Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو جامع پلان پیش کرنے کا حکم

    وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو جامع پلان پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ اجلاس میں نجکاری کے حوالے سے جامع پلان پیش کرے۔ یہ ہدایت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے 2 اگست 2024 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کے بعد دی گئی۔وزیر اعظم نے کابینہ کمیٹی سے کہا کہ وہ ان سرکاری اداروں (SOEs) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرے جن کی نجکاری کی پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ اس حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھا کر جامع پلان آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔
    کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے گزشتہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے، جن میں فیڈرل ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن اسلام آباد کے ڈیلی ویجز اساتذہ کو مستقل کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی منظوری شامل ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور گوئٹے مالا کی وزارتِ خارجہ کے مابین سیاسی مشاورت کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں پاکستان اور ایکواڈور کے درمیان دو طرفہ سیاسی مشاورت کے معاہدے پر دستخط، کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی ادارے کے 5 اگست 2024 کو منعقد ہونے والے اجلاس کے فیصلوں، اور کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 31 جولائی 2024 کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی۔یہ اقدامات وزیر اعظم کی جانب سے حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا حصہ ہیں۔

  • حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے

    حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے

    پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک نیا تنازعہ سامنے آیا ہے جس میں حکومتی اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ یہ واقعہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے حالیہ اجلاس میں پیش آیا، جہاں وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی کی غیر حاضری نے تنازعہ کھڑا کر دیا۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللّٰہ نے وزیر داخلہ کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ محسن نقوی حکومت کے قابو میں نہیں آتے اور اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں۔ آغا رفیع نے یہ بھی بتایا کہ وزیر داخلہ نہ صرف اس کمیٹی کے اجلاس سے غیر حاضر تھے بلکہ اسی دن ہونے والے کابینہ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔
    پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سینیٹر نقوی اس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ یہ بیان حکومتی اتحاد میں موجود کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مختلف جماعتوں کے درمیان تعاون کی کمی ہے۔
    اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کی غیر موجودگی میں اجلاس کو ملتوی کر دینا چاہیے تھا، یہ بتاتے ہوئے کہ کمیٹی کے ارکان اس طرح کی غیر حاضری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔حالانکہ، اجلاس کے دوران اسپیشل سیکریٹری داخلہ نے وضاحت پیش کی کہ وفاقی وزیر محسن نقوی اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ یہ وضاحت اگرچہ وزیر کی غیر حاضری کی وجہ بتاتی ہے، لیکن یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا اتنے اہم اجلاسوں کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی جاتی۔یہ واقعہ موجودہ حکومتی اتحاد میں موجود داخلی تناؤ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی سیاسی فضا میں مزید پیچیدگی پیدا کر سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں حکومتی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس واقعے کے بعد یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیدار اس صورتحال کو کس طرح سنبھالتے ہیں اور کیا اقدامات کرتے ہیں تاکہ اتحادی جماعتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اے ٹی سی راولپنڈی کی جانب سے بشریٰ بی بی کے معاملے میں اہم فیصلہ

    اے ٹی سی راولپنڈی کی جانب سے بشریٰ بی بی کے معاملے میں اہم فیصلہ

    راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف درج 12 مقدمات کی تفتیش کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ان مقدمات کی تفتیش آئندہ 7 دنوں کے اندر مکمل کی جائے۔جج ملک آصف نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق درج کیے گئے مقدمات میں ان کی عبوری ضمانت کی درخواست ناقابل سماعت ہے۔ عدالت نے وضاحت کی کہ چونکہ بشریٰ بی بی فی الحال توشہ خانہ کیس میں گرفتار ہیں اور اڈیالہ جیل میں قید ہیں، لہٰذا ان کی غیر موجودگی میں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔فیصلے میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں صداقت عباسی، عمر تنویر بٹ اور واثق قیوم عباسی کے 164 کے تحت بیانات موجود ہیں۔ یہ بیانات مقدمات کی تفتیش میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    عدالت نے تفتیشی افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر تفتیش مکمل کریں تاکہ قانونی کارروائی آگے بڑھ سکے۔ اس دوران، پنجاب پولیس نے بھی ان 12 مقدمات میں فارنزک تجزیہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ تفتیش کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف بشریٰ بی بی کے مقدمات کا فیصلہ متاثر ہو سکتا ہے، بلکہ یہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت کی توقع ہے۔

  • ارشد ندیم کو انعامات سے نوازنے پر علی امین گنڈا پور کا ایک اور متنازعہ بیان

    ارشد ندیم کو انعامات سے نوازنے پر علی امین گنڈا پور کا ایک اور متنازعہ بیان

    اپنی متنازع بیانات کی وجہ سے شہرت پانے والے کے پی کے وزیر اعلی کا ایک اور حیرت انگیز بیان سامنے آیا ہے اور وہ بھی پیرس اولمپکس 2023 میں جیولین تھرو میں گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک طلائی تمغہ دلانے والے قومی ہیرو ارشد ندیم کے بارے میں جن پر انعامات کی برسات ہو رہی ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ایک مختلف موقف اختیار کیا ہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "سرکاری خزانہ انعامات دینے کے لیے نہیں ہوتا۔ یہ ہمارے باپ کا پیسہ نہیں ہے۔” تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ارشد ندیم کو اپنی ذاتی حیثیت سے انعام دیں گے۔ "میں ارشد ندیم کی کامیابی کی قدر کرتا ہوں۔ لیکن ہمیں سرکاری خزانے کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ میں انہیں اپنی طرف سے انعام دوں گا،
    تاہم، مختلف صوبائی حکومتوں کا اس سلسلے میں رویہ مختلف نظر آ رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ارشد ندیم کے آبائی گاؤں میاں چنوں میں جا کر انہیں 10 کروڑ روپے کا چیک پیش کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ارشد کو ایک ہنڈا سوک کار کی چابی بھی پیش کی۔ وزیر اعلیٰ نے ارشد کے کوچ سلمان اقبال بٹ کو بھی 50 لاکھ روپے کا چیک دیا۔مریم نواز نے اس موقع پر کہا، "ارشد ندیم نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ یہ انعامات ان کی محنت اور قابلیت کا اعتراف ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان کھلاڑی مزید حوصلہ پائیں اور ملک کے لیے ایسی ہی کامیابیاں حاصل کریں۔”
    ارشد ندیم کی کامیابی نے جہاں پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں کیا ہے، وہیں اس نے ملک میں کھیلوں کی ترقی اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے طریقوں پر ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اس بحث کے نتیجے میں ایک متوازن اور موثر پالیسی سامنے آئے گی جو پاکستان کے کھیلوں کے مستقبل کو روشن کرے گی۔

  • ارشد ندیم نے 40 سال بعد پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑا اعزازحاصل کیا،عطا تارڑ

    ارشد ندیم نے 40 سال بعد پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑا اعزازحاصل کیا،عطا تارڑ

    اسلام آباد: وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے پیرس اولمپکس 2023 میں گولڈ میڈل جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کی کامیابی کو یومِ آزادی کی خوشیوں کا اہم جزو قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ارشد ندیم نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اور ان کی اس تاریخی کامیابی پر پوری قوم خوشی منا رہی ہے۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ارشد ندیم نے 40 سال بعد پاکستان کے لیے عالمی سطح پر ایک بڑا اعزاز حاصل کیا، جس پر ان کے کوچ بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ارشد ندیم کی فیملی کو پروٹوکول کے ساتھ ملتان ایئرپورٹ سے لایا گیا، اور ارشد ندیم کو پاک فضائیہ کے خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کے ارکان قومی ہیرو کا بھرپور استقبال کریں گے اور ان کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔

    وزیر اطلاعات نے اس موقع پر کہا کہ ارشد ندیم نے اپنی شاندار کارکردگی سے پوری دنیا میں سبز ہلالی پرچم کو بلند کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ارشد ندیم 14 اگست کی مرکزی تقریب میں موجود ہوں گے اور ان کی اس کامیابی کو قومی سطح پر بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔عطا تارڑ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ارشد ندیم کے گھر جا کر انہیں مبارکباد دی اور ان کے لیے انعامات کا اعلان کیا۔ مریم نواز نے ارشد ندیم کی والدہ کو گلے لگا کر مبارکباد دی اور ارشد کو گاڑی اور 10 کروڑ روپے کا تحفہ دیا۔ وزیر اطلاعات نے ارشد ندیم کی زندگی کو نوجوانوں کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔ویزہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 126 ممالک کے شہری اب آن لائن ویزا اپلائی کر سکتے ہیں اور ان ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا فیس بھی ختم کر دی گئی ہے۔وزیر اطلاعات و نشریات نے ارشد ندیم کی کامیابی کو پاکستان کے کھیلوں کے شعبے کے لیے ایک نئی امید قرار دیا اور کہا کہ یہ کامیابی ملک کے لیے مزید ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا کرے گی۔

  • وزیراعظم کی ڈسکوز سے متعلق سخت تنبیہ: بجلی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر

    وزیراعظم کی ڈسکوز سے متعلق سخت تنبیہ: بجلی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی خراب کارکردگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات ڈسکوز کے چیئرمینوں اور بورڈ ممبران سے ملاقات کے دوران کہی۔وزیراعظم نے کہا، "یوم آزادی کی آمد آمد ہے، لیکن افسوس کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی ایک عرصے سے تسلی بخش نہیں ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ بجلی کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔شہباز شریف نے وضاحت کی کہ اگر حکومت اصلاحات میں کامیاب ہوگئی تو یہ ملکی معیشت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔ "بدانتظامی، کرپشن اور دیگر وجوہات کی بنا پر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی تباہ کن حد تک خراب ہوچکی ہے،
    وزیراعظم نے ایک انتہائی تشویشناک اعداد و شمار کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سالانہ تقریباً 500 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ "یہ چوری محض اتفاق نہیں، بلکہ ملی بھگت سے ہوتی ہے،” انہوں نے کہا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ڈسکوز میں اچھے افسران بھی موجود ہیں، لیکن ساتھ ہی ایسے عناصر بھی ہیں جنہوں نے ان اداروں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔بجلی کے بلوں میں ہیرا پھیری کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ "ہم نظام میں بنیادی تبدیلیوں پر کام کر رہے ہیں تاکہ بلوں میں ہیرا پھیری کو روکا جا سکے۔ ہمیں اس نظام کو تبدیل کرنا ہے جس نے پاکستان کی معاشی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے،” انہوں نے مزید کہا۔گردشی قرضے کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہباز شریف نے بتایا کہ یہ رقم 2300 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ "کیا اتنے بھاری بھرکم گردشی قرضوں کے ساتھ ملک چل سکتا ہے؟” انہوں نے سوال اٹھایا۔ وزیراعظم نے وضاحت کی کہ گردشی قرضے کی ایک بڑی وجہ کمزور ٹرانسمیشن سسٹم اور لائن لاسز ہیں۔
    انہوں نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ بند پڑے پلانٹس، جو اب سکریپ ہو چکے ہیں، ان کے ملازمین کو بھی تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ "پاور سیکٹر کو ان سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر نیت لوٹ مار کی ہوگی تو پھر تباہی ہی ہوتی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم تباہی سے بچنا چاہتے ہیں یا خوشحالی کی طرف جانا ہے،” انہوں نے کہا۔وزیراعظم نے اپنے وژن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد بجلی کی قیمتوں کو کم کرنا ہے، نہ صرف گھریلو صارفین کے لیے بلکہ زراعت اور تجارتی شعبوں کے لیے بھی۔ "بجلی کی قیمت کم اور نظام کو بہتر بنانے سے ہماری معیشت دوبارہ پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے،” انہوں نے امید ظاہر کی۔ وزیراعظم نے ڈسکوز کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا، "ڈسکوز کو اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا۔ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔”
    یہ اجلاس ملک کے توانائی شعبے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں کامیاب ہوئی تو یہ نہ صرف بجلی کے شعبے بلکہ پورے ملک کی معیشت کے لیے ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ چیلنجز بہت پیچیدہ ہیں اور ان کا حل وقت طلب ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیراعظم کے اس بیان کے بعد، عوام میں امید کی ایک نئی لہر دیکھی جا رہی ہے کہ شاید اب بجلی کے شعبے میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اپنے ان اہداف کو کس حد تک حاصل کر پاتی ہے۔

  • اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور قومی ہیرو ارشد ندیم نجی ہوٹل سے وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے

    اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور قومی ہیرو ارشد ندیم نجی ہوٹل سے وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے

    اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور قومی ہیرو ارشد ندیم نجی ہوٹل سے وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے۔ارشد ندیم کو سرکاری پروٹوکول میں نجی ہوٹل سے وزیراعظم ہاؤس پہنچایا گیا۔
    ارشد ندیم وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر اسلام آباد پہنچنے، جہاں ان کو اسٹیٹ پروٹوکول میں وزیراعظم ہاؤس پہنچایا گیا، اور اب ان کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جائے گا۔دوسری جانب کل ہونے والی یوم آزادی پاکستان کی تقریب میں بھی وہ وزیراعظم پاکستان کے ساتھ شریک ہوں گے۔
    پاکستان کے معروف جیولن تھرو ایتھلیٹ اور پیرس اولمپکس 2024کے گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کی۔ارشد ندیم کا اسلام آباد پہنچنے پر گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کامیابی اللہ تعالیٰ کی مہربانی، والدین کی دعاؤں اور پوری پاکستانی قوم کی حمایت کا نتیجہ ہے۔ ارشد ندیم نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی کامیابی ان کی محنت کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی دعاؤں کا بھی نتیجہ ہے جنہوں نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا۔
    ارشد ندیم نے اپنے کوچز رشید احمد بھٹی، سیالسن بخاری، اور سمان خان بٹ کا بھی خاص طور پر ذکر کیا، جنہوں نے ان کی تربیت اور رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے واپڈا کی جانب سے فراہم کی گئی معاونت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈیپارٹمنٹل سپورٹس سسٹم کھلاڑیوں کے لیے بہت اہم ہے اور اس سے ان کے کیریئر کو استحکام ملا۔انہوں نے آئندہ پانچ سالوں کے لیے اپنے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے اور ملک کے لیے مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔ یوم آزادی کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ وہ اس دن کو فخر کے ساتھ پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ منائیں گے۔
    ارشد ندیم پاکستان میں کھیلوں کے مستقبل کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے، جہاں ان جیسے کھلاڑیوں کی کامیابیاں نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ بن رہی ہیں۔

  • حکومت کا اہم فیصلہ: پاسپورٹ کے حصول میں سہولت کیلئے قوانین میں ترمیم

    حکومت کا اہم فیصلہ: پاسپورٹ کے حصول میں سہولت کیلئے قوانین میں ترمیم

    وفاقی حکومت نے عوام کی سہولت کے لیے ایک انتہائی اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاسپورٹ رولز میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ترامیم پاسپورٹ کے حصول اور تجدید کے عمل کو آسان بنانے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق، اس نئی پالیسی کے تحت شہریوں کو اب اپنے پاسپورٹ کسی بھی شہر سے بنوانے کی سہولت میسر ہوگی۔ یہ قدم خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوگا جو اپنے آبائی علاقوں سے دور رہتے ہیں یا کام کی وجہ سے مختلف شہروں میں منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ ترمیم شدہ رولز کے تحت شہری اب کسی بھی نیشنل بنک کی برانچ میں پاسپورٹ کی تمام کیٹیگریز کی فیس جمع کرا سکیں گے۔ یہ اقدام فیس جمع کرانے کے عمل کو نہ صرف آسان بنائے گا بلکہ اس سے وقت کی بھی بچت ہوگی۔
    ایک اور اہم ترمیم کے تحت، پاسپورٹ کا عمل اب شناختی کارڈ کے طرز پر ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاسپورٹ کی درخواست اور اس کے اجراء کا طریقہ کار زیادہ منظم اور جدید ہوگا، جو کہ شناختی کارڈ کے نظام کی کامیابی سے متاثر ہے۔وزارت داخلہ نے ان تجاویز کی تفصیلی سمری وفاقی کابینہ کو بھجوا دی ہے۔ اس سمری میں مجوزہ تبدیلیوں کی تفصیلات اور ان کے ممکنہ فوائد کا ذکر کیا گیا ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد ان ترامیم کو فوری طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدامات پاسپورٹ کے حصول کے عمل کو نہ صرف آسان بنائیں گے بلکہ اس سے متعلقہ دفاتر پر کام کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ اس کے علاوہ، یہ تبدیلیاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گی، جو اکثر پاسپورٹ کی تجدید کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔شہریوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے پاسپورٹ سے متعلق معاملات میں آنے والی پریشانیوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کے وژن کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد سرکاری خدمات کو زیادہ سے زیادہ آسان اور قابل رسائی بنانا ہے۔
    وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان تبدیلیوں کے نفاذ کے بعد پاسپورٹ کے اجراء کا وقت بھی کم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ نئے نظام کے تحت سیکیورٹی کے تمام معیارات برقرار رہیں۔حکومت کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف عوام کی سہولت کا باعث بنیں گے بلکہ اس سے ملکی سطح پر کاروباری سرگرمیوں اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ مزید تفصیلات کے لیے عوام کو وزارت داخلہ کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • صدر زرداری کو ویتنام، مالدیپ، آئرلینڈ کے سفرا نے سفارتی اسناد پیش کر دیں

    صدر زرداری کو ویتنام، مالدیپ، آئرلینڈ کے سفرا نے سفارتی اسناد پیش کر دیں

    آج ایوان صدر میں ایک اہم سفارتی تقریب منعقد ہوئی جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری نے ویتنام، مالدیپ اور آئرلینڈ کے نو مقرر سفراء سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر سفراء نے اپنے اپنے ملکوں کی جانب سے سفارتی اسناد پیش کیں۔تقریب کا آغاز پاکستان کے مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے سفراء کو گارڈ آف آنر پیش کرنے سے ہوا، جو کہ ان کے استقبال کا ایک روایتی اور با وقار انداز تھا۔صدر زرداری نے سفراء کو پاکستان میں ان کی تقرری پر مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ اپنے عہدے پر رہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ باہمی فائدہ مند تعاون کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان تمام دوست ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔اپنے خطاب میں صدر زرداری نے کہا، "پاکستان اپنے تمام دوست ممالک کے ساتھ دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ ہمارے ملک میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔” انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خاص طور پر زراعت، توانائی، انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کان کنی اور گرین ٹیکنالوجی کے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتا ہے۔

    اس موقع پر سفراء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پاکستان کے ساتھ اپنے اپنے ملکوں کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے پاکستان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور اپنے عہدے کی مدت کے دوران دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا۔یہ ملاقاتیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہیں، جس میں ملک اپنے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط کرنے اور معاشی ترقی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے پر خاص توجہ دے رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان سفارتی روابط سے پاکستان کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور عالمی برادری میں اپنا مقام مزید مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔اس تقریب کے اختتام پر صدر زرداری نے ایک بار پھر سفراء کو ان کی نئی ذمہ داریوں کے لیے نیک خواہشات پیش کیں اور امید ظاہر کی کہ ان کی کاوشوں سے پاکستان اور ان کے متعلقہ ملکوں کے درمیان تعلقات مزید استوار ہوں گے۔

  • پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا ساتواں اجلاس: جامع تعاون کا جائزہ اور مستقبل کے اقدامات پر اتفاق

    پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا ساتواں اجلاس: جامع تعاون کا جائزہ اور مستقبل کے اقدامات پر اتفاق

    اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ سیاسی مشاورت کا ساتواں اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی نے کی، جبکہ ترکیہ کی جانب سے نائب وزیر خارجہ نوح یلماز نے اپنے وفد کی قیادت کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران، سیاسی تعلقات، تجارت اور سرمایہ کاری، توانائی، سلامتی اور دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ثقافت اور سیاحت، تعلیم، اور قونصلر امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں ممالک نے سیاسی تعلقات کو مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا۔

    تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں دونوں فریقوں نے تجارتی حجم کو بڑھانے اور سرمایہ کاری میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے تحت، دونوں ممالک موجودہ معاہدوں کو مکمل اور مؤثر طریقے سے چلانے کی کوشش کریں گے۔ توانائی اور سلامتی کے شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دینے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں کثیرالجہتی اور علاقائی فورمز پر پاک ترک تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں دونوں ممالک نے عالمی اور علاقائی مسائل پر یکساں موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    دونوں ممالک نے ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، اسلام آباد میں اس کے ساتویں اجلاس کے جلد انعقاد پر بھی اتفاق کیا۔ اس اقدام کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔اجلاس کے اختتام پر، دونوں فریقوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے مل کر کام کریں گے اور دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ اس اجلاس کو پاک ترک تعلقات کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔