Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • حکومت پی ٹی آئی کو ہر مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے،ملک احمد خان بھچر

    حکومت پی ٹی آئی کو ہر مسئلے کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے،ملک احمد خان بھچر

    لاہور: پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حمایت میں اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کا "کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا”۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ملک احمد خان نے بانی پی ٹی آئی کو قوم کا لیڈر قرار دیا اور کہا کہ ان کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ملک احمد خان بھچر نے وزیر اعلیٰ پنجاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے صوبے پر توجہ دینی چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر نے اعلان کیا کہ جلد ہی پنجاب میں جلسے شروع کیے جائیں گے، جس سے عوام کے ساتھ براہ راست رابطے میں مزید اضافہ ہوگا۔ملک احمد خان نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلوں پر عوامی ردعمل کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ "فیصلوں پر لوگوں کو رنج ہے اور عوام کا ردعمل فطری ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے کسی کو کوئی ہدایت نہیں دی گئی، عوام کا ردعمل ان کے اپنے جذبات کی عکاسی ہے۔
    اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "حکومت ہر مسئلے کو تحریک انصاف سے جوڑ دیتی ہے”۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے اپوزیشن کو مورد الزام ٹھہراتی ہے، اور یہ کہ "اگر کسی کو کھانسی بھی آئے تو حکومت کا الزام ہوتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کی وجہ سے ہے۔ملک احمد خان بھچر نے اسموگ کے مسئلے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ "اتنے بڑے بجٹ کے باوجود حکومت نے مصنوعی بارش کا انتظام کیوں نہیں کیا؟” انہوں نے کہا کہ عوام کو اسموگ سے بچانے کے لیے حکومتی اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں اور عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اپوزیشن لیڈر نے اعلان کیا کہ کل ہونے والے اسمبلی اجلاس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی تقریر کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اپنے موقف کو واضح کرے گی اور حکومت کو جوابدہ ٹھہرائے گی۔ملک احمد خان کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں اہم قرار دیا جا رہا ہے اور مستقبل میں ان کے جلسوں کے حوالے سے تجزیے اور تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

  • جرمن حکومت کو  عبدالرزاق داؤد فیملی کی پاور کمپنی پر تحفظات

    جرمن حکومت کو عبدالرزاق داؤد فیملی کی پاور کمپنی پر تحفظات

    اسلام آباد – انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ ہونے والے یکطرفہ معاہدے پاکستانی حکومت کے لئے بیرونی دباؤ کا سبب بننے لگے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق، جرمن حکومت نے عبدالرزاق داؤد فیملی کی ملکیتی پاور کمپنی "روس پاور پراجیکٹ لمیٹڈ” (آر پی پی ایل) کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جرمن حکومت کو تشویش ہے کہ یہ معاہدے غیر ملکی سرمایہ کاری اور دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق جرمن حکومت کو آر پی پی ایل اور اس کے شیئر ہولڈر یعنی سیمنز کے ساتھ پاکستانی حکومت کی طرف سے مذاکرات کے طریقہ کار پر خدشات ہیں۔ سیمنز نے اس معاہدے کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ شکل میں یہ تصفیہ ان کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ تاہم، سیمنز نے تنازعہ کے حل کے لئے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
    پاکستانی حکومت کی توانائی ٹاسک فورس نے کچھ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے ساتھ معاہدے کیے ہیں جنہیں یکطرفہ اور شفافیت سے عاری قرار دیا جا رہا ہے۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں مختلف غیر ملکی حکومتوں کی جانب سے پریشان کن پیغامات موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ جرمن حکومت کے مطابق، اس نوعیت کے معاہدے مستقبل میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکومت نے ان تحفظات کے جواب میں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ معاہدوں کو شفاف بنایا جاسکے۔ تاہم، یہ خدشات بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
    پاکستان میں حالیہ سیاسی و معاشی عدم استحکام کے باعث پہلے ہی غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ جرمن حکومت کی طرف سے تحفظات کا اظہار اور سیمنز کی جانب سے معاہدے پر عدم اعتماد نے حکومت پاکستان کے لئے مسائل بڑھا دیے ہیں۔ جرمنی کا یہ مؤقف دوطرفہ تعلقات پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے بھی ایک منفی پیغام ہے۔یہ صورتحال سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستانی حکومت کی حالیہ بات چیت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

  • وٹس ایپ اکاؤنٹس کی سیکیورٹی خطرے میں: چار ماہ میں 1500 اکاؤنٹس ہیک

    وٹس ایپ اکاؤنٹس کی سیکیورٹی خطرے میں: چار ماہ میں 1500 اکاؤنٹس ہیک

    پاکستان میں وٹس ایپ کے صارفین کے لیے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے، کیونکہ حالیہ رپورٹ کے مطابق، یکم جولائی سے اب تک تقریباً 1500 وٹس ایپ اکاؤنٹس ہیکڈ ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں شامل ہیں۔ایف آئی اے کو اس دورانیے میں 1426 شکایات موصول ہوئی ہیں، جو صارفین کی بڑھتی ہوئی مشکلات کی عکاسی کرتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان شکایات میں وہ صارفین شامل نہیں ہیں جنہوں نے ابھی تک شکایت کا اندراج نہیں کرایا۔ حیران کن طور پر، ان رجسٹرڈ شکایات میں سے 549 ہیکڈ اکاؤنٹس بحال کیے جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود، یہ واضح ہے کہ ہیکنگ کے واقعات کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے وٹس ایپ کے صارفین کی سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    ایف آئی اے نے مزید بتایا ہے کہ وہ اس وقت 877 شکایات کی پروسیسنگ کر رہا ہے۔ ان میں سے 20 شکایات کو باقاعدہ انکوائری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ تاہم، 40 زیر التواء شکایات کے ریکارڈ سے متعلق تاحال جواب موصول نہیں ہوا، جو کہ صارفین کی پریشانی کو بڑھا رہا ہے۔دستاویز کے مطابق، 817 زیر التواء شکایات فی الوقت تصدیق کے مراحل میں ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ صارفین کی بڑی تعداد ہیکنگ کے خطرات سے متاثر ہو رہی ہے۔ایف آئی اے کی یہ رپورٹ وٹس ایپ صارفین کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ انہیں اپنی سیکیورٹی کے معاملات پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ ہیکنگ کی ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔ مزید یہ کہ، صارفین کو اپنی معلومات اور اکاؤنٹس کی حفاظت کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

  • پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کے عمل کی تیاریاں مکمل، اہم اجلاس کل متوقع

    پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی کے عمل کی تیاریاں مکمل، اہم اجلاس کل متوقع

    اسلام آباد: نجکاری کمیشن نے قومی ایئر لائن "پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز” (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل کے لیے بولی کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل کل ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کیا جائے گا، جہاں بولی کا عمل دن 1 بج کر 30 منٹ پر شروع کیا جائے گا اور 6 بج کر 30 منٹ پر بولی کھولنے کا عمل مکمل ہوگا۔ تقریب کو سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق، نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس کل ہو گا جس میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے حتمی منظوری دی جائے گی۔ اسی روز کابینہ کی نجکاری کمیٹی سے بھی منظوری لی جائے گی۔ اس عمل کے دوران وفاقی کابینہ سے پی آئی اے کی ریزرو پرائس کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے حاصل کی جائے گی تاکہ نجکاری کا عمل مقررہ وقت پر مکمل ہو سکے۔
    ذرائع نے مزید بتایا کہ بولی کے عمل میں شرکت کے لیے ابھی تک بلیو ورلڈ سٹی کنسورشیم کے علاوہ کسی اور گروپ نے کاغذات جمع نہیں کرائے ہیں۔ نجکاری کمیشن نے پی آئی اے حکام کو ضروری ہدایات جاری کر دی ہیں اور انہیں اس عمل کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔نجکاری کمیشن نے پہلے پی آئی اے کی نجکاری کی تاریخ میں توسیع کرتے ہوئے 31 اکتوبر مقرر کی تھی، جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حکومت کو اس سلسلے میں ستمبر کے آخر تک کا وقت دیا تھا۔ حکومت کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے بعد سالانہ اربوں روپے کی بچت کی توقع کی جا رہی ہے، جو ایئر لائن کے بڑھتے ہوئے خسارے اور قرض کی ادائیگی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔حکومت کا ماننا ہے کہ نجکاری سے قومی ایئر لائن میں پائیداری اور مالی استحکام ممکن ہو گا۔

  • روس کے نائب وزیر دفاع کا نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ

    روس کے نائب وزیر دفاع کا نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ

    اسلام آباد: روسی فیڈریشن کے نائب وزیر دفاع، کرنل جنرل الیگزینڈر وی فومن، نے حال ہی میں نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کی بحریہ کے چیف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے پیشہ ورانہ امور، علاقائی میری ٹائم سیکیورٹی کی صورتحال اور دوطرفہ بحری تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ پاکستان، روسی فیڈریشن کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور ایک طویل المدتی کثیر جہتی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں دوطرفہ تربیت، بحری جنگی جہازوں کے دوروں اور مشترکہ بحری مشقوں کے انعقاد شامل ہیں۔
    اس کے علاوہ، دونوں عہدیداروں نے میری ٹائم سیکیورٹی اور بحری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ کرنل جنرل الیگزینڈر وی فومن نے خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی میں پاک بحریہ کی مستقل کوششوں اور بلند عزم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ تعاون نہ صرف باہمی دلچسپی کا حامل ہے بلکہ یہ خطے کی سیکیورٹی کو بھی مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں میری ٹائم سیکیورٹی، بحری تکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کے علاوہ، یہ ملاقات مستقبل میں دونوں ممالک کے بحری افواج کے درمیان مزید تعاون کو فروغ دینے کی ایک اہم بنیاد فراہم کرے گی۔ پاکستان کی بحریہ کی یہ کوششیں خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے اور عالمی سطح پر استحکام کے لئے اہمیت رکھتی ہیں، اور یہ روسی فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔

  • برطانیہ میں ویپس پر پابندی: یکم جولائی 2025 سے نفاذ کا اعلان، سگریٹ کی قیمت 16 پاؤنڈ فی پیکٹ ہوگی

    برطانیہ میں ویپس پر پابندی: یکم جولائی 2025 سے نفاذ کا اعلان، سگریٹ کی قیمت 16 پاؤنڈ فی پیکٹ ہوگی

    برطانوی چانسلر نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر میں ویپس پر آئندہ آٹھ ماہ کے اندر پابندی عائد کر دی جائے گی، جس کا نفاذ یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد صحت کے مسائل سے نمٹنا اور نوجوانوں کو ویپنگ کے استعمال سے روکنا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ویپنگ سے متعلق بڑھتے ہوئے خطرات اور نوجوانوں میں اس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ہی برطانیہ میں سگریٹ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایک پیکٹ، جس میں 20 کنگ سائز سگریٹس ہوں گے، کی اوسط قیمت 16 پاؤنڈ مقرر کی گئی ہے۔ یہ اقدام عوام کو تمباکو نوشی سے روکنے اور صحت مند زندگی کی طرف راغب کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

    ویپس پر پابندی اور سگریٹ کی قیمت میں اضافہ برطانیہ میں صحت سے متعلق پالیسیوں کے اہم حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق، ان اقدامات سے امید ہے کہ تمباکو نوشی اور ویپنگ کا رجحان کم ہوگا اور صحت عامہ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

  • سعودی عرب میں اعلیٰ ہنر مند پاکستانیوں کی مانگ، سفیر احمد فاروق

    سعودی عرب میں اعلیٰ ہنر مند پاکستانیوں کی مانگ، سفیر احمد فاروق

    سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے پاکستانی محنت کشوں کی نوعیت اور سعودی عرب میں ان کی قانونی مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں ہائی سکلڈ ورکرز کی ڈیمانڈ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے پاکستانی افرادی قوت کو بہتر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اس امر کی نشاندہی کی کہ اب ہمیں سعودی عرب کو صرف مزدور ہی نہیں بلکہ اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند پاکستانی بھی فراہم کرنے چاہئیں۔احمد فاروق نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں ہزاروں پاکستانی مختلف جرائم میں قید ہیں اور ان میں سے اکثریت منشیات کے معاملات میں ملوث پائی جاتی ہے۔ سفیر نے کہا کہ چونکہ ہر ملک کے اپنے قوانین ہوتے ہیں، اس لئے پاکستانی محنت کشوں کو چاہئے کہ وہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے میزبان ملک کے قوانین کا احترام کریں۔
    احمد فاروق کا کہنا تھا کہ سعودی قوانین کی خلاف ورزی کے باعث اکثر پاکستانی قید کی سزائیں بھگتنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور سفارت خانے کو ان مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کے بقول سفارت خانہ کمیونٹی پیغامات اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے بار بار پاکستانیوں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ سعودی عرب میں رزق حلال کما کر اپنے گھر والوں کو بھیجیں اور میزبان ملک کے قوانین پر سختی سے عمل کریں تاکہ انہیں قید جیسی صورت حال سے بچایا جا سکے۔سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال ایمنسٹی کے تحت سینکڑوں پاکستانی قیدیوں کو رہائی ملتی ہے، مگر اتنے ہی لوگ دوبارہ گرفتار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی قیدیوں کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ پاکستانی شہری سعودی قوانین سے متعلق آگاہی حاصل کریں اور ان پر عمل پیرا ہوں۔
    پاکستانی سفیر نے ہائی سکلڈ ورکرز کی بڑھتی مانگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی معیشت میں توسیع کے ساتھ، مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ احمد فاروق کے مطابق پاکستانی حکومت کو چاہئے کہ وہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سعودی عرب کو اعلی تعلیم یافتہ پاکستانی بھیجے تاکہ وہاں کے بدلتے ہوئے پیشہ ورانہ تقاضے پورے کئے جا سکیں اور پاکستانی افرادی قوت کو بہتر مقام حاصل ہو۔پاکستانی محنت کشوں کے مسائل اور ان کے لئے بہتر مواقع فراہم کرنے کی بات کرتے ہوئے احمد فاروق نے کہا کہ سعودی عرب میں ہائی سکلڈ ورکرز کی مانگ پوری کرنے کے لئے پاکستانی حکام کو منصوبہ بندی کے ساتھ اعلی تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کو سعودی عرب بھیجنے پر توجہ دینی چاہئے۔

  • اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، وضاحت طلب

    اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری، وضاحت طلب

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے عدالتی وقت کے بعد جاری کردہ تحریری حکم نامے میں کئی اہم نکات کی وضاحت طلب کرلی ہے۔ عدالت نے یہ حکم اعظم سواتی کے وکیل کے نواسے کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کے خلاف دیے گئے بیان حلفی کی بنیاد پر جاری کیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق، اعظم سواتی کے وکیل کے نواسے نے شام ساڑھے چھ بجے جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے ایک بیان حلفی جمع کرایا جس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین سے مزید وضاحت طلب کی گئی۔ ہائی کورٹ کے جاری کردہ حکم میں کہا گیا ہے کہ بیان حلفی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ اس پر اپنے کمنٹس دے سکیں۔ عدالت نے مزید ہدایت کی کہ جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے کمنٹس کل عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔
    حکم نامے کے مطابق، اعظم سواتی کے خلاف یہ مقدمات 4 اکتوبر کو درج کیے گئے تھے اور انہیں 5 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا۔ جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ان مقدمات کے تحت 28 اکتوبر کو جسمانی ریمانڈ جاری کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف ہے کہ جب اعظم سواتی کو 5 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا تو ان کے خلاف درج ہر مقدمہ میں الگ الگ جسمانی ریمانڈ نہیں دینا چاہیے تھا۔عدالتی کارروائی میں پراسیکیوٹر جنرل کی عدم موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل عدالت میں حاضر نہیں ہوئے، جس پر عدالتی اہلکار کے ذریعے انہیں طلب کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ انہیں عدالت کی جانب سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ اس پر عدالت نے ایڈیشنل رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ جوڈیشل انکوائری کریں کہ دو دن قبل جاری کردہ نوٹس پراسیکیوٹر جنرل تک کیوں اور کیسے نہیں پہنچ سکا۔
    اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس تحریری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ سماعت پر جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے کمنٹس کو عدالت کے سامنے رکھا جائے گا، جس سے عدالتی کارروائی میں مزید وضاحت ممکن ہوگی۔ عدالت کے اس حکم نے کیس کے مزید پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے، جس میں ریمانڈ کے اصولوں، عدالتی اوقات، اور قانونی تقاضوں کی باریکیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔عدالت کی جانب سے جاری کردہ یہ تفصیلی حکم آئندہ دنوں میں کیس کے مزید پیچیدہ پہلوؤں کو سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوگا اور پراسیکیوٹر جنرل کی عدم موجودگی کے حوالے سے بھی جوڈیشل انکوائری کے نتائج کو سامنے لایا جائے گا۔

  • لاہور میں گرین لاک ڈاؤن: فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات

    لاہور میں گرین لاک ڈاؤن: فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات

    لاہور: ادارہ ماحولیات پنجاب نے شہر میں بڑھتی ہوئی سموگ اور فضائی آلودگی کے پیش نظر "گرین لاک ڈاؤن” نافذ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پنجاب حکومت کی جانب سے اس عزم کے تحت کیا گیا ہے کہ شہریوں کی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور آلودگی کی سطح میں کمی لائی جائے۔محکمہ ماحولیات کے ترجمان، عمران حامد شیخ، نے اس اقدام کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے مخصوص علاقوں کو ہاٹ سپاٹ قرار دیا گیا ہے، جہاں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ان ہاٹ سپاٹ ایریاز میں ڈیوس روڈ، ایجرٹن روڈ، ڈیورنڈ روڈ، کشمیر روڈ، شملہ پہاڑی سے گلشن سینیما، ایبٹ روڈ، ریلوے اسٹیشن، اور ایمپریس روڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کوئین میری روڈ اور اس کے اطراف کو بھی آلودگی والے علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔
    نوٹیفکیشن کے مطابق تعمیراتی کاموں پر پابندی: ان ہاٹ سپاٹ ایریاز میں تمام تعمیراتی کاموں پر مکمل طور پر پابندی عائد کی گئی ہے، تاکہ مزید دھوئیں اور مٹی کی آلودگی کو روکا جا سکے۔کمرشل جنریٹرز: کمرشل جنریٹرز کے استعمال پر بھی ان علاقوں میں پابندی ہوگی، تاکہ فضائی آلودگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔چنگ چی رکشوں کی پابندی: چنگ چی رکشوں کا ان علاقوں میں جانا سختی سے بند رہے گا، جس کا مقصد آلودگی کی سطح میں کمی لانا ہے۔اوپن باربی کیو: اوپن باربی کیو کی اجازت رات آٹھ بجے کے بعد نہیں ہوگی، تاکہ دھوئیں کی پیداوار میں کمی لائی جا سکے۔
    محکمہ ماحولیات کی جانب سے گرین لاک ڈاؤن لگانے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں ان پابندیوں اور اقدامات کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ عمران حامد شیخ نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ حکومت کے اس اقدام کی پاسداری کریں اور اپنی صحت کی حفاظت کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں۔یہ اقدامات اس وقت کیے جا رہے ہیں جب لاہور کی فضائی آلودگی کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو شہریوں کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ حکام نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد: مونال ریسٹورنٹ کا نام تبدیل کرکے "مارگلہ ویو پوائنٹ” رکھ دیا گیا

    اسلام آباد: مونال ریسٹورنٹ کا نام تبدیل کرکے "مارگلہ ویو پوائنٹ” رکھ دیا گیا

    اسلام آباد: اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کی سربراہ رائنہ سعید نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ مونال ریسٹورنٹ کی جگہ کو اب "مارگلہ ویو پوائنٹ” کے نام سے جانا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ دو ہوٹلز، جو اس مقام پر قائم تھے، کو سپریم کورٹ کے احکامات پر گرایا گیا ہے، کیونکہ ان کی موجودگی یہاں کی قدرتی خوبصورتی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے نامناسب تھی۔رائنہ سعید نے کہا کہ "یہ جگہ بےحد جنگلی حیات سے بھرپور ہے اور اس کے تحفظ کے لئے اسے عوامی تفریحی پارک میں تبدیل کیا جائے گا۔” انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہاں جنگلی حیات کا علاقہ چار زونز پر مشتمل ہوگا، جو مختلف نوعیت کی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مخصوص ہوں گے۔
    پریس کانفرنس کے دوران رائنہ سعید نے یہ بھی بتایا کہ بورڈ کی ممبر عمرانہ ٹوانہ اس علاقے کے لیے ایک منصوبہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "آرکیٹیکچر ڈیزائن اگلے ماہ تک مکمل ہوجائے گا۔” اس نئے پارک میں پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام بھی کیا جائے گا اور عوامی آگاہی کے لئے ایک پبلک سینٹر قائم کیا جائے گا۔رائنہ سعید نے جنگل میں آگ پر قابو پانے کے لیے ایک فائر فائٹنگ سینٹر کے قیام کی بھی خبر دی، ساتھ ہی یہ کہا کہ ایک سائنسی مینجمنٹ پلان تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ "یہاں سے کچھ فاصلے پر خیبر پختونخوا کا آغاز ہوگا اور اس کے پہلے ایک بفر زون بھی قائم کیا جائے گا۔ممبر بورڈ عمرانہ ٹوانہ نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل پارک عوام کی امانت ہوتی ہے اور اس کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ماحول کی بہتری کے لئے ایکو ماڈل بنا رہے ہیں۔” انہوں نے کلائمیٹ چینج کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم دنیا بھر کے لئے ایک اچھی مثال بننا چاہتے ہیں۔”
    رائنہ سعید نے بتایا کہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ 2015 میں قائم ہوا، جس کا مقصد اسلام آباد کے قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے اقدامات سے عوام کو نہ صرف تفریح کا موقع ملے گا بلکہ یہ علاقے کی ماحولیات کی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔”یہ اقدامات نہ صرف اسلام آباد کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گے بلکہ مقامی جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہوں گے۔