Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھا کر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے، سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

    آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھا کر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے، سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

    سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے آج لاہور میں کہا کہ آزاد بجلی پیداکاروں (آئی پی پیز) کا معاملہ صرف صنعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے 24 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔ یہ بیان انہوں نے پاکستان فیڈریشن آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (ایف پی سی سی آئی) کے ایک اجلاس میں دیا۔اجلاس میں سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز بھی موجود تھے۔ کاکڑ نے کہا کہ وہ اس مسئلے کو اٹھا کر صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے، بلکہ ان کا مقصد بات چیت کے ذریعے اس کا حل نکالنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ ماضی میں بھی عوامی حقوق کے لیے لڑائیاں لڑ چکے ہیں۔کاکڑ نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی مایوسی کی لہر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک کا مستقبل روشن ہے۔

    اس موقع پر گوہر اعجاز نے سرکاری اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غفلت کا الزام عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پورا پاکستان آئی پی پیز سے متاثر ہے اور ہر حال میں ان سے کیے گئے معاہدوں کو ختم کرنے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرم نے اعلان کیا کہ وہ آئی پی پیز کے معاملے پر عدالت جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بجلی کے نرخوں پر صنعت چلانا ناممکن ہے۔یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب آئی پی پیز کا معاملہ سینیٹ میں زیر بحث ہے اور ملک بھر میں مہنگی بجلی کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کا جلد حل نہ نکالا گیا تو یہ ملک کی معیشت اور عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

  • تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کیا جائے ، بجلی کی قیمیتں کم جائیں اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔  حافظ  نعیم الر حمن

    تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کیا جائے ، بجلی کی قیمیتں کم جائیں اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔ حافظ نعیم الر حمن

    جماعت اسلامی نے آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف مقامات پر احتجاجی دھرنے شروع کر دیے ہیں۔ یہ دھرنے مہنگی بجلی اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے خلاف دیے جا رہے ہیں۔جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی-8 میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے حقوق کی جنگ ہے۔ انہوں نے حکومت سے صرف ایک مطالبہ کیا کہ عوام کو ریلیف دیا جائے۔حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ احتجاج ان کا آئینی حق ہے اور وہ اس حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آئی پی پیز (آزاد بجلی پیداکار) عوام پر مسلط کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔جماعت اسلامی کے سربراہ نے اعلان کیا کہ یہ دھرنے محض ایک آغاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پورے پاکستان میں دھرنے دیں گے اور ان کا اگلا پڑاؤ مری روڈ ہوگا۔
    امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے ،اسلام آباد سے بھی سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا،ان کاکہناتھا کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کیا جائے ، بجلی کی قیمیتں کم جائیں اور عوام کو ریلیف دیا جائے، ہم اپنی ذات اور اپنے لئے کچھ مانگنے نہیں آئے ، عوام پر گرائے جانے والے بجلی کے بم نامنظور ، حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ ہمارے گرفتار کارکنوں کو رہا کیا جائے ، کچھ بھی کرلو ایک ریلے کو پکڑو گے تو ہزاروں لوگوں کا اضافہ ہو جائے گا ،ان کاکہناتھا کہ آئی پی پیز کو بند کرو ، ہمارا اگلا پڑاو مری روڈ پر ہو گا ، کراچی سے لیکر چترال تک دھرنے ہوں گے۔اس موقع پر جماعت اسلامی نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے چار مختلف مقامات پر دھرنے دیے ہیں۔ یہ مقامات ہیں: مری روڈ راولپنڈی، زیرو پوائنٹ اسلام آباد، چونگی نمبر 26، اور راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر. حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اربوں روپے کھا رہی ہے جبکہ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ حافظ نعیم نے کہا کہ یہ احتجاج ملک میں جاری معاشی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کا اظہار ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے عوامی مسائل پر توجہ نہ دی تو یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، حکومت نے ابھی تک احتجاجیوں کے مطالبات پر کوئی واضح ردعمل نہیں دیا ہے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اور احتجاجیوں کے درمیان کوئی مفاہمت ہوتی ہے یا یہ احتجاج مزید طول پکڑتا ہے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد میں آج احتجاج کی اجازت نہیں مل سکی

    پاکستان تحریک انصاف کو اسلام آباد میں آج احتجاج کی اجازت نہیں مل سکی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد میں آج کے لیے منصوبہ بند احتجاج کی اجازت نہیں مل سکی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، جس میں اہم ہدایات دی گئی ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ہدایت دی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی 29 جولائی کو احتجاج کی درخواست پر وجوہات کے ساتھ فیصلہ کریں۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسٹیٹ کونسل احتجاج کی اجازت نہ دینے کی وجوہات سے متعلق عدالت کو مطمئن نہیں کر سکے۔پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وہ 29 جولائی کو ایف نائن پارک میں احتجاج کی اجازت چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی انڈر ٹیکنگ دی کہ احتجاج پرامن ہوگا اور کوئی لا اینڈ آرڈر کی خراب صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔
    دوسری جانب، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 18 جولائی سے دو ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 29 جولائی کو احتجاج کی اجازت صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے اگر دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے لا اینڈ آرڈر کی کوئی خراب صورتحال پیدا نہ ہو۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مناسب پابندیوں کے ساتھ آئین میں پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے۔ اہم نکتہ یہ تھا کہ کسی اور سیاسی جماعت کے خطرے کی بنیاد پر پٹیشنر پارٹی کے آئینی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔اس صورتحال کے پیش نظر، پی ٹی آئی نے آج کا منصوبہ بند احتجاج ملتوی کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔

  • شمالی وزیرستان ؛سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ایک  دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان ؛سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ایک دہشتگرد ہلاک

    سکیورٹی فورسز کے شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فائرنگ کے تبادلے میں خوارجی دہشت گرد رزاق ہلاک ہو گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے مطابق ہلاک دہشت گرد خوارجی گل بہادر کا قریبی ساتھی تھا،ہلاک دہشتگرد 6جنوری 2023 کو فقیر آف ایپی کے پوتے ملک شیر محمد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا،ہلاک دہشتگرد 16 مارچ 2024 کو شمالی وزیرستان میں خود کش حملے کا سہولت کار بھی تھا،اس خود کش حملے میں7بہادر جوان شہید ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آرکے مطابق سکیورٹی فورسز کا علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن ہے، سکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے عفریت کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔

  • اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ ایجیٹیشن کی سیاست سے ہٹ کر حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کریں. عطا تارڑ

    اپوزیشن کو دعوت دی کہ وہ ایجیٹیشن کی سیاست سے ہٹ کر حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کریں. عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے ملکی سیاسی صورتحال، معاشی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر امیر مقام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنے خطاب کا آغاز جماعت اسلامی کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کے ساتھ تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ وزیر موصوف نے جماعت اسلامی کی قیادت کو قابل احترام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن ایک دور اندیش سیاستدان ہیں جنہوں نے ہمیشہ دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تارڑ نے مزید کہا کہ وہ جماعت اسلامی کے ساتھ اچھے ماحول میں بات کرنا چاہتے ہیں اور حکومتی ٹیم مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
    اپنے خطاب کے دوران عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے بیانات کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلسوں میں کچھ اور اور اجلاسوں میں کچھ اور کہتے ہیں۔ تارڑ نے صوبے میں درختوں کی کٹائی کے سکینڈل کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے سوال کیا کہ ٹمبر مافیا کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔وفاقی وزیر نے خیبر پختونخوا حکومت کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس معاہدے پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک غیر قانونی معاہدہ ہے جس کے ذریعے ہزاروں طلبا کو بےوقوف بنایا جا رہا ہے۔ تارڑ نے کہا کہ اس معاہدے میں شامل ادارہ کسی بھی تسلیم شدہ جہت سے سرٹیفائیڈ نہیں ہے۔
    وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ملک کی معاشی صورتحال پر بات کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی کوششوں سے ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی جو پچھلے سال 23 فیصد تھی، اب کم ہو کر 11 فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوست ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں اور سرمایہ کاری کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ عطا تارڑ نے آئی ایم ایف معاہدے کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد معاشی اشاریے روز بروز بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اظہار خیال کیا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری معاہدہ ہو۔
    وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ انہوں نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے حوالے سے وضاحت دی ۔امیر مقام نے خیبر پختونخوا حکومت سے امن و امان کی صورتحال بہتر کرنے کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن پہلے سے چل رہا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے، قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے، آپ کہتے ہیں امریکہ سے ڈالر ملے آپ تو حکومت میں تھے وہ کس کو ملے؟ فوج ہمیشہ صوبائی حکومت کی درخواست پر آئی، تیسری دفعہ آپ کی حکومت ہے امن وامان قائم کرنا آپ کا کام ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کی تاجکستان کے سفیر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم شہباز شریف کی تاجکستان کے سفیر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج وزیراعظم ہاؤس میں تاجکستان کے سفیر عزت مآب شریف زادہ یوسف طائر سے ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ملاقات کے آغاز میں وزیراعظم نے تاجک سفیر کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور ان کی پاکستان میں تعیناتی کی مدت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اپنے حالیہ تاجکستان کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاجک صدر امام علی رحمن کے پرتپاک استقبال سے بےحد متاثر ہوئے۔ انہوں نے دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین ہونے والی بات چیت کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیا۔

    وزیراعظم نے دورے کے دوران طے پانے والے مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان معاہدوں پر بروقت عمل درآمد سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر وزیراعظم نے تاجک صدر کو جلد از جلد پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کو دہرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سال اکتوبر میں اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں تاجکستان کی شرکت کا منتظر ہے۔تاجک سفیر نے وزیراعظم کو تعلیم، زراعت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے زمینی اور فضائی راستوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان روابط کو بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے ان تجاویز کو سراہا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ تاجک سفیر سے رابطہ کر کے ان تجاویز پر عمل درآمد کے لیے لائحہ عمل مرتب کریں۔

    ملاقات میں CASA-1000 سمیت علاقائی روابط کے دیگر اہم منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ منصوبہ مرکزی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان بجلی کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اس کی تکمیل سے خطے میں توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ملاقات کے اختتام پر تاجک سفیر نے وزیراعظم کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تاجک صدر کی جانب سے وزیراعظم کو مبارکباد پیش کی اور پاکستان کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔یہ ملاقات پاکستان اور تاجکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سیاحت، تعلیم اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس ملاقات سے امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور خطے میں امن و ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

  • نیپرا کی کے الیکٹرک کو کراچی میں لوڈشیڈنگ پر سخت وارننگ

    نیپرا کی کے الیکٹرک کو کراچی میں لوڈشیڈنگ پر سخت وارننگ

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی الیکٹرک (کے الیکٹرک) کو شہر میں جاری شدید گرمی کے دوران لوڈشیڈنگ کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ نیپرا نے کے الیکٹرک کو وارننگ دی ہے کہ انتہائی ضرورت کی صورت میں بھی لوڈشیڈنگ ایک گھنٹے سے زیادہ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے کے الیکٹرک سے ان ہدایات پر عمل درآمد کی رپورٹ سات دن کے اندر جمع کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ اگر کے الیکٹرک ان ہدایات پر عمل نہیں کرتی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    یہ اقدام 22 جولائی کو سندھ ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں شدید گرمی کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف ایک درخواست پر سماعت ہوئی تھی۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہیٹ ویو کی وجہ سے تین افراد جان سے جا چکے ہیں اور باقاعدہ بل ادا کرنے کے باوجود 12-12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔اس موقع پر کے الیکٹرک نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جن فیڈرز پر نقصان ہوتا ہے، وہاں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔نیپرا کی جانب سے یہ سخت ہدایات کراچی کے شہریوں کے لیے ایک امید کی کرن ہیں، جو لمبی لوڈشیڈنگ اور شدید گرمی کی دوہری مار سے پریشان ہیں۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ کے الیکٹرک ان ہدایات پر کس حد تک عمل کرتی ہے اور کیا یہ اقدامات شہر کے بجلی کے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

  • جماعت اسلامی کو مری روڈ پر  دھرنا جاری رکھنے کی مشروط اجازت  مل گئی ہے

    جماعت اسلامی کو مری روڈ پر دھرنا جاری رکھنے کی مشروط اجازت مل گئی ہے

    جماعت اسلامی کو مری روڈ پر دھرنا جاری رکھنے کی مشروط اجازت مل گئی ہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ جماعت اسلامی کو مری روڈ پر دو سے تین روز تک دھرنا جاری رکھنےکی مشروط اجازت مل گئی ہے۔جماعت اسلامی کا راولپنڈی کے لیاقت باغ میں دھرنا جاری ہے۔ذرائع کے مطابق جماعت اسلامی کی مقامی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔ذرائع کاکہنا ہے کہ جماعت اسلامی ٹریفک بلاک اور امن عامہ میں خلل ڈالے بغیر احتجاج اور دھرنا دے گی، مذاکرات میں ڈی سی، سی پی او اور آر پی او راولپنڈی سمیت سینئر حکام موجود تھے۔ جماعت اسلامی کا پلان بی بھی سامنے آ گیا زیروپوائنٹ اسلام آباد دھرنا دیا جائے گا، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن قیادت کریں گے۔ نائب امیر لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم، صوبائی اور اسلام آباد کی قیادت شریک ہوگی مری روڈ راولپنڈی پر دھرنا دیا جائے گا، مرکزی سیکرٹری جنرل امیرالعظیم قیادت کریں گے۔ مرکزی نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، صوبائی اور ضلعی قیادت لیڈ کرے گی تیسرا دھرنا 26 نمبر چونگی پر ہو گا، مرکزی نائب امیر ڈاکٹر عطاءالرحمن ، امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان اور صوبائی قیادت لیڈ کریں گی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پر جہاں رکاوٹ ہوگی، وہیں دھرنا ہوگا، اب جماعت اسلامی کا ایک نہیں کئی دھرنے ہوں گے۔ مطالبات کی منظوری تک دھرنے جاری رہیں گے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کا بیان اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے مجوزہ دھرنے کے پیش نظر حکومت نے انتہائی سخت سیکیورٹی اقدامات اختیار کر لیے ہیں۔ دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بھی 26 نمبر چونگی پہنچ گئے
    حافظ نعیم الرحمن خیبر پختونخواہ قافلے کے ہمراہ 26 نمبر چونگی سے راولپنڈی کے راستے لیاقت باغ پہنچیں گے
    دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ، حکام نے فیض آباد پل پر آنسو گیس کے شیل اور ربڑ کی گولیاں پہنچا دی ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی اینٹی رائٹ فورس کو فیض آباد پل پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات جماعت اسلامی کے آج مہنگی بجلی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کے اعلان کے بعد کیے گئے ہیں۔صورتحال میں مزید کشیدگی کا اضافہ اس وقت ہوا جب جماعت اسلامی کے کارکنوں نے لیاقت باغ مری روڈ کو ایک طرف سے بلاک کر دیا۔ اس کے جواب میں، حکام نے اسلام آباد کے مختلف مقامات سے جماعت اسلامی کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔
    جماعت اسلامی کے ترجمان نے اس کارروائی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کارکنان کو فوری طور پر رہا نہیں کیا گیا تو حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔یہ تمام واقعات اس وقت پیش آ رہے ہیں جب جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے مہنگی بجلی معاہدوں اور اووربلنگ کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں دھرنا پرامن ہوگا اور شرکاء ریلیف لیے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔دوسری جانب، حکومت نے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔ نادرا چوک، سرینا چوک، اور ایکسپریس چوک پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈی چوک، مری روڈ، اور اسلام آباد ایکسپریس وے پر بھی کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
    پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا، حالانکہ وہ گرفتاری سے بچ گئے۔یہ صورتحال ملک میں جاری سیاسی کشیدگی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے احتجاج کی بڑھتی ہوئی لہر کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے سخت اقدامات اور جماعت اسلامی کے دھرنے کا عزم، آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

  • پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ میں بھوک ہڑتالی کیمپ منسوخ، اسلام آباد کا احتجاج  بھی مؤخر

    پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ میں بھوک ہڑتالی کیمپ منسوخ، اسلام آباد کا احتجاج بھی مؤخر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آج اہم فیصلے کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے کا منصوبہ منسوخ کر دیا ہے۔ ساتھ ہی اسلام آباد میں آج ہونے والا مجوزہ احتجاج بھی ملتوی کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی نے اپنے ارکان پارلیمنٹ اور ارکان صوبائی اسمبلی کو متعلقہ حلقوں میں احتجاج کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ارکان پارلیمنٹ کے اپنے حلقوں میں موجود ہونے کی وجہ سے بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکے گا۔اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے پی ٹی آئی کے ریجنل صدر عامر مغل نے بتایا کہ پارٹی نے آج دوپہر 3 بجے احتجاج کی کال دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اجازت کے لیے قانونی طریقہ کار اپنایا گیا اور 23 جولائی کو ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی گئی۔ اجازت نہ ملنے پر پارٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
    عامر مغل نے مزید بتایا کہ ابھی تک عدالت نے احتجاج کے لیے تحریری اجازت نہیں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد احتجاج کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ عدالتی حکم کے احترام میں آج کا احتجاج پیر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے درمیان کیے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ اقدامات اس وقت کیے گئے ہیں جب ملک بھر میں سیاسی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

  • پشاور: بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرین کا پیسکو گرڈ اسٹیشن پر دھاوا

    پشاور: بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرین کا پیسکو گرڈ اسٹیشن پر دھاوا

    پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے دلہ زاک گرڈ اسٹیشن پر آج صبح ایک ہنگامہ خیز صورتحال پیدا ہو گئی جب تقریباً 1200 مظاہرین نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے گرڈ اسٹیشن پر دھاوا بول دیا۔پیسکو کے ترجمان کے مطابق، مشتعل مظاہرین زبردستی گرڈ اسٹیشن میں داخل ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ گلوزئی فیڈر پر لائن لاسز 80 فیصد جبکہ محمد زئی فیڈر پر لاسز 72 فیصد ہیں۔ "لائن لاسز کی زیادتی کے باعث مذکورہ فیڈرز پر لوڈ منیجمنٹ کی جاتی ہے،” ترجمان نے وضاحت کی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ "ہم نے صورتحال کو قابو میں کر لیا ہے اور مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔”
    مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ ایک مظاہرین کے لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہم نے بار بار پیسکو سے اپیل کی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ ہمارے پاس احتجاج کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔”پیسکو کے ایک اعلیٰ افسر نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "ہم لوگوں کی پریشانی کو سمجھتے ہیں، لیکن لائن لاسز کی وجہ سے ہمیں لوڈ منیجمنٹ کرنا پڑتی ہے۔ ہم اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔”یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پشاور میں ایسا واقعہ پیش آیا ہو۔ گزشتہ چند ماہ میں، شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے گرڈ اسٹیشنز میں داخل ہو کر اپنے علاقوں کی بجلی بحال کروائی تھی۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعات پاکستان کے بجلی کے شعبے میں موجود مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لائن لاسز کم کرنے اور بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔وزارت توانائی کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور جلد ہی ایک جامع حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔اس دوران، پشاور کے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کریں اور قانون ہاتھ میں نہ لیں۔ پیسکو نے بھی عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد از جلد صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔