Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • یوم عاشور: ملک کے مختلف حصوں میں سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان ماتمی جلوس اختتام پذیر

    یوم عاشور: ملک کے مختلف حصوں میں سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان ماتمی جلوس اختتام پذیر

    پاکستان کے طول و عرض میں یوم عاشور کے موقع پر ماتمی جلوس اور مجالس عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کیے گئے۔ ملک کے تمام بڑے شہروں بشمول لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان ماتمی جلوس اختتام پذیر ہوئے۔کراچی، سندھ کے دارالحکومت میں، مرکزی جلوس نشتر پارک سے شروع ہوا اور حسینیہ ایرانیاں کھارادر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ شہر کی انتظامیہ نے جلوس کی گزرگاہوں پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں، یوم عاشور کا مرکزی جلوس 9 محرم الحرام کی رات نثار حویلی سے شروع ہوا اور کربلا گامے شاہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ لاہور میں روایتی طور پر یہ جلوس بڑی عقیدت اور احترام کے ساتھ نکالا جاتا ہے۔

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں، مرکزی جلوس چوک شہداء علمدار روڈ سے شروع ہوا۔ یہ جلوس جنکشن چوک، پرنس روڈ، میکانگی روڈ اور نوریاسین گلی سے گزرتا ہوا واپس علمدار روڈ پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ کوئٹہ میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں، مرکزی جلوس امام بارگاہ کرنل مقبول سے نکلا اور مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا امام بارگاہ قدیمی پر ختم ہوا۔ اسی طرح، راولپنڈی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ سے برآمد ہوا۔
    حکومت نے اس سال ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے لاہور سمیت پنجاب بھر میں موبائل فون سروس مکمل بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، جلوس اور مجالس والے علاقوں میں سیکیورٹی کے پیش نظر موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رکھی گئی۔ یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔ملک بھر میں یوم عاشور کے موقع پر سنی اور شیعہ برادری نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ مختلف شہروں میں سبیل کے انتظامات کیے گئے جہاں عزاداروں کو پانی اور دیگر مشروبات پیش کیے گئے۔ علماء کرام نے اپنے خطبات میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی کو یاد کیا اور مسلمانوں کو اتحاد و یکجہتی کا درس دیا۔یوم عاشور کے اس پرامن انعقاد نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان میں مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی روایت مضبوط ہے۔ حکومتی اداروں، سیکیورٹی فورسز اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے یہ دن کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کے بغیر گزر گیا، جو کہ ملک کی داخلی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

  • عاشورہ :ایدھی فاؤنڈیشن کی 150 ایدھی ایمبولینسیں، 350 ایدھی رضاکار موجود رہے

    عاشورہ :ایدھی فاؤنڈیشن کی 150 ایدھی ایمبولینسیں، 350 ایدھی رضاکار موجود رہے

    عاشورہ محرم کے موقع پر ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے بھی خصوصی اقدامات کیے گئے تھے۔ایدھی ترجمان کے مطابق مرکزی جلوس کے روٹ پر ایدھی فاؤنڈیشن کی 150 ایدھی ایمبولینسیں، 350 ایدھی رضاکار موجود رہے۔مرکزی جلوس کے روٹ میں چوک نواب صاحب ، محلہ شیعہ سنہری مسجد ، رنگ محل چوک پانی والا تالاب ، گمٹی بازار، تحصیل بازار، اندرون بھاٹی گیٹ، گامے شاہ میں ایدھی میڈیکل کیمپ، ایدھی موبائل کیمپ کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ایدھی ترجمان کے مطابق 9 ویں اور 10 ویں محرم کو 4260 عزاداروں کو فرسٹ ایڈ فراہم کی گئی جبکہ زیادہ زخمی 26 عزاداروں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا۔ترجمان کے مطابق شہری مزید کسی مدد یا رہنمائی کی ضرورت کے پیش نظر ایدھی فاؤنڈیشن کی ہیلپ لائن 115 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • بنکاک کے لگژری ہوٹل میں 6 افراد کی پراسرار موت، زہر ملانے کا شبہ

    بنکاک کے لگژری ہوٹل میں 6 افراد کی پراسرار موت، زہر ملانے کا شبہ

    تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک لگژری ہوٹل کے کمرے سے 6 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس کے مطابق، یہ ایک ممکنہ قتل-خودکشی کا معاملہ ہے جس میں مرنے والوں میں سے ایک شخص نے چائے میں زہر ملا کر سب کی جان لی۔تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ مرنے والوں میں 4 ویتنامی اور 2 امریکی شہری شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی وجہ مالی لین دین ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ گروپ کے دو افراد نے ایک خاتون کو تقریباً 280,000 ڈالر قرض دیے تھے۔
    بنکاک پولیس نے بتایا کہ یہ سیاح مختلف تاریخوں میں تھائی لینڈ پہنچے تھے اور شروع میں الگ الگ کمروں میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ 15 جولائی کو وہ سب ایک ہی کمرے میں منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے دوپہر کا کھانا منگوایا۔ اس کے بعد کمرے سے کوئی نہیں نکلا۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ ایف بی آئی تھائی حکام کو تحقیقات میں مدد فراہم کر رہی ہے۔یہ واقعہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے مشہور تھائی لینڈ میں سنگین سیکیورٹی خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ مقامی حکام اس المناک واقعے کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے گہری تحقیقات کر رہے ہیں

  • یوم عاشور کے پرامن اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ کا اظہارِ تشکر

    یوم عاشور کے پرامن اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ کا اظہارِ تشکر

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یوم عاشور کے پرامن اختتام پر صوبے کے عوام اور انتظامیہ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کے ترجمان کے مطابق، وزیراعلیٰ نے انتظامیہ، پولیس، رینجرز، دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں اور بلدیاتی اداروں کو ان کی بہترین کارکردگی پر شاباشی دی۔مراد علی شاہ نے سندھ کو محبت کی دھرتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے باشندوں نے ہمیشہ مذہبی اور فرقہ وارانہ رواداری کی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد کے جلوسوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مختلف فرقوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کو شربت، پانی اور نیاز تقسیم کرتے دیکھا۔
    وزیراعلیٰ نے علماء اکرام اور اہلِ علم کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے رواداری اور محبت کا پیغام پھیلایا۔ انہوں نے سندھ کے عوام کے شعور کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک دوسرے کا احترام اولین ترجیح ہے۔ سندھ حکومت یوم عاشور کے موقع پر امن و امان کی صورتحال سے مطمئن ہے اور صوبے میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ بیان سندھ میں مختلف فرقوں کے درمیان اتحاد اور برداشت کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے

  • موجودہ حکومت کے بعد پاکستان میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کا امکان ہے، فچ کی پیشگوئی

    موجودہ حکومت کے بعد پاکستان میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کا امکان ہے، فچ کی پیشگوئی

    معروف عالمی درجہ بندی ادارے فچ نے پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں ملک کی موجودہ حالات اور مستقبل کے امکانات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔معاشی پیش گوئیوں میں، فچ نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک مہنگائی کی شرح میں کمی آنے کی توقع ہے۔ اسی طرح، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے شرح سود کو 14 فیصد تک کم کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت کے مشکل معاشی فیصلوں کو آئی ایم ایف پروگرام کے لیے مثبت قرار دیا گیا ہے، تاہم بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ اور زرعی شعبے پر موسمیاتی اثرات کو خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔
    سیاسی صورتحال کے بارے میں، فچ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان قریبی مستقبل میں زیر حراست رہیں گے۔ موجودہ مسلم لیگی حکومت کے 18 ماہ تک برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر معاشی اصلاحات کرے گی۔
    فچ نے حالیہ انتخابات میں آزاد امیدواروں کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کو پی ٹی آئی کی حمایت حاصل تھی۔ شہروں میں ہونے والے مظاہروں کے معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کے بعد پاکستان میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کا امکان ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز پر ایک اہم نظریہ پیش کرتی ہ

  • بجلی معاہدوں پر حکومت کا احتیاط پسندانہ موقف، نجکاری کی طرف رجحان

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی ہے۔ لاہور سے جاری ایک بیان میں، لغاری نے واضح کیا کہ حکومت آزاد بجلی پیداکنندگان (آئی پی پیز) کے ساتھ موجودہ معاہدوں پر یکطرفہ کارروائی نہیں کر سکتی۔وزیر نے بتایا کہ حکومت نے ان معاہدوں کی ضمانت دی ہے، لہٰذا ان کو تبدیل کرنے کے لیے احتیاط سے آگے بڑھنا ہوگا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ حکومت خسارے میں چلنے والی بجلی کمپنیوں اور اداروں کی نجکاری کی طرف بڑھ رہی ہے۔
    اویس لغاری نے آئندہ کی حکمت عملی کا بھی ذکر کیا، جس میں موجودہ آئی پی پی معاہدوں کا جائزہ لینا اور سستے ذرائع سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آئی پی پیز کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور جو معاہدے ملک کے مفاد میں نہیں ہیں، انہیں ختم کرنے پر غور کیا جائے گا۔یہ اعلان پاکستان کے توانائی شعبے میں جاری مسائل کے تناظر میں آیا ہے، جہاں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور لوڈشیڈنگ عام مسائل ہیں۔ حکومت کا یہ موقف توانائی شعبے میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے، موجودہ معاہدوں کے ساتھ محتاط برتاؤ کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔

  • امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تعاون کا عزم، دہشت گردی سے مشترکہ مقابلہ پر زور

    امریکہ کا پاکستان کے ساتھ تعاون کا عزم، دہشت گردی سے مشترکہ مقابلہ پر زور

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے حالیہ بیان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ واشنگٹن میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران، ملر نے کہا کہ پاکستانی عوام نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے باعث شدید نقصان اٹھایا ہے۔میتیھو ملر نے علاقائی سلامتی کے مسائل پر پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان پر زور دینے کی ضرورت پر بھی بات کی تاکہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد حملوں کو روکنے کی ذمہ داری لیں۔
    امریکی حکام نے پاکستان کو "قریبی پارٹنر” قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان وسیع تعاون کا ذکر کیا۔ خاص طور پر، ملر نے پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے جاری کوششوں کا حوالہ دیا، جس میں آئی ایم ایف کی امداد اور اقتصادی اصلاحات شامل ہیں۔یہ بیانات امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کی خواہش کو ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر علاقائی سلامتی اور معاشی استحکام کے شعبوں میں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی یہ تجدید خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم قدم سمجھی جا رہی ہے

  • "مولانا فضل الرحمان کی طاقتور حلقوں پر تنقید،  ‘سیاسی مداخلت ملک کے لیے نقصان دہ ہے

    "مولانا فضل الرحمان کی طاقتور حلقوں پر تنقید، ‘سیاسی مداخلت ملک کے لیے نقصان دہ ہے

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے طاقتور حلقوں کی سیاسی مداخلت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 اور حالیہ انتخابات کے نتائج نے اس مداخلت کا پول کھول دیا ہے۔یہ بیان جے یو آئی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران دیا گیا، جس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا، "طاقتور حلقوں کو سمجھنا چاہیے کہ ان کی سیاسی مداخلت ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔”انہوں نے خیبر پختونخوا میں جاری "عزم استحکام” آپریشن پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ علاقے میں بے چینی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال، خصوصاً بڑھتی ہوئی مہنگائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ جے یو آئی رہنماؤں نے امن و امان کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔
    پارٹی نے آنے والے دنوں میں کئی اہم تقریبات کے انعقاد کا بھی اعلان کیا: جس کت مطابق 10 اگست کو مردان میں کسان کنونشن جبکہ 11 اگست کو پشاور میں تاجران کنونشن اور 18 اگست کو لکی مروت میں امن جرگہ ہو گا،
    ان تقریبات کا مقصد مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اکٹھا کرنا اور ان کے مسائل پر بات چیت کرنا بتایا گیا ہے۔جے یو آئی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم چاہتے ہیں کہ عوام کی آواز کو بلند کیا جائے اور حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لے۔” جے یو آئی کی یہ سرگرمیاں آنے والے دنوں میں ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ ایک سیاسی تجزیہ کار نے کہا، "مولانا فضل الرحمان کی تنقید اور ان کی جماعت کی سرگرمیاں حکومت کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔”حکومتی حلقوں کی جانب سے ان تنقیدی بیانات پر ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پر حکومتی موقف بھی سامنے آئے گا۔

  • صحافیوں کے قتل میں اضافہ،  عالمی تنظیم کا اظہار تشویش

    صحافیوں کے قتل میں اضافہ، عالمی تنظیم کا اظہار تشویش

    نیویارک: عالمی صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پاکستان میں صحافیوں کے قتل میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم نے پاکستانی حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سی پی جے کے پروگرام ڈائریکٹر کارلوس مارٹنیز نے ایک بیان میں کہا، "پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کی یہ لہر انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔”تنظیم کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے اب تک پاکستان میں سات صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ حالیہ واقعہ 14 جولائی کو پیش آیا جب صحافی ملک حسن زیب کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ مارٹنیز نے اس واقعے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کہا، "ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک حسن زیب کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کرے اور انہیں سزا دلوائے۔”
    سی پی جے کے اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں صحافیوں کے قتل کی شرح میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے خطرہ ہے بلکہ ملک کی جمہوریت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان کے متعدد صحافتی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر افزال بٹ نے کہا، "ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔ ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جو صحافیوں کو دھمکیوں اور حملوں سے محفوظ رکھ سکے۔”
    اس صورتحال پر پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے صحافیوں کی حفاظت کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو ان واقعات کی تحقیقات کرے گی اور مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے کام کرے گی۔”تاہم، اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ ایک اپوزیشن رہنما نے کہا، "حکومت کو چاہیے کہ وہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے ایک جامع قانون سازی کرے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے۔”
    عالمی برادری بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا، "ہم پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔ ہم پاکستانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کی مکمل تحقیقات کرے۔”
    ماہرین کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف یہ بڑھتا ہوا تشدد پاکستان میں آزادی اظہار رائے اور جمہوریت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی اور میڈیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

  • پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا بجٹ تیار

    پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا بجٹ تیار

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئندہ سال پاکستان میں منعقد ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے لیے بجٹ کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ بجٹ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کیا گیا ہے۔پی سی بی کے ذرائع کے مطابق، یہ بجٹ آئی سی سی کے چیف فنانس آفیسر انکر کھنہ اور پی سی بی کے سی ایف او جاوید مرتضی کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس بجٹ کو 22 جولائی کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
    اس سلسلے میں، پی سی بی کے سربراہ محسن نقوی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان نصیر 18 جولائی کو کولمبو روانہ ہوں گے، جہاں وہ 19 جولائی سے شروع ہونے والی آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔یاد رہے کہ پاکستان کو 19 فروری سے 9 مارچ 2025 تک آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی کرنی ہے۔ اس اہم ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں، پچز اور گراؤنڈز کو آئی سی سی کے کیورٹر اینڈی ایٹکسن کی ہدایات کے مطابق تیار کیا جا رہا ہے۔پی سی بی کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم اس ٹورنامنٹ کی کامیاب میزبانی کے لیے پرعزم ہیں۔ بجٹ کی منظوری کے بعد ہم تیاریوں کو مزید تیز کر دیں گے۔”
    یہ ٹورنامنٹ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ 1996 کے بعد پہلا موقع ہے جب پاکستان کسی بڑے آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی کرے گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ ملک میں کرکٹ کے فروغ کو بھی فائدہ پہنچے گا۔کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس ٹورنامنٹ کی کامیاب میزبانی سے پاکستان کو مستقبل میں مزید بڑے کرکٹ ایونٹس کی میزبانی کے مواقع مل سکتے ہیں۔ پی سی بی اور حکومت پاکستان دونوں اس ایونٹ کو ہر لحاظ سے کامیاب بنانے کے لیے پرعزم نظر آتے ہیں۔