Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • گجرات میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے خاتون جاں بحق، دو افراد زخمی

    گجرات میں بارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے خاتون جاں بحق، دو افراد زخمی

    گجرات کے علاقے کھٹالہ میں موسلا دھار بارش کے نتیجے میں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں کو فوری طور پر عزیز بھٹی شہید ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔بارش کے بعد شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہو گئیں اور گھروں میں پانی داخل ہو گیا۔ شاہ حسین، خواجگان روڈ، غریب پورہ روڈ، قمر سیالوی روڈ، اور چاہ بڈھے والا سمیت کئی علاقے زیر آب ہیں۔
    میونسپل کارپوریشن، ضلعی کمپلیکس، واپڈا دفاتر اور اولڈ ڈی پی او آفس کے ارد گرد بھی پانی جمع ہو گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی خراب ٹربائنیں ایک ماہ بعد بھی درست نہیں ہو سکیں، جس کی وجہ سے شہر جھیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اقدامات کیے جائیں تاکہ بارش کے بعد کی صورتحال بہتر ہو سکے اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • گیدڑ کو جب موت نظر آتی ہے تو وہ شہر کی جانب بھاگتا ہے۔ عظمی بخاری کی پی ٹی آئی  پر  تنقید

    گیدڑ کو جب موت نظر آتی ہے تو وہ شہر کی جانب بھاگتا ہے۔ عظمی بخاری کی پی ٹی آئی پر تنقید

    خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی درخواست نے سیاسی محاذ پر نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا یہ قدم "عدالتی ہتھوڑے کے نیچے چھپنے کی ناکام کوشش” ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ 9 مئی کے واقعات ایک "ناکام بغاوت” تھی، جس کے تمام شواہد پہلے سے موجود ہیں۔پنجاب کی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن عام طور پر پوشیدہ معاملات کے لیے بنائے جاتے ہیں، جبکہ 9 مئی کے واقعات کی تمام تفصیلات واضح ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو "اپنے جرائم کا اعتراف” قرار دیا۔
    دوسری طرف، خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست کی ہے۔ صوبائی کابینہ نے اس فیصلے کی منظوری دی تھی۔اس دوران، پنجاب حکومت نے 9 مئی کے واقعات کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ یہ اقدام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ یہ تنازع دونوں صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ وفاقی حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرے۔عوام اب اس بات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں کہ آیا پشاور ہائی کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دے گی یا نہیں، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ اس دوران، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

  • ہیپاٹائٹس ایک خاموش قاتل ہے: صدر مملکت آصف علی زرداری

    ہیپاٹائٹس ایک خاموش قاتل ہے: صدر مملکت آصف علی زرداری

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس ایک خاموش قاتل ہے، جو عالمی سطح پر ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کی علامات عموماً ظاہر نہیں ہوتیں جس سے اس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں اموات واقع ہوتی ہیں۔صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے صحت کے نظام پر شدید بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وسیع پیمانے پر سکریننگ اور بروقت تشخیص کی ضرورت ہے، تاکہ صحت عامہ کے نظام پر بوجھ کم ہو سکے۔

    آصف علی زرداری نے کہا کہ بروقت اقدامات نہ اٹھانے کی صورت میں پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں احتیاطی تدابیر کو فروغ دینے، سکریننگ، ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولیات بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔صدر مملکت نے ہیپاٹائٹس سے بچاؤ، سکریننگ اور علاج کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے میڈیا، تعلیمی اداروں، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ ہیپاٹائٹس کے بارے میں لوگوں کو تعلیم دیں اور اس کے خاتمے کے لیے مل کر کام کریں۔آصف علی زرداری نے اپنے پیغام کا اختتام کرتے ہوئے کہا، "آئیے! مل کر ہیپاٹائٹس سے پاک پاکستان بنانے کے لیے کام کریں۔”

  • ہنی ٹریپ کیس: حسن رضا شاہ کے تہلکہ خیز انکشافات، خلیل الرحمان قمر کی ویڈیوز سامنے لانے کا اشارہ

    ہنی ٹریپ کیس: حسن رضا شاہ کے تہلکہ خیز انکشافات، خلیل الرحمان قمر کی ویڈیوز سامنے لانے کا اشارہ

    ہنی ٹریپ کیس کا مرکزی ملزم حسن رضا شاہ منظر عام پر آگیا ہے اور اس نے اپنے بیان میں کئی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں، جن میں خلیل الرحمان قمر کے اغوا اور بازیابی کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ حسن رضا شاہ نے ایک نجی نیوز چینل کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ خلیل الرحمان قمر کا اغوا ان کے ذمے نہیں ہے، بلکہ یہ خلیل قمر تھا جو آمنہ عروج کو فون کرتا تھا اور ان کے ساتھ دوستی میں ملوث تھا۔حسن رضا شاہ نے مزید انکشاف کیا کہ خلیل الرحمان قمر نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے کیونکہ ان کے پاس قمر کی نازیبا ویڈیوز موجود ہیں، جن میں وہ نشے کی حالت میں نظر آتا ہے اور آمنہ عروج کو فزیکل ٹچ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملزم نے کہا کہ خلیل الرحمان قمر کے موبائل فون کی سی ڈی آر نکال کر دیکھا جا سکتا ہے کہ فون کرنے والا کون تھا، اور ویڈیوز کی حقیقت بھی واضح ہو جائے گی۔

    ملزم حسن رضا شاہ نے تفصیل سے بتایا کہ خلیل الرحمان قمر نے آمنہ عروج کے ساتھ فزیکل ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن آمنہ نے اس کو منع کر دیا تھا۔ حسن رضا شاہ نے کہا کہ خلیل کو اس کی ویڈیوز کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا اور یہ طے پایا تھا کہ 10 محرم کے بعد انہیں میڈیا پر جاری کیا جائے گا، مگر بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ جلد از جلد ویڈیوز کو عوام کے سامنے لایا جائے۔حسن رضا شاہ کا مزید کہنا تھا کہ خلیل الرحمان قمر نے ان کے خلاف مقدمہ اس لیے درج کرایا ہے کہ وہ ویڈیوز واپس لینا چاہتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قمر ان ویڈیوز کو منظر عام پر آنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسی لیے اس نے جھوٹے الزامات عائد کیے ہیں۔یہ معاملہ نیا موڑ لے رہا ہے، اور خلیل الرحمان قمر کے خلاف الزامات کی سچائی اور ویڈیوز کی حقیقت عوامی سطح پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ملزم کی باتوں نے کیس میں نئی جہتیں پیدا کر دی ہیں، اور اس کیس کی تحقیقات میں مزید پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے قومی پرچم لہرانے کی مہم کا اعلان کیا

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے قومی پرچم لہرانے کی مہم کا اعلان کیا

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس میں ملک بھر میں قومی پرچم لہرانے کی مہم کا اعلان کیا ہے، جو یکم اگست سے تیس اگست تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ 14 اگست کو ملک کے ہر کونے میں قومی پرچم لہرایا جائے گا، اور اس مہم کا مقصد دین اور وطن کی حرمت کو اجاگر کرنا ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے اس موقع پر کہا کہ دین و وطن ان کے لیے ریڈ لائن ہیں اور ان کی حرمت پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی استحکام پر سیمینارز اور کنونشنز منعقد کیے جائیں گے، جن میں چار اگست کو گوجرانوالہ اور گیارہ اگست کو لاہور میں کانفرنسز شامل ہیں۔
    انہوں نے بھارت کے پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے اقدامات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یوم استحصال کشمیر دنیا بھر میں منایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں ظلم ڈھایا ہے، جس کی بھرپور مذمت کی جانی چاہیے۔طاہر اشرفی نے فلسطین اور کشمیر کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت کشمیریوں اور فلسطینیوں کے حق کی بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مضبوط قوم اور فوج ہونے کی وجہ سے ملکی سازشوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور کشمیر کے مسئلے پر درست طریقے سے بات ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے تیس ہزار مدارس مختلف محکموں کے ساتھ منسلک ہیں، جن میں سے پندرہ ہزار مدارس نے رجسٹریشن کی ہے۔ انہوں نے نیکٹا پر بھی تنقید کی کہ اس کو اپنے معاملات میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے یقین دلایا کہ مدارس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے شواہد پیش کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی، اور ایسے مدارس کو بند کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

  • جسٹس (ر) طارق مسعود، جسٹس (ر)مظہر عالم کل بطور ایڈہاک جج حلف اٹھائیں گے

    جسٹس (ر) طارق مسعود، جسٹس (ر)مظہر عالم کل بطور ایڈہاک جج حلف اٹھائیں گے

    جسٹس ریٹائرڈ سردار طارق مسعود اور جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل کل بطور ایڈہاک جج سپریم کورٹ حلف اٹھائیں گے۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ دونوں ایڈہاک ججز سے حلف لیں گے، حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ بلڈنگ کے ججز بلاک کمیٹی روم میں دن 11 بجے ہوگی، دونوں ججز کو ایک سال کیلئے بطور ایڈہاک جج سپریم کورٹ تعینات کیا گیا ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔واضح رہے کہ وزارت قانون کی جانب سے تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جسٹس (ریٹائرڈ) مظہر عالم میاں خیل نے پہلے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کی تھی، جوڈیشل کمیشن نے جسٹس (ریٹائرڈ) سردار طارق مسعود اور جسٹس (ریٹائرڈ) مظہر عالم میاں خیل کو ایک سال کیلئے ایڈہاک جج تعینات کرنے کی سفارش کی تھی۔

  • چین اور سعودی عرب نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کی حمایت کی .وفاقی وزیر خزانہ

    چین اور سعودی عرب نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کی حمایت کی .وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ چین اور سعودی عرب نے پاکستان کی آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چین نے آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے لیے بھی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ادائیگی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے تاجر دوست اسکیم متعارف کرائی گئی ہے، تاکہ ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری حضرات کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وہ سیلری کلاس سے آئے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ یکم جولائی سے اب تک تقریباً 70 ارب روپے کے ریفنڈز دیے جا چکے ہیں، جو معیشت کی بہتری کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سطح پر ٹیکس نظام کی بہتری کے لیے بات چیت جاری ہے اور زراعت کے شعبے کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
    محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر کی اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم ہر ہفتے میٹنگ کرتے ہیں اور وزرائے اعلیٰ زرعی شعبے پر ٹیکس کے لیے قانون سازی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا نظام ہر سیکٹر کے لیے انتہائی سادہ بنایا جائے گا۔ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ایف بی آر کی اصلاحات کے حوالے سے وزیراعظم ہر ہفتے میٹنگ کرتے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ زرعی شعبے میں ٹیکس کے لیے قانون سازی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹائلزیشن کی بدولت ہمیں نان فائلرز کا لائف اسٹائل ڈیٹا حاصل کرنے میں مدد ملی ہے، جس سے ٹیکس چوری کے خلاف کاروائی میں مزید آسانی ہو گی۔
    نان فائلرز کو سینٹرلائزڈ طریقے سے نوٹس بھیجے جائیں گے تاکہ ہراسگی کے واقعات کا خاتمہ ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ تاجر دوست اسکیم کے تحت تاجروں کے لیے ٹیکس کا عمل انتہائی آسان کر دیا گیا ہے اور ٹیکس نادہندگان ملک اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے کرپشن اور ہراسگی کو روکنے کے لیے نان فائلرز کو سینٹرلائزڈ طریقے سے نوٹس بھیجے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کسٹمز میں 50 سے 200 ارب کی انڈر انوائسنگ ہے اور ٹیکس نادہندگان ملک اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 5 وزارتوں کے انضمام پر غور کیا جا رہا ہے اور آئی ٹی اور ٹیلی کام کے انضمام پر کام ہو رہا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبوں کی ذمہ داری ہے اور کشمیر اور گلگت بلتستان کی وزارت ضم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میکرو اکنامک استحکام نہیں لاتے تو مسائل ہوں گے اور ہمیں تمام سرمایہ کاری برآمدی شعبوں پر کرنی چاہیے۔
    انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلوں کی وجہ سے اس وقت تکلیف ہو رہی ہے لیکن معیشت کی بہتری کے لیے یہ فیصلے ضروری ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ چین نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کی ہے اور آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری میں بھی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ سعودی عرب اور چین دونوں کا تعاون موجود ہے۔ وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تفصیلی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پانڈہ بانڈ پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ چین نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو سراہا ہے اور آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری میں بھی چین کی حمایت حاصل ہوگی۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمیں چین اور امریکا دونوں بلاکس کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور مقامی یا بیرونی سرمایہ کاروں سے یکطرفہ معاہدہ ختم کرنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔
    وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ٹیکس کے مراحل کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ممالک میں ہر سال ایک سادہ فارم آتا ہے جس میں ٹیکس کی تفصیلات درج ہوتی ہیں، جبکہ یہاں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے وکیل کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس نظام کو آسان اور سادہ بنانا ہوگا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وفاقی حکومت اپنے اخراجات کم کرنے پر غور کر رہی ہے اور رائٹ سائزنگ کے لیے پانچ وزارتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ وزارتوں کے بعض شعبوں کا انضمام ممکن ہے، اور آئی ٹی اور ٹیلی کام کے انضمام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ صحت کا شعبہ صوبوں کی ذمہ داری ہے، جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کی وزارتوں کو ضم کرنے کی ضرورت ہے۔

    آئی ایم ایف معاہدے کی اہمیت
    محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے اسٹاف لیول معاہدے کے تحت میکرو اکنامک استحکام لانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم یہ استحکام نہیں لائیں گے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران انہوں نے ریٹنگ ایجنسیوں مودی اور فچ سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ یہ ہمارا آخری آئی ایم ایف پروگرام ہو تو ہمیں ایکسپورٹ کی گروتھ اور فارن ڈائریکٹڈ انویسٹمنٹ پر توجہ دینی ہوگی۔وفاقی وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس نے ملک کی اقتصادی صورتحال، ٹیکس نظام میں اصلاحات، اور بیرونی تعلقات کے حوالے سے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ محمد اورنگزیب نے اپنی پریس کانفرنس میں ملکی معیشت کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور حکومتی ترجیحات کو واضح کیا۔

  • یکم اگست سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے

    یکم اگست سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے

    پاکستان کے عوام کو مہنگائی کی لہر نے بری طرح متاثر کیا ہے، لیکن اب ایک خوشخبری سامنے آئی ہے۔ یکم اگست سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے، جو کہ عام آدمی کے لیے بڑی راحت کا باعث بن سکتا ہے۔عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات پاکستان تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 3 روپے فی لیٹر کی کمی متوقع ہے، جبکہ ڈیزل 8 روپے 50 پیسے تک سستا ہو سکتا ہے۔ مٹی کا تیل بھی 9 روپے 11 پیسے فی لیٹر تک سستا ہونے کی امید ہے۔
    یہ خبر اس وقت آئی ہے جب گزشتہ ماہ دو بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، جس نے عوام کو مزید مشکلات میں ڈال دیا تھا۔ اب یہ متوقع کمی لوگوں کے لیے ایک راحت کا سبب بن سکتی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ اس کے بعد، وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت خزانہ 31 جولائی کو پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔اگر یہ کمی عملی جامہ پہن لیتی ہے تو اس سے نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ مجموعی طور پر مہنگائی پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ خبر خاص طور پر ان لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے جو روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔تاہم، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو مستقل بنیادوں پر قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے۔ وہ تجویز دیتے ہیں کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا اور مقامی پیداوار میں اضافہ کرنا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔عوام اب امید کر رہے ہیں کہ یہ کمی ان کی معاشی مشکلات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی اور مستقبل میں مزید راحت کی خبریں آئیں گی۔

  • رؤف حسن اور دیگر ملزمان دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    رؤف حسن اور دیگر ملزمان دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر رؤف حسن کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔پی ٹی آئی کے رہنما رؤف حسن کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ایف آئی اے نے اسلام آباد میں ڈیوٹی جج مرید عباس کی عدالت میں پیش کر دیا۔ رؤف حسن اور دیگر کو 3 روز کے جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آج عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ترجمان پاکستان تحریک انصاف رؤف حسن اور دیگر کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایف آئی اے نے رؤف حسن اور دیگر کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر ڈیوٹی جج مرید عباس کی عدالت میں پیش کیا، رؤف حسن اور دیگر کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سیدہ عروبہ کنول کو بھی جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلئے عدالت پیش کیا گیا، سیدہ عروبہ کو گزشتہ روز ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ریکارڈ میں ریاست مخالف ویڈیوز کے ٹرانسکرپٹ لگائے گئے ہیں جن کا فرانزک بھی کرانا ہے، مزید 8 دن کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے، پیکا ایکٹ کے تحت 30 دن کا ریمانڈ حاصل کرسکتے ہیں، جب تک ملزمان کی کسٹڈی نہیں ہوگی تو ہم انکوائری کیسے کریں گے۔جج مرید عباس نے استفسار کیا کہ رؤف حسن کا انڈیا سے ویزہ یا ٹکٹ بھی آیا ہے، راحول نامی بندے کے ساتھ آپ کی چیٹ ہے اس کا اقرار کرتے ہیں؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی رؤف حسن کا انڈیا سے سفری ٹکٹ آیا ہے۔

    جج مرید عباس نے سوال کیا کہ رؤف حسن صاحب، آپ کبھی بھارت گئے ہیں؟ راحول نامی بندے کے ساتھ آپ کی چیٹ ہے، اس کا اقرار کرتے ہیں؟رؤف حسن نے جواب دیا کہ میں ریجنل تھنک ٹینک چلاتا ہوں، راحول انگلینڈ میں رہتا ہے اس نے گیسٹ سپیکر کے طور پر مجھے بحرین بلایا تھا، میں کنگ کالج لندن کا سینئر فیلو ہوں، میری ذمہ داری الیکٹرانک میڈیا سے ڈیل کرنا ہے، میرا سوشل میڈیا سے کوئی تعلق نہیں، میں سوشل میڈیا ہینڈل نہیں کرتا۔

    ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ عروبہ پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کو ہینڈل کرتی ہیں، انہوں نے ابھی تک اکاؤنٹس کو سرنڈر نہیں کیا۔پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ خاتون ایک ملازم کے طور پر پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہینڈل کرتی ہے، سارا کیس صرف موبائل فونز پر آ کر رک جاتا ہے جبکہ سب موبائل فون ایف آئی اے کے پاس ہیں۔علی بخاری ایڈووکیٹ نے رؤف حسن سمیت دیگر گرفتار افراد کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ فریڈم آف سپیچ میں بھی سب سے پہلے ریاست کو دیکھنا ہوتا ہے، رؤف حسن نے کہا کہ مجھ پر سوشل میڈیا کی ذمہ داری نہیں ہے لیکن جو گرفتار ان کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، جسمانی ریمانڈ لینے کی وجہ صرف یہی ہے کہ جن جن سے ان کا تعلق یہی بتا سکتے ہیں۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما رؤف حسن اور دیگر کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

  • 29 سے 31 جولائی کے دوران جنوبی پنجاب کے زیادہ تر اضلاع میں بارش کی پیش گوئی

    29 سے 31 جولائی کے دوران جنوبی پنجاب کے زیادہ تر اضلاع میں بارش کی پیش گوئی

    محکمہ موسمیات نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ عرب سے آنے والی مون سون ہواؤں کے باعث آج سے بدھ تک پاکستان کے مختلف حصوں میں بارشوں کا امکان ہے۔ کشمیر، اسلام آباد، پنجاب اور بالائی خیبرپختونخوا میں بارش کی توقع ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے بعض علاقوں میں شدید بارش سے نالوں میں پانی کی سطح بڑھ گئی ہے۔بلوچستان کے شہروں ژوب، بارکھان، لورالائی، سبی اور خضدار میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ سندھ کے ساحلی علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے، جبکہ کراچی میں کل سے بارش شروع ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔لاہور میں موسم ابرآلود رہنے کا امکان ہے، جہاں درجہ حرارت 28 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ پشاور میں بھی بارش کا امکان ہے، جہاں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
    پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے 29 سے 31 جولائی کے دوران جنوبی پنجاب کے زیادہ تر اضلاع میں بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ متعدد ڈویژنوں میں مون سون بارشوں کا امکان ہے۔حکام نے متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا ہے اور بڑے شہروں کی انتظامیہ کو پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم میں 24 گھنٹے موسمی صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔