نامور صحافی مبشر لقمان نے بیروت کے جنگی صورتحال اور تازہ ترین پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں کے حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور شہر میں راکٹ اور میزائل فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ مبشر لقمان نے کہا کہ کل رات 10 بجے کے قریب پاکستانی حکومت کی طرف سے ایک ہنگامی ایڈوائزری جاری کی گئی تھی جس میں بیروت میں موجود پاکستانیوں کو فوری طور پر نکلنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایئرپورٹ پر شدید افراتفری کا ماحول تھا اور وہاں موجود لوگوں نے جلد از جلد پیسے لے کر ٹکٹ خریدے اور نکلنے کی کوشش کی۔”ہماری ہوٹل بکنگ بھی منسوخ کر دی گئی اور ٹیکسی سروسز بھی کینسل ہو گئیں۔ بیروت ایئرپورٹ بالکل بند ہو گیا تھا اور لوگوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی،”
انہوں نے مزید بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے بیروت پر راکٹ حملے اور میزائل فائرنگ کی گئی ہے اور اس کے نتیجے میں شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اسرائیل کے بمبار طیارے نے ساؤنڈ بیریئرز کو توڑتے ہوئے بیروت میں خوفناک مناظر پیدا کیے جن سے عوام میں شدید پریشانی پھیل گئی۔ مبشر لقمان نے بتایا کہ ایران اور حزب اللہ بھی اسرائیل کے خلاف جنگی کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایران نے اپنے اہم مقامات پر ریڈ فلیگ اٹھا کر جنگ کی تیاری کا اشارہ دیا ہے، جبکہ حزب اللہ بھی اسرائیل پر بھرپور حملے کی تیاری کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی حکومت نے سفارت خانے کو ہدایت دی ہے کہ وہ غیر ضروری سٹاف کو فوری طور پر واپس بلائے اور صرف ضروری سٹاف کو وہاں برقرار رکھے۔مبشر لقمان نے اپنی وڈیو میں کہا کہ اگرچہ پاکستان ٹریول ایڈوائزری جاری نہیں کرتا، لیکن امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے اپنے سفارتی عملے کو بیروت سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات بہت زیادہ سنجیدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ہم نے اپنے سفر کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ بیروت میں حالات بہت زیادہ خراب ہو چکے ہیں۔ ہم نے کل رات کو اپنے ہوٹل کی بکنگ اور ٹیکسی سروسز منسوخ کر دی ہیں ” آخر میں، مبشر لقمان نے دعا کی کہ اللہ تعالی فلسطین، لبنان اور دیگر متاثرہ علاقوں کے لوگوں کی حفاظت کرے اور ان کی مشکلات کو دور کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہم سب کو اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے ابھی تک اس صورتحال پر کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اسرائیل نے بیروت کے اوپر اپنی بمباری جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کے جہاز بیروت کے اوپر ساؤنڈ بیریئر بریک کرتے ہوئے فلائنگ کر رہے ہیں، جس سے بیروت میں شدید خوف و حراس پھیل گیا ہے۔
لبنان میں موجود پاکستانی اور لبنانی عوام انتہائی مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مبشر لقمان نے لبنانی عوام کے لئے دعائے خیر کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اس وقت مسلمان ملکوں کے حکمرانوں کو ہوش میں آنا چاہئے اور لبنانی عوام کی مدد کے لئے اقدامات کرنے چاہئے۔
Author: صدف ابرار
-

ٹیم کھرا سچ کا دورہ لبنان کیوں ملتوی ہوا؟ ایک اور مسلمان ملک نشانے پر
-

بنگلہ دیش میں جو تبدیلی آئی ہے، وہ ایک عوامی تحریک کا نتیجہ ہے. خواجہ آصف
اسلام آباد: پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں پر اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں جو تبدیلی آئی ہے، وہ ایک عوامی تحریک کا نتیجہ ہے اور پاکستان اسے بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ سمجھتا ہے۔وزیر دفاع نے اپنے بیان میں بنگلہ دیش کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "ہم دعاگو ہیں کہ بنگلہ دیشی عوام کا ترقی اور خوشحالی کا سفر جاری رہے اور وہاں کی نوجوان نسل کا مستقبل محفوظ رہے۔”خواجہ آصف نے دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "ہمارا تاریخ کا ایک لازوال رشتہ ہے۔ مسلم لیگ کا جنم بنگال میں ہوا۔ قرارداد پاکستان شیر بنگال نے 1940 میں لاہور میں پیش کی۔ بنگال نے مسلم لیگ کا جھنڈا بلند رکھا اور مسلم لیگ کی حکومت بنی۔”
انہوں نے مغربی پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر بھی روشنی ڈالی اور کہا، "ماسوائے چند کے، مغربی پاکستان سے حکمران انگریزوں کے ٹاؤٹ، بیوروکریٹ اور جاگیردار گدی نشین تھے۔ مغربی پاکستان کے سیاستدان آخری وقت تک انگریزوں سے وفاداری نبھاتے رہے۔”وزیر دفاع نے اپنے بیان کے اختتام پر دونوں ملکوں کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "دعا ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان دو آزاد ریاستیں آزادی کی قدر کریں، معاشی خود مختاری حاصل کریں اور ایک آزاد اسلامی معاشرے کو فروغ دیں۔” -

بانی پی ٹی آئی عمران خان کا شیر افضل مروت کی برطرفی پر نظرثانی کا اشارہ
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کی برطرفی کے نوٹیفکیشن پر نظرثانی کرنے کی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں سینئر پارٹی رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اور اس دوران شیر افضل مروت کا معاملہ اٹھایا۔ عمران خان نے ایک ہفتے کے اندر فیصلہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، بانی تحریک انصاف عمران خان نے سینئر رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ شیر افضل مروت کی برطرفی کے معاملے کا خود جائزہ لیں گے اور اگر معاملہ اطمینان بخش ہوا تو برطرفی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا جائے گا۔ عمران خان نے کہا کہ شیر افضل کی برطرفی کے حوالے سے تمام حقائق کا بغور جائزہ لیا جائے گا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے شیر افضل مروت کی رکنیت معطل کرتے ہوئے انہیں پارٹی سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ تاہم، شیر افضل نے اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی برطرفی کے بارے میں کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی۔پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، عمران خان کی جانب سے شیر افضل مروت کے معاملے پر نظرثانی کرنے کا وعدہ پارٹی میں داخلی استحکام پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اس فیصلے سے امید کی جا رہی ہے کہ پارٹی میں موجود دیگر اختلافات بھی حل ہو سکیں گے اور پارٹی مزید مضبوط ہو گی۔
ذرائع کے مطابق، اڈیالہ جیل میں ہونے والی اس ملاقات میں سینئر پارٹی رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اور پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی بات چیت کی۔ اس دوران شیر افضل مروت کا معاملہ خاص طور پر زیر بحث آیا اور عمران خان نے اس پر جلد فیصلے کی یقین دہانی کرائی۔یہ دیکھنا باقی ہے کہ عمران خان کی جانب سے شیر افضل مروت کی برطرفی کے نوٹیفکیشن پر نظرثانی کا فیصلہ کیا نتیجہ لائے گا۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے پارٹی میں موجود داخلی مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔یہ تمام پیشرفت پارٹی کے اندرونی استحکام اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ عمران خان کی جانب سے اس معاملے پر جلدی فیصلہ کرنے کی یقین دہانی نے پارٹی کارکنان میں امید کی نئی کرن پیدا کر دی ہے۔ -

در بدر کے ٹھوکرے: شیخ حسینہ واجد کی سیاسی سفر کا المناک انجام
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، جو ایک زمانے میں ملک کی طاقتور ترین شخصیت تھیں، آج خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ساڑھے 15 سال تک اقتدار پر قابض رہنے کے بعد، حالیہ پُرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں انہیں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینا پڑا اور وہ ملک سے فرار ہو گئیں۔شیخ حسینہ نے پہلے بھارت میں پناہ لی، پھر لندن میں سیاسی پناہ کی ناکام کوشش کی۔ امریکا نے بھی ان کا ویزا منسوخ کر دیا۔ اب خبریں ہیں کہ بھارت نے بھی انہیں ملک سے نکالنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ان کے دور حکومت میں سیاسی حریفوں پر سخت دباؤ، جمہوری اصولوں کی خلاف ورزیوں اور اپوزیشن کی سرکوبی کے لیے ریاستی طاقت کے استعمال کے الزامات لگے۔ آج وہی شیخ حسینہ ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہو رہی ہیں، کہیں مستقل ٹھکانہ نہ پا سکنے کے باعث خانہ بدوش کی زندگی گزار رہی ہیں۔
اس دوران، بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کل حلف اٹھائے گی، جس کی تصدیق آرمی چیف نے کی ہے۔ ملک میں نئے انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی کہانی جمہوریت کے لیے ایک سبق ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ طاقت کا ناجائز استعمال آخرکار کس طرح سیاستدانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کی موجودہ صورتحال "جیسی کرنی ویسی بھرنی” کی کہاوت کو سچ ثابت کرتی ہے، جہاں ایک وقت کی طاقتور وزیراعظم آج اپنے ہی کیے کا نتیجہ بھگت رہی ہیں۔ -

نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024: فائنل گروپ مرحلہ مکمل، سیمی فائنل کی ٹیمیں طے
اسلام آباد: نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 کا فائنل گروپ مرحلہ آج جناح اسپورٹس کمپلیکس، اسلام آباد میں مکمل ہو گیا۔ لیگیسی ایف سی نے ٹی ڈبلیو کے کو 3-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی۔ لیگیسی ایف سی کی ایمن، کائنات اور علینا نے ایک ایک گول کیا۔آخری گروپ میچ میں، ہزارہ کوئٹہ ایف سی نے ہائی لینڈرز ایف سی کو 2-1 سے شکست دے کر فتح اپنے نام کی۔ ہزارہ کی جانب سے فرشتہ اور صادقہ گول اسکورر رہیں جبکہ ہائی لینڈرز کی جانب سے واحد گول سوسان نے کیا۔
نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 کے پہلے سیمی فائنل میں کراچی یونائیٹڈ اور لیگیسی ڈبلیو ایف کی ٹیمیں شام 5:30 بجے آمنے سامنے ہوں گی۔ دوسرے سیمی فائنل میں کراچی سٹی ایف سی کا مقابلہ ہزارہ کوئٹہ ڈبلیو ایف سی سے رات 8:30 بجے ہوگا۔ دونوں میچز 8 اگست (جمعرات) کو جناح فٹبال اسٹیڈیم، اسلام آباد میں ہوں گے۔یہ چیمپئن شپ پاکستان میں خواتین کے فٹبال کو فروغ دینے اور کھیل کے معیار کو بلند کرنے کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔ سیمی فائنل مقابلے شائقین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گے اور بہترین ٹیموں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
-

وزیراعظم کا ڈیجیٹل پاکستان کا وژن: آئی ٹی برآمدات میں اضافے کا عزم
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج ملکی آئی ٹی برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے ایک جامع ڈیجیٹل وژن پیش کیا۔ یہ اعلان گلوبل سسٹمز فار موبائل کمیونیکیشنز (جی ایس ایم اے) ایشیاء پیسفک کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا گیا، جس کی قیادت جی ایس ایم اے ایشیاء پیسفک کے سربراہ جولئین گورمین نے کی۔وزیراعظم نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ڈیجیٹل نیشنل سمٹ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترویج کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے جی ایس ایم اے کے ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے اقدامات میں بنیادی کردار کی تعریف کی۔
شہباز شریف نے حکومت کے ڈیجیٹل وژن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ہے کہ ہر شخص کے پاس اسمارٹ فون، ہر گھر میں برآڈ بینڈ انٹرنیٹ، اور ہر کاروبار میں کیو آر کوڈ کی سہولت ہو۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی شعبے کی اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کے لیے ایک جامع لائحہ عمل پر عمل کر رہی ہے، جس میں عام آدمی کی انٹرنیٹ تک بہتر رسائی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری، ای گورننس کو فروغ، نوجوانوں میں ڈیجیٹل سکلز کی پیشہ وارانہ تربیت، اور آئی ٹی شعبے میں جدت اور کاروبار کے فروغ پر خصوصی توجہ شامل ہے۔
وزیراعظم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال میں آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبوں کی ترقی کے لیے تاریخی ترقیاتی بجٹ مختص کیا ہے۔ جی ایس ایم اے کے وفد نے حکومت پاکستان کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر دلچسپی کا اظہار کیا.اس اہم ملاقات میں وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، چئیرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن اور دیگر متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔یہ ملاقات پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی طرف ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے، جس میں حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ اس سے امید کی جا رہی ہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہوں گے، معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، اور پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
-

اراکین قومی اسمبلی کی مراعات اور تنخواہوں کی تفصیلات جاری
اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اراکین کو ملنے والی مراعات اور تنخواہوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق رکن قومی اسمبلی کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ اجلاس کے دوران ہر رکن کو خصوصی 4800 اور عام 2800 روپے یومیہ الاؤنس دیا جاتا ہے، جبکہ نقل و حمل کے لیے 2000 روپے یومیہ کا الاؤنس بھی ملتا ہے۔
حاضری اور غیر حاضری کے اصول
اجلاس کے دوران مسلسل تین روز غیر حاضر رہنے والے رکن قومی اسمبلی کو یومیہ یا سفری الاؤنس نہیں دیا جائے گا۔ اراکین کو ماہانہ پانچ ہزار روپے کا اخراجاتی الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ کسی بھی سرکاری سرگرمی یا سیشن کے لیے سفر کرنے والے اراکین کو سفری الاؤنس بھی دیا جاتا ہے، جس میں بذریعہ ریل سفر پر ایک ائیر کنڈیشنڈ ٹکٹ اور ایک سیکنڈ کلاس ٹکٹ کے مساوی رقم ادا کی جاتی ہے۔ ہوائی سفر کی صورت میں ایک بزنس کلاس ٹکٹ کے مساوی رقم فراہم کی جاتی ہے، جبکہ بذریعہ سڑک سفر کرنے پر 25 روپے فی کلومیٹر الاؤنس ملتا ہے۔دیگر مراعات
ڈیوٹی کے دوران کہیں قیام کرنے پر اراکین کو دو ہزار روپے یومیہ ہاؤسنگ الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔ اراکین کو سالانہ تین لاکھ روپے مالیت کی مفت سفری سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے، جو پاکستان ریلویز اور پی آئی اے کے ذریعے دستیاب ہوں گی۔ ہر رکن قومی اسمبلی کو رہائش گاہ پر حکومت کے اخراجات پر ٹیلیفون کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ دفتر کی دیکھ بھال کے لیے 8 ہزار روپے ماہانہ ادائیگی کی جاتی ہے۔ موجودہ اور سابق اراکین کو گریڈ 22 کے سرکاری افسر کے مساوی میڈیکل سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اور سابق رکن اور ان کے شوہر یا بیوی کو بلیو پاسپورٹ بھی دیا جاتا ہے۔قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو وفاقی وزیر کے مساوی مراعات اور تنخواہ دی جاتی ہیں۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو 25 ہزار روپے اضافی ادائیگی کی جاتی ہے، اور ان کو سٹینوگرافر، پرائیویٹ سیکریٹری، ڈرائیور، اور نائب قاصد بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو 1200 سے 1600 سی سی گاڑی اور ماہانہ 360 لٹر پیٹرول بھی فراہم کیا جاتا ہے۔فنانس بل 25-2024 میں اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا اختیار قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد اراکین کی مالی مراعات کو بہتر بنانا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔
یہ تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت نے اراکین قومی اسمبلی کو مناسب سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ بہتر طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں اور عوام کی خدمت کر سکیں۔ -

اسلام آباد میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس کے قواعد میں تبدیلی
اسلام آباد: ضلعی انتظامیہ نے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس کے قواعد میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ غیر نمونہ نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں دوبارہ رجسٹریشن کے لیے مختلف فیسیں مقرر کی گئی ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق، ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 5 ہزار روپے، دو ہزار سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 10 ہزار روپے، اور دو ہزار سی سی سے اوپر کی گاڑیوں کے لیے 20 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ موٹر سائیکل کی دوبارہ رجسٹریشن پر ایک ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ دوبارہ خلاف ورزی پر پانچ گنا زیادہ فیس وصول کی جائے گی۔ نئے قواعد کا مقصد نمبر پلیٹس کے معیار کو یقینی بنانا اور ٹریفک قوانین کی بہتر عملداری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے شہریوں کی حفاظت اور سکیورٹی میں بہتری آئے گی۔
-

عمران خان کا زمان پارک آپریشن کے دوران پیٹرول بم پھینکنے کا اعتراف
راولپنڈی: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران زمان پارک آپریشن کے دوران پیٹرول بم پھینکنے کا اعتراف کرلیا۔ عمران خان نے کہا کہ پیٹرول بم صرف زمان پارک، لاہور میں استعمال کیے گئے تھے اور کہیں نہیں۔صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ 9 مئی کے دن پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ہاتھوں میں پیٹرول بم دیکھے گئے، جس پر عمران خان نے اعتراف کیا کہ پیٹرول بم ہم نے زمان پارک، لاہور میں استعمال کیے تھے۔ صحافی نے مزید پوچھا کہ ویڈیوز موجود ہیں جن میں مقامی عہدیدار حساس عمارتوں پر پیٹرول بم پھینک رہے تھے، جس پر عمران خان نے کہا کہ اگر کوئی تنظیمی عہدیدار پیٹرول بم پھینکنے میں ملوث ہے تو اسے کڑی سزا دی جائے گی۔عمران خان نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیوز سامنے لائی جائیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ ان واقعات میں کون لوگ ملوث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی کے لوگ ان واقعات میں ملوث پائے گئے تو ان کو بھی سزا دی جائے گی۔
عمران خان نے کہا کہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ مافیا پیسے خرچ کرکے پاکستان مخالف مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج قومی ادارہ ہے اور اس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔صحافی نے پوچھا کہ آپ نے ہمیں نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کی کہانیاں سنائیں، جس پر عمران خان نے کہا کہ اب الیکشن میں دھاندلی کرکے انہی لوگوں کو مسلط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلادیش سے بھی برے حالات پاکستان میں ہیں اور حسینہ واجد کے واقعہ کے بعد مجھے لگ رہا ہے کہ ملک میں کچھ بڑا ہونے والا ہے۔عمران خان نے کہا کہ 9 مئی کو ہمارے 16 لوگ شہید ہوئے۔ صحافی نے پوچھا کہ اگر آپ کے 16 لوگ شہید ہوئے تو پی ٹی آئی نے نام کیوں جاری نہیں کیے؟ جواب میں عمران خان نے کہا کہ پولیس نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس حوالے سے کوئی بات نہ کریں۔
عمران خان نے مطالبہ کیا کہ مجھ سمیت نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، اور محسن نقوی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر ڈالا جائے۔صحافی نے سوال کیا کہ شہباز گل، مراد سعید، قاسم سوری، فرح گوگی، اور احسن جمیل گجر فرار ہوئے، انہیں واپس کیوں نہیں بلاتے؟ عمران خان نے جواب دیا کہ ہمیں عدالتوں سے ڈر نہیں لگتا، یہاں ٹرائل نہیں ہوتا بلکہ ڈالا آجاتا ہے۔شیر افضل مروت کے حوالے سے سوال پر عمران خان نے کوئی جواب دیے بغیر گفتگو ختم کردی۔یہ گفتگو عمران خان کی حالیہ صورتحال اور ان کے موقف کو واضح کرتی ہے، جہاں وہ پیٹرول بموں کے استعمال کا اعتراف کرتے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کے ذریعے حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ -

مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری اور سینیٹر عرفان صدیقی کا بانی تحریک انصاف پر تنقید
اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری نے کہا ہے کہ سانحہ 9 مئی کو جرم کرنے والے اب ثبوت مانگ رہے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں کور کمانڈر ہاؤس کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈرز کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔طلال چودھری نے کہا کہ فوٹیجز میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کبھی پی ٹی آئی کے لیڈرز گریبان پکڑتے ہیں اور کبھی پاؤں پکڑتے ہیں۔ انہوں نے بانی تحریک انصاف کو مشورہ دیا کہ مشروط معافی مانگنے سے بہتر ہے کہ غیر مشروط معافی مانگ لیں۔واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے 9 مئی کی فوٹیجز سامنے لائی جائیں۔ اگر پی ٹی آئی کے لوگ 9 مئی کے واقعات میں ملوث پائے گئے تو وہ معافی مانگ لیں گے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے بانی پی ٹی آئی کے بیان کو مایوسی، جھنجلاہٹ اور دروازے بند ہونے کا اظہار قرار دیا۔ مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے سوال اٹھایا کہ ادارے بانی پی ٹی آئی سے کس بات پر معافی مانگیں؟ آج تک بانی پی ٹی آئی نے کوئی پرامن احتجاج نہیں کیا، جب وہ 2014 میں آئے تو کیا وہ پرامن احتجاج تھا؟سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پولیس کو ڈنڈے نہیں مارے؟ پی ٹی وی کی نشریات بند نہیں کیں؟ کب بانی پی ٹی آئی نے پرامن احتجاج کیا؟ ان کی گفتگو پرامن نہیں ہوتی تو ان کا احتجاج کیا پرامن ہوگا؟عرفان صدیقی نے کہا کہ ایک سال ہوگیا بانی پی ٹی آئی نے تمام کوششیں کیں لیکن ناکام ہوئیں۔ 5 اگست کو ایک سال ہوا، اعلان تھا کہ پورے ملک میں عوام نکلیں گے، 5 اگست کو مجھے تو 10 بندے نظر نہیں آئے۔