Baaghi TV

Author: News Editor

  • پاکستانی ایکسپورٹرز نے50 کروڑ ڈالر کے آرڈر حاصل کرلیے

    پاکستانی ایکسپورٹرز نے50 کروڑ ڈالر کے آرڈر حاصل کرلیے

    فرینکفرٹ: عالمی کساد بازاری، افراط زر کے دباؤ، امریکا اور چین میں جاری معاشی تناؤ اور کرونا کی وباء کے خدشات کے باعث چین کی محدود شرکت نے فرینکفرٹ میں جاری ہیم ٹیکسٹل نمائش میں پاکستان کے لیے نئے امکانات روشن کردیے۔پاکستانی ایکسپورٹ فرمز کو 500ملین ڈالر تک کے آرڈرز اور نئی لیڈز حاصل ہوئیں، مغربی یورپی کی روایتی منڈی کے ساتھ مشرقی یورپ کے خریداروں نے بھی پاکستانی مصنوعات میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جبکہ امریکا اور کینیڈا کے خریداروں نے چین کے متبادل کے طور پر پاکستان سے سورسنگ کی جانب قدم بڑھائے۔

    دالیں اور پیازسمیت بندرگاہ بند جبکہ تیل کی بھی قلت ہونے والی ہے. شوکت ترین

    فرینکفرٹ میں جاری چار روزہ ہیم ٹیکسٹل نمائش جمعہ کو اختتام پزیر ہوگئی، پاکستان میں سخت معاشی حالات اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش بحرانی کیفیت کے باوجود پاکستانی فرمز نے ریکارڈ تعداد میں پرجوش طریقے سے ہیم ٹیکسٹائل میں حصہ لیا۔نمائش میں شریک بڑی کمپنیوں کے ساتھ چھوٹی اور درمیانہ درجہ کی فرمز کے نمائندے بھی نمائش میں ملنے والے رسپانس سے مطمئن نظر آئے۔

    ایف بی آر کا ڈیٹا لیک کیس، گرفتار صحافی جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    نمائش میں شریک ایکسپورٹرز کے ابتدائی اندازوں کے مطابق ہیم ٹیکسٹائل سے پاکستان کو 500 ملین ڈالرز کے نئے آرڈرز اورلیڈز ملی ہیں جن کی تکمیل کے لیے ڈیزائن، سیمپلنگ اور پرائسنگ کے مراحل حالات موافق رہنے کی صورت میں چند ماہ کے دوران مکمل کیے جائیں گے۔نمائش میں شرکت کرنے والی ایکسپورٹ فرمز کے نمائندوں نے نمائش کے نتائج اور اس سے پاکستان کے لیے پیدا ہونے والے معاشی امکانات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

  • لاپتہ افراد کیس؛ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ درج کرنےکاحکم دیں گے:سندھ ہائیکورٹ

    لاپتہ افراد کیس؛ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ درج کرنےکاحکم دیں گے:سندھ ہائیکورٹ

    کراچی:لاپتہ افراد کیس؛ ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیں گے،اس سلسلے میں آج سماعت کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق پولیس اقدامات پر عدم اطمینان کرتے ہوئے جے آئی ٹیز اجلاس کی روشنی میں لاپتا شہریوں کا سراغ لگانے کی ہدایت کردی۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے لاپتہ افراد سے متعلق پارلیمانی کمیشن قائم کردیا

    جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق پولیس اقدامات پر عدالت نے عدم اطمینان کیا۔

    لاپتہ افراد کیس، تحقیقات مکمل کی جائیں، عدالت

    جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کچھ شہری اگر ازخود لاپتا ہوگئے تو بھی تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ 18، 18 جے آئی ٹیز اجلاس کے باوجود نتیجہ صفر ہوتا ہے۔ واضح کررہے تحقیقات میں پیش رفت نہ ہوئی تو علاقہ ایس ایچ او اور ایس ایس پی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیں گے۔ حراستی مراکز اور ٹریول ہسٹری چیک کی جائے۔

    جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو 5،5 لاکھ روپے معاوضہ،رپورٹ عدالت پیش

    عدالت نے شہری ولی خان، حبیب خان، نور اور دیگر کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے پولیس کو جے آئی ٹیز اجلاس کی روشنی میں لاپتا شہریوں کا سراغ لگانے کا حکم دیا۔

  • برطانوی شہزادہ ہیری کی16زبانوں میں شائع کتاب ’اسپیئر”کی 14لاکھ سےزائد کاپیاں فروخت بھی ہوگئیں

    برطانوی شہزادہ ہیری کی16زبانوں میں شائع کتاب ’اسپیئر”کی 14لاکھ سےزائد کاپیاں فروخت بھی ہوگئیں

    لاہور:برطانوی شہزادہ ہیری کی کتاب ’اسپیئر‘ مارکیٹ میں آنے کے پہلے ہی دن 14 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہونے کے بعد عالمی ریکارڈ قائم بنالیا۔گنیز ورلڈ ریکارڈ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ، امریکا اور کینیڈا میں شہزادہ ہیری کی متنازع سوانح حیات ’اسپیئر‘ کی فروخت کے پہلے دن ہی 14 لاکھ 30 ہزار سے زائد کاپیاں فروخت ہونے کا عالمی ریکارڈ بنا لیا۔

    اس سے قبل سب سے زیادہ کتابیں فروخت کرنے کا یہ ریکارڈ امریکا کے سابق صدر باراک اوباما کے پاس تھا، جن کی کتاب ’پرومس لینڈ 2020‘ کی 8 لاکھ 87 ہزار کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔16 زبانوں میں شائع ہونے والی یہ کتاب 10 جنوری کو مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کی گئی تھی۔

    متنازع سوانح حیات کی نقول کا ہسپانوی ترجمہ غلطی سے اسپین کے بازار میں آگیا تھا، جس کے بعد متعدد انکشافات سامنے آئے تھے، حالانکہ بعد میں اسپین میں اس کی کاپیاں دکانوں سے فوراً ہٹالی گئیں لیکن اس وقت تک یہ کتاب میڈیا کے ہاتھ لگ چکی تھی۔اسی وجہ ہے کہ شہزاہ ہیری کی کتاب خریدنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد نے دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

    کنگ چارلس نےایک دفعہ مذاقاً کہاکہ شاید وہ میرے حقیقی والد نہیں: شہزادہ ہیری

    کتاب کے پبلشر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’اسپیئر‘ کی فروخت کے پہلے روز پینگوئن رینڈم ہاؤس کی طرف سے شائع ہونے والی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی غیر افسانوی (نان فکشن) کتاب بن گئی ہے۔

     

    شہزادہ ہیری نے اپنی کتاب میں شاہی خاندان کے خلاف کچھ سنگین الزامات عائد کیے ہیں جو منگل کو باضابطہ طور پر جاری کی گئی تھی لیکن کچھ دن پہلے آن لائن لیک ہوگئی تھی۔یہ کتاب ہیری اور میگھن کی اپنی Netflix دستاویزی فلم میں خاموشی توڑنے کے چند دن بعد آئی ہے۔

    واضح رہے کہ شہزادہ ہیری نے اپنی متنازع سوانح حیات ’اسپیئر‘ میں اپنے بڑے بھائی شہزاہ ولیم پر جسمانی حملے کا الزام عائد کیا تھا انہوں نے کتاب میں انکشاف کیا کہ ان کے بھائی نے انہیں گریبان سے پکڑ کر فرش پر گرا دیا تھا جس سے ان کی کمر پر چوٹ آئی، لڑائی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب شہزادہ ولیم نے شہزادہ ہیری کی اہلیہ میگھن مارکل کو ’پیچیدہ‘ اور ’بدتمیز‘ کہا تھا۔

    شہزادہ ہیری نے25طالبان کوہلاک کرنےکااعتراف کرکےاپنی ساکھ کوداغدارکردیا،سابق برٹش…

    410 صفحات کی کتاب میں شہزادہ ہیری نے افغانستان میں ڈیوٹی کے دوران 25 لوگوں کو ہلاک کرنے کا بھی انکشاف تھا۔

  • سابق ایرانی نائب وزیردفاع کوبرطانیہ کیلیےجاسوسی کرنےپرپھانسی دےدی گئی

    سابق ایرانی نائب وزیردفاع کوبرطانیہ کیلیےجاسوسی کرنےپرپھانسی دےدی گئی

    تہران: ایران میں سابق نائب و زیر دفاع علی رضا اکبری کو برطانیہ کے لیے جاسوسی کرنے اور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل میں معاونت کے الزام میں پھانسی دےدی گئی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نائب وزیر دفاع علی رضا اکبری کو 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ برطانوی شہریت رکھتے تھے اور ان پر برطانیہ کے لیے ایران کی جاسوسی کا الزام تھا۔علی اکبر رضا اکبری پر 27 نومبر 2020 کو ایک حملے میں قتل ہونے والے بابائے ایٹم بم اور پاسداران انقلاب کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے 59 سالہ محسن فخری زادہ کی مخبری کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔

    لاہور:سرکاری افسر کے قتل کا معمہ حل،برادر نسبتی قاتل نکلا

    برطانیہ نے جاسوسی کے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے علی رضا اکبری کی گرفتاری کو سیاسی قرار دیتے ہوئے رہائی کا مطالبہ کیا تھا تاہم سابق نائب وزیر دفاع کو بدھ کے روز پھانسی کی سزا سنادی گئی۔بدھ کے روز علی رضا اکبری کے اہل خانہ کو الوداعی ملاقات کے لیے جیل لایا گیا تھا۔ ایران نے سابق نائب وزیر دفاع کو پھانسی دینے کی تصدیق کی ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ انھیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔برطانیہ سمیت عالمی رہنماؤں نے ایران کے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اقدام قرار دیا۔

    عالمی اقتصادی ادارے ورلڈ اکنامک فورم کی 2025 تک پاکستان کو درپیش 10 بڑے خطرات کی…

    خیال رہے کہ علی رضا اکبری نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں بتایا تھا کہ وہ کافی عرصے سے بیرون ملک مقیم تھے جہاں انھیں ایران کے ایک اہم سفارتکار نے فون کرکے اہم معاملے پر صلح مشورے کے لیے ایران بلایا۔علی اکبری نے مزید بتایا تھا کہ ملاقات میں مجھ پر ایک پرفیوم اور ایک شرٹ کے عوض اہم جوہری معلومات برطانویہ اہلکار کو فراہم کرنے کا مضحکہ خیز الزام لگایا گیا اور ایرانی ایجنسی کے اہلکاروں نے 3 ہزار 400 گھنٹے مجھ سے تفتیش کی تھی۔

    بھارتی بیس بال ٹیم نےپاکستان آمد کی دعوت قبول کرلی

    سابق نائب وزیر دفاع نے ایرنانی ایجنسیوں پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اہلکاروں نے مجھے شدید جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ میں پاگل ہوگیا اور مجھ سے زبردستی اعترافی بیانات پر دستخط کرالیے گئے۔

  • کراچی میں بلدیاتی انتخابات کیلئے52ہزارسےزائد پولیس اہلکارفرائض انجام دیں گے

    کراچی میں بلدیاتی انتخابات کیلئے52ہزارسےزائد پولیس اہلکارفرائض انجام دیں گے

    کراچی:بلدیاتی انتخابات کیلئے پالیس کی جانب سےسیکیورٹی پلان مرتب کرلیا گیا ہے جس کےتحت 52 ہزارسےزائد پولیس اہلکار فرائض انجام دیں گے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میںبلدیاتی انتخابات کے لیے پولیس کا سیکیورٹی پلان تیار کرلیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کیلئے الیکشن کشمنر کو خط لکھ دیا

    اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں 52 ہزار 591 اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے جس میں 35 ہزار 3 سو 60 اہلکارکراچی کی نفری ہے اور 17ہزار 2سو 31 اہلکار سندھ کے دیگر اضلاع سےکراچی لائے گئے ہیں۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ اندرون سندھ سے ساوتھ زون میں 27 سو اہلکار لائے گئے ہیں جبکہ سندھ سے ایسٹ زون میں 6 ہزار 8 سو33 اہلکار لائے گئے ہیں اور ویسٹ زون میں 7 ہزار 6سو 98 اضافی نفری منگوائی گئی ہے۔حکام کے مطابق سندھ بھر کے ٹریننگ سینٹرز ،سی ٹی ڈی یونٹ ،ایس ایس یو یونٹ اور ضلعی نفری بلوائی گئی ہے۔

    تم آرڈیننس لاؤ گے ہم اس کا بھی عدالتوں میں مقابلہ کریں گے، حافظ نعیم الرحمان

    پولیس حکام نے بتایا ہے کہ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشن میں 6 سے 8 اہلکار تعینات ہونگے تاہم نگامی صورحال سے نمٹنے کے لئے ریزرو فورس کو فوری استعمال کیا جائے گا۔

    موجودہ حالات میں حکومت کا ساتھ جاری رکھیں،گورنر سندھ کی خالد مقبول صدیقی سے…

    دوسری جانب وزارت داخلہ نے 500 پولنگ سٹیشنز پر رینجرز کی اسٹیٹک ڈیوٹی کی یقین دہانی کرادی ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے 500 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے 500 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز کی فہرست وزارت داخلہ کو بھجوا دی گئی جس میں 5 ہزار رینجرز اہلکاروں کی اسٹیٹک ڈیوٹی کی درخواست کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی کی جائے گی تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے آج شام سے رینجرز اہلکاروں کو تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

  • پاکستان نیوزی لینڈ:ٹیسٹ سیریز برابر:ون ڈے میں شکست؛ کھلاڑی گھروں کو لوٹ گئے

    پاکستان نیوزی لینڈ:ٹیسٹ سیریز برابر:ون ڈے میں شکست؛ کھلاڑی گھروں کو لوٹ گئے

    کراچی: نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے اختتام کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔اطلاعات کے مطابق دورہ پاکستان کے پہلے مرحلے میں 2 میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگئی تھی جبکہ ون ڈے سیریز میں نیوزی لینڈ نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی۔

    خواتین کا بین الاقوامی فٹبال ٹورنامنٹ جاری

    پاکستان کرکٹ ٹیم نے مسلسل تین سیریز جیتنے کے بعد ناکامی کا ذائقہ چکھنا پڑا۔ اس سے قبل پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز 1-2 سے جیتی تھی جبکہ نیدر لینڈ کو 0-3 سے زیر کرنے کے بعد ویسٹ انڈیز کو بھی 0-3 سے قابو کیا تھا۔

    دوسری جانب جمعہ کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 110 واں میچ کھیلا گیا، مہمان ٹیم نے اپنی فتوحات کی 50 مکمل کی جبکہ پاکستان 56 ون ڈے انٹرنیشنل میچز اپنے نام کرچکا ہے، دونوں ممالک کے درمیان ایک میچ ٹائی ہوا جبکہ 3 میچز کا نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔

    پی سی بی نےسابق ٹیسٹ کرکٹرز کی پینشن میں اضافہ کردیا

    یاد رہےکہ کل نیوزی لینڈ نے پاکستان کو تیسرے ایک روزہ میچ میں 2 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی۔نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلے گئے ایک روزہ سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں نیوزی لینڈ نے 281 رنز کا ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر 49 ویں اوور میں پورا کیا۔

    نیوزی لینڈ کی جانب سے گلین فلپس 4 چھکوں اور 4 چوکوں کی مدد سے 42 گیندوں پر 63 رنز بنا کر نمایاں رہے۔کپتان کین ولیمسن 53 اور ڈیوون کانوے 52 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ڈیرل مچل 31 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔

    بابر اعظم جو فیصلہ کرینگےمن وعن قبول ہوگا: نجم سیٹھی

    پاکستان کی جانب سے سلمان آغا اور محمد وسیم نے 2،2 جبکہ محمد نواز اور اسامہ میر نے 1،1 وکٹ حاصل کی۔اس سے قبل ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 280 رنز بنائے.

    ابتداء میں پاکستان کے بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ اوپنر شان مسعود صفر جبکہ کپتان بابراعظم 4 رنزبناکر پویلین لوٹ گئے، 21 کے مجموعی اسکور پر دو وکٹیں گرنے کے بعد فخز زمان اور محمد رضوان نے 153 رنز کی پارنٹرشپ قائم کی تاہم رضوان 77 رنز بناکر وکٹ گنوا بیٹھے، فخرزمان 101 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے جبکہ حارث سہیل بھی 22 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے۔

    آغا سلمان نے 45 رنز کی اہم اننگ کھیلی تاہم وہ نصف سینچری مکمل نہ کرسکے اور گیند کو باؤنڈری سے باہر پھینکنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہوگئے۔نیوزی لینڈ کی جانب سے ساوتھی نے 3، لوکی فرگوسن نے 2 جب کہ مچل بریسویل اور ایش سودھی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ فخر زمان اور حارث سہیل رن آؤٹ ہوئے۔

  • معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا

    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا

    کراچی :انڈس موٹرز کمپنی (آئی ایم سی) نے معاشی غیریقینی، خام مال پر مہنگائی کے اثرات اور پیداواری لاگت میں اضافے کے پیش نظر ٹویوٹا گاڑیوں کی قیمتوں میں 2 لاکھ 80 ہزار سے 12 لاکھ روپے تک اضافہ کردیا۔انڈس موٹرز کی طرف سے قیمتوں میں اضافے کا سبب زرمبادلہ میں عدم استحکام، یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ اور دیگر اخراجات بتایا گیا ہے۔

    کمپنی کی طرف سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ حالات نے کمپنی کو موجودہ قیمتیں برقرار رکھنے میں مشکلات پیدا کردی ہیں اس لیے کمپنی مارکیٹ پر کچھ اثرات مرتب کرنے پر مجبور ہے۔کمپنی کے نوٹی فکیشن کے مطابق یارس 1.3 ایم ٹی کی قیمت میں 2 لاکھ 80 ہزار روپے اضافہ کرکے 38 لاکھ 19 ہزار کی گئی ہے جبکہ 1.5 سی وی ٹی کی قیمت 3 لاکھ 50 ہزار اضافہ کرکے 46 لاکھ 9 ہزار روپے کردی گئی ہے۔

    کپمنی کی طرف سے نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن
    کمپنی کے مطابق یارس 1.3 سی وی ٹی کی نئی قیمت 40 لاکھ 69 ہزار، 1.3 ایچ ایم ٹی کی 40 لاکھ 39 ہزار، 1.3 ایچ سی وی ٹی کی 42 لاکھ 39 ہزار اور 1.5 ایم ٹی کی نئی قیمت 43 لاکھ 99 ہزار روپے کردی گئی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق کرولا 1.6 ایم ٹی کی نئی قیمت 3 لاکھ 70 ہزار اضافے کے ساتھ 49 لاکھ 39 ہزار، 1.8 سی وی ٹی 4 لاکھ 60 ہزار اضافے کے ساتھ 62 لاکھ 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

    اسی طرح کورولا کے ماڈل 1.6 سی وی ٹی کی نئی قیمت 53 لاکھ 69 ہزار، یو پی ایس پی ای سی کی قیمت 59 لاکھ 9 ہزار اور 1.8 سی وی ٹی ایس آر کی نئی قیمت 61 لاکھ 69 ہزار مقرر کی گئی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق ریوو وی اے ٹی کی قیمت 8 لاکھ 30 ہزار اضافے کے ساتھ ایک کروڑ 14 لاکھ 29 ہزار جبکہ روکو وی اے ٹی کی قیمت 8 لاکھ 70 ہزار کے ساتھ ایک کروڑ 20 لاکھ 49 ہزار روپے تک مقرر کی گئی ہے۔

    کمپنی کے مطابق فارچونر ایل او پیٹرول، ہائی پیٹرول، ڈیزل اور ڈیزل لیجنڈر کی قیمتیں 9 لاکھ 30 ہزار کے ساتھ بالترتیب ایک کروڑ 25 لاکھ 9 ہزار، ایک کروڑ 43 لاکھ 19 ہزار، ایک کروڑ 50 لاکھ 99 ہزار، ایک کروڑ 59 لاکھ 9 ہزار روپے مقرر کی گئی ہیں۔گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا اطلاق 12 جنوری کے بعد ہونے والے آرڈرز پر ہوگا۔

    خیال رہے کہ اکتوبر میں پیداوار میں 30.56 فیصد کمی کے ساتھ حالیہ مہینوں میں آٹو انڈسٹری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ سود کی شرحوں میں اضافے کی وجہ سے فروخت میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے جس سے لیز مزید مہنگی ہوگئی ہے۔

    ڈالر کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے آٹو فنانسنگ پر پابندی اور لیٹر آف کریڈٹ نہ کھولنے کے نتیجے میں گاڑیوں کے پرزوں کی قلت پیدا ہوئی جس پر انڈس موٹرز اور پاک سوزوکی موٹر کمپنی جیسی بڑی کار ساز کمپنیوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بار اپنی پراڈکشن سرگرمیاں معطل کی ہیں۔

    پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز کے اعداد و شمار کے مطابق ٹویوٹا کرولا اور یارس کی فروخت میں 59 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں 29 ہزار 126 سے کم ہو کر 12 ہزار 65 یونٹس رہ گئی ہے۔ماہانہ فروخت گزشتہ ماہ کے ایک ہزار 933 کے مقابلے میں گزشتہ برس دسمبر میں گر کر ایک ہزار 879 ہوگئی۔

  • مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب

    مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب

    لاہور:مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے پارٹی کا اہم اجلاس آئندہ ہفتے طلب کر لیا، جس میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے نئے عہدیداروں کا چناؤ کیا جائے گا۔

    نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کیا گیا ہے، مریم نواز کی وطن روانگی سے قبل ہونیوالے اجلاس میں سی ای سی کے نئے عہدیداروں کا چناؤ کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق اجلاس میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات پر امیدواروں کے ناموں کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

    وزیراعظم شہبازشریف کی پنجاب اسمبلی کی تحلیل پر کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت

    دوسری طرف یہ بھی معلوم ہواہے کہ ملک میں مسلسل بدلتی سیاسی صورت حال کے پیش نظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کا اسی ماہ پاکستان واپس آنے کا امکان ہے۔ذرائع مسلم لیگ (ن) کے مطابق مریم نواز اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا بھی نواز شریف کے ہمراہ اسی ماہ ملک واپس آنے کا امکان ہے۔

    سندھ بلدیاتی انتخابات:ہفتہ کوتعلیمی ادارے بند رکھنےکا اعلان

    ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور حمزہ شہباز پاکستان واپس آ کر انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیں گے۔کچھ ایسا ہی احسن اقبال نے کہا کہ پہلے مریم نواز وطن واپس آئیں گی اور جب ملک میں عام انتخابات کی مہم ہوگی تو اس کی قیادت کرنے کیلئے نواز شریف بھی واپس آجائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک آئینی بحران پیداہوسکتا ہے کیوں کہ عمران خان کی حکومت نے خود یہ فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہوں گے، اب یہ الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے کہ جب نئی مردم شماری کا عمل جاری ہو تو اس وقت پوری اسمبلی اور عام انتخابات پرانی مردم شماری کے تحت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک

    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں

    لالہ لال چند فلک

    تاریخ ولادت:13 جنوری 1887ء
    تاریخ وفات:26 مارچ 1967ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی تحریک آزادی کے ایک اہم رہنما اور شاعر لالہ لال چند فلک 13 جنوری1887ء کو اپنے آبائی وطن یعنی ضلع گوجرانوالہ پنجاب پاکستان) کے مشہور قصبے حافظ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کی لاہور میں غلّے اور اناج کی دکان تھی ۔ چنانچہ ان کا بچپن اور تعلیمی زمانہ یہیں گزرا۔ 1904ء میں دسویں درجے کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد کسبِ معاش کے لیے ملازمت اختیار کی اور چیف انجینیر کے دفتر میں جگہ مل گئی ۔ یہ دہ زمانہ ہے جب انگریز افسر اپنے دلیسی ماتحتوں سے بہت درشتی اور فرعونیت کا برتاؤ کرتے تھے۔ انھوں نے آئے دن اس طرح کے ناخوشگوار حالات دیکھے تو ان کے دل پر بہت اثر ہوا ۔ اس پر وہ ملازمت سے مستعفی ہو گئے اور پھر ساری عمر سرکاری نوکری کے نزدیک نہیں گئے ۔
    کانگریس کی سیاسی تحریک اب روز بروز تیزتر ہو رہی تھی۔ لال چند فلک بھی اس میں شامل ہو گئے ۔ پُرجوش تقریریں اور نظمیں پڑھنے لگے۔ نوبت قید و بند تک پہنچی۔ جون ۱۹۱۷ ء میں بجرم بغاوت ۲۰ سال کے لیے کالے پانی (جزیرہ انڈیمان) کی سزا ہوئی جو بعد کو ۴ اسال کی قید میں تبدیل کر دی گئی ۔ لیکن جب 1920ء میں دستوری اصلاحات کا نفاذ ہوا تو تمام سیاسی قیدی رہا کر دیے گئے، اسی میں انھیں بھی رہائی ملی لیکن ان کا نشہ ایسا نہیں تھا کہ تعزیر و تعذیب کی ترشی اُسے اتار دیتی۔ ان کی سرگرمیوں میں کوئی کمی نہیں آئی ۔
    شعر پر اصلاح منشی دوار کا پر شاد افق لکھنوی سے لی۔ اسی زمانے میں ان کی قومی نظموں کے متعدد مجموعے شائع ہوئے تھے جام فلک ، پیام فلک کلام فلک۔ مہا بھارت بھی بطر زِ ناول نثر میں لکھی تھی ۔ ان کا یہ مصرع ضرب المثل بن چکا ہے .
    تو کبھی بدل، فلک کہ زما نہ بدل گیا
    اس بزرگ قوم پرست شاعر کا 26 مارچ 1967ء کو دلی میں انتقال ہوا۔ ۸۰ سال کی عمر پائی۔
    افسوس، کوشش کے باوجود ان کے کلام کا کوئی مجموعۂ دستیاب نہیں ہوا۔ مندر جہ ذیل چند اشعار بڑی کوشش سے مہیا کر سکا ہوں ۔ ان کا کلام آپ بیتی اوردلی جذبات کا آمیز ہے۔
    آگ میں پڑ کر بھی سونے کی دمک جاتی نہیں
    کاٹ دینے سے بھی ہیرے کی چمک جاتی نہیں
    سِل پر گھس دینے سے بھی جاتی نہیں چندن کی بو
    پھول کی، مٹی میں مل کر بھی ، مہک جاتی نہیں
    رنج میں آتا نہیں نیکوں کی پیشانی پر بل
    دھوپ کی تیزی میں سبزے کی لہک جاتی نہیں
    جا نہیں سکتی کٹہروں میں بھی شیروں کی دھاڑ
    دست گلچیں میں بھی غنچوں کی چٹک جاتی نہیں
    صاحبِ ہمت نہیں دبتا مخالف سے کبھی
    زو ر سے آندھی کے آتش کی بھڑک جاتی نہیں
    نعرہ زن رہتا ہے آفات و حوادث میں دلیر
    بادلوں میں گھر کے بجلی کی کڑک جاتی نہیں
    ملک کی الفت کا جذبہ دل سے مٹ سکتا نہیں
    قوم کی خدمت کی خواہش اے فلک جاتی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
    میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
    میں اٹھالوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پر
    خاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گی
    زندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلک!
    خلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی پھانس جس دل میں گڑی ہے
    خوشی سے وہ اٹھا تا ہر کڑی ہے
    محن کا ابر ہے رحمت کا بادل
    گھٹا آفت کی ، ساون کی جھڑی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماخوذ از تذکرۂ معاصرین، مصنف:مالک رام

  • سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    پیدائش:13 جنوری 1892ء
    اصفہان
    وفات:08 نومبر 1997ء
    جنیوا
    شہریت:ایران
    پیشہ:ماہرِ لسانیات، مصنف، مؤرخ
    ناول نگار، مترجم، شاعر
    زبان:فارسی

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سید محمد علی جمال زادہ اصفہانی، 13 جنوری 1892ء کو اصفہان پیدا ہوئے۔ پھر آپ کا گھرانہ تہران منتقل ہوگیا۔ آپ نے تہران اور بیروت میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پھر فرانس میں قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ جمال زادہ کے مقالات فارسی اور جرمنی زبان میں بے شمار ہیں۔ آپ روز نامہ ”کاوہ“ کے مدیر بھی رہے۔ بعد میں برلن کے ایرانی سفارت خانے میں ملازم ہوگئے۔ پھر سوئٹزرلینڈ چلے گئے اور انجمن بین المللی کے دفتر میں جو جینیوا ہے، اس میں تقریباً 27 سال کام کیا۔ ان کی شہرت کا آغاز اس زمانہ میں ہوا جب 1921ء میں انھوں نے اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”یکے بود ویکے نبود“ شائع کیا۔ جو چھ افسانوں پر مشتمل تھا، اس کے بعد آپ کے مزید افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ آپ نے تاریخ و ادب اور سیاسی اور سماجی کتب بھی تحریر کیں۔
    سید محمد علی جمال زادہ فارسی افسانہ نویسی میں ایک ممتاز مقام کے مالک ہیں۔ انھوں نے ہی سب سے پہلے فنِ افسانہ نویسی کو ایران میں شروع کیا۔ محمد علی جمال زادہ نے افسانوں میں قصوں اور لوک کہانیوں کے انداز کو چھوڑ کر حقیقت نگاری کا نیا انداز اختیار کیا ہے۔ فارسی زبان پر انھیں پوری دسترس حاصل تھی۔ اپنے افسانوں میں انھوں نے نہ صرف عام اور روز مرہ کی زبان اور محاورے استعمال کیے گئے بلکہ سیاسی اورسماجی موضوعات کے ساتھ طنزیہ پیرایہ بھی استعمال کیا گیا۔ جمال زادہ کی کہانیوں میں پلاٹ کو مرکزیت حاصل رہتی ہے اور وہ اپنی کہانیوں کا اختتام موپاساں اور او ہینری کی طرح ڈرامائی اور چونکانے والے انداز میں کرتے ہیں لیکن انھوں نے زبان کا جو انداز اختیار کیا، اس نے فارسی میں افسانے کے لیے جس زبان کی بنیاد رکھی، وہ اب تک برقرار ہے۔ محمد علی جمال زادہ 8 نومبر 1997ء کو جینیوا سوئزرلینڈ میں انتقال کر گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    تاریخ و ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج شایان ( 1335 ہجری)
    ۔ (شایان کا خزانہ)
    ۔ (2)تاریخ روابط روس با ایران
    ۔ ( 1372ہجری) (ایران روس تعلقات)
    ۔ (3)پندنامۂ سعدی یا گلستان نیکبختی
    ۔ (1317ہجری) (پندنامۂ سعدی)
    ۔ (4)قصہ قصہ ہا
    ۔ (از روی قصص المعمای تنکابنی
    ۔ 1321ہجری) (کہانیوں کی کہانی)
    ۔ (5)بانگ نای
    ۔ (داستان ہای مثنوی معنوی
    ۔ 1337ہجری) (پائپ کی آواز)
    ۔ (6)فرہنگ لغات عوامانہ
    ۔ (1341ہجری) (عوامی لغت)
    ۔ (7)طریقۂ نویسندگی و داستان سرایی
    ۔ (1345ہجری) (کہانی نویسی
    ۔ اور داستان سرائی کے طریقے)
    ۔ (8)سرگزشت حاجی بابای اصفہانی
    ۔ (1348ہجری) (سرگزشت حاجی بابا اصفہانی)
    ۔ (9)اندک آشنایی با حافظ
    ۔ (1366ہجری)
    ۔ (حافظ کے ساتھ تھوڑی سی آشنائی)
    کہانیاں افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یکی بود، یکی نبود
    ۔ (1300ہجری)
    ۔ (ایک دفعہ کا ذکر)
    ۔ (2)عمو حسینعلی (جلد اول شاہکار)
    ۔ (1320ہجری) (حیاتِ چچا حسین علی )
    ۔ (3)سر و تہ یہ کرباس (1323ہجری)
    ۔ (1944) (کینوس کے اوپر و نیچے)
    ۔ (4)دارالمجانین (1321ہجری)
    ۔ (1942) (پاگل خانہ)
    ۔ (5)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (6)صندوقچہ اسرار (1342ہجری)
    ۔ (1963) (صندوقچۂ اسرار)
    ۔ (7)تلخ و شیریں (1334ہجری)
    ۔ (1955) (تلخ و شیرین )
    ۔ (8)شاہکار (دوجلدیں) (1337ہجری)
    ۔ (شاہکار )
    ۔ (9)فارسی شکر است(فارسی میٹھی ہے)
    ۔ (10)راہ آب نامہ(راہ آب نامہ)
    ۔ (11)قصہ ہای کوتاہ برای
    ۔ بچہ ہای ریش دار (1352ہجری)
    ۔ 1973) (داڑھی * والے بچوں کے لیے
    ۔ مختصر کہانیاں )
    ۔ (12)قصۂ ما بہ سر رسید
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (1978)
    ۔ (ختم ہو گئی ہماری کہانی)
    ۔ (13)قلتشن دیوان (1325ہجری)
    ۔ (1946)
    ۔ (دیوانِ قلتشن)
    ۔ (14)صحرای محشر
    ۔ (عذاب کا صحرا)
    ۔ (15)ہزار پیشہ (1326ہجری)
    ۔ (1947)
    ۔ (ہزار پیشے والا فرد)
    ۔ (16)معصومہ شیرازی
    ۔ (1333ہجری)
    ۔ (1954)
    ۔ معصومہ شیرازی )
    ۔ (17)ہفت کشور(سات ممالک)
    ۔ (18)قصہ ہای کوتاہ قنبرعلی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (1959)
    ۔ (قنبر علی مختصر کہانیاں )
    ۔ (19)کہنہ و نو
    ۔ (نئی اور پرانی )
    ۔ (20)یاد و یاد بود
    ۔ (نصیحت اور یادگار)
    ۔ (21)قیصر و ایلچی
    ۔ کالیگولا امپراتور روم
    ۔ (رومن شہنشاہ کالیگولا
    ۔ قیصر اور ایلچی)
    ۔ (21)غیر از خدا ہیچکس نبود
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (1961)
    ۔ (خدا کے سوا کوئی نہیں )
    ۔ (22)شورآباد
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (1962)
    ۔ (شورآباد )
    ۔ (23)خاک و آدم
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (24)آسمان و ریسمان
    ۔ (1343ہجری)
    ۔ (1964)
    ۔ (آسمان اور ڈور)
    ۔ (25)مرکب محو
    ۔ (1344ہجری)
    ۔ (1965)
    ۔ (غائب سیاہی )
    سیاست ومعاشرت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آزادی وحیثیت انسانی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (آزادی و انسانی وقار)
    ۔ (2)خاک وآدم
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (3)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (4)خلقیات ما ایرانیان
    ۔ (1345ہجری)
    ۔ (ایران کی ہماری اقدار)
    ۔ (5)تصویر زن
    ۔ در فرہنگ ایران
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (ایران میں خواتین کی تصویر)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قہوہ خانہ سورات
    ۔ یا جنگ ہفتاد ودو ملت
    ۔ (برنارڈن دی سینٹ پیرے)
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (سورت کافی ہاؤس
    ۔ Le Café du Surat by
    ۔ Bernardin de Saint-Pierre)
    ۔ (2)ویلہلم تل (فیڈرک شیللر)
    ۔ (1334ہجری)
    ۔ (ویلہم ٹیل
    ۔ Wilhelm Tell by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (3)داستان بشر (ہنڈرک وان لون)
    ۔ (1335ہجری)
    ۔ (داستانِ بشر
    ۔ The Story of Mankind
    ۔ by Hendrik Willem
    ۔ van Loon)
    ۔ (4)دون کارلوس (فیڈرک شیلر)
    ۔ (ڈون کارلوس
    ۔ Don Carlos by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (5)خسیس (مولیر)
    ۔ (کنجوس L’Avare by Molière)
    ۔ (6)داستان ہای برگزیدہ
    ۔ (اہم داستان)
    ۔ (7)دشمن ملت (ہینرک ایبسن)
    ۔ (قوم کا دشمن
    ۔ En Folkerfiende
    ۔ by Henrik Ibsen)
    ۔ (8)داستانہای ہفت کشور
    ۔ (مجموعہ)
    ۔ (سات ملکوں کی کہانیاں )
    ۔ (9)بلای ترکمن در ایران قاجاریہ
    ۔ (بلوک ویل)
    ۔ (10)قنبرعلی جوانمرد شیراز
    ۔ (آرتور کنت دوگوپینو)
    ۔ (11)سیر وسیاحت در ترکستان وایران
    ۔ (ہانری موزر)
    ۔ (12)جنگ ترکمن (کونٹ دی گبینو)
    ۔ (جنگِ ترکمان
    ۔ Turkmen War by
    ۔ Conte de Gobineau)
    ۔ (13)کباب غاز
    دیگر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کشکول جمالی
    ۔ (2)صندوقچۂ اسرار