اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مخصوص نشستوں کی فہرست میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، موجودہ فہرست کو تبدیل کرنے پر مشاورت جاری ہے اور نئی فہرست جلد ہی بانی چیئرمین کے سامنے پیش کی جائے گی۔پی ٹی آئی کے سینئر ذرائع نے بتایا کہ مخصوص نشستوں پر خواتین اور اقلیتی امیدواروں کی فہرست میں تبدیلی کی جائے گی۔ پرانی فہرست میں موجود چند ناموں پر پارٹی کی سینئر قیادت کو تحفظات ہیں، جس کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئی فہرست تیار کی جائے۔
پارٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ فہرست میں شامل امیدواروں کے ناموں پر گہرائی سے غور کیا جا رہا ہے اور انہیں مختلف زاویوں سے جانچنے کے بعد نئی فہرست مرتب کی جائے گی۔ اس بات کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے کہ نئی فہرست میں شامل امیدوار نہ صرف پارٹی کے اصولوں اور مقاصد کے مطابق ہوں، بلکہ ان کی قابلیت اور عوامی مقبولیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مخصوص نشستوں کے لیے نئی فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی فہرست کی حتمی منظوری بانی پی ٹی آئی دیں گے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تمام امیدوار پارٹی کی پالیسیوں اور اصولوں کے مطابق ہوں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ سے شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرتی آئی ہے اور اس بار بھی اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص نشستوں کے امیدواروں کی فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کے تمام فیصلے جمہوری طریقے سے کیے جاتے ہیں اور قیادت کی مشاورت سے حتمی شکل دی جاتی ہے۔پی ٹی آئی کے اس فیصلے کو پارٹی کے اندرونی حلقوں میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی کارکنان اور حمایتیوں کا خیال ہے کہ اس تبدیلی سے پارٹی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوگا اور عوام میں پی ٹی آئی کی ساکھ مضبوط ہوگی۔
مخصوص نشستوں کی نئی فہرست کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ کون کون سے امیدوار اس فہرست میں شامل ہوں گے اور کون سے نام نکالے جائیں گے۔ تاہم، پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ فہرست کو جلد ہی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ سب کو پتہ چل سکے کہ پی ٹی آئی نے کس طرح شفافیت اور میرٹ کو برقرار رکھتے ہوئے یہ فیصلے کیے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کی فہرست میں تبدیلی کا یہ فیصلہ پارٹی کے اندرونی ڈھانچے اور قیادت کی مشاورت کا عکاس ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے اصولوں اور مقاصد پر قائم رہتے ہوئے شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کر رہی ہے۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان تحریک انصاف نے مخصوص نشستوں کی فہرست میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا
-

وزیر اعلیٰ پنجاب کی یوم عاشورہ پر سیکیورٹی انتظامات کی ہدایات
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یوم عاشورہ کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات کو سخت بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ انہوں نے کابینہ اور کیبنٹ کمیٹی برائے قانون و انتظام کو ان انتظامات کی مانیٹرنگ کی ذمہ داری سونپی ہے۔وزیر اعلیٰ نے 9 اور 10 محرم الحرام کے لیے سیکیورٹی پلان کو "فول پروف” بنانے کا حکم دیا ہے۔ ساتھ ہی، انہوں نے عزاداروں کے لیے سبیل اور لنگر کے انتظامات میں بھرپور تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔مریم نواز نے زور دیا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے وضع کردہ پلان اور ایس او پیز پر ہر صورت عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قریبی رابطے میں رہ کر کام کرنے کی ہدایت کی۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ مجالس اور جلوسوں کے شرکاء کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لیے، انہوں نے صوبائی وزراء کو اپنے متعلقہ ڈویژنوں اور اضلاع کا دورہ کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وہ خود سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے سکیں۔یہ اقدامات محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عزاداری کے مراسم پرامن طریقے سے منعقد ہو سکیں اور کسی قسم کی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو۔ -

مسلم لیگ (ق) کی حکومت کو تحریک انصاف پر پابندی سے متعلق تحفظات
پاکستان مسلم لیگ (ق) نے حکومت کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کے معاملے پر احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات و ترجمان مصطفیٰ ملک نے ایک اہم بیان میں کہا کہ حکومت کو اس معاملے میں جلد بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ملک نے خبردار کیا کہ "کل کو سپریم کورٹ میں پابندی کی وجوہات کو ثابت کرنا پڑے گا۔” انہوں نے پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ "ریاست کا دل بڑا ہوتا ہے، اسے وسیع ظرف دکھانا چاہیے۔”تاہم، مسلم لیگ (ق) کے ترجمان نے پی ٹی آئی کو بھی اپنے رویے پر نظرثانی کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ "ملک انتہا پسندی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔” ملک نے مزید کہا کہ تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت اور بحیثیت اپوزیشن اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر پا رہی۔
مصطفیٰ ملک نے حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی توجہ ملکی معیشت اور عوامی مسائل پر مرکوز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ "سیاسی جماعتیں معاشی و سیاسی استحکام کی خاطر انا کی سیاست ترک کریں۔”ترجمان نے یاد دلایا کہ ملک پہلے ہی معاشی و سیاسی بحران سمیت امن و امان کی بدترین صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپنی کارکردگی بہتر بنانے اور عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔اختتام پر، مصطفیٰ ملک نے تمام فریقوں کو خبردار کیا کہ "محاذ آرائی سے سیاسی و معاشی استحکام کی راہ مزید مشکل ہو جائے گی۔” ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ق) موجودہ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ -

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کا یوم عاشور کے موقع پر پیغام
وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں تمام اختلافات کو بھلا کر ایثار ، مساوات،رواداری،اتحاد اور نظم و ضبط جیسے اوصاف کو فروغ دینا ہوگا۔یوم عاشورکے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یزیدیت درحقیقت ایک سوچ کا نام ہے جس کا مقصد ظلم و جبر کا نظام قائم کرنا ہے ۔ اس بات کا تجزیہ کرنا چاہیے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو اپنے مفادات کے لئے معاشرے کے وجود اورقومی اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حق اور باطل کی لڑائی میں اپنے رفقاء کیساتھ جان کا نذرانہ دے کر حقیقی فتح سے سرفراز ہوئے۔ کربلا کے میدان میں شہیدوں کے لہو نے یہ ثابت کر دیا کہ حق لازوال جب کہ باطل مٹنے کے لئے ہے۔محمدشہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی قوم کو اس وقت بڑے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اتحاد اور بھائی چارے کا مظاہرہ کریں۔
دوسری جانب صدر مملکت نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یوم عاشورہ حضرت امام حسینؓ کی میدان ِکربلا میں شہادت کی یاد تازہ کرتا ہے، امام حسینؓ اور ان کے وفادار ساتھی ظلم اور جبر کے خلاف ڈٹ گئے ، امام حسین اور ساتھیوں نے اسلامی اقدار کے احیاء ، امت ِمسلمہ کے حقوق کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کیا، امام حسین کی شہادت میں امت مسلمہ کیلئے عظیم درس ہے۔ امام حسین نے شدید دباؤ ، مشکلات کے باوجود ظالم و جابر حکمران کے خلاف کلمہ ِحق بلند کیا، امام حسین نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور آزمائشوں میں ثابتِ قدم رہنے کا درس دیا، امام حسین اور آپ کے بہادر ساتھی ظلم کے خلاف مزاحمت کی عظیم مثال ہیں، آپ نے دین کی خاطر جان اور اہل و عیال کی قربانی تو گوارا کی مگر ظالم کے آگے سر نہ جھکایا ،آج اسلام امام حسینؓ اور انکے ساتھیوں کی قربانیوں کی بنا پر زندہ ہے ۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا میدانِ کربلا میں قربانیاں اہل ِ ایمان کے جذبات کو امتحان وابتلاء کے وقت میں جلا بخشتی ہیں، آج کشمیری اور فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کو آزمائشوں اور مصائب کا سامنا ہے، فلسطینی اور کشمیری عوام انصاف اور آزادی کیلئے سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، فلسطینی اور کشمیری عوام کی جدوجہد ان کے پائیدار عزم و استقلال اور جذبے کا ثبوت ہے ۔ واقعہ کربلا سے سبق سیکھتے ہوئے اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنے ظلم وجبر اور باطل قوتوں کے خلاف کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، قوم کی فلاح اور بہتری کی خاطر ذاتی مفادات ایک طرف رکھتے ہوئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، پوری پاکستانی قوم سے صبراور محنت کرنے ، انصاف کیلئے کھڑے ہونے کی اپیل کرتا ہوں، ہمیں غریبوں اور ناداروں کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے ۔ صدر مملکت نے اپنے پیغام میں قوم کیلئے دعا کرتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ ہمیں امام حسین کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان کو ترقی اور خوشحالی سے نوازے ۔ امین
-

آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ: پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کا امکان
انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک اپ ڈیٹ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کے بارے میں اہم پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی معیشت رواں مالی سال میں 3.5 فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کا امکان ہے۔ یہ شرح حکومت کے مقرر کردہ 3.6 فیصد کے ہدف سے تھوڑی کم ہے۔ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 2 فیصد رہی تھی۔عالمی سطح پر، آئی ایم ایف نے 3.3 فیصد کی معاشی ترقی کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مہنگائی اور شرح سود بلند سطح پر رہنے کا امکان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، سال کے دوسرے حصے میں پالیسی ریٹ میں کمی کا امکان ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انرجی اور خوراک کی قیمتیں بتدریج کورونا سے پہلے والی سطح پر آ جائیں گی، لیکن عمومی مہنگائی بلند سطح پر رہے گی۔خطے کے دیگر ممالک کے بارے میں، رپورٹ میں بھارت کی معیشت کے 6.5 فیصد اور چین کی جی ڈی پی کے 4.5 فیصد کی شرح سے بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کے لیے خارجی، مالیاتی اور فنانشل خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ان خطرات کے پیش نظر، عالمی معاشی منظر نامے میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔یہ رپورٹ پالیسی سازوں، کاروباری شخصیات اور عام شہریوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ یہ آنے والے وقت میں معاشی رجحانات کی نشاندہی کرتی ہے۔ پاکستان کے حوالے سے، یہ رپورٹ حکومت کے لیے اپنی معاشی پالیسیوں کو موزوں بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے -

اے این پی کے رہنما اسفندیار ولی خان کا پی ٹی آئی پر پابندی کے خلاف موقف
پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی ممکنہ پابندی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے اس فیصلے کو "جذباتی” اور "غیر منطقی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کے نتائج کبھی بھی مثبت نہیں ہوتے۔ اسفندیار ولی نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی ایسے فیصلوں کے منفی اثرات دیکھے گئے ہیں جو آج تک پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہیں۔اے این پی کے رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ "سیاست میں ذاتی خواہشات اور جذبات پر قابو پانا اصل امتحان ہوتا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ جمہوریت اور سیاسی عمل کی مضبوطی کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔اسفندیار ولی نے اپنی جماعت کے ساتھ ہونے والے سلوک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی کی صورت میں ہم ان فیصلوں کا سامنا کر چکے ہیں۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت کا یہ فیصلہ غیر جمہوری اور غیر سیاسی رویوں کو فروغ دے گا۔
اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ اصل احتساب ان لوگوں کا ہونا چاہیے جو مصنوعی سیاسی قوتوں کو تشکیل دینے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی روش کو روکنا ہوگا۔اسفندیار ولی خان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ ملک کے مسائل کا حل صرف جمہوری اصولوں پر عمل کرنے اور پارلیمان کو بالادست بنانے میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اداروں کو اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہنا چاہیے تاکہ ملک کے مسائل کا حل ممکن ہو سکے -

پاکستان کی مسقط کی امام بارگاہ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت ،ترجمان دفترخارجہ
دفترخارجہ نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں امام بارگاہ پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعے میں 4 پاکستانیوں کی شہادت کی تصدیق کردی۔ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے بیان میں کہا کہ پاکستان عمان کے شہر مسقط میں وادی کبیر میں امام بارگاہ علی بن ابو طالب پر بزدلانہ دہشت گردی کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس حملے میں 4 پاکستانیوں کی موت سمیت متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمان میں ہمارا سفارت خانہ دو شہید پاکستانیوں کی لاشوں کی شناخت اور وطن واپسی کے لیے عمانی حکام سے رابطے میں ہیں، مزید 30 پاکستانی عمان کے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمان میں پاکستانی کمیونٹی کے سوالات کے جوابات دینے اور انہیں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک ہیلپ لائن بھی کھول دی گئی ہے، زخمی پاکستانی شہریوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے مقامی اسپتالوں کا بھی دورہ کر رہے ہیں۔ممتازہ زہرہ بلوچ نے کہا کہ حکومت عمان نے حملہ آوروں کو ناکام کر دیا ہےجبکہ پاکستان نے عمانی حکام کو محرم کے اس مقدس مہینے میں اس گھناوٴنے جرم کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ہر ممکن مدد کی پیش کش کی ہے۔
-

عمان میں مسجد پر حملہ، 4 پاکستانی شہید
عمان کے دارالحکومت مسقط کے علاقے وادی کبیر میں واقع علی بن ابی طالب مسجد پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں چار پاکستانیوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ عمانی سیکیورٹی حکام کے مطابق، اس واقعے میں ملوث تین حملہ آوروں کو مار گرایا گیا ہے۔حملے کے نتیجے میں 28 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں کئی پاکستانی بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں پاکستانی سفیر نے ان کی عیادت کی ہے۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ وزارت کے مطابق، پاکستانی سفارت خانے میں متاثرہ خاندانوں کی رہنمائی کے لیے ایک ہاٹ لائن قائم کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی سفارت خانے کو زخمیوں اور ان کے اہل خانہ کی ہر ممکن مدد کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اس سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مخالفت کرتا ہے۔اس واقعے کے بعد مسقط میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے اور آج کے لیے تمام ویزا سروسز معطل کر دی گئی ہیں۔عمانی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، یہ حملہ نماز کے دوران کیا گیا، جس سے مسجد میں افراتفری پھیل گئی۔اس دہشت گرد حملے نے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ مختلف ممالک کے سربراہان نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور عمان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی برادری اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے مل کر کام کرنے پر زور دے رہی ہے۔ -

آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: عالمی کرکٹ کے مستقبل کا فیصلہ کولمبو میں ہوگا
عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی تنظیم، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا سالانہ اجلاس 19 سے 22 جولائی تک پہلی بار ایشیا میں، کولمبو شہر میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ یہ خبر سری لنکا کرکٹ بورڈ نے جاری کی ہے۔اس اہم اجلاس میں دنیا بھر سے 108 رکن ممالک کے 220 نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں سب سے اہم نکتہ کرکٹ کو 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس میں شامل کرنے کا مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ، ذرائع کے مطابق چیمپئنز ٹرافی کے مستقبل پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔پاکستان کی نمائندگی چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی اور سی ای او پی سی بی سلمان نصیر کریں گے۔ دونوں اعلیٰ حکام 18 جولائی کو سری لنکا روانہ ہوں گے۔کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس عالمی کرکٹ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کرکٹ کو اولمپکس میں شامل کرنے سے اس کھیل کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور نئے ممالک میں اس کی ترویج کا راستہ کھل سکتا ہے۔
دوسری جانب، چیمپئنز ٹرافی کے حوالے سے فیصلے بھی بڑی دلچسپی سے دیکھے جا رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اس ٹورنامنٹ کے مستقبل پر سوالات اٹھتے رہے ہیں اور اس اجلاس میں اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ہونے کی توقع ہے۔سری لنکا کرکٹ بورڈ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ وہ اس اجلاس کی میزبانی پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے ملک کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور وہ تمام مہمانوں کی مکمل مہمان نوازی کریں گے۔کرکٹ مداح اب اس اجلاس کے نتائج کا بےصبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس سے نکلنے والے فیصلے عالمی کرکٹ کو نئی سمت دیں گے اور اس کھیل کو مزید مضبوط بنائیں گے -

چوہدری شجاعت حسین کا حکومتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے حکومت کے ایک سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کے ممکنہ نتائج پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے اس معاملے پر تفصیلی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔اسلام آباد سے جاری ایک تفصیلی بیان میں چوہدری شجاعت نے کہا کہ "سیاسی جماعت پر پابندی کے حکومتی فیصلے کے ملکی سیاست پر دوررس نتائج مرتب ہوں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے حکومت کو یاد دلایا کہ "اسے سپریم کورٹ میں ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا اقدام درست ہے۔” اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس فیصلے کو عدالتی چیلنج کا سامنا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔چوہدری شجاعت نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ اس وقت ملکی معیشت اور عام آدمی کی مشکلات پر توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ "سیاسی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملکی معیشت اور عام آدمی کی مشکلات کا سوچیں۔” یہ بیان موجودہ معاشی بحران کے تناظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چوہدری شجاعت کا یہ بیان حکومتی اتحاد کے اندر موجود اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر تمام اتحادی جماعتیں متفق نہیں ہیں۔
دوسری جانب، حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ 9 مئی کے واقعات کے بعد کیا گیا ہے اور یہ ملکی مفاد میں ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت چوہدری شجاعت جیسے تجربہ کار سیاستدانوں کے مشورے کو اہمیت دیتی ہے۔اس دوران، عوام میں اس فیصلے پر مختلف ردعمل دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے اسے ملکی سلامتی کے لیے ضروری قدم سمجھ رہے ہیں۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت چوہدری شجاعت کے مشورے پر کس حد تک عمل کرتی ہے اور کیا وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتی ہے۔ اس معاملے پر مزید گھماؤ پھیراؤ کی توقع ہے اور یہ پاکستان کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔