Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • جب جمہوری آزادی نہ ہو، پارلیمنٹ کام نہ کرے، تو پرامن مزاحمت ہی واحد راستہ ہے.حافظ نعیم الرحمان

    جب جمہوری آزادی نہ ہو، پارلیمنٹ کام نہ کرے، تو پرامن مزاحمت ہی واحد راستہ ہے.حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کام نہ کرے اور ربڑ سٹیمپ ہو تو پھر پرامن سیاسی جدوجہد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں . امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر سخت تنقید کی اور اپنے مطالبات پر زور دیا۔اپنے خطاب میں حافظ نعیم نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ناکامی اور حکومتی اداروں کی غیر فعال کارکردگی نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے اس احتجاج کو آئینی اور جمہوری حق قرار دیا۔بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ مسئلہ پورے ملک کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کو چیلنج کیا کہ وہ 37,000 روپے کی کم از کم تنخواہ پر ایک غریب خاندان کا بجٹ بنا کر دکھائے۔
    حافظ نعیم نے الزام لگایا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں غریب طبقہ چوری یا ڈاکہ زنی جیسے جرائم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے تعلیم کے شعبے میں نابرابری پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔امیر جماعت اسلامی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں فوری کمی کی جائے، ٹیکس کا "ظالمانہ” نظام ختم کیا جائے، اور زرعی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں تنخواہ دار طبقے پر زیادہ ٹیکس لگانے پر بھی سوال اٹھایا۔حافظ نعیم نے آئی پی پیز (آزاد بجلی پیدا کنندگان) کے معاہدوں پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ یہ معاہدے بڑے سرمایہ داروں اور حکمرانوں کے مفاد میں کیے گئے ہیں۔
    دھرنے کے تیسرے روز، امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو وارننگ دی کہ اب وہ اس مسئلے کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذاکرات سے پہلے جماعت کے تمام گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے۔جماعت اسلامی کا یہ احتجاج ملک بھر میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حکومتی حکام مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ دھرنے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
    یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور عام شہری مہنگائی کی مار سے پریشان ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے۔

  • پاکستان اور چین کے درمیان توانائی شعبے میں اہم پیش رفت

    پاکستان اور چین کے درمیان توانائی شعبے میں اہم پیش رفت

    پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر توانائی اویس لغاری کے حالیہ دورہ چین کے دوران توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، چین نے پاکستان میں قائم تین بڑے کوئلہ سے چلنے والے بجلی گھروں کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔یہ تینوں بجلی گھر – ساہیوال، حب، اور پورٹ قاسم – فی الحال درآمد شدہ کوئلے پر چل رہے ہیں اور ملک میں سب سے مہنگی بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ ہر پلانٹ کی پیداواری صلاحیت 1320 میگاواٹ ہے۔چینی حکام نے ان پلانٹس کی ری پروفائلنگ پر بھی اتفاق کیا ہے، جس سے ان کی کارکردگی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ، چین نے پاکستان کو پانڈا بانڈز کے معاملے میں بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
    یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام پریشان ہے۔ آئی پی پیز (آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے) کی کپیسٹی پیمنٹس نے بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ کیا ہے۔وزرا کا یہ دورہ پاکستان کی توانائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ مستقبل میں ان معاملات پر مزید بات چیت جاری رہنے کی توقع ہے۔حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک میں بجلی کی پیداوار کے اخراجات کم کرنے میں مدد دیں گے، جس سے صارفین کو سستی بجلی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ ان تبدیلیوں کے عملی نتائج دیکھنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

  • ضلع کرم میں قبائلی تنازع: پانچویں روز بھی جھڑپیں جاری، 20 افراد جاں بحق اور 112 زخمی

    ضلع کرم میں قبائلی تنازع: پانچویں روز بھی جھڑپیں جاری، 20 افراد جاں بحق اور 112 زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں دو مقامی قبائل کے درمیان مسلح تصادم کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ تنازع زمین کے مسئلے پر شروع ہوا تھا جو اب کئی علاقوں تک پھیل چکا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس تشدد میں 20 افراد جاں بحق اور 112 زخمی ہو چکے ہیں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پارا چنار اور صدہ شہر پر متعدد میزائل حملے کیے گئے ہیں۔مقامی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے طور پر پارا چنار سے پشاور جانے والی مین روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
    علاقے کے ایم این اے انجینئر حمید حسین نے صورتحال کی سنگینی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی اسپتالوں اور مارکیٹوں میں ادویات کی شدید قلت ہو گئی ہے۔ ممبر صوبائی اسمبلی علی ہادی عرفانی نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فائر بندی کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس خونریزی کو روکا جا سکے۔عوام میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد ہی امن قائم نہ ہوا تو انسانی ہمدردی کے بحران کا خدشہ ہے۔

  • ہیپاٹائٹس کے عالمی دن  2024 کے موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا پیغام

    ہیپاٹائٹس کے عالمی دن 2024 کے موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا پیغام

    وزیراعظم شہباز شریف نے ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر قوم کے نام ایک اہم پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب ہم دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سے آگہی کا عالمی دن منا رہے ہیں، میں پاکستان کے عوام سے اس اہم صحت کے مسئلے پر توجہ دینے کی اپیل کرتا ہوں۔ اس سال کا عالمی تھیم ‘یہ عمل کا وقت ہے’ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ہیپاٹائٹس کی روک تھام، تشخیص اور علاج کے لیے فوری طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے 10 ملین کیسز ہیں، جو ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ میں آج ایک ملک گیر مہم کا اعلان کر رہا ہوں جس کا مقصد ہیپاٹائٹس سی کو ختم کرنا ہے۔ ہم ہر پاکستانی شہری کو ہیپاٹائٹس سی کے لیے مفت اسکریننگ اور علاج کی سہولیات فراہم کریں گے۔
    انہوں نے کہا کہ میں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے طور پر پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کا قیام کیا تھا۔ اب ہم اس کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں جدید فلٹر کلینکس قائم کیے گئے ہیں جہاں گردے اور جگر کے مریضوں کو جدید ترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ہماری حکومت ہیپاٹائٹس کی وجہ سے درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم جانچ اور علاج کے مراکز کو بہتر بنائیں گے اور یہ یقینی بنائیں گے کہ یہ خدمات ہمارے شہریوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔
    آئیے ہم سب مل کر ہیپاٹائٹس کے خلاف اس جنگ میں شامل ہوں۔ ہم آگاہی پھیلا کر، متاثرہ افراد کی مدد کر کے، اور ایک صحت مند مستقبل کے لیے کام کر کے ایک فرق پیدا کر سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر ایک صحت مند اور خوشحال پاکستان بنا سکتے ہیں۔”وزیراعظم نے اپنے پیغام کے آخر میں تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی اسکریننگ کروائیں اور اس قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی یہ جنگ ہم سب کو مل کر لڑنی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند پاکستان دے سکیں۔

  • دفتر خارجہ نے جرمنی میں پاکستانی قونصل خانے پر حملے کے ملزمان کی حوالگی سے متعلق خبروں کی تردید کر دی

    دفتر خارجہ نے جرمنی میں پاکستانی قونصل خانے پر حملے کے ملزمان کی حوالگی سے متعلق خبروں کی تردید کر دی

    دفتر خارجہ نے جرمنی میں پاکستانی قونصل خانے پر حملے کے ملزمان کی پاکستان حوالگی سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ان افواہوں کو جھوٹی قرار دیا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں۔ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ 20 جولائی کو فرینکفرٹ میں ہونے والے ایک احتجاج کے دوران کچھ شرپسندوں نے پاکستانی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جرمن پولیس نے اس واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔
    ترجمان دفتر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ان ملزمان کی پاکستان حوالگی سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں اور انہیں فیک نیوز کی کیٹگری میں رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی غیر تصدیق شدہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے آنے والی معلومات پر اعتماد کریں۔یہ واقعہ پاکستان اور جرمنی کے تعلقات میں ایک حساس موڑ پر سامنے آیا تھا۔ دونوں ملکوں کے حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس کی مکمل تحقیقات کا عزم ظاہر کیا ہے۔
    ایسے واقعات دو ملکوں کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں، لیکن دونوں فریقوں کی جانب سے ظاہر کی گئی سنجیدگی اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر جرمن حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • خیبرپختونخوا حکومت نے 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    خیبرپختونخوا حکومت نے 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    خیبرپختونخوا حکومت نے 9 مئی 2023 کے متنازعہ واقعات کی جوڈیشل انکوائری کے لیے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ صوبائی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر ایک جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست کی ہے۔وزیر قانون خیبر پختونخوا، آفتاب عالم نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کو بھیجے گئے خط میں 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب چیف جسٹس اس کمیشن کے لیے ججوں کے ناموں کا اعلان کریں گے، جس کی سربراہی پشاور ہائیکورٹ کے ایک سینئر جج کریں گے۔
    یہ اقدام 27 جون کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں لیے گئے فیصلے کے مطابق اٹھایا گیا ہے، جہاں 9 مئی واقعات کی جوڈیشل انکوائری کی منظوری دی گئی تھی۔ اس موقع پر حکومت نے عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ ان واقعات میں ملوث تمام افراد کی شناخت کرے گی اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے صوبے میں حکومت سنبھالتے ہی یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ 9 مئی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے گی۔ اب اس وعدے پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے یہ عملی قدم اٹھایا ہے۔
    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس انکوائری کے نتائج کا انتظار کریں گے اور اس کی سفارشات پر مکمل عمل کریں گے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، لیکن ساتھ ہی انکوائری کی شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

  • جماعت اسلامی کا مہنگائی کے خلاف دھرنا تیسرے روز میں داخل، حکومت سے مذاکرات کا آغاز   آج ہو گا

    جماعت اسلامی کا مہنگائی کے خلاف دھرنا تیسرے روز میں داخل، حکومت سے مذاکرات کا آغاز آج ہو گا

    جماعت اسلامی کا مہنگائی کے خلاف لیاقت باغ راولپنڈی میں جاری دھرنا تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ اس دوران، جماعت اسلامی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان آج مذاکرات کا آغاز ہونے جا رہا ہے، جس سے صورتحال میں کسی مثبت پیش رفت کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے ایک چار رکنی ٹیم تشکیل دی ہے، جس میں لیاقت بلوچ، امیر العظیم، سید فراست شاہ اور نصر اللہ رندھاوا شامل ہیں۔ لیاقت بلوچ اور امیر العظیم جماعت کے نائب امیر کے عہدوں پر فائز ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جماعت ان مذاکرات کو کتنی اہمیت دے رہی ہے۔
    حکومتی جانب سے مذاکراتی کمیٹی میں انجینئر امیر مقام، عطا تارڑ، طارق فضل چوہدری اور معروف تاجر رہنما کاشف چوہدری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی بھی حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت مقامی انتظامیہ کو بھی اس عمل میں شامل کرنا چاہتی ہے۔
    جماعت اسلامی کے ترجمان نے بتایا کہ وہ حکومتی وفد کے سامنے اپنے دس نکاتی مطالبات پیش کریں گے۔ ان مطالبات کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ان میں مہنگائی پر قابو پانے، بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی، اور عام آدمی کے لیے معاشی سہولیات شامل ہوں گی۔دھرنے کے تیسرے روز، حکام نے شرکاء کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے اقدامات کیے ہیں۔ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) نے دھرنے کے شرکاء کے لیے پینے کے پانی کا ایک ٹینکر فراہم کیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ مقامی انتظامیہ صورتحال کو پرامن رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ دھرنے کی وجہ سے ٹریفک کی صورتحال متاثر ہوئی ہے، لیکن وہ جماعت اسلامی کے مطالبات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ایک مقامی دکاندار، محمد اکرم نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور حکومت عوام کی مشکلات کو سمجھے گی۔”اگر حکومت جماعت اسلامی کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتی ہے، تو یہ نہ صرف موجودہ بحران کو حل کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں ایسے احتجاجوں کو روکنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔”آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ مذاکرات کس سمت میں جاتے ہیں اور کیا دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچ پاتے ہیں۔ ہم آپ کو اس صورتحال پر مسلسل اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔

  • احتجاج کی اجازت قانون اور ضابطوں کے مطابق ہوتی ہے . طلال چوہدری

    احتجاج کی اجازت قانون اور ضابطوں کے مطابق ہوتی ہے . طلال چوہدری

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے جماعت اسلامی کی حالیہ گرفتاریوں اور احتجاجی کارروائیوں پر تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے اتنے ووٹ بھی نہیں لیے جتنی گرفتاریوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے واضح کیا کہ احتجاج کا حق قانون اور ضابطوں کے مطابق ہونا چاہیے، اور احتجاج اور انتشار کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ قانون کے مطابق احتجاج کریں، انہیں بار بار احتجاج کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔طلال چوہدری نے کہا کہ وہ اسلام آباد سے نکلے ہیں اور وہاں چند چھوٹی ٹولیاں احتجاج کے لیے نکلی ہیں، جن میں سے ایک دو جگہوں پر بیس، تیس نوجوان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بڑا احتجاج نظر نہیں آ رہا اور اگر احتجاج لوگوں کے کاروبار اور روزمرہ کی زندگی میں رکاوٹ ڈالے گا تو پھر حکومت کا کیا کام ہے۔
    مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس اسمبلی کے ہوتے ہوئے پی ٹی آئی کے کسی بھی "ایڈونچر” کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پانچ سال آسان نہیں ہوتے، اور موجودہ اسمبلی کے دوران حکومت کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔طلال چوہدری کی یہ باتیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے، اور حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • کسی بھی وقت احتجاج کو آگے بڑھانے کا حکم دے سکتے ہیں،حافظ نعیم الرحمٰن

    کسی بھی وقت احتجاج کو آگے بڑھانے کا حکم دے سکتے ہیں،حافظ نعیم الرحمٰن

    جماعت اسلامی پاکستان نے راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک بڑے احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا، جہاں پارٹی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمٰن نے موجودہ حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور عوامی مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔اپنے خطاب میں حافظ نعیم الرحمٰن نے زور دیا کہ یہ احتجاج کسی سیاسی جماعت کے مفادات کے لیے نہیں، بلکہ عام پاکستانیوں کے حقوق کے لیے ہے۔ انہوں نے کارکنوں کو ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت کی، یہ اشارہ دیتے ہوئے کہ وہ کسی بھی وقت احتجاج کو آگے بڑھانے کا حکم دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ری الیکشن کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیاجائے۔ دھر ایک ماہ چلے یا اس سے بھی زیادہ ہم تیار ہیں۔ کارکن رہا ہوں تو ہم سمجھیں گے کہ آپ بات کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ جماعت اسلامی 25 کروڑ لوگوں کی ترجمانی کررہی ہے۔ ری الیکشن نہیں جو جیتا ہے اس کی حکومت بنائوجماعت اسلامی کے سربراہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عوامی مسائل کے حل میں ناکام رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں اضافے نے عام آدمی کو برباد کر دیا ہے، جبکہ سرمایہ کار اپنے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ حافظ نعیم نے حکومت کو "فارم 47 کی پیداوار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس عوامی مسائل کے حل کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔بجلی کے شعبے پر تفصیلی بات کرتے ہوئے، جماعت اسلامی کے امیر نے آزاد بجلی پیداکار کمپنیوں (آئی پی پیز) کے نظام پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ آئی پی پیز بہت زیادہ قیمت پر بجلی فروخت کر رہی ہیں، جبکہ بعض کو بغیر بجلی پیدا کیے بھاری رقوم ادا کی جا رہی ہیں۔ حافظ نعیم نے دعویٰ کیا کہ اکثر آئی پی پیز حکومتی عہدیداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ملکیت ہیں۔

    تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے، جماعت اسلامی کے سربراہ نے کہا کہ ہر بچے کو مفت اور معیاری تعلیم کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کو تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرے۔ٹیکس کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے، حافظ نعیم نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ بھاری ٹیکس ادا کر رہا ہے، جبکہ بڑے زمیندار اور جاگیردار اپنے حصے کا ٹیکس دینے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جاگیرداروں پر ٹیکس لگائے اور عام شہریوں پر سے ٹیکس کا بوجھ کم کرے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ نے اعلان کیا کہ ان کا دھرنا جاری رہے گا جب تک کہ حکومت عوام کے مسائل حل نہیں کرتی اور ناجائز ٹیکسوں کو ختم نہیں کرتی۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ احتجاج محض سیاسی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ پورے ملک کے عوام کے مفاد کے لیے ہے۔

  • سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پی ٹی آئی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، بیر سٹر گوہر

    سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پی ٹی آئی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، بیر سٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایک اہم بیان میں ملکی اداروں کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کسی سے لڑنا نہیں چاہتی بلکہ تمام اداروں کی عزت کرنا چاہتی ہے۔بیرسٹر گوہر نے سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے اہل خانہ کو نشانہ بنانے سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے عوام کی آواز سننے اور تبدیلی کے عمل کو روکنے سے گریز کرنے کی اپیل کی۔
    پی ٹی آئی چیئرمین نے اپنی جماعت کے مستقبل کے بارے میں پراعتماد لہجے میں کہا کہ پی ٹی آئی پر کوئی پابندی نہیں لگ سکتی اور یہ پہلی بار سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بننے جا رہی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس سے پی ٹی آئی سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کروانے کا مطالبہ کیا۔الیکشن کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پی ٹی آئی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ جماعت کو مخصوص نشستوں پر اپنا حق مل سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اپنے حلف نامے جمع کروا چکے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا توشہ خانہ کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔