پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے آج اعلان کیا کہ ایک عالمی آئی ٹی خلل کی وجہ سے پاکستان میں مائیکروسافٹ کے صارفین مشکلات کا شکار ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق، یہ مسئلہ کراؤڈ اسٹرائیک نامی عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کے نظام میں خرابی کے باعث پیدا ہوا۔ اس خرابی نے دنیا بھر میں ہزاروں ونڈوز مشینوں کو متاثر کیا ہے۔متاثرہ کمپیوٹرز اور سرورز ریکوری بوٹ لوپ میں پھنس گئے، جس سے بعض انٹرنیٹ خدمات بھی متاثر ہوئیں۔ تاہم، کراؤڈ اسٹرائیک کا کہنا ہے کہ مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے۔پی ٹی اے نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سپورٹ پورٹل سے اپنا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کریں۔ یہ واقعہ عالمی آئی ٹی انفراسٹرکچر کی حساسیت کو اجاگر کرتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

آئی ٹی بندش سے پاکستان میں بھی مائیکروسافٹ صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے، پی ٹی اے
-

سینٹ قائمہ کمیٹی نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات طلب
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور نے آئی پی پیز (Independent Power Producers) کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ کمیٹی کے سیکریٹری پاور ڈویژن کو اس بارے میں سوالنامہ بھیج دیا گیا ہے۔قائمہ کمیٹی کے سفارشات کے مطابق، گذشتہ 20 برس میں آئی پی پیز سے کیپسٹی ادائیگیوں کی تفصیلات مانگ لی گئی تھیں، جبکہ 1992 میں گیس اور فرنس آئل پر چلنے والے 50 میگاواٹ سے زائد کے پلانٹس کی معلومات بھی طلب کی گئی تھی۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے مطالعہ کیا کہ 1992 اور اس کے بعد لگنے والے بجلی گھروں کے قیمتوں کے لحاظ سے ملکوں کے درمیان موازنہ کیا جائے۔ انہوں نے آئی پی پیز کو دی جانے والی کیپسٹی ادائیگیوں کے پیچھے کے وجوہات بھی معلومات فراہم کرنے کا احکام دیا۔
قائمہ کمیٹی نے آگاہ کیا کہ ونڈ پاور پلانٹس کے تمام پلانٹس کے اسپانسرز کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، جبکہ گذشتہ 6 سال میں لگنے والے ونڈ پاور پلانٹس کی پیداواری لاگت کی معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔کمیٹی نے اطلاع دی کہ ونڈ پاور پلانٹس کی تعمیری لاگت کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ آئی پی پیز کے ساتھ موجودہ معاہدوں سے متعلق کمیٹی کو بھی آگاہ کیا جائے۔قائمہ کمیٹی نے آئی پی پیز کے ساتھ مختلف اوقات میں ہونے والے معاہدوں میں کی جانے والی تبدیلیوں کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، جبکہ آئی پی پیز کی پیداواری صلاحیت اور قیام کے وقت کی صلاحیت کی معلومات بھی مانگی گئی ہیں۔کمیٹی نے عالمی سطح پر آئی پی پیز کے پاور پلانٹس کی کارکردگی کے پیمانے کے بارے میں بھی تفصیلات مانگنے کا ارادہ کیا ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سیکریٹری پاور تمام متعلقہ معلومات کو 2 سے 3 ہفتوں میں فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
-

پشاور: بی آر ٹی کرایوں میں اضافہ
خیبر پختونخوا اربن موبیلٹی اتھارٹی (کے پی یو ایم اے) نے بس ریپیڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کے خسارے کو کم کرنے کےلیے کرایوں میں پانچ سے دس روپے اضافہ کر دیا ہے۔بس سروس کے چند روٹس پر 5 جبکہ کچھ پر 10 روپے کا اضافہ کیا گیا جبکہ بی آر ٹی کا چمکنی سے حیات آباد تک کرایہ 50 روپے سے بڑھا کر 60 روپے کر دیا گیا ہے۔
بی آر ٹی کو سالانہ ساڑھے تین ارب روپے سے زیادہ کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ کرایوں میں اضافہ سے بی آر ٹی کے خسارے میں سالانہ پچاس کروڑ روپے کی کمی ہوگی ،اعلامیہ میں کہا گیا کہ 60 سال سے زیادہ عمر کے بزرگ شہریوں کو کرایہ میں 50 فیصد رعایت ہوگی اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کو بی آر ٹی پر مفت سفری سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ کرایہ میں اضافہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ متعلقہ بورڈ اجلاس میں وزیر اعلی کے پی نے بی آرٹی کا کرایہ بڑھانے کی منظوری دی تھی -

ترک صدر کا ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ: حملے کی مذمت اور صحتیابی کی نیک خواہشات
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے سابق امریکی صدر اور موجودہ ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر حالیہ قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ جمعرات کو ایک ٹیلیفونک رابطے میں، اردوان نے ٹرمپ کی صحت کے بارے میں تفصیلات دریافت کیں اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ترک صدارتی دفتر کے ایک بیان کے مطابق، اردوان نے کہا، دہشت گردی اور تشدد کی ہر شکل قابل مذمت ہے۔ ہم اس طرح کے حملوں کی مکمل مذمت کرتے ہیں، خاص طور پر جب وہ جمہوری عمل کو نشانہ بناتے ہوں۔اس ٹیلیفونک گفتگو کے دوران، صدر اردوان نے ٹرمپ کو ری پبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار نامزد ہونے پر بھی مبارکباد پیش کی۔ اردوان نے کہا، "آپ کی کامیابی امریکی عوام کے آپ پر اعتماد کا ثبوت ہے۔”ٹرمپ نے اردوان کی ہمدردی اور نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ جلد ہی مکمل طور پر صحتیاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا، "میں آپ کی حمایت اور دوستی کی بہت قدر کرتا ہوں۔”
یاد رہے کہ چند روز قبل، ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ کا نشانہ بنے تھے۔ اگرچہ وہ شدید زخمی نہیں ہوئے، لیکن اس واقعے نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی تھی۔ امریکی حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔اس ٹیلیفونک رابطے سے ترکی اور امریکا کے درمیان تعلقات کی اہمیت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ دونوں ممالک ناٹو اتحاد کے اہم اراکین ہیں اور خطے میں کئی مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے اس رابطے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، "ہم اپنے اتحادیوں کی جانب سے اظہار یکجہتی کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ ہمارے مشترکہ جمہوری اقدار کی عکاسی کرتا ہے۔”
اس دوران، امریکی سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی حفاظت کو کس طرح مزید بہتر بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکے۔ -

مسلم لیگ ن کے صدرنواز شریف کا اتحادیوں سے رابطوں کا فیصلہ
محمد نواز شریف نے ن لیگ کے اجلاس سے قبل اتحادی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ کے اجلاس سے قبل اتحادی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف خود اتحادیوں سے رابطے کریں گے، مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد از سر نو سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا ،نواز شریف آصف علی زرداری،چوہدری شجاعت حسین سمیت دیگر سے موجودہ صورتحال مشاورت کریں گے۔
اجلاس میں ملکی سیاسی معاشی اور خارجی سطح کے معاملات پر غور حوض ہوگا ، اجلاس میں اہم فیصلوں کےلئے قومی قیادت سے رابطوں پر رپورٹ پیش کی جائے گی ،وزیر دفاع خواجہ آصف آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے پیش رفت اور تیاریوں کے حوالے سے بریف کریں گے۔اجلاس اگلے چند روز میں ماڈل ٹاؤن آفس ہوگا تیاریاں شروع کر دی گئیں ، صدر مسلم لیگ ن میاں نواز شریف اجلاس کے بعد پارٹی کو گائیڈ لائن جاری کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پی ٹی آئی پر پابندی لگانے یا نہ لگانے کے حوالے سے حتمی مشاورت کی جائے گی ، قیادت کو سپریم کورٹ کے فیصلے اور پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کے حوالے سے قانونی امور پر بریفنگ دیں گے ،لیگی اجلاس میں پارٹی فیصلوں کی منظوری پر عملدرآمد کرنے کے لئے معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجنے کا امکان ہے ، اجلاس میں پیپلز پارٹی کی طرف سے پی ٹی آئی پر بین لگانے پر تحفظات پر تبادلہ خیال ہوگا ۔ -

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں خوش آئند اضافہ
پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ ہفتے کے دوران قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 12 جولائی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 5 کروڑ 88 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔اس اضافے کے بعد پاکستان کے کل زرمبادلہ ذخائر 14 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری کا ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، اس اضافے میں سب سے زیادہ حصہ مرکزی بینک کے ذخائر میں آیا ہے۔ ایس بی پی کے ذخائر میں ایک کروڑ 86 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں یہ 9 ارب 42 کروڑ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔دوسری طرف، ملک کے کمرشل بینکوں کے ذخائر میں بھی قابل ذکر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 4 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ 5 ارب 27 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق، زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ ملک کی برآمدات میں اضافے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں بہتری، اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اضافے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، یہ اضافہ حال ہی میں آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والی قسط کا بھی نتیجہ ہو سکتا ہے، جس نے ملکی معیشت کو ایک اہم سہارا دیا ہے۔وزارت خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے، جن کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "زرمبادلہ ذخائر میں یہ اضافہ ہماری معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں یہ رجحان جاری رہے گا۔”
تاہم، کچھ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ اضافہ خوش آئند ہے، لیکن پاکستان کو اپنے زرمبادلہ ذخائر کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اپنی برآمدات میں اضافہ کرنے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، اور زرمبادلہ کے استعمال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارا مقصد روپے کی قدر میں استحکام لانا اور مہنگائی کو قابو میں رکھنا ہے۔”یہ اضافہ پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت اور معاشی ماہرین امید کر رہے ہیں کہ یہ رجحان جاری رہے گا اور ملکی معیشت مزید مضبوط ہوگی۔ -

عالمی سطح پر کورونا کے بارے میں خدشات،پاکستان میں صورتحال مستحکم ہے
دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز اور اس سے ہونے والی اموات میں اضافے کے باوجود پاکستان میں صورتحال مستحکم ہے۔ یہ بات قومی ادارہ صحت کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے سربراہ ڈاکٹر ممتاز علی خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہی۔ پاکستان میں کورونا کے مثبت کیسز کی تعداد انتہائی کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں اب صرف سرجری کے لیے آنے والے مریضوں کا ہی کورونا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی اکثریتی آبادی کو کورونا ویکسین لگ چکی ہے، جو کہ وائرس کے خلاف ایک اہم تحفظ ہے۔
تاہم، عالمی سطح پر صورتحال مختلف ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ میں دنیا بھر میں کورونا کیسز اور اموات میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق، کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر ہفتے تقریباً 1700 افراد جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے، WHO نے خطرے سے دوچار افراد کی ویکسینیشن جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ مشورہ خاص طور پر ان ممالک کے لیے اہم ہے جہاں کورونا کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی صورتحال بظاہر مستحکم ہونے کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر خان نے عوام کو یاد دلایا کہ باقاعدہ ہاتھ دھونے، بھیڑ والی جگہوں پر ماسک پہننے اور سماجی فاصلے کی پابندی جیسے اقدامات اب بھی اہم ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، پاکستان میں کورونا کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام مکمل طور پر تیار ہیں۔ تاہم، فی الحال ملک میں کوئی نیا پابندیاں عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں صورتحال قابو میں ہے، لیکن عالمی سطح پر کورونا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مسلسل چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ویکسینیشن مکمل کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھیں تاکہ ملک میں کورونا کی صورتحال مزید بہتر ہو سکے۔ -

گوادر میں بڑی دہشت گرد کارروائی کی کوشش ناکام
سیکورٹی فورسز نے بلوچستان کے اہم ساحلی شہر گوادر میں ایک بڑی دہشت گرد کارروائی کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کامیاب آپریشن نے نہ صرف فوری خطرے کو ٹالا بلکہ مستقبل میں ہونے والے ایک بڑے واقعے کو بھی روک دیا۔ذرائع کے مطابق، واقعہ گوادر کے مرکزی کاروباری علاقے منڈی میں پیش آیا۔ دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے میں اس مصروف علاقے میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔ تاہم، سیکورٹی فورسز کی چوکس نگرانی اور موثر انٹیلیجنس نے اس سازش کو بروقت پکڑ لیا۔سیکورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا۔ ماہرین نے بڑی احتیاط سے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنایا، جس سے کسی بھی جانی یا مالی نقصان کو روکا گیا۔
دہشت گردوں کا ارادہ صرف فوری نقصان پہنچانا نہیں تھا۔ حکام کے مطابق، یہ حملہ آنے والے دنوں میں ہونے والے ایک بڑے جلسے کو نشانہ بنانے کی سازش کا حصہ تھا۔ اس جلسے کی نوعیت کے بارے میں ابھی تک تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، لیکن اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ محرم کے موقع پر منعقد ہونے والا کوئی مذہبی اجتماع ہو سکتا ہے۔سیکورٹی فورسز نے علاقے میں ایک جامع کلیئرنس آپریشن بھی مکمل کر لیا ہے، جس کے دوران مشکوک افراد اور مقامات کی تلاشی لی گئی۔ اس دوران کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے، لیکن تحقیقات جاری ہیں۔یہ واقعہ بلوچستان میں جاری سیکورٹی چیلنجز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب کمزور ہو چکی ہیں۔ ایک سینئر سیکورٹی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "بلوچستان میں سیکورٹی اداروں کی پے در پے کاروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد گروہ اپنی سابقہ صلاحیتوں کو کھو چکے ہیں۔ وہ اب بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی بجائے چھوٹے واقعات کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔گوادر، جو کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا اہم حصہ ہے، گزشتہ کچھ سالوں سے دہشت گردوں کے نشانے پر رہا ہے۔ تاہم، حکومت اور سیکورٹی اداروں نے شہر اور اس کے آس پاس کی سیکورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔اس واقعے کے بعد، مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دینے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی، عوام کو پرسکون رہنے اور افواہوں سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ -

پی ٹی آئی والے دہشت گردی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لینا چاہتے،خواجہ محمد آصف
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈہاک ججز کی تقرری کے معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس پر احتجاج کیا جاسکے۔خواجہ آصف نے وضاحت کی کہ "عدلیہ میں ایڈہاک ججوں کی تقرری پہلی مرتبہ نہیں ہورہی۔ متعدد بار ایسی تقرریاں ہوئی ہیں۔ اگر یہ پہلی مرتبہ ہورہی ہوتی تو اعتراض کی بات بھی بنتی تھی۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "عدلیہ کی تاریخ میں بڑے بڑے نام ایڈہاک ججز بھی رہے ہیں۔”وزیر دفاع نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی والے چاہتے ہیں ہر چیز ان کی مرضی کے مطابق ہو، تو یہ تو نہیں ہوسکتا۔” انہوں نے یاد دلایا کہ "ایک وقت تھا وہ اپنی مرضی کے مطابق ہر چیز کرتے تھے۔”
خواجہ آصف نے ملک کے سامنے موجود چند اہم مسائل کا ذکر بھی کیا، جن میں 9 مئی کے واقعے کا احتساب، معاشی مشکلات، مہنگائی، اور دہشتگردی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "مہنگائی ہمارے لیے اور عوام کے لیے تشویشناک بات ہے۔ دہشتگردی ہمارا بہت بڑا مسئلہ ہے، شہدا کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔وزیر دفاع نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ نہیں چاہتی کہ معیشت بحال ہو اور پاکستان ترقی کرے۔ انہوں نے کہا کہ "پی ٹی آئی والے دہشت گردی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لینا چاہتے۔ خیبرپختونخوا میں شہادتیں ہوتی ہیں، پی ٹی آئی کا کوئی بندہ جنازہ تک پڑھنے نہیں جاتا۔”خواجہ آصف نے اپنے بیان کا اختتام اس ملاحظے کے ساتھ کیا کہ "کل تک جو ایبسلوٹلی ناٹ تھا، اس ملک سے یہ اپنی ساری سیاست کنٹرول کررہے ہیں۔ -

پاک-چین فوجی تعاون: آرمی چیف کی پی ایل اے کو 97ویں سالگرہ پر مبارکباد
چین کے سفیر جیانگ زی ڈانگ نے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی طاقت پاک چین دوستی اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان بھائی چارہ ختم نہیں کر سکتی۔
یہ بیان چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کی 97ویں سالگرہ کے موقع پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقدہ ایک تقریب میں دیا گیا، جہاں چینی سفیر بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔اس موقع پر پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پی ایل اے کو مبارکباد پیش کی اور چین کے دفاع، سیکیورٹی اور قومی ترقی میں اس کی خدمات کو سراہا۔جنرل منیر نے کہا، "پاک چین تعلقات غیر معمولی ہیں۔ دونوں ملکوں نے ہمیشہ باہمی اعتماد اور ایک دوسرے کی حمایت پر غیرمتزلزل یقین رکھا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ملکوں نے مل کر اسٹریٹجک ماحول کے اتار چڑھاؤ کا سامنا کیا ہے۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاک فوج اور پی ایل اے کے درمیان مضبوط تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔
اس موقع پر چینی سفیر کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے پاکستان اور خطے کے امن و استحکام کےلیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کےلیے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔چینی سفیر نے کہا کہ کوئی بھی طاقت پاک چین دوستی اور افواج کے درمیان بھائی چارہ ختم نہیں کر سکتی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں چین کے دفاعی اتاشی، چینی سفارتخانے کے حکام اور مسلح افواج کے افسران نے بھی شرکت کی۔یہ تقریب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منعقد کی گئی تھی، جس میں دونوں ملکوں کے فوجی اور سول حکام نے شرکت کی،