Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • پی ایس ایل کے لیے مقامی کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کی تجدید

    پی ایس ایل کے لیے مقامی کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کی تجدید

    پاکستان سپر لیگ کے مقامی کھلاڑیوں کی کیٹیگریز کی تجدید کردی گئی جن میں 13 کھلاڑی پلاٹینم کیٹیگری کا حصہ ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آج پاکستان سپر لیگ کے 10ویں ایڈیشن کے لیے 87 مقامی کھلاڑیوں کیٹیگری تجدید کردی ہے۔غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن 12 دسمبر کو شروع ہوچکی ہے جبکہ پی ایس ایل کے پلیئرز کا ڈرافٹ 11 جنوری کو شیڈول ہے۔تین ٹیسٹ کرکٹرز حسن علی، محمد عامر اور صائم ایوب کے ساتھ اسامہ میر کو ڈائمنڈ کیٹیگری سے پلاٹینم کیٹیگری میں ترقی دے دی گئی ہے۔عماد وسیم، نسیم شاہ، شاداب خان، فخر زمان، حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی، افتخار احمد، محمد رضوان اور بابر اعظم کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا گیا ہے۔ڈائمنڈ کیٹیگری میں کل 16 کھلاڑی شامل ہیں جن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ملتان سلطانز کے چار، چار کھلاڑی شامل ہیں۔ کراچی کنگز کے تین کھلاڑی، اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے دو، دو اور لاہور قلندرز کا ایک کھلاڑی اس کیٹیگری میں شامل ہے۔30 کھلاڑی گولڈ کیٹیگری کا حصہ ہیں جن میں پشاور زلمی کے 7 کھلاڑی شامل ہیں۔ کراچی کنگز، لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے پانچ پانچ کھلاڑی ہیں جبکہ گولڈ کیٹیگری میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کے چار چار کھلاڑی ہیں۔سلور کیٹیگری میں شامل 16 کھلاڑیوں میں سے 4 گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز کے ہیں جبکہ پشاور زلمی کے 3 کھلاڑی اس کیٹیگری میں شامل ہیں۔ کنگز اور سلطانز کے پاس سلور کیٹیگری میں دو دو کھلاڑی ہیں جبکہ یونائیٹڈ کے پاس سلور کیٹیگری کا ایک کھلاڑی ہے۔ایمرجنگ کیٹیگری میں منتخب کیے گئے 12 کھلاڑیوں میں سے تین، تین کھلاڑی اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کا حصہ ہیں۔ کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کے دو دو کھلاڑی ہیں جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز کا ایک ایک کھلاڑی ہے۔اس سے قبل جمعرات 12 دسمبر کو پی سی بی نے تمام 6 فرنچائزز کےلیے ٹریڈ ونڈو کے ساتھ پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کےلیے غیر ملکی کھلاڑیوں کے لیے رجسٹریشن ونڈو کھول دی تھی۔ کھلاڑیوں کی ریلیگیشن اور ریٹینشن کا اعلان دسمبر کے آخر میں کیا جائے گا۔ایچ بی ایل پی ایس ایل پلیئرز کا ڈرافٹ 11 جنوری 2025 بروز ہفتہ کو ہونا ہے۔ ڈرافٹ کے مقام اور وقت کا اعلان مقررہ وقت پر کیا جائے گا۔

    اسلام آباد یونائیٹڈ
    عماد وسیم، نسیم شاہ، شاداب خان پلاٹینم کیٹیگری میں شامل ہیں۔ اعظم خان، سلمان علی آغا ڈائمنڈ جبکہ فہیم اشرف، حیدر علی، قاسم اکرم، رومان رئیس گولڈ کیٹیگری میں ہیں۔ شہاب خان سلور جبکہ حنین شاہ، شامل حسین اور عبید شاہ ایمرجنگ کیٹیگری میں ہیں۔

    کراچی کنگز
    حسن علی پلاٹینم میں ہیں جبکہ محمد نواز، شان مسعود، شعیب ملک ڈائمنڈ کیٹیگری میں ہیں۔ عرفات منہاس، انور علی خان، میر حمزہ، زاہد محمود، عرفان خان نیازی گولڈ کیٹیگری کا حصہ ہیں۔ محمد عامر خان، محمد اخلاق سلور جبکہ ایمرجنگ کیٹیگری میں سعد بیگ اور سراج الدین شامل ہیں۔

    لاہور قلندرز
    فخر زمان، حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی پلاٹینم، عبداللّٰہ شفیق ڈائمنڈ کیٹیگری جبکہ صاحبزادہ فرحان، زمان خان، مرزا طاہر بیگ، کامران غلام، جہانداد خان گولڈ کیٹیگری، احسن حفیظ بھٹی، محمد عمران جونیئر، سلمان فیاض، سید فریدون محمود سلور کیٹیگری جبکہ طیب عباس ایمرجنگ کا حصہ ہیں۔

    ملتان سلطانز
    افتخار احمد، محمد رضوان، اسامہ میر پلاٹینم کیٹیگری، محمد عباس آفریدی، خوشدل شاہ، محمد علی، عثمان خان ڈائمنڈ کیٹیگری، احسان اللّٰہ، طیب طاہر، شاہنواز دھانی، فیصل اکرم گولڈ کیٹیگری، علی ماجد، یاسر خان سلور کیٹیگری جبکہ آفتاب ابراہیم، محمد شہزاد ایمرجنگ میں شامل ہیں۔

    پشاور زلمی
    بابر اعظم اور صائم ایوب پلاٹینم، عامر جمال اور محمد حارث ڈائمنڈ، آصف علی، سلمان ارشاد، حسین طلعت، سفیان مقیم گولڈ، عارف یعقوب، مہران ممتاز، عمیر آفریدی سلور جبکہ ایمل خان، علی رضا، محمد ذیشان ایمرجنگ کیٹیگری میں موجود ہیں۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز
    محمد عامر پلاٹینم جبکہ ابرار احمد، سرفراز احمد، سعود شکیل، محمد حسنین ڈائمنڈ کیٹیگری، محمد وسیم جونیئر، عثمان قادر، عمیر بن یوسف، سہیل خان، عمر امین گولڈ، سجاد علی جونیئر، عثمان طارق، بسم اللّٰہ خان، خواجہ محمد نافع سلور جبکہ عادل ناز ایمرجنگ میں شامل ہیں۔

    چنئی ائیرپورٹ سے ایئر انڈیا کا ملازم سونا اسمگل کرتے ہوئے پکڑا گیا

  • قومی رجسٹریشن, بائیو میٹرک پالیسی فریم ورک تیار

    قومی رجسٹریشن, بائیو میٹرک پالیسی فریم ورک تیار

    حکومت نے ’ایک قوم ایک، شناخت‘ کے تحت قومی رجسٹریشن اور بائیو میٹرک پالیسی فریم ورک تیار کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پالیسی کے مطابق پاسپورٹ، حفاظتی ٹیکوں، صحت مراکز، وزارت خارجہ وغیرہ کا ریکارڈ بھی نادرا کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک قوم ایک شناخت کے تحت ہر پاکستانی کی ایک جامع اور منفرد آئی ڈی تیار کی جائے گی، ہر پاکستانی کی شادی، عدالت، پولیس ریکارڈ اور جائیداد سمیت ہر قسم کا ریکارڈ اب ایک ہی جگہ ہوگا۔حکومت نے شناختی کارڈ پر موجود چپ کے باقاعدہ استعمال کا طریقہ کار تیار کرلیا، ایک مرکزی ڈیٹا بیس تک نادرا، ایف بی آر، ایس ایس سی پی، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کو رسائی میسر ہوگی۔ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم نیشنل اسٹیرنگ کمیٹی پہلے ہی اس مسودے سے متعلق ہدایات دے چکی ہے۔حکومت نے شناختی کارڈ پر موجود چپ کے باقاعدہ استعمال کا طریقہ کار تیار کرلیا، ایک مرکزی ڈیٹا بیس تک نادرا، ایف بی آر، ایس ایس سی پی، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کو رسائی میسر ہوگی۔اس وقتیونین کونسل کی سطح پر مصدقہ ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل درپیش ہوتے ہیں، یونین کونسل کی سطح پر درکار ریکارڈ نہ ہونے کی وجہ سے نادرا ریکارڈ میں غیر ملکی بھی رجسٹر ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ بائیو میٹرک سہولت فراڈ کا ایک بڑا سبب بھی بن رہی ہے، نئے ریکارڈ میں صحت اور تعلیم کے لیے ایک مربوط فارم تیار کیا جائے گا جو ڈیٹا میں مدد کرے گا۔رپورٹ کے مطابق نئی پالیسی سے فیصلہ سازی اور حکومتوں کو وسائل کی تقسیم میں مدد ملے گی، پالیسی میں پاکستانی شہری کی تعریف بھی کی گئی ہے، اس پالیسی کو وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کئے جانے کا امکان ہے۔

    سندھ حکومت نے دارالامان سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

    جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

  • ایندھن کی قلت کے باعث ایران پاور پلانٹس بند کرنے پر مجبور

    ایندھن کی قلت کے باعث ایران پاور پلانٹس بند کرنے پر مجبور

    ایران نے ایندھن کی قلت کے باعث کئی پاور پلانٹس کو بند کردیا، جس کی طلب سخت سرد موسم کے دوران تیزی سے بڑھی ہے۔

    ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ نے رپورٹ کیا کہ مغربی صوبہ لرستان نے گیس سے چلنے والے ایک پلانٹ کو جزوی طور پر بند کر دیا کیونکہ گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی کھپت میں اضافہ کیا گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق تیل کی کم کھپت کے حامی ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایندھن کی قلت پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ اگلے سال یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔میڈیا کے مطابق یہ اقدامات اتوار کو شمالی صوبے گلستان کے پلانٹس بند کرنے کے بعد ہوا۔پورے ملک میں درجہ حرارت صفر سے نیچے تک ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت تہران سمیت 20 سے زائد صوبوں میں اسکولوں اور سرکاری دفاتر بند کر دیے گئے ہیں۔مقامی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ تازہ احکامات میں اصفہان اور مغربی آذربائیجان صوبے سردی کی شدت کے سبب اسکولوں اور سرکاری عمارتوں کو بند کرنا شامل ہیں جبکہ تہران سمیت ملک بھر میں بجلی کی بندش سے بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ارنا کا رپورٹ میں کہنا تھا کہ پابندیوں سے 24 گھنٹوں میں 20 لاکھ مکعب میٹر گیس اور 100 میگا واٹ بجلی کی بچت ہوئی ہے۔

    سندھ حکومت نے دارالامان سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

  • جنسی زیادتی اسکینڈل،اینگلیکن چرچ کے سینئر پادری پر استعفے کا دباو

    جنسی زیادتی اسکینڈل،اینگلیکن چرچ کے سینئر پادری پر استعفے کا دباو

    جنسی زیادتی کے اسکینڈل کے بعد جلد ہی عارضی طور پر دنیا کے اینگلیکن چرچ کے سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے والے برطانیہ کے سینیئر پادری اسٹیفن کوٹرل کو ایک اور کیس کا بروقت نہ بتانے پر استعفے کے مطالبے کا سامنا ہے۔

    خبر رساں ادارےکے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی تحقیقات کے مطابق 2010 میں چلمسفورڈ کے بشپ بننے پر اسٹیفن کوٹریل کو بتایا گیا تھا کہ ڈیوڈ ٹیوڈر 1988 میں دو مجرمانہ مقدمات میں نامزد تھے۔ڈیوڈ ٹیوڈر کو پہلے ٹرائل میں ایک 15 سالہ لڑکی پر حملہ کرنے کے مقدمے میں بری کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہوں نے لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ڈیوڈ ٹیوڈر 3 لڑکیوں پر حملہ کرنے میں قصوروار پائے گئے تھے اور انہیں دوسرے کیس میں 6 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا لیکن تکنیکی بنیادوں پر اس کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔چرچ نے ڈیوڈ ٹیوڈر پر پابندی لگا دی تھی لیکن انہیں 5 سال بعد واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی۔بی بی سی کے مطابق 7 خواتین نے الزام لگایا ہے کہ ڈیوڈ ٹیوڈر نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔یارک اسٹیفن کوٹریل کے آرچ پشب جو کہ اینگلیکن چرچ کے دوسرے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں نئے سال کے آغاز میں چند ماہ کے لیے چرچ کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، یہ فیصلہ گزشتہ ماہ کینٹربری کے پادری جسٹن ویلبی کے استعفے کے بعد کیا گیا ہے۔جسٹن ویلبی نے اس وقت استعفیٰ دیا جب ایک آزاد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ انہیں 2013 میں چرچ سے منسلک ایک وکیل کی دہائیوں پر محیط زیادتی کو حکام کے سامنے باقاعدہ طور پر رپورٹ کرنا چاہیے تھا اور وہ ایسا کر سکتے تھے۔رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ چرچ آف انگلینڈ نے برطانیہ، زمبابوے اور جنوبی افریقہ میں کئی دہائیوں کے دوران ہونے والے ’جسمانی، جنسی، نفسیاتی اور روحانی حملوں‘ کو چھپایا۔اب نیو کاسل کی بشپ ہیلن این ہارٹلی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسٹیفن کوٹرل اپنے عہدے سے مستعفی ہوں کیونکہ ان پر یہ الزامات ہیں کہ انہوں نے چلمسفورڈ کے بشپ کے طور پر اپنی مدت کے دوران ایک جنسی زیادتی کے معاملے کو مناسب انداز میں سامنے نہیں لایا۔اسٹیفین کوٹریل کا کہنا تھا کہ ’ اس حوالے سے پہلے کارروائی نہ کرنے پر وہ معذرت خواہ ہیں،’ تاہم انہوں نے اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔’انہوں نے کہا’ 2019 میں جب ایک نیا کیس پولیس کے پاس آیا تو میں نے پہلی فرصت میں ڈیوڈ ٹیوڈر کو عہدے سے معطل کر دیا۔’جب تک ان کے خلاف نئی شکایات درج نہ کی جاتیں، ڈیوڈ ٹیوڈر کو عہدے سے ہٹانا قانونی طور پر ممکن نہیں تھا۔

    جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

  • کروڑوں بچوں کا اسکول سے باہر ہونا پریشان کن ہے، شیری رحمان

    کروڑوں بچوں کا اسکول سے باہر ہونا پریشان کن ہے، شیری رحمان

    پیپلز پارٹی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ڈھائی کروڑ سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا پریشان کن ہے۔

    باغی ٹی وی کےمطابق شیری رحمان نے کہا کہ آبادی میں تیزی سے بڑھتا ہوا اضافہ معیشت، صحت اور تعلیم، کو متاثر کر رہا ہے۔ جبکہ آبادی میں تیزی سے اضافے سے خواتین کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جو نہ صرف ان کی زندگیوں بلکہ معاشرے کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت پارلیمنٹری فورم برائے پاپولیشن کونسل کا 12واں اجلاس ہوا۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاپولیشن کونسل کی تازہ ترین رپورٹ “پاکستان 2050” میں دو مختلف راستے پیش کیے گئے ہیں۔ ایک راستہ خوشحالی کی طرف اور دوسرا وسائل کے بوجھ کے ساتھ مشکلات میں اضافے کی طرف ہے۔ آبادی میں اضافے کی رفتار میں کمی کے حوالے سے کونسل آف کامن انٹرسٹ کی سفارشات پر عمل کیا جائے تو فی کس آمدنی میں 37 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں اضافہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو بھی بڑھا رہا ہے۔ اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ معاشرے کے غریب ترین اور پسماندہ افراد متاثر ہوتے ہیں۔ آبادی میں اضافے کی شرح کو پائیدار سطح تک لا کر غربت اور پسماندگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ میں نے آبادی کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل پر سینیٹ میں قرارداد پیش کی ہے۔ اور میں نے تمام اسمبلیوں سے اپیل کی ہے کہ سینیٹ میں میری پیش کی گئی قرارداد کی پیروی کریں۔ ہر پلیٹ فارم پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ عوامی شعور بڑھایا جا سکے اور مشترکہ کارروائی کی جا سکے۔ سندھ میں اس حوالے سے قانون بنائے گئے ہیں۔ اور دیگر صوبوں کو بھی اس حوالے سے قوانین بنانے چاہیئیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ علما کرام کو ان بورڈ لیا جائے لیکن لوگوں کو بھی ان بورڈ لینا چاہیے۔ اور علمائے کرام کو بھی اس حوالے سے تعاون کرنا ہو گا۔پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ ڈھائی کروڑ سے زائد بچوں کا اسکول سے باہر ہونا پریشان کن ہے۔ اس فورم کے اگلے اجلاس صوبوں میں بلائے جائیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر پروگرام آبادی کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جبکہ ہیلتھ کیئر سروس ڈیلیوری پروگرام اور لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر 10 منٹ میں ایک خاتون اپنی زندگی کی بازی ہار جاتی ہے۔ جو افسوسناک ہے۔ خواتین کو اپنی صحت کے حوالے سے خود فیصلے کرنے ہوں گے۔ اور ہم سب کو ان تمام مسائل کے حل کے لیے ایک پیج پر آنا ہو گا۔ سینیٹ، قومی اسمبلیوں اور چاروں صوبوں کو ان مسائل کے حل کے لیے یکجا ہونا پڑے گا۔بلوچستان اسمبلی کے رکن زمرک خان نے صوبے میں صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کی فراہمی کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیا۔ زمرک خان نے صوبے میں صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کی فراہمی کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سیاسی نمائندوں کے ساتھ کمیونٹی رہنماؤں سے بھی مشاورت پر زور دیا۔

    سندھ حکومت نے دارالامان سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

  • سندھ حکومت نے دارالامان سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

    سندھ حکومت نے دارالامان سے متعلق اہم فیصلہ کر لیا

    سندھ حکومت نے صوبے میں قائم تمام دارالامان کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ حکومت نے صوبے میں ورکنگ ویمن کی سہولت کے لیے 115 ڈے کیئر سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرصدارت محکمہ ترقی نسواں کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں شاہینہ شیرعلی سمیت محکمہ کے افسران نے شرکت کی اجلاس میں محکمہ ترقی نسواں کے ترقیاتی منصوبوں پرآگاہی دی گئی۔صوبائی وزیرنے کہا کہ عورتوں کو تحفظ کے ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے پربھی کام کررہے ہیں، محکمہ ترقی نسواں کے 954 ملین روپے کے 8 منصوبے زیر تعمیر ہیں۔چیف سیکرٹری سندھ نے یقین دہانی کروائی کہ ہنرمند خواتین کی مدد کے لیے محکمے کو فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے دارالامان میں بچوں کے لیے پلے ایریا، ٹیوٹر فراہم کیے جائیں گے، پہلے مرحلے میں سرکاری اداروں اور جامعات میں ڈے کیئر سینٹر بنائے جائیں گے۔چیف سیکریٹری نے کہا کہ محکمہ ترقی نسواں کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

    جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

  • جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    جرمن چانسلر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی

    جرمنی کے چانسلر اولف شولز ہفتوں سے جاری بحران کے بعد ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام رہے جس کے بعد یورپ کی سب سے بڑی معیشت والے ملک میں 23 فروری کو قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار ہوگئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں پہلے سے ہی متوقع ناکامی نے صدر فرینک والٹر اسٹین میئر کو اسمبلی کو تحلیل کرنے اور انتخابات کا باضابطہ حکم دینے کی اجازت دی۔66 سالہ اولف شولز سابق چانسلر انجیلا مرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کے قدامت پسند اپوزیشن لیڈر فریڈرک مرز سے انتخابات میں بہت پیچھے رہے تھے۔اہم ووٹنگ شعلہ بیان تقاریر کے بعد ہوئی جس میں سیاسی حریفوں نے ایک دوسرے پر تنقید کی جس سے آئندہ انتخابات کی مہم میں ہونے والی گرما گرمی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تین سال سے زائد عرصے تک اولف شولز کی سربراہی میں بننے والا 3 جماعتی حکمران اتحاد 6 نومبر کو ٹوٹ گیا جس دن ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ وائٹ ہاؤس کا انتخاب جیتا۔سیاسی ہنگامہ آرائی نے جرمنی کو شدید متاثر کیا ہے جب کہ وہ توانائی کی بھاری قیمتوں اور چین سے سخت مسابقت کی وجہ سے لڑکھڑاتی معیشت کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔برلن کو بڑے جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے جب کہ یہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کا مخالف ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی نے نیٹو اور مستقبل کے تجارتی تعلقات کے بارے میں بے یقینی کی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔یہ معاملات ایوان زیریں میں ووٹنگ سے قبل اولف شولز، اپوزیشن لیڈر مرز اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے درمیان گرما گرم بحث کا مرکز تھے، ایوان میں 394 اراکین پارلیمان نے 207 کے مقابلے میں شولز کے خلاف ووٹ دیا جب کہ 116 ارکان غیر حاضر رہے۔

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

  • مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    مدارس بل ایکٹ ، فوری گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، اتحاد تنظیمات مدارس

    اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مدارس بل باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے۔

    مولانا فضل الرحمٰن، مفتی تقی عثمانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان کی سپریم کونسل کا اجلاس جامعہ عثمانیہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے بعد مندرجہ ذیل قرار داد اتفاق رائے سے منظور ہوئی، قرار داد کا متن ہے کہ سوسائٹیز رجسٹرین ایکٹ کے تحت ایکٹ ترمیمی سوسائٹیز بل مورخہ 20-21 اکتوبر 2024 کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہوا اور اسی روز قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دستخط سے حتمی منظوری کے لیے ایوان صدر کو ارسال کر دیا گیا۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 28 اکتوبر 2024 کو صدر کی جانب سے غلطی کی نشاندہی کی گئی، اسپیکر قومی اسمبلی نے آئین و قانون کے تحت اسے قلمی غلطی گرادانتے ہوئے تصیح کردی اور تصیح شدہ ترمیمی بل مورخہ یکم نومبر 2024 کو ایوان صدر ارسال کر دیا۔ اسے صدر نے قبول کرتے ہوئے اس پر زور نہیں دیا، بعد ازاں صدر کی طرف سے 10 دن کے اندر مذکورہ ترمیمی بل پر کوئی اعتراض نہیں ہوا، البتہ 13 نومبر 2024 کو نئے اعتراضات لگادیے گئے جو کہ میعاد گزرنے کی وجہ سے غیر مؤثر تھے، نیز ایکٹ کے بعد دوبارہ اعتراض بھی نہیں لگایا جا سکتا تھا، لہذا یہ بل اب قانونی شکل اختیار کر چکا ہے۔مفتی منیب الرحمٰن کا کہنا تھا کہ حوالے کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی نظیر موجود ہے، نیز اسپیکر نے اس بات کا اعتراض کیا ہے ان کے نزدیک یہ باقاعدہ ایکٹ بن چکا ہے اور انہیں صرف ایک ہی اعتراض موصول ہوا تھا، ہمارا مطالبہ ہے کہ قانون کے مطابق بلاتاخیر اس کا گزیٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل درآمد شروع ہو۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ شریعت کا حکم ہے کہ حسن ظن سے کام لیا جائے، جو لوگ اقتدار و اختیار کے مالک ہوتے ہیں، ان سے ہمیشہ معقولیت، انصاف اور توازن کی امید کی جاتی ہے، لہٰذا اس وقت تک ہماری پوری سپریم کونسل کی رائے ہے کہ حکومت وقت ہماری اس قرداد کو معقول گردانتے ہوئے اسے تسلیم کرے گی اور اس پر عملدرآمد کرے گی۔مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ اگر اس کے برعکس کوئی صورتحال پیش آئی تو ہم بلاتاخیر مل بیٹھیں گے اور اس کے بعد کا لائحہ عمل اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے موقع پر بات چیت میں جس بل پر ہمارا اختلاف نہیں ہے، اسے بھی منظور کیا جائے، انہوں نے وعدہ کیا اس کو پاس کیا جائے گا اور وہ پاس ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ اگر بل میں کوئی تبدیلی لائی گئی ہے، ہم نے تو نہیں لائے، تبدیلی بھی اسی حکومت نے لائی ہو گی، ظاہر ہے ہمارے لیے اس میں کوئی تنازع والی بات نہیں ہے، کیا انہوں نے اس بل کے پاس ہونے کے بعد کوئی اعتراض کیا؟مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کیا انہوں نے کوئی سوال اٹھایا؟ کوئی سوال نہیں اٹھایا بلکہ بل پاس ہونے کے ایک ہفتے کے اندر مجھے مبارکباد دینے کے لیے آنا چاہتے تھے لیکن ملاقات نہیں ہوسکی تھی، آج ڈیڑھ مہینے کے بعد سوال اٹھا رہے ہیں، ہم ان سے کوئی جھگڑا نہیں کررہے وہ ہمارے بھائی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ کوئی سوال کرتے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھتے کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے، لیکن ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ جیسے یہ بل بڑا متنازع ہے، بل اتفاق رائے کے ساتھ پاس ہوا ہے۔ اس وقت اس کی آئینی و قانونی پوزیشن ہے کہ ہماری نظر میں وہ بل ایکٹ بن چکا ہے، اس کا گزٹ نوٹی فکیشن جاری کیا جائے، ہمارے مدعے کو سمجھا جائے، ہم کسی کے مقابلے میں نہیں ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم ایوان صدر سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے خلاف قانون اقدامات کیوں کیے، گزٹ کیوں نہیں کرایا؟ حکومت سے ہماری شکایت ہے کہ اس کا نوٹی فکیشن کیوں نہیں کرر ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قانونی، آئینی راستے سے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، ہم منفی گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔واضح رہے کہ آج پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے دعویٰ کیا تھا کہ مدارس بل پر معاملات طے پا چکے ہیں اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

  • شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    شام میں تمام مسلح دھڑے ختم کرنے کا اعلان

    سربراہ حیات تحریرالشام احمد الشارع نے شام میں تمام مسلح دھڑوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

    غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق احمد الشارع نے اعلان کیا ہے کہ شام میں تمام مسلح دھڑوں کو ختم کر دیا جائے گا اور صرف نئی شامی ریاستی فوج کو ہتھیار لے جانے کی اجازت ہو گی۔اسرائیلی حملوں پر ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو مداخلت کرنے اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ شام جلد ہی کسی بھی وقت اسرائیل کے ساتھ کسی تنازع میں جانے کا منصوبہ نہیں بنا رہا ہے۔اسرائیلی شام پر مسلسل بمباری کر رہے ہیں۔ 8 دسمبر کو الاسد حکومت کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل نے ملک بھر میں فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔شدید فضائی حملے کر کے اسرائیل ملک کی فوجی صلاحیتوں کو کم کر رہا ہے لیکن خاص طور پر، وہ ملک کے فضائی دفاع اور فضائیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ نئی شامی انتظامیہ اسرائیلی حملوں اور جارحیت کے لیے انتہائی کمزور ہو جائے۔اسرائیل کے جاری فضائی حملوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے جو 1974 میں شام اور اسرائیل کے درمیان طے پایا تھا۔

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

  • آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا

    بلوچستان کی یخ بستہ ہوائوں کے سبب شہر قائد میں سردی کی لہر برقرار ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم سرد اور خشک رہے گا۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق پیرکو شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 10.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ جناح ٹرمینل پر 8.9، فیصل بیس پر 11.5 اور مسرور بیس پر 12.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 28 جبکہ کم سے کم 10 ڈگری سینٹی گریڈ متوقع ہے۔ دن بھر 3 سے 10 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مشرقی سمت سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔شہریوں کو سردی کی شدت اصل درجہ حرارت سے 2 تا 4 درجے کم محسوس ہو رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں ہلکی دھند کے باعث پیرکی صبح کم سے کم حدِ نگاہ 3 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس مؤخر کرنے کا فیصلہ

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار