کرایا اور اس دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ پاکستان نے جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا ہے، اور اس حملے کے پیچھے بھارت کی معاونت کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی میں ملوث دہشتگرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے رابطے میں تھے۔ اس واقعہ کے دوران ٹریس شدہ کالز میں افغانستان سے رابطوں کا سراغ ملا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دہشتگردوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔ پاکستان نے افغان عبوری حکومت سے بار بار مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشتگرد گروپوں کو اپنی سرزمین کے استعمال سے روکے، خاص طور پر بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروپوں کو۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے باہر سے ہونے والی دہشتگردی کا شکار ہو رہا ہے، اور اس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، ترجمان نے کہا کہ پاکستان سفارتی تعلقات کو پبلک فورمز پر بیان کرنے کی پالیسی پر عمل نہیں کرتا، اور ماضی میں بھی افغانستان کے ساتھ دہشتگردی کے واقعات کی مکمل تفصیلات شیئر کی جاتی رہی ہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے جو جاری ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی بنیادی ترجیح دوستانہ اور قریبی تعلقات کا فروغ ہے۔ اس سمت میں تعلقات کی تسلسل کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، اور دہشتگردی کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر پاکستان اپنے دوست ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔

  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا  سے  فٹبال پلئیر محمد ریاض کی ملاقات

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے فٹبال پلئیر محمد ریاض کی ملاقات

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے معروف فٹبال کھلاڑی محمد ریاض سے ملاقات کی، جنہوں نے فٹبال کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ محمد ریاض کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے اور حالیہ دنوں میں وہ اپنے خاندان کا گزر بسر کرنے کے لیے جلیبی کی دوکان پر کام کر رہے تھے۔

    محمد ریاض کی زندگی میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ جلیبی کی دوکان پر کام کرتے نظر آ رہے تھے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد وزیر اعلی علی امین گنڈاپور نے اس کا نوٹس لیا اور محمد ریاض کو سی ایم ہاؤس بلا کر ملاقات کی۔وزیر اعلیٰ نے محمد ریاض کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کا امدادی چیک دیا تاکہ ان کی مالی حالت بہتر ہو سکے اور وہ اپنے فٹبال کے کیریئر پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے محمد ریاض کو محکمہ اسپورٹس کے تحت فٹبال کوچ کی ذمہ داری بھی سونپی، تاکہ وہ اپنے تجربات اور مہارت کو نئے کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کر سکیں اور خیبر پختونخوا میں فٹبال کے کھیل کو فروغ دے سکیں۔

    محمد ریاض کی یہ کہانی ایک مثال بن گئی ہے کہ کس طرح محنت اور لگن سے انسان حالات کا مقابلہ کر کے کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے دی جانے والی امداد اور نئی ذمہ داری سے محمد ریاض کو نہ صرف مالی مدد ملی ہے بلکہ ان کے لیے ایک نئی زندگی کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔یہ اقدام خیبر پختونخوا حکومت کی اسپورٹس کے فروغ اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے عزم کا عکاس ہے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ صوبے میں نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کے اقدامات کرتے رہیں گے۔

  • سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا، علیمہ خان کی دوبارہ طلبی کا نوٹس

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا، علیمہ خان کی دوبارہ طلبی کا نوٹس

    سوشل میڈیا پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے علیمہ خان کو ایک بار پھر جے آئی ٹی نے طلب کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی نے علیمہ خان کو 14 مارچ 2025ء کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

    اس سے قبل 12 مارچ کو علیمہ خان کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا تھا، لیکن وہ مقررہ تاریخ پر جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہو سکیں۔ اس صورتحال نے تحقیقاتی اداروں کے سامنے نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کی سربراہی اسلام آباد پولیس کے آئی جی کر رہے ہیں۔ جے آئی ٹی کو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016ء کے سیکشن 30 کے تحت تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد سوشل میڈیا پر ہونے والی جعلی خبریں اور منفی پروپیگنڈے کی روک تھام کرنا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی کے پاس اس معاملے کے حوالے سے مستند شواہد موجود ہیں، جن کی بنیاد پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس معاملے کی مزید تفصیلات اور جے آئی ٹی کی کارروائی کے بارے میں آنے والے دنوں میں مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

  • اداکارہ نادیہ شوہر کی گرفتاری کے بعد آن لائن دھوکہ دہی کا نشانہ

    اداکارہ نادیہ شوہر کی گرفتاری کے بعد آن لائن دھوکہ دہی کا نشانہ

    پاکستان کی معروف ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین اپنے شوہر کی گرفتاری کے بعد ایک اور مشکل میں پھنس گئیں، جب انہیں ایف آئی اے کا افسر بن کر فون کرنے والے ایک شخص نے آن لائن فراڈ کا نشانہ بنایا۔

    نادیہ حسین نے اپنے شوہر عاطف محمد خان کی ضمانت پر رہائی کے لیے 3 کروڑ روپے رشوت کی طلب کرنے کی کوشش کا ذکر سوشل میڈیا پر کیا۔ نادیہ حسین نے بتایا کہ فراڈ فون کال کرنے والے شخص نے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر عاطف محمد خان کے معاملات طے پا گئے ہیں اور صرف رقم منتقل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی ضمانت پر رہائی ہو سکے۔فون کرنے والے شخص نے نادیہ حسین کو دھمکانے کی کوشش بھی کی اور کہا کہ یہ بات آپ اور میرے درمیان رہنی چاہیے، تاکہ معاملہ پوشیدہ رہے۔

    نادیہ حسین نے اس فراڈ کی حقیقت اور اس کال کا سارا معاملہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ ایک مکری طریقہ کار تھا، جس کے ذریعے انہیں دھوکہ دینے کی کوشش کی گئی۔

    دوسری جانب ایف آئی اے حکام نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور کہا ہے کہ فون کرکے رشوت کی طلب کرنے والے شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے مزید کہا کہ اس فراڈ کے پیچھے موجود افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ نادیہ حسین کے شوہر عاطف حسین 54 کروڑ روپے کی خورد برد کے الزام میں ایف آئی اے کی حراست میں ہیں۔ ایف آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں اور ان کے خلاف مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

  • آئی ایم ایف کا پاکستان پر ریونیو بڑھانے اور اخراجات کم کرنے پر زور

    آئی ایم ایف کا پاکستان پر ریونیو بڑھانے اور اخراجات کم کرنے پر زور

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ریونیو کو بڑھانے اور اخراجات کو کم کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں اور ذرائع کے مطابق دونوں فریقین موجودہ مالی سال کی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے اہداف پر مشاورت کر رہے ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کی جانب سے رائٹ سائزنگ اقدامات کے تحت خزانے پر بوجھ کم کرنے کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام پر زور دیا کہ وہ ٹیکس ریونیو میں اضافہ کریں اور اخراجات کو کم کریں۔آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ اگلے مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زیادہ رکھنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق، اگلے مالی سال میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 13 فیصد تک جا سکتی ہے، جب کہ نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 2745 ارب روپے جمع ہونے کا تخمینہ ہے۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مالی سال میں معاشی نمو 4 فیصد سے تجاوز کر جانے کی توقع ہے، جبکہ رواں مالی سال میں معاشی گروتھ ساڑھے 3 فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اگلے سال بھی مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجیٹ تک محدود رہنے کی توقع ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو بیرونی مالی ضروریات کے لیے 20 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہوں گے۔ اس کے علاوہ، اگلے سال دوست ممالک سے ڈپازٹس رول اوور کرائے جائیں گے۔

    آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سرکاری اداروں میں ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیاں مستقل طور پر ختم کردی گئی ہیں۔ رائٹ سائزنگ اقدامات کے تحت سرکاری خزانے پر مزید بوجھ کم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف محکموں میں ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ریٹائرمنٹ کی پیشکش کی جائے گی، اور گولڈن ہینڈ شیک کے تحت اضافی ملازمین کو واجبات ادا کرنے کا پلان ہے۔ آئی ایم ایف کو یہ بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کر کے فالتو آسامیاں ختم کی جائیں گی۔

    پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کے درمیان یہ بات چیت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ دونوں فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ مالیاتی استحکام کی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہیں۔

  • منیر اکرم اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سبکدوش

    منیر اکرم اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سبکدوش

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے طور پر طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے منیر اکرم 80 سال کی عمر میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔ انہوں نے وزارت خارجہ کے سینئر ترین ڈپلومیٹ کی حیثیت سے تقریباً دو دہائیوں تک اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

    نیر اکرم نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کا آغاز 2002 میں کیا تھا اور اس عرصے میں انہوں نے عالمی فورمز پر پاکستان کے مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔ ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں کئی بار اپنے عہدے کی مدت میں توسیع دی گئی۔ اس مدت کے دوران انہوں نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کیا بلکہ اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر پاکستان کی آواز کو بلند کیا۔منیر اکرم کی سبکدوشی کے بعد ان کی جگہ فرانس میں پاکستان کے سفیر، عاصم افتخار، اقوام متحدہ میں پاکستان کے نئے مستقل مندوب کے طور پر ذمہ داری سنبھالیں گے۔ عاصم افتخار حال ہی میں 22 ویں گریڈ میں ترقی پا چکے ہیں اور اگلے ماہ اپنے نئے عہدے پر کام شروع کریں گے۔

    یہ بھی اہم ہے کہ منیر اکرم کے طویل عرصے تک اسی عہدے پر رہنے کا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور انہیں اقوام متحدہ میں مستقل مندوب کی حیثیت سے کام کرنے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ اس دوران انہوں نے مختلف حکومتوں کے تحت اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی، جن میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف، شوکت عزیز، میر ظفر اللہ خان جمالی، آصف علی زرداری، عمران خان اور وزیراعظم شہباز شریف شامل ہیں۔

    منیر اکرم کا شمار ان ڈپلومیٹس میں ہوتا ہے جنہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کے تحفظ اور اقوام متحدہ میں اس کی آواز کو مؤثر طریقے سے بلند کیا۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور وہ پاکستانی سفارتکاری کی تاریخ میں ایک اہم شخصیت کے طور پر جانے جائیں گے۔

  • جعفر ایکسپریس حملہ، را ملوث ہے،مودی سرکار دہشتگرد ہے،سکھ  فار جسٹس

    جعفر ایکسپریس حملہ، را ملوث ہے،مودی سرکار دہشتگرد ہے،سکھ فار جسٹس

    امریکا میں سکھوں کی عالمی تنظیم سکھ فار جسٹس نے بلوچستان میں ٹرین پر ہونے والے حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت کا احتساب نہ کیا گیا تو ان کا اگلا حملہ اور بھی زیادہ معصوم جانیں لے سکتا ہے۔

    رہنما سکھ فار جسٹس گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ٹرین دہشتگرد حملے میں بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’را‘ ملوث ہے، عالمی ادارے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور را کے خلاف کارروائی کریں،بھارت پاکستان کے خلاف خفیہ جنگی حکمت عملی کے بلیو پرنٹ پر عمل کر رہا ہے، مودی کا بھارت صرف علاقائی خطرہ نہیں بلکہ یہ ایک مکمل دہشت گرد حکومت ہے، مودی حکومت پُرتشدد بین الاقوامی جبر میں مصروف ہے،بلوچستان ٹرین حملہ بھارت کے جارحانہ دفاعی نظریےکا ثبوت ہے، بھارت خفیہ دہشت گرد کارروائیوں سے پڑوسی ممالک کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے اور بیرون ملک مخالفین کے قتل، انتہا پسندی اور سرحد پار دہشتگردی میں ملوث ہے، مودی نے بھارت کو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا عالمی مرکز بنا دیا ہے، را کی بےقابو کارروائیاں جنوبی ایشیا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور ریاستی تشدد کی خطرناک عالمی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔

    رہنما سکھ فار جسٹس گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ بھارت کے انٹیلیجنس اپریٹس پر سفارتی اور سکیورٹی پابندیاں لگائی جائیں، دنیا اب بھارت کی خفیہ دہشتگرد کارروائیوں پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی، بھارت کا احتساب نہ کیا گیا تو ان کا اگلا حملہ اور بھی زیادہ معصوم جانیں لےگا۔

    پی ٹی آئی اور بھارتی میڈیا کی زبان ایک رہی،خواجہ آصف