Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لندن، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے سامنے بے گھر افراد کے ڈیرے

    لندن، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے سامنے بے گھر افراد کے ڈیرے

    لندن کے مشہور علاقے مے فیئر پارک لین پر واقع سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کے سامنے بے گھر افراد نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور وہاں ایک ٹینٹ سٹی قائم کر لی ہے۔

    نواز شریف کے گھر کے سامنے پارک میں ٹینٹ سٹی میں بے گھر خاندان رہائش پذیر ہیں،انتظامیہ اس ٹینٹ سٹی کے خلاف آپریشن کر چکی مگر بے گھر افراد نے پھر ڈیرے ڈال لئے، ٹینٹ سٹی میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے، بے گھر افراد کا کہنا ہے کہ وہ مہنگائی اور سستے رہائشی انتظامات کی کمی کے سبب سخت حالات کا سامنا کر رہے ہیں .ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں ٹینٹ سٹی میں مقیم خاندان ویڈیو بنانے سے منع کر رہے ہیں تو وہیں 100 ڈالر کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں.

    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ لندن میں بھی رہائشی سہولتیں سب کے لیے میسر ہوں اور بے گھری کا مسئلہ کم ہو سکے۔لندن کے مرکز میں واقع "پارک لین” کے قریب، جہاں ایک رات کا کرایہ ایک ہزار پاؤنڈ تک پہنچتا ہے، وہاں "ٹینٹ سٹی” کو مقامی کونسل نے مسمار کیا تھا لیکن ٹینٹ سٹی پھر بنا دی گئی۔ اس کیمپ میں موجود افراد نے، جو عموماً بے گھر اور مہم جو ہوتے ہیں، مختلف ٹینٹوں میں رہائش اختیار کی ہے،یہ علاقے جہاں پراپرٹی کی اوسط قیمت تقریباً 12 ملین پاؤنڈز ہے، پچھلے دس سالوں سے ٹینٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔ اس علاقے میں مختلف اوقات میں بے گھر افراد کی بڑی تعداد آ کر رہ چکی تھی، جنہوں نے عموماً چوری اور سماجی رویوں کے مسائل پیدا کیے تھے۔

  • دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوں گے،ملک محمد احمد خان

    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوں گے،ملک محمد احمد خان

    پنجاب اسمبلی کے اسپیکر، ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دراندازی کے باعث پاکستان میں ٹرینوں پر حملے ہو رہے ہیں، لیکن ہم کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوں گے۔

    انھوں نے یہ بات قصور کے علاقے کھڈیاں میں وزیر مملکت برائے فوڈ سکیورٹی ملک رشید کے اعزاز میں ہونے والے عوامی افطار ڈنر اور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر اپنے خطاب میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کی یلغار ہے۔ بلوچستان میں بھارتی دراندازی کی وجہ سے وہاں آگ لگائی جا رہی ہے، اور راستے سے بھٹکے ہوئے لوگ پاک فوج پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔ ملک محمد احمد خان نے مزید کہا کہ دہشت گرد ٹرینوں کو روک کر دہشت گردی کر رہے ہیں، انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان پر حملے کے باوجود ہم ڈریں گے نہیں۔ ہم نے پہلے بھی دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کیے ہیں جیسے ردالفساد، اور ہم اپنے وزیراعظم اور سپہ سالار پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ہم اس جنگ میں کامیاب ہوں گے اور خوارج کا مکمل خاتمہ کریں گے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اور بزدار حکومت نے ملک کے وسائل کی لوٹ مار کی، اور ان کی حکومت نے ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلائی۔ اب بھارتی دراندازی کے ذریعے اس آگ کو دوبارہ بھڑکایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیر مملکت برائے فوڈ سکیورٹی ملک رشید نے اس موقع پر کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھائیں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں۔

    وزیر مملکت برائے توانائی عبد الرحمن کانجو نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بتا سکیں گے کہ ہم نے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالا۔اس موقع پر مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، اور عوامی افطار ڈنر کے دوران پاکستان کے موجودہ حالات اور ملکی ترقی پر کھل کر بات کی گئی۔

  • ہم ہمیشہ اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں،زرتاج گل

    ہم ہمیشہ اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں،زرتاج گل

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل نے کہا ہے کہ اگر آپ غلط نہ ہوتے تو خٹک جیسے لوگ آپ کے وزیر نہ ہوتے۔

    انہوں نے یہ بات راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔زرتاج گل نے کہا کہ موجودہ حالات بہت خراب ہیں اور حال ہی میں جعفر ایکسپریس کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہمیشہ اپنی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جو پاکستان پر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی وفاقی وزیر کو اپنے محکمے میں کیا ہو رہا ہے، اس کا بالکل علم نہیں ہوتا۔

    انہوں نے 9 مئی کے بعد کی صورتحال پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ جن لوگوں کو پہلے ریاست مخالف کہا جا رہا تھا، اب انہیں وزیر مشیر مقرر کیا جا رہا ہے، جو عوام کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

  • آئی سی سی بھارتی کرکٹ بورڈبن چکا،مبشر لقمان کا بھارت کے بغیر نئے اتحاد کا مشورہ

    آئی سی سی بھارتی کرکٹ بورڈبن چکا،مبشر لقمان کا بھارت کے بغیر نئے اتحاد کا مشورہ

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی ایک طرح سے بھارتی کرکٹ بورڈ بن چکا ہے، اور اس کا اثر کرکٹ کی اصل روح پر پڑا ہے۔پاکستان بھارت کو چھوڑ کر دیگر ممالک کے ساتھ نیا اتحاد بنائے،کیونکہ آئی سی سی مکمل بھارت کے زیر اثر ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی بھارتی اسپانسرز کے اتنے زیرِ اثر ہو چکا ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے ان کے مفادات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ "جو لوگ آئی سی سی کے امور چلا رہے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ انہوں نے کھیل کے منصفانہ مقابلے کی بنیادی نوعیت کو تباہ کر دیا ہے، اور یہ سب کچھ بھاری مفاد کے تحت ہو رہا ہے، جہاں پر صرف بھارتی اسپانسرز کا مفاد ترجیح ہے۔”

    https://x.com/mubasherlucman/status/1899759499558129695

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ ہائبرڈ ماڈل کے مسئلے پر محسن نقوی سے شدید اختلافات ہیں، محسن نقوی کو یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا، اور نہ ہی انہیں اس معاملے میں حصہ لینا چاہیے تھا۔ اس سے آئی سی سی اور بی سی سی آئی کو بے نقاب کرنا چاہئے تھا۔ پاکستان نے ماضی میں اس معاملے کی بھاری قیمت چکائی ہے اور اب پاکستان کو باقی ممالک کے ساتھ نیا اتحاد قائم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان کو اب ایک نیا گروپ تشکیل دینا چاہیے، اور موجودہ حالات میں بنگلہ دیش بھی بھارتی اثر و رسوخ سے خوش نہیں ہوگا۔”

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے کھیل سے پیسہ نہیں کما سکتا، اورر ہمیں انہیں وہاں مارنا چاہیے جہاں اسے تکلیف ہو۔بنیا کو اسی زبان میں نمٹنا چاہیے جو وہ سمجھتا ہے۔

  • دہشت گردوں کیخلاف اقدامات وقتی نہیں مستقل بنیادوں پر ہونے چاہیے،مرکزی مسلم لیگ

    دہشت گردوں کیخلاف اقدامات وقتی نہیں مستقل بنیادوں پر ہونے چاہیے،مرکزی مسلم لیگ

    دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے بیرونی قوتوں کی مداخلت ختم کرنا بہت ضروری ہے۔خالد مسعود سندھو
    جعفر ایکسپریس پر حملہ قابل مذمت،دہشتگردوں کو انجام تک پہنچایا جائے، سیف اللہ قصوری،حافظ طلحہ سعید

    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستانی قوم سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے. مسافروں کو یرغمال کر نے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں. سیاسی جماعتیں اقتدار کی جنگ کی بجائے دہشتگردی کے خاتمے، قیام امن کے لئے متحد ہوں.

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ طلحہ سعید، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک و دیگر نے جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی اور کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں اور بعض دیگر قوتیں منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں دھماکے اور دہشت گردی کی وارداتیں کروارہی ہیں۔ افغانستان میں دہشت گردوں کو ٹریننگ دیکر پاکستان داخل کیا جارہا ہے جو یہاں تخریب کاری ودہشت گردی میں ملوث ہیں۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقے ان کا ٹارگٹ ہیں. سانحہ جعفر ایکسپریس، بنوں کینٹ واقعہ، جامعہ حقانیہ حملے سمیت دہشت گردی کی دیگر وارداتو ں میں ملوث انسان نہیں درندے ہیں۔دہشت گردوں کیخلاف اقدامات وقتی نہیں مستقل بنیادوں پر ہونے چاہئیں تاکہ دہشت گردی کے عفریت سے جان چھڑائی جا سکے۔

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر پی کے میں خاص طور پر دہشت گردی پروان چڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم متحد ہو کر دشمن کو جواب دے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے بیرونی قوتوں کی مداخلت ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ دہشت گردی میں ملوث درندوں کو عبرتناک سزا دی جائے .

  • خیرپور: ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی  نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق

    خیرپور: ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق

    خیرپور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی لیاقت علی پھلپوٹو ایڈووکیٹ کو نامعلوم افراد نے گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کردیا۔

    پولیس کے مطابق مقتول لیاقت علی پھلپوٹو ایڈووکیٹ سانگھڑ میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے عہدے پر تعینات تھے اور کچھ دنوں کی چھٹی لے کر خیرپور میں اپنے آبائی گھر آئے ہوئے تھے۔واقعے کی تفصیلات کے مطابق جب لیاقت علی پھلپوٹو اپنے گھر میں موجود تھے، اسی دوران نامعلوم حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ اہلِ خانہ اور اہلِ محلہ کی جانب سے فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کردیا۔ پولیس حکام کے مطابق قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق قاتلوں کی شناخت اور واردات کے محرکات جاننے کے لیے مقتول کے اہلِ خانہ اور قریبی حلقوں سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ پولیس نے کہا کہ اس واقعے کے پس پردہ عوامل کا جائزہ لینے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا بھی تجزیہ کیا جارہا ہے۔لیاقت علی پھلپوٹو کے قتل پر وکلا برادری اور سماجی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔ اس واقعے کے بعد خیرپور اور سانگھڑ کے وکلا نے عدالتوں میں پیش نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج کیا اور حکومت سے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔

  • سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا، عمر ایوب، علیمہ خان کی طلبی

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا، عمر ایوب، علیمہ خان کی طلبی

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں عمر ایوب اور علیمہ خان کو طلب کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں کو طلبی کے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ علیمہ خان کو آج 12 مارچ کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ عمر ایوب کو 13 مارچ کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے پاس ان رہنماؤں کے خلاف شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر انہیں طلب کیا گیا ہے۔ اس تحقیقات کے تحت ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر جھوٹ اور منفی پروپیگنڈا پھیلایا جس سے عوامی جذبات کو متاثر کیا۔وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کی سربراہی اسلام آباد پولیس کے آئی جی کر رہے ہیں۔ یہ جے آئی ٹی الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016ء کے تحت تشکیل دی گئی ہے، جس کا مقصد سوشل میڈیا اور دیگر الیکٹرانک ذرائع پر ہونے والے جرائم کی تحقیقات اور ان کی روک تھام کرنا ہے۔

    یہ پیش رفت سیاسی حلقوں میں اہمیت اختیار کر گئی ہے اور اس کے اثرات آئندہ دنوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

  • ایک سال میں جو کچھ بھی ممکن تھا، وہ کیا ،وزیراعلیٰ سندھ

    ایک سال میں جو کچھ بھی ممکن تھا، وہ کیا ،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے اپنے ایک سال کے دوران جو کچھ بھی ممکن تھا، وہ کیا ہے اور آئندہ بھی عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

    سندھ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں سندھ حکومت نے متعدد عوامی منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ ان منصوبوں میں خاص طور پر گورننس کے شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بہت سی نئی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی گئی ہے، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی میں سہولت پیدا ہوئی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ایک سال پہلے بلاول بھٹو زرداری نے سندھ ہاری کارڈ کا اجرا کیا تھا، جس کے ذریعے تقریباً 10 ارب روپے ایک لاکھ سے زائد ہاریوں کو دیے گئے ہیں، تاکہ انہیں مالی مشکلات سے نجات مل سکے اور ان کی معاشی حالت میں بہتری آئے۔اس کے علاوہ، مراد علی شاہ نے پیپلز انفارمیشن ٹیکنالوجی پروگرام کا بھی ذکر کیا جس کا آغاز طلبہ کے لیے کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے ذریعے 3 جامعات میں 11 ہزار 71 طلبہ نے گریجویشن مکمل کی ہے، اور آئی ٹی کے شعبے میں تین اہم پورٹلز بھی بنائے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے "سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز” منصوبہ سندھ حکومت کا فلیگ شپ پروجیکٹ ہے، جس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ کراچی میں بھی ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے تاکہ شہر کی ترقی اور عوام کی سہولت کے لیے بنیادی ڈھانچے میں بہتری لائی جا سکے۔گھوٹکی میں زرعی ریسرچ سینٹر قائم کرنے کی خبر دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے کے دیہاتوں میں ڈیجیٹل میپنگ کے عمل کو بھی تیز کیا گیا ہے اور اس میں ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ ان تمام اقدامات کے باوجود ایک سال میں جو کچھ بھی ممکن تھا، وہ کیا گیا ہے اور ہم قائداعظم محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کے ویژن کو آگے بڑھا رہے ہیں تاکہ سندھ کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکیں۔انہوں نے اختتام پر کہا کہ سندھ حکومت عوام کی خدمت کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گی اور آئندہ بھی اسی جذبے کے تحت کام جاری رکھے گی۔

  • جعفر ایکسپریس حملہ ،بھارتی میڈیا سفید جھوٹ ، بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف

    جعفر ایکسپریس حملہ ،بھارتی میڈیا سفید جھوٹ ، بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلانے میں مصروف

    بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعدپاکستان دشمن عناصر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے گمراہ کن اور جھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں،

    دہشتگردی کے اس افسوسناک واقعہ پر بھارتی میڈیا آپے سے باہر ہوگیا،بغیر تصدیق معلومات پھیلانا بھارتی میڈیا کا پرانا وطیرہ ہے ،بھارتی سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ” را اور عالمی سطح پر ڈیکلیرڈ کالعدم تنظیم بی ایل اے” کے پیغامات سوشل میڈیا پر پھیلا نے میں مصروف ہیں.جعفر ایکسپریس پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ پر مسلسل من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈے کا پرچار ہونے لگا.بھارتی ٹی وی چینلز نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی خبر عالمی سطح پر ڈیکلیرڈ کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بریک ہوئی جسے بھارتی اکاؤنٹس نے فوری پھیلایا

    بھارتی ٹی وی چینلز حسبِ روایت آرٹیفشل انٹیلی جنس (اے آئی) سے بنی ویڈیوز، پرانی ویڈیوزاور تصاویر کا سہارا لے کر پروپیگنڈا کررہے ہیں.جعفر ایکسپریس پر حملے کی جعلی ویڈیو بھارتی اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری کی گئی جو 2022 کی ایک فلم کی ہے.بھارتی میڈیا کے اس بے بنیاد پروپیگنڈے میں بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص سیاسی جماعت سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں .

    مخصوص سیاسی جماعت بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ریسکیو آپریشن میں مصروف افواجِ پاکستان کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کی خبر کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بریک ہوئی جسے پی ٹی آئی اور بھارتی اکاؤنٹس نے پھیلایا ،مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے ، اُس کی عبارت "بی ایل اے اور را”کے آلہ کار لکھ رہے ہیں، پاکستان مخالف طاغوتی قوتیں غیر ملکی آقاؤں کے ہاتھوں استعمال ہو کر ملک کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرکے اپنے ہی ملک کی منفی تصویر کشی کر رہی ہیں.

  • اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی پاکستان میں مسافر ٹرین پر دہشتگرد حملے کی مذمت

    اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی پاکستان میں مسافر ٹرین پر دہشتگرد حملے کی مذمت

    پاکستان کے شہر کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شدید مذمت کی ہے اور یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے اس حملے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دہشتگردوں کی طرف سے مسافروں کو یرغمال بنائے جانے کے تمام واقعات کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔

    اسٹیفن ڈوجارک نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ یرغمالیوں کی فوری رہائی کی حمایت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان کی حفاظت کو ہر ممکن طریقے سے یقینی بنایا جائے۔

    پاکستانی فورسز نے دہشتگردوں کے حملے کے بعد فوراً کارروائی شروع کر دی تھی، اور اب تک 155 یرغمالی مسافروں کو بازیاب کر لیا گیا ہے۔ اس آپریشن میں 27 دہشتگرد بھی مارے گئے ہیں۔ فورسز کی کارروائی جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ باقی مسافروں کو بھی جلد آزاد کر لیا جائے گا۔اس دہشتگرد حملے کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے پاکستان کی حکومت کو مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا ہے اور عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف یکجہتی کا پیغام دیا گیا ہے۔