Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    عمران خان جیل سے آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان، جو اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے انتخاب میں حصہ لیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان 10 سال قید کی سزا کے باوجود آن لائن انتخابات میں حصہ لیں گے۔ عمران خان اس وقت 9 مئی کے کیس کے الزام میں قید ہیں۔ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کی نشست ہانگ کانگ کے سابق گورنر اور 21 سال تک اس عہدے پر فائز رہنے والے 80 سالہ لارڈ پیٹن کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی ہے۔یہ پہلی بار ہے کہ چانسلر کے انتخابات روایتی طریقہ کار کے بجائے آن لائن ہوں گے، جس میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل افراد کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع ملے گا۔ عام طور پر، سیاست دانوں کو ہی چانسلر شپ کی نشست دی جاتی ہے۔
    عمران خان، جو خود بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں، اس مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں، جس نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ ان کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ سیاسی اور تعلیمی میدان میں فعال رہنا چاہتے ہیں، خواہ حالات کیسے بھی ہوں۔اس حوالے سے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو میں عمران خان کے مشیر سید زلفی بخاری نے بتایا کہ عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کے لیے الیکشن لڑیں گے کیونکہ عوامی مطالبہ ہے کہ انہیں الیکشن ضرور لڑنا چاہیے۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ ہم اس کا اعلان عوامی سطح پر کریں گے اور جب ہمیں عمران خان کی طرف سے منظوری مل جائے گی اور اس کے لیے دستخطی مہم شروع کریں گے۔

  • پی ٹی آئی پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، ملک آگے نہیں بڑھے گا.محمد زبیر

    پی ٹی آئی پر پابندی نہیں لگنی چاہیے، ملک آگے نہیں بڑھے گا.محمد زبیر

    سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سمیت کسی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پاکستان کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے اور 70 فیصد پاکستانی اس پر پابندی کے خلاف ہیں۔محمد زبیر نے کہا کہ پابندیاں ملک کو آگے نہیں بڑھا سکتیں، بلکہ ماضی کی پابندیوں نے ملک کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتی جماعتیں اکثریتی جماعت پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ درست نہیں ہے۔
    انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1958، 1969، 1977 اور 1999 میں آئین کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور سوال اٹھایا کہ کیا آرٹیکل 6 صرف سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کے لیے ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ جب تک آئین کی حرمت برقرار نہیں رکھی جاتی، کسی پر آرٹیکل 6 کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔سابق گورنر سندھ نے ماضی کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندی لگانا ایک غلط فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی گرفتاری بھی غلط تھی اور اس قسم کے اقدامات کو جواز بنا کر آج کے غلط فیصلوں کو درست نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے نو مئی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو سوا سال گزر چکا ہے اور ن لیگ نے اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2014 میں میرے ساتھ زیادتی ہوئی تھی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ہٹ دھرمی سے حکومت کروں گا۔

  • حکومت کیخلاف نہ کھڑے ہوئے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے: حافظ نعیم الرحمان

    حکومت کیخلاف نہ کھڑے ہوئے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اگر آج ہم حکومت کیخلاف کھڑے نہیں ہوئے تو آئندہ اس سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ جماعت اسلامی کے تحت مقامی ہال میں منعقدہ تاجر کنونشن سے خطاب کر رہے تھے، جس میں مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔حافظ نعیم الرحمان نے تاجر کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجر دوست کے نام پر ظالمانہ ٹیکس کسی صورت قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ تنخواہ دار طبقہ 375 ارب روپے کا ٹیکس ادا کرتا ہے جبکہ جاگیردار صرف 5 ارب روپے کا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم اور اضافی ٹیکسز کو ختم کیا جائے۔
    انہوں نے اعلان کیا کہ پہلے مرحلے پر ایک روز کی ہڑتال کی جائے گی اور اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کئے تو اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اس وقت کوئی تکلیف نہیں ہے، مگر ہم اپنے سیاسی حقوق کا استعمال کرنا جانتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ وہ سول نافرمانی نہیں چاہتے مگر حالات کے پیش نظر بجلی کے بلوں کا بائیکاٹ بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دھرنے اور ہڑتال کے ذریعے اپنے مطالبات منوائے جائیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو پورے ملک میں ہڑتال ہوگی۔

  • پی ٹی آئی کی علامتی بھوک ہڑتال محض ڈرامہ بازی ہے. طلال چوہدری

    پی ٹی آئی کی علامتی بھوک ہڑتال محض ڈرامہ بازی ہے. طلال چوہدری

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی علامتی بھوک ہڑتال محض ڈرامہ بازی ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ ہڑتال کرنا ان کا آئینی حق ہے لیکن صرف 4 گھنٹے کی بھوک ہڑتال وہ بھی لنچ کے بعد، پی ٹی آئی کے ان رہنماﺅں کو بانی پی ٹی آئی کے اعترافی بیان پر بھوک ہڑتال کرنی چاہئے۔طلال چودھری نے کہا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد اور شام کی چائے سے پہلے کون سی بھوک ہڑتال ہوتی ہے؟ جس کے لئے یہ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں وہ جیل میں کاجو، بادام اور دیسی مرغ کھا رہا ہے، ان فراڈیوں اور بہروپیوں کا کام فوٹو سیشن اور پارٹ ٹائم انقلاب ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ انہیں بانی پی ٹی آئی کے 9 مئی واقعہ کا اعترافی بیان دینے کے بعد پولی گرافک ٹیسٹ سے انکار اور بانی پی ٹی آئی کے دوغلے پن پر بھی بھوک ہڑتال کرنی چاہئے، تحریک انتشار کے سرغنہ کا اعترافی بیان 9 مئی کے واقعات کا اقبال جرم ہے۔طلال چودھری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اور بھانجے کور کمانڈر ہاؤس کے باہر موجود تھے جو لوگوں کو ٹارگٹ پر پہنچنے کی ہدایات دیتے رہے، تحریک انصاف نے ہمیشہ پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش کی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کبھی بھوک ہڑتال اور کبھی پاکستان کو بند کرنے کی سازش کرتے رہے، بانی پی ٹی آئی کے ماضی کے ناقد محمود خان اچکزئی بھوک ہڑتالی کیمپ میں نوکری کی تلاش میں ہیں۔رہنما ن لیگ کا مزید کہنا تھا کہ یہ جتنی مرضی ہڑتالیں کرلیں ان کے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا، تحریک انتشار کا جمعہ کو بھی فلاپ شو ہوگا۔

  • اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ سنایا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ سنایا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے چیف کمشنر اسلام آباد کے این او سی واپس لینے کے حکم کو کالعدم قرار دیا ہے۔چیف جسٹس عامر فاروق نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں 5 جولائی کو جاری کیے گئے چیف کمشنر کے این او سی واپس لینے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔فیصلے کے مطابق، پی ٹی آئی کی جلسے کے لیے این او سی کی درخواست اب بھی اسلام آباد انتظامیہ کے پاس زیر غور تصور ہوگی۔ عدالت نے انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون کے مطابق اور مناسب وجوہات کے ساتھ اس درخواست پر فیصلہ کرے۔

    عدالت نے نوٹ کیا کہ چیف کمشنر نے محرم کے دوران ممکنہ لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کے پیش نظر این او سی واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، عدالت نے اس بات پر تنقید کی کہ این او سی واپس لینے سے پہلے پی ٹی آئی کے کسی نمائندے کو آگاہ نہیں کیا گیا۔یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے جواب میں آیا ہے، جس میں پارٹی نے چیف کمشنر کے آرڈر کو چیلنج کیا تھا۔یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر پی ٹی آئی کے لیے جو اپنے سیاسی جلسوں اور سرگرمیوں کے لیے این او سی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی تھی۔ اس فیصلے سے پارٹی کو اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ یہ حکومتی اداروں کو بھی یاد دلاتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں قانونی تقاضوں کا خیال رکھیں۔

  • امریکی صدارتی انتخاب 2024: کاملا ہیرس کو ڈونلڈ ٹرمپ پر معمولی برتری حاصل

    امریکی صدارتی انتخاب 2024: کاملا ہیرس کو ڈونلڈ ٹرمپ پر معمولی برتری حاصل

    امریکی صدارتی انتخاب 2024 کے لیے سیاسی منظر نامہ میں حالیہ دنوں میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ موجودہ صدر جو بائیڈن کے دستبردار ہونے کے بعد، ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی اب نائب صدر کاملا ہیرس کر رہی ہیں۔ تازہ ترین سروے کے مطابق، ہیرس نے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر معمولی لیکن اہم برتری حاصل کر لی ہے۔رائٹرز کے سروے میں ہیرس کو 44 فیصد جبکہ ٹرمپ کو 42 فیصد حمایت حاصل ہوئی۔ یہ تبدیلی خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے کے سروے میں ٹرمپ کو برتری حاصل تھی۔ یہ تبدیلی بائیڈن کے انتخابی مہم سے دستبردار ہونے اور ہیرس کی حمایت کا اعلان کرنے کے بعد آئی ہے۔
    سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز ہیرس کو ذہنی طور پر زیادہ تیز اور چیلنجز سے نمٹنے کے قابل سمجھتے ہیں۔ 56 فیصد ووٹرز نے ہیرس کے حق میں یہ رائے دی، جبکہ ٹرمپ کے لیے یہ شرح 49 فیصد تھی۔ سابق صدر بائیڈن کے لیے یہ شرح صرف 22 فیصد تھی، جو ان کے دستبردار ہونے کی ایک وجہ بھی ہو سکتی ہے۔ڈیموکریٹک ووٹرز میں ہیرس کی مقبولیت نمایاں ہے۔ 91 فیصد ڈیموکریٹک ووٹرز نے ان کی حمایت کا اظہار کیا، جو بائیڈن کی 80 فیصد حمایت سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، دو تہائی ڈیموکریٹک ووٹرز کا خیال ہے کہ پارٹی کو ہیرس کی مکمل حمایت کرنی چاہیے۔
    تاہم، ٹرمپ کی کیمپ نے ہیرس کی اس برتری کو معمولی قرار دیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ یہ صرف عارضی اضافہ ہے جو نامزدگی کے بعد ملنے والی میڈیا کوریج کا نتیجہ ہے۔
    یہ سروے امریکی انتخابی نظام کی پیچیدگیوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ قومی سطح کے سروے اہم اشارے فراہم کرتے ہیں، لیکن حتمی نتیجہ چند اہم ریاستوں کے نتائج پر منحصر ہوگا جو الیکٹورل کالج میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔آنے والے مہینوں میں یہ مقابلہ مزید سخت ہونے کی توقع ہے، جیسے جیسے دونوں امیدوار اپنی مہمات تیز کریں گے اور ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

  • دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ 28 جولائی کو متوقع

    دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ 28 جولائی کو متوقع

    اسلام آباد: دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ دولت مشترکہ کی سیکرٹری جنرل پیٹریشیا سکاٹ لینڈ 28 جولائی سے 2 اگست 2024 تک پاکستان کا اپنا پہلا سرکاری دورہ کریں گی۔ یہ دورہ حکومت پاکستان کی دعوت پر ہو رہا ہے۔دورے کے دوران، سیکرٹری جنرل سکاٹ لینڈ پاکستانی قیادت، کابینہ ارکان، نوجوان رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستان اور دولت مشترکہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔خاص طور پر، سیکرٹری جنرل کا دورہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کی دوسری برسی کے موقع پر ہو رہا ہے۔ اس سیلاب نے ملک کے ایک تہائی حصے کو متاثر کیا تھا، جس سے 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا تھا۔ سکاٹ لینڈ، جو موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے پر پاکستان کی مدد کی حامی رہی ہیں، اس موقع پر پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گی۔ ان کے سیلاب سے متاثرہ کچھ علاقوں کا دورہ کرنے کا بھی امکان ہے۔
    دورے کے دوران، پاکستان اور دولت مشترکہ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت ہوگی۔ اس میں قومی ترقیاتی منصوبوں کی حمایت، نوجوانوں کو بااختیار بنانا، اور تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینا شامل ہے۔ سیکرٹری جنرل کو وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور دولت مشترکہ کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گا۔ یہ دورہ دونوں فریقوں کے لیے باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا موقع ہوگا۔اس دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نہ صرف پاکستان اور دولت مشترکہ کے تعلقات کو مضبوط کرے گا، بلکہ پاکستان کو درپیش موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

  • خیبر پختونخوا حکومت کا سیاحتی ریسٹ ہاؤسز کی لیز پالیسی میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت کا سیاحتی ریسٹ ہاؤسز کی لیز پالیسی میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی آمدن بڑھانے کے لیے سیاحتی ریسٹ ہاؤسز کی لیز پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ وزیر اعلیٰ سردار علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت ہونے والے محکمہ سیاحت کے اجلاس میں کیا گیا.اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریسٹ ہاؤسز میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک نئی طویل المدتی لیز پالیسی تیار کی جائے گی۔ اس پالیسی کے تحت، سرمایہ کاری کی مقدار کے مطابق لیز کی مدت طے کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ نے اس نئی پالیسی کے لیے ضروری ترامیم تجویز کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں متعلقہ کابینہ اراکین اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔ کمیٹی کو ایک ہفتے کے اندر اپنی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    مزید برآں، محکمہ سیاحت کے تحت قائم ایک کمپنی کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ریسٹ ہاؤسز کی لیز سے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کرے گی۔ اس اقدام کا مقصد لیز عمل کو زیادہ شفاف اور موثر بنانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے محکمہ سیاحت کی ٹیکنیکل کمیٹی کی تشکیل کے لیے قانونی ترامیم کی بھی ہدایت دی ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے خیبر پختونخوا ٹورزم اتھارٹی (کے پی ٹی اے) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تعیناتی کے عمل کو تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ سیاحت کے زیر انتظام کیمپنگ پوڈز کو جلد از جلد آؤٹ سورس کیا جائے۔ اس کے علاوہ، سرکاری اثاثوں کی انوینٹری کو ڈیجیٹل بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
    یہ اقدامات خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے سیاحتی شعبے کو فروغ دینے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان اصلاحات سے نہ صرف صوبائی خزانے میں اضافہ ہوگا بلکہ سیاحتی سہولیات کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔اجلاس میں متعلقہ صوبائی کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری اور محکمہ سیاحت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، ان فیصلوں پر عملدرآمد جلد شروع کیا جائے گا

  • بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔ عظمی بخاری

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔ عظمی بخاری

    لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی قیادت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے لے کر سوشل میڈیا پر سیاسی مہم تک، متعدد معاملات پر پی ٹی آئی کو نشانہ بنایا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے، عظمیٰ بخاری نے براہ راست پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ "بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار اڈیالہ جیل میں بیٹھا قیدی ہے۔” ان کا اشارہ عمران خان کی طرف تھا، جو فی الحال جیل میں ہیں۔ وزیر نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک "عوام دشمن معاہدہ” کیا تھا، جس کے نتیجے میں آج قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد بھچر پر بھی عظمیٰ بخاری نے تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "جس لیول کا ذہنی مریض آپ کا لیڈر ہے، اس سے دو ہاتھ آگے آپ ہیں۔” یہ بیان پی ٹی آئی قیادت کی ذہنی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتا ہے۔وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک کے استعمال پر بھی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں ٹک ٹاک پر سب سے پہلے انٹرنیشنل فراڈیہ اور بہروپیا ہی آیا تھا۔” یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا مہم کو غیر موثر اور غیر اخلاقی سمجھتی ہیں۔
    عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پر کیے جانے والے تنقیدی حملوں کا بھی جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ "جن کے لیڈر نے ٹک ٹاک پر مقابلے جنت مرزا سے کیے وہ مریم نواز کو طعنے دے رہے ہیں۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف تین ماہ میں تعلیم سمیت متعدد شعبوں میں اہم منصوبے متعارف کروائے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، معاشی بحران، اور سیاسی استحکام جیسے اہم مسائل پر دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں

  • لاہور میں پی ٹی آئی کیمپ کے قریب اداکار طاہر انجم پر تشدد کا واقعہ

    لاہور میں پی ٹی آئی کیمپ کے قریب اداکار طاہر انجم پر تشدد کا واقعہ

    لاہور میں ایک حیران کن واقعے میں، پنجاب اسمبلی کے باہر قائم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے قریب مشہور اداکار اور کامیڈین طاہر انجم پر تشدد کیا گیا۔واقعے کی تفصیلات کے مطابق، جب طاہر انجم کیمپ کے قریب سے گزر رہے تھے تو ایک خاتون نے ان پر حملہ کر دیا۔ خاتون نے نہ صرف انہیں تھپڑ مارے بلکہ ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ حملہ آور خاتون کا نام انیلا بتایا گیا ہے، جو خود کو ‘نیلی پری’ کہتی ہے۔نیلی پری نے الزام لگایا کہ طاہر انجم نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو دہشت گرد کہا تھا، جس پر انہوں نے یہ اقدام کیا۔ حاضرین نے بڑی مشکل سے اداکار کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔
    طاہر انجم، جو مسلم لیگ (ن) کے کلچر ونگ پنجاب کے صدر ہیں، نے کہا کہ وہ صرف ویڈیو بنا رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملے میں ان کا ایک دانت ٹوٹ گیا ہے اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما ملک احمد خان بھچر نے حملہ آور خاتون سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خاتون ان کی پارٹی کی ورکر نہیں ہے اور پولیس کو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔