Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • 24 جولائی کو پیدا ہونے والی مشہور شخصیات

    24 جولائی کو پیدا ہونے والی مشہور شخصیات

    تحقیق : آغا نیاز مگسی
    24 جولائی کے دن دنیا میں کئی مشہور شخصیات نے جنم لیا جنہوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

    الیگزنڈر ڈوما (1802ء)
    فرانس کے معروف ناول نویس الیگزنڈر ڈوما کا نام ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ 1823ء میں پیرس آکر انہوں نے ادبی زندگی کا آغاز کیا اور جلد ہی ان کے ناول مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے تقریباً تین سو ناول اپنے نام سے شائع کیے۔ ڈوما کی وفات 5 دسمبر 1870ء کو ہوئی۔

    سائمن بولیور (1783ء)
    جنوبی امریکہ کے نجات دہندہ کے طور پر مشہور سائمن بولیور 24 جولائی 1783ء کو وینزویلا کے دارالحکومت کیرمیکس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ہسپانیہ کے خلاف وینزویلا کی تحریک آزادی کی قیادت کی اور آٹھ سال تک جاری رہنے والی جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ بولیور نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اپنی قوم کی آزادی کے لیے وقف کر دیا۔

    منوج کمار (1937ء)
    بھارتی فلمی اداکار منوج کمار 24 جولائی 1937ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور متعدد فلموں میں یادگار کردار ادا کیے۔

    ظہیر عباس (1947ء)
    پاکستانی کرکٹ کے مشہور کھلاڑی ظہیر عباس کا جنم 24 جولائی 1947ء کو سیالکوٹ میں ہوا۔ انہوں نے اپنے کرکٹ کیریئر میں 78 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 5062 رنز اسکور کیے۔ ظہیر عباس کو ایشین بریڈمین کے لقب سے بھی نوازا گیا۔ وہ پاکستان اور ایشیا کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سنچریوں کی سنچری اسکور کی۔

    کرس اسمتھ (1951ء)
    برطانوی سیاستدان کرس اسمتھ 24 جولائی 1951ء کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے برطانوی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا اور مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

    جینیفر لوپیز (1969ء)
    ریاستہائے متحدہ امریکہ کی مشہور فلمی اداکارہ اور گلوکارہ جینیفر لوپیز 24 جولائی 1969ء کو پیدا ہوئیں۔ انہوں نے فلمی اور موسیقی کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔

    یہ تمام شخصیات اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں رہیں اور دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نام کمایا۔ 24 جولائی کا دن ان کی یادگاروں کو تازہ کرتا ہے۔

  • پی ٹی آئی پر پابندی کا اصولی فیصلہ ہو چکا،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    پی ٹی آئی پر پابندی کا اصولی فیصلہ ہو چکا،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ معاملہ آج وفاقی کابینہ میں نہیں آیا اور نہ ہی اسے مؤخر کیا گیا ہے۔عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا امکان خارج از امکان نہیں ہے، اور اس کے لیے ثبوت اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کابینہ میں وہی چیز آتی ہے جس پر مشاورت حتمی ہو چکی ہو۔ حکومت قانونی طور پر مکمل تیاری کرنا چاہتی ہے، اور اتحادیوں اور قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اس مسئلے پر مکمل اتفاق ہے اور صدر آصف زرداری کا رد عمل حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی لیگل ٹیم کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور دونوں قانونی ٹیمیں مل کر کام کر رہی ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ اصولی فیصلہ ہو جانے کے بعد اعلان کرنا ضروری ہے۔ اعلان کے بعد حتمی فیصلے کی طرف کے معاملات کو مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تیاری مکمل ہوتے ہی اس فیصلے کو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے لیے ثبوت اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ قانونی طور پر مضبوط کیس بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ جلد ہی حتمی مراحل میں داخل ہو جائے گا۔عطا تارڑ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں اور قانونی ماہرین سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی لیگل ٹیم کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے تاکہ اس معاملے کو قانونی اور سیاسی طور پر مضبوط بنایا جا سکے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اصولی فیصلہ ہونے کے بعد اعلان کرنا ضروری ہے۔ اعلان کے بعد حتمی فیصلے کے لیے ضروری معاملات کو مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں قانونی ٹیمیں اس معاملے پر مل کر کام کر رہی ہیں اور جب تیاری مکمل ہو جائے گی تو اسے عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔
    عطا تارڑ نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اس مسئلے پر مکمل اتفاق ہے اور صدر آصف زرداری کا رد عمل حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی لیگل ٹیم کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور دونوں جماعتیں مل کر اس معاملے پر کام کر رہی ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ اصولی فیصلہ ہونے کے بعد اعلان کرنا ضروری ہے۔ اعلان کے بعد حتمی فیصلے کی طرف کے معاملات کو مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں قانونی ٹیمیں اس معاملے پر مل کر کام کر رہی ہیں اور جب تیاری مکمل ہو جائے گی تو اسے عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

  • والد سمیت میری جماعت کے 180 لوگ دہشت گردی  کا نشانہ بنے ،سربراہ سنی اتحاد کونسل

    والد سمیت میری جماعت کے 180 لوگ دہشت گردی کا نشانہ بنے ،سربراہ سنی اتحاد کونسل

    سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامدرضا نے کہا ہے کہ والد سمیت میری جماعت کے 180 لوگوں کو دہشت گردوں نے شہید کیا تھا۔ اسلام آباد میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ مجھ پر 6 بار جان لیوا حملہ ہو چکا ہے۔ مجھ پر دہشت گرد حملے ٹی ٹی پی نے کرائے جنہیں قومی دھارے میں لایا جا رہا تھا۔ سب سے پہلے سنی اتحاد کونسل نے خود کش حملوں کو حرام قرار دیا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی تھیوری پر یقین نہیں رکھتا۔ جب طالبان کو قومی دھارے میں لانےکی بات ہو رہی تھی تو اس اجلاس سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔ سنی اتحاد کونسل کے سربراہ نے مزید کہا کہ اجلاس میں بانی پی ٹی آئی، جنرل ریٹائرڈ باجوہ، جنرل ریٹائرڈ فیض و دیگر سینئر حکام موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی اس کی مخالفت کی تھی اور اج بھی اس کی مخالفت کر رہا ہوں۔

  • اہم تاریخی واقعات: 24 جولائی کے روز دنیا میں کیا ہوا؟

    اہم تاریخی واقعات: 24 جولائی کے روز دنیا میں کیا ہوا؟

    تحقیق : آغا نیاز مگسی
    24 جولائی کے دن دنیا بھر میں مختلف اہم واقعات پیش آئے جنہوں نے تاریخ کے دھارے کو تبدیل کیا۔ آئیے ان اہم واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔

    قطب الدین ایبک کی تاج پوشی (1206ء)
    قطب الدین ایبک، جو غلام خاندان کے پہلے حکمران تھے، نے 1206ء میں لاہور میں اپنی تاج پوشی کی۔ یہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا کیونکہ ایبک نے دہلی سلطنت کی بنیاد رکھی، جو بعد میں مغلیہ سلطنت تک پہنچ گئی۔

    دنیا کا پہلا کاپی رائٹ قانون (1793ء)
    1793ء میں، فرانس نے دنیا کے پہلے کاپی رائٹ قانون کی منظوری دی۔ یہ قانون مصنفین کو ان کے کاموں پر حقوق فراہم کرتا تھا اور ان کی تخلیقات کو قانونی تحفظ دیتا تھا۔

    چلی میں غلامی کا خاتمہ (1823ء)
    1823ء میں، چلی نے غلامی کے رواج کو ختم کیا، جو انسانی حقوق کی سمت میں ایک اہم قدم تھا۔ یہ اقدام چلی کی تاریخ میں انسانی حقوق کے احترام کا مظہر ہے۔

    برما کے لیے برطانوی تحفظ (1886ء)
    1886ء میں، چین نے برما کے لیے برطانوی تحفظ حاصل کیا۔ یہ معاہدہ برما کی تاریخ میں اہم تھا کیونکہ اس نے برما کو برطانوی سلطنت کے زیر انتظام کر دیا۔

    امریکہ اور پڑوسی ممالک کے درمیان پہلی ریل خدمات (1870ء)
    1870ء میں، امریکہ اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان پہلی ریل خدمات کا آغاز ہوا۔ یہ اقدام نقل و حمل کے نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کا باعث بنا اور تجارتی اور سفری روابط کو مضبوط کیا۔

    سوبھا بازار کلب کی فٹبال کامیابی (1890ء)
    1890ء میں، سوبھا بازار کلب فٹبال ٹیم نے پہلی ہندوستانی ٹیم کے طور پر کسی انگلیش ٹیم کو شکست دی۔ یہ فتح ہندوستانی فٹبال کی تاریخ میں ایک یادگار موقع تھا۔

    او ہنری کی رہائی (1901ء)
    مشہور افسانہ نگار او ہنری، غبن کے جھوٹے الزام میں تین سال کی قید کے بعد 1901ء میں رہا ہوئے۔ ان کی رہائی کے بعد انہوں نے کئی مشہور کہانیاں لکھیں جو آج بھی ادب کی دنیا میں معروف ہیں۔

    عالمی شطرنج فیڈریشن کا قیام (1924ء)
    1924ء میں پیرس میں عالمی شطرنج فیڈریشن (فیڈے) کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ادارہ آج بھی عالمی سطح پر شطرنج کے کھیل کو فروغ دینے اور اس کے قواعد و ضوابط کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    انسٹینٹ کافی کی ایجاد (1938ء)
    1938ء میں انسٹینٹ کافی کی ایجاد ہوئی، جو آج دنیا بھر میں کافی کے شوقین افراد کے لیے ایک اہم ترقی تھی۔

    پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی (1954ء)
    1954ء میں، پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ سرد جنگ کے دوران کمیونسٹ نظریات کے خلاف عالمی مہم کا حصہ تھا۔

    مولانا بھاشانی کی نیشنل عوامی لیگ (1957ء)
    1957ء میں، مولانا بھاشانی نے نیشنل عوامی لیگ کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ جماعت بنگالی قوم پرستی کی نمائندگی کرتی تھی اور بعد میں بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔

    نیوادا میں نیوکلیائی تجربہ (1957ء)
    1957ء میں امریکہ نے نیوادا میں نیوکلیائی تجربہ کیا، جو سرد جنگ کے دوران طاقت کے توازن کی جنگ کا حصہ تھا۔

    کچن‌ڈیبیٹ (1959ء)
    1959ء میں امریکی صدر نکسن اور روسی صدر خردشیف کے درمیان "کچن‌ڈیبیٹ” کا انعقاد ہوا۔ یہ مباحثہ سرد جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان نظریاتی اختلافات کو ظاہر کرنے والا اہم موقع تھا۔

    طیارہ اغوا کا پہلا حادثہ (1961ء)
    1961ء میں امریکی تجارتی طیارہ کا کیوبا میں اغوا ہوا، جو دنیا میں طیارہ اغوا کا پہلا حادثہ تھا۔

    اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام (1965ء)
    1965ء میں اسلام آباد میں اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام عمل میں آیا، جو اسلامی تعلیمات اور تحقیق کے فروغ کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔

    اپالو 11 کی واپسی (1969ء)
    1969ء میں کامیاب مشن برائے چاند سے واپسی پر اپالو 11 بحفاظت اوقیانوس میں اتارا گیا، جو انسانی تاریخ میں خلائی تحقیقات کا ایک اہم لمحہ تھا۔

    قبرص میں جمہوریت کا قیام (1974ء)
    1974ء میں قبرص میں جمہوریت کا قیام عمل میں آیا، جو کہ اس جزیرے کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم تبدیلی تھی۔

    اپولو 18 کی واپسی (1975ء)
    1975ء میں خلائی گاڑی اپولو 18 زمین پر واپس آئی، جو کہ خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک اور کامیاب مشن تھا۔

    لیبیا اور مصر کے درمیان جنگ کا خاتمہ (1977ء)
    1977ء میں لیبیا اور مصر کے درمیان چار دنوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوا، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کا باعث بنا۔

    محمد علی رضاعی کا انتخاب (1981ء)
    1981ء میں محمد علی رضاعی ایران کے صدر منتخب ہوئے، جو کہ ایران کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم واقعہ تھا۔

    ناگاساکی میں زبردست بارش (1982ء)
    1982ء میں جاپان کے ناگاساکی میں زبردست بارش سے زمین کھسک جانے کی وجہ سے ایک پل کے منہدم ہو جانے سے 299 افراد ہلاک ہوئے۔

    راجیو گاندھی اور ہرچند سنگھ لونگاوال کا امن معاہدہ (1985ء)
    1985ء میں وزیراعظم راجیو گاندھی اور سکھ لیڈر ہرچند سنگھ لونگاوال کے درمیان امن معاہدہ پر دستخط ہوئے، جو بھارت کے اندرونی تنازعات کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔

    بھارتی لوک سبھا میں حزب مخالف کا استعفی (1989ء)
    1989ء میں بھارتی لوک سبھا میں بیشتر حزب مخالف کے ارکان نے ایوان سے استعفی دیا، جو کہ بھارتی سیاست میں ایک اہم واقعہ تھا۔

    عراق اور امریکہ کی کشیدگی (1990ء)
    1990ء میں عراق کے کویت سے متصل اپنے سرحدی علاقوں میں تیس ہزار فوجیوں کی تعیناتی کے بعد امریکہ نے خلیج میں موجود اپنے جنگی جہاز کو مستعد کر دیا۔

    واسبری قتل عام (1994ء)
    1994ء میں شمال مشرقی ہند کے واسبری میں ووڈو انتہا پسندوں نے اقلیتی فرقے کے 37 افراد کا قتل کیا، جو کہ ایک خونی واقعہ تھا۔

    سری لنکا میں بم دھماکہ (1996ء)
    1996ء میں سری لنکا کی راجدھانی کولمبو کے ایک مضافاتی علاقے میں سواریوں سے کھچا کھچ بھری ایک گاڑی میں بم دھماکہ ہوا جس میں 57 لوگ مارے گئے اور 50 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

    سوئی سدرن گیس کمپنی کی گولڈن جوبلی (2004ء)
    24 جولائی 2004ء کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر سوئی سدرن گیس کمپنی کے لوگو اور زیارت کے صنوبر کے جنگل کی تصویر شائع کی گئی۔

    ہندوستان کا روس سے طیارہ بردار جہاز کا معاہدہ (1998ء)
    1998ء میں ہندوستان نے روس کے ساتھ طیارہ بردار جہاز خریدنے سے متعلق ایک سمجھوتہ پر دستخط کیے، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا مظہر ہے۔

    ایم ای زیڈ غزالی کا منفرد ریکارڈ (1954ء)
    24 جولائی 1954ء کو پاکستان کے مڈل آرڈر بیٹسمین ایم ای زیڈ غزالی نے انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلتے ہوئے ایک منفرد ریکارڈ بنایا۔ وہ اپنی پہلی اننگز میں صفر پر آئوٹ ہوئے اور پھر دو گھنٹے بعد ہی دوسری اننگز میں بھی صفر پر آئوٹ ہوگئے۔

    ایس وجے لکشمی کی گرانڈ ماسٹر خطاب (2000ء)
    2000ء میں ایس وجے لکشمی شطرنج میں گرانڈ ماسٹر خطاب جیتنے والی پہلی خاتون بنی، جو کہ ہندوستان کی شطرنج کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

    بھنڈرا نائیکے ہوائی اڈے پر حملہ (2001ء)
    2001ء میں سری لنکا میں بھنڈرا نائیکے ہوائی اڈے پر لبریشن ٹائیگرس آف تمل ایلم کے 14 باغیوں نے حملہ کر کے 11 طیاروں کو تباہ کر دیا اور 15 کو نقصان پہنچایا۔

    بورکینا فاسو میں طیارہ لاپتہ (2014ء)
    2014ء میں بورکینا فاسو کے دارالحکومت واگاڈوگو سے روانہ ہونے والا طیارہ اے ایچ 5017 خراب موسم کے باعث لاپتہ ہو گیا تھا۔ اس مسافر طیارے میں 116 مسافر سوار تھے۔

    پائیونیر ڈے (1847ء)
    24 جولائی کو امریکہ کی ریاست یوٹاہ میں پائیونیر ڈے منایا جاتا ہے، جس میں 1847ء میں پہلے مورمن پائیونیر کی آمد کی یاد منائی جاتی ہے۔

    یہ سب واقعات تاریخ میں اہم حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے اثرات آج بھی مختلف شعبوں میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین: وفاقی حکومت کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین: وفاقی حکومت کا اختیار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر کرنے کا اختیار ریاست سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پیٹرولیم سیکٹر میں حکومتی مداخلت کو کم کرنا اور مارکیٹ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں حکومتی کردار کو ختم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے بعد وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے اس اہم فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کل ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے چیئرمین کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے اثرات کا جائزہ لینے اور ایک اسٹریٹجک فریم ورک تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ فریم ورک حتمی منظوری کے لیے وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا۔ حکومت مرحلہ وار آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائسنگ اتھارٹی منتقل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
    پیٹرولیم ڈیلرز نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے منافع خوری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ قیمتوں کا تعین آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ہاتھ میں دینے سے قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ صارفین کے لیے نقصان دہ ہوگا۔آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان (او ایم اے پی) نے وزیر اعظم شہباز شریف سے فوری مداخلت کی اپیل کی تھی۔ او ایم اے پی کے چیئرمین طارق وزیر علی نے وزیراعظم کو ایک خط لکھا جس میں پیٹرولیم انڈسٹری کے ناقابل تلافی زر مبادلہ کے نقصانات کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی۔ انہوں نے زور دیا کہ فوری کارروائی سے پیٹرولیم انڈسٹری کو مزید بحران سے بچانے میں مدد ملے گی۔او ایم اے پی کے چیئرمین نے حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کی اور کہا کہ معاشی استحکام اور ترقی کا عزم پیٹرولیم انڈسٹری سمیت دیگر صنعتوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو سراہا جو کہ ملک کو درست راستے پر ڈالنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔آئل ریفائنریز نے بھی حکومت سے کرنسی ایکسچینج کے اصل نقصانات کی مکمل وصولی کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرنسی کے تبادلوں میں ہونے والے نقصانات انڈسٹری کے لیے بڑا نقصان ہیں اور اس کی تلافی ضروری ہے۔

  • شعیب شاہین  قائم مقام سیکرٹری اطلاعات مقرر

    شعیب شاہین قائم مقام سیکرٹری اطلاعات مقرر

    پاکستان تحریک انصاف نے شعیب شاہین کو قائم مقام سیکرٹری اطلاعات مقرر کر دیا۔پی ٹی آئی کے مطابق تیمور جھگڑا، علی محمد خان، شیخ وقاص اکرم اور نعیم پنجھوتہ قائم مقام سیکرٹری اطلاعات کی معاونت کریں گے۔پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن کی رہائی تک شعیب شاہین بطور قائم مقام ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

  • حکومت اپنی اندرونی لڑائیوں سے ہی ختم ہو جائے گی، فیصل واوڈا

    حکومت اپنی اندرونی لڑائیوں سے ہی ختم ہو جائے گی، فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت کو مارشل لاء سے کوئی خطرہ نہیں ہے بلکہ اس کے خاتمے کا باعث اندرونی لڑائیاں بنیں گی۔ وہ ایک نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کر رہے تھے، جہاں انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومتی نااہلیوں پر کھل کر بات کی۔فیصل واوڈا نے کہا کہ حکومت کے اندر مختلف دھڑوں میں اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ انہوں نے کہا، "چچا، ماما، تایا ان میں اقتدار کی جنگ ہے، کوئی آئینی بریک ڈاؤن نہیں ہے۔” ان کے مطابق یہ سیاسی شخصیات اپنے ذاتی مفادات کے لیے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں اور یہ اختلافات ہی حکومت کے خاتمے کا باعث بنیں گے۔
    سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر حکومتی شخصیات اپنی نالائقی اور نااہلی کا اعتراف کر لیں تو قوم انہیں اچھے نظر سے دیکھے گی۔ انہوں نے کہا، "یہ ٹی وی پر آکر اپنی نالائقی کا اعتراف کرلیں، اگر اپنی نااہلی، نکمے پن کا اعتراف کریں گے تو قوم اچھی نظر سے دیکھے گی۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی 35 سالہ کارکردگی قوم کے سامنے ہے اور اب یہ خود بھی اپنی کمزوریوں کا اعتراف کریں۔فیصل واوڈا نے اپنی سابقہ جماعت تحریک انصاف پر بھی تنقید کی اور کہا کہ تحریک انصاف والے سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ بھی موجودہ سیاسی صورتحال میں اضافہ کر رہا ہے اور اس سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔سینیٹر فیصل واوڈا نے فوج کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ فوج ایک آئینی ادارہ ہے جو سابق اور موجودہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج نے ہمیشہ ملک کی خدمت کی ہے اور وہ اپنے آئینی فرائض کو بخوبی انجام دے رہی ہے۔

  • عوامی حمایت والی جماعت پر پابندی نہیں، دہشتگرد جماعت پر ہونی چاہیے، جاوید لطیف

    عوامی حمایت والی جماعت پر پابندی نہیں، دہشتگرد جماعت پر ہونی چاہیے، جاوید لطیف

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ عوامی حمایت حاصل کرنے والی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے بلکہ دہشتگرد جماعتوں پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ وہ نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کر رہے تھے، جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔میاں جاوید لطیف نے کہا کہ خواہ کسی جماعت کو 70 فیصد حمایت حاصل ہو یا 5 فیصد، پابندی نہیں لگنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی حمایت ایک جمہوری اصول ہے اور اس کی بنیاد پر کسی بھی جماعت پر پابندی لگانا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔اپنی گفتگو میں جاوید لطیف نے واضح کیا کہ دہشتگرد جماعتوں پر پابندی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف سخت اقدامات وقت کی ضرورت ہیں اور ایسی جماعتوں پر پابندی لگانے سے ہی ملک میں امن و امان قائم ہو سکتا ہے۔
    میاں جاوید لطیف نے 2014 کے دھرنے پر بھی بات کی اور سوال اٹھایا کہ 2013 کے الیکشن کو جواز بنا کر یہ دھرنا کیوں اور کس کی ایما پر دیا گیا تھا؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 کے دھرنے کا ایک مقصد چینی صدر کی آمد کو روکنا بھی تھا۔جاوید لطیف نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تو اس کے نتائج بھی بھگتے تھے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کئی بار عدالتوں پر حملے کیے مگر ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ن لیگی رہنما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے مالیاتی ادارے جو معاشی ڈیل کرتے ہیں، اختیار ان کے پاس بھی چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ملک کی معاشی خودمختاری کے لیے نقصان دہ ہے اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

  • عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے انتخاب میں حصہ لیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان 10 سال قید کی سزا کے باوجود آن لائن انتخابات میں حصہ لیں گے۔ عمران خان اس وقت 9 مئی کے کیس کے الزام میں قید ہیں۔ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کی نشست ہانگ کانگ کے سابق گورنر اور 21 سال تک اس عہدے پر فائز رہنے والے 80 سالہ لارڈ پیٹن کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ چانسلر کے انتخابات روایتی طریقہ کار کے بجائے آن لائن ہوں گے، جس میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ عام طور پر، سیاست دانوں کو ہی چانسلر شپ کی نشست دی جاتی ہے۔
    عمران خان، جو خود بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں، اس مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ ان کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ سیاسی اور تعلیمی میدان میں فعال رہنا چاہتے ہیں، خواہ حالات کیسے بھی ہوں۔اس حوالے سے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کے مشیر سید زلفی بخاری نے بتایا کہ عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے کیونکہ عوامی مطالبہ ہے کہ انہیں الیکشن ضرور لڑنا چاہیے۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ہم اس کا اعلان عوامی سطح پر کریں گے اور جب ہمیں عمران خان کی طرف سے منظوری مل جائے گی اور اس کے لیے دستخطی مہم شروع کریں گے۔

  • پی ٹی آئی پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، ملک آگے نہیں بڑھے گا.محمد زبیر

    پی ٹی آئی پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، ملک آگے نہیں بڑھے گا.محمد زبیر

    سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سمیت کسی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے اور 70 فیصد پاکستانی اس پر پابندی کے خلاف ہیں۔محمد زبیر نے کہا کہ پابندیاں ملک کو آگے نہیں بڑھا سکتیں، بلکہ ماضی کی پابندیوں نے ملک کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی جماعتیں اکثریتی جماعت پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ درست نہیں ہے۔
    انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1958، 1969، 1977 اور 1999 میں آئین کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 6 صرف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے لیے ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ جب تک آئین کی حرمت برقرار نہیں رکھی جاتی، کسی پر آرٹیکل 6 کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔سابق گورنر سندھ نے ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندی لگانا ایک غلط فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی گرفتاری بھی غلط تھی اور اس قسم کے اقدامات کو جواز بنا کر آج کے غلط فیصلوں کو درست نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے نو مئی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو سوا سال گزر چکا ہے اور ن لیگ نے اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2014 میں میرے ساتھ زیادتی ہوئی تھی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ہٹ دھرمی سے حکومت کروں گا۔