Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 99 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا

    پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 99 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا

    حکومت نے آئندہ 15 دنوں کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔وزارت خزانہ نے پٹرول، ڈیزل کی قیمت بڑھانےکانوٹی فکیشن جاری کردیا جس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 99 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 275 روپے 60 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 283 روپے 63 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گا۔

  • پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر امریکا کا ردعمل

    پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر امریکا کا ردعمل

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان میں پی ٹی آئی پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعت پر پابندی کا معاملہ پیچیدہ سیاسی عمل کا آغاز ہے اور ہم حکومت کے بیانات سے آگاہ ہیں۔میتھیو ملر کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت پر پابندی لگانا یقینی طور پر تشویشناک ہے۔ ہم انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے احترام سمیت آئینی اور جمہوری اصولوں کی پرامن پاسداری کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم جمہوری عمل اور وسیع تر اصولوں کی حمایت کرتے ہیں، جن میں قانون کی حکمرانی اور قانون کے تحت مساوی انصاف شامل ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ جیسے جیسے یہ اندرونی عمل جاری رہے گا، ہم ان فیصلوں کو بغور دیکھتے رہیں گے۔یاد رہے کہ پاکستانی حکومت نے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور سابق صدر عارف علوی، بانی پی ٹی آئی اور سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کیس چلانے کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد یہ ریفرنس سپریم کورٹ کو بھجوایا جائے گا۔

  • سیاسی جماعت پر پابندی کا فیصلہ غیر سنجیدہ ہے، مارشل لا کی راہ ہموار ہوگی: سراج الحق

    سیاسی جماعت پر پابندی کا فیصلہ غیر سنجیدہ ہے، مارشل لا کی راہ ہموار ہوگی: سراج الحق

    جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق نے حکومت کی جانب سے سیاسی جماعت پر پابندی کے فیصلے کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی ہے۔ لاہور سے جاری اپنے بیان میں، سراج الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ مارشل لا کی راہ ہموار کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی کا حربہ نہ ماضی میں کارگر ثابت ہوا ہے اور نہ ہی مستقبل میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ سراج الحق نے زور دیا کہ سیاسی مسائل کا حل جمہوری طریقوں سے نکالنا چاہیے اور پابندیوں سے بچنا چاہیے۔ ان کے مطابق، سیاسی جماعتوں پر پابندیاں جمہوری عمل کو نقصان پہنچاتی ہیں اور عوام کے حقوق کو محدود کرتی ہیں۔سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور ملک میں جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے لئے مثبت اقدامات اٹھائے۔

  • نومئی مقدمات، عمران خان کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    نومئی مقدمات، عمران خان کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ یہ فیصلہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق درج 12 مختلف مقدمات کے سلسلے میں دیا گیا ہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج خالد ارشد نے یہ اہم فیصلہ سنایا، جو کہ پہلے سے محفوظ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے مطابق، عمران خان کو مختلف پولیس تھانوں میں درج مقدمات کی تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ سب سے زیادہ پانچ مقدمات تھانہ سرور روڈ میں درج ہیں، جن میں عمران خان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، تھانہ گلبرگ کے تین مقدمات میں بھی ان کا جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا ہے۔
    باقی چار مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں۔ ان میں تھانہ ریس کورس، تھانہ شادمان، تھانہ مغلپورہ اور تھانہ ماڈل ٹاؤن شامل ہیں۔ ہر ایک تھانے میں ایک ایک مقدمے کے لیے جسمانی ریمانڈ دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ 9 مئی کے واقعات کے بعد کی گئی کارروائیوں کا حصہ ہے، جب ملک بھر میں احتجاج اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ان واقعات کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جبکہ پی ٹی آئی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے۔اس فیصلے کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس عمران خان سے تفصیلی پوچھ گچھ کرے گی اور 9 مئی کے واقعات کے پس پردہ عوامل کو سمجھنے کی کوشش کرے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیقات ملک کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے ترجمان نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ قانونی تقاضوں کے خلاف ہے اور اسے اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اپنے قائد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرے گی۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی سیاست کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے ملک میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے نئے احتجاج کا امکان بھی ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں اور کسی بھی قسم کے احتجاج یا تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں کل بارش کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات

    ملک کے مختلف حصوں میں کل بارش کا امکان ہے ، محکمہ موسمیات

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں منگل کے روز موسم گرم اور مرطوب رہے گا جبکہ خیبرپختونخوا میں بارش کا امکان ہے۔ اسلام آباد اور گرد و نواح میں دن کے اوقات میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، صبح کے اوقات میں چند مقامات پر آندھی، جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق بالائی خیبر پختونخوا اور زیریں سندھ میں آندھی، جھکڑ چلنے، گرج چمک کے ساتھ بارش بھی متوقع ہے، گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی چند مقامات پر آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
    خیبر پختونخوا کے بیشتر میدانی اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، دیر، سوات، چترال، کوہستان، شانگلہ، بونیر، بٹگرام میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، خیبر، مہمند، باجوڑ، مردان اور پشاور میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بھی موسم گرم اور مرطوب رہے گا، بلوچستان میں ژوب اور قلعہ سیف اللہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورمرطوب رہے گا۔رپورٹ کے مطابق تھرپارکر، عمرکوٹ ، مٹھی، میرپور خاص اور سانگھڑ میں بارش کا امکان ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابرآلود رہنے اور چند مقا مات پر تیز ہواؤٔں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

  • حکومت کے  فیصلے میں عقل و دانش کا عنصر نظر نہیں آتا۔ سابق صدر عارف علوی

    حکومت کے فیصلے میں عقل و دانش کا عنصر نظر نہیں آتا۔ سابق صدر عارف علوی

    حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں اس اہم فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کافی غور و فکر کے بعد کیا گیا ہے اور اس معاملے پر آنے والے دنوں میں کابینہ اجلاس میں بحث ہو سکتی ہے۔اس اعلان کے بعد، سابق صدر مملکت اور پی ٹی آئی کے اہم رہنما عارف علوی نے فوراً رد عمل دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں مشہور مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتی فیصلے پر طنز کیا۔علوی نے کہا کہ یوسفی صاحب کہا کرتے تھے کہ "تم باتیں آدمیوں جیسی کرتے ہو لیکن جذبات گھوڑے جیسے ہیں۔” اس طنزیہ تبصرے کے ذریعے علوی نے حکومت پر تنقید کی کہ وہ ظاہری طور پر تو سنجیدہ باتیں کر رہی ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپے جذبات اور مقاصد کچھ اور ہیں۔مزید طنز کرتے ہوئے علوی نے کہا کہ یوسفی صاحب نے اس تشبیہ میں عقل کا ذکر نہیں کیا، ورنہ وہ کسی اور جانور سے بھی موازنہ کر سکتے تھے۔ اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ حکومت کے اس فیصلے میں عقل و دانش کا عنصر نظر نہیں آتا۔
    یہ واقعہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ ملک کی سیاسی فضا کو مزید گرم کر سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید بحث و تمحیص ہونے کا امکان ہے۔اس پورے واقعے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست میں ادب اور مزاح کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے۔عارف علوی کا مشتاق یوسفی کا حوالہ دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح سیاسی رہنما اپنے پیغام کو زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے ادبی تراکیب کا سہارا لیتے ہیں۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اس فیصلے پر کس طرح عمل کرتی ہے اور پی ٹی آئی اس کا کیا رد عمل دیتی ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

  • حکومت معاملات سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے: احمد اویس

    حکومت معاملات سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے: احمد اویس

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر ممکنہ پابندی کے معاملے پر سیاسی محاذ آرائی تیز ہو گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما احمد اویس نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اہم معاملات سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ مسئلہ اٹھا رہی ہے۔احمد اویس نے کہا، "یہ ہمارے ایم این ایز کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے۔ نو مئی کے واقعات کو سوا سال ہو گیا، لیکن ابھی تک ٹرائل مکمل نہیں ہوا۔”انہوں نے یاد دلایا کہ تحریک انصاف تین کروڑ لوگوں کے ووٹ لے کر آئی ہے اور سوال کیا کہ پابندی کا معاملہ پہلے کیوں نہیں اٹھایا گیا۔
    دوسری جانب، حکومتی حلقوں سے تعلق رکھنے والے میاں جاوید لطیف نے کہا کہ تحریک انصاف میں ایسی چیزیں موجود ہیں جو پابندی کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے سائفر کے معاملے کو پاکستان کے راز سے انحراف قرار دیا۔لطیف نے مزید کہا، "پارٹی پر پابندی لگانے کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ پاکستان مخالف قوتیں ان کو فنڈ دے رہی ہیں۔ دہشت گرد جماعتوں پر پابندی ہونی چاہیے۔” حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔یہ معاملہ پاکستان کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، خاصکر جب ملک پہلے ہی معاشی چیلنجز اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے

  • وزیراعظم اور نواز شریف کی اہم ملاقات: ملکی سیاسی صورتحال زیر غور

    وزیراعظم اور نواز شریف کی اہم ملاقات: ملکی سیاسی صورتحال زیر غور

    وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ تین دنوں میں تیسری مرتبہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات چھانگلہ گلی میں واقع نواز شریف کی رہائش گاہ پر ہوئی، جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی شریک تھیں۔قابل اعتماد ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے وزیراعظم کو تمام قانونی، آئینی اور سیاسی اختیارات استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔وزیراعظم نے سابق صدر آصف علی زرداری اور دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ ہونے والی مشاورت سے نواز شریف کو آگاہ کیا۔ ملاقات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر عائد کی جانے والی مبینہ پابندی سمیت دیگر اہم فیصلوں پر بھی غور کیا گیا۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مشاورتی عمل میں کیے گئے تمام فیصلوں سے پارٹی کے سینیر رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ محرم کے بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا جائے گا اور پارلیمان کا اجلاس بھی معمول سے قبل بلایا جائے گا۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ ملاقاتیں آنے والے دنوں میں ہونے والے اہم سیاسی فیصلوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات ملک کی سیاسی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مشاورتی عمل ملک میں سیاسی استحکام لانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ ملاقاتیں ان کے خلاف سازش کا حصہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کا امکان ہے

  • صدر مملکت کو 7 ممالک کے سفراء نے سفارتی اسناد پیش کر دیں

    صدر مملکت کو 7 ممالک کے سفراء نے سفارتی اسناد پیش کر دیں

    صدر آصف علی زرداری کو 7 ممالک کے سفراء نے سفارتی اسناد پیش کر دیں، جن میں زمبابوے، تاجکستان، روانڈا، ارجنٹائن، میانمار، کمبوڈیا اور بوٹسوانا کے سفراشامل ہیں،بعد ازاں ، سفراء نے صدر مملکت سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔اس موقع پر صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں ، دوست ممالک پاکستان کے سرمایہ کاری دوست ماحول سے فائدہ اٹھائیں، غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کے زراعت، لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی اور کان کنی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں، پاکستان تمام دوست ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے، پاکستان اقتصادی تعاون بڑھانے، دوست ممالک کے ساتھ تجارتی حجم کو بھرپور صلاحیت کے مطابق بڑھانے کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔صدر مملکت نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے کاروباری برادریوں کے مابین رابطے بڑھانے پر زور بھی دیا۔صدر آصف علی زرداری نے سفراء کو پاکستان میں بطور سفیر تعینات ہونے پر مبارکباد دی اور کہا امید ہے کہ نامزد سفراء باہمی طور پر فائدہ مند تعاون مزید بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اس سے قبل سفراء کو ایوان ِصدر پہنچنے پر پاکستان کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔

  • پی ٹی آئی پابندی فیصلے پر  حکومت نے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا، پی پی پی

    پی ٹی آئی پابندی فیصلے پر حکومت نے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا، پی پی پی

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے تحریک انصاف پر پابندی کے فیصلے کی مخالفت کر دی۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے قیادت کو کھل کر فیصلے کی مخالفت کرنے کی تجویز دی، پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں نے عطا تارڑ کے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے بیان پر تعجب کا اظہار کیا۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ پیپلزپارٹی کو اعتماد میں لینے کا علم نہیں، ہماری جماعت حکومت کے فیصلے کو سپورٹ نہیں کرتی۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر نے کھل کر پابندی کے فیصلے کی مخالفت کی۔دوسری جانب
    پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما سید خورشید شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ حکومت نے ہمیں اس فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا۔انہوں نے کہاکہ یہ عدالتوں کے فیصلے ہیں، اب دیکھتے ہیں عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے۔سیّد خورشید شاہ نے کہاکہ ہمیں سیاست کرنی چاہیے ان چیزوں سے مسئلے حل نہیں ہوں گے۔ اس وقت ملک کے جو حالات ہیں سب کو مل کر بیٹھنا چاہیے۔واضح رہے کہ حکومت نے پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے علاوہ سابق صدر عارف علوی، عمران خان اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی چلانے کا فیصلہ کیا ہے