پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں پنجاب نے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بدترین مالیاتی کارکردگی دکھائی ہے۔مزمل اسلم نے پشاور سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ پنجاب حکومت مالی سال کے پہلے تین ماہ میں آئی ایم ایف کے طے شدہ سرپلس بجٹ ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہی اور 150 ارب روپے کے بجائے 160 ارب روپے کے خسارے کا سامنا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی ٹیکس وصولی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے، جو کہ مطلوبہ 7 فیصد سے کم رہی، جو صوبے کے معاشی اہداف میں سنگین ناکامی کا عکاس ہے۔
مزمل اسلم نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سندھ نے 75 ارب روپے کا سرپلس ہدف عبور کر کے 131 ارب روپے کا سرپلس حاصل کیا، جبکہ ٹیکس وصولی کی شرح 35 فیصد رہی جو کہ پنجاب کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اعدادوشمار دونوں صوبوں کی مالی حکمت عملی میں فرق کو واضح کرتے ہیں اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب کو اپنی مالیاتی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا کی مالی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا نے پہلے تین ماہ میں 103 ارب روپے کا سرپلس حاصل کیا، جو کہ پورے مالی سال کے لیے مقرر کردہ 45 ارب روپے کے ہدف کا 58 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی بہتر مالی پالیسیوں اور ٹیکس وصولی کی مضبوط حکمت عملی کے باعث یہ ممکن ہوا۔
مشیر خزانہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مقررہ فنڈز فراہم کرتی تو صوبے کا سرپلس ہدف 120 ارب سے بھی تجاوز کر سکتا تھا۔ اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے مالیاتی حکام نے بہتر حکمت عملی اور مالی منصوبہ بندی کے ساتھ اپنے اہداف کو پورا کیا۔مزمل اسلم نے دیگر صوبوں کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر نے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور مجموعی طور پر 85 ارب روپے کا سرپلس بجٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کی مالی حکمت عملی اور وسائل کا استعمال قابل تحسین ہے اور دوسرے صوبوں کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔
مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کی مالیاتی کارکردگی پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال بعد پہلی مرتبہ 1700 ارب روپے کا سرپلس بجٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمیشہ وفاقی بجٹ خسارے میں رہا ہے، مگر اس مرتبہ سرپلس بجٹ نے ایک مثبت پیغام دیا ہے۔مزمل اسلم کا بیان حکومتوں کی مالیاتی کارکردگی اور بجٹ نظم و نسق کے سلسلے میں قابل غور نکات پیش کرتا ہے۔ ان کی جانب سے پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مالیاتی معاملات میں مختلف صوبے کس حد تک متنوع کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
Author: صدف ابرار

مزمل اسلم نے مریم نواز کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے، پنجاب کے خسارے کا انکشاف

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 35 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 248 روپے 38 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 85 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں نئی قیمت 255 روپے 14 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 1 روپے 48 پیسے کی کمی کے بعد یہ 161 روپے 54 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 2 روپے 61 پیسے کی کمی کے بعد یہ 147 روپے 51 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق، نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا۔ ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ تبدیلی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں کی گئی ہے، جو کہ مقامی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ یہ اضافہ عوامی اور کاروباری حلقوں میں تشویش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ یہ مہنگائی کے موجودہ دور میں مزید بوجھ ڈالنے کا باعث بنے گا۔ حکومت کی جانب سے یہ امید ظاہر کی گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید استحکام آ سکے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی پی بی اے کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد
اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے نومنتخب عہدیداران کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میاں عامر محمود کو چیئرمین، سلمان اقبال کو سینئر وائس چیئرمین اور میر ابراہیم رحمان کو وائس چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔وزیر اعظم نے دیگر نومنتخب عہدیداران میں سیکرٹری جنرل شکیل مسعود، جوائنٹ سیکرٹری احمد زبیری، اور فنانس سیکرٹری اطہر قاضی کو بھی ان کی کامیابی پر مبارکباد دی اور ان کی کامیابی کو پی بی اے کے لئے مثبت قرار دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نومنتخب عہدیداران براڈکاسٹنگ کے شعبے اور براڈکاسٹنگ ہاؤسز کے مسائل کے حل میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی بی اے کے یہ نئے عہدیداران پاکستان میں براڈکاسٹنگ کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے میں فعال کردار ادا کریں گے۔وزیر اعظم نے پی بی اے کے عہدیداران کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسوسی ایشن کی ترقی اور میڈیا انڈسٹری کے فروغ کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
107 سالہ چینی خاتون کے سر پر سینگ نکل آیا
چین کے صوبے گوانگ ڈونگ سے تعلق رکھنے والی 107 سالہ خاتون اپنے سر پر 10 سینٹی میٹر لمبے سینگ کی بدولت مشہور ہوگئی ہیں۔ یہ غیر معمولی خاتون، جنہیں مقامی سطح پر "چِن” کہا جاتا ہے، اپنی طویل عمر اور منفرد سینگ کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔ چِن کی صحت حیرت انگیز طور پر بہترین ہے۔ وہ اچھی خوراک کھاتی ہیں اور تھکن یا ناامیدی کا کوئی شائبہ بھی نہیں دکھاتی ہیں۔ چِن خود بھی اپنی اچھی صحت پر شکر گزار ہیں اور زندگی سے بھرپور لطف اٹھا رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سینگ ان کی طویل زندگی کا راز ہے اور اسے ایک خاص اعزاز سمجھا جاتا ہے۔طبی ماہرین ایسے سینگ پر نظر رکھنے کی تاکید کرتے ہیں، کیونکہ اس نوعیت کی نشوونما سے سنگین مسائل، بشمول کینسر کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، چِن اس حوالے سے بے فکر ہیں اور اپنی اس منفرد خصوصیت کو خوش دلی سے قبول کرتی ہیں۔ ان کی مثبت سوچ اور خوش مزاجی نے انہیں مقامی سطح پر شہرت بخشی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا بلاول سے ٹیلی فونک رابطہ، صدر آصف علی زرداری کی خیریت دریافت
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے سابق صدر آصف علی زرداری کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری گزشتہ رات دبئی ایئرپورٹ پر جہاز سے اترتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئے تھے، جس کے باعث ان کے پاؤں میں فریکچر ہوا۔ ایوان صدر کے مطابق آصف علی زرداری کو ابتدائی طبی امداد کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کے پاؤں پر چار ہفتے کے لیے پلاسٹر چڑھایا گیا ہے۔
ایوان صدر نے بتایا کہ ابتدائی علاج کے بعد آصف علی زرداری کو اسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے تاکہ ان کی صحت جلد بحال ہو سکے۔مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو زرداری سے بات کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور انہیں نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری کی صحت اور تندرستی پاکستان کے لیے اہم ہے، اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں جلد از جلد شفا عطا فرمائے۔دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں کی جانب سے بھی ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری میں انتہائی کم بولی: ترجمان نے تشویش کا اظہار کردیا
قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں انتہائی کم بولی لگائے جانے پر ترجمان پی آئی اے عبداللہ حفیظ خان نے اسے بدقسمتی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل سے بہت زیادہ توقعات تھیں، کیونکہ پی آئی اے دنیا کے قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق، پی آئی اے ایک منافع بخش ادارہ ہے، اور اتنی کم بولی اس کی حقیقی قیمت کی عکاسی نہیں کرتی۔عبداللہ حفیظ خان نے نجی ٹی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی تقسیم کے بعد، جب اسے پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی اور پی آئی اے سیل میں تبدیل کیا گیا، تو گزشتہ دو دہائیوں سے چلنے والے قرضے پی آئی اے کی بیلنس شیٹ سے ختم کر دیے گئے۔ اس کے نتیجے میں، پی آئی اے ایک نئی، صاف کمپنی کے طور پر سامنے آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ "پی آئی اے آپریٹنگ لیول پر ایک منافع بخش ادارہ ہے۔” ان کے مطابق، صرف لندن ہیٹھرو کے روٹ کی قدر 100 ملین ڈالر ہے، جو کہ تقریباً 30 ارب روپے بنتی ہے۔ اس میں پراپرٹیز، اثاثے، اور 33 جہاز شامل ہیں۔ پی آئی اے کے پاس 17 اے 320 طیارے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی قیمت 120 سے 150 ملین ڈالر کے درمیان ہے۔ عبداللہ حفیظ خان نے کہا کہ "نئے اے 320 کی قیمت 30 ارب روپے سے زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ پرانے جہاز کی قیمت کم لگائی جا سکتی ہے۔ترجمان پی آئی اے نے یہ بھی وضاحت کی کہ بولی کے دوران کنفیوژن کی صورتحال تھی۔ انہوں نے کہا، "پی آئی اے ایک بین الاقوامی ادارہ ہے اور اسے چلانے کے لیے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔” تاہم، انہوں نے بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کار اس پورے عمل سے دور رہے، اور جو سرمایہ کار آئے وہ پی آئی اے کی کتابوں اور اثاثوں کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکے۔
عبداللہ حفیظ خان نے اس بات کا ذکر کیا کہ نجکاری کے عمل میں کوئی مغربی ملک یا کمپنی شامل نہیں تھی، اور نجکاری کمیشن نے صرف دوست ممالک سے رابطہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب انہیں دوبارہ تیاری کرنی پڑے گی۔یہ واضح رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر التوا کا شکار ہو گیا ہے، جو کہ شہباز حکومت اور اس کے پالیسی سازوں کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ واحد بولی لگانے والی کمپنی بلیو ورلڈ نے پی آئی اے کی قیمت صرف 10 ارب روپے لگائی، جو نجکاری کمیشن کی جانب سے کم سے کم قابل قبول 85 ارب روپوں کی مالیت سے 75 ارب روپے کم ہے۔
پانچ دیگر منظور شدہ سرمایہ کاروں نے بولی میں حصہ ہی نہیں لیا۔ پی آئی اے کی تقسیم کے بعد، اس کے اثاثوں کی کل مالیت 165 ارب روپے ہے، جبکہ نجکاری کے لیے پیش کیے گئے 60 فیصد حصص کی مالیت 99 ارب روپے ہے۔آج کی ناکام بولی پرائیوٹائزیشن کمیشن کے فیصلہ سازوں کی کارکردگی اور حکمت عملی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایک سال سے زیادہ عرصے کے نجکاری کے عمل کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا، جس نے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی مایوس کیا، جو کہ غلط اعداد و شمار اور غلط بیانی کی وجہ سے نالاں رہے۔
ایک سرمایہ کار کے مطابق، پی آئی اے کے بین الاقوامی روٹس کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اور قرضوں کے حجم کے بارے میں ابہام کی وجہ سے وہ بولی لگانے سے دور رہے۔ انہوں نے بتایا کہ "یہاں تک کہ واحد بولی بھی غیر سنجیدہ تھی، جو پی آئی اے کے ایک جہاز کی قیمت کے لیے بھی ناکافی تھی۔امید کی جا رہی ہے کہ اس ناکام بولی کے بعد حکومت پاکستان کو پی آئی اے کی نجکاری کے عمل پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا، کیونکہ اس ناکامی سے نہ صرف قومی ایئر لائن کی مالی حیثیت متاثر ہوئی ہے بلکہ یہ شہباز حکومت کی حکمت عملی پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جیل سے رہا
اسلام آباد: ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ دونوں میاں بیوی، جو کہ ایک خاندان کے ہمراہ جیل سے روانہ ہوئے، کو انسداد دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) اسلام آباد نے پولیس ملازم پر تشدد کے کیس میں درخواست ضمانت کی منظوری کے بعد رہائی دی۔اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے دونوں ملزمان کی بعدازگرفتاری درخواست ضمانت منظور کی۔ اس فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ضمانت کی درخواستیں اس بنیاد پر منظور کی گئیں کہ ملزمان کے خلاف موجودہ شواہد کی بنیاد پر گرفتاری کی ضرورت نہیں تھی۔ عدالت نے دونوں ملزمان کو بیس بیس ہزار روپے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا تھا۔
عدالت کی جانب سے روبکار جاری ہونے کے بعد، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل سے آزاد کیا گیا۔ ان کی رہائی کے بعد، دونوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ جیل سے نکل کر اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہونے میں کامیابی حاصل کی۔ ایمان مزاری، جو کہ ایک معروف وکیل ہیں، اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک پولیس ملازم پر تشدد کیا تھا۔ اس واقعے نے پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کافی توجہ حاصل کی، جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔
ایمان مزاری کی رہائی کے بعد ان کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جنہوں نے انہیں جیل سے باہر آنے پر مبارکباد دی۔ ان کی رہائی کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ قانونی معاملات کے حوالے سے ایک اہم نشان ہے۔یہ واقعہ نہ صرف انفرادی طور پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے لیے اہمیت رکھتا ہے، بلکہ اس کا قانونی نظام اور انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے بھی ایک اہم پہلو ہے۔ وکالت کی دنیا میں ان کی شہرت اور ان کے کام کی وجہ سے ان کی رہائی نے قانون کے دائرے میں بہت سے سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
مریم نواز عوامی فلاح و بہبود کے لیے بے پناہ محنت کر رہی ہیں، عظمی بخاری
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف عوام کی خدمت کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اس بات کا اعادہ کیا کہ پنجاب میں جاری ترقیاتی منصوبے جلد مکمل کر لیے جائیں گے، اور اس ضمن میں حکومت کی عزم کا اظہار کیا۔عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ مخالفین کا کام صرف جھوٹ کی سیاست کرنا ہے، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مریم نواز عوامی فلاح و بہبود کے لیے بے پناہ محنت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم سیاسی رواداری پر یقین رکھتے ہیں”، اور روڈا (راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے تاکہ اس منصوبے میں ہونے والی سیاست کا جائزہ لیا جا سکے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ روڈا کے پلاٹس جلد ہی وزیراعلیٰ پنجاب خود صحافیوں کو دیں گی، جس سے ان کے لیے عملی اقدامات کی تصدیق ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان اقدامات سے نہ صرف صحافیوں کے مسائل حل ہوں گے بلکہ یہ ترقیاتی منصوبے پنجاب کے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہماری حکومت ہمیشہ عوام کی خدمت کے لیے تیار ہے، اور ہم اپنی کارکردگی کے ذریعے اپنے مخالفین کو جواب دیں گے۔
ملکی زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ
اسلام آباد: پاکستان کے ملکی زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ ہفتے میں 3 کروڑ 19 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ ذخائر بڑھ کر 16.04 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 11 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس سے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 11 ارب 15 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق، یہ ذخائر دو ماہ کے درآمدی بل کے برابر ہیں، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند علامت ہے۔ اس اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ ملکی زرمبادلہ ذخائر میں استحکام پیدا ہوا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی مالی حالت کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی آئی ہے، جو کہ 8.38 کروڑ ڈالر کی کمی کے ساتھ 4.89 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ یہ کمی کمرشل بینکوں کے لیے چیلنج کا باعث بن سکتی ہے، خاص طور پر جب کہ ملک میں درآمدات کا دباؤ برقرار ہے۔رپورٹ کے مطابق، 25 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملکی مجموعی زرمبادلہ میں 3.19 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جو کہ ایک مثبت پیشرفت ہے۔ اس کے نتیجے میں، ملکی معیشت میں بہتری کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر اگر زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ جاری رہے تو پاکستان کی معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ حکومت کی موثر معاشی پالیسیوں اور عالمی مارکیٹ میں بہتر درآمدات کی کامیابی کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس سے ملک کی مالی صورتحال میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کی بیٹے کی شادی سیکیورٹی خدشات کے باعث مؤخر کرنے پر غور
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے بیٹے ایوینز نیتن یاہو کی شادی کی تقریب کو سیکیورٹی خدشات کے باعث مؤخر کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ تقریب 26 نومبر کو تل ابیب کے ایک فارم ہاؤس میں منعقد ہونے والی تھی، لیکن حالیہ حالات نے وزیراعظم کو اس معاملے پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، نیتن یاہو نے اپنے قریبی ساتھیوں سے کہا ہے کہ مقررہ دن پر شادی کی تقریب کے انعقاد سے شرکاء کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ بات خاص طور پر اہم ہے کہ 19 اکتوبر کو لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے نیتن یاہو کی نجی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا تھا، جس کا نشانہ براہ راست اسرائیلی وزیراعظم کے بیڈروم کی کھڑکی بنی۔ خوش قسمتی سے، نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے، لیکن اس واقعے نے ان کی سیکیورٹی کو ایک بڑا سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں، اسرائیل کی کابینہ کے اجلاس بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث ایک متبادل مقام پر منتقل کیے گئے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ آئندہ حکومت کے اجلاس اب وزیراعظم کے دفتر، یروشلم یا تل ابیب میں کیریا ملٹری ہیڈ کوارٹرز میں منعقد نہیں ہوں گے۔ اس کے بجائے، نئے پروٹوکول کے تحت وزراء کو اب ایک محفوظ زیر زمین مقام پر جمع ہونے کی اجازت ہوگی، جہاں صرف وزراء کی شرکت ممکن ہوگی۔حیرت انگیز طور پر، اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس رپورٹ پر ابھی تک کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، جس سے اس معاملے کی حساسیت اور اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر، نیتن یاہو کی بیٹے کی شادی کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ تقریب اپنے طے شدہ وقت پر منعقد ہو گی یا اسے مؤخر کیا جائے گا۔اس واقعے نے اسرائیل کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال اور وزیراعظم کے خاندان کی ذاتی زندگی کے درمیان کشیدگی کو عیاں کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کے لئے یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ اپنے خاندان کے اہم لمحات کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ قومی سیکیورٹی کے مسائل کا بھی خیال رکھیں۔









