اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2023-24 میں ملک کا جاری کھاتہ خسارہ محض 68 کروڑ ڈالر رہا، جو پچھلے 13 سالوں میں سب سے کم ہے۔ یہ خبر ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ خسارہ گزشتہ مالی سال کے 3 ارب 27 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ اس کمی کی بنیادی وجوہات میں درآمدات میں کمی اور ترسیلات زر میں اضافہ شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ "جون 2024 میں جاری کھاتے کا خسارہ 32 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا۔ اس میں ترسیلات زر میں 11 فیصد اضافے اور تجارتی خسارے میں 6 فیصد کمی نے اہم کردار ادا کیا۔”معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار پاکستان کی معیشت میں استحکام کی طرف ایک مثبت اشارہ ہیں۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔وزارت خزانہ کے ایک ترجمان نے کہا، "یہ نتائج حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں یہ رجحان جاری رہے گا۔”
دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں نے اس کمی کو عارضی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمی زیادہ تر درآمدات پر پابندیوں کی وجہ سے ہے، جو طویل مدت میں معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ایک نمائندے نے کہا، "یہ اعداد و شمار پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم، مستقل بہتری کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت ہے۔”
Author: صدف ابرار
-

مالی سال 24-2023 کے دوران خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ
-

وزیراعلیٰ بلوچستان کا لورالائی دورہ: افسران کی کارکردگی پر ناراضگی
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے لورالائی ڈویژن کا اچانک دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے مختلف محکموں کی کارکردگی پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے ڈویژن کے چاروں ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انہیں اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی خراب صورتحال کے بعد کیا گیا۔سرفراز بگٹی نے مقامی اسپتالوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صحت کی سہولیات کی خستہ حالی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری طور پر غیر حاضر ڈاکٹروں کو معطل کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعلیٰ نے صرف صحت کے شعبے تک ہی محدود نہیں رہے، بلکہ انہوں نے سی این جی اور محکمہ تعلیم کے غیر حاضر ملازمین کو بھی معطل کرنے کی ہدایت دی۔ یہ اقدام ان محکموں میں نظم و ضبط کی کمی کو دور کرنے کے لیے اٹھایا گیا۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، سرفراز بگٹی نے سیکرٹری محکمہ صحت کو ایک ہفتے تک لورالائی میں رہ کر تمام معاملات درست کرنے کی ہدایت کی۔ یہ فیصلہ صحت کے شعبے میں فوری بہتری لانے کے مقصد سے کیا گیا۔مقامی لوگوں نے وزیراعلیٰ کے اس دورے کو خوش آمدید کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ان کے مسائل کو اتنی سنجیدگی سے لیا ہے۔
تاہم، کچھ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدامات عارضی نوعیت کے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لورالائی اور دیگر پسماندہ علاقوں میں پائیدار ترقی کے لیے طویل مدتی منصوبوں کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سرفراز بگٹی جلد ہی صوبے کے دیگر اضلاع کا بھی دورہ کریں گے تاکہ وہاں کی صورتحال کا براہ راست جائزہ لے سکیں -

پی سی بی کا بڑا فیصلہ: بابر، رضوان اور شاہین کو کینیڈین ٹی20 لیگ کی اجازت نہیں
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اپنے تین اہم کھلاڑیوں بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی کو کینیڈا کی گلوبل ٹی20 لیگ میں شرکت کی اجازت نہیں دی ہے۔ بورڈ نے ان کھلاڑیوں کے لیے این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ کے آنے والے مصروف سیزن اور کھلاڑیوں کے ورک لوڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "بابر اعظم، محمد رضوان اور شاہین شاہ آفریدی تینوں فارمیٹ کے کھلاڑی ہیں اور پاکستان ٹیم کو آنے والے سیزن میں ان کی خدمات کی ضرورت ہوگی۔”بورڈ کا مؤقف ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ تینوں کرکٹرز سیزن کے آغاز میں مکمل طور پر فٹ اور تازہ دم ہوں۔ یہ فیصلہ کھلاڑیوں کی صحت اور کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، پی سی بی نے افتخار احمد، محمد عامر، آصف علی اور محمد نواز کو کینیڈین لیگ میں کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کھلاڑیوں کے لیے این او سی جاری کر دی گئی ہے۔ آنے والے مہینوں میں پاکستان کو کئی اہم سیریز اور ٹورنامنٹس کھیلنے ہیں، جن میں ورلڈ کپ بھی شامل ہے۔ ایسے میں اہم کھلاڑیوں کو آرام دینا اور انہیں زیادہ کھیلنے سے بچانا ضروری ہے۔تاہم، کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی لیگز میں تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ مختلف حالات میں کھیلنا کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے۔پی سی بی کے اس فیصلے پر کھلاڑیوں کی جانب سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بورڈ جلد ہی پاکستان کرکٹ ٹیم کے آنے والے شیڈول کا اعلان کرے گا، جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کھلاڑیوں کو کن سیریز اور ٹورنامنٹس کے لیے تیار رہنا ہے۔ -

سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز کو پاکستان کی بزنس کمیونٹی کا نیا لیڈر منتخب کر دیا گیا
سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز کو پاکستان کی بزنس کمیونٹی کا نیا لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس نے متفقہ طور پر کیا ہے۔یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم تنویر نے اس تقرری کی سرکاری تصدیق کرتے ہوئے گوہر اعجاز کو بزنس لیڈر کے عہدے پر فائز کیا۔ یہ فیصلہ ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔اپنی تقرری پر تبصرہ کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے کاروباری برادری کے مسائل کو اجاگر کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا۔ اعجاز کا کہنا تھا کہ "بزنس کمیونٹی کے لیے مہنگی بجلی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کیے بغیر ملکی معیشت کو نہیں چلایا جا سکتا۔”
گوہر اعجاز کی تقرری کو کاروباری حلقوں میں خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ بہت سے کاروباری رہنماؤں کا خیال ہے کہ ان کا تجربہ اور سیاسی رسوخ ملک کی معاشی مشکلات کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان کی معیشت اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، اور توانائی کے بحران شامل ہیں۔ اعجاز سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کریں گے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گوہر اعجاز کے سامنے سب سے بڑا چیلنج توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانا ہوگا۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ انہیں پیداوار بڑھانے اور لائن لاسز کم کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
دوسری جانب، چھوٹے کاروباری اداروں کے نمائندوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے بزنس لیڈر ان کے مسائل کو بھی اہمیت دیں گے۔ انہوں نے ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سہولت کار پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا ہے۔گوہر اعجاز کی ذمہ داریوں میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اثر انداز ہونا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، اور مقامی صنعتوں کی حوصلہ افزائی شامل ہوگی۔ ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی اپنے ایجنڈے اور حکمت عملی کا اعلان کریں گے -

بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی
بنگلہ دیش میں جاری طلبہ کے احتجاج میں 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا اور فوج طلب کرلی گئی ہے۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔حکام کے مطابق، زخمیوں میں 104 پولیس اہلکار اور 30 صحافی بھی شامل ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مظاہرین نے ایک جیل پر حملہ کر کے سیکڑوں قیدیوں کو آزاد کروا دیا اور پھر جیل کو آگ لگا دی۔حکومت نے ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔ مواصلاتی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جس میں ٹرین سروس، نیوز چینلز، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی شامل ہے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت نے فوج کو بھی طلب کر لیا ہے۔
یہ احتجاج بنگلہ دیش کے موجودہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹہ سسٹم کے خلاف ہے، جس کے تحت 56 فیصد نوکریاں مخصوص گروپوں کے لیے مختص ہیں۔ اس میں 30 فیصد 1971 کی آزادی کی جنگ میں حصہ لینے والوں کے بچوں، 10 فیصد خواتین، اور 10 فیصد خاص اضلاع کے رہائشیوں کے لیے مختص ہیں۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سرکاری ملازمتیں صرف میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں۔ وہ صرف 6 فیصد کوٹہ برقرار رکھنے کے حق میں ہیں، جو اقلیتوں اور معذور افراد کے لیے ہے۔یہ احتجاج بنگلہ دیش کی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ کوٹہ سسٹم کو ختم کر دیں گی، لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔معاشرتی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج محض کوٹہ سسٹم کے خلاف نہیں، بلکہ بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معاشی مسائل کے خلاف عوامی غصے کا اظہار ہے۔
بین الاقوامی برادری نے بنگلہ دیش میں پرامن حل کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور تمام فریقوں سے پرامن مذاکرات کی اپیل کرتے ہیں۔آنے والے دنوں میں یہ بحران کس سمت جائے گا، اس کا انحصار حکومت کے ردعمل اور مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے کی کوششوں پر ہے۔ تاہم، اس وقت بنگلہ دیش کی فضا انتہائی کشیدہ ہے اور مزید ہنگاموں کا خدشہ ہے۔ -

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا،
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس سماعت کیلئے مقرر کر دیا،الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ جاری کر دی۔ تحریک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کیس کی سماعت 23 جولائی کو ہو گی،چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ سماعت کرے گا،الیکشن کمیشن نے گوہر خان،رؤف حسن کو نوٹس جاری کردیا۔ دوسری جانب خواتین کو عام انتخابات میں جنرل نشستوں کے پانچ فیصد ٹکٹس دینے کے معاملے پر بھی الیکشن کمیشن میں کیس 25 جولائی کو سماعت کے لئے مقرر کر دیا گیا،بلوچستان نیشنل پارٹی کے اختر مینگل ، تحریک لبیک کے سعد رضوی ، اے این پی کےاسفندیار ولی کو نوٹس جاری کر دیئے گئے، جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان ، پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈا پور کو بھی نوٹس جاری کر دیئے گئے۔
-

یورپی یونین کی اسرائیلی قرارداد پر تنقید، دو ریاستی حل پر زور
یورپی یونین نے اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف منظور کی گئی قرارداد پر سخت تنقید کی ہے۔ یورپی خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے اس اقدام کو مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے خطرناک قرار دیا۔بوریل نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین 18 جولائی کو منظور کی گئی اس قرارداد کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذمت اس صورت میں بھی برقرار رہے گی اگر یہ قرارداد اسرائیل کے ساتھ کسی مذاکراتی معاہدے کا حصہ بھی ہو۔
یورپی سربراہ نے زور دے کر کہا کہ عالمی برادری میں اس بات پر اتفاق ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے اس موقف کو دہرایا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بشمول حالیہ قراردادوں 2735، 2728، 2720 اور 2712 کی روشنی میں دو ریاستی حل کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیلی پارلیمان کا یہ اقدام امن عمل میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین کا یہ موقف فلسطینی حقوق کے حامیوں کے لیے حوصلہ افزا ہے، جبکہ اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
یورپین خارجہ امور کے سربراہ نے کہا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو تحفظ، وقار اور امن کے ساتھ رہنے کا مساوی حق حاصل ہے۔ اپنی دیرینہ مشترکہ پوزیشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق، یورپ 1967 کی سرحدوں میں تبدیلیوں کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ فریقین متفق نہ ہوں۔
انہوں نےکہا کہ ہم اس مقصد کے حصول تک، سیاسی عمل کو بحال کرنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ فعال طور پر کام کرتے رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست کا ایک قابل اعتبار راستہ اس سیاسی عمل کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کے لیے کوئی امید اور کسی افق کا نہ ہونا، اس تنازعے کو مزید گہرا کرے گا۔ -

وفاقی حکومت کا سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کیخلاف کریک ڈاوٴن کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کے رواں رہنے کے بارے میں نوٹس لے کر فیصلہ کیا ہے کہ اس کے بعد سے فائر والز کی تنصیب کرنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو بولیاں طلب کرلی ہیں۔پی ٹی اے کے ذریعے موصول معلومات کے مطابق، حکومتی فیصلے کے تحت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں پر نیکسٹ جنریشن اور ایپلی کیشن فائر والز نصب ہوں گی۔ ان فائر والز میں نیکسٹ جنریشن فائر وال ڈیپ پیکٹ انسپکشن کی صلاحیت بھی شامل ہوگی، جس کے ذریعے ڈی پی آئی ٹیکنالوجی سے ڈیٹا کی لیئر 7 تک دیکھا جاسکے گا۔
اس کے علاوہ، نیکسٹ جنریشن فائر وال سے ریل ٹائم ڈیٹا کی مانیٹرنگ، یو آر ایل فلٹرنگ، ایپلی کیشن کنٹرول، اور مالویئر پروٹیکشن بھی ممکن ہوگی۔ یہ فائر وال سائبر سیکیورٹی خطرات کے خلاف پیشگی اقدامات اور ویب ایپلی کیشن فائر وال ویب ایپلی کیشنز کے ڈیٹا کی مانیٹرنگ اور فلٹرنگ کر سکے گی۔پی ٹی اے نے پیپرا کے ای پیڈ سسٹم کے تحت الیکٹرانک بولیاں طلب کی ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کے روک تھام کے اقدامات بھرپور اور موثر ہوسکیں۔ -

سعودی عرب میں 7 پاکستانیوں سمیت 106 افراد کو موت کی سزا
سعودی عرب میں رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں 106 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے، جس میں دو پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ انکشاف ایک حالیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق، سزائے موت پانے والوں میں 78 سعودی، 8 یمنی، 7 پاکستانی، 5 ایتھوپیائی، اور 3 شامی شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سری لنکا، نائیجیریا، اردن، بھارت اور سوڈان کے ایک ایک شہری کو بھی سزائے موت دی گئی۔ ان میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔سعودی حکام کے مطابق، ان میں سے سات ملزمان منشیات سمگلنگ میں ملوث تھے، جبکہ باقی دہشت گردی اور قتل کی وارداتوں میں شامل تھے۔
انسانی حقوق کی یورپی سعودی تنظیم نے اس رویے پر شدید تنقید کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 196 دنوں میں 100 سے زائد افراد کو سزائے موت دینا بین الاقوامی قوانین اور سعودی حکومت کے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ سالانہ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے 2023 میں چین اور ایران کے بعد سب سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت دی۔یہ رجحان 2022 سے جاری ہے جب مارچ میں ایک ہی دن میں 81 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔ 2023 میں یہ تعداد بڑھ کر 170 تک پہنچ گئی۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اپنی انصافی نظام میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے اور سزائے موت کے استعمال پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی سعودی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ وہ انسانی حقوق کے عالمی معیارات کی پاسداری کرے -

شوہر سے صلح کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی، خلع لینے کا فیصلہ کر لیا ، عائشہ جہانزیب
مشہور ٹی وی اینکر عائشہ جہانزیب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے خلع لینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ مقامی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ پیر کو عدالت میں خلع کی درخواست دائر کریں گی۔عائشہ نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے شوہر سے کوئی صلح نہیں کی۔ وہ اپنے بچوں کو عدالتی کارروائیوں سے دور رکھنا چاہتی ہیں اور ان کی تحویل اپنے پاس رکھنے کی خواہشمند ہیں۔اسی دن، عائشہ نے لاہور سیشن کورٹ میں حاضر ہو کر اپنے خلاف مبینہ تشدد کے کیس سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ عدالت نے ان کے چہرے پر نمایاں نشانات کا ذکر کیا، جس پر عائشہ نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ ظلم تھا اور کسی عورت کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔
عائشہ نے عدالت کو بتایا کہ وہ معززین کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہیں اور مقدمے کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتیں۔ اس پر عدالت نے ان کے شوہر کی ضمانت منظور کر لی، تاہم حتمی فیصلہ چالان کی بنیاد پر ہوگا۔یہ واقعہ پاکستان میں گھریلو تشدد اور خواتین کے حقوق کے مسائل کو ایک بار پھر سامنے لایا ہے۔ عائشہ جہانزیب کا معاملہ اس بحث کو مزید ہوا دے گا کہ معاشرے میں خواتین کو کن مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں کیسے حل کیا جا سکتا ہے