Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن: ٹیکس فراڈ پکڑنے میں کامیابی، وزیراعظم کا اصلاحات پر زور

    ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن: ٹیکس فراڈ پکڑنے میں کامیابی، وزیراعظم کا اصلاحات پر زور

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجیٹلائزیشن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم جائزہ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ٹیکس ریفنڈ میں 800 ارب روپے کے فراڈ پکڑے گئے ہیں۔چار گھنٹے تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں ایف بی آر میں جاری اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ عمل بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسلٹنٹ فرم میک کینزی کی نگرانی میں جاری ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ٹیکس دینے کی استطاعت رکھنے والے 49 لاکھ افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، یکم اپریل 2024 سے اب تک ایف بی آر کی تاجر دوست موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ ریٹیلرز رجسٹر ہو چکے ہیں۔
    وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ٹیکس ریفنڈ کا نظام مزید بہتر بنایا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ایف بی آر میں اصلاحات سے محصولات میں اضافہ ممکن ہے، لیکن کئی منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر انتہائی افسوسناک ہے۔وزیراعظم نے ہدایت دی کہ ٹیکس دینے کی استطاعت رکھنے والے 49 لاکھ افراد میں سے دولت مند اور سرمایہ داروں کو ترجیحی بنیادوں پر ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، جبکہ غریب طبقے پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مختلف عدالتوں اور ٹریبونلز میں ٹیکس کے حوالے سے 3.2 کھرب روپے کے 83,579 مقدمات زیر التوا ہیں۔ تاہم، پچھلے چار ماہ کے دوران مختلف عدالتوں کی جانب سے تقریباً 44 ارب روپوں کے 63 مقدمات نمٹا دیے گئے ہیں۔
    وزیراعظم نے ٹیکس مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے ایپلٹ ٹریبونلز کی تعداد 100 تک بڑھانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ ریٹیلرز کے ساتھ مشاورت جاری رکھی جائے تاکہ ٹیکس نظام کو مزید فعال بنایا جا سکے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن ملک کی معیشت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس سے نہ صرف ٹیکس چوری میں کمی آئے گی بلکہ شفافیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل کو مکمل کرنے میں وقت لگے گا اور اس دوران حکومت کو مسلسل نگرانی اور اصلاحات جاری رکھنی ہوں گی۔

  • پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا مشترکہ اجلاس: حکومتی فیصلوں کی مخالفت، الیکشن کمیشن پر تنقید

    پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا مشترکہ اجلاس: حکومتی فیصلوں کی مخالفت، الیکشن کمیشن پر تنقید

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سنی اتحاد کونسل کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں دونوں جماعتوں کے مرکزی قائدین اور اراکین پارلیمان نے شرکت کی۔ شرکا نے حکومت کے حالیہ فیصلوں پر شدید تنقید کی، خاص طور پر تحریک انصاف پر عائد کردہ پابندی اور بانی چیئرمین عمران خان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران کے خلاف بھی آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کو "لیول پلیئنگ فیلڈ” سے محروم کرنے اور عام انتخابات میں امیدواروں کو پارٹی سے وابستگی کے حق سے محروم کرنے کے خلاف کیا جائے گا۔
    اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایڈہاک ججوں کی تقرریوں کے حالیہ فیصلے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکا نے اس فیصلے کو عدلیہ کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا۔پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل نے اس موقع پر اپنی مشترکہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں جماعتوں نے آئندہ عام انتخابات میں مل کر حصہ لینے کا عندیہ دیا اور کہا کہ وہ جمہوریت کے تحفظ اور آئین کی بالادستی کے لیے ہر قانونی اور آئینی اقدام اٹھائیں گے۔حکومتی حلقوں نے اس اجلاس کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کسی بھی غیر آئینی اقدام کی اجازت نہیں دے گی اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔یہ اجلاس آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں نئے تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔اس اجلاس کے نتائج اور اس کے ممکنہ اثرات پر عوام اور سیاسی حلقوں کی گہری نظر ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کس سمت اختیار کرتی ہے۔

  • تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس کل طلب

    تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس کل طلب

    پاکستان تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین مشترکہ اجلاس کل طلب کر لیا گیا۔اجلاس کل بروز جمعرات صبح 10 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوگا، پارلیمانی قائدین اور اراکین قومی اسمبلی اس اہم ترین اجلاس میں شرکت کریں گے۔دونوں پارٹیوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد میڈیا کو اجلاس میں کئے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا جائے گا۔

  • افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں شدید بارشوں کی تباہ کاریاں: 47 جاں بحق، سینکڑوں زخمی

    افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں شدید بارشوں کی تباہ کاریاں: 47 جاں بحق، سینکڑوں زخمی

    افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں حالیہ دنوں میں ہونے والی شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ افغان حکام کے مطابق، اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک 47 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، جبکہ 350 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق، دو روز سے جاری مسلسل بارش نے صوبے کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تقریباً 400 کچے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے ساتھ ساتھ مواصلاتی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔
    افغان حکومت نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں زخمیوں کو ہسپتالوں منتقل کرنے، پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے اور متاثرین کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔ تاہم، موسم کی خرابی اور راستوں کی تباہی کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
    یہ واقعہ افغانستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کی یاد دلاتا ہے۔ گزشتہ مئی میں بھی ملک کے شمالی صوبہ بغلان میں آئے سیلاب نے 300 سے زائد افراد کی جان لے لی تھی اور سیکڑوں گھروں کو تباہ کر دیا تھا۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان جیسے پہاڑی ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آفات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرے اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر توجہ دے۔بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ افغانستان کی اس مشکل گھڑی میں مدد کرے اور ملک کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے درکار وسائل اور تکنیکی معاونت فراہم کرے۔

  • چینی شہر زیگونگ میں شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی: 8 افراد ہلاک، کئی محصور

    چینی شہر زیگونگ میں شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی: 8 افراد ہلاک، کئی محصور

    "چین کے جنوب مغربی صوبہ سچوان کے شہر زیگونگ میں ایک ہولناک حادثہ پیش آیا ہے۔ شہر کے مرکزی علاقے میں واقع ایک 14 منزلہ عمارت کے نچلے حصے میں موجود شاپنگ سینٹر میں شام کے وقت اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس المناک واقعے میں اب تک 8 افراد کی جان جا چکی ہے، جبکہ متعدد دیگر افراد ابھی تک عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں۔مقامی حکام کے مطابق، آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی خدمات کے عملے کو فوری طور پر موقع پر بھیجا گیا۔ ریسکیو ٹیمیں جان مشکل میں ڈال کر عمارت میں داخل ہوئیں اور محصور افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
    آگ کی شدت اور دھوئیں کی کثیف مقدار نے بچاؤ کارروائی کو مشکل بنا دیا ہے۔ فائر فائٹرز نے بتایا کہ عمارت کی پیچیدہ ساخت اور اندرونی حصوں تک رسائی کی دشواری کے باعث انہیں مزید چیلنجز کا سامنا ہے۔مقامی انتظامیہ نے شہر کے تمام ہسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے اور زخمیوں کی فوری طبی امداد کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ ساتھ ہی، آس پاس کے علاقوں سے اضافی وسائل اور امدادی ٹیمیں طلب کی گئی ہیں۔چینی میڈیا کے مطابق، حادثے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، ابتدائی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ شاپنگ سینٹر کے ایک حصے سے شروع ہوئی اور پھر پوری عمارت میں پھیل گئی۔
    اس دردناک واقعے نے چین میں عمارتوں کی حفاظتی تدابیر پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔فی الحال، شہر بھر میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔ مقامی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کا اعلان کیا ہے اور انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے

  • خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں اور آندھی کا سلسلہ جاری، دو افراد جاں بحق

    خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں اور آندھی کا سلسلہ جاری، دو افراد جاں بحق

    خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جاری شدید بارشوں اور آندھی کے باعث صوبے بھر میں نقصانات کا سلسلہ جاری ہے۔ پشاور، مردان اور خیبر سمیت کئی اضلاع میں موسلادھار بارش نے معمولات زندگی متاثر کر دیے ہیں۔چارسدہ کی تحصیل شبقدر میں سب سے زیادہ نقصان ہوا جہاں دیواروں کے گرنے سے ایک خاتون اور ایک 20 سالہ نوجوان جاں بحق ہو گئے۔ اس کے علاوہ، مختلف واقعات میں 7 افراد زخمی ہوئے، جن میں 5 خواتین شامل ہیں۔پشاور میں بارش کے پانی نے شہر کے مختلف حصوں میں مشکلات پیدا کیں۔ شیر شاہ سوری روڈ پر واقع پشاور پریس کلب کا تہہ خانہ پانی سے بھر گیا۔ شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔
    پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے اتوار تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ اتھارٹی نے خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے آگاہ کیا ہے، جس سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔
    پی ڈی ایم اے کے مطابق، دیر، سوات، چترال، کوہستان، شانگلہ، بونیر، بٹگرام، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، خیبر، مہمند، باجوڑ، مردان، پشاور، کرم، بنوں، کوہاٹ، کرک اور وزیرستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔حکام نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور ضروری سفر کے علاوہ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی اس تبدیلی کا تعلق عالمی موسمیاتی تبدیلیوں سے ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طویل مدتی منصوبہ بندی کرے تاکہ ایسی صورتحال سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے

  • موسمی تبدیلی کا خطرہ: خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب کا الرٹ جاری

    موسمی تبدیلی کا خطرہ: خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب کا الرٹ جاری

    "نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں ممکنہ برفانی جھیل کے آؤٹ برسٹ فلڈ (جی ایل او ایف) کا الرٹ جاری کیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) کے مطابق، 17 سے 23 جولائی 2024 کے دوران درجہ حرارت میں اضافے اور شدید بارشوں کے پیش نظر یہ خطرہ پیدا ہوا ہے۔این ای او سی نے خبردار کیا ہے کہ ان حالات کے باعث مقامی دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، این ڈی ایم اے نے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ضروری تیاریاں اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کو یقینی بنائیں۔
    اتھارٹی نے مقامی کمیونٹیز، سیاحوں اور مسافروں کو خطرے کے بارے میں آگاہ کرنے کی ہدایت دی ہے اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ، کمزور علاقوں میں لوگوں کے بروقت انخلا اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فرضی مشقیں کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
    این ڈی ایم اے نے عوام کو بروقت الرٹس، مشورے اور رہنما خطوط فراہم کرنے کے لیے "پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” نامی ایک موبائل ایپلی کیشن بھی لانچ کی ہے، جو گوگل پلے سٹور اور آئی او ایس ایپ سٹور پر دستیاب ہے۔ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے عزیزوں کی حفاظت کے لیے اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کریں اور ہدایات پر عمل کریں۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے اثرات کے باعث ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور حکومت کو طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ان چیلنجز سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔ فی الحال، متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ محتاط رہیں اور حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔

  • یوم عاشور :وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر  داخلہ سیکیورٹی انتظامات کے معترف

    یوم عاشور :وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ سیکیورٹی انتظامات کے معترف

    پاکستان بھر میں یوم عاشور پرامن طریقے سے منایا گیا، جس پر حکومتی قیادت نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خصوصی طور پر سیکیورٹی انتظامات کی تعریف کی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے یوم عاشور پر ملک بھر میں امن و امان برقرار رہا۔ انہوں نے افواج پاکستان، انتظامیہ، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بہترین سیکیورٹی انتظامات یقینی بنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پورے ملک میں عقیدت و احترام کے ساتھ مجالس، جلسے اور جلوسوں کا انعقاد ہوا۔
    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عاشورہ کے پہلے عشرے اور خاص طور پر یوم عاشور پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ نقوی نے خود لاہور میں کربلا گامے شاہ جا کر سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور دیر رات تک مانیٹرنگ جاری رکھی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اللہ کے فضل اور حکومت کے مؤثر اقدامات سے یوم عاشور پرامن رہا۔ انہوں نے عزاداروں کی حفاظت کے لیے کیے گئے انتظامات کو بہترین قرار دیا اور کہا کہ سیکیورٹی ٹیموں نے جانفشانی سے اپنی ڈیوٹی نبھائی۔محسن نقوی نے علماء کرام کی کوششوں کو بھی سراہا، جنہوں نے امن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر کے علماء نے امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ملک بھر میں عاشورہ کے ماتمی جلوس بخیر و عافیت اختتام پذیر ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے یہ اہم دن پرامن طریقے سے منایا گیا۔ اس کامیابی نے پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط کیا ہے

  • سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے پاکستان کے توانائی شعبے میں ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے دستاویزی ثبوت کے ساتھ انکشاف کیا ہے کہ صرف نجی بجلی پیداکنندگان (آئی پی پیز) ہی نہیں، بلکہ سرکاری بجلی گھر بھی اربوں روپے کے کیپسٹی چارجز حاصل کر رہے ہیں۔گوہر اعجاز کے مطابق، سب سے زیادہ 45 فیصد کیپسٹی چارجز خود سرکاری بجلی گھر وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کول پاور پلانٹس اپنی صلاحیت کے صرف 25 فیصد پر کام کرنے کے باوجود مکمل کیپسٹی چارجز، یعنی 692 ارب روپے، وصول کر رہے ہیں۔ اسی طرح، ہوا سے چلنے والے بجلی گھر 50 فیصد سے کم صلاحیت پر کام کرتے ہوئے بھی 175 ارب روپے حاصل کر رہے ہیں۔
    سابق وزیر نے مزید بتایا کہ آر ایل این جی پلانٹس بھی اپنی صلاحیت کے 50 فیصد سے کم پر کام کرنے کے باوجود 180 ارب روپے کما رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو "دھوکہ دہی کا فریم ورک” قرار دیا، جو صنعتوں، گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے ناقابل برداشت ہے۔گوہر اعجاز نے موجودہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیپسٹی چارجز والے معاہدوں کی حفاظت کرنے کی بجائے ان پر نظرِ ثانی کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
    سابق وزیر نے ایک اہم سوال بھی اٹھایا کہ بند بجلی گھروں کو ہر سال 2 ہزار ارب روپے دینے کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوال پاکستان کی توانائی پالیسی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔یہ انکشافات پاکستان کے توانائی شعبے میں موجود مسائل کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے، جنہیں بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور توانائی شعبے میں شفافیت لانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ بصورت دیگر، ملک کی معاشی ترقی اور عوام کی بہبود پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی معظم جتوئی کے مبینہ اغوا کا معاملہ، جمشید دستی پر حملے کا الزام

    پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی معظم جتوئی کے مبینہ اغوا کا معاملہ، جمشید دستی پر حملے کا الزام

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے جب پارٹی کے دو اہم ارکان کے ساتھ مبینہ واقعات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔پی ٹی آئی مظفر گڑھ کے ضلعی جنرل سیکریٹری مہر جاوید نے ایک سنسنی خیز دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظفر گڑھ سے رکن قومی اسمبلی معظم جتوئی کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ مہر جاوید کے مطابق، معظم خان جتوئی کو ملتان میں ان کی رہائش گاہ سے نامعلوم افراد لے گئے ہیں۔ معظم جتوئی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 177 مظفر گڑھ سے منتخب ہوئے تھے اور وہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار تھے۔اس دوران، پی ٹی آئی کے ایک اور رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ رات ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ دستی کے مطابق، رات تقریباً 3 بجے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے 25 افراد دیوار پھلانگ کر ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گھر کے باہر موجود افراد نے ان پر فائرنگ کی، لیکن وہ محفوظ رہے۔
    تاہم، مظفر گڑھ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے جمشید دستی کے گھر پر کسی بھی قسم کی کارروائی سے اظہار لاتعلقی کیا ہے۔ یہ تضاد سوالات کھڑے کرتا ہے کہ آخر کیا ہوا اور کون ذمہ دار ہے۔حکومتی حکام کی جانب سے ابھی تک ان واقعات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات جمہوری اقدار کے خلاف ہیں اور ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے۔پی ٹی آئی کی قیادت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد از جلد اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرے گی اور قانونی کارروائی کا آغاز کرے گی۔ اس دوران، سول سوسائٹی کی جانب سے بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ سیاسی اختلافات کو پرتشدد طریقے سے حل کرنے کی بجائے جمہوری طریقوں کو اپنایا جائے۔یہ واقعات پاکستان کی سیاست میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔