Baaghi TV

Author: News Editor

  • سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی پرمسلم دنیا کا شدید احتجاج،عالمی برادری سےنوٹس لینےکامطالبہ

    سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی پرمسلم دنیا کا شدید احتجاج،عالمی برادری سےنوٹس لینےکامطالبہ

    لاہور:سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی پر مسلم دنیا کا شدید احتجاج،اطلاعات کے مطابق دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہاپسندوں نے سویڈن کے نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کرنے پر ترکیہ کے خلاف اسٹاک ہوم میں مظاہرے کے دوران قرآن کے اوراق جلائے جس پر مسلم دنیا نے شدید غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سویڈن میں دائیں بازو کے کٹر رہنما ریسمس پلودن نے ترکیہ کے سفارت خانے کے سامنے ایک مظاہرے میں قرآن پاک اور ترکیہ کے پرچم کو نذر آتش کیا۔

    یہ مظاہرہ سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی درخواست پر ترکیہ کی مخالفت کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ اس معاملے پر ترکیہ اور سویڈن کے درمیان پہلے ہی تعلقات کشیدہ ہیں۔

    ترک وزیر خارجہ نے اس ناپاک اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں ہم اپنی مقدس کتاب پر ہونے والے گھناؤنے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہماری مقدس اقدار کی توہین اور اسلام مخالف فعل کی اجازت دینا ناقابل قبول ہے۔

    ترکہ وزیر خارجہ نے اپنا دورۂ سویڈن بھی منسوخ کردیا۔ سعودی عرب نے بھی سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    اسی طرح ایران اور عراق نے اس معاملے پر سویڈن کے سفارت کاروں کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اردن اور کویت سمیت دیگر عرب ممالک نے بھی قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی مذمت کی۔

    پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ آزادیٔ اظہار رائے نہیں۔ اسلاموفوبیا پر مبنی اس عمل سے دنیا بھر میں 1.5 ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

    مسلم دنیا کے غم و غصے پر سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بلسٹروم نے بیان جاری کیا کہ اسلامو فوبک اشتعال خوفناک ہے۔ ملک میں اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سویڈن کی حکومت، یا میں اس طرح کے اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔

    خیال رہے کہ ڈنمارک کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت کے متنازع رہنما ریسمس پلودن اس سے قبل بھی قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی ناپاک حرکتیں کر چکا ہے۔

  • وزیرآباد فائرنگ: عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی تبدیل

    وزیرآباد فائرنگ: عمران خان پر حملے کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی تبدیل

    لاہور:وزیر آباد میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی کی جانب سے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر پر اعتراضات کے بعد محکمہ داخلہ نے جے آئی ٹی کے ارکان کو ہی تبدیل کر دیا گیا۔

    ایم کیوایم میں مزید دراڑیں پڑگئیں:بڑے بڑے نام پارٹی چھوڑنےکے لیےتیار

    سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں عمران خان پر حملے کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی میں نئے ارکانِ کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔

    ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ پرغورشروع کردیا

    اعلامیے کے مطابق جے آئی ٹی کے نئے ارکان میں ڈی پی او ڈی جی خان محمد اکمل، ایس پی انجم کمال، ڈی ایس پی سی آئی اے جھنگ ناصر نواز بھی شامل ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی محکمے کے چوتھے رکن کی تقرری کا فیصلہ جے آئی ٹی کے سپرد ہے، نئے ارکان کی تقرری کا نوٹیفکیشن 14 جنوری کو جاری کیا گیا۔

    کراچی:پولنگ شروع ہونےسےچند گھنٹے پہلےایم کیوایم کےامیدوارکوگولیاں ماردی گئیں

    دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ پرانی جے آئی ٹی میں اختلافات سامنے آنے پر نئے ارکان کی تقرری کی گئی، پرانے ارکان نے جے آئی ٹی سربراہ کی تفتیش اور طریقہ کار پراعترضات کیے تھے، سابق ممبران نے غلام محمود ڈوگر پر سیاسی بنیادوں پر تفتیش کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

  • ہماری صف بندی مکمل ہو چکی بوسیدہ جاگیردارانہ نظام کو مسترد کرتے ہیں:ایم کیو ایم کا اعلان

    ہماری صف بندی مکمل ہو چکی بوسیدہ جاگیردارانہ نظام کو مسترد کرتے ہیں:ایم کیو ایم کا اعلان

    ایم کیوایم پاکستان کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ہماری صف بندی مکمل ہو چکی بوسیدہ جاگیردارانہ نظام کو مسترد کرتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ غلط مردم شماری پرسزائیں ملیں، سزائیں ملنے کے باوجود غلط مردم شماری درست نہیں کی گئی۔

    کراچی:پولنگ شروع ہونےسےچند گھنٹے پہلےایم کیوایم کےامیدوارکوگولیاں ماردی گئیں

    خالدمقبول کا کہنا تھا کہ غلط مردم شماری پر50 سال سے انتخابات میں دھاندلی ہورہی ہے، کراچی، حیدرآباد میں آبادی کی رفتارکو ملک میں سب سے کم دکھایا گیا۔کنوینیئر ایم کیو ایم نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص میں مردم شماری پرانصاف کاانتظارکیا، ہرمرتبہ یہ کہا گیا کہ آپ غلط وقت پر آئے ہیں، ہمارا کیس مضبوط تھا تو سپریم کورٹ ازخود نوٹس لیتی، ہم عدالتوں اور ایوانوں میں جاکر آواز بلند کرتے رہے۔

    چھوڑجانےکی بات مت کرنا​ دل دکھانےکی بات مت کرنا​:شہبازشریف،زرداری،مولاناایم کیوایم…

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم کی صف بندی مکمل ہوچکی ہے، بوسیدہ جاگیردارانہ نظام کو مسترد کرتے ہیں، ہماری آواز سے جاگیردارانہ نظام کو شدید خطرہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کے بعد سیاسی جوڑ توڑ میئر کا فیصلہ کرے گا، دھاندلی سے کراچی اور حیدرآباد کسی اور کا ثابت کرنے اور کسی اور کا شہر بنانے کی سازش کی گئی، لیکن ہم نے انتخابات سے دستبردار ہوکر سازش کو ناکام بنایا۔

    ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن کے بائیکاٹ پرغورشروع کردیا

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان بنانے والوں کی اولادیں ہیں، ہم نے پاکستان بنایا اب پاکستان بچا رہے ہیں، ہم پاکستان زندہ باد کے نعرے کے ساتھ کھڑے ہوئے، آج کوئی علاقے نہیں بٹے ہوئے، کوئی نو گو ایریا نہیں۔

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت جو کر رہی ہے، کیا اس کو روکنے والا کوئی نہیں، ملک میں صرف کراچی، حیدرآباد کےعلاوہ کہیں آبادی کم نہیں کی گئی، کھیل ختم نہیں ابھی شروع ہوا ہے، آپ سمجھ رہے ہیں آپ میئربنا لیں گے، ہمیں کچرا اٹھانے کا اختیار دینے کو بھی تیار نہیں، اور پھر آپ کہتے ہیں ہم محب وطن بھی رہیں۔

  • برطانیہ سے آنے والے ملزم نے بیوی اور سگی چچی کو قتل کردیا

    برطانیہ سے آنے والے ملزم نے بیوی اور سگی چچی کو قتل کردیا

    راولپنڈی:برطانیہ سے آنے والے شخص نے بیوی اور چچی کو قتل کرکے خودکشی کرلی۔راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان کے علاقے روجام میں ایک شخص نے دو خواتین کو قتل کردیا اور ملزم نے بھی وادات کے بعد خود کشی کرلی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا۔پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ روجام میں پیش آیا، جہاں برطانیہ پلٹ ملزم خاور محمود نے اپنی بیوی اور چچی کو قتل کیا، اور دونوں خواتین کی جان لینے کے بعد ملزم نے خود کشی کرلی۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلئے گئے ہیں جب کہ ملزم اور مقتولین کے رشتہ داروں سے بھی تفیش کی جائے گی۔

    اس سے پہلے گذشتہ سال اکتوبر میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے لاپتہ ہونے والی امریکی شہری وجیہہ سواتی کی لاش پولیس کو خیبر پختونخوا کے علاقے لکی مروت سے ملی تھی جہاں انھیں ایک مکان کے کمرے میں دفن کر اُس کے اوپر فرش پکا کر دیا گیا تھا۔

    پولیس کے مطابق ان کے سابقہ شوہر رضوان حبیب نے بعدازاں اس قتل کا اقرار کیا تھا۔اپنے اعترافی بیان میں ملزم نے قبول کیا کہ انھوں نے اپنی سابقہ بیوی کو چھریوں کے وار کر کے قتل کیا تھا۔پولیس تفتیش کے مطابق اُن کی لاش کو ایک گاڑی کے ذریعے قالین میں لپیٹ راولپنڈی سے لکی مروت منتقل کیا گیا۔

    پولیس نے ملزم کے انکشاف پر مقتولہ کی لاش لکی مروت کے علاقہ پیزو سے برآمد کی تھی۔ ایس ایچ او امیر خان نے بتایا تھا کہ ’وہ پہاڑ کے دامن میں پتھروں سے بنا ایک گھر تھا جو اس وقت خالی تھا۔ ملزم کی نشاندہی پر ہم ایک کمرے میں گئے جس کے فرش کے نیچے مقتولہ کو دفن کیا گیا تھا۔‘

  • برطانیہ کی طرح امریکہ بھی جاںہ جنگی کی طرف رواں دواں

    برطانیہ کی طرح امریکہ بھی جاںہ جنگی کی طرف رواں دواں

    کیلی فورنیا :ساری دنیا اس وقت بحرانوں ، آفاتوں اور مشکلات میں گھری ہوئی نظرآتی ہے ، کمزور ملک ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ملک کو جن کو کہا جاتا تھا اب وہ بھی مسائل کی دلدل میں پھنس چکے ہیں، برطانیہ جیسا مہذب ملک بھی اب غیرمہذب بن گیا ہے ، لڑائیاں جگھڑے ، چوریاں ، ڈکیتیاں عام ہیں ، برطانیہ کی طرح امریکہ بھی خانہ جنگی کی طرف جارہا ہے ، امریکی ریاست کیلیفورنیا ( California ) میں حملہ آور نے فائرنگ کرکے 10 افراد کو قتل کردیا۔امریکی ذرائع ابلاغ سے جاری خبروں کے مطابق واقعہ لاس اینجلس شہر میں پیش آیا۔جہاں مونٹیری پارک میں رات ساڑھے دس بجے لوگ چینی سال نو کے جشن پر جمع تھے۔ قمری سال کا جشن لاس اینجلس کے ایک ڈانس کلب میں جاری تھا۔

    پولیس اہلکار کو قتل کرنیوالے تین ملزمان کو عدالت نے سنائی سزا

    عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ ہوتے ہی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے اپنی جان بچانے کے لئے اطراف کی دکانوں میں پناہ لی۔

    حکام کے مطابق حملہ آورکی شناخت اور مرنے والوں کی تفصیل اب تک سامنے نہیں آئی۔ تاہم کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق مرنے والوں میں اکثریت ایشیائی باشندوں کی ہے۔ حملے میں ہلاک افراد کی لاشوں کو ضروری کارروائی، جب کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔حملے کے وقت علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں افراد چینی قمری سال کے جشن کی تقریب میں موجود تھے۔

    پاکستانی پاسپورٹ پر متحدہ عرب امارات جانیوالا ایرانی شہری گرفتار

    یاد رہےکہ امریکہ ہی نہیں بلکہ اب تو برطانیہ جیسا ملک اب اس قدر مشکلات اورمسائل میں گھرا ہوا ہے کہ اب تو ہمیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ بھائی کا بنے گا ان انگریزوں کا ، یہ کہنا تھا کہ سنیئرصحافی مبشرلقمان کا جو کہ ان دنوں لندن میں موجود ہیں اورجس طرح پاکستان میں سیاستدان ان سے ملاقاتیں کرکے اپنے دکھ درد سناتے ہیں ایسے ہی برطانوی سیاستدان بھی ان سے ملکر برطانیہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پراپنے دکھ درد کی کہانی سناتے ہیں

    4 بچوں کا باپ گھر سے آفس جاتے ہوئے پراسرار طور پرلاپتا

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت لندن کے ایک مشہور مقام پر موجود ہیں جہاں سخت سردی ہے اورجہاں وہ برطانوی سردی سے نبرد آزما ہیں وہاں وہ برطانیہ کی تازہ ترین مگربگڑتی ہوئی صورت حال سے بھی آگاہ ہیں اور پریشان بھی ہیں، مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ مہنگائی عروج پر ہے ، بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ، لوگوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں مل رہا ، برطانیہ جیسے ملک میں لوگ زندہ رہنے کیے لیے کھانے پینے کی اشیا حاصل کرنے کے لیے دن کی روشنی میں چیزیں‌چھین کرلے جارہےہیں ، برطانوی تواس قدر بے بس ہوگئے ہیں کہ اگران کے قریب سے کوئی سبری فروش گزررہا ہےتووہ سبزی فروش سے سبزی چھین لیتےہیں تاکہ وہ کچھ نہ کچھ اپنے اوراپنے بال بچوں کےلیےکھانے کا بندوبست کرلیں ، انکا کہنا تھا کہ ایک پارک میں انکی گاڑی کے شیشے توڑکراس میں سے چیزیں چرانے کی کوشش کی گئی

  • مبشرلقمان کو لندن میں چورپڑگئے،لندن پاکستان سے زیادہ خطرناک ہوگیا

    مبشرلقمان کو لندن میں چورپڑگئے،لندن پاکستان سے زیادہ خطرناک ہوگیا

    لندن:میں بڑا حیران ہوں کہ برطانیہ جیسا ملک اب اس قدر مشکلات اورمسائل میں گھرا ہوا ہے کہ اب تو ہمیں یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ بھائی کا بنے گا ان انگریزوں کا ، یہ کہنا تھا کہ سنیئرصحافی مبشرلقمان کا جو کہ ان دنوں لندن میں موجود ہیں اورجس طرح پاکستان میں سیاستدان ان سے ملاقاتیں کرکے اپنے دکھ درد سناتے ہیں ایسے ہی برطانوی سیاستدان بھی ان سے ملکر برطانیہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال پراپنے دکھ درد کی کہانی سناتے ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت لندن کے ایک مشہور مقام پر موجود ہیں جہاں سخت سردی ہے اورجہاں وہ برطانوی سردی سے نبرد آزما ہیں وہاں وہ برطانیہ کی تازہ ترین مگربگڑتی ہوئی صورت حال سے بھی آگاہ ہیں اور پریشان بھی ہیں، مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ مہنگائی عروج پر ہے ، بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ، لوگوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں مل رہا ، برطانیہ جیسے ملک میں لوگ زندہ رہنے کیے لیے کھانے پینے کی اشیا حاصل کرنے کے لیے دن کی روشنی میں چیزیں‌چھین کرلے جارہےہیں ، برطانوی تواس قدر بے بس ہوگئے ہیں کہ اگران کے قریب سے کوئی سبری فروش گزررہا ہےتووہ سبزی فروش سے سبزی چھین لیتےہیں تاکہ وہ کچھ نہ کچھ اپنے اوراپنے بال بچوں کےلیےکھانے کا بندوبست کرلیں ، انکا کہنا تھا کہ ایک پارک میں انکی گاڑی کے شیشے توڑکراس میں سے چیزیں چرانے کی کوشش کی گئی

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ جرائم کی شرح اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب تو پاکستان ہمیں برطانیہ سے محفوظ اور بہتر لگتا ہے ، برطانوی پولیس جرائم پر قابوپانے سے قاصر ہے اوراب تو لوگ ایک دوسرے پر ڈاکے ڈال رہے ہیں ، چوریاں‌اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ برطانوی پولیس بے بس ہوگئی ہے اب تو پنجاب پولیس برطانوی پولیس سے بہتر نظرآتی ہے

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی کئی برطانوی سیاستدانوں سے ملاقاتیں ہوئی ہیں اورجب ان سےپوچھا جاتا ہے کہ کیا بنے گا آپ کا اورآپ کے ملک کا تو ان کا جواب ہوتا ہےکہ ہاں ٹھیک ہوجائے گا ، بس جب تک یوکرین کی جنگ کا معاملہ ہے اس وقت تک دباو ہے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میں نے اہم برطابوی وزیرسے پوچھا کہ آپ کویقین ہے کہ یوکرین کی جنگ ختم ہوجائے گی تواس کا جواب کچھ اثبات میں تھا مگرامید دم توڑ رہی تھیں،مبشرلقمان نے برطانوی وزیراعظم سونک کے حوالے سے بتایا کہ اس کو صرف اس لیے وزارت عظمیٰ پربٹھایا گیا ہےکہ اس نے سیٹ بیلٹ باندھا ہوا تھا ، یہ کوئی بڑی خوبی نہیں مگرایسے لگ رہا ہے کہ انکی بھی چھٹی ہونے والی ہے اور پتہ نہیں ابھی کتنے وزیراعظم آئیں گے اور جائیں گے ،

    ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا یہ حال ہے کہ دولاکھ سترہزارسے زائد لوگ مسنگ پرسنز ہیں ، ہمارے ملک پاکستان میں صرف 30 ہزار مسنگ پرسنز ہیں جن کے مسئلے کو سرپراٹھایا ہوا ہے پتہ نہیں ان میں سے فیک کتنے ہیں لیکن برطانیہ میں تین لاکھ کے قریب مسنگ پرسنز ہیں مگران کوکوئی پرواہ تک نہیں ، ڈیڑھ سے دولاکھ کے قریب 24 سال سے 35 سال کے درمیان کے برطانوی لڑکے اور لڑکیاں گھروں سے باہررہنے پرمجبورہیں ،اورنشہ کے عادی ہوچکے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ نشے کے عادی اس وقت ہوتے ہیں جب ان کو کھانے پینے اور رہنے سہنے کے لیے کچھ میسر نہیں گھربار نہیں تو وہ سڑکوں پر آکردکھی زندگی گزارتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک کا نظام اتنا درہم برہم ہےکہ جو پھنس گیا سوپھنس گیا،مگرہمارے ہاں تو دن اور رات کے کس وقت بھی اگرکوئی جانا چاہے تو آسانی سے سفر کرسکتا ہے ، مگربرطانیہ وہ برطانیہ اب نہیں رہا کہ لوگ اب برطانیہ کی طرف ہجرت کرکے اپنی زندگیاں آسان کرسکیں

    ان کا کہنا تھا کہ حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ کوئی اندازہ نہیں کہ کب ٹھیک ہوں گے ، ان کا کہنا تھا کہ جس طرح برطانیہ میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے، وارداتیں ہورہی ہیں اگرپاکستان ہوتا توپتہ نہیں کتنا شور ہوچکا ہوتا، ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اب عربوں کے ہاتھ میں جاتا ہوا نظرآرہا ہے ، قطری اوراماراتی برطانوی کلبز، جائیدادیں خرید رہے ہیں ،ان کاکہنا تھا کہ ان کا موبائل خراب ہوا تووہ ایک مارکیٹ میں موبائل لینے کے لیے پہنچے توپتہ چلا کہ آئی فون جیسے مہنگے فون وہ نہیں رکھ رہے چوری کی وارداتیں ہوتی ہیں اور دوکاندار لٹ جاتے ہیں پھراحساس ہوا کہ پاکستان واقعی جنت ہے

  • ڈیفنس کے اسکول میں طالبہ پر تشدد کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی

    ڈیفنس کے اسکول میں طالبہ پر تشدد کی ایک اور ویڈیو سامنے آگئی

    لاہور کے علاقے ڈیفنس میں اسکول طالبات نے مبینہ طور پر نشے سے روکنے پر طالبہ پر تشدد کیا ہے۔نجی اسکول میں طالبہ پر تشدد کی ویڈیو بھی سامنے آگئی، ویڈیو میں 3لڑکیوں کو تشدد کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر طالبہ پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ طالبات ایک نہتی طالبہ کو مل کر تشدد کا نشانہ بنارہی ہیں۔

    ویڈیو میں لڑکیاں طالبہ کو معافی مانگنےکا کہتے سنائی دے رہی ہیں، ویڈیومیں متاثرہ طالبہ لڑکیوں سے بار بار بال چھوڑنےکی اپیل کرتی ہے لیکن لڑکیاں متاثرہ طالبہ کو بالوں سے پکڑ کر نیچے گرا دیتی ہیں اور پھر اس پر تشدد شروع کردیتی ہیں۔

    متاثرہ لڑکی نے ساتھی طالبات کے خلاف مقدمہ درج کرایا، تاہم پولیس حکام کے مطابق مقدمے میں نامزد طالبات کے گھروں کو تالے لگے ہوئے تھے اور ان کے والدین لڑکیوں کو لے کرفرار ہوگئے۔

    پولیس حکام کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کرایا گیا جس میں اس پر تشدد کی تصدیق ہوگئی ہے، اور اسکول انتظامیہ سے معاملے کی تفصیل اور پوچھ گچھ کی گئی،واقعہ الیکٹرک سگریٹ پینے کے تنازع پر پیش آیا۔

     

    دوسری جانب مقدمہ میں ملوث طالبات عمائمہ قیصر، جنت ملک اور کائنات ملک نے گرفتاری کے خوف سے سیشن عدالت لاہور میں عبوری ضمانت دائر کردی، اور مؤقف پیش کیا کہ پولیس نے ہمارے خلاف بدنیتی کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا۔

    نامزد طالبات نے مؤقف اختیار کیا کہ ہم مقدمے میں شامل تفتیش ہوکر پولیس کو حقائق سے آگاہ کرنا چاہتی ہیں، ہمارا اس مقدمہ میں کوئی قصور نہیں ہے، عدالت عبوری ضمانت منظور کرنے کا حکم دے۔

    عدالت نے اسکول میں طالبہ پر تشدد میں ملوث تینوں طالبات کی عبوری ضمانت منظور کرلی، اور پولیس کو 30 جنوری تک طالبات کو گرفتار کرنے سے روک دیا۔ اور آئندہ سماعت پر پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔پولیس نے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردیں۔متاثرہ طالبہ کے والدین کا الزام ہے لڑکیاں بیٹی کو نشے کی عادت ڈالنا چاہتی تھیں جس کی شکایت ان کے والدین کو کی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے تاہم ابتدائی تفتیش میں منشیات کے استعمال کے شواہد نہیں ملے، مزید حقائق تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔

  • کراچی:یونیورسٹی روڈ پر پولیس مقابلے کےبعد چھلاوا ڈکیت گروہ گرفتار

    کراچی:یونیورسٹی روڈ پر پولیس مقابلے کےبعد چھلاوا ڈکیت گروہ گرفتار

    کراچی: شہر قائد کے تھانے عزیز بھٹی پولیس نے یونیورسٹی روڈ کے قریب مقابلے کے دوران اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں ملوث 5 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا جبکہ ایک ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔

     

    ایس ایچ او عزیز بھٹی عدیل افضال نے بتایا کہ پکڑے جانے والے ڈاکوؤں کا 6 رکنی گروہ ہے جو کہ 2 موٹر سائیکلوں پر نکل کر اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کرتا اور وہ پولیس کے لیے چھلاوا بنا ہوا تھا جبکہ ان کی وارداتوں کی فوٹیجز بھی پولیس کے پاس موجود تھیں۔

    انہوں نے بتایا کہ چھلاوا ڈکیت گروپ کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے یونیورسٹی روڈ پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کی ہوئی تھی اور جیسے پولیس ملزمان نے پولیس پارٹی کو دیکھا انھوں نے فائرنگ کر کے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔پولیس نے تعاقب اور جوابی فائرنگ کے تبادلے 5 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا جن کی شناخت عابد ، انور ، اسلم ، زبیر اور انور کے نام سے کی گئی جبکہ ان کا چھٹا ساتھی عدیل موقع سے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔

    ایس ایچ او کے مطابق گرفتار ڈاکوؤں کے قبضے سے 5 ٹی ٹی پستول ، گولیاں ، چھینے ہوئے موبائل فونز اور 3 موٹر سائیکلیں برآمد ہوئی ہیں جو کہ سرسید ، بلوچ کالونی اور سعود آباد سے چوری و چھینی گئیں تھیں۔ عدیل افضال نے بتایا کہ گرفتار ڈاکو اسٹریٹ کراٸم سمیت دیگر جرائم کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ہیں جبکہ مقابلے کے دوران ڈاکوؤں کی چلائی گئی گولیاں پولیس موبائل کو بھی لگی ہیں ، ڈاکوؤں کے گروہ سے برآمد کیے جانے والے موبائل فونز فیروز آباد ، گلشن اقبال ، عزیز بھٹی اور پی آٸی بی کالونی سے چھینے گئے تھے جبکہ ڈاکوؤں کا گروہ ڈسٹرکٹس ایسٹ کورنگی اور سینٹرل میں 100 سے زائد اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں کرچکا ہے۔

    پولیس نے زخمی ڈاکوؤں کو فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا جبکہ 2 ڈاکوؤں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ، پولیس ڈاکوؤں کا کرمنل ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے۔

  • 4 بچوں کا باپ گھر سے آفس جاتے ہوئے پراسرار طور پرلاپتا

    4 بچوں کا باپ گھر سے آفس جاتے ہوئے پراسرار طور پرلاپتا

    کراچی: سرجانی ٹاؤن کا رہائشی 4 بچوں کا باپ گھر سے آفس جاتے ہوئے پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق لاپتا عبدالواجد علی قادری کا 5 روز گزرنے کے باوجود کوئی سراغ نہ مل سکا، گمشدگی سے متعلق سرجانی ٹاؤن تھانے میں ایس ایچ او کے نام درخواست جمع کرا دی گئی۔

    اس حوالے سے لاپتا عبد الواجد کے بھائی نوید احمد نے بتایا کہ ان کا بھائی سرجانی ٹاؤن کے علاقے سیکٹر فور بی کا رہائشی ہے جو کہ رواں ماہ 17 جنوری بروز منگل صبح 10 بجے اپنے ڈیفنس میں قائم دفتر جانے کے لیے موٹر سائیکل نکلا تھا مگر وہ آفس نہیں پہنچا اور راستے سے ہی لاپتا ہوگیا
    انہوں نے بتایا کہ میرے بھائی کا کسی بھی سیاسی اور نہ ہی مذہبی جماعت سے وابستگی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے ان کا بھائی 4 بچوں کا باپ ہے جو کہ گھر سے دفتر اور وہاں سے سیدھا گھر آتا تھا اس کا زیادہ حلقہ احباب بھی نہیں ہے جبکہ وہ گرافک ڈیزائنر ہے۔

    نوید احمد نے بتایا کہ بھائی کی گمشدگی کی وجہ سے ان کے بیوی بچو سمیت تمام اہلخانہ شدید پریشان ہیں، درخواست گزار نے پولیس حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر میرے بھائی کا سراغ لگائیں جسے لاپتہ ہوئے 5 روز گزر چکے ہیں اور اس کا کوئی پتہ نہیں چل رہا۔

  • عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے:غالب عرفان کی شاعری

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم تھے

    غالب عرفان

    21؍جنوری 2021 یوم وفات

    نام #محمدغالبشریف اور تخلص #عرفانؔ تھا۔
    05؍مارچ 1938ء کو حیدرآباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔تعلیم و تربیت صوبہ بہار کے شہر جمشیدپور میں ہوئی۔ وہیں سے بے اے پاس کیا۔ اردو ان کی مادری زبان ہے۔ انگریزی پر بھی ان کی گرفت مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ ہندی بھی جانتے تھے۔ 1946ء میں ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے وہ جمشیدپور سے سابقہ مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) کے شہر چاٹگام ہجرت کر گئے۔ بنگال میں قیام کے دوران انھوں نے بنگالی بھی سیکھی۔ ابھی ان کے قدم چاٹگام میں اچھی طرح جمنے بھی نہ پائے تھے کہ مشرقی پاکستان آگ اور خون کی لپیٹ میں آگیا۔ چنانچہ جنوری 1974ء میں اپنے بچوں سمیت کراچی چلے گئے۔ ان کا کلام ہندوستان اور پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے ادبی اور نیم ادبی جریدوں کے علاوہ اخبارات میں بھی شائع ہوتا رہا ہے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ”آگہی سزا ہوئی“، ”روشنی جلتی ہوئی،“ ”م” (نعتیہ کلام)
    غالب عرفانؔ 21؍جنوری 2021ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:329

    عکس کی کہانی کا اقتباس ہم ہی تھے
    آئینے کے باہر بھی آس پاس ہم ہی تھے

    جب شعور انسانی رابطے کا پیاسا تھا
    حرف و صوت علم و فن کی اساس ہم ہی تھے

    فاصلوں نے لمحوں کو منتشر کیا تو پھر
    اعتبار ہستی کی ایک آس ہم ہی تھے

    مقتدر محبت کی شکوہ سنج محفل میں
    خامشی کو اپنائے پر سپاس ہم ہی تھے

    خواب کو حقیقت کا روپ کوئی کیا دیتا
    منعکس تصور کا انعکاس ہم ہی تھے

    🛑🚥💠➖➖🎊➖➖💠🚥🛑

    الفاظ بے صدا کا امکان آئنے میں
    دیکھا ہے میں نے اکثر بے جان آئنے میں

    کمرے میں رقص کرتی چلتی ہیں جب ہوائیں
    کچھ عکس بولتے ہیں ہر آن آئنے میں

    ہوگا کسی کا چہرہ پہچان کی لگن میں
    ہوں گی کسی کی آنکھیں حیران آئنے میں

    تہذیب کا تسلط ہے آئنے سے باہر
    تاریخ کے سفر کا وجدان آئنے میں

    رنگوں کی بارشوں سے دھندلا گیا ہے منظر
    آیا ہوا ہے کوئی طوفان آئنے میں

    زندہ حقیقتوں کی ہوتی ہے پردہ پوشی
    پلتی ہے جب رعونت نادان آئنے میں

    ہو روشنی کہ ظلمت صحرا ہو یا سمندر
    ہوتا ہے زندگی کا عرفانؔ آئنے میں