Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کیلیے حب ڈیم سے 50 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی سے وزیراعلی ہاس میں ملاقات کے دوروان کے فور منصوبے اور آر بی او ڈی سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیربلدیات سعید غنی، وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور کے فور منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عامر مغل نے شرکت کی۔ملاقات کے ابتدا میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کو پانی کی سپلائی بڑھانے کیلیے متوازی کینال بنا رہی ہے۔ انہوں نے کراچی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے یومیہ 50 ملین گیلن اضافی پانی مختص کرنے پر زور دیا۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی کو تجویز دی کہ وہ واٹر بورڈ سے کہیں کہ اس سلسلے میں تحریری درخواست جمع کرائے جس پر میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ تحریری درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ حب کینال کی مرمت کے سلسلے میں واٹر بورڈ پر واپڈا کے 1 ارب روپے واجب الادا ہیں، وزیراعلی نے جواب دیا کہ ان کی حکومت واپڈا کے واجبات کا معاملہ حل کرے گی۔ انہوں نے وزیر بلدیات سعید غنی کو سمری پیش کرنے کی ہدایت کی۔کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے 4 (فیز1) کے کینجھر جھیل سے کراچی میں تین اختتامی پوائنٹس ہیں جن میں پپری، نیک اور منگھوپیر شامل ہیں۔پروجیکٹ واپڈا بنا رہی ہے اور تکمیل کی تاریخ جون 2026 ہے۔واپڈا کی جانب سے جو تعمیرات کی جا رہی ہیں ان میں کینجھر جھیل پر 650 میلن گیلن یومیہ کا انٹیک اسٹرکچر، کینجھر پمپنگ کمپلیکس کو جانے والے 650 ملین گلین یومیہ گریویٹی چینل، کمپلیکس میں 130 ایم جی ڈی کی 2 پمپنگ اسٹیشنز ہوں گی۔ اس کے علاوہ 260 ایم جی ڈی کی پائپ لائن اور فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ 3 آبی ذخائر کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔دوسری جانب حکومت سندھ تقسیم اور توسیع کے نظام پر کام کر رہی ہے۔ 50 میگاواٹ پاور سپلائی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں اور راستے میں منصوبے کے لیے درکار زمینیں حاصل کی جا رہی ہیں۔چیئرمین واپڈ نے کے 4 منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ قومی اور بین الاقوامی کنٹریکٹرز کے ذریعے 8 مختلف ٹھیکوں کی صورت میں مکمل کیا جا رہا ہی. انٹیک اسٹرکچر، پمپنگ اسٹیشنز، واٹر سپلائی کے نظام، پانی کے ذخائر اور فلٹریشن پلانٹس سمیت تمام منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
    مجموعی طور پر منصوبے پر 53 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔بات چیت میں حکومت سندھ کے حصے کے ساڑھے 8 ارب روپے کا اجرا بھی زیر بحث آیا جس پر وزیراعلی سندھ نے وزیربلدیات سعید غنی کو ہدایت کی کہ وہ سندھ حکومت کے حصے کے پیسے جاری کرنے کیلیے سمری تیار کریں۔راستے کی 5 کلومیٹر زمین اور عدالتی مقدمات کے سلسلے میں وزیراعلی سندھ نے میئر کراچی مرتضی وہاب کو ہدایت کی کہ اسٹے آرڈرز ختم کرائیں تاکہ منصوبے پر کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔اس کے علاوہ آر ڈی 78 پر ایک اور زمین کے تنازعے پر وزیراعلی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو کو ہدایت کی کہ معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ حل کیا جائے۔وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈ نے وفاقی فنڈز سے بنائے گئے آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ آر بی او ڈی 1 منصوبہ لاڑکانہ ، دادو اور جامشورو سے سیم زدہ ، زرعی نکاسی اور سیلابی پانی کو نکالنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ آر بی او ڈی 3 منصوبہ قمبر شہدادکوٹ اور جیکب آباد کا پانی نکالتا ہے۔لوئر انڈس رائٹ بینک اریگیشن اینڈ ڈیرینیج پروجیکٹ ( ایل آئی آر بی پی) خصوصی طور پر آر بی او ڈی 1 منصوبہ 1994 میں سیم اور سیلابی پانی کو سہون کے مقام پر انڈس لنک کینال کے راستے دریائے سندھ میں چھوڑنے کی غرض سے تعمیر کیا گیا تھا۔آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبے بالترتیب 2020 اور 2021 میں مکمل کیے گئے تھے اور محکمہ آبپاشی سندھ کے حوالے کیے جانے تھے تاہم واپڈ کی طرف سے نقصانات کی بحالی اور قرضے کے تنازعات کے باعث منصوبے حکومت سندھ کے حوالے نہیں کیے جاسکے۔وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب کے دوروان حکومت سندھ نے آر بی او ڈی کی بحالی اور مرمت پرکروڑوں روپے خرچ کیے جس پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ واپڈا یہ پیسے صوبائی حکومت کو ادا کرے۔ملاقات کے آخر میں وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈا نے محکمہ آبپاشی اور واپڈا کے اراکین پر مشتمل ماہرین کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ کمیٹی آر بی او ڈی 1 اور آ ربی او ڈی 3 کے ایشوز کا جائزہ لے کر منصوبے حکومت سندھ کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

  • ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    کراچی چڑیا گھر سے ہتھنی مدھوبالا کو سفاری پارک منتقل کر دیا گیا ہے،ہتھنی کو کنٹینر کے ذریعے ٹرک پر لوڈ کر کے سفاری پارک لایا گیا، منتقلی کے دوران ہتھنی نے کنٹینر میں خود کو زخمی بھی کر لیا۔

    باغی ٹی وی کو سربراہ فورپاز ڈاکٹر عامر خلیل نے اس حوالے سے بتایاکہ دیکھنا ہے کہ مدھوبالا سفاری پارک میں موجود ہتھنیوں سے کتنے وقت میں مانوس ہوتی ہے۔چڑیا گھر میں موجود ہتھنی مدھوبالا کو سفاری پارک میں منتقل کرنے کے لیے صبح کنٹینر میں سوار کیا گیا تھا، بعد ازاں اس کنٹینر کو کرین کی مدد سے ٹرک پر لوڈ کیا گیا۔ہتھنی مدوھوبالا کا ٹرک لیاری ایکسپرے وے سے سہراب گوٹھ اور پھر ابوالحسن اصفہانی روڈ سے ہوتا ہوا سفاری پارک لایا گیا۔منتقلی کے دوران سٹی وارڈنز کی بھاری نفری تعینات رہی۔سربراہ فورپاز ڈاکٹر عامر خلیل کے مطابق ہتھنی بہت کوششوں کے بعد کنٹینر میں داخل ہوئی، کنٹینر میں ڈالنے کے بعد اسے نیم بیہوشی کی دوا دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ہتھنی کے لیے سفاری پارک میں 3 گنا بڑی جگہ بنائی گئی ہے، جس میں خصوصی انکلوژر، سوئمنگ پول اور دیگر سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔انعامر خلیل نے بتایا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ سفاری پارک میں موجود ہتھنیوں ملکہ اور سونیا سے یہ کتنے وقت میں مانوس ہوتی ہے۔ جانوروں کے حقوق کی کارکن عائشہ سحر نے کہا کہ مدھو بالا نے خود کو کنٹینر میں مارا ہے جس کے باعث وہ زخمی ہوئی ہے، خدشہ ہے کہ وہ بہت زیادہ زخمی ہو گئی ہے، پہلے ہی وہ بہت کمزور ہے، اب اس کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔

    ہوا کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ،نیدرلینڈز میں وارننگ جاری

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

    حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

  • ہوا کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ،نیدرلینڈز  میں  وارننگ جاری

    ہوا کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ،نیدرلینڈز میں وارننگ جاری

    نیدرلینڈز کے شاہی موسمیاتی ادارے (KNMI) نے بدھ کی دوپہر اور شام کے دوران شدید ہوا کے جھونکوں کے لیے کوڈ یلو وارننگ جاری کی ہے۔

    نیدرلینڈز میڈیا رپورٹ کے مطابق متاثرہ صوبوں میں زی لینڈ، ساؤتھ ہالینڈ، نارتھ ہالینڈ، فریسلینڈ، گروننگن، درینتھے، اوورآئیسسل، فلیوولینڈ، واڈن آئی لینڈز، اور آئیسل میر شامل ہیں۔ KNMI کے مطابق، تیز ہوائیں دن کے دوران ملک کے جنوب مغربی حصے سے شمال مشرق کی طرف بڑھیں گی۔ساحلی علاقوں میں ہوا کے جھونکے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ (62 میل فی گھنٹہ) تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ اندرون ملک ہوائیں تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ (50 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے چل سکتی ہیں۔ یہ حالات سڑکوں اور فضائی ٹریفک میں خلل ڈال سکتے ہیں، ڈرائیوروں کے لیے خطرات اور ہوائی اڈوں پر تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔KNMI نے اطلاع دی کہ منگل کے روز ساحلی علاقوں میں درمیانے سے تیز جنوبی مغربی ہوائیں چل رہی تھیں، جن کی رفتار بیوفورٹ پیمانے پر 5 سے 6 تک پہنچ رہی تھی۔ منگل کی شام تک ان ہواؤں کے کمزور ہونے کی توقع ہے، لیکن بدھ کے روز حالات دوبارہ شدت اختیار کر لیں گے۔بدھ کی صبح اندرون ملک معتدل جنوب مشرقی ہوائیں چلیں گی، جو شمال مغربی ساحل پر زیادہ تیز ہو جائیں گی۔ شام تک ہوا جنوبی مغربی سمت میں بدل جائے گی اور شدت اختیار کر لے گی، ساحلی علاقوں میں بیوفورٹ پیمانے پر رفتار 7 یا 8 تک پہنچنے کے امکانات ہیں، اور مختصر طور پر شمال مغربی طوفان (طاقت 9) کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔”بدھ کی شام گہرے بادل چھائے رہیں گے اور شمالی و مغربی علاقوں میں بارش ہوگی،” KNMI نے بیان دیا۔ "مغرب میں ہوا کے جھونکے 80 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ (50-56 میل فی گھنٹہ) کی رفتار تک پہنچ سکتے ہیں، اور ساحلی علاقوں میں یہ جھونکے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتے ہیں۔ شام دیر گئے جنوب مغربی علاقوں میں ہوا کی شدت کم ہو جائے گی۔”جمعرات تک، کچھ علاقوں میں بارش جاری رہے گی کیونکہ طوفانی نظام مشرق کی طرف بڑھ رہا ہوگا۔ دن کے دوران حالات بہتر ہونے کی توقع ہے، موسم خشک اور کبھی کبھار دھوپ کے ساتھ ہوگا۔ دن کے درجہ حرارت تقریباً 9 ڈگری سیلسیس (48°F) کے آس پاس رہے گا، جبکہ ہوا کی رفتار درمیانی شمال مغربی ہوگی۔جمعہ اور ہفتہ کو خشک موسم اور دھوپ کی توقع ہے۔ دن کا درجہ حرارت 9 ڈگری سیلسیس کے قریب ہوگا، لیکن رات کے وقت اندرون ملک درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے جا سکتا ہے، جس سے کہر کا امکان ہے۔اگرچہ بدھ کا ہوا کا واقعہ کسی نامزد طوفان کے طور پر درجہ بند نہیں ہے، لیکن اسٹورم برٹ کے اثرات، جو ہفتے کے آخر میں آئرلینڈ اور برطانیہ سے ٹکرایا تھا، نیدرلینڈز کے کچھ حصوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ خاص طور پر فریسلینڈ میں پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے، اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے پمپ مکمل صلاحیت پر کام کر رہے ہیں۔ڈوکم میں پانی کی سطح غیر معمولی بلندی تک پہنچ گئی، جیسا کہ Wetterskip Fryslân، علاقائی پانی کے ادارے، نے اطلاع دی۔ "یہ ایسا منظرنامہ ہے جو ہم ہر 25 سال میں ایک بار دیکھتے ہیں،” ترجمان نے کہا۔متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تیز ہوا کے دوران احتیاط برتیں اور مقامی حکام سے موصول ہونے والی اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔

  • خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اسلام آباد میں مظاہرین کے ہاتھوں رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت کسی نوعیت کے انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا، پی ٹی آئی کے رہنما ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، پی ٹی آئی کو اپنے مفادات اور سیاست سے پہلے پاکستان کی بہتری کیلئے سوچنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں اور ہر شہری کو احتجاج کا حق حاصل ہے لیکن حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے جو کسی بھی محب وطن سیاسی جماعت کو زیب نہیں دیتا۔ پی ٹی آئی کے رہنما یہ یاد رکھیں کہ حکومتیں تو تبدیل ہوتی رہتی ہیں اٴْن کے خلاف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کیا جاسکتا ہے لیکن سرکاری اہلکاروں کی شہادت جیسے انتہائی اقدام اٴْٹھائے جانے یا ریاست پر براہِ راست حملہ آور ہونے کا مداوا پی ٹی آئی کبھی نہیں کر سکے گی۔ آخر میں انہوں نے ریاست مخالف احتجاج اور شرپسندی کا حصہ نہ بننے پر کراچی کے پرامن اور محب وطن شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

    حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے اور لوٹ مار کے دوران جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں .

    باغی ٹی وی کے مطابق منعم ظفر خان نے اپنے بیان میں مزیدکہاکہ شہری ایک جانب ڈکیتی کی وارداتوں سے پریشان ہیں دوسری جانب شہر میں ایک بار پھر سے ٹارگٹ کلنگ کے وارداتیں شروع ہوچکی ہیں، پیسے اور موبائل فون چھین لینے کے باوجود لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے ، حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ،صوبائی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائمز کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،بتایا جائے کہ آخر جرائم پیشہ عناصر ودہشت گرد وںکے نیٹ ورک کو توڑا کیوں نہیں جارہا ،کون سی طاقتیں ان کی سرپرستی کررہی ہیں ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کب شروع ہوگی رواں سال ڈکیتی کی وارداتوں میںاب تک 102 شہری اپنی جان گنوابیٹھے ،شہری مسلح ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کی دن دہاڑے اور بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث نہ صرف پریشان ہیں بلکہ شدید عدم تحفظ کا بھی شکار ہیں ، سندھ حکومت نے سیف سٹی پروجیکٹ کے نام پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ کیا لیکن اس کا حاصل اور نتیجہ صفر ہی رہا ہے ،پولیس کے محکمے میں نہ صرف جرائم پیشہ عناصر اورڈاکوؤں کی سرپرستی کرنے والے موجود ہیں بلکہ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اور کراچی کے مقامی باشندوں کی عدم موجودگی نے پولیس کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے محکمے میں اصلاحات کی جائیں ،جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اورکراچی کے مقامی باشندوں کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے ۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو ایک موثر، ٹیکنالوجی سے لیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ عوام کے تحفظ اور سندھ کے عوام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کو فروغ دیا جاسکے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس میں 51ویں خصوصی تربیتی پروگرام اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) کے 27ویں ابتدائی کمانڈ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1843 میں قائم ہونے والی سندھ پولیس برصغیر کا سب سے قدیم پولیس ادارہ ہے اور عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ 1 لاکھ62 ہزار اہلکاروں پر مشتمل سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی فورس ہے جو جرائم کی روکتھام، سراغ رسانی اور قیام امن کےلیے پرعزم ہے۔ ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، سیکرٹری داخلہ اقبال میمن، پی ایس سی ایم آغا واصف، آئی جی پولیس غلام نبی میمن اور دیگر نے شرکت کی۔مراد علی شاہ نے پولیس کی کارکردگی اور صلاحیت بڑھانے کےلیے کئی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ اسمارٹ سرویلئینس سسٹم ( ایس 4 منصوبہ ) ہے جس کے تحت سندھ بھر کے 40 ٹول پلازوں پر نگراں کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد اہم داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی ، بروقت کارروائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس آپریشنز کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، کراچی سیف سٹی پراجیکٹ سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔جرائم کے خاتمے کی حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے سندھ ہیبیچوئل آفنڈرز مانیٹرنگ ایکٹ 2022 کا ذکر کیا جس کے تحت ڈکیتی، بھتہ خوری اور گاڑیوں کی چوری میں ملوث عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی پی ایس سے منسلک کڑے اور بریسلٹس مجرموں کی بروقت نگرانی کو یقینی بنائیں گے تاکہ صوبے میں محفوظ علاقوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ محکمہ پولیس کی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ اہم شعبوں کو مضبوط کرنے کےلیے خاطرخواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کو 2 ارب 70 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اسپیشل برانچ نے 1 ارب 20 کروڑ روپے وصول کیے ہیں جبکہ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کو 60 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن آفیسرز کےلیے بھی انعامات رکھے گئے ہیں۔ پولیس تھانوں کےلیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایس ایچ اوز کو ڈی ڈی او کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ سندھ پولیس کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی مدد کےلیے حکومت سندھ نے 4 ارب 96 کروڑ اور 10 لاکھ روپے مالیت کا انشورنس پروگرام متعارف کرایا ہے۔ شہدا پیکج میں اضافے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت معاوضے کی رقم ایک کروڑ سے بڑھا کر 2 کروڑ 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ شہید کے خاندان کو ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ کی ادائیگی اور خاندان کے 2 افراد کو ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ مہارت میں اضافے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت پالیسیوں اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کےلیے پولیس افسران، وکلا اور ججز کےلیے تربیتی پروگرام پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اہلکاروں کو جدید چیلنجز اور قیام امن کے قابل بنانے کےلیے صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات جاری ہیں۔ سندھ حکومت کے جامع اقدامات سندھ پولیس کو جدید ، مستعد اور ٹیکنالوجی سے لیس فورس بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے عوام کے تحفظ اور قانون پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے سندھ پولیس پاکستان کی مثالی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی بننے جا رہی ہے۔

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

    ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر و سابق رکن قومی اسمبلی اسد اللہ بھٹو کی زیر صدارت پیر کو ادارہ نور حق میں صوبائی کونسل کا اجلاس ہوا .

    باغی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں پارا چنار میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے فرقہ وارانہ فسادات کی ایک گہری اور منظم سازش قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ملک دشمنوں کی جانب سے عوام کو تقسیم اور ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اجلاس میں حکومتی ناا ہلی و بے حسی ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عوام کے تحفظ میں ناکامی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بھی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ سانحے کی تحقیقات کرائی جائے ، حکومت و قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردارادا کریں ۔پاراچنار میں ہونے والی اموات کی ذمہ داری حکومت اور سیکوریٹی اداروں پر عائد ہوتی ہے ، علاقے میں کانوائے کو حفاظتی تدابیر اور ضروری انتظامات کے بغیر روانہ کیا گیا اور بعد میں بھی شہریوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے ۔اجلاس میں کہا گیا کہ جس طرح آج تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام باہمی روادری و اتحادِ امت کے اظہار کے لیے اجلاس میں موجود ہیں اسی طرح ملک بھر کے عوام اور تمام مکاتب فکر کے علماء کے درمیان بھی کوئی شیعہ سنی کی تفریق موجود نہیں ، بعض ملک دشمن عناصر اور قوتیں پارا چنار کے واقعات کو مذہبی رنگ دے کر اس اتحاد ِ امت کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔مسلمان ایک جسد ِ واحد ہیں ان میں تفریق اور تقسیم پیدا کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ، اجلاس میں علماء کرام پر زور دیا گیا کہ وہ عوام کے درمیان مذہبی ہم آہنگی و رواداری کے فروغ اور اتحاد ِ امت کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور بالخصوص جمعہ کے خطبات میں اس سلسلے میں عوام میں آگاہی پیدا کریں کیونکہ ایک معصوم انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے ۔اجلاس میں غزہ و لبنان میں اسرائیلی دہشت گردی کی بھی شدید مذمت کی گئی ہے اور او آئی سی وعالم اسلام کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کی جارحیت و دہشت گردی کے خلاف بزدلی اور کمزوری دکھانے کے بجائے جرأت مندانہ موقف اختیار کریں ، او آئی سی کے پلیٹ فارم کو بھی موثر طریقے سے استعمال کریں اور اسرائیل کو اہل غزہ و لبنان کے حق میں واضح پیغام دیں،57اسلامی ممالک کے حکمران بے حسی ترک کریں ، حکمران خواہ کوئی بھی موقف اختیار کریں عالم اسلام کے عوام کا ضمیر زندہ ہے اور عوام اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اہل غزہ و لبنان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے ۔اجلاس میں سندھ کے پانی کے مسئلے کے حوالے سے ارسا معاہدے 1991ء پر مکمل عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اس معاہدے کی پابندی کی جائے ۔ اجلاس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے علماء کرام پر زور دیا گیا کہ وہ جمعہ کے خطبات میں قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے بھی آواز بلند کریں جو طویل عرصے سے امریکہ قیدمیں ہے اور کسی بھی حکومت نے ان کی رہائی کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کیا ۔اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل سندھ کے جنرل سیکریٹری قاضی احمد نورانی ، سابق امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی ،مجلسِ وحدت المسلمین کے مختار احمد امامی ،ناصر حسینی ،مولانا محمد صادق جعفری ، ملک غلام عباس ،اصغر حسین شہیدی، رابطہ علماء و مشائخ پی ایم ایم ایل کے ثقلین اسحاق ، عبدالعظیم محمدی ، امام و خطیب جامع مسجد عیسیٰ علامہ عارف رشید مسعود ، اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم کے محمد عمر خان ، نائب امراء جماعت اسلامی کراچی برجیس احمد ،مسلم پرویز ،جماعت اسلامی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات مجاہد چناء ، جماعت اسلامی کراچی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی شامل ہیں ۔

    کراچی کے ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر برداشت نہیں کرونگا، وزیراعلی سندھ

  • کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    کشتی ڈوبنے کے واقعے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے۔

    اطلاعات کے مطابق ابراہیم حیدری کے قریب کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں چھ افراد ڈوب گئے، جن میں سے ایک شخص جاں بحق جب کہ 2 کو ریسکیو کرلیا گیا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ماہی گیروں کی تنظیم کے رہنما یونس خاصخیلی کے مطابق کشتی میں 6 افراد سوار تھے، جو حادثے کے نتیجے میں ڈوب گئے، جن میں سے 2 کو ریسکیو کرلیا گیا ہے جب کہ مقامی غوطہ خور ڈوبنے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کشتی میں سوار 6 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ حادثے میں جاں بحق اور لاپتا شخص آپس میں بھائی ہیں۔ یہ تمام لوگ کشتی پرسوار ہوکر بھنڈار میں عرس میلہ دیکھنے جارہے تھے۔واقعہ گزشتہ شب 8 بجے بھنڈار کے مقام پر پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

  • لاکھوں روپے مالیت کی چھالیہ کی اسمگلنگ ناکام

    لاکھوں روپے مالیت کی چھالیہ کی اسمگلنگ ناکام

    ویسٹ پولیس نے لاکھوں روپے مالیت کی 156 من سے زائد چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اسمگلنگ میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت فرید ولد شیر محمد کے نام سے کی گئی جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔ایس ایس پی ویسٹ طارق الہی مستوئی کے مطابق ملزم نوید کو ٹارگیٹڈ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا، برآمد شدہ چھالیہ ڈمپر میں لوڈ کرکے کرش پتھر کے نیچے چھپائی گئی تھی۔چھالیہ کا مجموعی وزن 6240 کلو گرام ہے جس کی مالیت مارکیٹ میں لاکھوں روپے کی ہے۔طارق الہی مستوئی نے بتایا کہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے ڈمپر نمبری SB-2146 کو قبضہ پولیس میں لے لیا گیا ہے جبکہ گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے کسٹم حکام کے حوالے کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سندھ حکومت نے مشیات کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کے تحت کراچی سمیت سندھ بھر میں کاروائیاں کی جا رہی ہیں.

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    کراچی میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند ہونے لگے، خریدار پریشان

  • نازیبا وڈیو کیس: ملزمان  کےوارنٹ گرفتاری جاری

    نازیبا وڈیو کیس: ملزمان کےوارنٹ گرفتاری جاری

    سندھ ہائیکورٹ نے نوجوان لڑکی کو نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے کے مقدمے میں 3 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

    ہائیکورٹ میں نوجوان لڑکی کو نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے کے مقدمے میں ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار کے وکیل سعید الزماں ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ الفلاح پولیس نے ایک سال پہلا مقدمہ درج کیا لیکن کارروائی نہیں کی۔ ملزم تابش نے مدعیہ کو بیلک میل کرکے 2 گھر بھی ہتھیا لیے۔ ملزم نے نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر ایک سال پہلے وائرل کی تھی۔عدالت نے ملزم تابش، خالد خوشابہ اور عبد الحمید کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔

    مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی وفد عمران خان سے مشاورت کیلئے اڈیالہ جیل پہنچ گیا

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    پانی کی عدم فراہمی پر ایکسیئین واٹر بورڈ طلب