Baaghi TV

Author: News Editor

  • آڈیو لیکس ۔خطرے کی گھنٹی:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    آڈیو لیکس ۔خطرے کی گھنٹی:تجزیہ:- شہزاد قریشی

    آڈیو ویڈیو لیکس کی جنگ اور ایک دوسرے کی جاسوسی پر اترانے والے سیاستدانوں او رنجی ٹی وی چینلز پر تبصرہ کرنے والوں کو معاملے کی حساسیت پر غور وفکر کرنا چاہیئے ۔ کہ کہیں وطن عزیز کی سیکورٹی اور سالمیت تو داؤ پر نہیں لگ چکی ؟ پاکستان ایک عظیم ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور اس کی ہمسائیگی میں ازلی دشمن تاک لگائے بیٹھے ہیں۔ ملک کی آئی ایس آئی ایک مایہ ناز ملکی سلامتی کا ادارہ ہے۔ جس کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی اقوام عالم معترف ہے جبکہ آئے دن سابقہ و وموجودہ وزیراعظموں ،وزراء اور سیاسی لیڈروں کی پارٹی میٹنگ پالیسی ایشیو پر گفتگو حتی کہ خواتین راہنمائوں کے بیڈ روم تک بکنگ اور فون ریکارڈنگ کے لیک ہونے کے الزامات اور مبینہ واقعات ملک کی سیکورٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔

    ایک دوسرے کے آڈیو ویڈیو لیکس اور بغلیں بجانے والے سیاسی مخالفین کو نہ صرف شادیانے بجانے سے اجتناب کرنا چاہیئے بلکہ فکر کرنی چاہیئے کہ کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ایوان صدر وزیراعظم ہائوس و آفس سے لے کر تمام وزارتوں اور حساس تنصیبات پر موجود اہلکاروں کی سخت ترین سکریننگ ہونی چاہئے اور ا س کے ساتھ ساتھ موبائل فون و ٹیلی فون کمپنیوں کو بھی تطہیر کے عمل سے گزارا جائے کیوں کہ اگر وزیراعظم ہاؤس و آفس اور اعلی سیاسی قیادت بھی محفوظ نہیں تو وطن عزیز کی سیکورٹی پر تبصرہ کرنے سے قلم اجازت نہیں دیتا

     

     

    حکومتی عہدیداروں اور سیاسی شخصیات کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ملک وقوم کی خدمت کا شیوہ اپنائیں کیونکہ کھوکھلے نعروں اور دوغلی پالیسی کے جھانسے میں عوام نہیں آئیںگے پاک فوج اور قومی سلامتی کے ادارے جہاں تک سرحدوں کی حفاظت پر ماموس ہیں انہیں اس حساس معاملے پر قومی سلامتی کے فول پروف اقدامات کرنا چاہیئے ۔

  • پی آئی اے کے پائلٹ فلائٹ رڈر کنٹرول ڈیفلیکٹ میں غیر معمولی ایئر مین شپ کا مظاہرہ کرنے لگے

    پی آئی اے کے پائلٹ فلائٹ رڈر کنٹرول ڈیفلیکٹ میں غیر معمولی ایئر مین شپ کا مظاہرہ کرنے لگے

    کراچی:پی آئی اے کے پائلٹ فلائٹ رڈر کنٹرول ڈیفلیکٹ میں غیر معمولی ایئر مین شپ کا مظاہرہ کرنے لگے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی قومی ایئرلائنز پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کے پائلٹوں نے فلائٹ رڈل کنٹرول ڈیفلیکٹ میں غیر معمولی ایئر مین شپ کا مظاہرہ کیا۔

    پاکستانی پائلٹوں کی اس مہارت نے سب کو حیران کردیا ، یہ مہارت پی آئی اے کے پائلٹوں کی کارکردگی بہتر کرنے میں ممدومعاون ثآبت ہوگی

    پاکستانی پائلٹوں کی اس مہارت کے متعلق فلائٹ سیفٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے کہا کہ کسی بھی طیارے میں بہترین حفاظتی آلہ ‘ایک تربیت یافتہ پائلٹ ہے’۔

    اس مہارت کے لیے PK-609/16th ستمبر 2022 کو لاہور سے گلگت LHE-GIL کے لیے ٹیک آف کے دوران، ATR-42 پر ایک رڈر ٹرم رن وے ہوا جس کے نتیجے میں "Rudder, Flt Control Jam” سے مکمل طور پر رڈر ڈیفلیکشن ہو گیا۔

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے پائلٹس، کیپٹن احد حسینی اور فرسٹ آفیسر حامد خان نے مہارت سے ایل میں بحفاظت واپس لینڈ کرکے اپنی قابلیت کو ثابت کردیا

    ادھرپی آئی اے میں نئے طیاروں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور مزید ایک ایئر بیس 320 طیارے کو قومی فضائی کمپنی کے بیڑے میں شامل کرلیا گیا ہے۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق رواں سال پی آئی اے نے 4 اے 320 طیارے حاصل کیے ہیں، تیسرا طیارہ شارجہ سے اسلام آباد پہنچ گیا ہے، جب کہ چوتھا اور آخری طیارہ آئندہ چند روز میں پاکستان پہنچے گا۔

    ترجمان کے مطابق جدید طیارہ مسافروں کو بہتر سفر ی سہولیات فراہم کرے گا، نئے طیارے شمولیت سے پی آئی اے کے بیڑے میں اے 320 ساختہ طیاروں کی تعداد 14 ہوجائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں قومی ایئرلائن (پی آئی اے ) نے 5 جدید طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ جدید طیارے 6 سال کی ڈرائی لیز پر لیے جائیں گے۔

  • بھارت میں کورونا پھر سر اُٹھانے لگا؛ ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا

    بھارت میں کورونا پھر سر اُٹھانے لگا؛ ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا

    نئی دہلی: بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی جب کہ 4 ہزار 777 نئے کیسز سامنے آئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملک میں کورونا پر قابو پالیا گیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی اسے اپنی بڑی کامیابی بھی قرار دیتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ کورونا ایک بار پھر سر اُٹھا رہا ہے۔ اور صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا نے مزید 23 افراد کی جان لے لی۔

    کورونا سے ایک دن میں ہونے والی 23 ہلاکتوں میں سے 11 ہلاکتیں صرف ریاست کیرالہ میں ہوئیں۔ اس طرح ملک بھر میں اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 5 لاکھ 28 ہزار 510 ہوگئی۔

     

     

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 ہزار 777 نئے کیسز بھی سامنے آئے جس کے بعد ایک بار پھر کورونا پابندیوں کو سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاہم گزشتہ فیصلوں کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے شاید ہی مودی حکومت کوئی بڑا فیصلہ کرپائے۔

    کورونا کا پہلا کیس چین کے صوبے ووہان میں دسمبر 2019 میں سامنے آیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا پوری دنیا میں پھیل گئی تھی جس میں تاحال 65 لاکھ سے زیاد افراد ہلاک ہوئے جب کہ 61 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے۔

    اُس وقت بھی امریکا کے بعد بھارت اس وبا سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک تھا تاہم دنیا بھر میں کورونا ویکسینیشن کے بعد صورت حال قابو میں آئی۔ دنیا بھر میں تمام سفری پابندیوں کا خاتمہ ہوا، کاروباری سرگرمیاں شروع ہوئیں اور اب معمول کی زندگی کی رواں دواں ہے۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • پی ٹی آئی کی وجہ سےپاک امریکہ تعلقات خراب ہوئے:شہبازشریف کا امریکی خبررساں ادارے کوانٹرویو

    پی ٹی آئی کی وجہ سےپاک امریکہ تعلقات خراب ہوئے:شہبازشریف کا امریکی خبررساں ادارے کوانٹرویو

    نیویارک: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے۔ عمران خان کی گزشتہ حکومت نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ سب غیرضروری تھا اور یہ پاکستان کے خودمختار مفادات کیلئے نقصان دہ تھا۔

    امریکی خبررساں ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بار پھر عالمی برادری سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے ساتھ دینے کی اپیل کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب سے پاکستان میں بہت تباہی ہوئی عالمی مدد سے سیلاب متاثریں کی بحالی ممکن ہوگی، جن ممالک کے پاس وسائل ہیں اور انہیں اللہ نے استطاعت دی ہے انہیں آگے بڑھنا چاہیے اور ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی کوششوں میں حصہ ملانا چاہیے، یہ بہت ضروری ہے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ تین ماہ کی سیلابی تباہی سے پاکستان کی معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے فوری ڈونر کانفرنس کے انعقاد کی استدعا کی ہے۔ پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات بہت زیادہ ہیں، سیکڑوں بچوں سمیت 1600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، چالیس لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، لاکھوں مکانوں کو نقصان پہنچا، ان کی زندگی کی جمع پونجی ختم ہوگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوگئیں، ریلوے پل، ریلوے ٹریک، مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا۔ اس سب کی بحالی کیلئے فنڈز درکار ہیں۔ پاکستان عالمی حدت کا سبب بننے والے عالمی حدت کا ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ جون کے وسط میں سیلاب شروع ہونے سے پہلے پاکستان میں اناج کی قلت اور خام تیل کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے شدید چیلنجز کا سامنا تھا جو بنیادی طور پر روس یوکرین تنازع کی وجہ سے ہواتھا۔ آسمان کو چھوتی تیل کی قیمتوں کی وجہ سے اس کی درآمد ہماری استعداد سے باہر ہوگئی تھی، بڑے پیمانے پر سیلاب سے ہونے والی تباہی نے ان چیلنجز کو مزید بڑھا دیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر سے ملنے والی امداد کو انتہائی مضبوط اور شفاف طریقہ کار کے تحت ضرورت مند لوگوں تک پہنچایا جائے گا جب کہ بین الاقوامی معروف کمپنیوں کے ذریعے تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے اعلی حکام سے ملاقات میں سیلاب کی صورت حال بہتر ہونے تک پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی اور دیگر شرائط کو موخر کرنے کی اپیل کی۔ اس کے پاکستان کی معیشت اورعوام پر اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ بہت معاون لگ رہے تھے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ پر امن پڑوسی کی طرح رہنا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کشمیر کا تنازع مذاکرات سے حل کرسکتے ہیں۔ ہمیں لوگوں کو کھلانے کے لیے وسائل درکار ہیں۔ تعلیم کے لیے، نوکریوں کے مواقع دینے کے لیے، طبی سہولیات دینے کے لیے، بھارت اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسلحے اور دفاعی سامان کی خریداری پر پیسہ خرچ کرے پاکستان بھی (متحمل) نہیں ہوسکتا۔

    کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو سمجھنا چاہئے کہ جب تک کشمیر کا سلگتا ہوا تنازع پرامن مذاکرات کے ذریعے حل نہیں کیا جاتا ہم امن سے نہیں رہ سکتے۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کا نادر موقع ہے ، افغانستان میں پرامن حالات پاکستان میں بھی امن کی ضمانت ہیں۔ طالبان کے پاس دوحہ معاہدے کی پاسداری کرکے لوگوں کیلئے امن اورترقی کو یقینی بنانے کا ایک سنہری موقع ہے، افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاک امریکا تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اچھے اور پرجوش تعلقات چاہتا ہے۔ عمران خان کی گزشتہ حکومت نے اس سلسلہ میں جو کچھ کیا وہ سب غیرضروری تھا اور یہ پاکستان کے خودمختار مفادات کیلئے نقصان دہ تھا، یہ سب کچھ پاکستان کے عوام کی توقعات کے مطابق نہیں تھا۔

  • کہیں بھی حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کرتےہوئے نظرنہیں آرہی،سیلاب متاثرین  کو تنہا نہیں چھوڑیں گے:سراج الحق

    کہیں بھی حکومت سیلاب متاثرین کی مدد کرتےہوئے نظرنہیں آرہی،سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے:سراج الحق

    لاہور:امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ سیلابی علاقوں میں ریلیف کے حکومتی اقدامات ناکافی، لوگ شکایتیں کر رہے ہیں۔ ڈھائی ماہ کے دوران مختلف علاقوں میں گیا، کوئی وزیر مشیر متاثرین کے درمیان نظر نہیں آیا۔ حکمران بیرونی امداد کے منتظر ہیں کہ کب پیسہ آئے اور وصول کریں۔ سرکاری امداد کی تقسیم میں کرپشن کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ سیلاب کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی لڑائیاں ختم نہیں ہوئیں، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی مفادات کے لیے جنگ عروج پر ہے، دونوں اطراف کی سیاست جھوٹ کی بنیاد پر چلتی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین سیاست کے لیے پشاور چلے گئے، سیلاب متاثرین کا حال لینے اپنے آبائی علاقے میانوالی نہیں گئے۔ سیلاب سے ساڑھے تین کروڑ افراد متاثر، لوگوں کے گھر بار، مال مویشی پانی میں بہہ گئے، حکمرانوں کو پروا نہیں۔ حیرت ہے کہ حکومت کے پاس تاحال متاثرین کا ڈیٹا تک موجود نہیں۔ مختلف سرکاری محکموں کے دوران کوآرڈی نیشن نظر نہیں آ رہی۔ فلڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو ہر سال اربوں روپے کے فنڈز ملتے ہیں، جب کوئی آفت آتی ہے تو یہ بری طرح ایکسپوز ہو جاتے ہیں۔ ملک کے تمام شعبوں میں ریفارمز کی ضرورت ہے، آزمائے ہوئے لوگوں سے بہتری کی توقع نہیں، اہل اور ایمان دار لوگ آگے آئیں گے تو ملک ترقی کرے گا۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ متاثرین کی مدد کے لیے قوم کا جذبہ سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا، عطیات دینے میں لوگوں نے جس طرح جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن پر اعتماد کیا ہم ان کے شکرگزار ہیں، بحالی تک خدمات جاری رکھیں گے۔ ہمارا مقصد قوم کی خدمت اور ملک کو اسلامی فلاحی مملکت بنانا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے راولپنڈی میں سیلاب متاثرین کے لیے ڈونرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ امیر جماعت گلگت بلتستان کے سیلابی علاقوں کا دورہ کر کے بدھ کی رات اسلام آباد پہنچے تھے۔ قبل ازیں انھوں نے گلگت میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ دیگر مقررین میں امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان ڈاکٹر خالد محمود، شیخ مرزا علی صدر ملی یکجہتی کونسل گلگت بلتستان شیخ مرزا علی، صدر مجلس وحدت مسلمین علامہ نیئر عباس اور اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان اسمبلی امجد حسین ایڈووکیٹ بھی شامل تھے۔

    سراج الحق نے کہا کہ معیشت کی تباہی کی ذمہ دار موجودہ اور سابقہ حکومتیں ہیں۔ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے، لیکن حکمرانوں کی کرپشن اور بیڈ گورننس کی وجہ سے آج ملک کا تمام دارومدار بیرونی قرضوں پر رہ گیا ہے۔ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بھی وفاقی اور صوبائی حکومتیں بیرونی ممالک کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری حتی الامکان کوشش ہے کہ مصیبت میں اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لیے مقامی سطح پر ہی فنڈز اکٹھے کریں۔ انھوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کو بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی دل کھول کر عطیات دیے ہیں جس کے لیے ہم سب کے شکرگزار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے دورہ کے دوران انھوں نے دیکھا کہ حکومت متاثرین کی بروقت امداد میں ناکام ہوئی، ایک گھر کے آٹھ افراد سیلاب میں بہہ گئے، ایک دوسال کی بچی کو دوکلومیٹر پانی کی لہروں میں بہنے کے بعد نکالا گیا، اس کی والدہ اور بڑا بھائی شہید ہوگئے۔ ریاست کا فرض ہے کہ تمام متاثرین کی کفالت کو یقینی بنائے۔ وفاقی وصوبائی حکومتیں سنجیدگی دکھائیں، سرکاری امداد کی تقسیم میں شفافیت ہو اور لوگوں کو گھروں کی تعمیر کے لیے فی الفور رقم دی جائے۔

    گلگت میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ تمام مکتبہ فکر کے علما کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ امت مسلمہ کے تصور کومدِ نظر رکھتے ہوئے آپسی بھائی چارہ اور اتحاد و اتفاق کو فروغ دیں۔ دشمن ملک کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی داستانیں رقم کررہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں، منبرو محراب پر حملے ہورہے ہیں۔ ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں اور ان سے سوائے بزدلی اور خاموشی کے اور کوئی توقع بھی نہیں ہے۔ ان حالات میں علمااور اکابرین امت کی ذمہ داری ہے کہ مظلوم مسلمانوں کے حق میں ہرسطح پر آواز بلند کریں۔ انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہودی فلسطین پر قابض، برما اور بھارت میں مسلمان دربدر، یورپ و امریکہ میں اسلاموفوبیا عام ہے۔ ہمیں متحد ہوکر ان چیلنجز اور مشکلات سے نبرد آزما ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت ہمیں اسی وقت نصیب ہوگی جب ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر دین کی سربلندی کے لیے اور ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

  • وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا دورہ نیویارک:ملاقاتیں ہی ملاقاتیں:تحریر:-نعمان سلطان

    وزیراعظم اور وزیر خارجہ کا دورہ نیویارک:ملاقاتیں ہی ملاقاتیں:تحریر:-نعمان سلطان

    وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف صاحب نے منصب وزارت سنبھالنے کے بعد 19 ستمبر سے 23 ستمبر تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے نیویارک کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا، اپنے اس دورے کے دوران انہوں نے انفرادی طور پر اور اپنے وفد کے ساتھ دیگر ممالک کے اپنے ہم منصب وزراء اعظم، صدور اور اہمیت کے حامل دیگر افراد اور وفود کے ساتھ ملاقاتیں کیں جبکہ آپ نے 23 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران اقوام عالم کو متاثرین سیلاب اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے علاوہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے فضائی آلودگی کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دیگر ممالک کو ہونے والے نقصانات اور مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستانی موقف سے آگاہ کیا ۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے دورہ نیویارک کی ابتداء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے دئیے جانے والے استقبالیے میں شرکت کر کے کی اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سے بھی ملاقات کی ۔اس دوران وزیراعظم نے گلوبل فوڈ سکیورٹی سمٹ میں بھی شرکت کی ، گلوبل فوڈ سکیورٹی سمٹ کا اہتمام سینیگال اور افریقی یونین کے صدر نے کیا ہے۔

    21 ستمبر کو وزیراعظم کی عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) اور ورلڈ بینک کے صدرسے ملاقات ہوئی اس کے علاوہ انہوں نے ترک صدر، ایرانی صدر اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر سے بھی ملاقاتیں کیں ۔21 ستمبر کو شہباز شریف نے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے منعقدہ عشائیہ میں شرکت کی ۔ ترک صدر اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں ظہرانہ دیا ، فن لینڈ کے صدر سعالی نوسیتو سے بھی ملاقات کی ۔

    22 ستمبر کو مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس سے بھی ملاقات کی اور شہباز شریف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس سے دفتر میں ملے،چینی وزیراعظم، جاپانی وزیراعظم، لگسمبرگ کے وزیراعظم، ملائیشین وزیراعظم اسماعیل صابری یعقوب سے بھی شیڈول ملاقاتیں کیں ۔23 ستمبر کو وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا، اسی دن نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی سے بھی ملاقات کی ۔

    امریکا کے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ممتاز امریکی اخبارات اور ذرائع ابلاغ کو انٹرویوز بھی دئیے ۔

    وزیراعظم نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون سے انتہائی اہمیت کی حامل ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر بھی موجود تھیں اس ملاقات کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ گستاخانہ خاکوں والے معاملے کی وجہ سے پاکستان اور فرانس کے تعلقات نہایت کشیدہ ہو گئے تھے لیکن وزیراعظم نے تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپس کی غلط فہمیوں کو دور کیا اور فرانس میں دوبارہ پاکستان کا سفیر لگانے کا اعلان کیا تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود برف پگھلے اور اس کا فائدہ فرانس میں موجود پاکستانی تارکین وطن کو ہو۔

    ملک کے موجودہ معاشی بحران اور حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے پاکستان کی معیشت انتہائی دباؤ میں تھی اور ایسے میں آئی ایم ایف کی سخت شرائط پر حاصل کردہ قرضہ بھی حکومت کے لئے سردرد بنا ہوا تھا شہباز شریف صاحب نے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے نیویارک میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور انہیں قائل کیا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان ایک آفت زدہ ملک ہے اور اس کے لئے آئی ایم ایف کی مشکل شرائط کو پورا کرنا نہایت مشکل ہے اس لئے براہ کرم پاکستان کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے قرضے کی شرائط میں نرمی کی جائے اور پاکستان نے قرضے کی جو قسط ادا کرنی ہے اسے موخر کیا جائے اور انہوں نے شہباز شریف صاحب کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔

    وزیراعظم نے ورلڈ بینک کے صدر جناب ڈیوڈ مالپاس سے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی اور متاثرین سیلاب کے لئے ورلڈ بینک کی جانب سے 320 ملین ڈالر کی امداد کے لئے شکریہ ادا کیا اس کے علاوہ انہوں نے ورلڈ بینک کے صدر کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا ورلڈ بینک کے صدر نے وزیراعظم کی متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے کوششوں کو سراہا اور متاثرین کے لئے مزید 850 ملین ڈالر کی امداد کا وعدہ بھی کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی ذاتی کوششوں کی وجہ سے ترکیہ کے صدر جناب طیب اردگان نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو اٹھایا اور ابھی تک مسئلہ کشمیر کا کوئی پائیدار حل نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اس کے علاوہ انہوں نے ممبر ممالک پر زور دیا کہ وہ متاثرین سیلاب کی بحالی کے لئے پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں ۔

    ایرانی صدر جناب سید ابراہیم رئیسی سے اپنی ملاقات کے دوران شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون بڑھانے کا اعادہ کیا اس کے علاوہ متاثرین سیلاب کی امداد اور مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔
    جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر شہباز شریف صاحب کی سب سے اہم ملاقات امریکی صدر جناب جوبائیڈن سے ہوئی انہوں نے اس ملاقات کے دوران سیلاب زدگان کے لئے امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ سیلاب آنے کی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جبکہ ان تبدیلیوں کی وجہ ہم نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک ہیں انہوں نے شہباز شریف صاحب کے موقف کی حمایت کی اور اپنے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران خصوصی طور پر سیلاب متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا ذکر کیا اور موسیماتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک کو ہونے والے نقصانات کا ذکر کیا ۔

    وزیراعظم نے بل گیٹس سے ملاقات کی اور انہیں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے آگاہ کیا اور ان سے متاثرین سیلاب کے لئے آواز بلند کرنے کی درخواست کی ۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں، موسمیاتی تبدیلی، مسئلہ کشمیر، بھارت سے تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور دہشتگردی کے معاملات پر بات کی، انہوں نے کہا کہ میرا دل اور دماغ اس وقت بھی پاکستان میں ہیں اور مجھے اس وقت وہیں ہونا چاہیے تھا لیکن میں آپ کو صرف یہ بتانے کے لئے یہاں آیا ہوں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے جس صورتحال کا آج ہم شکار ہوئے ہیں کل کو آپ بھی ہو سکتے ہیں اس لئے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کی پیش بندی کریں ۔
    انہوں نے سیلاب زدگان کی امداد کے لئے اقوام عالم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم نے اپنے پاس موجود تمام وسائل متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے وقف کر دئیے ہیں اور اصل مسئلہ آنے والی سردیوں سے پہلے متاثرین کی بحالی کا ہے جو کہ آپ تمام ممالک کے تعاون سے ہی ممکن ہے اس لئے مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان کو تنہا نہ چھوڑیں اور ہمارے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں ۔

    اس کے علاوہ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا اور کہا کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں لیکن کسی کی شرافت اس کی بزدلی نہیں ہوتی ہم ہمسایوں کے ساتھ برابری کی سطح پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کی قیمت کشمیر کی صورت میں ادا نہیں کر سکتے اس لئے مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب نے بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران انتہائی اہم ملاقات چین کے وزیر خارجہ وانگ یی سے کی اور اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا اور سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا، اس کے علاوہ انہوں نے ناروے کی وزیر خارجہ اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل ٹام ویسٹ سے بھی ملاقاتیں کیں، اوآئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب کے تقررکا مطالبہ کیا۔

    مجموعی طور پر وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ نیویارک انتہائی کامیاب رہا اس دورے کے دوران جہاں انہوں نے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات کو دوبارہ سے بحال کیا وہیں انہوں نے تمام دوست ممالک کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور ان سے متاثر ہونے والے ممالک کے نقصانات کے ازالے کے لئے آواز اٹھائی، ان کی کامیاب سفارت کاری کی وجہ سے ترکیہ کے صدر جناب طیب اردگان نے اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر کو اٹھایا، امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کیا اور متاثرین سیلاب کی امداد کے لئے اپنے خطاب میں خصوصی درخواست کی اس کے علاوہ ان کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے دوست ممالک نے متاثرین سیلاب کی بحالی تک ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی یہ سب صرف شہباز شریف صاحب کی ذاتی کوششوں اور ملاقاتوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا جس کے لئے وہ انتہائی مبارک باد کے مستحق ہیں ۔

  • حکومتِ سندھ سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپنی انتھک کاوشیں جاری رکھے گی: آصفہ بھٹو

    حکومتِ سندھ سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپنی انتھک کاوشیں جاری رکھے گی: آصفہ بھٹو

    کراچی :شہید بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے اپنی انتھک کاوشیں جاری رکھے گی۔تفصیلات کے مطابق شہید بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے شہید بے نظیر آباد میں سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں کا دورہ کر کے مختلف مقامات پر سیلاب متاثرین کے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔

    آصفہ بھٹو نے سکرنڈ میں واقع سیلاب متاثرین کے لئے بنائے گئے ٹینٹ سٹی کا دورہ کیا۔ انہوں نے امدادی سرگرمیوں میں مصروف رضاکاروں سے ملاقات کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے سیلاب سے متاثرہ خواتین اور بچوں میں ضروریات کا سامان بھی تقسیم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مہینہ ہو چکا، ہمارے عوام تاحال اس سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں جس نے سندھ کو ڈبو دیا ہے، تین کروڑ سے زائد متاثرین اور بے گھر افراد کو پناہ، خوراک اور ادویات کی ضرورت ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ امدادی کیمپوں میں رہائش پذیر متاثرین نے مجھے اپنی پریشانیوں سے آگاہ کیا، امید ہے، حکومتِ سندھ سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے اپنی انتھک کاوشیں جاری رکھے گی۔

    آصفہ بھٹو نے کہا کہ ڈینگی، ملیریا اور اسہال کی پھیلتی بیماریاں تباہی کی دوسری لہر ثابت ہو رہی ہیں، پی پی آئی ایچ کی طرح میڈیکل کیمپوں نے خدمت کے لئے خود کو وقف کیا ہوا ہے تاہم ان کو ہم سب کی مدد کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سطح کی بڑی آفت کے سامنے ادویات اور ڈاکٹرز کی موجودہ فراہمی کم ہے، ہمیں ہر ایک کی ضرورت ہے کہ وہ آگے آئیں اور مدد کریں، عطیہ دیں اور رضا کار بنیں تاکہ سیلاب سے ہونے والی تباہی میں کمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • پی ٹی آئی کے اجتماعات میں حاضرین کی تعداد وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے شیئر کردی

    پی ٹی آئی کے اجتماعات میں حاضرین کی تعداد وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے شیئر کردی

    اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے رحیم یار خان جلسے کے موقع پر ملک بھر میں ہونے والے پی ٹی آئی کے اجتماعات میں شریک کارکنوں کی تعداد ٹوئٹر پر پوسٹ کردی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھاکہ 24 ستمبر کو رحیم یار خان جلسے میں تحریک شروع کریں گے اور گھروں سے نکلنے کی کال دیں گے۔

     

     

    دوسری طرف وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران خان کے رحیم یار خان جلسے کے موقع پر ملک بھر میں ہونے والے پی ٹی آئی کے اجتماعات میں کارکنوں کی تعداد ٹوئٹر پر پوسٹ کردی اور کہاکہ عمران خان کہتے تھے ہفتے کی تیاری اورتعداد دیکھ کر اسلام آباد کی کال دوں گا۔انہوں نے ملک بھر میں اجتماعات میں کارکنوں کی تعداد پر طنز کیا کہ ’اپنی تیاری کا حال آج کے اعداد شمار کی زبانی ملاحظہ فرمائیں‘۔

     

    رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ 25 مئی کے بعد اگر آپ کی ٹائیگر فورس کی یہی تیاری ہے تو مجھے افسوس ہماری تیاری تو بیکار چلی جائے گی، آپ کی مقبولیت بھی ایک ڈھکوسلا ہے۔وزیر داخلہ کی جاری فہرست کے مطابق اسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ 250 افراد نکلے جبکہ کراچی اور لاہور میں شرکا کی زیادہ سے زیادہ تعداد 300 تھی۔

    فیصل آباد میں 500، پشاور میں 150 کے قریب لوگ تھے، راولپنڈی میں شرکا کی زیادہ سے زیادہ تعداد 25 تھی، گوجرانوالا میں 300 اور جہلم میں 150 لوگ تھے۔

  • بہو قتل کیس۔ ایاز امیر گرفتار

    بہو قتل کیس۔ ایاز امیر گرفتار

    اسلام آباد:اسلام آباد پولیس نے بہو کے قتل کیس میں معروف صحافی ایاز امیر کو گرفتار کرلیا۔اس حوالے سے تصدیق کی جاری ہےکہ پولیس نے واقعی ایازامیر کو گرفتار کرلیا ہے اوربہوکےقتل کے حوالے سے تفتیش کی جائے گی

    اسلام آباد کی عدالت نے سینئر صحافی ایاز امیر اور اہلیہ کے وارنٹ گرفتاری کی درخواست منظور کی تھی، جب کہ بہو کے قتل کے الزام میں پولیس کو ان کے بیٹے شاہنواز امیر کا 2 روز کا جسمانی ریمانڈ بھی دیا تھا۔

     

     

    شہزاد ٹاون پولیس نے ایاز امیر کو گرفتار کر لیا، ایاز امیر کو سارا قتل کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، آج اسلام آباد پولیس نے ایاز امیر کو مقدمےمیں نامزد کیا تھا۔ مقدمےمیں 302 کےساتھ دفعہ 109 بھی شامل کی گئی ہے، ایاز امیر اور انکی اہلیہ کو بھی شامل تفتیش کیا جائےگا،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے حکم پر سینئر صحافی ایاز امیر کو وفاقی دارالحکومت سے گرفتار کرلیا۔اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایاز امیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔یاد رہے کہ ایاز امیر کی بہو سارہ انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے گھر میں قتل کردیا تھا۔

    ادھرپوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق کينيڈين نژاد مقتولہ سارہ انعام کے ماتھے اور چہرے پر زخم کے نشان پائے گئے جبکہ ان کے ہاتھوں اور بازؤں پر بھی چوٹیں تھیں۔

    اس قتل کے کے سلسلے میں اسلام آباد میں معروف سینیر صحافی ایاز امیر کی بہو کے قتل کا مقدمہ ایس ایچ او تھانہ شہزادہ ٹاؤن کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم کی نشاندہی پر باتھ روم ٹب میں چھپائی گئی لاش اور صوفے کے نیچے چھپائے گئے آلہ قتل ڈمبل کو برآمد کیا۔

    درج کی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کو ملزم کی ماں نے قتل سے متعلق آگاہ کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزم کی والدہ کا کہنا تھا کہ ملزم کا اہلیہ سارہ انعام سے جھگڑا ہوا تھا، جس پر ملزم نے اسے ڈمبل مار کر قتل کردیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے گھر میں پولیس کو دیکھ کر خود کو کمرے میں بند کیا، گرفتاری کے وقت ملزم کی شرٹ اور ہاتھوں پر خون کے نشانات تھے۔ ایف آئی آر میں ملزم کا اعترافِ جرم بھی شامل ہے کہ اس نے جھگڑے کے دوران بیوی کو ڈمبل کے وار کر کے قتل کیا۔

    درج ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے باتھ ٹب سے مقتولہ کی لاش برآمد کرائی، جس کے سر پر زخم کے نشانات تھے۔ جب کہ آلہ قتل بھی ملزم کے بیڈ روم سے برآمد کرلیا گیا ہے۔ آلہ قتل پر مقتولہ کا خون اور سر کے بال بھی لگے ہوئے تھے۔ 37 سالہ سارہ انعام کی لاش کو ضروری کارروائی کیلئے پمز اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

  • ملزم شاہنواز اور مقتولہ کے درمیان لڑائی کی وجوہات سامنے آ گئیں

    ملزم شاہنواز اور مقتولہ کے درمیان لڑائی کی وجوہات سامنے آ گئیں

    سینئر صحافی ایاز امیر کے بیٹے اور بہو سارہ میں لڑائی متعلق تفصیلات سامنے آگئیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق سارہ کے چچا کرنل(ر) اکرام اور ضیا الرحیم نے بھتیجی کے قتل کا الزام ایاز امیر اور ان کی سابق اہلیہ پر عائد کیا ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ چچا نے الزام عائد کیا ہے کہ ایاز امیر اور ان کی سابق اہلیہ نے میری بھتیجی سارہ کو قتل کرایا ۔

    آج پولیس نے ایاز امیر اور انکی سابق اہلیہ کے وارنٹ گرفتاری حاصل بھی کر لئے ہیں۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق ملزم شاہنواز نے اپنی اہلیہ کو اپنی دیگر 2 شادیوں کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ ملزم اپنی بیوی سارہ سے حیلے بہانوں سے پیسے منگواتا تھا۔

    تفتیشی ذرائع کے مطابق سارہ نے اپنے لئے ایک گاڑی بھی خریدی، ملزم نے دھوکے سے گاڑی اپنے نام کرائی جس پر سارہ سے تکرار ہوئی۔ سارہ نے اپنے دیے گئے پیسوں کا تقاضا کیا اور گاڑی فوری طور پر اپنے نام کرانے کا کہا۔

    ذرائع کے مطابق ملزم شاہنواز نے پیسوں کے تقاضے پر طیش میں آکر اہلیہ سارہ کو قتل کیا۔ مقتولہ سارہ نے اپنی شادی سے متعلق کینیڈا میں مقیم والدین کو کچھ نہیں بتایا تھا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق مقتولہ سارہ کینیڈا کی شہریت رکھتی ہیں۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس