Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل: مخصوص نشستوں کے حوالے سے قانونی اور آئینی سوالات اٹھائے

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے سپریم کورٹ کے دو ججز کی جانب سے مخصوص نشستوں پر دیے گئے تفصیلی فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران عطا تارڑ نے کہا کہ دو ججز کے فیصلے نے اکثریتی فیصلے پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور اس فیصلے کے 15 دن بعد بھی تفصیلی فیصلہ منظرِ عام پر نہیں آیا، جو کہ معمول کے خلاف ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے سے متعلق سپریم کورٹ کے ججز کے اختلافی نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالتی فیصلہ آئین کے کچھ آرٹیکلز سے ہٹ کر تحریر کیا گیا ہے۔ ان ججز نے سوال اٹھایا کہ 15 دن گزر جانے کے باوجود مکمل تفصیلی فیصلہ کیوں جاری نہیں ہوا، اور یہ کہ پی ٹی آئی کو کس بنیاد پر ریلیف دیا گیا جب کہ وہ عدالت میں درخواست گزار نہیں تھی۔

    وفاقی وزیر نے وضاحت کی کہ جن لوگوں نے مخصوص نشستوں پر انتخاب جیتا اور حلف اٹھایا، ان کی رکنیت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم، قانونی طور پر ان کی رکنیت کو ختم کرنے کے مراحل ابھی تک مکمل نہیں ہوئے، جو کہ ایک قانونی اور آئینی سوالیہ نشان ہے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ یہ بہت بڑی بات ہے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے افراد کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے، مگر حلف لینے سے پہلے کے قانونی مراحل کو نظر انداز کیا گیا۔انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پی ٹی آئی نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھائے تھے اور سپریم کورٹ کے ججز کے تفصیلی فیصلے کے بارے میں بھی ان کے سوالات ابھی تک بغیر جواب کے ہیں۔
    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ سپریم کورٹ کے 2 جج یہ کہہ رہے ہیں کہ آرٹیکل 175 اور 155 میں جو دائرہ کار تفویض کیا گیا ہے کہ اس سے باہر جاکر اکچریت میں فیصلہ دیا ہے اور نا صرف یہ انہوں نے آرٹیکل 51، 63، 106 کی بات کی ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل کو معطل کرنا پرے گا اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے اور حقیقت بھی یہی ہے یعنی وہ لوگ جو سنی اتحاد کے ممبر ہیں وہ کہہ ہی نہیں رہے کہ ہم نے پارٹی تبدیل کرنی ہے تو کیا وہ فلور کراسنگ ہوگی کہ وہ ایوان میں سنی اتحاد سے اٹھ کے پی ٹی آئی کی سفوں میں بیٹھیں گے تو کیا یہ 62-1 ایف اور 63 کی خلاف ورزی نہیں ہوگی؟

    انہوں نے بتایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ فلور کراسنگ کریں؟ کیا مستقبل میں بھی اس بات کا جواز بنایا جائے گا کہ کوئی بھی ممبر فلور کراسنگ کرنا چاہے تو وہ اس فیصلے کا سہارا لے کر پارٹی تبدیل کر سکے گا؟ سب سے بڑی بات یہ کہ 2 ججز جنہ۰وں نے اختلافی نوٹ لکھا اس میں انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کا پارلیمنٹ میں وجود نہیں تھا حتی کہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین تک نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑا، اس پر آئین واضح ہے، آئین کہتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں جو پارلیمان میں موجود ہیں ان کو متناسب نمائندگی کے فارمولے کے تحت مخصوص نشستیں دی جائیں گی۔عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ کیا سنی اتحاد کونسل کا وجود پارلیمان میں موجود تھا یا نہیں تھا؟ اس کا جواب ہے کہ سنی اتحاد کا وجود پارلیمان میں نہیں تھا کیونکہ ان کے چیئرمین نے بھی آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا، جب چیئرمین نے آزاد الیکشن لڑا تو یہ غلطی پی ٹی آئی کے سابقہ ممبرز کی تھی جنہوں وہ جماعت میں شمولیت اختیار کی جس کا سیاسی وجود نہیں تھا، وہ چاہتے تو ایم ڈبلو ایم میں شامل ہوجاتے جس کا وجود موجود تھا۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک ایسی سیاسی جماعت کا انتخاب کیا جس میں شامل ہو کر ان کو آئین و قانون کے مطابق مخصوص نشستیں نہیں مل سکتی تھیں، سنی اتحاد کونسل کے اپنی آئین میں یہ لکھا کہ کوئی بھی اقلیت کا ممبر ان کی پارٹی میں شامل نہیں ہوسکتا لہذا ان کو اقلیت کی سیٹیں بھی نہیں مل سکتی تھیں، تو قانون کی روشنی میں 2 ججز نے جو اختلافی نوٹ لکھا ہے اور تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے اس نے اکثریت کے فیصلے پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکلز کو معطل کرنا پڑے گا اس فیصلے پر عملدرآمد کروانے کے لیے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس کے ساتھ ساتھ آئین کے دو آرٹیکلز میں جو دائرہ اختیار تفویض کیا گیا ہے، اس سے باہر جاکر فیصلہ کرنا پڑے گا، ہم تو پہلے دن سے کہہ رہے تھے کہ یہ ٹائم کو پیچھے کیا گیا ہے اور وہ ریلیف دیا گیا جو مانگا نہیں تھا اور ان کو دیا گیا جنہوں نے مانگا ہی نہیں تھا، وہ موجود ہی نہیں ہیں جن کو ریلیف دیا گیا، آئین و قانون میں یہ چیزیں واضح درج ہیں، اتنے آرٹیکلز، الیکشن ایکٹ 2017 کی خلاف ورزی کرنے کے بعد پھر یہ ممکن ہے کہ یہ ریلیف دیا جاسکے ایک ایسی جماعت کو جس نے عدالت کے سامنے یہ استدعا نہیں کی۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی یہ قدم چیلنج نہیں کیا کہ یہ سنی اتحاد میں گئے تھے، یا تو اس قدم کو چیلنج کیا جاتا کسی کی طرف سے کہ ہم سنی اتحاد میں گئے اور چیلنج کرتے کہ سنی اتحاد میں نہیں جاسکتے تھے تب تو پھر پی ٹی آئی کا ممبر ان کو تصور کیا جاتا اور جو نشستوں پر منتخب ہوئے تھے اور ان کی حق تلفی ہوئی ان کو بھی نہیں سنا گیا، نا ان کو بلایا گیا، ان ممبران کا پورا پراسس ہے، لسٹ گئی ہیں الیکشن کمیشن میں جس کی اسکروٹنی ہوئی پھر نوٹیفکیشن ہوا، ان کی رکنیت ختم کردی گئی مگر باقی مراحل کے بارے میں بات نہیں کی گئی۔
    عطا تارڑ نے مزید کہا کہ ہم نے اس فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی تھی اور ہم سمجھتے تھے کہ اس پر سماعت ہونا ضروری ہے، لیکن ابھی تک اس کی سماعت مقرر نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں آئینی اداروں میں کوئی چھٹی نہیں ہوتی، مگر یہاں چھٹیوں کا مسئلہ سامنے آ رہا ہے۔ دو ججز کے اٹھائے گئے قانونی نکات پر بات ہونا بہت ضروری ہے، کیونکہ ان نکات پر تفصیلی فیصلہ نہ آنے سے قانونی فریم ورک پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔عطا تارڑ نے مسلم لیگ ن کی جانب سے مزید کہا کہ دو اہم معاملات ہیں: ایک یہ کہ سنی اتحاد نے ایسی سیٹیں مانگی ہیں جن کا انہیں حق نہیں تھا، اور دوسرا یہ کہ پی ٹی آئی درخواست گزار ہی نہیں تھی، پھر بھی اتنا بڑا ریلیف کیوں دیا گیا؟ ان سوالات کے جوابات ابھی باقی ہیں، اور یہ بہت اہم قانونی نکات ہیں جن کا جواب ملنا اور تفصیلی فیصلہ آنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ تاثر قائم ہو جائے گا کہ ایک طرفہ ریلیف دیا گیا ہے، جس سے آئین کی حکمرانی پر منفی اثر پڑے گا اور قانون کے اصولوں کو نقصان پہنچے گا۔ اگر فلور کراسنگ کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا جائے تو اس سے ماضی کی تشریحات اور آئینی اصولوں پر سوال اٹھے گا، جیسے کہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں ووٹ کو کاؤنٹ نہ کرنے اور رکنیت ختم کرنے کی بات کی گئی تھی، اور اب پارٹی بدلنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان ججز نے اپنے اختلافی نوٹ میں بہت اہم نکات اٹھائے ہیں، جن کا جواب ملنا ضروری ہے۔

  • برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    برطانیہ میں دوبارہ ہنگامہ: فاشسٹ گروپوں کی جانب سے عمارتوں کو نذر آتش ، لوٹ مار کی گئی

    گزشتہ رات برطانیہ میں ایک بار پھر شدید افراتفری اور تشویش ناک ہنگاموں کا سامنا کرنا پڑا جب دائیں بازو کے گروپوں نے سڑکوں پر نکل کر عمارتوں کو آگ لگا دی اور دکانوں کو لوٹ لیا۔ لِورپول، ہل، مانچسٹر اور بیلفاسٹ کی سڑکوں پر ایک بار پھر انارکی کا راج قائم ہوا، جبکہ پولیس فورسز ملک بھر میں آج رات مزید بدمعاشی کے لیے تیار ہیں۔مَرسی سائیڈ پر ایک کمیونٹی لائبریری، جو کہ چند ماہ کی فنڈ ریزنگ کے بعد پچھلے سال کھولی گئی تھی، کو آگ لگا دی گئی۔ 300 سے زیادہ افراد کے ایک علاقے میں نکلنے کے بعد، فائر فائٹرز نے اسپیلوس لین لائبریری ہب کی آگ بجھانے کی کوشش کی جو کہ ایک فوڈ بینک کے طور پر بھی کام کرتی ہے۔ ہنگامہ آرائی کرنے والوں نے فائر انجین پر مِسل پھینک دیا اور ایک قریبی کیب کی پچھلی کھڑکی توڑ دی۔

    آج صبح کی تصاویر میں لائبریری کے جلتے ہوئے اندرونی حصے کو دکھایا گیا ہے، جہاں کتابوں کی الماریاں الٹی ہوئی ہیں اور کمپیوٹرز کے ارد گرد شیشے بکھرے ہوئے ہیں۔ ایک پولیس افسر کو اس کے موٹر سائیکل سے دھکا دے کر گرا دیا گیا جبکہ دوسرے افسر کو تشویش ناک حالت میں دیکھ بھال کی گئی۔اسی دوران، لوٹ مار کرنے والوں نے تشویش ناک صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی دکانوں سے فونز، جوتے اور شراب چوری کر لی۔ ہِل میں، شو زون کے شیشے ٹوٹے ہوئے نظر آئے اور دکان کے اندر آگ لگی ہوئی تھی۔ ملوث افراد سڑک کے کنارے کروکس کا تبادلہ کرتے ہوئے نظر آئے جبکہ انتشار بڑھتا گیا۔ بیلفاسٹ میں، دکانوں کو بے شرمی سے آگ لگا دی گئی اور تباہ کر دیا گیا، ایک کیفے کے باہر تصاویر میں نوجوانوں کو بینچوں کو زمین پر توڑتے ہوئے دکھایا گیا۔یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب ملک ایک ہفتے سے تشویش ناک ہنگاموں میں گھرا ہوا ہے، جس کی ابتداء جنوبی پورٹ کے ٹیلر سوئفٹ تھیمڈ ڈانس پارٹی میں چھوٹے بچوں کی ہلاکتوں کے بعد ہوئی تھی۔

  • حکومت کی کہیں بھی رٹ نہیں ہے اور عوام کے دلوں میں اس کا کوئی مقام نہیں، لیاقت بلوچ

    حکومت کی کہیں بھی رٹ نہیں ہے اور عوام کے دلوں میں اس کا کوئی مقام نہیں، لیاقت بلوچ

    جماعت اسلامی کا "حق دو” دھرنا آج اپنے دسویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ دھرنے کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر اور دھرنا مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ لیاقت بلوچ نے حکومت پر سخت تنقید کی اور اپنے مطالبات کی تجدید کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ دھرنا اب قومی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جس میں تاجر برادری، پینشنرز، نوجوان، طلبہ اور طالبات بڑی تعداد میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دھرنے نے عوام میں حوصلہ اور امید پیدا کی ہے۔
    جماعت اسلامی کے رہنما نے ملک میں عدم استحکام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کہیں بھی رٹ نہیں ہے اور عوام کے دلوں میں اس کا کوئی مقام نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قیام پاکستان کے مقاصد سے انحراف کیا جا رہا ہے۔

    جماعت اسلامی کے سربرہ لیاقت بلوچ نے معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ ناقص معاہدوں نے پوری معیشت کو شکنجے میں لے لیا ہے۔ انہوں نے ان معاہدوں پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی، انہوں نے ٹیکسوں میں اضافے پر تنقید کی اور کہا کہ اس سے تمام ملازمین پریشان ہیں۔جماعت اسلامی کے رہنما نے حکمران طبقے سے عیاشیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقہ اڑا رہا ہے۔لیاقت بلوچ نے سی پیک کے حوالے سے کہا کہ جماعت اسلامی اس منصوبے کی حامی ہے، لیکن حکومت کو اس پر اپنی پارٹی سیاست بند کرنی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کراچی پہنچ چکے ہیں اور وہاں کے دھرنے میں پوری قوم سے خطاب کریں گے۔یہ دھرنا جاری رہنے کا امکان ہے، جب تک کہ حکومت جماعت اسلامی کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتی۔

  • حکومت کو خطرہ ہے تو ہمیں اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟ نیئر حسین بخاری

    حکومت کو خطرہ ہے تو ہمیں اعتماد میں کیوں نہیں لیا؟ نیئر حسین بخاری

    پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں کوئی خطرہ لاحق ہے تو اسے ہم سے شیئر کیوں نہیں کیا جاتا۔ایک بیان میں نیئر حسین بخاری نے کہا کہ اگر حکومت کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے تو وزیر اعظم کو ایڈوائس کرنی چاہئے کہ اسمبلی تحلیل کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں حکومت کو مضبوط کرنے کو تیار ہے، بشرطیکہ حکومت اپنی کارکردگی میں بہتری لائے۔نیئر حسین بخاری نے کہا کہ سابق صدر آصف زرداری بارہا کہہ چکے ہیں کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے، اور وہ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر کوئی بات چیت کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا۔ بانی پی ٹی آئی کی قابل اعتباریت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنی بات سے پھر جاتے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ایک دن اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی بات کرتے ہیں اور اگلے دن کچھ اور بیان دے دیتے ہیں۔ اسی طرح، محمود اچکزئی کو بات کرنے کا اختیار دینے کے بعد انکار کر دیتے ہیں۔ نیئر حسین بخاری نے واضح کیا کہ بات چیت اسی سے کی جاتی ہے جس پر اعتماد ہو۔نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور تمام مسائل کا حل آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سسٹم ڈی ریل ہو گیا تو نقصان ملک کا ہوگا۔

    نواز شریف کی وطن واپسی کا کریڈٹ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کی یونیفارم نہ اترتی تو نواز شریف کبھی واپس نہ آتے۔نیئر حسین بخاری نے عام انتخابات کے حوالے سے بتایا کہ پارٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ بلاول بھٹو وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل پر یقین رکھتی ہے اور 8 فروری کے انتخابات کے نتائج کو تحفظات کے باوجود قبول کیا۔پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پارٹی کو منصوبے کے تحت کچھ نشستیں نہیں دی گئیں اور اگر ن لیگ کا ساتھ نہ دیتے تو پارلیمان اور چیف ایگزیکٹو کا آفس نہیں چل سکتا۔

  • سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا یوم شہداء پولیس کی تقریب سے خطاب

    سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا یوم شہداء پولیس کی تقریب سے خطاب

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے یوم شہداء پولیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان لوگوں اور شہداء کے مقروض ہیں جنہوں نے ملک کے امن کے لیے قربانیاں دیں۔ملک محمد احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ تقریب شہداء کے ورثاء کی ہے، جن کا حق ہم کبھی ادا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کیپٹن احمد مبین شہید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ شہید ہوئے تو میں حکومت کا ترجمان تھا اور مال روڈ پر ہونے والے شہداء اور ان کے خاندانوں کو آج تک نہیں بھولا۔
    ملک احمد خان نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ملک جس طرف جا رہا ہے، افراتفری پھیلا دی گئی ہے۔ انہوں نے شہداء کے خاندانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ ان قربانیوں کو بیان کر سکیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پنجاب شہداء کے بچوں کو ایف ایس سی تک مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے اور مزید مراعات بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشاورت سے دی جائیں گی۔ ملک احمد خان نے کہا کہ شہداء کے بچوں کو ہر طرح کی مراعات دی جائیں گی۔
    ملک احمد خان نے یہ بھی اعلان کیا کہ قصور کے ایک چوک کو پولیس شہداء کی یاد میں "وال آف فیم” کے طور پر بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت کی کہانی افراد کے کندھوں پر ہے اور اگر وہ شہداء جیسے ہوں تو ملک آگے بڑھے گا۔تقریب کے دوران، شہداء کے خاندانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ ملک محمد احمد خان نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت شہداء کے ورثاء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

  • یوم شہدائے پولیس: ملک بھر میں تقریبات، اعلیٰ حکومتی شخصیات کے خصوصی پیغامات

    یوم شہدائے پولیس: ملک بھر میں تقریبات، اعلیٰ حکومتی شخصیات کے خصوصی پیغامات

    آج پاکستان بھر میں یوم شہدائے پولیس منایا جا رہا ہے، جس میں ان بہادر پولیس افسران اور اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جنہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانیں قربان کیں۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے خصوصی پیغامات جاری کیے ہیں۔
    Shehbaz Sharif
    اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔ وزیراعظم نے پولیس کے شہید افسران اور اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن بہادر پولیس افسران اور اہلکاروں کی جرات اور بہادری کو یاد کرنے کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ جرائم کی سرکوبی کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کی قربانیاں لازوال ہیں۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ہمیشہ ہراول دستے کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں نے ہمیشہ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کا مستقبل محفوظ اور روشن بنایا۔ انہوں نے زور دیا کہ شہدائے پولیس قوم کا فخر ہیں اور پوری قوم شہید پولیس اہلکاروں کو سلام پیش کرتی ہے۔وزیراعظم نے حکومت کی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شہید افسران اور اہلکاروں کے خاندانوں کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں ہونے دی جائے گی۔ وفاقی حکومت شہداء کے بچوں کی تعلیم و صحت کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی اور شہداء کے خاندانوں کا ہر طرح سے خیال رکھا جائے گا۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے دور میں شہدائے پولیس کے خاندانوں کے لئے ایک بڑا اور تاریخی پیکج دیا تھا۔یہ پیغام یوم شہدائے پولیس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور حکومت کی جانب سے شہداء کے خاندانوں کی مدد کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
    mohsin naqvi
    وزیر داخلہ محسن نقوی نے تمام صوبوں کی پولیس کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ شہید ایس ایس پی اشرف مارتھ اور کیپٹن مبین جیسے افسران ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کچے کے علاقے سمیت مشکل حالات میں پولیس کی خدمات کو خاص طور پر سراہا۔

    maryam
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یوم شہدائے پولیس کے موقع پر ایک اہم پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے پولیس کے تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 4 اگست کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ شہداء کی یاد ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ انہوں نے پولیس شہداء کی قربانیوں کو قومی اثاثہ قرار دیا جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔مریم نواز نے کہا کہ حکومت پنجاب شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ہر لمحہ کھڑی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کچے کے علاقے سمیت صوبے کے مشکل ترین علاقوں میں پولیس کی خدمات کو سراہا۔وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ ہر شہید کے خاندان کی دیکھ بھال اور خدمت کا فریضہ پوری طرح نبھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہداء پر پوری قوم کو فخر ہے اور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مریم نواز کے اس پیغام سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب پولیس شہداء کے خاندانوں کی مدد اور ان کی قربانیوں کو یاد رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
    pti
    خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ صوبے کی پولیس کا شمار ملک کی بہترین فورسز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس کی جانفشانیوں کا ذکر کیا۔یوم شہدائے پولیس کا مقصد ان بہادر افسران اور اہلکاروں کی یاد تازہ کرنا ہے جنہوں نے ملک کی سلامتی اور عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حکومتی عہدیداروں نے زور دیا کہ قوم ان شہداء کو کبھی نہیں بھولے گی اور ان کی یاد ہمیشہ زندہ رکھی جائے گی۔
    cm kpk
    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور ہیلتھ سینٹر میں خواتین عملے سمیت 5 شہریوں اور فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے شہدا کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، شہدا کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔علی امین گنڈا پور نے کہا کہ صوبائی حکومت شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، رورل ہیلتھ سنٹر پر حملہ انتہائی قابل مذمت اقدام ہے، معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ کاروائی ہے، اس طرح کے واقعات میں ملوث عناصر انسان کہلانے کے لائق نہیں۔
    bilawal bhuto
    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یوم شہدائے پولیس کے موقع پر ایک اہم پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے پولیس شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو بے مثال قرار دیا۔بلاول نے اپنے پیغام میں کہا کہ پولیس شہداء نے قانون کی حکمرانی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے چاروں صوبوں کے پولیس اہلکاروں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جوانمردی کی بھی تعریف کی۔پی پی پی چیئرمین نے زور دیا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کی کاوشوں اور جرات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔بلاول نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی پولیس شہداء کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فلاح و بہبود اور حمایت کا عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ پولیس شہداء کی یاد کو سلام پیش کریں اور ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے عزم کی تجدید کریں۔یہ پیغام پولیس شہداء کی قربانیوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور پیپلز پارٹی کی جانب سے پولیس فورس کی حمایت کا اظہار کرتا ہے

  • یوم شہداء پولیس: پنجاب بھر میں خراج عقیدت کی تقریبات

    یوم شہداء پولیس: پنجاب بھر میں خراج عقیدت کی تقریبات

    لاہور: آج ملک بھر میں یوم شہداء پولیس منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر صوبے کے مختلف شہروں میں شہید پولیس اہلکاروں کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جہاں شمعیں روشن کر کے ان کی قربانیوں کو یاد کیا گیا۔ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق، یہ تقریبات شہداء کی یادگاروں، پبلک سروس ڈلیوری سنٹرز اور دیگر مقامات پر منعقد کی گئیں۔ ان تقریبات میں آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز سمیت اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔ شہداء کے اہل خانہ، سول سوسائٹی کے نمائندے اور عام شہری بھی بڑی تعداد میں ان تقریبات میں شامل ہوئے۔
    اس موقع پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے اپنے پیغام میں کہا کہ شہداء پولیس کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے شہداء کو جرات، بہادری اور ملک و قوم سے وفا کا پیکر قرار دیا۔ آئی جی پنجاب نے یہ بھی کہا کہ شہداء کی فیملیز کی فلاح و بہبود اور ویلفیئر کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔قابل ذکر ہے کہ پاکستان بھر میں 4 اگست کو یوم شہداء پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان تمام پولیس اہلکاروں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہوں نے ملک کی حفاظت اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
    اس سال کی تقریبات خاص طور پر اہم ہیں کیونکہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث پولیس کے نقصانات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ شہداء کے اہل خانہ کی مدد کے لیے مزید اقدامات اٹھانے پر غور کر رہے ہیں۔شہریوں نے بھی اس موقع پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ لاہور کے ایک شہری، احمد علی نے کہا، "ہم اپنے پولیس شہداء کے مرہون منت ہیں۔ انہوں نے ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ ہم انہیں کبھی نہیں بھولیں گے۔”یوم شہداء پولیس کی یہ تقریبات ملک بھر میں جاری رہیں گی، جہاں مختلف شہروں میں شہداء کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارے پولیس اہلکار روزانہ کتنی بڑی قربانیاں دیتے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہ سکیں۔

  • مریم نواز کی قیادت میں "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کی تیز  کرنے کا اعلان

    مریم نواز کی قیادت میں "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کی تیز کرنے کا اعلان

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بے گھر افراد کے لئے "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کو تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تین مختلف ماڈلز کی منظوری دی گئی ہے۔ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ پلاٹ پر قرض حاصل کرنے والوں سے سروس چارجز نہ لیے جائیں۔یہ پروگرام 14 اگست کو لانچ کیا جائے گا، اور اس کے تحت پائلٹ منصوبے کے طور پر ماڈل گھر بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ماڈل گھروں کے نقشے میں لیونگ روم شامل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے ایک ٹال فری نمبر بھی متعارف کرایا جائے گا۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس پروگرام کے لیے ایک خصوصی پورٹل تیار کرے تاکہ خواہش مند افراد آن لائن درخواست جمع کرا سکیں۔ سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن (ر) اسد اللہ خان نے اس منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ "اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کے فارم ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاتر سے حاصل کیے جا سکیں گے۔

    ایک سے پانچ مرلہ تک پلاٹ مالکان کو بلا سود قرض فراہم کیا جائے گا، اور وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ قرض کی ادائیگی آسان اقساط میں کی جائے۔ سرکاری زمین پر گراونڈ اور تین منزلہ اپارٹمنٹ کے منصوبے کا پی سی ون منظور کر لیا گیا ہے اور اس کی فزیبلٹی سٹڈی جلد ہوگی۔ پرائیویٹ سکیموں میں تین اور پانچ مرلہ کے گھر "پھاٹا” کے الاٹیز کو فراہم کیے جائیں گے، جو پانچ سال میں اقساط میں ادا کیے جائیں گے۔ حکومت پنجاب پرائیویٹ سکیموں میں گھر کی لاگت کو کم کرنے کے لیے سبسڈی فراہم کرے گی۔کسی بھی شہر یا گاوں میں 70 ہزار پلاٹ مالکان بلا سود قرض حاصل کر سکیں گے، جبکہ مائیکروفنانس اداروں کے ذریعے قرض کی ادائیگی پر سروس چارجز حکومت پنجاب ادا کرے گی۔ اس اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے، جس میں سینیٹر پرویز رشید اور سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔

  • پاکستانی نژاد کینیڈین بزنس مین راحت راؤ پر حملہ، تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل

    پاکستانی نژاد کینیڈین بزنس مین راحت راؤ پر حملہ، تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل

    کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں پاکستانی نژاد کینیڈین بزنس مین راحت راؤ کو نامعلوم شخص نے ان کے دفتر میں آگ لگا دی۔ راحت راؤ کو انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے۔کینیڈین ٹی وی چینل نیوز 18 کے مطابق، راحت راؤ گزشتہ برس خالصتان نواز سِکھ رہنما ہردیپ سنگھ نِجر کے قتل کے حوالے سے تحقیقات کا حصہ رہے ہیں۔ نیوز 18 ہی نے یہ خبر بریک کی تھی کہ راحت راؤ سے اس کیس کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ راحت راؤ زرِمبادلہ کے بزنس سے وابستہ ہیں۔

    یاد رہے کہ ہردیپ سنگھ نِجر کو گزشتہ برس برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک بڑے گردوارے کے باہر قتل کیا گیا تھا۔ اس قتل کے بعد سِکھ برادری نے شدید احتجاج کیا تھا جس میں راحت راؤ اور ان کے ساتھی پیش پیش رہے تھے۔ حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس حملے کی وجوہات اور اس میں ملوث افراد کا پتہ لگایا جا سکے۔ کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور راحت راؤ کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔

  • امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کراچی روانہ، دھرنے کے شرکاء سے خطاب کریں گے

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کراچی روانہ، دھرنے کے شرکاء سے خطاب کریں گے

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کراچی روانہ ہو گئے ہیں، جہاں وہ گورنر ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کریں گے۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے جماعت اسلامی کا دھرنا کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں جاری دھرنا قومی دھرنے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس میں تاجر، صنعت کار، تنخواہ دار طبقہ اور خواتین بھی شامل ہو چکے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے دھرنے سے عوام میں امید اور خوشحال مستقبل کا احساس پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت آئینی اور پارلیمانی بحران سے دو چار ہے اور حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سیٹوں کو بلڈوز کر کے میڈیا پر بیٹھ کر حکمرانی کی جارہی ہے۔ آئین کو پامال کیا جارہا ہے اور قومی معیشت سے کھلواڑ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مقاصد کو ختم کر دیا گیا ہے اور جماعت اسلامی کے کارکنان ملی جذبے سے دھرنے میں شریک ہیں۔
    دھرنے کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دے رکھا ہے، جس میں ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔جماعت اسلامی کے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک کی اقتصادی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے اور عوام مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکاء کے حوصلے بلند ہیں اور وہ ملکی بحران کے حل کے لئے پوری طرح پرعزم ہیں۔
    اسی موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے بعد عملاً فرار کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔ ایک بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ مسلم لیگ ن، پی پی پی اور ایم کیو ایم عوام کے مقابلے میں نہیں ٹہر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف نہ دینے سے حکومت ملک کو افراتفری کا شکار کر رہی ہے۔لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ سی پیک پاک چین دوستی کا ثمر ہے، جماعت اسلامی سی پیک کی حامی ہے، حکومت سی پیک پر اپنی سیاست بند کرے۔