Baaghi TV

Author: سعد فاروق

  • وزیر داخلہ سندھ  کی زیر صدارت اجلاس، چائنیز شہریوں کی سیکیورٹی کا جائزہ

    وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت اجلاس، چائنیز شہریوں کی سیکیورٹی کا جائزہ

    ‏وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں چائنیز شہریوں کی سیکیورٹی اقدامات سے متعلق مختلف امور و حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ڈی آئی جیز،سی ٹی ڈی،اسپیشل برانچ اور سی پیک/ایس پی یو سمیت قانون نافذ کرنیوالے دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کو بریفنگ پر مشتمل تفصیلات میں چائنیز باشندگان، ماہرین و دیگر عملے کو مختلف پروجیکٹس پر فراہم کردہ سیکیورٹی سے متعلق بتایا گیا۔ اس موقع پر ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ سی پیک،نان سی پیک سے وابستہ چائنیز کی سیکیورٹی کو ہر سطح پر مربوط اور مؤثر بنایا جائے۔سندھ میں جاری سی پیک،نان سی پیک پروجیکٹس پر سیکیورٹی سے متعلق نے تمام تر ضروری اقدامات پر مشتمل ایس او پی کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔حکومت سندھ کی باقاعدہ سپورٹ اور تعاون سے سی پیک اور نان سی پیک پروجیکٹس سے وابستہ غیرملکیوں/چائنینز کی سیکیورٹی کے مجموعی امورکو مذید غیرمعمولی بنایا جائے۔نان سی پیک منصوبوں پر سندھ میں مصروف غیرملکی ماہرین/اسٹاف کی سیکیورٹی کے حوالے سے تمام چیمبرز/ صنعتی زونز کے نمائندگان و عہدیدارن سے شیڈول اجلاس ترتیب دیں۔سندھ میں غیرملکیوں کی آمد و انکی سیکیورٹی کے حوالے سے اسپانسرز کی بھی ذمہ داریوں کا احاطہ کیا جائے۔

    کراچی کے شہریوں کو ہیٹ ویو جیسی صورتحال کا سامنا

  • کراچی کے شہریوں کو ہیٹ ویو جیسی صورتحال کا سامنا

    کراچی کے شہریوں کو ہیٹ ویو جیسی صورتحال کا سامنا

    کراچی میں آج انتہائی گرم ومرطوب دن ریکارڈ ہوا،نمی کاتناسب 56فیصد تک بڑھنے کے سبب اصل درجہ حرارت سے زیادہ گرمی محسوس ہوئی،دن کیوقت ہیٹ ویو جیسی صورتحال رہی.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آج شہرمیں ایک اورگرم دن ریکارڈ ہوا،جس کے دوران اکتوبرمیں جون،جولائی جیسی صورتحال رہی،دن کیوقت گذشتہ کئی روز سے مختصروقت کے لیے بند سمندری ہوائوں نے جزوی طورپربحالی کے دوران نمی کے تناسب کوبڑھادیا،جس کی وجہ سے دن کے وقت لوکے تھپیڑے چلیاورہیٹ ویو جیسی صورتحال رہی۔واضح رہے کہ گذشتہ کئی روزکیدوران شہرکا موسم بلوچستان کی گرم صحرائی ہواوں کی وجہ سے گرم وخشک رہا،جس کے دوران نمی کا تناسب قدرے کم رہا،محکمہ موسمیات کیمطابق پیرکوشہرکا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37.6ڈگری رہا،تاہم ہوامیں نمی کاتناسب 56فیصد تک بڑھنے اورتیزدھوپ کی وجہ سیاصل درجہ حرارت سے کئی ڈگری اضافی(46ڈگری کے قریب)گرمی کی شدت محسوس کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق اکتوبرکا مہینہ عموما دوموسموں کے درمیان منتقلی کا مہینہ کہلاتاہے،جس کے دوران گرمی کی صورتحال بھی پیدا ہوتی ہے، اسی وجہ سے ہرسال مئی اورجون کے علاوہ اکتوبرکوبھی گرم مہینوں میں شمارکیا جاتا ہے،تاہم رواں سال گرمی کی شدت زیادہ رہی۔چیف میٹرولوجسٹ کراچی سردارسرفرازکیمطابق مجموعی طورپراکتوبرکے مہینے میں اوائل سے ہی گرم موسم کا آغازہوا،6 اکتوبرسے شروع ہونے والی گرمی کی مختلف لہروں کے دوران زیادہ گرمی محسوس کی گئی،چیف میٹرولوجسٹ کے مطابق مالدیپ اوربھارتی،راجستھان کے قریب بننے والے ہواکے کم دبائو جو بعدازاں عمان اوریمن کی جانب منتقل ہوئے،ان سرگرمیوں نے سمندری ہواں کاراستہ روکا،جس کی وجہ سے شہرمیں غیرمعمولی گرمی کی صورتحال پیداہوئی جبکہ شہر کے نچلی اوراوپری سطح کی فضائوں میں ہواکے زیادہ دبائو نے بھی گرم موسم کا راستہ ہموارکیا۔
    حالیہ ہواکے زیادہ دبائو کی وجہ سے ان دنوں شہرمیں گرمی کی شدت بڑھ گئی ہے،تاہم یہ سلسلہ اب پیرکوبتدریج مشرقی بھارت کی جانب منتقل ہونا شروع ہوگیا ہے،یہی وجہ ہے کہ پیرکوسمندر کی بند ہوائیں کھلنے پرنمی کی شدت بڑھی،جس کے سبب موسم گرم ومرطوب رہا،تاہم آنے والے دنوں میں یہ امکان ہے کہ گرمی کی شدت میں معمولی کمی واقع ہوگی۔خنک وسرد موسم کی صورت میں موسم کی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گرمی کی موجودہ لہرمزید پانچ روزتک جاری رہ سکتی ہیجبکہ یہ سلسلہ نومبرکے پہلے ہفتے تک درازہوسکتا ہے، جس کے بعد یہ امید ہے کہ موسم میں بتدریج بہتری آناشروع ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ دیہی سندھ کے مختلف اضلاع وکراچی میں اکتوبرکے اوسط درجہ حرارت سے کئی ڈگری زیادہ گرمی رہی،جس کے دوران دن کے درجہ حرارت میں اضافے کے علاوہ رات کا درجہ حرارت بھی 4سی6 ڈگری اضافی رہا۔

  • رواں سال پاکستان کی بیشتر ممالک کیلئے برآمدات میں اضافہ ہوا

    رواں سال پاکستان کی بیشتر ممالک کیلئے برآمدات میں اضافہ ہوا

    رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ پاکستان کی بیشتر ممالک کے لیے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، سنگاپور کے لیے برآمدات میں سب سے زیادہ 585 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ امریکا کے لیے برآمدات کا حجم سب سے زیادہ 98 کروڑ ڈالر رہا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں سنگاپور کے لیے برآمدات میں 585 فیصد، قازقستان کے لیے 528 فیصد جبکہ فلپائن کے لیے برآمدات میں 148 فیصد کا اضافہ ہوا۔جولائی اور اگست 2024 میں متحدہ عرب امارت کے لیے برآمدات 56 فیصد بڑھیں جبکہ اسی مدت میں سری لنکا کے لیے برآمدات میں 50 فیصد، افغانستان کے لیے 42 فیصد اور بنگلہ دیش کے لیے برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں اومان کے لیے برآمدات میں 35 فیصد جبکہ سعودی عرب کے لیے 24 فیصد اضافہ ہوا۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جولائی، اگست 2024 میں امریکا کے لیے برآمدات میں 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ اسی دوران اٹلی کے لیے برآمدات میں 12.6 فیصد، جرمنی کے لیے 12.3 فیصد اور برطانیہ کے لیے برآمدات میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔ذرائع کے مطابق مالی سال کے پہلے دو ماہ میں کینیا، بیلجیئم، اسپین، آسٹریلیا، کینیڈا سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی برآمدات میں اضافہ ہوا۔مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں امریکا کے لیے برآمدات کا حجم سب سے زیادہ 98 کروڑ ڈالر رہا جبکہ برطانیہ کے لیے برآمدات کا حجم 37 کروڑ ڈالر اور چین کے لیے 31 کروڑ ڈالرز رہا۔ذرائع کے مطابق مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں متحدہ عرب امارات کے لیے برآمدات کا حجم 29 کروڑ 35 لاکھ ڈالر اور جرمنی کے لیے 28کروڑ ڈالر رہا۔

    معاشرے سے منیشات کےخاتمے کے لئے ہر کسی کو تعاون کرنا ہوگا، شرجیل انعام میمن

    صدر مملکت سے روسی فیڈریشن کونسل کی چیئرپرسن کی ملاقات

    کراچی:ہسپتال کی دیوار گرنے سے ڈاکٹر، سابق پولیس افسر جاں بحق، متعدد زخمی

    بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کو پی ٹی آئی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر نکال دیا

  • معاشرے سے منیشات کےخاتمے کے لئے ہر کسی کو تعاون کرنا ہوگا، شرجیل انعام میمن

    معاشرے سے منیشات کےخاتمے کے لئے ہر کسی کو تعاون کرنا ہوگا، شرجیل انعام میمن

    سندھ کے وزیر ایکسائز اینڈنارکو ٹکس شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ معاشرے سے منیشات کی لعنت کا خاتمہ صرف کسی تنہاحکومت یا وزیر کے لئے ممکن نہیں اس کام کے لئے ہر کسی کو تعاون کرنا ہوگا.

    سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم کیو ایم کے رکن جمال احمد کے ایک توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہی جس میں فاضل رکن معاشرے میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی کی تھی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ میں اپنے ساتھی رکن کی بات سے انکار نہیں کرتا ، واقعی یہ ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے تاہم حکومت سندھ اس لعنت کے خاتمے کے لئے دن و رات کام کررہی ہے۔ حکومت سندھ اس برائی کے خاتمے کے لئے ہرممکن اقدامات کررہی ہے امتناع منشیات کا قانون کسی اورصوبے نے منظور نہیں کیا، سندھ نے اس سلسلے میں پہل کی ہے۔ہم نے شکایتی مراکز قائم کیئے ہیں اور ان کے فون نمبر کی تشہیر بھی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اکیلا منشیات کا خاتمہ نہیں کر سکتا لیکن ہم سب مل کر منشیات کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کرسٹل اور آئس بہت خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ہمیں ہر ضلع ہر تحصیل میں بحالی کے مراکزبنانے پڑیں گے۔سندھ میں اے این ایف اور سندھ حکومت نے مل کرسینٹر بنائے ہیں اس وقت سینٹرز میں صرف 400 مریض ہیں۔7 ہزار افراد ریہبلیٹشن سینٹرز کے ویٹنگ لسٹ پر ہیں۔ یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ منشیات کی لعنت پورے ملک میں موجود ہے۔ ہم نے بہت بڑے منشیات فروش گرفتار کیئے ہیں۔ منشیات فروش اسلام آباد سے آپریٹ کرتے ہیں۔اب ہم اسلام آباد جاکر بھی ان کو گرفتار کر سکتے ہیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ منشیات کی روک تھام کے لیے کام چل رہا ہے اورمحکمہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہا۔مختلف اضلاع سے حالیہ ماضی میں منشیات فراہم کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے ارکان سندھ اسمبلی سے کہا کہ جو بھی شکایت ہو ارکان اسمبلی بغیر کسی خوف کے بتائیں۔ایوان کی کارروائی کے دوران کئی دیگر توجہ دلا? نوٹس بھی زیر بحث آئے۔ ایم کیو ایم کی خاتون رکن قرة العین نے کہا کہ ورکرز ماڈل اسکول کورنگی نمبر ڈیڑھ اور گورنگی تین نمبر پرائیمری سیکشن اسکول کی حالت اتنہائی خراب حالت ہے۔
    وزیر محنت بتا سکتے ہیں کہ لیبر کے اسکول کی حالت کب بہتر ہوگی وزیر محنت شاھد تھیم نے کہا کہ اسکول کی عمارت کو بنانے کیلئے پی سی ون ہوگیا ہے اوراسکول کی بحالی کیلئے 127.43 ملین کی منظور لینی ہے۔منظوری ملنے کے بعد اسکول کی بلڈنگ کو بہتر طریقے بنایا جائے گا۔رکن سندھ اسمبلی فرح سہیل نے اپنے توجہ دلا? نوٹس میں کہا کہ گوٹھ فقیر محمد لغاری تعلقہ جوہی کا اسکول ایک خیمے میں چل رہا ہے۔اس اسکول کی عمارت تعمیر کی جائے۔ وزیر تعلیم سردار شاہ نے کہا کہ سندھ میںہمارے پاس 5 ہزار سے زائد اسکول شیلٹر لیس ہیں۔ یہ اسکول بھی شیلٹر لیس اسکول ہے۔ دیہاتیوں نے خود یہ اسکول بنایا تھا۔ اس اسکول میں54 بچے ہیں دو اساتذہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 20 ہزار اسکول سیلاب میں تباہ ہوئے ہیں۔ ایوان کی کارروائی کے دوران کراچی کی ترقیاتی اتھارٹی کی صحت کی ذمے داریوں ،محکمہ بلدیات کے اکا?نٹس ،حکومت سندھ کے اکاؤنٹس اورسیکریٹری محکمہ بلدیات کے اکاؤنٹس کی آڈٹ رپورٹس ایوان میں پیش کردی گئیں،اسمبلی نے چاروں آڈٹ رپورٹس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو ارسال کردیں۔

    کراچی:ہسپتال کی دیوار گرنے سے ڈاکٹر، سابق پولیس افسر جاں بحق، متعدد زخمی

    ساری رات ڈانس کروانا اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر پھیرنا، کیا یہ اخلاقیات ہے؟عبدالقادر پٹیل

    کراچی پولیس کی انسداد جرائم کے خلاف ہفتہ وار کاروائیوں کی رپورٹ

  • کراچی:ہسپتال کی دیوار گرنے سے ڈاکٹر، سابق پولیس افسر جاں بحق، متعدد زخمی

    کراچی:ہسپتال کی دیوار گرنے سے ڈاکٹر، سابق پولیس افسر جاں بحق، متعدد زخمی

    کراچی کے مضافاتی علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں زیر تعمیر ہسپتال کی دیوار گرنے سے ڈاکٹر اور سابق پولیس افسر جاں بحق جبکہ ایک راہگیر خاتون شدید زخمی ہو گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریسکیو 1122 کے عہدیدار حسن خان نے بتایا کہ ہسپتال کے مالکان نے شاہ لطیف ٹاؤن میں ہسپتال سے ملحقہ ایک پلاٹ حاصل کیا تھا جہاں اس کی توسیع کے لیے تعمیراتی کام جاری تھا۔حسن خان نے کہا کہ تعمیراتی کام کے دوران دیوار اچانک گر گئی جس کے نتیجے میں قریب میں موجود 3 لوگ زخمی ہوئے اور 65 سالہ ڈاکٹر رسول بخش ابڑو اور ریٹائرڈ پولیس انسپکٹر 65 سالہ خادم حسین لاشاری جاں بحق ہو گئے۔حسن خان نے تصدیق کی کہ جاں بحق ہونے والے دونوں شہری نجی ہسپتال کے مالک تھے، حادثے میں ایک راہگیر خاتون بھی زخمی ہوئیں جن کی شناخت رقیہ عرفانی کے نام سے ہوئی۔حسن خان نے کہا کہ خاتون کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) لے جایا گیا، جہاں ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی اور ان کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ زخمی خاتون کے نابالغ بچے کو چوٹیں آئیں اور اسے جائے حادثہ پر ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔حسن خان کا کہنا تھا کہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے ہسپتال کی تعمیر کے باعث حادثہ پیش آیا، انہوں نے بتایا کہ ہسپتال کی ایک دیوار کے ذریعے توسیع کی جا رہی تھی اور اسے موجودہ اسٹرکچر سے جوڑا جا رہا تھا جس کے دوران دیوار گرگئی۔

    بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کو پی ٹی آئی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر نکال دیا

    ساری رات ڈانس کروانا اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر پھیرنا، کیا یہ اخلاقیات ہے؟عبدالقادر پٹیل

    غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

  • بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کو پی ٹی آئی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر نکال دیا

    بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کو پی ٹی آئی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر نکال دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسلم گھمن کو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے باہر نکال دیا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پارٹی رہنماؤں نے اسلم گھمن کو آئینی ترامیم پر حکومتی حمایت کے ان کے فیصلے کے حوالے سے پارٹی کی تحقیقات سےآگاہ کیا، انہیں بتایا گیا کہ شکوک و شبہات دور ہونے تک وہ اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتے۔پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مطابق اسلم گھمن نےآئینی ترامیم پر حکومتی حمایت کا فیصلہ کیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی نے پارٹی ہدایات کی خلاف وزرزی پر اپنے 4 اراکین کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے، شوکاز نوٹس شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی، اسلم گھمن، مقداد علی اور ریاض فتیانہ کو جاری کیےگئے تھے۔نوٹس پارٹی ہدایت کی خلاف ورزی پرجاری ہوئے تھے، پارٹی ہدایت کے مطابق تمام اراکین پارلیمنٹ کو آئینی ترمیم کی حمایت سے منع کیا گیا تھا، پی ٹی آئی نے چاروں اراکین قومی اسمبلی سے 7 روز میں شوکاز نوٹس کا جواب طلب کیا تھا۔

    ساری رات ڈانس کروانا اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر پھیرنا، کیا یہ اخلاقیات ہے؟عبدالقادر پٹیل

    غیر ملکی کوچز لگانے کافائدہ کیا ہے؟سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالرؤف کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

  • ساری رات ڈانس کروانا اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر پھیرنا، کیا یہ اخلاقیات ہے؟عبدالقادر پٹیل

    ساری رات ڈانس کروانا اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر پھیرنا، کیا یہ اخلاقیات ہے؟عبدالقادر پٹیل

    پیپلزپارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ساری ساری رات ڈانس کروانا اور ہاتھ میں تسبیح پکڑ کر پھیرنا، کیا یہ اخلاقیات ہے؟

    قومی اسمبلی اجلاس عبدالقادر پٹیل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے میری پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا،سیاست میں ہمیشہ سیاسی جدوجہد کی راہ متعین کی جاتی ہے،جے یو آئی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جد و جہد سمجھ آتی ہے،یہ پی ٹی آئی کون سی سیاست کرتی ہے ان کا مقصد کیا ہے،پاشا اور ظہیر الاسلام کا پراجیکٹ ہم پر نافذ کیا گیا۔ ان کاکہناتھا کہ ہم نے آپ کو کہا تھا حکومت بنائیں آپ نے حکومت نہیں بنائی،دوسرا کوئی حکومت بنائے تو آپ نے حکومت کو چلنے نہیں دینا،آپ حکومت بنانا نہیں چاہتے دوسری کسی جماعت کو حکومت کرنے نہیں دیتے۔ دوران اجلاس شیر افضل مروت نے کورم کی نشاندہی کردی،اسی دوران سنی اتحاد کونسل کے ارکان واک آؤٹ کرگئے ،جے یو آئی ف ارکان نے ساتھ نہ دیا،کورم پورا نکلنے پر ایوان کی کارروائی جاری رہی۔ عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ بھاگنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا،یہ شکایت ضرور کریں،یہ اپنے دور کی کسی بات کی مذمت نہیں کرتے،اس سپیکر کو اس وقت شرم نہیں آئی،اپنی غلطی پہلے مانو،جنات کے گھر میں پتھر مت پھینکو، بھاگنے کی جگہ نہیں ملے گی،آزاد امیدواروں نے ووٹ دیا، کہتے ہیں یہ لوٹے ہیں،جنہوں نے سنجرانی کو ووٹ دیا وہ ضمیر کی آواز تھی،آپ کے 50 لوگ ووٹ دینے پر راضی تھے۔ سنی اتحاد کونسل اراکین سپیکر ڈائس کے پاس جمع ہو گئے،قادرپٹیل نے کہاکہ مجھے پتہ ہے انہوں نے کچھ بھی بہانا کر کے یہاں سے بھاگنا ہے،ان کی حکومت میں ہر دوسرے دن سندھ کیلئے گورنر راج کا نعرہ لگتا تھا،ہم نے آج تک نہیں کہا ، ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے عبدالقادر پٹیل کے ڈانس سے متعلق الفاظ پر احتجاج کیا،ثنا اللہ مستی خیل نے الفاظ حذف کرنے کا مطالبہ کیا،اپوزیشن ارکان نے گو پٹیل گو کے نعرے لگائے۔ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ اگر آپ نے قادر پٹیل صاحب ڈانس کا لفظ بولا ہے تو ایکسپنج کرتے ہیں۔”

    سعودی عرب میں قید ہزاروں پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک ہو گئے

    ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے : وزیراعظم

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

  • سعودی عرب میں قید ہزاروں پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک ہو گئے

    سعودی عرب میں قید ہزاروں پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک ہو گئے

    حکومت پاکستان نے سعودی عرب میں قید 4 ہزار پاکستانیوں کے پاسپورٹ بلاک کردیے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے ان 4 ہزار پاکستانی شہریوں کو بھیک مانگنے اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے پر گرفتار کر رکھا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ان پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ 7 سال کے لیے بلاک کیے گیے ہیں، سعودی عرب میں گرفتار 60 فیصد سے زائد شہریوں کا تعلق صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سے ہے۔حکام کی جانب سے گرفتار افراد کو پاکستان واپس آنے کے لیے ایمرجنسی سفری دستاویزات جاری کیے جا رہے ہیں۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار شہریوں کو سعودی عرب سے ڈی پورٹ کرنے کا آپریشن جلد شروع کیا جائے گا اور پاکستان پہنچنے پر ان ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔یاد رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملتان ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے سعودی عرب جانے والی پرواز میں عمرہ زائرین کے بھیس میں سوار 8 مبینہ بھکاریوں کو جہاز سے اتار دیا تھا۔ایف آئی اے کے بیان کے مطابق امیگریشن کے دوران معلوم ہوا کہ یہ گروپ بھیک مانگنے کے مقصد سے سعودی عرب جا رہا ہے، گروپ نے ایک لاکھ 85 ہزار روپے کی رقم جاوید نامی شخص کے حوالے کی جس نے ان کے ویزوں کے حوالے سے کارروائی کی۔ایف آئی اے کے بیان میں کہا گیا کہ ان افراد نے کہا کہ وہ وہاں بھیک مانگیں گے اور بھیک کی آدھی رقم نائب ایجنٹ کے حوالے کر دی جائے گی، گروپ کے بیانات لے کر ان کے پاسپورٹ قبضے میں لے لیے گئے ہیں اور مذکورہ مسافروں کو قانونی کارروائی کے لیے ملتان میں ایف آئی اے کے انسداد انسانی اسمگلنگ و اسمگلنگ ونگ کو بھیج دیا گیا ہے۔ایف آئی اے نے مزید کہا کہ ملزمان کے خلاف ٹریفکنگ ان پرسنز ایکٹ 2018 کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے بیرون ملک سفر کرنے والے مبینہ بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہی ہے، اس کارروائی سے 2 روز قبل بھی ایف آئی اے نے عمرہ زائرین کے بھیس میں سعودی عرب جانے کی کوشش کرنے والے 16 مبینہ بھکاریوں کو اسی ایئرپورٹ پر پرواز سے اتار لیا تھا۔اس گروپ میں 16 افراد شامل تھے جن میں ایک بچہ، 11 خواتین اور چار مرد شامل تھے، انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں بھیک مانگنے سے حاصل ہونے والی کمائی کا آدھا حصہ اپنے سفری انتظامات میں شامل ایجنٹوں کو دینا ہوگا۔یہ گرفتاریاں اس وقت عمل میں آئیں جب سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کی جانب سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں کے سامنے یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ بھکاریوں کو بڑی تعداد میں غیر قانونی ذرائع سے بیرون ملک اسمگل کیا جاتا ہے۔وزارت کے سیکریٹری نے سینیٹ پینل کے سامنے انکشاف کیا تھا کہ بیرون ملک پکڑے گئے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔انہوں نے کہا کہ عراقی اور سعودی سفرا نے اطلاع دی ہے کہ ان گرفتاریوں کی وجہ سے جیلوں میں بہت زیادہ بھیڑ جمع ہو گئی ہے۔

    ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے : وزیراعظم

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    مولانا فضل الرحمن ترامیم میں فعال کردار پر مبارکباد کے مستحق ہیں ، ڈاکٹر نصیر سواتی

    ماؤں سے گزارش ہے کہ بیٹیوں کو نشتر پکڑنا بھی سکھائیں، خالد مقبول صدیقی

    اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کو کراچی کے ٹریفک مسائل پر گہری تشویش

  • ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے : وزیراعظم

    ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے : وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے ، جب تک پولیو کو ہمیشہ کیلئے شکست نہ دے لیں چین سے نہیں بیٹھیں گے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے ، انشاء اللہ جلد پاکستان پولیو فری ملک بنے گا ، جب تک پولیو کو ہمیشہ کیلئے شکست نہ دے لیں چین سے نہیں بیٹھیں گے ، پولیو کے خاتمے کے حوالے سے حکومتی پولیو ٹیم کی کوششیں لائق تحسین ہیں ۔وزیراعظم نے کوآرڈینیٹر قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ، فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق اور سیکرٹری قومی صحت کو حالیہ انسداد پولیو مہم کےدوران ملک میں پولیو سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے انسداد پولیو مہم کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے اور امیونیٹی گیپ کے حوالےسے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم کو ملک میں حالیہ پولیو کیسز اور انسداد پولیو مہم کے حوالے سے بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت پولیو کے ایکٹو کیسز کی تعداد 41 ہو چکی ہے ، ان کیسز میں سے 25 کیسز ایسے ہیں جن کی روٹین امیونائزیشن بہتر نہیں ہے ، ملک کے جن علاقوں میں بچوں میں پولیو ویکسینیشن کی شرح بہتر ہے وہاں پولیو کا پھیلاؤ کم ہے ۔اجلاس میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    مولانا فضل الرحمن ترامیم میں فعال کردار پر مبارکباد کے مستحق ہیں ، ڈاکٹر نصیر سواتی

    ماؤں سے گزارش ہے کہ بیٹیوں کو نشتر پکڑنا بھی سکھائیں، خالد مقبول صدیقی

    اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کو کراچی کے ٹریفک مسائل پر گہری تشویش

  • سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    سندھ میں اب انڈسٹریز کا پہیہ چلے گا، ملازمتیں بھی ملیں گی

    اب انڈسٹری کا پہیہ چلے گا، معیشت بہتر ہوگی اور ملازمتیں بھی میسر آئیں گی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محکمہ صنعت کو سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائیٹ) اور سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن ( ایس ایس آئی سی ) کیلیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کردی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سائیٹ اور اسمال انڈسٹریز خود انحصار تنظیمیں ہونی چاہئیں تاہم اضافی ملازمتوں، منصوبہ بندی کی کمی اور تجارتی منصوبوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ مالی بحران کا شکار ہیں۔محکمہ صنعت کے مسائل اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ رحیم شیخ، سیکریٹری صنعت یاسین شر، ایم ڈی سائیٹ غضنفر قادری اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ضرورت سے زیادہ ملازمین کی وجہ سے سائٹ لمیٹڈ تنخواہ اور پنشن کی فراہمی کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ ادارے میں اس وقت 1315 ملازمین اور 754 پنشنرز ہیں۔ تنخواہ، پنشن، ملازمین کے بقایا جات، قرضوں اوردیگر اخراجات کا سالانہ حجم دو ارب، انسٹھ کروڑ سے تجاوز کر جاتا ہے جبکہ کل آمدنی دو ارب روپے سالانہ ہے۔ ادارے کو سالانہ انسٹھ کروڑ، 29 لاکھ، 57 ہزار اور 861 روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔نوری آباد اور کوٹری میں صنعتیں خستہ حالی کا شکار ہیں۔ 25-2024 کے ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص84 کروڑ، 68 لاکھ اور 90 ہزار روپے کی رقم مسائل حل کرنے کیلیے ناکافی ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر صنعت جام اکرام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ لاڑکانہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں سوئی گیس کا مسئلہ جلد حل کرلیا جائیگا۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ایس جی سی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ لاڑکانہ انڈسٹریل اسٹیٹ کو گیس کی فراہمی کیلیے تخمینہ منصوبہ ایک ہفتے کے اندر دے دیا جائے گا۔وزیرصنعت نے وزیراعلیٰ سے درخواست کی کہ وہ سائٹ کی تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ حل کرنے کیلیے 80 کروڑ روپے کی سالانہ امداد کی منظوری دیں جبکہ آپریٹنگ اینڈ مینٹی ننس اخراجات کیلیے ایک مرتبہ 50 کروڑ روپے امداد کی بھی منظوری دی جائے۔وزیراعلیٰ سندھ سے نوری آباد فیز 2 اور کوٹری سائٹ کی بحالی اور انفرا اسٹرکچر کیلیے دو ارب روپے منظوری کی بھی درخواست کی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ کو مزید بتایا گیا کہ سندھ اسمال انڈسٹریز کارپوریشن 2008 سے 2014 تک ضرورت سے زیادہ ملازمین کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا کرر ہی ہے۔ یہاں تک کہ تنخواہ، پنشن اور ملازمین کے بقایا جات دینے کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ادارے میں 656 ملازمین اور 268 پنشنرز ہیں جبکہ 33 سابق ملازمین اب تک اپنے بقایا جات کے منتظر ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسمال انڈسٹریز میں 321 اضافی ملازمین ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ ابھی کرنا باقی ہے۔اسمال انڈسٹیز کے سالانہ اخراجات 93 کروڑ، 48 لاکھ اور 60 ہزار ہیں جن میں سے 49 کروڑ 62 لاکھ اور 30 ہزار روپے تنخواہ، 20 کروڑ ، 77 لاکھ، 70 ہزار روپے پنشن جبکہ 23 کروڑ 8 لاکھ اور اور 60 ہزار روپے ملازمین کے واجبات ہیں۔ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری انڈسٹریز نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ 24-2023 میں 91 کروڑ ، 78 لاکھ اور 50 ہزار اخراجات کے مقابلے میں 22 کروڑ، 93 لاکھ اور 20 ہزار روپے وصولی ہوئی۔اس طرح ادارے کو 50 کروڑ، 48 لاکھ اور 60 ہزار روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سے تنخواہوں اور پنشن کیلیے 40 کروڑ کی سالانہ گرانٹ دینے کی درخواست کی گئی۔وزیر صنعت نے کہا کہ سائیٹ کوٹڑی اور ناردرن بائی پاس کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی صورتحال بھی خستہ حالی کا شکار ہے، بحالی کیلیے فنڈز درکار ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کراچی، حیدرآباد، نصرپور، کشمور، موہن جو دڑو اور اسلام آباد میں قائم تربیتی مراکز کو بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ادارے کیلیے آمدنی کا ذریعہ بن سکیں۔وزیر صنعت جام اکرام نے وزیراعلیٰ سندھ سے تنخواہوں اور پنشن کا مسئلہ حل کرنے کے لیے 60 کروڑ روپے کے یک وقتہ امدادی پیکیج کی درخواست کی۔ انہوں نے سالانہ گرانٹ بھی 40 کروڑ سے بڑھا کر 60 کروڑ روپے کرنے کی درخواست کی۔ ادارے میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم بھی متعارف کرائی جاسکتی ہے۔اجلاس کے دوران اسمال انڈسٹریز روہڑی، ناردرن بائی پاس اور سکھر میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی پر بھی غور کیا گیا جس کیلیے 1 ارب روپے درکار ہوں گے۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سائیٹ کورنگی (فیز2)، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، ایف بی ایریا ایسوسی ایشن ا?ف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری، لانڈھی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری سمیت مختلف صنعتی علاقوں میں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کیلیے ایک ارب 20 کروڑ روپے درکار ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ صنعت کو مختلف سائیٹس اور اسمال انڈسٹریز کیلیے تفصیلی ترقیاتی منصوبے اور الگ سے امدادی پیکج کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ ضروری فیصلے کیے جاسکیں۔دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو سائٹ اور اسمال انڈسٹریز کی تنظیم نو کی بھی ہدایت کی تاکہ وہ پیشہ وارانہ بنیادوں پر کام کریں اور مالی طورپر مستحکم ہو سکیں۔

    مولانا فضل الرحمن ترامیم میں فعال کردار پر مبارکباد کے مستحق ہیں ، ڈاکٹر نصیر سواتی

    کیماڑی پولیس کا منشیات اڈے پر چھاپہ،لیاری گینگ کمانڈر ساتھیوں سمیت گرفتار

    کراچی پولیس کی انسداد جرائم کے خلاف ہفتہ وار کاروائیوں کی رپورٹ