Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • 25 جولائی: سیاست سے سائنس تک، ایک دن میں دنیا بھر کے اہم واقعات

    25 جولائی: سیاست سے سائنس تک، ایک دن میں دنیا بھر کے اہم واقعات

    تحقیق: آغا نیاز مگسی
    آج 25 جولائی ہے، جو دنیا بھر میں کئی اہم تاریخی واقعات اور تہواروں کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس دن کی تاریخ میں جھانکیں تو ہمیں سیاست، سائنس، کھیل اور ثقافت کے شعبوں میں کئی اہم پیش رفتوں کا پتا چلتا ہے۔سیاسی میدان میں، 2007 میں اس دن پرتیبھا پاٹل بھارت کی پہلی خاتون صدر بنیں، جو خواتین کی ترقی کا ایک اہم سنگ میل تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی اس دن کی اہمیت ہے، کیونکہ 1957 میں پاکستان نیشنل پارٹی قائم ہوئی، جو بعد میں نیشنل عوامی پارٹی بن گئی۔
    سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں، 1978 میں دنیا کی پہلی ٹیسٹ ٹیوب بیبی کی پیدائش ہوئی، جو طبی سائنس میں ایک انقلابی پیش رفت تھی۔ 25 جولائی 1984 میں روسی خلانورد خاتون سویتلانا سویتسکیا دنیا کی پہلی خلاباز خاتون بنیں، جس نے خلائی تحقیق میں خواتین کی شمولیت کا راستہ ہموار کیا۔
    پاکستان میں، 1954 میں اسکندر مرزا نے مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) میں پہلے تھرمل پاور پلانٹ کا افتتاح کیا، جو ملک کی توانائی کے شعبے میں ایک اہم قدم تھا۔
    عالمی سطح پر، 2010 میں وکی لیکس نے امریکا-افغانستان کے متعلق عسکری دستاویزات افشا کیں، جس نے بین الاقوامی سیاست میں ہلچل مچا دی۔ 1994 میں اسرائیل اور اردن کے مابین جنگ بندی کے معاہدے (واشنگٹن ڈیکلیریشن) پر دستخط ہوئے، جو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک اہم قدم تھا۔
    موسیقی کی دنیا میں، 1965 میں باب ڈیلن نے نیو پورٹ فوک فیسٹیول میں برقی گٹار پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جس نے موسیقی کی دنیا میں ایک نیا باب شروع کیا۔
    پاکستان کے محکمہ ڈاک نے بھی اس دن کو خاص اہمیت دی ہے۔ 25 جولائی 1981 میں فلسطین سے یکجہتی کے لیے ایک خاص ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا، جبکہ 1992 میں آبادی کے عالمی دن کے حوالے سے ایک اور یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔
    آج کے دن دنیا کے مختلف حصوں میں تہوار بھی منائے جاتے ہیں۔ گلاشیا میں قومی دن منایا جاتا ہے، جبکہ تیونس میں یوم جمہوریہ کی تقریبات ہوتی ہیں۔
    یہ تاریخی واقعات اور تہوار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہر دن اپنے ساتھ نئی امیدیں اور امکانات لاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تاریخی واقعات سے سبق سیکھ کر ہم اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں.

  • آئی پی پیز کا مسئلہ: سابق نگران وزیر گوہر اعجاز کا فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

    آئی پی پیز کا مسئلہ: سابق نگران وزیر گوہر اعجاز کا فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

    سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے پاکستان کے بجلی کے شعبے میں آزاد بجلی پیداکار (آئی پی پیز) کے معاملے پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل نکالنا ملک کی سالمیت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے کہا، "یہ 24 کروڑ عوام کا مسئلہ ہے۔ ہم نے 2018 میں بھی اس معاملے کو اٹھایا تھا۔ اگر اس وقت ان کا آڈٹ ہو جاتا تو آج معاملات اس حد تک نہ پہنچتے۔”سابق وزیر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورتحال کو جسٹی فائی نہ کرے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ معاہدے ایمانداری سے نہیں ہوئے۔ گوہر اعجاز نے ایک حیران کن پیشکش کرتے ہوئے کہا، "حکومت کو فرانزک آڈٹ کے لیے ہم سارا خرچہ دینے کو تیار ہیں۔”
    انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ کوئلہ 300 ڈالر فی ٹن پر منگوایا گیا جبکہ اس کی اصل قیمت 100 ڈالر فی ٹن سے بھی کم تھی۔ "سب کچھ سامنے ہے، فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے،”گوہر اعجاز نے حکومت کے پاور پلانٹس کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ 52 فیصد بجلی گھر حکومت کے پاس ہیں، لیکن وہ انہیں صرف 33 فیصد صلاحیت پر چلا رہی ہے۔ "حکومتی پلانٹس کی کیپسٹی پیمنٹ پوری لی جا رہی ہے۔ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اپنے پلانٹس سے فوری طور پر ریلیف دے سکتی ہے،
    سابق وزیر نے حکومت کو ایک تجویز پیش کی کہ وہ اپنے 52 فیصد پلانٹس سے کیپسٹی پیمنٹ ختم کرے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ جو پلانٹ سستی بجلی دے سکتا ہے، اس سے بجلی خریدی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے نجی شعبے کے پلانٹس کا فرانزک آڈٹ کروانے کا مطالبہ کیا۔گوہر اعجاز نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہر بند پلانٹ کو 400 کروڑ روپے دیے جا رہے ہیں، جو کہ قومی خزانے پر ایک بھاری بوجھ ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ گوہر اعجاز کے انکشافات اور تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ توانائی کے شعبے میں شفافیت لانے اور ناجائز منافع خوری کو روکنے کے لیے فرانزک آڈٹ ایک موثر قدم ہو سکتا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر فوری توجہ دے اور ملکی معیشت کو درپیش اس سنگین مسئلے کا حل نکالے۔یہ معاملہ نہ صرف پاکستان کی معاشی صحت کے لیے اہم ہے بلکہ عام شہریوں کے لیے بجلی کے بلوں میں ممکنہ کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اس چیلنج سے کیسے نمٹتی ہے اور کیا وہ گوہر اعجاز کی تجاویز پر عمل کرتی ہے یا نہیں۔

  • پاکستان کی معاشی صورتحال تشویشناک: زرمبادلہ ذخائر میں کمی، حکومت کو روزانہ 30 ارب روپے قرض لینے کی ضرورت

    پاکستان کی معاشی صورتحال تشویشناک: زرمبادلہ ذخائر میں کمی، حکومت کو روزانہ 30 ارب روپے قرض لینے کی ضرورت

    پاکستان کی معیشت مسلسل چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جس کی تازہ ترین جھلک اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار اور وزارت خزانہ کی 3 سالہ معاشی حکمت عملی میں دیکھنے کو ملی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 49 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کل ذخائر 9 ارب 2 کروڑ 72 لاکھ ڈالر تک محدود ہو گئے ہیں۔ یہ کمی ملک کی معاشی صحت کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے، خاص طور پر جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اس دوران، وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ 3 سالہ معاشی حکمت عملی میں کئی تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، آنے والے دو سالوں میں وفاقی حکومت کو اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے روزانہ 30 ارب روپے سے زائد قرض لینا پڑے گا۔ یہ صورتحال اس لیے پیدا ہو رہی ہے کیونکہ صوبوں کو ٹرانسفر اور سود کی ادائیگیاں وفاقی حکومت کے مالی وسائل کا بڑا حصہ نگل رہی ہیں۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں سود کی ادائیگیوں کا بوجھ 10 ہزار 300 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ صوبوں کو ٹرانسفر اور سود ادائیگیوں کا مجموعی بوجھ 20 ہزار 630 ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، حکومتی اخراجات، پنشن، اور تنخواہوں کے لیے وفاق کے پاس کافی فنڈز نہیں ہوں گے۔ آئندہ بجٹ کے بعد سود ادائیگیاں اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ٹرانسفر کے بعد وفاق کے پاس محض 500 ارب روپے بچنے کا اندازہ ہے۔ یہ رقم ملک کے روزمرہ اخراجات کے لیے ناکافی ہے، جس سے مزید قرض لینے کی ضرورت پیدا ہو گی وزارت خزانہ کے ذرائع نے این ایف سی اور سود ادائیگیوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پاکستان کی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اس کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے، اور قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے جامع اور طویل مدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عوام کو مہنگائی سے تحفظ دینے کے لیے فوری اقدامات کی بھی ضرورت ہے تاکہ معاشی بحران کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔

  • پی ٹی آئی کے اندر 9 مئی کے احتجاج پر متضاد بیانات

    پی ٹی آئی کے اندر 9 مئی کے احتجاج پر متضاد بیانات

    اسلام آباد (نامہ نگار) – پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر 9 مئی کے متنازعہ احتجاج کے حوالے سے اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) پر احتجاج کا فیصلہ پارٹی اور اس کے بانی کی مشاورت سے کیا گیا تھا۔ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ زمان پارک اور جوڈیشل کمپلیکس واقعات کے بعد پارٹی نے مشاورت کی تھی۔ اس مشاورت میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اگر مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ ہوں گے تو احتجاج "وہیں ہوگا جہاں ہونا چاہیے”۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مشاورت میں پی ٹی آئی کے بانی بھی شامل تھے۔
    سلمان اکرم راجہ کے اس بیان نے پارٹی کے اندر ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس سے قبل پارٹی کے دیگر اہم رہنماؤں نے اس بات کی تردید کی تھی۔ خاص طور پر اسد قیصر اور فواد چوہدری نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ پارٹی میں جی ایچ کیو یا کور کمانڈر ہاؤس پر احتجاج کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔سلمان اکرم راجہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے 9 مئی کے احتجاج کی کال کا اعتراف نہیں کیا۔ تاہم، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ میڈیا رپورٹس سے متفق ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی نے جی ایچ کیو کے باہر احتجاج کی ہدایت دی تھی، تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی۔
    یہ متضاد بیانات پی ٹی آئی کے اندر داخلی اختلافات کی نشاندہی کرتے ہیں اور 9 مئی کے واقعات کی ذمہ داری کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال پارٹی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر جب پارٹی پہلے ہی قانونی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔حکومتی حلقوں نے اس انکشاف پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ 9 مئی کے واقعات منصوبہ بند تھے۔ دوسری طرف، پی ٹی آئی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ بیانات سیاق و سباق سے باہر لیے گئے ہیں اور ان کی غلط تشریح کی جا رہی ہے۔اس صورتحال پر پی ٹی آئی کی قیادت کے ردعمل کا انتظار ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پارٹی اس اندرونی اختلاف کو کیسے حل کرتی ہے اور اپنے مؤقف کو کیسے واضح کرتی ہے۔

  • کراچی : معروف کاروباری شخصیت ذوالفقار احمد کا پراسرار اغوا، پولیس کی کارروائی پر سوالات

    کراچی : معروف کاروباری شخصیت ذوالفقار احمد کا پراسرار اغوا، پولیس کی کارروائی پر سوالات

    پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت اور متعدد مشہور برانڈز کے مالک ذوالفقار احمد کے اغوا کی خبر نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ پراچہ ٹیکسٹائل، میزان کوکنگ آئل اور نیکسٹ کولا جیسے مقبول برانڈز کے مالک کو منگل کی شام کراچی کے علاقے ماڑی پور روڈ سے نقاب پوش مسلح افراد نے اغوا کر لیا واقعے کی تفصیلات کے مطابق، ذوالفقار احمد اپنے دوست قیصر کے ہمراہ ایک ڈبل کیبن گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب نامعلوم مسلح افراد نے انہیں روک لیا۔ اغوا کاروں نے کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد قیصر کو گاڑی سے اتار دیا، لیکن ذوالفقار احمد کو اپنے ساتھ لے گئے۔اس واقعے کے دو دن گزر جانے کے باوجود، کراچی پولیس نے ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی ہے۔ ذوالفقار احمد کے خاندان نے کلری پولیس اسٹیشن میں اغوا کی درخواست جمع کروائی ہے، لیکن پولیس کی طرف سے کوئی ٹھوس کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    معروف کاروباری شخصیت کے اغوا کی خبر نے کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کی معیشت پر اس واقعے کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ کئی معروف شخصیات نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے واقعات سے ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول پر منفی اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں اور ذوالفقار احمد کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تمام ممکنہ زاویوں سے چھان بین کر رہی ہے اور امید ہے کہ جلد ہی کوئی اہم پیش رفت ہو گی۔اس دوران، ذوالفقار احمد کے خاندان نے میڈیا سے گفتگو سے گریز کیا ہے، لیکن ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ خاندان شدید پریشانی کا شکار ہے اور حکام سے فوری مدد کی اپیل کر رہا ہے

  • سوشل میڈیا پر بھارتی اور فرانسیسی رکن اسمبلی کی رافائل طیاروں کی تصویر پر تنقید

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور فرانسیسی رکن اسمبلی کی رافائل طیاروں کی تصویر پر تنقید

    گوتم گهمبیر اور فرانسیسی اسمبلی کے رکن نے سوشل میڈیا پر رافائل طیاروں کی تصویریں شیئر کیں، جس پر انہیں تنقید کا سامنا ہوا ہے۔گوتم گمبیر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں وہ اور فرانس کے اسمبلی کے رکن رافائل طیارہ کے سامنے کھڑے نظر آرہے ہیں۔ اس تصویر کے زیر عنوان انہوں نے لکھا: "آخر کار بڑے پرندے آ ہی گئے۔”تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر تبصرے ہونا شروع ہو گئے، بعض لوگوں نے اسے سرحدی خریداری کا اظہار کرتے ہوئے مذاق میں لیا۔

    آسٹریلیائی صحافی ڈینسن نے اس بارے میں اپنے تبصرے میں کہا کہ "بس دھیان رکھنا یہ سرحد پار نہ کر پائے ورنہ یہ فوری طور پر کچر کے شکل میں تبدیل ہو جائے گی۔”
    بھارتی اور فرانسیسی سرکاری اداروں نے ابھی تک کوئی بیانات نہیں جاری کیے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر اس تصویر کے مواد پر بحث جاری ہے۔

    واضح رہے کہ رافیل مودی سرکار نے فرانس سے لئے تھے،رافیل طیاروں کی خریداری پر مودی پر کرپشن کے الزامات بھی لگے تھے. رافیل طیاروں کی بھارت آمد پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ رافیل آ گیا کوئی بات نہیں، اب پائلٹ بھی فرانس سے لانے پڑیں گے، پائلٹ تو وہی ہیں جنہوں نے ساری عمر رافیل اڑایا ہی نہیں،رافیل وہ کیسے اڑا لیں گے اس مہارت سے جو چاہئے ، اگر کل تنازعہ شروع ہو جائے تو ؛پہلی شہادت رافیل کو ہی ملنی ہے آہ دیکھ لیجیے گا،

  • افغان باشندوں کے مشنز پر حملے کا معاملہ، اسحاق ڈار اور فلیپو گرانڈی کے درمیان ٹیلیفونی گفتگو

    افغان باشندوں کے مشنز پر حملے کا معاملہ، اسحاق ڈار اور فلیپو گرانڈی کے درمیان ٹیلیفونی گفتگو

    جرمنی کے فرینکفرٹ کے علاوہ برطانیہ اور بیلجیئم میں بھی افغان باشندوں کی جانب سے پاکستانی مشنز پر دھاوا بولنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے معاملہ کو یو این ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی کے سامنے اٹھایا۔افغان باشندوں نے برطانیہ اور بیلجیئم میں بھی پاکستانی مشنز پر حملے کیے ہیں، جس کے بعد اسحاق ڈار اور فلیپو گرانڈی کے درمیان ٹیلیفونی گفتگو ہوئی۔پاکستانی حکومت کے نمائندے فلیپو گرانڈی نے افغان مہاجرین کی مسلسل میزبانی پر شکریہ ادا کیا، اور انہوں نے افغان باشندوں کے لیے پاکستان کی طرف سے کارڈز کی توسیع قابل ستائش قرار دیا۔
    دفتر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، فلیپو گرانڈی نے بیان دیا کہ افغان باشندوں کی مسلسل مدد اور ان کے اسکولوں میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے لیے پاکستان کی معاونت کو ستائش کیا جاتا ہے۔افغان مہاجرین کے حوالے سے فلیپو گرانڈی نے اس حملے کی شدید مذمت کی، اور اپنے کوششوں کو مستمر رکھنے کا اعلان کیا کہ ایسے واقعات کو دور کرنے کے لیے محکم اقدامات کیے جائیں گے۔پاکستانی حکومت نے بھی افغان مہاجرین کے حقوق اور سلامتی کی حفاظت کے لیے اقدامات کو فوری طور پر بڑھانے کا اعلان کیا ہے، اور ان کی مساعدت کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

  • بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی

    بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی

    پاکستان کی فوجی ادارہ آئی ایس پی آر کے مطابق، بلوچستان کے ضلع ہوشاب میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ اس آپریشن کے دوران دہشتگردوں اور سیکیورٹی فورسز میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں دہشتگرد علی جان ہلاک ہوگئے، جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔اعلامیہ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ غارت کے مقابلے میں پاک فوج کے فورسز نے دہشتگرد کو قبضے میں لیا، اور ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوئے۔ایس پی آر کے اعلام کے مطابق، دہشتگرد بے گناہ شہریوں کے اغوا اور ٹارگٹ کلنگ جیسی متعدد دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے، اور علاقے میں دوسرے دہشتگرد کو ختم کرنے کیلئے سینی ٹائزیشن آپریشن بھی جاری ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے بھی اظہار کیا کہ سیکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔ان اعمال کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی بڑی بھرتی دیکھنے کو ملی، جس نے مقامی عوام میں امن اور اطمینان کی بھرپور محسوس کرائی۔

  • شاہ محمود قریشی 9 مئی کے مقدمے سے بری

    شاہ محمود قریشی 9 مئی کے مقدمے سے بری

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے مقدمے سے بری کردیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم نامے میں کہا گيا ہے کہ پینل کوڈ سیکشن 109 تب نافذ ہوتا ہے جب کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہو، کسی ملزم کے جرم میں کسی شرکت کے بغیر پینل کوڈ سیکشن 109 کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن کا کیس مضبوط نہیں، ثبوت ریکارڈ بھی کیے تو ملزمان کو سزا نہیں دی جاسکتی۔

  • کابینہ میں پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ خواجہ اصف

    کابینہ میں پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ خواجہ اصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ احتجاج سب جماعتوں کا حق ہے وہ کریں، اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمینٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بھوک ہڑتال سمیت تمام فیصلے علامتی ہوتے ہیں، پی ٹی آئی کو کھانے پینے کی عادت ہے اس لئے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں، میں خیر سگالی کے طور پر کھانا بھجوا دیتا ہوں۔ وزیر دفاع نے کہاکہ پابندی کا فیصلہ اتحادی جماعتوں کی مشاورت سے ہو گا، پی ٹی آئی پر پابندی خارج از امکان نہیں، ہماری مشاورت جاری ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سیاست میں بات چیت کی گنجائش نہیں چھوڑی، سیاسی پارٹیاں اور سیاسی کارکنان ایسی حرکتیں اور باتیں نہیں کرتے، کابینہ میں پی ٹی آئی پر پابندی سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔