Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی،  3,647 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ

    اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 3,647 پوائنٹس کا ریکارڈ اضافہ

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایک روزہ شدید مندی کے بعد آج سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا اور بازارِ حصص میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3,647 پوائنٹس کا شاندار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کاروباری ہفتے کے آخری روز ابتدائی لمحات سے ہی مارکیٹ میں مثبت رحجان دیکھا گیا اور انڈیکس 849 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 104,375 پوائنٹس پر پہنچا۔ کاروبار کے دوران یہ تیزی مزید بڑھی اور ایک موقع پر انڈیکس 2,115 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 105,642 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

    تاہم دن بھر مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بھی جاری رہا اور ایک موقع پر انڈیکس 536 پوائنٹس کی کمی کے بعد 102,990 پوائنٹس تک گر گیا۔ اس کے بعد معمولی بحالی دیکھنے میں آئی اور انڈیکس دوبارہ 103,669 پوائنٹس تک پہنچا۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ کے مطابق کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 3,647 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 107,174 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ایک دن میں ہونے والے بڑے اضافوں میں سے ایک ہے۔

    یہ بحالی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز پاک بھارت کشیدگی کے باعث مارکیٹ میں بدترین مندی دیکھی گئی تھی۔ جمعرات کے روز اسٹاک مارکیٹ 6,482 پوائنٹس یا 5.89 فیصد گر کر 103,526 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی، جو کہ پی ایس ایکس کی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی ایک روزہ کمی تھی۔ اس سے قبل سب سے بڑی کمی گزشتہ ماہ امریکی ٹیرف کے اعلان کے بعد 8,700 پوائنٹس کی ریکارڈ کمی کی صورت میں دیکھی گئی تھی۔

    وزیراعظم سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات، پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش

    بھارتی فوجی حکام کی پریس بریفنگ بے نتیجہ، پاکستان پر روایتی الزامات دہرا دیے

    بھارتی سازش ناکام، پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر قسط منظور

    قوم کے اتحاد کیلئے حکومت اے پی سی بلائے: عثمان ڈار

  • وزیراعظم سے سعودی وزیر  خارجہ کی ملاقات، پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش

    وزیراعظم سے سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات، پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش

    وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے ملاقات کی، جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور پاک بھارت کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا.ملاقات میں جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ وزیراعظم نے بھارتی حملوں کو بلا اشتعال اور بلا جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ شہری شہید ہوئے، جب کہ شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی یہ جارحیت نہ صرف پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے دشمن کے ناپاک عزائم کو بہادری سے ناکام بنایا۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کو سراہا جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور امن کو فروغ دینا ہے۔

    سعودی وزیر مملکت عادل الجبیر نے پاکستانی شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ سعودی عرب کو جنوبی ایشیا کی بگڑتی صورتحال پر شدید تشویش ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ تنازعات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔

    واضح رہے کہ عادل الجبیر نئی دہلی کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد پہنچے تھے۔

  • بھارتی فوجی حکام کی پریس بریفنگ بے نتیجہ، پاکستان پر روایتی الزامات دہرا دیے

    بھارتی فوجی حکام کی پریس بریفنگ بے نتیجہ، پاکستان پر روایتی الزامات دہرا دیے

    بھارتی عوام اور میڈیا جس فوجی پریس کانفرنس کا شدت سے انتظار کر رہے تھے، وہ مایوسی پر ختم ہوئی۔ بھارتی عسکری حکام نے بغیر کسی ثبوت کے ایک بار پھر پاکستان پر وہی پرانے الزامات دہرا دیے، جنہیں پاکستان بارہا مسترد کر چکا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ روز بھارتی میڈیا نے یہ جھوٹی خبریں پھیلائیں کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے مختلف علاقوں میں حملے کیے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی فوری تردید پاکستان کی جانب سے سامنے آئی، جس میں واضح کیا گیا کہ پاکستان نے کوئی ڈرون یا میزائل حملہ نہیں کیا۔

    بھارتی میڈیا کی غیرذمہ دارانہ رپورٹنگ کا عالم یہ تھا کہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مختلف چینلز جیسے کہ آج تک، ٹائمز ناؤ، ریپبلک ٹی وی اور انڈیا ٹی وی نے جعلی ویڈیوز اور غیر مصدقہ اطلاعات نشر کیں۔ ان کے جھوٹ کا پول اسی رات سوشل میڈیا پر کھل گیا، جب خود بھارتی عوام نے ثبوت مانگنے شروع کر دیے۔

    متعدد فیک نیوز اور افواہوں کے بعد بھارتی فوج اور سیکرٹری خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس مقامی وقت کے مطابق ساڑھے 5 بجے ہوئی، جس میں کرنل صوفیہ قریشی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے لیہہ سے سرکریک تک 36 مقامات پر ڈرونز بھیجے، جو ترک ساختہ تھے اور ان کا مقصد بھارتی فضائی دفاعی نظام کی جانچ اور انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنا تھا۔

    تاہم اس بریفنگ میں نہ تو کسی قسم کے ویژول ثبوت پیش کیے گئے اور نہ ہی پاکستانی شہروں پر حملے کے بھارتی میڈیا کے دعووں کی تصدیق کی گئی، جس نے اس تمام جھوٹے پروپیگنڈے کو مزید بے نقاب کر دیا۔حیرت انگیز طور پر، بھارتی فوج کی پریس کانفرنس میں پاکستان پر کیے گئے مبینہ حملوں کا ذکر تک نہ کیا گیا، جنہیں میڈیا نے رات بھر اپنی ہیڈ لائنز بنایا رکھا۔ سوشل میڈیا پر میمز اور طنزیہ پوسٹس کی بھرمار نے بھارتی میڈیا کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ اور فوجی قیادت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی اشتعال انگیزی کا مؤثر اور ذمہ دارانہ جواب دیا جائے گا، لیکن پاکستان جنگ نہیں، امن کا خواہاں ہے۔

    بھارتی سازش ناکام، پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر قسط منظور

    قوم کے اتحاد کیلئے حکومت اے پی سی بلائے: عثمان ڈار

    بھارت کا بیانیہ جھوٹا، پہلگام واقعے کا کوئی ثبوت نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارتی جارحیت کے باعث پی ایس ایل 10 کے بقیہ میچز ملتوی

  • بھارت کا بیانیہ جھوٹا، پہلگام واقعے کا کوئی ثبوت نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت کا بیانیہ جھوٹا، پہلگام واقعے کا کوئی ثبوت نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک افواج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انٹرنیشنل میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کیے، اور انہی الزامات کی بنیاد پر شہری علاقوں پر حملے کیے جن میں 33 بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان ایئر فورس اور پاکستان نیوی کے سینئر افسران کے ساتھ نیوز کانفرنس کرترے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان پر سیاسی اور عسکری دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر اس واقعے کے حوالے سے بھارت کا مؤقف ناقابلِ یقین، غیر منطقی اور ثبوت سے عاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ بھارتی زمین پر پیش آیا، جہاں سے سرحد کا فاصلہ 230 کلومیٹر ہے اور پولیس کی جائے وقوعہ پر موجودگی اور فوری ایف آئی آر کا اندراج انسانی طور پر ممکن نہیں تھا۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ واقعے کے صرف 10 منٹ بعد پولیس پہنچتی ہے، تفتیش مکمل کرتی ہے اور ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے، یہ سب کچھ ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعہ اتنا اچانک تھا تو بھارت نے اتنی جلدی الزام کیسے عائد کر دیا؟، انہوں نے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا ہینڈلز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے چند ہی منٹوں بعد پاکستان کو ملوث قرار دینا پہلے سے طے شدہ بیانیے کا حصہ ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے ماضی کے واقعات جیسے چتی سنگھ پورہ (2000) اور پلوامہ حملہ (2019) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ وہ دہشتگردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ بیانیہ نیا نہیں، ہر بار الیکشن یا داخلی سیاسی فائدے کے لیے بھارت پاکستان کو نشانہ بناتا ہے۔”انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنے سوشل میڈیا پر ہزاروں اکاؤنٹس بند کیے اور پاکستان کے بیانیے کو دبانے کے لیے ڈیجیٹل سنسرشپ کا سہارا لیا۔ ساتھ ہی، پاکستان نے شفاف تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن کی پیشکش کی، مگر بھارت نے اسے مسترد کر دیا۔

    پاکستان میں بھارتی مداخلت اور دہشتگردی

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان میں دہشتگردی کی حمایت کر رہا ہے بلکہ بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کو ہتھیار، تربیت اور فنڈنگ فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کلبھوشن یادیو اور جعفر ایکسپریس حملے کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ثبوت واضح ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے بھیجے گئے 100 سے زائد دہشتگرد پاکستان میں داخل ہوئے، جن میں سے 71 کو ہلاک کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تمام کارروائی کا مقصد پاکستان میں انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانا تھا۔

    6 اور 7 مئی کے حملے: 33 شہید، 62 زخمی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے جن میں 33 افراد شہید اور 62 زخمی ہوئے۔ شہداء میں 7 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے جنگی طیاروں نے حملے کیے، جن میں سے تین رافیل، ایک مگ 29 اور ایک ایس یو 30 طیارہ مار گرایا گیا۔ پاکستان نے صرف بھارتی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا اور شہری آبادی کو بچانے کے لیے انتہائی احتیاط سے کام لیا۔

    نتیجہ: سچ کو تسلیم کریں، الزام تراشی بند کریں

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ "ڈرامے بازی” بند کرے اور اگر واقعی کوئی ثبوت ہے تو وہ آزاد کمیشن کے سامنے پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    ریاست سب سے پہلے.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    مختلف شہروں میں بھارتی 77ڈرون سے 5 شہری شہید،22 زخمی

    مختلف شہروں میں بھارتی 77ڈرون سے 5 شہری شہید،22 زخمی

    لیپا میڈیکل سینٹر پر بھارتی بمباری، شہری زیرِ زمین بنکرز میں منتقل

    بھارتی میڈیا صحافت کے بجائے کارٹون نیٹ ورک لگتا ہے، شاہد آفریدی

  • شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ دھماکا، 9 جوان شہید

    شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ دھماکا، 9 جوان شہید

    شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کے 9 جوان شہید ہو گئے۔

    فوجی ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کا قافلہ معمول کی گشت پر تھا جب ان کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دھماکا ہوا اور 9 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔شہداء کی میتوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔پاک فوج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملک دشمن عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    صدر مملکت اور وزیرِاعظم

    دوسری جانب صدر مملکت اور وزیرِاعظم نے واقعے پر گہرے دکھ اور شہداء کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔

    بھارتی جارحیت کے باعث پی ایس ایل 10 کے بقیہ میچز ملتوی

    مختلف شہروں میں بھارتی 77ڈرون سے 5 شہری شہید،22 زخمی

    جنگی صورتحال کے پیش نظر مسلح افواج کے لیے خصوصی ٹرینیں مختص

    لیپا میڈیکل سینٹر پر بھارتی بمباری، شہری زیرِ زمین بنکرز میں منتقل

  • بھارتی جارحیت کے باعث پی ایس ایل 10 کے بقیہ میچز ملتوی

    بھارتی جارحیت کے باعث پی ایس ایل 10 کے بقیہ میچز ملتوی

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 10 کے باقی ماندہ آٹھ میچز ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ موجودہ ملکی حالات، خاص طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر کیا گیا۔

    پی سی بی کے ترجمان کے مطابق، ایل او سی پر صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے، بھارت کی جانب سے 78 ڈرونز کی دراندازی اور میزائل حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث میچز کا جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ترجمان نے بتایا کہ میچز کی منسوخی وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کی گئی، کیونکہ موجودہ حالات میں قوم کی توجہ اور جذبات افواجِ پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

    پی سی بی نے تمام شہداء کے لواحقین اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ ہماری خوشی کا ذریعہ ضرور ہے، لیکن ملک کی خودمختاری ہماری پہلی ترجیح ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں کرکٹ کو باوقار انداز میں وقتی طور پر روکا جانا ناگزیر تھا۔ پی سی بی غیر ملکی کھلاڑیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے خدشات کو بھی مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے اور ان کے ذہنی سکون کو اہمیت دیتا ہے۔

    آخر میں پی سی بی نے تمام فرنچائزز، شراکت داروں، کھلاڑیوں اور اسپانسرز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

    جنگی صورتحال کے پیش نظر مسلح افواج کے لیے خصوصی ٹرینیں مختص

    لیپا میڈیکل سینٹر پر بھارتی بمباری، شہری زیرِ زمین بنکرز میں منتقل

    بھارتی میڈیا صحافت کے بجائے کارٹون نیٹ ورک لگتا ہے، شاہد آفریدی

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے،خواجہ آصف

  • جنگی صورتحال کے پیش نظر  مسلح افواج کے لیے خصوصی ٹرینیں مختص

    جنگی صورتحال کے پیش نظر مسلح افواج کے لیے خصوصی ٹرینیں مختص

    جنگ جیسی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان ریلوے نے ملک بھر میں اپنے آپریشنز کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور مسلح افواج کی نقل و حرکت کے لیے خصوصی ٹرینیں مختص کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلوے، عامر علی بلوچ نے بتایا کہ ریلوے مسلح افواج کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور ان کی ضروریات کے مطابق فوری نقل و حمل کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس مقصد کے لیے ویگنز، کوچز اور انجن سمیت مخصوص رولنگ اسٹاک مختص کر دیا گیا ہے۔جب بھی ہمیں اسٹاک منتقل کرنے کا کہا جائے گا، ہم فوری طور پر یہ خدمات فراہم کریں گے۔ ہم اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔”

    عامر علی بلوچ کے مطابق، اس وقت ریلوے کی مسافر اور مال بردار ٹرینیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں اور کسی قسم کے تعطل کا سامنا نہیں ہے۔ تاہم، تمام اسٹیشنز اور آپریشنز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور بڑے اسٹیشنز کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فضائی حدود کی بندش یا پروازوں کی معطلی کی صورت میں ریلوے ان مسافروں کے لیے سہولت فراہم کرنے کو بھی تیار ہے، جو ہوائی سفر کے متبادل کے طور پر ریل کا انتخاب کرتے ہیں۔

    بھارتی میڈیا صحافت کے بجائے کارٹون نیٹ ورک لگتا ہے، شاہد آفریدی

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے،خواجہ آصف

    ڈرون یا راکٹ حملے شروع نہیں کیے، صرف دفاع میں کارروائی کی، ڈی جی آئی ایس پی آر

  • لیپا میڈیکل سینٹر پر بھارتی بمباری، شہری زیرِ زمین بنکرز میں منتقل

    لیپا میڈیکل سینٹر پر بھارتی بمباری، شہری زیرِ زمین بنکرز میں منتقل

    لیپا ویلی کے قریب واقع لیپا میڈیکل سینٹر کے اطراف صورتحال کشیدہ ہو گئی گزشتہ روز ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں لیپا میڈیکل سینٹر کو شدید نقصان پہنچا جسکے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت زیرِ زمین بنکرز میں منتقل ہو گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مقامی ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے ہسپتال پر شدید بمباری کی جسکے نتیجے میں عمارت کو شدید نقصان پہنچا جبکہ فائرنگ اور خطرے کی فضا کے باعث عام زندگی مفلوج ہو چکی ہے جبکہ اسپتال کے آس پاس بھی سناٹا چھایا ہوا ہے۔ شہریوں نے اپنی حفاظت کے لیے گھروں کے تہہ خانوں یا قریبی محفوظ پناہ گاہوں میں پناہ لی ہے۔تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ متعلقہ حکام اور ریسکیو ادارے ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ کسی بھی ناگہانی حالت میں فوری مدد کے لیے ٹیمیں تیار ہیں۔

    بھارتی میڈیا صحافت کے بجائے کارٹون نیٹ ورک لگتا ہے، شاہد آفریدی

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے،خواجہ آصف

    ننکانہ : ریسکیو 1122 کی موک ایکسرسائز، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مشق

  • بھارتی میڈیا صحافت کے بجائے کارٹون نیٹ ورک لگتا ہے، شاہد آفریدی

    بھارتی میڈیا صحافت کے بجائے کارٹون نیٹ ورک لگتا ہے، شاہد آفریدی

    سابق کپتان اور لیجنڈری کرکٹر شاہد آفریدی نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے بھارتی میڈیا کو "کارٹون نیٹ ورک” سے تشبیہ دی ہے اور موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے آفیشل فیس بک پیج پر جاری بیان میں شاہد آفریدی نے لکھا کہ کھیل ہمیشہ سرحدوں، مذاہب اور سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ آج کرکٹ خود نشانے پر آ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ "پی ایس ایل کو دبئی منتقل کر دیا گیا، آئی پی ایل معطل ہوئی، اور راولپنڈی اسٹیڈیم کے باہر بھارتی ڈرون حملہ ہوا۔ ایک وقت تھا جب کرکٹ دلوں کو جوڑتی تھی، لیکن اب یہی کھیل جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔”

    شاہد آفریدی نے بھارتی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سچائی کے بجائے سنسنی خیزی کو فروغ دے رہا ہے۔ "صحافت کم اور کارٹون نیٹ ورک زیادہ لگتا ہے۔”اپنے پیغام کے آخر میں انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسٹیڈیم دوبارہ آباد ہوں، نہ صرف کھیل کے لیے بلکہ امن کے فروغ کے لیے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے،خواجہ آصف

    ڈرون یا راکٹ حملے شروع نہیں کیے، صرف دفاع میں کارروائی کی، ڈی جی آئی ایس پی آر

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے،خواجہ آصف

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان موجود ہے، تاہم پاکستان اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر فیصلہ خود کرے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق میڈیا سے خصوصی گفتگو میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی دباؤ یا افواہ کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے قومی مفادات کی روشنی میں پالیسیاں مرتب کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں چین اور سعودی عرب سمیت کئی بڑی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کے لیے متحرک ہیں۔وزیر دفاع نے بھارت کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جعلی واقعات کو بنیاد بنا کر نئی کارروائیاں کرنا ناقابل قبول ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات کو مرحلہ وار نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر حل ہونا چاہیے۔خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن قومی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    ننکانہ : ریسکیو 1122 کی موک ایکسرسائز، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی مشق