سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو منگل کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔ یہ پیشی 9 مئی کے واقعات سے متعلق 12 مقدمات کے سلسلے میں تھی۔جج خالد ارشد کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران، عمران خان نے اپنے موقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا، "28 سالوں میں میں نے کبھی پرتشدد احتجاج کی حمایت نہیں کی۔ 9 مئی کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے۔”سابق وزیر اعظم نے گوجرانوالہ میں اپنے قافلے پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بھی انصاف کی فراہمی ضروری ہے۔
جج خالد ارشد نے اپنے ریمارکس میں کہا، "میں نے عمران خان کو ویڈیو لنک پر دیکھا۔ وہ صحت مند نظر آ رہے ہیں اور انہوں نے اچھے انداز میں اپنا موقف پیش کیا۔”
یہ قابل ذکر ہے کہ عمران خان کے خلاف کل 16 مقدمات درج ہیں، جن میں سے 4 میں وہ ضمانت پر ہیں۔ پولیس نے 9 مئی کے واقعات کے بعد جناح ہاؤس پر حملے سمیت متعدد معاملات میں ان کی گرفتاری کی کارروائی شروع کی تھی۔
Author: صدف ابرار
-

28 سال میں کسی کو پرتشدد احتجاج کا نہیں کہا، عمران خان
-

کسی پارٹی پر پابندی سے اس سے ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا؟ حافظ حمداللہ
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سینئر رہنما حافظ حمداللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر عائد کی جانے والی مبینہ پابندی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ایک پریس کانفرنس میں بولتے ہوئے، حافظ حمداللہ نے کہا، "کیا یہ فیصلہ حکومت کا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیا اس سے ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا؟”انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے اقدامات سے ملک میں تصادم بڑھ سکتا ہے۔ "ہمیں سوچنا چاہیے کہ اس فیصلے سے عوام اور ملک کو کیا فائدہ ہوگا،” انہوں نے کہا۔
جے یو آئی رہنما نے حکومت کے اختیارات پر بھی سوال اٹھایا، کہتے ہوئے کہ "کیا فارم 47 کی حکومت کو ایسے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے؟”
حافظ حمداللہ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن سیاسی جماعتوں پر پہلے پابندیاں لگائی گئیں، وہ آج بھی موجود ہیں، جبکہ پابندی لگانے والوں کا نام و نشان نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس فیصلے سے یا تو عدالت کو آنکھیں دکھا رہی ہے یا پھر طاقت کی وکالت کر رہی ہے۔ "ایسے فیصلوں سے پردہ پوش طاقتیں مضبوط ہوں گی،” انہوں نے خبردار کیا۔ حافظ حمداللہ نے زور دیا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے جلد از جلد صاف و شفاف انتخابات ناگزیر ہیں۔ ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ ڈال رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سیاسی منظرنامہ مزید گرم ہو سکتا ہے -

یو اے ای کابینہ میں ردوبدل، شیخ حمدان اور شیخ عبداللّٰہ بن زاید نائب وزرائے اعظم مقرر
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزیراعظم اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد المکتوم نے اماراتی کابینہ میں ردوبدل کا اعلان کردیا۔ دبئی سے خبر ایجنسی کے مطابق شیخ حمدان بن محمد یو اے ای کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع ہوں گے۔خبر ایجنسی کے مطابق 41 سالہ شیخ حمدان 2008 سے دبئی کے ولی عہد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شیخ حمدان ایک معروف شخصیت ہیں جن کے انسٹاگرام پر 16.4 ملین فالورز ہیں۔ علاوہ ازیں اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللّٰہ بن زاید النہیان کو بھی نائب وزیراعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔
-

سیشن کورٹ اسلام آباد: صنم جاوید ایف آئی اے کے مقدمے سے بری
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کو فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے مقدمہ سے بری کر دیا۔ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک عمران نے صنم جاوید کے ریمانڈ پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے صنم جاوید کے وکلا کی مقدمے سے ڈسچارج کی استدعا منظور کر لی۔عدالت نے صنم جاوید کو بری کرنے کا حکم دیدیا، صنم جاوید رہائی کے بعد اپنے اہل خانہ اور وکلا کے ساتھ گھر روانہ ہوگئیں، ایف آئی اے نے صنم جاوید کا 6 دن کا ریمانڈ مانگا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایف آئی اے نے صنم جاوید کو گوجرانوالا جیل سے رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیا تھا، گرفتاری کے بعد ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے صنم جاوید کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تھا۔
-

گورنر سندھ اور خیبرپختونخوا کی ملاقات: بین الصوبائی تعاون پر زور
گورنر ہاؤس کراچی میں منگل کو ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں صوبوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنا اور مشترکہ مفادات پر کام کرنا تھا۔ملاقات کے دوران، دونوں گورنروں نے متعدد اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ ان میں بین الصوبائی روابط، سیاحت کے فروغ، اور وفاقی تعاون کے مسائل شامل تھے۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اس موقع پر کہا، "بین الصوبائی روابط کو مضبوط کرنے سے ہم اپنے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ وفاقی تعاون ہمیں عوام کی زندگی کا معیار بہتر بنانے میں مدد دے رہا ہے۔”
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے سندھ کے عوامی فلاحی منصوبوں، خاص طور پر آئی ٹی کورسز کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "سندھ کے آئی ٹی کورسز ایک قابل تعریف اقدام ہے جو دوسرے صوبوں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔”اس ملاقات سے امید کی جا رہی ہے کہ دونوں صوبے مستقبل میں زیادہ قریبی تعاون کریں گے، خاص طور پر سیاحت کے شعبے میں۔ یہ تعاون نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ دے گا بلکہ ثقافتی تبادلوں کو بھی بڑھاوا دے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بین الصوبائی ملاقاتیں ملک کی یکجہتی اور وفاقی نظام کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس ملاقات کے نتیجے میں ٹھوس اقدامات سامنے آئیں گے جو دونوں صوبوں کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے -

جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر دی
جماعت اسلامی نے ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مہم شروع کر دی ہے۔ جماعت کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 26 جولائی کو اسلام آباد میں ایک بڑا دھرنا دیں گے۔ایک پریس کانفرنس میں بولتے ہوئے، حافظ نعیم الرحمان نے کہا، "ہم بجلی کی قیمتوں میں بےتحاشا اضافے اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہمارا دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے۔”انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران آئی ایم ایف کے دباؤ میں بجلی کے بل اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ "یہ عوام دشمن بجٹ ہے اور ہم اس کے خلاف ‘حق دو عوام کو’ تحریک چلا رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔
جماعت اسلامی کے سربراہ نے عام شہریوں سے 26 جولائی کے دھرنے میں شرکت کی اپیل کی۔ "ہم صرف سڑکوں پر ہی نہیں، بلکہ عدالتوں میں بھی عوامی حقوق کے لیے لڑیں گے،” انہوں نے عزم کا اظہار کیا۔حافظ نعیم الرحمان نے الیکشن کمیشن پر بھی تنقید کی، کہتے ہوئے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اس کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں رہی۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔اس دوران، ملک کے مختلف شہروں میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ یہ احتجاج بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے، اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کے خلاف ہے۔یہ احتجاجی تحریک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب پاکستان شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور عام شہری مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ -

بجلی کےبنیادی ٹیرف میں 7.12روپے تک اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری
ماہانہ200 یونٹ تک والےگھریلو صارفین 3 ماہ کے لیے اضافے سےمستثنٰی قرار پائے ہیں،باقی گھریلوصارفین کے لیے بجلی کا بنیادی ٹیرف فی یونٹ7.12 روپے تک بڑھےگا۔ کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کے یکساں ٹیرف کا فیصلہ جاری کردیا گیا، وفاقی حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ گھریلوصارفین کے لیےبجلی کا فی یونٹ بنیادی ٹیرف48روپے84پیسے تک ہوگیا ،ماہانہ201 سے300 یونٹ تک کا ٹیرف7.12 روپے اضافے سے34.26 روپے ہوگیا ،ماہانہ301 سے400یونٹ کا ٹیرف7.02 روپے اضافے سے39.15روپے ہوگیا ۔
ماہانہ401 سے500 یونٹ کا ٹیرف6.12روپےاضافے سے41.36روپے ہوگیا ،ماہانہ501 سے600یونٹ کا ٹیرف6.12روپے اضافے سے42.78روپے ہوگی ،ماہانہ601سے 700 یونٹ کا ٹیرف 6.12روپے اضافے سے43.92روپے ہوگیا ،ماہانہ700 یونٹ سےزیادہ کا ٹیرف6.12 روپےاضافے سے 48.84 روپے ہوگیا ۔ٹیکسوں کوملاکرسیلب کے حساب سےفی یونٹ ٹیرف کی قیمت بڑھ گئی ،ماہانہ50یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ3.95 روپے برقرار رہے گا، ماہانہ51سے100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ7.74 روپے برقرار رہے گا۔ وفاقی حکومت نےبجلی کےیکساں ٹیرف کے لیے نیپرا میں درخواست دائر کی تھی ،نیپرا نے سماعت کے فیصلہ حکومت کو بھجوادیا تھا۔ -

جس کے پاس اختیار ہے وہ طاقت کے زور پر فیصلے کر رہا ہے ، اسد قیصر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایک تازہ بیان میں، قیصر نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عدالتی فیصلوں کے باوجود تصادم کی راہ اختیار کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "طاقت کے زور پر فیصلے کیے جا رہے ہیں اور لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”پی ٹی آئی رہنما نے جھنگ سے ایم این اے امیر سلطان کے مبینہ اغوا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ حکومتی پالیسیوں کا عکاس ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ آئین اور قانون کی پاسداری کے بغیر ملک قائم نہیں رہ سکتا۔
اسد قیصر نے انتخابی عمل پر بھی سوالات اٹھائے، انہیں "دھاندلی زدہ” اور "جعلی” قرار دیتے ہوئے۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا اور سپریم کورٹ سے فارم 45 اور 47 کے معاملے پر جلد فیصلہ کرنے کی اپیل کی۔پی ٹی آئی کے موقف کو دہراتے ہوئے، قیصر نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے پارٹی کے ارکان اسمبلی کے حقوق کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔قیصر نےوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف عدالتی کمیشن میں جانے کی درخواست کی۔ -

میئر کرا چی مرتضیٰ وہاب کا 175 ارب روپے کے منصوبوں کا اعلان
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت میں شہر کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات منگل کو کراچی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ مرتضی وہاب نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں بلدیہ کی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ "پچھلے سال ہم نے 2.8 ارب روپے جمع کیے، جو کہ پچھلی انتظامیہ کے 1.2 ارب روپے سے 150 فیصد زیادہ ہے،” انہوں نے کہا۔میئر نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے کئے جا رہے اقدامات کا ذکر کیا۔ ان میں بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے نئے پمپس کی تنصیب، ایک نئی نہر کی تعمیر، اور پرانے بنیادی ڈھانچے کی مرمت شامل ہیں۔
وہاب نے کہا کہ حکومت نے 175 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ اس میں 75 ارب روپے پانی کے منصوبوں پر، 55 ارب روپے ملیر ایکسپریس وے پر، اور 10 ارب روپے 6 نئے کچرا منتقلی مراکز پر خرچ کیے جائیں گے۔میئر نے مزید کہا کہ یو سی چیئرمین کی تنخواہ بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔تاہم، مر تضی وہاب نے سابق انتظامیہ پر تنقید بھی کی، یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وسیم اختر کے دور میں شہر کی بس سروس بند کر دی گئی تھی۔میئر نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی ایم یو سی ٹی، صوبائی حکومت کی گرانٹ اور اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائیں گے، شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے۔یہ اعلانات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب کراچی کو متعدد شہری مسائل کا سامنا ہے، بشمول بنیادی ڈھانچے کی خرابی اور کچرے کے انتظام کے مسائل۔ شہری حلقوں کی جانب سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبے شہر کی صورتحال میں حقیقی بہتری لائیں گے۔ -

پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے کا مبینہ اغوا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی، بیرسٹر صاحبزادہ محمد امیر سلطان کو رات گئے لاہور میں ان کے گھر سے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری حافظ ذیشان رشید کے مطابق، صاحبزادہ امیر سلطان کو سرور روڈ کے علاقے میں ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔اس واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے، پنجاب اسمبلی کے رکن شیخ امتیاز نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے۔ شرم کرو، حیا کرو، امیر سلطان کو رہا کرو۔” انہوں نے اس عمل کی شدید مذمت کی اور امیر سلطان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب، ایس پی کینٹ اویس شفیق نے اس واقعے سے متعلق پولیس کی کسی بھی کارروائی سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے صاحبزادہ امیر سلطان کو گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی انہیں اغوا کے متعلق کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اگر لواحقین درخواست دیں گے تو معاملے کی تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور جلد از جلد امیر سلطان کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔